Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6535

6536 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسن بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا علي بن الجعد أنا المبارك بن فضالة عن الحسن قال : شهدت مع عثمان وهو يخطب وهو يأمر بذبح الحمام وقتل الكلاب

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو علی بن جعد نے ان کو مبارک بن فضالہ نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان کے پاس گیا وہ خطبہ دے رہے تھے اور وہ کبوتروں کو ذبح کرنے اور کتوں کو مروا دینے کا حکم دے رہے تھے۔

شهدت مع عثمان وهو يخطب وهو يأمر بذبح الحمام وقتل الكلاب ← الْحَسَنِ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الحسن بن صفوان ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Hadith 6535

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6536

6537 - و أخبرنا ابن بشران أنا ابن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا خلف بن هشام ثنا خالد بن عبد الله عن خالد يعني الحذاء عن رجل يقال له : أيوب قال : كان ملاعب أهل فرعون الحمام

اور ہمیں خبر دی ابن بشران نے ان کو ابن صفوان نے ان کو ابن ابو الدنیانے ان کو خلف بن ہشام نے ان کو خالد عبداللہ نے یعنی خالد حذاء نے ایک آدمی سے جسے ایوب کہا جاتا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ ال فرعون کا کھیل کبوتر ہی تھے۔

كان ملاعب أهل فرعون الحمام ← رجل يقال له أيوب ← خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← خلف بن هشام، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← ابْنِ صَفْوَانَ ← ابن بشران، ← و،

Hadith 6536

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6537

6538 - أخبرنا ابن بشران أنا ابن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا إسحاق بن حاتم المدائني عن شيخ من النخع حدثه عن مغيرة عن إبراهيم قال : من لعب بالحمام الطيارة لم يمت حتى يذوق ألم الفقر قال وثنا ابن أبي الدنيا ثنا ابن جميل ثنا ابن المبارك أنا سفيان قال : سمعت أن لعبا بالجلاهق ولعبا بالحمام هو من عمل قوم لوط وأما الرقص فقد قال الحليمي رحمه الله : فما كان فيه تثن وتكسر حتى تباين أخلاق الذكور فهو حرام على الرجال وهو شر من التصفيق وقد جعله رسول الله صلى الله عليه و سلم للنساء لا ينبغي للرجال أن يصفقوا فأولى أن لا يكون لهم من الرقص الذي فيه التخنث أعظم مما في التصفيق وليس ذلك بمملوك لأحد من نفسه لأنه باطل كما أن ضرب الوجوه ولطم الخدود لم يكن مملوكا لأحد من نفسه لأنه باطل فالتلذذ بالباطل كالتألم بالباطل والله أعلم وأما لعب الصبايا باللعب التي تسميها البنات فإنهن لا يمنعن منه ما لم تكن تلك اللعب أشباه الأوثان وبسط الكلام في ذلك وقد ذكرنا الأخبار في ذلك في كتاب السنن قال الحليمي رحمه الله : ومن وجوه اللعب التحريش بين الكلاب والديوك وقد جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه نهى عنه التحريش بين البهائم هو حرام ممنوع لا يؤذن لأحد فيه لأن كل واحد من المتحارشين يؤلم الآخر ويجرحه ولو أراد المحرش أن يفعل ذلك بيده ما حل له

ہمیں خبر دی ابن بشران نے کہ ہمیں خبر دی ابن صفوان نے ان کو ابن ابی الدنیا نے ان کو اسحاق بن حاتم ملائبنی نے ان کو شہر نخع کے ایک شخص نے اس نے اس کو حدیث بیان کی مغیرہ سے اس نے ابراہیم سے انہوں نے فرمایا کہ جو شخص کبوتر اڑانے کا کھیل کھیلے وہ اس وقت تک نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ فقر و محتاج کا درد چکھ لے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابو الدنیا نے ان کو ابن جمیل نے ان کو ابن مبارک نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ جلاھق اور غلیلوں سے کھیلنا اور کبوتر بازی قوم لوط کا عمل تھا۔ بہرحال رہا رقص کرنا اور ناچنا تو تحقیق شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وہ رقص جس میں دہرا ہونا اور سکیڑنا ہو (یعنی اعضاء کو موڑنا، سکیٹرنا وغیرہ جیسے ناچ گانے میں ہوتا ہے)۔ اور ایسی حرکات جو مردوں کے اخلاق و عادت کے منافی اور مخالف ہوں وہ مردوں کے لئے حرام ہے۔(خلاصہ یہ کہ رقص کرنا یعنی ناچنا حرام ہے) اور ہاتھ پر ہاتھ مارنے تالیاں بجانے سے زیادہ برا ہے۔ بوقت ضرورت اور بوجہ ضرورت تالی مارنے کی حضور نے عورتوں کو اجازت دی تھی مردوں کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ تالیاں بجائیں (خدا برا کرے یہود ونصاریٰ کا کہ انہوں نے آج کے دور میں ہر خوشی کے موقع پر تالیاں بجانا عام کر دیا ہے جس میں مسلمان بھی ان کے ساتھ ان کے برابر کے شریک ہیں اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق عطا فرمائے) مترجم۔ بہرحال مصنف فرماتے ہیں کہ اولیٰ اور سب سے بہتر یہی ہے کہ رقص کرنا ناچنا جس میں ہیجڑا بننا ہوتا ہے وہ بہت بڑا گناہ ہے تالیاں بجانے سے اور یہ کام کرنا اختیار میں نہیں ہے از روئے شریعت اور ازروئے دین (یعنی جیسے انسان اپنے وجود کا مالک نہیں ہے کہ جو چاہے اس کے ساتھ کر ڈالے بیچ دے کاٹ ڈالے مار ڈالے یہ کسی کے اختیار اور ملکیت میں داخل نہیں ہے اسی طرح مذکورہ حرکات رقص اور ناچنا بھی کسی کی ملکیت میں اور اختیار میں نہیں ہے) کیونکہ بذات خود یہ کام باطل ہے، جیسے اپنے منہ پر طمانچے مارنا منہ پیٹنا کسی کے شرعی اختیار اور ملکیت میں داخل نہیں ہے بذات خود۔ کیونکہ وہ باطل ہے، اور باطل کے ساتھ لذت حاصل کرنا یا لطف اندوز ہونا ایسے ناجائز اور حرام ہے جیسے باطل اور نا جائز اور نا غلط فعل کے ساتھ درد اٹھانا اپنے آپ کو تکلیف میں اور اذیت میں مبتلا کر نا ناجائز اور حرام ہے۔ بچیوں کا گڑیائیں کھیلنا: بہرحال بچیوں کا کھلونوں اور گڑیاؤں کے ساتھ کھیلنا جن کو وہ لڑکیاں یا بیٹیاں کہتی ہیں ان لڑکیوں کو منع نہیں کیا جائے گا اس کھیل سے جب تک وہ کھلونے یا گڑیائیں بتوں کی شبہیں نہ ہوں۔ شیخ حلیمی نے اس بارے میں تفصیل کے ساتھ کام کیا ہے۔ اور ہم نے وہ اخبار جو اس بارے میں میں کتاب السنن میں ذکر کر دی ہیں۔ کتے لڑانا اور مرغے لڑانا نا جائز اور حرام ہے شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کھیل کے اقسام میں سے ہے کتوں میں اور مرغوں میں لڑائی یا مقابلے کروانا (کتوں کی لڑائی کتوں سے ہو یا کتوں کی ریچھ سے سب حرام ہے)۔ (مترجم) کیونکہ نبی کریم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے مقابلے کرنے والے کو حرام کہا ہے ممنوع کہا ہے، کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی ، اس لئے کہ با ہم لڑائی کرنے والوں میں سے ہر ایک دوسرے زخمی کر کے درد والم سے دو چار کرتا ہے۔اور اس کا وبال اور گناہ لڑانے والوں کو ملتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر لڑانے والا اپنے ہاتھ میں سے ان جانوروں یا پرندوں میں سے کسی کو مارے پیٹے یا زخمی کر دے تو یہ اس کے لئے شرعاً حلال نہیں ہو گا بلکہ نا جائز ہو گا۔ (اور ہر ہوش مند سنے گا کہ یہ بے زبان جانوروں پر ظلم ہے، اور کیا خیال ہے کہ جب وہ یہ کام درندوں سے کروائے یہ تو اس سے بھی بڑا ظلم ہو گا۔ میں یہاں پر ایک واقعہ نقل کرتا ہوں جو کتے لڑانے یار ریچھ اور کتوں کو لڑانے والوں کے لئے باعث عبرت ہے۔ ہمارے علاقے بہاولپور کی کسی نواحی بستی کا واقعہ ہے جو کئی سال قبل ہمیں کچھ دیندار اور نمازی حضرات نے بتایا بلکہ واقعہ اپنے زمانے میں اتنا مشہور ہو گیا تھا کہ اس وقت کے واعظوں اور خطیبوں نے اپنی تقریروں میں عبرت کے لئے اس کو سنا کر لڑانے والوں اور اس کے تماشائیوں اور شیدائیوں کواللہ کے غضب سے ڈراتا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ کسی بستی میں کسی ملک صاحب یا کسی مخدوم صاحب کے ڈیرے پر ریچھ اور کتوں کی لڑائی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ریچھ کے اوپر کئی کتے چھوڑ دیئے گئے تھے وہ ایک لمبی رسی کے ساتھ بندھا ہوا تھا لڑائی ہوتی رہی تماشائی لوگ محفوظ ہو رہے تھے مگر ادھر ایک بے زبان ریچھ کی جان پر بنی ہوئی تھی اس کو کتے بھنبھوڑ رہے تھے اس کی چیخیں نکل رہی تھیں اسی اثنا میں ریچھ کی رسی ٹوٹ گئی اور وہ مجمع سے نکل بھاگا بہت سارے تماشائی پکڑنے کے لئے پیچھے بھا گئے تو وہ گاؤں کی مسجد میں گھس گیا اور وہاں سے قرآن مجید اٹھا کر اِدھر اُدھر بھاگتا رہا جب لوگوں نے گھیر اتو اس نے وہ قرآن مجید تماشے کے کسی مخدوم یا زمیندار کی گود میں ڈال دیا (جو کہ زبان حال سے ان لوگوں کو قرآن کا واسطہ دے رہا تھا مگر ان سیاہ قلب انسانوں نے اس کی یہ عرض بھی مسترد کر دی اس کو باندھ کر پھر لڑوایا گیا عین اس لمحے یا شام کو اس بستی میں قدرتی طور پر آگ لگ گئی اور دیکھتے دیکھتے پوری بستی جل کر راکھ ہو گئی آواز خلق نقارہ خدا کا محاور تو آپ نے سنا ہی ہو گا سب لوگوں نے یہی کہا کہ یہ اسی ظلم کا نتیجہ تھا جو اس بے زبان پر کیا گیا۔ یہ اسی وجہ سے اللہ کا عذاب تھا۔ یہ عبرتناک واقعہ تمام انسانوں کے لئے باعث عبرت ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← شَيْخٍ، مِنَ النَّخَعِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَدَائِنِيُّ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← ابْنِ صَفْوَانَ ← ابن بشران،

Hadith 6537

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood