Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6580

6580 - فقد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني ثنا إسحاق أنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن عكرمة و خالد بن صفوان بن عبد الله قالا : تزوج صفوان بن أمية فدعا عمر بن الخطاب رضي الله عنه إلى بيته وقد ستر بهذه الأدم المنقوشة فقال عمر : لو كنتم جعلتم مكان هذا مسوحا كان أحمل للغبار من هذا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحاق نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو عکرمہ اور خالد بن صفوان بن عبداللہ نے دونوں نے کہا کہ صفوان بن امیہ نے شادی کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی گھر پر دعوت کی اور انہوں نے نقش دار چمڑے کے پردے ڈالے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم لوگ ان کی جگہ ٹاٹ لٹکا دیتے تو وہ اس سے زیادہ غبار وغیرہ کو برداشت کرتے۔

عكرمة و خالد بن صفوان بن عبد الله ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← فَقَدْ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6580

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6581

6581 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني ثنا إسحاق ثنا عبد الرزاق عن معمر عن رجل سماه أن محمد بن عباد بن جعفر حدثه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعي إلى طعام فإذا البيت مظلم مزوق فقام بالباب ثم قال : أخضر وأحمر فعد ألوانا ثم قال : لو كان لونا واحدا ثم انصرف ولم يدخل وهذا منقطع

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ایک آدمی سے جس کا اس نے نام لیا تھا یہ کہ محمد بن عباد بن جعفر نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی گئی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جا دیکھا) تو بظاہر چمک رہا تھا اور نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ آپ دروازے پر ہی رک گئے اس کے بعد فرمانے لگے کہ بہتر سرخ اسی طرح اور بھی کچھ رنگ گنوائے اس کے بعد فرمایا کہ کاش کہ ایک رنگ ہوتا اس کے بعد آپ واپس لوٹ گئے اور اس گھر میں داخل نہیں ہوئے۔ اور یہ روایت ہے۔

رجل سماه أن محمد بن عباد بن جعفر ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6581

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6582

6582 - وروينا عن سليمان الفارسي : أنه تزوج بامرأة فلما دخل عليه رأى بيتا مستترا فقال : ما بيتكم محموم أو تحولت الكعبة في كندة لا أدخله حتى يهتك كل ستر إلا سترا على باب وعن أبي أيوب الأنصاري أنه دعي إلى وليمة فرأى سترا على الجدار فقال قد سترتم الجدر وانصرف قال الحليمي رحمه الله : يحتمل أن يكون النهي عن ستر ظواهر الجدر بطون البواطن التي تلي موضع السكن ويكون وجه النهي أن هذا شيء خضت به الكعبة تعظيما لها فلا يشبه غيرها بها ويحتمل أن يكون للإسراف فإنه لا يراد إلا للتنعم دون الحاجة

اور ہم نے روایت کی ہے سلمان فارسی سے کہ انہوں نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی جب گھر میں اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ گھر میں پردے لگے ہوئے ہیں انہوں نے دیکھ کر فرمایا کہ گھر بیمار تو نہیں ہے۔ یا کعبہ بنو کندہ میں آ گیا ہے میں گھر میں داخل نہیں ہوں گا جب تک ہر ہر پردہ اتار نہ دیا جائے ہاں صرف ایک پردہ دروازے پر رہنے دیا جائے۔ اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ایک ولیمہ پر بلائے گئے انہوں نے دیوار پر پردے دیکھے تو فرمایا کہ تم لوگوں نے دیواروں کو بھی پردہ کرا دیا ہے بس وہیں سے واپس لوٹ گئے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ احتمال ہے کہ نہی جو ہے وہ دیواروں کے ظاہر کو چھپانے سے اندر کا اندر ہو جو رہنے کی جگہ ہے۔ اور نہی کی وجہ یہ ہو گی کہ یہ ایک چیز سے جو کعبے کے ساتھ مختص ہے صرف اسی کی تعظیم کے لئے لہٰذا غیر کعبہ کو اس کے ساتھ مشابہ نہ کیا جائے۔ اور احتمال ہے کہ یہ اسراف کی وجہ سے ہو کیونکہ یہ آرائش کے لئے میں ضرورت کے لئے نہیں ہیں۔

سليمان الفارسي ← وَرُوِّينَا

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6582

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6583

6583 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو طاهر الفقيه ثنا علي بن حمشاذ ثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا عبد الله بن يزيد ثنا حيوة عن أبي هانئ الخولاني عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن جابر بن عبد الله الأنصاري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فراش للرجل وفراش لامرأته وفراش للضيف والرابع للشيطان أخرجه مسلم من حديث ابن وهب عن أبي هانئ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو طاہر فقیہ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو عبداللہ بن یزید نے ان کو حیوۃ نے ان کو ابو ہانی خولانی نے ان کو ابو عبدالرحمٰن حبلی نے ان کو جابر بن عبداللہ انصاری نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بستر آدمی کے لئے دوسرا اس کی بیوی کے لئے اور تیسرا مہمان کے لئے اور چوتھا ہو گا تو وہ شیطان کے لئے۔ یعنی تین ہی کافی ہیں چوتھے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے حد یث بن وہب سے اس نے ابو ہانی سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو طاهر الفقيه

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6583

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6584

6584 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد بن دعلج ثنا محمد بن علي بن شعيب ثنا أحمد بن الدورقي ثنا زيد بن الحباب قال : سمعت سفيان الثوري يقول : قال حبيب بن أبي ثابت : ما استقرضت من أحد أحب إلي من أن استقرض من نفسي فسألته : كيف تستقرض من نفسك قال : إذا طلبت مني شيئا أقول لها أخريني حتى يجيء الله به من كذا به من كذا

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد بن دعلج نے ان کو محمد بن علی بن شعیب نے ان کواحمد بن دورتی نے ان کو زید بن حباب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان ثوری سے وہ کہتے ہیں کہ حبیب بن ثابت نے کہا میں نے کسی سے قرض نہیں مانگا مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے نفس سے ادھار کر لوں۔ میں نے پوچھا کہ تم اپنے نفس سے کیسے ادھار کرتے ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ جب میرا نفس مجھ سے کوئی شے طلب کرتا ہے تو میں اس سے کہتا ہوں کہ مجھے مہلت دے دے اس وقت تک جب اللہ اس کو دلوا دے فلاں فلاں جگہ سے۔

سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَحْمَدُ بْنُ الدَّوْرَقِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ ← دعلج بن أحمد بن دعلج ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6584

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6585

6585 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو عمرو أحمد بن محمد بن عمر المقرئ ثنا أبو جعفر محمد بن عبد الرحمن الأصبهاني قال : قرأت على أبي دجانة المعافري قال : سمعت ذا النون يقول : سمعت حسن التدبير مع الكفاف أكف من الكثير مع الإسراف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوعمرو احمد بن محمد بن عمر مقریٔ نے ان کو ابو جعفر محمد بن عبدالرحمٰن اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھی ابو دجانہ معافری پر وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناؤ والنون مصری سے وہ کہتے تھے کہ حسن تدبیر بقدر کفایت روزی کے ساتھ ہے رک جا کثیر سے اسراف کے ساتھ۔

حسن التدبير مع الكفاف أكف من الكثير مع الإسراف ← ذَا النُّونِ، ← على أبي دجانة المعافري ← أبو جعفر محمد بن عبد الرحمن الأصبهاني ← أبو عمرو أحمد بن محمد بن عمر المقرئ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6585

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6586

6586 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن الحسن بن مقسم ثنا ثعلبة ثنا عبد الله بن شبيب قال : كان يقال حسن التدبير مع العفاف خير من الغنى مع الإسراف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن حسن بن مقسم نے ان کو ثعلبہ نے ان کو عبداللہ بن شعیب نے کہتے تھے کہ کہا جاتا تھا کہ حسن تدبیر پاکدامنی کے ساتھ بہتر ہے غنی مع الاسراف کے ساتھ ہے۔ یا۔ حسن تدبیر کے ساتھ حرام سے رک جانا غنی ہونے سے بہتر ہے۔ اچھا ہے جس میں اسراف اور فضول خرچی ہو۔

كان يقال حسن التدبير مع العفاف خير من الغنى مع الإسراف ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ← ثَعْلَبَةَ ← مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ بْنِ مِقْسَمٍ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6586

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6587

6587 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس أحمد بن محمد بن أحمد بن محبوب ثنا عبد المجيد بن إبراهيم ثنا سعيد بن منصور ثنا عبد الرحمن بن زياد عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة قال : كان إذا أصاب شاة من الغنم ذبحت أو ذبحوها عمد إلى جلدها فيجعل منه جرابا وإلى شعرها فيجعل منه حبلا وإلى لحمها فيقدده ويستنفع بجلدها ويعمل إلى الحبل فينظر رجلا معه فرس قد صدع به فيعطيه ويعمد إلى اللحم فيأكله في الأيام فإذا سئل عن ذلك يقول : لئن استغني بالله في الأيام أحب إلي من هذه ثم أحتاج على ما في أيدي الناس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس احمد بن محمد بن احمد بن محبوب نے ان کو عبدالمجید بن ابراہیم نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو عبدالرحمٰن بن زیاد نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو عبداللہ بن سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ وہ ایسے تھے کہ جب وہ دیکھتے کہ کوئی بکری ذبح ہوئی ہے۔ یاوہ خود ذبح کرتے تو اس کی کھال لے کر اس کا ایک تھیلہ بنا لیتے تھے اور اس کے بال لے کر اس کی رسی بنا لیتے تھے اور اس کا گوشت لے کر سوکھا لیتے تھے۔اس کی کھال کے ساتھ فائدہ اٹھاتے اور اسی کو اس طرح استعمال کرتے کہ دیکھتے کسی ایسے آدمی کو جس کے پاس گھوڑ اہوتا اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی ہے تو اس کو دے دیتے۔ اور گوشت کو کئی دن تک کھاتے ان سے جب اس بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے کہ اگر میں اللہ کی محبت کے ساتھ ان ایام میں مستغنیٰ ہو جاؤں تو یہ بات مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں اس چیز کا محتاج ہو جاؤں جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← عبد المجيد بن إبراهيم ← أبو العباس أحمد بن محمد بن أحمد بن محبوب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6587

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6588

6588 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني أبو بشر ثنا سعيد بن عامر عن جويرية قال : أحسبه عن نافع قال : قطع برجل بالمدينة فقيل له عليك بحكيم بن حزام فقال فأتاه وهو في المسجد فذكر له حاجته فقام معه فانطلق به إلى أهله فمر بكناسة فيها قطعة كساء أو قال : خرقة فأخذها فنفضها ثم تعلقها بيده فقال الرجل في نفسه : ما أرى عند هذا خيرا فلما دخل داره إذا غلمان له يعالجلون أدوات الإبل فرمى بها إليهم وقال : انتفعوا بهذه فيما تعالجلون ثم أمر له براحلة معقبة محقبة أحسبه قال : وزاد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو بشر نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو جویریہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں اس کو گمان کرتا ہوں نافع سے مدینے میں ایک آدمی کی جیب کٹ گئی تھی اس سے کہا گیا ان کو کسی نے کہا تم حکم بن خرام کے پاس ضرور جاؤ وہ ان کے پاس گئے وہ مسجد میں بیٹھے تھے ان کے سامنے انہوں نے اپنی ضرورت ذکر کی وہ اٹھ کر اس کے ساتھ چل دیئے اور اس کو اپنے گھر لے آئے گھر میں پڑے ہوئے ردی سامان میں دیکھا ایک چادر کا ٹکڑا پڑا ہوا تھا یا راوی نے کہا کہ خرقہ پڑا تھا اسے اٹھا لیا اور اس کو جھاڑ کر صاف کر کے اس سائل کے ہاتھوں میں تھما دیا۔ اس آدمی نے دل میں سوچا لگتا ہے کہ ان کے پاس اس سے بہتر کوئی شئی نہیں ہے یا ان کے پاس کوئی خیر اور مال نہیں ہے۔ جب وہ شخص اپنے گھر میں داخل ہوا تو اچانک دیکھا کہ اس کے لڑکے اونٹ کے اوپر سج درست کر رہے تھے اس نے بیان کی طرف پھینک دیا اورفرمایا کہ اس سے فائدہ اٹھاؤ اس کام میں جو تم کر رہے ہو اس کے بعد کہا کہ اس کو سواری کے پلان کے پچھلے حصے میں لگا دو۔

جُوَيْرِيَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6588

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6589

6589 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا زكريا العنبري يقول : من كانت همته دون ماله كانت رجله ثابتة في ركابه ومن كانت همته فوق ماله زالت رجله عن ركابه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو زکریا عنبری سے وہ کہتے تھے جس شخص کی ہمت اس کے مال کے سوا ہو اس کا پیر اس کی رکاب میں مضبوط ہوتا ہے اور جس کی ہمت اس کے مال سے اوپر ہواس کا پیر اس کی رکاب سے پھیل جاتا ہے۔

أبا زكريا العنبري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6589

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6590

6590 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا العباس الدوري ثنا عمر بن حفص بن غياث عن أبيه عن الأعمش عن إبراهيم قال : كان لا يعجبهم كثرة الأثاث في بيوتهم وكان يعجبهم ما وسعوا به على عيالهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس دوری نے ان کو عمرو بن حفص بن غیاث نے ان کو ان کے والد نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے گھروں میں زیادہ اثاثہ اور سامان کھلا اچھا نہیں لگتا تھا بلکہ یہ اچھا لگتا تھا جو اپنے خاندان پر کھلا خرچ کرتے تھے (یعنی گھریلو سامان کی بجائے بچوں پر خرچ کرنا زیادہ اچھا لگتا تھا۔)

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6590

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6591

6591 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين بن بشران أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا جعفر بن محمد بن كذال ثنا إبراهيم بن بشير ثنا معاوية بن عبد الكريم الضال قال : سمعت أبا جمرة قال : سمعت ابن عمر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المؤمن أخذ عن الله سبحانه وتعالى أدبا حسنا إذا وسع عليه وسع على نفسه وإذا أمسك عليه أمسك قال الشيخ : هذا حديث منكر وروي هذا من قول الحسن البصري

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو بکرمحمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو جعفر بن محمد بن کذال نے ان کو ابراہیم بن بشر نے ان کو معاویہ بن عبدالکریم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو جمرہ سے انہوں نے سنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مؤمن اللہ تعالیٰ سے لیتا ہے اچھی مہمانی جب اللہ تعالیٰ اس پر فراخی کرتا ہے وہ بھی اپنے نفس پر فراخی کرتا ہے جب وہ اس پر روک دیتا ہے یہ بھی رک جاتا ہے۔ شیخ نے فرمایا یہ حدیث منکر ہے۔ یہ مروی ہے حسن بصری کے قول سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبَا جَمْرَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الضَّالُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← جعفر بن محمد بن كذال ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين بن بشران

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6591

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood