شعب الإيمان · الثاني والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب الاقتصاد في النفقة وتحريم أكل المال الباطل · حديث 6544
6544 - مكرر ـ : قال الله عز و جل : { ولا تجعل يدك مغلولة إلى عنقك ولا تبسطها كل البسط فتقعد ملوما محسورا } وقال : { وآت ذا القربى حقه والمسكين وابن السبيل ولا تبذر تبذيرا * إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين وكان الشيطان لربه كفورا } وقال في صفة الذين سماهم عباد الرحمن : { والذين إذا أنفقوا لم يسرفوا ولم يقتروا وكان بين ذلك قواما } فاشتملت هذه الآيات كلها على الأمر بالاقتصاد والنهي عن الإسراف وذلك موافق للنهي عن الإسراف في الأكل والشرب لأن الله عز و جل يقول : { كلوا واشربوا ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين } فإذا كان الإسراف في الأكل والشرب ممنوعا وجب أن يكون الإسراف في الإنفاق ممنوعا لأن ذلك إنما يكون بصرف المال في أكثر مما يحتاج إليه من المأكول والمشروب وذلك الأكثر ممنوع من أكله فينبغي أن يكون صرف المال في الممنوع ممنوعا وحد السرف في الأكل أن يجاوز الشبع ويثقل البدن حتى لا يمكن معه أداء واجب ولا قضاء حق إلا يحمل على البدن وليس السرف في الإنفاق كل ما ذكرنا لكن في المسكن والملبس والمركب والخدام من السرف مثل ما في الطعام والشراب فأما الإنفاق فيما يبقى وينمو فليس فيها كشري الضياع والمواشي للنسل لأن هذه تغل وتنمو فيزداد بما يصرف فيها أضعافه قال : ومما يدخل في جملة التبذير والإسراف أن لا يبالي الواحد فيما يشتري ويبيع كأن يغبن أو يغبن فيبيع بوكس و يشتري بفضل وبسط الكلام فيه إلى أن حكي عن ابن عباس أنه قال : في قوله الله عز و جل : { ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل } قال الرجل : يشتري المتاع فيرده ويرد معه دراهم قال : وكل هذه ممنوع وهذا الوجه هو الموجب للحجر وكذلك الإنفاق في الملاهي والشهوات المحرمة من التبذير الموجب للحجر والوقف فأما إذا اشترى طعاما أكثر من حاجته أو لباسا أو خادما أكثر من حاجته فهو وإن كان سرفا فليس من السرف الموجب للحجر لأنه يستبدل بالملك ملكا يوازنه وإنما ينبع الإسراف منه في الانتفاع بما ملكه
مکر رہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ (1)ولا تجعل یدک مغلولۃ الٰی عنقک ولا لبسطھا کل البسط فتقعد ملوماً محسراً اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کی طرف باندھے ہوئے نہ رکھئے اور نہ کھول دیجئے پوری طرح کھول دینا کہ پھر تو بیٹھ جائے (خالی ہاتھ ہو کر) الزام دیا ہوا ہارا ہوا۔ (2) واٰت ذاالقربی حقہ والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیراً ان المبذرین کانوا اخوان الشیٰطین وکان الشیٰطن لربہ کفوراً قرابت دار کو اس کا حق دیجئے اور محتاج کو اور مسافر کو اور مت اڑا مال کو بیجا بے شک مال کو بیجا اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ اوراللہ تعالیٰ نے ان بندوں کی تعریف فرمائی ہے جن کا نام اللہ نے عبادالرحمٰن رکھا ہے۔ (3) والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذالک قوماً اللہ کے بندے (عبادالرحمٰن) وہ ہیں جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو وہ فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ ہی تنگی کرتے ہیں (کنجوسی) بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال اور میانہ روی سے چلتے ہیں۔ یہ تمام آیات اقتصاد اور میانہ روی کا درس دے رہی ہیں، اور اسراف وفضول خرچی سے منع کر رہی ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح فضول خرچی سے ممانعت ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے سے اسراف کرنے یعنی ضرورت سے زیادہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد باری ہے: (3) کلوا واشربوا ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفینکھاؤ اور پیئو اور اسراف نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ تشریح: جب اسراف اکل وشرب میں ممنوع ہے (یعنی کھانے پینے میں زیادتی منع ہے) تو واجب ہے کہ انفاق اور خرچ کرنے میں بھی اسراف کرنا بے حیا اور ضرورت سے زیادہ خرچ کر ناممنوع ہو گا ، اس لئے کہ زیادہ کھانے پینے کے لئے زیادہ سامان خورد ونوش ضروری ہو گا اور اس کے لئے زیادہ مال خرچ کرنا لازمی ہو گا لہٰذا یہ ساری باتیں ممنوع ہوں گی کیونکہ صرف ہو رہا ہے ممنوع میں لہٰذا وہ بھی ممنوع ہے۔ کھانے پینے میں اسراف کی حد : کھانے پینے میں اسراف کی حدیہ ہے کہ ضرورت کے مطابق پیٹ بھر کھانے سے تجاوز کر کے اتنا کھائے جس سے بدن بوجھل اور بھاری ہو جائے جس کی وجہ سے ادائے واجبات اور فرائض ممکن نہ رہے۔ اور حق بھی پورا نہ ہو سکے سوائے بدن پر لادنے کے۔ اسراف اور ضرورت سے زیادہ بے جا خرچ کرنا صرف یہی نہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں کھانے پینے کے طور سے بلکہ اسراف مکان بنانے میں بھی ہوتا ہے لباس پہننے کا بھی ہوتا ہے سواری میں بھی ہوتا ہے خادموں اور نوکروں میں بھی ہوتا ہے جیسے اکل وشرب میں اسراف ہوتا ہے (رہائش اور مکان پر زیادہ خرچ کرنا اسراف ہو گا۔لباس پر زیادہ خرچ کرنا اسراف ہو گا۔ سواری پر زیادہ خرچ اسراف ہو گا جیسے کم قیمت کا سواری کا جانور کم قیمت گاڑی سے کام چل سکتا ہے اور بہت زیادہ مہنگی کار میں جس پر لاکھوں خرچ ہوتے ہیں یہ سب اسراف ہو گا۔ بہر حال جو چیز باقی رہے۔ اور جس کی مالیت بڑھتی رہے وہ اسراف نہیں ہے جیسے اونٹ اور دیگر مالی مویشی جو افزائش نسل کے لئے ہوں (یہ اسراف نہیں ہو گا) اسی طرح اس دور میں اسی مقصد کے لئے زمین جائیداد مکان پلاٹ گاڑیاں جو اسی مقصد کے لئے یعنی تجارتی مقصد کے لئے ہوں۔ محض ریاکاری دیکھاوے اور تکبر کے لئے نہ ہوں اور نہ حرام ہو گا۔ (ایسی چیزیں بنانا ناجائز و اسراف نہیں ہو گا۔) مترجم۔ کیونکہ چیزیں مہنگی ہوتی رہتی ہیں بڑھتی ہیں اور زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا ان چیزوں میں جو خرچ کیا تھا اس سے کئی گنا زیادہ اضافہ ہوتا ہے (یعنی اس میں تضیع مال نہیں ہے بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔) اور فرمایا کہ۔ اس میں سے جو مجموعی طور پر اسراف اور فضول خرچی میں داخل ہے یہ ہے کہ نہ پرواہ کرے، ایک آدمی خریدے، بیچے دھوکہ کے ساتھ جیسے کوئی دوسرا اس کے ساتھ دھوکہ کرے تو یہ بھی بوگس مال بیچ دے اور اضافے کے ساتھ خرید کرے زیادہ۔ شیخ نیاس میں تفصیل کے ساتھ کلام کیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے حضرت ابن عباس کی حکایت بیان کی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرمایا: ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل تم لوگ اس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ فرمایا کہ کوئی آدمی مثلاً سامان خریدے پھر اس کو واپس کر دے اور مال کے ساتھ دراہم بھی واپس کر دے (یہ بھی اسراف ہے) فرمایا کہ یہ سب ممنوع ہے۔ یہ مذکورہ صورت وہی حجر اور رکاوٹ کا سبب یا ممانعت کا ہے۔ اور لھو و لعب میں اور شہوات ولذات میں جو کہ حرام امور ہیں خرچ کرنا اسراف میں سے ہے جو موجب ممانعت کے لئے اور وقف سے یعنی اللہ کی راہ میں وقف کرنے سے مانع ہو گا (اس لئے ممنوع ہو گا۔) بہرحال جب کھانا اپنی ضرورت سے زیادہ خرید کرے یا کپڑے ضرورت سے زیادہ خریدے یا نوکر چاکر ضرورت سے زیادہ یہ چیزیں اگرچہ اسراف میں اور زیادتی میں ہیں لیکن ایسا اسراف نہیں جو موجب حجر و رکاوٹ ہو۔ اس لئے کہ ایک ملکیت کے ساتھ دوسری ملکیت تبدیل کرتا ہے جو اس کے ہم پلہ ہے یا ہم قیمت ہے۔ یہاں اسراف اس سے نفع اندوز ہونے میں ہو گا جس چیز کا مالک ہوا ہے۔
مكرر
Hadith 6544
