Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6544

6544 - مكرر ـ : قال الله عز و جل : { ولا تجعل يدك مغلولة إلى عنقك ولا تبسطها كل البسط فتقعد ملوما محسورا } وقال : { وآت ذا القربى حقه والمسكين وابن السبيل ولا تبذر تبذيرا * إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين وكان الشيطان لربه كفورا } وقال في صفة الذين سماهم عباد الرحمن : { والذين إذا أنفقوا لم يسرفوا ولم يقتروا وكان بين ذلك قواما } فاشتملت هذه الآيات كلها على الأمر بالاقتصاد والنهي عن الإسراف وذلك موافق للنهي عن الإسراف في الأكل والشرب لأن الله عز و جل يقول : { كلوا واشربوا ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين } فإذا كان الإسراف في الأكل والشرب ممنوعا وجب أن يكون الإسراف في الإنفاق ممنوعا لأن ذلك إنما يكون بصرف المال في أكثر مما يحتاج إليه من المأكول والمشروب وذلك الأكثر ممنوع من أكله فينبغي أن يكون صرف المال في الممنوع ممنوعا وحد السرف في الأكل أن يجاوز الشبع ويثقل البدن حتى لا يمكن معه أداء واجب ولا قضاء حق إلا يحمل على البدن وليس السرف في الإنفاق كل ما ذكرنا لكن في المسكن والملبس والمركب والخدام من السرف مثل ما في الطعام والشراب فأما الإنفاق فيما يبقى وينمو فليس فيها كشري الضياع والمواشي للنسل لأن هذه تغل وتنمو فيزداد بما يصرف فيها أضعافه قال : ومما يدخل في جملة التبذير والإسراف أن لا يبالي الواحد فيما يشتري ويبيع كأن يغبن أو يغبن فيبيع بوكس و يشتري بفضل وبسط الكلام فيه إلى أن حكي عن ابن عباس أنه قال : في قوله الله عز و جل : { ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل } قال الرجل : يشتري المتاع فيرده ويرد معه دراهم قال : وكل هذه ممنوع وهذا الوجه هو الموجب للحجر وكذلك الإنفاق في الملاهي والشهوات المحرمة من التبذير الموجب للحجر والوقف فأما إذا اشترى طعاما أكثر من حاجته أو لباسا أو خادما أكثر من حاجته فهو وإن كان سرفا فليس من السرف الموجب للحجر لأنه يستبدل بالملك ملكا يوازنه وإنما ينبع الإسراف منه في الانتفاع بما ملكه

مکر رہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ (1)ولا تجعل یدک مغلولۃ الٰی عنقک ولا لبسطھا کل البسط فتقعد ملوماً محسراً اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کی طرف باندھے ہوئے نہ رکھئے اور نہ کھول دیجئے پوری طرح کھول دینا کہ پھر تو بیٹھ جائے (خالی ہاتھ ہو کر) الزام دیا ہوا ہارا ہوا۔ (2) واٰت ذاالقربی حقہ والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیراً ان المبذرین کانوا اخوان الشیٰطین وکان الشیٰطن لربہ کفوراً قرابت دار کو اس کا حق دیجئے اور محتاج کو اور مسافر کو اور مت اڑا مال کو بیجا بے شک مال کو بیجا اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ اوراللہ تعالیٰ نے ان بندوں کی تعریف فرمائی ہے جن کا نام اللہ نے عبادالرحمٰن رکھا ہے۔ (3) والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذالک قوماً اللہ کے بندے (عبادالرحمٰن) وہ ہیں جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو وہ فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ ہی تنگی کرتے ہیں (کنجوسی) بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال اور میانہ روی سے چلتے ہیں۔ یہ تمام آیات اقتصاد اور میانہ روی کا درس دے رہی ہیں، اور اسراف وفضول خرچی سے منع کر رہی ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح فضول خرچی سے ممانعت ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے سے اسراف کرنے یعنی ضرورت سے زیادہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے: (3) کلوا واشربوا ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفینکھاؤ اور پیئو اور اسراف نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ تشریح: جب اسراف اکل وشرب میں ممنوع ہے (یعنی کھانے پینے میں زیادتی منع ہے) تو واجب ہے کہ انفاق اور خرچ کرنے میں بھی اسراف کرنا بے حیا اور ضرورت سے زیادہ خرچ کر ناممنوع ہو گا ، اس لئے کہ زیادہ کھانے پینے کے لئے زیادہ سامان خورد ونوش ضروری ہو گا اور اس کے لئے زیادہ مال خرچ کرنا لازمی ہو گا لہٰذا یہ ساری باتیں ممنوع ہوں گی کیونکہ صرف ہو رہا ہے ممنوع میں لہٰذا وہ بھی ممنوع ہے۔ کھانے پینے میں اسراف کی حد : کھانے پینے میں اسراف کی حدیہ ہے کہ ضرورت کے مطابق پیٹ بھر کھانے سے تجاوز کر کے اتنا کھائے جس سے بدن بوجھل اور بھاری ہو جائے جس کی وجہ سے ادائے واجبات اور فرائض ممکن نہ رہے۔ اور حق بھی پورا نہ ہو سکے سوائے بدن پر لادنے کے۔ اسراف اور ضرورت سے زیادہ بے جا خرچ کرنا صرف یہی نہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں کھانے پینے کے طور سے بلکہ اسراف مکان بنانے میں بھی ہوتا ہے لباس پہننے کا بھی ہوتا ہے سواری میں بھی ہوتا ہے خادموں اور نوکروں میں بھی ہوتا ہے جیسے اکل وشرب میں اسراف ہوتا ہے (رہائش اور مکان پر زیادہ خرچ کرنا اسراف ہو گا۔لباس پر زیادہ خرچ کرنا اسراف ہو گا۔ سواری پر زیادہ خرچ اسراف ہو گا جیسے کم قیمت کا سواری کا جانور کم قیمت گاڑی سے کام چل سکتا ہے اور بہت زیادہ مہنگی کار میں جس پر لاکھوں خرچ ہوتے ہیں یہ سب اسراف ہو گا۔ بہر حال جو چیز باقی رہے۔ اور جس کی مالیت بڑھتی رہے وہ اسراف نہیں ہے جیسے اونٹ اور دیگر مالی مویشی جو افزائش نسل کے لئے ہوں (یہ اسراف نہیں ہو گا) اسی طرح اس دور میں اسی مقصد کے لئے زمین جائیداد مکان پلاٹ گاڑیاں جو اسی مقصد کے لئے یعنی تجارتی مقصد کے لئے ہوں۔ محض ریاکاری دیکھاوے اور تکبر کے لئے نہ ہوں اور نہ حرام ہو گا۔ (ایسی چیزیں بنانا ناجائز و اسراف نہیں ہو گا۔) مترجم۔ کیونکہ چیزیں مہنگی ہوتی رہتی ہیں بڑھتی ہیں اور زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا ان چیزوں میں جو خرچ کیا تھا اس سے کئی گنا زیادہ اضافہ ہوتا ہے (یعنی اس میں تضیع مال نہیں ہے بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔) اور فرمایا کہ۔ اس میں سے جو مجموعی طور پر اسراف اور فضول خرچی میں داخل ہے یہ ہے کہ نہ پرواہ کرے، ایک آدمی خریدے، بیچے دھوکہ کے ساتھ جیسے کوئی دوسرا اس کے ساتھ دھوکہ کرے تو یہ بھی بوگس مال بیچ دے اور اضافے کے ساتھ خرید کرے زیادہ۔ شیخ نیاس میں تفصیل کے ساتھ کلام کیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے حضرت ابن عباس کی حکایت بیان کی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرمایا: ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل تم لوگ اس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ فرمایا کہ کوئی آدمی مثلاً سامان خریدے پھر اس کو واپس کر دے اور مال کے ساتھ دراہم بھی واپس کر دے (یہ بھی اسراف ہے) فرمایا کہ یہ سب ممنوع ہے۔ یہ مذکورہ صورت وہی حجر اور رکاوٹ کا سبب یا ممانعت کا ہے۔ اور لھو و لعب میں اور شہوات ولذات میں جو کہ حرام امور ہیں خرچ کرنا اسراف میں سے ہے جو موجب ممانعت کے لئے اور وقف سے یعنی اللہ کی راہ میں وقف کرنے سے مانع ہو گا (اس لئے ممنوع ہو گا۔) بہرحال جب کھانا اپنی ضرورت سے زیادہ خرید کرے یا کپڑے ضرورت سے زیادہ خریدے یا نوکر چاکر ضرورت سے زیادہ یہ چیزیں اگرچہ اسراف میں اور زیادتی میں ہیں لیکن ایسا اسراف نہیں جو موجب حجر و رکاوٹ ہو۔ اس لئے کہ ایک ملکیت کے ساتھ دوسری ملکیت تبدیل کرتا ہے جو اس کے ہم پلہ ہے یا ہم قیمت ہے۔ یہاں اسراف اس سے نفع اندوز ہونے میں ہو گا جس چیز کا مالک ہوا ہے۔

مكرر

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6544

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6545

6545 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا يعلى بن عبيد ثنا محمد بن سوقة عن محمد بن عبيد الله الثقفي عن وراد قال : كتب المغيرة بن شعبة إلى معاوية و زعم وراد أنه كتبه بيده أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله حرم ثلاثا عقوق الوالدات و وأد البنات و لا وهات و نهى عن ثلاث قيل : و قال : و إضاعة المال و إلحاف السؤال أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن محمد بن سوقة و رواه أبو داود الفزاري عن ابن سوقة قال : فأخبرني عبد الملك بن سعيد بن جبير أن سعيد بن جبير سئل عن إضاعة المال قال : هو الرجل يرزقه الله الرزق فيجعله في حرام حرمه عليه و هذا من جملة إضاعة المال و يدخل فيها ما تقدم ذكرناه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو محمد بن سوقہ نے ان کو محمد بن عبیداللہ ثقفی نے ان کو وراد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے حضرت معاویہ کی طرف لکھا۔ اور دعویٰ کیا کہ اس نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ نے فرمایا تھا بے شک اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو حرام کیا ہے۔ ماؤں کی نافرمانی کرنا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا ، سائل کو منع کر دینا لینے کے لئے تیار رہنا اور منع کر دیا تینوں سے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں دوسرے طریق نے محمد بن سوقہ سے۔ اور اس کو روایت کیا ہے ابوداؤد فزاری نے ان کو ابن سوقہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی عبدالملک بن سعید بن جبیر نے یہ کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مال کے ضائع کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا (ضائع کرنے والا وہ ہے) وہ آدمی ہے اللہ جس کو رزق دے وہ اس کو حرام میں خرچ کر دے جس کو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے۔ یہ اجمالی طور پر اضاعت مال ہے اور اس کے تحت داخل ہے وہ کچھ جو کچھ ہم نے پہلے ذکر کر دیا ہے۔

المغيرة بن شعبة إلى معاوية و زعم وراد ← وَرَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6545

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6546

6546 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا المسعودي أنا سلمة بن كهيل عن أبي العبيدين قال : قلت لابن مسعود : ما التبذير قال : إنفاق المال في غير حقه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو مسعودی نے یہ کہ سلمہ بن کھیل نے ان کو ابو العبید بن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا یہ تبذیرو اسراف کیا چیز ہے۔انہوں نے فرمایا کہ مال کو اس کے حق کے علاوہ یعنی غیر حق میں خرچ کرنا۔

إنفاق المال في غير حقه ← قلت لابن مسعود ما التبذير ← أَبِي الْعُبَيْدَيْنِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6546

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6547

6547 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا خالد بن عبد الله عن حصين عن عكرمة عن ابن عباس في قوله : ـ { إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين } قال : هم الذين ينفقون المال في غير حقه

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نصر وں نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خالد بن عبداللہ نے ان کو حسین نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے اس قول باری کے بارے میں۔ ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین بے شک اسراف فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مال کو ناحق خرچ کرتے ہیں (یعنی جہاں حق ہے وہاں نہیں کرتے اور جہاں حق نہیں ہے وہاں کرتے ہیں۔)

هم الذين ينفقون المال في غير حقه ← ابن عباس في قوله إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين ← عِكْرِمَةَ، ← حُصَيْنٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6547

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6548

6548 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق عن معمر عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال : ما أنفقت على نفسك وأهل بيتك في غير سرف ولا تبذير وما تصدقت فلك وما أنفقت رياء أو سمعة فذلك حظ الشيطان ك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے جو کچھ اسراف اور فضول خرچی کے بغیر خرچ کیا اپنے گھر والوں پر اور اپنی ذات پر اور جو صدقہ کیاوہ تمہارا ہے اور جو تم نے خرچ کیا دیکھاوے کے لئے یا شہرت کے لئے وہ شیطان کا حصہ ہے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6548

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6549

6549 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن قيس عن المنهال يعني ابن عمرو عن سعيد بن جبير في : قوله عز و جل : { ما أنفقتم من شيء فهو يخلفه وهو خير الرازقين } قال : في غير إسراف ولا تقتير ورواه إسماعيل بن زكريا عن عمرو بن قيس الملائي فبلغ به ابن عباس

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے اور ابو الحسن بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد بن صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو وکیع نے ان کو سفیان نے ان کوعمرو بن قیس نے منہال سے یعنی ابن عمرو نے سعید بن جبیر سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں:ما انفقتم من شیءٍ فھو یخلفہ وھو خیر الرازقین جو بھی چیز تم خرچ کرو و ہ اس کی جگہ اور دے گا اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ فرمایا: اس سے مراد ہے جو تم خرچ کرو بغیر اسراف کے اور بغیر کنجوسی کے۔ اور اس کو روایت کیا ہے اسماعیل بن زکریا نے عمرو بن قیس ملائی سے اس نے بھی اس کو ابن عباس رضی اللہ عنہ تک پہنچایا ہے۔

عمرو بن قيس الملائي فبلغ به ابن عباس ← في غير إسراف ولا تقتير ورواه إسماعيل بن زكريا ← سعيد بن جبير في قوله عز و جل ← المنهال يعني ابن عمرو ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو علي الروذباري و أبو الحسين بن بشران

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6549

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6550

6550 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا ابن مهران الدينوري ثنا سعيد بن منصور ثنا إسماعيل بن زكريا : فذكره وقال : في غير إسراف وقال غيره عن إسماعيل : في غير إسراف ولا تقتير

ہمیں اس کی خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن مہران دینوری نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن زکریا نے۔ پس اس نے اسی مذکورہ مسئلہ کوذکر کیا ہے مگر صرف غیر اسراف کا ذکر کیا ہے۔ اور اس کے علاوہ دوسروں نے اسماعیل سے روایت کی بغیر اسراف کے اور کنجوسی کے۔

إسماعيل في غير إسراف ولا تقتير ← إسماعيل بن زكريا فذكره وقال في غير إسراف وقال غيره ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← ابن مهران الدينوري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6550

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6551

6551 - أخبرنا علي بن أحمد ثنا الحسن بن علويه ثنا إسماعيل بن عيسى ثنا إسماعيل : فذكره

ہمیں خبر دی علی بن احمد نے ان کو حسن بن علویہ نے ان کو اسماعیل بن عیسیٰ نے ان کو اسماعیل نے اس نے اسی مذکور کو ذکر کیا ہے۔

إِسْمَاعِيلُ، فَذَكَرَهُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى، ← الْحَسَنُ بْنُ عُلُّوِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ،

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6551

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6552

6552 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا العباس بن محمد بن عبيد ثنا مسعر عن زياد مولى مصعب عن الحسن قال : ما أنفق رجل على أهله في غير إسراف ولا إقتار فهو في سبيل الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد بن عبید نے ان کو مسعر نے ان کو زیادہ مولیٰ معصب نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ آدمی جو کچھ اسراف اور کنجوسی کے بغیر اپنے گھر والوں پر خرچ کرے وہ خرچ کرنا اللہ کی راہ میں ہے۔

الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ مَوْلَى مُصْعَبٍ، ← مِسْعَرٍ، ← العباس بن محمد بن عبيد ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6552

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6553

6553 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و محمد بن موسى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا حفص بن غياث عن أشعث بن سوار عن الحسن سمعته يقول : ـ { ولا تجعل يدك مغلولة إلى عنقك ولا تبسطها كل البسط } قال : نهى عن السرف والبخل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو اشعث بن سوار نے کو حسن نے میں نے اس سے سنا وہ فرماتے تھے کہولا تجعل یدک مغلولۃ الٰی عنقک ولا تبسطھا کل البسط اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر نہ رکھ۔ اور نہ کھول دے اس کو بالکل کھول دینا۔ حضرت حسن نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ اللہ نے اسراف سے اور بخل کرنے سے منع کیا ہے۔

السَّرَفِ وَالْبُخْلِ ← نُهِيَ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6553

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6554

6554 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا أبو عميس عن زياد مولى مصعب عن الحسن قال : قال أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم لرسول الله صلى الله عليه و سلم ما نفقتنا على أهالينا قال : ما أنفقتم على أهليكم في غير إسراف ولا تقتير فهو في سبيل الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ابوا اعمیس نے ان کو زیادہ مولیٰ مصعب نے ان کو حسن نے انہوں نے فرمایا کہ اصحاب رسول نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہم جو کچھ اپنے اہل وعیال پر خرچ کریں ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ تم اپنے گھر والوں پر بغیر اسراف کے اور کنجوسی کے خرچ کرو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے جیسا ہے۔

الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ مَوْلَى مُصْعَبٍ، ← أَبُو عُمَيْسٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6554

شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6555

6555 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد ثنا محمد بن عمرو بن النضر ثنا أحمد بن يونس ثنا زهير ثنا قابوس بن أبي ظبيان عن أبيه عن ابن عباس : عن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : الهدي الصالح والسمت الصالح والاقتصاد جزء من خمسة وعشرين جزءا من النبوة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو محمد بن عمرو بن عمرو بن نصر نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو زبیر کو قابوس بن ابو ضبیان نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: نیک ہدایت، اچھی شہرت، اعتدال اور میانہ روی نبوت کی پچیس اجزاء میں سے ایک چیز ہیں۔

الْهَدْيُ الصَّالِحُ، وَالسَّمْتُ الصَّالِحُ، وَالِاقْتِصَادُ، جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ‏.‏ ← نبي الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← محمد بن عمرو بن النضر ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-second of the people of faith › It is the chapter on economics in alimony and the prohibition of consuming false money · Hadith 6555

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood