Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6592

6592 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو سعيد إسماعيل بن أحمد الجرجاني ثنا محمد بن الحسن بن قتيبة ثنا عثمان بن محمد بن موسى المقدسي ثنا خليد بن دعلج قال : سمعت الحسن يقول : أخذ المؤمن عن الله أدبا حسنا إذا وسع عليه وسع وإذا قتر عليه قتر قال الحليمي رحمه الله : والاقتصاد في كل أمر أفضل وأجمل من البغي فيه حتى الحب والبغض فإنه يروى عن علي رضي الله عنه أنه قال : وقد رفعه بعض الناس إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید اسماعیل بن احمد جرجانی نے ان کو محمد بن حسن بن قتیبیہ نے ان کو عثمان بن محمد بن موسیٰ مقدسی نے ان کو خلید بن دعلج نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن سے وہ کہتے تھے کہ مؤمن اللہ تعالیٰ سے اچھی مہمانی لیتا ہے جب وہ اس کے اوپر وسعت کرتا ہے یہ بھی فراضی سے خرچ کرتا ہے اور وہ جب اس پر تنگی کرتا ہے یہ بھی تنگی سے خرچ کرتا ہے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہر معاملے میں اقتصاد اور میانہ روی فضل ہے اور احسن ہے اس میں حد سے تجاوز کرنے سے۔ یہاں تک کہ محبت اور عداوت میں بھی۔ بے شک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کو روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا اور بعض لوگوں نے اس کو رسول اللہ تک مرفوع کیا ہے۔

الْحَسَنِ، ← خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، ← عثمان بن محمد بن موسى المقدسي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6592

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6593

6593 - فذكر ما أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الحسن بن مكرم ثنا أبو بدر ثنا عطاء بن السائب عن أبي البختري عن علي رضي الله عنه أنه كان يقول : أحبب حبيبك هونا ما عسى أن يكون بغيضك يوما وما أبغض بغيضك هونا ما عسى أن يكون حبيبك يوما ما

پس انہوں نے ذکر کیا وہ جو ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو بدر نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ابو البختری نے ان کو علی رضی اللہ عنہ نے کہ آپ فرماتے تھے: اپنے دوست کے ساتھ کم دوستی کر ممکن ہے کہ وہ کسی دن تیرا دشمن بن جائے اور اپنے دشمن کے ساتھ کم دشمنی کر ممکن ہے کہ وہ کسی دن تیرا دوست بن جائے۔ (الغرض دوستی اور دشمنی میں بھی اعتدال ہو نا چاہئے۔

عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبُو بَدْرٍ؛ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6593

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6594

6594 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا أحمد بن مهران أن الأصبهاني ثنا عبيد الله بن موسى أنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن هبيرة عن علي أنه كان يقول : فذكره مثله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن مہران نے یہ کہ اصفہانی نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو ہبیرہ نے ان کو علی نے کہ وہ فرماتے تھے اس کے بعد راوی نے مذکور کی مشکل ذکر کیا ہے۔

فذكره مثله ← عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ ← هُبَيْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أحمد بن مهران أن الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6594

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6595

6595 - وأخبرنا أبو عبد الله ثنا علي بن حمشاذ ثنا محمد بن عيسى بن السكن ثنا موسى بن إسماعيل ثنا حماد عن أيوب عن حميد بن عبد الرحمن عن علي أنه كان يقول : فذكر مثله ورواه سويد بن عمرو عن حماد عن أيوب عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم وهو وهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو گھر بن عیسیٰ بن سکن نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو حماد نے ان کو ایوب نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن نے ان کو علی نے کہ وہ کہتے تھے۔ پھر راوی نے مذکور کی مثل ذکر کیا ہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے سوید بن عمرو نے ان کو حماد نے ان کو ایوب نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ نبی کریم۔

النبي صلى الله عليه و سلم وهو وهم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← فذكر مثله ورواه سويد بن عمرو ← عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6595

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6596

6596 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ في التاريخ أخبرني أبو بكر بن أبي عمرو عن مطر ثنا عبد الله بن محمد بن شيرويه ثنا أبو كريب ثنا سويد بن عمرو ثنا حماد بن سلمة : فذكره غير أنه قال : أراه رفعه لم يقل عن النبي صلى الله عليه و سلم ورواه الحسن بن أبي جعفر عن أيوب عن حميد عن علي عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو خبر دی ہے ابو بکر بن ابو عمرو نے ان کو مطر نے ان کو عبداللہ بن محمد بن شیرویہ نے ان کو ابو کریب نے ان کو سوید بن عمر نے ان کو حماد بن سلمہ نے اس نے اسی مذکور قول کو ذکر کیا ہے علاوہ ازیں اس نے کہا ہے۔ کہ میں نے ان کو دیکھا کہ انہوں نے اس کو مرفوع کیا لیکن عب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہا تھا۔اور اس روایت کیا ہے حسن بن ابو جعفر نے ایوب سے اس نے حمید سے اس نے حضرت علی سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← حُمَيْدٍ ← أَيُّوبَ، ← النبي صلى الله عليه و سلم ورواه الحسن بن أبي جعفر ← أراه رفعه لم يقل ← حماد بن سلمة فذكره غير أنه ← سُوَيْدِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ← مَطَرٍ، ← أبو بكر بن أبي عمرو ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6596

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6597

6597 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن بن عبدوس العنزي ثنا عثمان بن سعيد ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا الحسن بن أبي جعفر : فذكره مرفوعا وقال : عساه يكون ورواه هارون بن إبراهيم الأهوازي عن ابن سيرين عن حميد بن عبد الرحمن الحميري عن علي عن النبي صلى الله عليه و سلم وروي من أوجه أخر ضعيفة والمحفوظ موقوف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن بن عہدوس عنزی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو حسن بن ابو جعفر نے اس نے اس قول کو مرفوع ذکر کیا ہے اور یوں کہا کہ عساہ یكون۔ اور اس کو ہارون بن ابراہیم اہوازی نے ابن سیرین سے اس نے حمید بن عبدالرحمٰن حمیری سے اس نے علی سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کئی دیگر وجوہ سے مروی ہے جو کہ ضعیف ہیں اور سب سے جومحفوظ وجہ ہے وہ موقوف کی ہے۔ (خلاصہ یہ کہ یہ قول علی ہے قول رسول نہیں)۔

عَلِيٍّ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عساه يكون ورواه هارون بن إبراهيم الأهوازي ← الحسن بن أبي جعفر فذكره مرفوعا ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو الحسن بن عبدوس العنزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6597

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6598

6598 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن زيد بن أسلم عن أبيه قال : قال عمر رضي الله عنه : يا أسلم لا يكن حبك كلفا ولا بغضك تلفا قال : قلت : وكيف ذاك قال : إذا أحببت فلا تكلف كما يكلف الصبي بالشيء يحبه وإذا أبغضت فلا تبغض بغضا تحب أن تتلف صاحبك أو تهلك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اسلم! تیری محبت با تکلف نہیں ہونی چاہئے اور تیری دشمنی تلف وضیاع نہیں ہونی چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یہ کیسے ہو گا؟ فرمایا کہ جب تو محبت کرے تو اسی طرح تکلف نہ کر جیسے بچہ کی شئی کے ساتھ تکلف اور زبردستی کرتا ہے جس چیز کو چاہتا ہے۔ اور جب تم کسی سے دشمنی کرو تو ایسی دشمنی مت کرو کہ تم یہ چاہو کہ تمہارا دشمن مر جائے اور مٹ جائے۔

قلت وكيف ذاك ← عمر يا أسلم لا يكن حبك كلفا ولا بغضك تلفا ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6598

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6599

6599 - وأخبرنا أبو الحسين ثنا إسماعيل ثنا أحمد ثنا عبد الرزاق أنا معمر عمن سمع الحسن قال : كان يقول : أحبوا هونا وأبغضوا هونا فقد أفرط أقوام في حب أقوام فهلكوا وأفرط أقوام في بغض أقوام فهلكوا فلا تفرط في حبك ولا تفرط في بغضك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن ابو اسماعیل نے ان کو احمد نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے اس سے جس نے حسن سے سنا تھاوہ کہتے ہیں کہ حسن بصری فرماتے تھے۔ تم لوگ محبت کرو تو ہلکی پھلکی کرو اور دشمنی کرو تو بھی پھلکی کرو بے شک بہت سی اقوام نے محبت میں زیادتی کی تھی یہ وہ لوگ تھے جو محبت میں ہلاک ہو گئے (محبت میں ڈوب مرے) اور بہت سی اقوام نے دشمنی کرنے میں حد سے تجاوز کیا سو وہ بھی ہلاک ہو گئے (یعنی وہ دشمنی میں ڈوب مرے) تم محبت کرنے میں اور دشمنی کرنے میں حد سے نہ بڑھنا۔

كان ← الْحَسَنِ، ← معمر عمن ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو الْحَسَينِ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6599

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6600

6600 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا الحسين بن أحمد بن موسى القاضي قال : سمعت محمد بن يحيى الصولي يقول : سمعت أبا العباس يقول : يقال إذا سمعت كلمة من الحاسد فكن كأنك لست بالشاهد ولا تزهدن في معروف فإن الدهر ذو صروف وإذا أحببت فلا تفرط في حبك وإذا بغضت فلا تشطط

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو حسین بن احمد بن موسیٰ قاضی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن یحییٰ صولی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو العباس سے وہ کہتے تھے کہ کہا جاتا تھا کہ تم جب حاسد سے کوئی لفظ سنو تو یوں ہو جاؤ جیسے تم وہاں موجود ہی نہیں ہو۔ اور کسی نیکی کے کرنے سے بے رغبتی نہ کر اس لئے کہ زمانہ بڑا گردش باز ہے۔ اور جب تو محبت کرے تو اپنی محبت کرنے میں حد سے تجاوز نہ کر اور جب تو دشمنی کرے تو اپنی دشمنی میں حد سے نہ بڑھ۔

يقال إذا ← ابا العباس ← محمد بن يحيى الصولي ← الحسين بن أحمد بن موسى القاضي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6600

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6601

6601 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا محمد بن دعلج بن أحمد الجرمي ثنا أبو مسلم الكجي ثنا حجاج بن منهال ثنا حماد عن ثابت عن مطرف قال : خير الأمور أوساطها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو محمد بن دعلج سے احمد جرمی سے اس کو ابو مسلم کجی نے۔ ان کو حجاج بن منہال نے ان کو حماد نے ان کو ثابت نے ان کو مطرف نے انہوں نے کہا کہ خیر الامور اوساطھا بہترین معاملات درمیانے ہوتے ہیں۔

خَيْرُ الأُمُورِ أَوْسَاطُهَا. ← مُطَرِّفٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِيُّ ← أبا محمد بن دعلج بن أحمد الجرمي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6601

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6602

6602 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا أبو حمزة الأنصاري ببغداد ثنا عمرو بن مرزوق أنا المسعودي عن القاسم قال : قال عبد الله بن مسعود : لا تعجلوا بحمد الناس ولا بذمهم فلعل ما يسركم منه اليوم يسؤكم غدا وما يسركم اليوم يسؤكم غدا فإن الناس يحبرون فإنما يغفر الله الذنوب والله أرحم بعبده يوم يلقاه من أم أحد فرشت لولدها بأرض فيء ثم لمست فإن كانت لذعة بها قبله وإن كانت شوكة كانت بها قبله 6602 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن عثمان الأدمي ببغداد ثنا أبو زيد الوزاع ثنا بدل بن المحبر أبو المنير اليربوعي ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال علي بن أبي طالب يتمثل بشيء من الشعر : ( فكن معدنا للحلم واصفح عن الأذى فإنك رائي ما علمت وسامح فأحبب إذا أحببت حبا مقاربا فإنك لا تدري متى أنت فارغ وأبغض إذا أبغضت بغضا مباعدا فإنك لا تدري متى الود راجع ... )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابو حمزہ انصاری نے بغداد میں ان کو عمر و بن مرزوق نے ان کو مسعودی نے ان کو قاسم نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگوں کی تعریف کرنے میں جلدی نہ کرو اور نہ ان کی برائی کرنے کے میں شاید آج جو چیز تمہیں اچھی لگتی ہے کل کو بری لگے تم کو اور جو آج بری لگتی ہے کل تمہیں اچھی لگے۔ بیشک لوگ باہر نکلیں گے بے شک اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بڑا مہربان ہو گا جس دن اس کو ملے گا ایک ماں سے جو کہ سائے میں زمین پر اپنے بچے کے لئے سونے کی جگہ بناتی ہے اور اس پر ہاتھ پھیرتی ہے اس لئے کہ اگر کوئی گرم چیز ہے تو اسی کو لگے اور اگر کوئی کانٹا ہے تو اسی کو لگے۔ (مکر رہے) ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن عثمان آدمی نے بغداد میں ان کو ابو زید وزاع نے ان کو بلال بن محبر نے ان کو ابو المنیر یر بوعی نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب نے کہا، مثل بیان کرتے ہیں بعض اشعار کے ساتھ۔ حلم وحوصلے کی کان بن جا اور ایذا رسانی سے درگزر کر، جو کچھ نہیں سنایا جاتا ہے تم اس کو دیکھ لو گے جب تم محبت کرو تو درمیانی محبت کرو۔ کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کب تمہارا دل محبت سے خالی ہو جائے اور تم جب دشمنی کروتو (تکلیف دینے سے دور رہو) بے شک تمہیں نہیں معلوم کہ دوستی کب واپس لوٹ آئے (یعنی دوبارہ دوستی ہو جائے۔)

الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو حَمْزَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6602

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood