Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6511

6512 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا يوسف بن موسى ثنا عمرو بن عمران عن سعيد عن قتادة قال : ذكر لنا نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : الكعبتين ميسر العجم قال

اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن ابی الدنیا نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو عمرو بن عمران نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے ذکر کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نرد وغیرہ کے مہرے عجمیوں کا جوا ہیں۔

الكعبتين ميسر العجم ← لنا نبي الله صلى الله عليه و سلم ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عمرو بن عمران ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 6511

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6512

6513 - و ثنا يوسف بن موسى ثنا وكيع ثنا الفضل بن دلهم عن الحسين قال : النرد ميسر العجم

ہمیں خبر دی یوسف بن موسیٰ نے انہیں وکیع نے انہیں فضل بن ولہم نے حسین سے کہا: میرے عجمیوں کا جوا ہے۔

النرد ميسر العجم ← الحسين ← الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ ← وَكِيعٌ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← و،

Hadith 6512

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6513

6514 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني ابن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر أن بكيرا حدثه عن رجل حدثه عن أبي هريرة أنه كان يقول : كل لعبة ضرب فيها بالكعاب قمار لا يصلح اللعب بها قال

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ہے ابن لہیعہ نے ان کو عبیداللہ بن جعفر نے کہ بکیر نے ان کو حدیث بیان کی ہے ایک آدمی سے جس نے اس کو حدیث بیان کی ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ بے شک وہ فرماتے تھے وہ ہر کھیل کھلوانا کھیلنے کی چیز جس کے مہروں کے ساتھ جوا کھیلا جائے وہ کھیلنا درست نہیں ہے۔

كل لعبة ضرب فيها بالكعاب قمار لا يصلح اللعب بها ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ ← رَجُلٌ: ← عبيد الله بن أبي جعفر أن بكيرا ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 6513

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6514

6515 - و ثنا ابن وهب أخبرني أنس بن عياض عن إبراهيم بن إسماعيل بن المجمع عن عبد الكريم عن مجاهد أن كعبا كان يقول : لأن أغمس يدي في دم ثم أصلي ولا أتوضأ أحب إلي من أن ألعب بالكعبتين ثم أصلي وأتوضأ قال عبد الكريم عن إبراهيم بن يزيد : أن ابن مسعود كان يقول : لأن أقلقل جمرتين في يدي حتى تطفآ أحب إلي من ألعب بالكعبتين قال و ثنا ابن وهب حدثني يحيى بن أيوب عن أبي قبيل عن تبيع أنه قال : مثل الذي يلعب بالنرد مثل الذي يتلطخ بدم خنزير ثم يقوم إلى الصلاة هل تقبل منه أم لا

ہمیں حدیث بیان کی ابن وہب نے ان کو خبر دی انس بن عیاض نے ان کو ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع نے ان کو عبدالکریم نے ان کو مجاہد نے کہ حضرت کعب کہتے تھے میں اگر خون میں ہاتھ آلودہ کرلوں اس کے بعد میں وضو نہ کروں اور اسی طرح خون آلود ہاتھوں کے ساتھ نماز پڑھ لوں تو یہ بات مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں جوئے کے مہروں کیساتھ کھیلوں پھر میں نماز بھی پڑھوں اور وضو بھی کروں۔ عبدالکریم نے فرمایا: ابراہیم بن یزید سے مروی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے۔ البتہ اگر میں آگ کے دو انگارے ہاتھ میں لے کر ان کو الٹ پلٹ کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ بجھ جا ئیں یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اس سے کہ میں جوئے کے دو مہروں کے ساتھ کھیلوں۔ فرمایا کہ اور ہمیں بات بیان کی ہے یحییٰ بن ایوب نے ان کو ان کے والد قبیل نے تبیع سے کہ انہوں نے کہا اس شخص کی مثال جو چوسر لینی نرد کے ساتھ کھیلتا ہے اس شخص جیسی ہے جو سور کا خون مل لے اس کے بعد وہ نماز پڑھنے کھڑا ہو جائے۔ کیا اس کی طرف سے وہ قبول کی جائے گی یا نہیں؟

مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْمُجَمِّعِ، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← و،

Hadith 6514

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6515

6516 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا أنا بشر بن معاذ العقدي ثنا عامر بن يساف عن يحيى بن أبي كثير قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوم يلعبون بالنرد فقال : قلوب لاهية وأيدي عاملة وألسنة لاغية قال

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابی الدنیا نے ان کو بشر بن معاذ عقدی نے ان کو عامر بن سیاف نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے پاس گزرے جو نرد کے ساتھ (چوسر) کھیل رہے تھے۔ آپ نے فرمایا۔ان کے دل غفلت میں کھیل رہے ہیں ، ہاتھ بے ہودہ کام میں مشغول ہیں اور زبانیں بیہودہ بک رہی ہیں۔

قلوب لاهية وأيدي عاملة وألسنة لاغية ← مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقوم يلعبون بالنرد ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَامِرُ بْنُ يِسَافٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 6515

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6516

6517 - وثنا ابن أبي الدنيا ثنا يوسف بن موسى ثنا جرير عن الفضيل بن غزوان قال : مر مسروق بقوم يلعبون بالنرد فقالوا : يا أبا عائشة إنما ربنا فرغنا فلعبنا بها قال : ما بهذا أمر الفراغ

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابی الدنیا نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو جریر نے ان کو فضیل بن عزوان نے وہ کہتے ہیں کہ مسروق ایسی قوم کے پاس سے گزرے جو نرد کے ساتھ کھیل رہے تھے بولے اے ابو عائشہ! بے شک ہم بسا اوقات جب فارغ ہوتے ۔

مَا بِهَذَا أَمْرُ الْفَرَاغِ ← يا أبا عائشة إنما ربنا فرغنا فلعبنا بها ← مر مسروق بقوم يلعبون بالنرد ← الْفُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا،

Hadith 6516

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6517

6518 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا علي بن الجعد ثنا أبو معاوية عن سعد بن طريف عن الأصبغ بن نباتة عن علي أنه : مر على قوم يلعبون بالشطرنج فقال : ما هذه التماثيل التي أنتم لها عاكفون لأن يمس جمرا حتى تطفأ خير له من أن يمسها قال الشيخ : ولهذا شواهد عن علي ذكرناها في كتاب الشهادات وروينا عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي أنه كان يقول : الشطرنج ميسر الأعاجم وروينا عن ابن عمر أنه سئل عن الشطرنج فقال : هي شر من النرد وروينا عن ابن شهاب أن أبا موسى الأشعري قال : لا يلعب الشطرنج إلا خاطئ وعن عبيد الله بن أبي جعفر أن أبا سعيد الخدري كان يكره أن يلعب بالشطرنج وعن ابن شهاب أنه سئل عن لعب الشطرنج فقال : هي من الباطل ولا يحب الله الباطل وروينا عن مالك أنه قال : الشطرنج من النرد بلغنا عن ابن عباس أنه ولي مال يتيم فأحرقها

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو علی بن جعد نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو سعد بن طریف نے ان کو اصبغ بن بنانہ نے ان کو علی نے کہ وہ ایک قوم پر گزرے جو لوگ شطرنج کھیل رہے تھے (انہوں نے شطرنج کے کھیلنے والوں کے اس عمل کو مشرکین کے بتوں کے آگے دو زانوں بیٹھے رہنے سے تشبیہ دی اور وہی آیت پڑھی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول قرآن میں نقل فرمایا ہے کہ انہوں نے مشرکوں سے کہا تھا کہ اے بت پرستو یہ کیسی مورتیاں ہیں تم جن کے آگے بیٹھے ہوئے ہو۔ فرمایا: ماھذہ التمائیل التی انتم لھا عاکفونیہ کیسی مورتیاں ہیں تم جن کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے ہو۔ اگر کوئی شخص ہاتھ میں آگ کا دھکتا ہوا انگار رکھ لے یہاں تک کہ وہ بجھ جائے یہ بہتر ہے اس کے لئے ان شطرنج کے مہروں کو ہاتھ لگانے سے۔ شیخ نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی راویت کے دیگر شواہد ہیں اس بارے میں ہم نے ان کو کتاب الشہادات میں ذکر کیا ہے۔ اور ہم نے روایت کی ہے جعفر بن محمد سے اس نے اپنے والد سے اس نے حضرت علی سے کہ وہ کہتے تھے کہ شطرنج عجمیوں کا جوا ہے۔ اور ہم نے روایت کیا ہے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ ان سے شطرنج کے بارے میں پوچھا گیا تھاتو انہوں نے فرمایا کہ یہ نرد سے بھی بدتر ہے۔ اور ہم نے روایت کیا ہے۔ ابن شہاب سے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا کہ شطرنج کے ساتھ گنہگار ہی کھیلتا ہے۔ اور عبیداللہ بن ابو جعفر نے فرمایا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ناپسند فرماتے تھے شطرنج کھیلنے کو۔ اور ابن شہاب سے مروی ہے کہ ان سے شطرنج کے بارے میں پوچھا گیا تھاتو انہوں نے فرمایا کہ یہ باطل کام ہے اور اللہ تعالیٰ باطل کو پسند نہیں کرتا۔ اور ہم نے اسی کی مثل ابن مسیب سے روایت کی ہے۔ اور ہم نے مالک سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ شطرنج نرد میں سے ہے۔ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ یتیم کے مال کے متولی بنے تھے جس میں شطرنج بھی تھا انہوں نے اس کو جلا دیا تھا۔

عَلِيٍّ، ← الأصبغ بن نباتة ← سعد بن طريف ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 6517

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6518

6519 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا علي بن الجعد أنا أبو معاوية عن عبيد الله بن عمر قال : قيل للقاسم هذه النرد تكرهونها فما بال الشطرنج قال : كل ما ألهى عن ذكر الله وعن الصلاة فهو من الميسر قال

اور ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن ابی الدنیا نے ان کو علی بن جعد نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ جناب قاسم سے کہا گیا یہ نرد جو ہے اس کو تو تم لوگ مکروہ جائز کہتے ہو، شطرنج کے بارے میں کیا خیال ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہر وہ چیز جو اللہ کی یاد سے غافل کر دے اور نماز سے بس وہی جوا ہے۔

الله وعن الصلاة فهو من الميسر ← «كُلُّ مَا أَلْهَى ← قيل للقاسم هذه النرد تكرهونها فما بال الشطرنج ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Hadith 6518

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6519

6520 - و أخبرنا أبو معاوية عن عقبة بن صالح قال : قلت لإبراهيم ما تقول في اللعب بالشطرنج فإني أحب اللعب بها قال : فإنها ملعونة فلا تلعب بها قال : قلت إني لا أصبر عنها قال : لا تلعب بها سنة قال : فحلفت فصبرت عنها قال

ہمیں خبر دی ابو معاویہ نے ان کو عقبہ بن صالح نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ابراہیم سے آپ کیا کہتے ہیں شطرنج کھیلنے کے بارے میں، میں شطرنج کھیلنا پسند کرتا ہوں انہوں نے فرمایا کہ یہ ملعون ہے۔ اسے مت کھیلو۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس کے بغیر صبر نہیں کرسکتا انہوں نے فرمایا کہ تم قسم کھا لو کہ ایک سال تک اس کو نہیں کھیلو گے۔ کہتے ہیں کہ میں نے قسم کھا لی۔ لہٰذا مجھے اس سے صبر آ گیا۔

فحلفت فصبرت عنها ← لا تلعب بها سنة ← قلت إني لا أصبر عنها ← فإنها ملعونة فلا تلعب بها ← قلت لإبراهيم ما تقول في اللعب بالشطرنج فإني أحب اللعب بها ← عقبة بن صالح ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← و،

Hadith 6519

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6520

6521 - وأنا أبو معاوية عن الحسن عن طلحة بن مصرف قال : كان إبراهيم وأصحابنا لا يسلمون على أحد إذا مروا من أصحاب هذه اللعب قال

اور میں خبر دی ہے ابو معاویہ نے ان کو حسن نے ان کوطلحہ بن مصرف نے وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم اور ہمارے اصحاب کسی ایسے آدمی پر سلام نہیں کرتے تھے جب ایسے آدمی پر گزر تے جوایسے کھیلوں میں سے کوئی کھیل کھیل رہا ہو۔

طَلْحَۃَ بن مصرف ← الْحَسَنِ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Hadith 6520

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6521

6522 - وأنا أبو معاوية عن الحسن عن نعيم عن أبي جعفر قال : تلك المجوسية لا يلعبوا بها يعني الشطرنج

ہمیں خبر دی ابو معاویہ نے حسن سے اس نے نعیم سے اس نے ابو جعفر سے انہوں نے کہا کہ یہی مجوسیت ہے اس کو نہ کھیلیں یعنی شطرنج کو۔

تلك المجوسية لا يلعبوا بها يعني الشطرنج ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← نُعَيْمٌ ← الْحَسَنِ، ← وأنا أبو معاوية

Hadith 6521

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6522

6523 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا الفضيل بن الصباح ثنا أبو عبيدة الحداد عن بسام الصيرفي قال : سألت أبا جعفر عن الشطرنج قال : دع المجوسية

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابو الدنیا نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے فضیل بن صباح نے ان کو ابو عبیدہ حداد نے ان کو بسام صیرفی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا ابو جعفر سے شطرنج کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ چھوڑیئے مجوسیت کو۔

دع المجوسية ← الشطرنج ← سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ← بَسَّامٌ الصَّيْرَفِيُّ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ← الفضيل بن الصباح ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 6522

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood