Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6523

6524 - أخبرنا ابن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا حدثني هارون بن سفيان ثنا عيسى بن صبيح مولى عمرو بن عبيدة القاضي قال : كنت مع أيوب السختياني فرأى قوما يلعبون بالشطرنج فقال لمحمد بن المنكدر فقال : من يلعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله فقال له عمرو بن عبيدة : ليس هذا نرد هذا شطرنج فقال أيوب النرد والشطرنج سواء

ہمیں خبر دی ابن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو ہارون بن سفیان نے ان کو عیسیٰ بن صبیح مولیٰ عمرو بن عبیدہ قاضی نے وہ کہتے ہیں کہ میں ایوب سختیانی کے ساتھ تھا انہوں نے کچھ لوگوں کو شطرنج کھیلتے دیکھا۔ تو محمد بن منکدر سے کہا جو شخص نرد(چوسر) کھیلے گا اس نے اللہ اس کے رسول کی نافرمانی کی تو عمرو بن عبید یہ نے ان سے کہا حضرت یہ نرد (چوسر) نہیں ہے یہ شطرنج ہے۔ تو ایوب نے فرمایا کہ نرد اور شطرنج برابر ہیں۔

أيوب النرد والشطرنج سواء ← له عمرو بن عبيدة ليس هذا نرد هذا شطرنج ← من يلعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله ← لمحمد بن المنكدر ← كنت مع أيوب السختياني فرأى قوما يلعبون بالشطرنج ← عيسى بن صبيح مولى عمرو بن عبيدة القاضي ← هَارُونَ بْنَ سُفْيَانَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← ابن بشران،

Hadith 6523

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6524

6525 - و أخبرنا ابن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة قال : مر عبد الله بن غالب رجل من أهل البصرة بقوم يلعبون بالشطرنج فقال للحسن مررت بقوم يعكفون على أصنام لهم

ہمیں خبر دی ابن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن غالب اہل بصرہ کے ایک آدمی تھے وہ کچھ ایسے لوگوں پر گزرے جو شطرنج کھیل رہے تھے۔ انہوں نے حسن سے کہا کہ میں ایسے لوگوں پر گزرا ہوں جواپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے تھے۔

للحسن مررت بقوم يعكفون على أصنام لهم ← مر عبد الله بن غالب رجل من أهل البصرة بقوم يلعبون بالشطرنج ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← ابن بشران، ← و،

Hadith 6524

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6525

6526 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني عبد الله بن المسيب عن يزيد بن يوسف أنه سأل يزيد بن أبي حبيب عن اللعب بالشطرنج فقال يزيد : لو مررت على قوم يلعبون بالشطرنج ما سلمت عليهم

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے عبیداللہ بن مسیب نے ان کو یزید بن یوسف نے کہ انہوں نے پوچھا یزید بن ابو حبیب سے شطرنج کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر میں ایسے لوگوں پر گزروں جو شطرنج کھیل رہے ہوں تو میں ان کو سلام نہیں کروں گا۔

اللعب بالشطرنج ← يزيد بن يوسف أنه سأل يزيد بن أبي حبيب ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 6525

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6526

6527 - أخبرنا أبو الحسن بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا زياد بن أيوب ثنا شبابة ثنا حفص بن عبد الملك قال : سمعت محمد بن سيرين يقول : لو ردت شهادة من يلعب بالشطرنج كان لذلك أهلا

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن ابی الدنیا نے ان کو زیاد بن ایوب نے ان کو شبابہ نے ان کو حفص بن عبدالملک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن سیرین سے وہ کہتے تھے اگر میں اس شخص کی شہادت قبول نہ کروں بلکہ رد کر دوں جو شطرنج کھیلتا ہے تو وہ اسی بات کے لائق ہے۔

لو ردت شهادة من يلعب بالشطرنج كان لذلك أهلا ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← حفص بن عبد الملك ← شَبَابَةُ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أبو الحسن بن بشران

Hadith 6526

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6527

6528 - وأخبرنا ابن بشران أنا ابن صفوان أنا ابن أبي الدنيا ثنا إبراهيم بن إسحاق بن راشد حدثني شريح بن النعمان قال : سألت عبد الله بن نافع عن الشطرنج والنرد فقال : ما أدركت أحدا من علمائنا إلا وهو يكرهها كان مالك يقول : قال شريح : وسألته عن شهادتهم فقال : لا تقبل شهادتهم ولا كرامة إلا أن يكون يخفي ذلك ولا يلعنه هكذا كان مالك يقول وكذلك قوله في الغناء ولا تقبل لهم شهادة قال الشيخ : ما لا خلاف في تحريمه وهو النرد فإنا نرد شهادة من لعب به وما اختلفوا في تحريمه وهو الشطرنج فإنا لا نرد شهادة من لعب به على الاستحلال له إذا لم يقامر عليه ولم يغفل عن الصلاة فيكثر وأما كراهية اللعب به فقد نص الشافعي عليه وبالله التوفيق

ہمیں خبر دی ابن بشران نے ان کو خبر دی ابن صفوان نے ان کو ابن ابی الدنیا نے ان کو ابراہیم بن اسحاق بن راشد نے۔ ان کو حدیث بیان کی ہے شریح بن نعمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن نافع سے شطرنج اور نرد (چوسر) کے بارے میں پوچھاتو انہوں نے فرمایا میں نے اپنے علماء میں سے کسی کو نہیں پایا مگر جو بھی دیکھا وہی اس کو اسی طرح مکروہ اور ناپسند کرتا تھا۔ مالک کہتے تھے کہ شریح نے کہا (حالانکہ) میں نے اس سے ایسے لوگوں کی شہادت کے بارے میں پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ ان کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔ اور ان کا اکرام بھی نہیں کیا جائے گا ہاں مگر یہ ہے کہ اگر وہ اس کو چھپاتا ہو ظاہر نہ کرتا ہو۔ اسی طرح ما لک کہتے تھے۔ اور اسی طرح اس کا قول گانا سننے والے کے بارے میں بھی کہ ان لوگوں کی شہادت بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ شیخ نے فرمایا کہ جس چیز کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ سب کا اتفاق ہے کہ وہ حرام ہے وہ نرد (چوسر) ہے جو شخص چوسر کھیلتا ہے ہم اس کی شہادت ادا کر دیں گے قبول نہیں کریں گے۔ اور علماء نے جس چیز کے حرام ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ شطرنج ہے۔ بے شک ہم لوگ اس کی شہادت نہیں کر یں گے۔ جو شطرنج کھیلے گا اس کوحلال سمجھتے ہوئے بشرطیکہ وہ اس پر جوا نہ کھیلے اور اس کے کھیل میں لگ کر نماز سے غافل بھی نہ ہو پس کثرت سے بھی نہ کرے۔ بہرحال باقی رہی اس کے مکروہ ہونے کی بات تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے کھیل کے مکروہ ہونے پر وضاحت اور تصریح فرمائی ہے۔

شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ← إبراهيم بن إسحاق بن راشد ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← ابْنِ صَفْوَانَ ← ابن بشران،

Hadith 6527

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6528

6529 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصغاني أنا سعيد بن أبي مريم أنا إبراهيم بن سويد حدثني هلال بن زيد بن يسار بن مولى أخبرني أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بعثني الله رحمة وهدى للعالمين وبعثني لمحق المعازف والمزامير وأمر الجاهلية ثم قال : من شرب خمرا في الدنيا سقاه الله كما شرب منه من حميم جهنم معذب هذا ومغفور له قال الشيخ رضي الله عنه : فذكرنا شواهده في غير هذا الموضع وهو بشواهده يأخذ قوة والله أعلم وقد ذكرنا في كتاب السنن أخبارا في سائر أنواع ما يلعب به من أرادها رجع إليه إن شاء الله

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو سعید بن ابو مریم نے ان کو ابراہیم بن سوید نے ان کو ہلال بن زید بن یسار بن مولا نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی انس بن مالک نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے سارے جہانوں کے لئے، اور مجھے بھیجا ہے مٹانے کے لئے گانے بجانے کے آلات کو اور راگ گانوں کو اور جاہلیت کے معاملے کو۔ اس کے بعد فرمایا: جو شخص دنیامیں شراب پیئے گا اللہ اس کو پلائے گا جہنم کا گرم پانی جیسے اس نے شراب پی تھی یہی عذاب دیا جائے گا اور پھر اس کو معاف کیا جائے گا۔ شیخ رحمتہ اللہ فرماتے تھے۔ ہم نے اس کے شواہد ذکر کر دیئے ہیں اس مقام کے علاوہ اور وہ اپنے شواہد کے ساتھ قوت پکڑتی ہے۔اور ہم نے کتاب السنن میں کئی اخبار ذکر کی ہیں تمام کھیلوں کے اقسام کے بارے میں جو بھی کھیلے گا۔ جو شخص ان پر مطلع ہونا چاہے انشاءاللہ وہاں رجوع کرے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هلال بن زيد بن يسار بن مولى ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ

Hadith 6528

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6529

6530 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا يوسف بن موسى ثنا جرير عن ليث عن مجاهد قال : مر ابن عمر بقوم يلعبون بالشهاردة فأحرقها بالنار

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو جریر نے ان کو لیث نے ان کو مجاہد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کچھ ایسے لوگوں کے پاس گزرے جو شہادہ کے ساتھ کھیل رہے تھے انہوں نے اسے آگ لگا کر جلا دیا۔

مر ابن عمر بقوم يلعبون بالشهاردة فأحرقها بالنار ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Hadith 6529

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6530

6531 - وأخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان ثنا إسحاق الأزرق عن سفيان الثوري عن عبد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر : أنه كان يكسر الأربعة عشر التي يلعب بها ورويناه أيضا عن نافع عن صفية عن ابن عمر أنه دخل على بعض أهله وهو يلعبون بها وكسرها وروينا عن سلمة بن الأكوع أنه نهى عنها

اور ہمیں ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو سعد نے ان کو اسحاق ازرق نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہ وہ چودہ (مہروں) کو توڑ دیتے تھے جن کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ اور ہم نے اس کو بھی روایت کیا ہے نافع سے اس نے صیفہ سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا اپنے گھرانے کے کچھ افراد پر گئے تو وہ اس کے ساتھ کھیل رہے تھے حضرت ابن عمر نے اسے توڑ دیا۔ اور ہم نے روایت کی سلمہ بن اکوع سے کہ انہوں نے اس کھیل سے منع فرمایا تھا۔

سلمة بن الأكوع أنه نهى عنها ← ابن عمر أنه دخل على بعض أهله وهو يلعبون بها وكسرها وروينا ← صَفِيَّةَ ← نَافِعٍ ← ابن عمر أنه كان يكسر الأربعة عشر التي يلعب بها ورويناه أيضا ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← سَعْدَانُ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ،

Hadith 6530

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6531

6532 - و أخبرنا أبو الحسين أنا الحسين ثنا عبد الله حدثني إسماعيل بن أبي الحارث ثنا موسى بن داود عن ابن لهيعة عن عبد الله بن زياد عن المنذر بن الجهم بن سويد عن أم سلمة قالت : لأن يضطرم نار في بيت أحدكم خير له من أن يكون في بيته الأربع عشر وأما المراجيح قد روينا عن عائشة أنها كانت على أرجوحة ومعها صواحبها في الوقت الذي صرخت بها أمها لتزفها إلى النبي صلى الله عليه و سلم وذلك في أول ما هاجر النبي صلى الله عليه و سلم إلى المدينة ثم روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث مرسل أنه أمر بقطع المراجيح

ہمیں خبر دی ابو الحسین نے ان کو الحسین نے ان کو عبداللہ نے ان کو اسماعیل بن ابی الحارث نے ان کو موسیٰ بن داؤد نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو عبداللہ بن زیاد نے ان کو منذر بن محمد بن سوید نے ان کو اُم سلمہ نے وہ کہتی ہیں کہ البتہ اگر شعلے مارے آگ تم میں سے کسی ایک کے گھر میں (یعنی گھر کو آگ لگ جائے) تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے اس سے کہ اس کے گھر میں ہوں یہ چودہ (مہرے)۔ (بہر حال جہاں تک جھولوں کی بات ہے) تو ہم نے اس بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ وہ جھولے پر بیٹھی تھیں اور ان کی سہیلیاں ان کے ساتھ تھیں اس وقت جب ان کی والدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کو رخصت کرنے کا اعلان کیا تھا یا آواز لگائی تھی ، یہ اس وقت کے شروع کی بات ہے جب مدینے کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تھی اس کے بعد ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے مرسل حدیث میں۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جھولوں کو توڑ دینے کا حکم دیا تھا ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← المنذر بن الجهم بن سويد ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← الحسين ← أَبُو الْحَسَينِ ← و،

Hadith 6531

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6532

6533 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا حدثني الفضل بن إسحاق ثنا أبو قتيبة ثنا الحسن بن حكيم عن أمه قالت : رأيت أبا بردة إذا رأى أحدا من أهله وولده يلعب على المراجيح ضربهم وكسرها قال الشيخ

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو الدنیانے ان کوفضل بن اسحاق نے ان کو ابو قتیبہ نے ان کو حسن بن حکیم نے ان کوان کی والدہ نے وہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ اپنے خاندان کے کسی فرد کو یا اپنے کسی بیٹے کو جھولوں پر کھیلتا دیکھتے ان کو مارتے تھے اور جھولے کو توڑ دیتے تھے۔

أُمِّهِ2، ← الْحَسَنِ بْنِ حَكِيمٍ ← أَبُو قُتَيْبَةَ، ← الفضل بن إسحاق ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 6532

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6533

6534 - وثنا ابن أبي الدنيا ثنا محمد بن عثمان العجلي ثنا ابن نمير عن مالك بن مغول عن طلحة يعني ابن مصرف قال : إني لأكره المراجيح يوم النيروز وأراها شعبة من المجوسية ورأى إنسانا على أرجوحة وذكرنا في كراهية اللعب بالحمام حديث أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يتبع حمامة فقال : شيطان يتبع شيطانة

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابو الدنیا نے ان کو محمد بن عثمان عجلی نے ان کو ابن نمیر نے ان کو مالک بن مغول نے ان کو طلحہ نے ان کو ابن مصرف نے وہ کہتے ہیں کہ میں (عید) نیروز والے دن جھولوں کو مکروہ اور ناپسند جانتا ہوں اور میں اس عمل کو مجوسیت کا ایک شعبہ سمجھتا ہوں۔انہوں نے ایک آدمی کو جھولے پر دیکھا تھا۔ کبوتر بازی کرنا: اور ہم نے کبوتروں کے ساتھ یعنی کبوتر بازی کرنے کی کراہت و ناپسندیدہ ہونے کے بارے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ذکر کی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو کبوتری کے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطان ہے جو شیطان کے پیچھے پھر رہا ہے۔

طلحة يعني ابن مصرف ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا،

Hadith 6533

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6534

6535 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا سعيد بن عمر الضبي ثنا أبو الوليد ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره وحمله بعض أهل العلم على إدمان صاحب الحمام على إطارته والاشتغال به وارتقائه السطوح التي يشرف بها على بيوت الجيران وحرمهم لأجله

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عثمان بن عمر ضبی نے ان کو ابو الولید نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس آدمی کو کبوتری کے پیچھے بھاگتے دیکھا) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کو ذکر کیا ہے۔ بعض اہل علم نے اس کو اس حالت پر محمول کیا ہے کہ کبوتروں والا جب ہمیشہ ان کو اڑانے میں اور انہیں کے ساتھ اشتعال میں لگا رہتا ہو اور وہ چھتوں پر چڑھنے میں لگا رہے جہاں سے وہ پڑوسیوں کے گھروں میں جھانکے اور ان کی عورتوں کو دیکھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← سعيد بن عمر الضبي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 6534

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood