Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6499

6500 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عبد الله بن محمد بن عبد الله الرازي أنا إبراهيم بن زهير ثنا مكي بن إبراهيم ثنا الجعيد بن عبد الرحمن عن موسى بن عبد الرحمن يعني الخطمي أنه سمع محمد بن كعب وهو يسأل عبد الرحمن فقال : أخبرني ما سمعت أباك يقول : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عبد الرحمن : سمعت أبي يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : مثل الذي يلعب بالنرد ثم يقوم فيصلي مثل الذي يتوضأ بالقيح ودم الخنزير ثم يقوم فيصلي يقول الله : تقبل صلاته يعني لا تقبل صلاته

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عبداللہ بن محمد بن عبداللہ رازی نے ان کو ابراہیم بن زبیر نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو جعید بن عبدالرحمٰن نے موسیٰ بن عبدالرحمٰن سے یعنی خطمی سے کہ انہوں نے سنا محمد بن کعب سے انہوں نے پوچھا عبدالرحمٰن سے اور کہا کہ مجھے اس حدیث کی خبر دیجئے جو تم نے اپنے والد سے سنی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں پس کہا عبدالرحمٰن نے میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس شخص کی مثال جو نرد(چوسر) کے ساتھ کھیلتا ہے اس کے بعد اٹھتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور خون خنزیر کے ساتھ وضو کرے اس کے بعد وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اللہ پاک فرمائیں گے کہ کیا اس کی نماز قبول کی جائے گی ؟ یعنی اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی۔

أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبَاك ← مَا ← مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ← مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِى الْخَطْمِىَّ أَنَّهُ ← الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← عبد الله بن محمد بن عبد الله الرازي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و،

Hadith 6499

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6500

6501 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا سويد بن سعيد ثنا أبو معاوية عن إبراهيم الهجري عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إياكم وهاتين الكعبتين الموسومتين اللتين تزجران زجرا فإنهما من الميسر وكذلك رواه زياد البكالي عن إبراهيم مرفوعا

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن علوی نے ان کو جعفر بن محمد فریابی نے ان کو سوید بن سعید نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو ابراہیم ہجری نے ان کو ابو الاحوص نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچاؤ تم اپنے آپ کو اور ان دو مہروں سے جو نام رکھے گئے ہیں جو چھوڑ جاتے ہیں یا پھٹکے جاتے ہیں بے شک وہ دونوں جوئے میں سے ہیں۔اسی طرح روایت کیا ہے اس کو زیاد بکالی نے ابراہیم سے بطور مرفوع روایت کے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 6500

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6501

6502 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا خلف بن هشام ثنا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : إياكم وهاتين الكعبتين الموسومتين اللتين تزجران زجرا فإنهما من ميسر العجم

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو خبر دی ہے حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو خلف بن ہشام نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو ابو الاحوص نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ بچاؤ تم اپنے آپ کو ان دونوں مہروں سے جن کا نام رکھا ہوا ہے جو پھینکے جاتے ہیں یہ دونوں عجمیوں کا جوا ہیں۔

إياكم وهاتين الكعبتين الموسومتين اللتين تزجران زجرا فإنهما من ميسر العجم ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خلف بن هشام، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Hadith 6501

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6502

6503 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن يزيد بن أبي زياد عن أبي الأحوص قال : سمعت ابن مسعود يقول : إياكم وزجرا بالكعبين أو قال بالكعبتين وإنهما من ميسر العجم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے ان کو ابو الاحوض نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں بچاؤ تم اپنے آپ کو دو مہروں کے ساتھ یا بانسوں کے ساتھ فال وکہانت کرنے یعنی غیب کی خبریں نکالنے سے۔ یا کہا تھا کہ پانسوں کے ساتھ یا چوسر کے مہروں کے ساتھ فال نکالنے سے یہ عجم کا جوا ہے۔

بالكعبتين وإنهما من ميسر العجم ← إياكم وزجرا بالكعبين أو ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Hadith 6502

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6503

6504 - أنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين عيسى بن حامد الرحمن ببغداد ثنا عمرو بن أيوب ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا عمران بن موسى بن عبد الملك بن عمير عن أبيه عن عبد الملك بن عمير عن حصين بن أبي الحارث عن سمرة بن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إياكم وهذه الكعاب الموسومة التي تزجر زجرا فإنها من الميسر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین عیسیٰ بن حامد الرحمٰن نے بغداد میں ان کو عمرو بن ایوب نے ان کوعثمان بن ابی شیبہ نے ان کو عمران بن موسیٰ بن عبد الملک بن عمیر نے ان کوان کے والد نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو حصین بن ابو الحارث نے ان کو سمرہ بن جندب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچاؤ تم اپنے آپ کو ان مہروں سے جو کسی نام سے موسوم ہیں جو پھینکے جاتے ہیں غیب کی خبریں نکالنے کے لئے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← حصين بن أبي الحارث ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبِيهِ ← عمران بن موسى بن عبد الملك بن عمير ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عَمْرِو بْنِ أَيُّوبَ ← أبو الحسين عيسى بن حامد الرحمن ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6503

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6504

6505 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن علقمة بن أبي علقمة عن أمه عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : أنه بلغها أن أهل بيت كانوا سكانا في دارها عندهم نرد فأرسلت إليهم لئن لم تخرجوها لأخرجنكم من داري وأنكرت ذلك عليهم

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے ان میں جو اس نے مالک کے سامنے پڑھی اس نے علقمہ بن ابو علقمہ سے اس نے ان کی والدہ سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول سے کہ ایک گھر والے ایسے تھے جوان کے مکان میں رہتے تھے گھر میں ان کے پاس نرد(چوسر) تھا سیدہ نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر تم لوگ اس کو گھر میں سے نہیں نکالو گے تو میں تم لوگوں کواپنے مکان سے نکال دوں گی سیدہ نے اس چیز کوان سے برا سمجھا۔

أُمِّهِ2، ← عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 6504

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6505

6506 - قال : و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن نافع : أن عبيد الله بن عمر كان إذا وجد أحدا من أهله يلعب بالنرد ضربه وكسرها

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قعنبی نے اس میں سے جو اس نے پڑھی مالک کے سامنے نافع سے کہ بے شک عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب اپنے خاندان میں کسی کو نرد(چوسر) کے ساتھ کھیلتا ہوا پا لیتے تھے تو اس کو مارتے تھے اور زرد(چوسر) کوتوڑ دیتے تھے۔

الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و،

Hadith 6505

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6506

6507 - وروينا عن يحيى بن سعيد عن نافع أن ابن عمر كان يقول : النرد هي الميسر

اور ہم نے روایت کی ہے یحییٰ بن سعید سے اس نے نافع سے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نرد(چوسر) بھی جوا ہے۔

النرد هي الميسر ← نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← وَرُوِّينَا

Hadith 6506

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6507

6508 - أخبرنا علي بن محمد بن عبد الله بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة أن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : من لعب بالكعبين على قمار كأنما أكل لحم الخنزير ومن لعب بهما على غير قمار فكأنما ادهن بشحم خنزير

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن عبداللہ بن بشر نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص نے فرمایا: جو شخص مہروں کے ساتھ جوا کھیلے گا (یعنی شرط کے ساتھ) وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے سور کا گوشت کھایا ہو اور جو شخص بغیر جوئے کے (یعنی بغیر شرط کے) کھیلے گا وہ ایسا جیسے اس نے سور کی چربی کی مالش کر لی ہو۔

قَتَادَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،

Hadith 6507

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6508

6509 - ورويناه من حديث سلام بن مسكين عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد الله : كذلك موصولا موقوفا

ہم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث سلام بن مسکین سے ، اس نے قتادہ سے اس نے ابو ایوب سے اس نے عبداللہ سے اسی طرح یہ روایت موصول بھی اور موقوف بھی مروی ہے۔

عبد الله كذلك موصولا موقوفا ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← ورويناه من حديث سلام بن مسكين

Hadith 6508

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6509

6510 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا عبيد الله بن عمر ثنا جعفر بن سليمان ثنا المعلى بن زياد عن حنظلة السدوسي قال جعفر : أحسبه عن رجل من الأنصار قال : من لعب بالنرد فكأنما ادهن بشحم خنزير ومن قامر بها فكأنما أكل لحم خنزير

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابی الدنیا نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو معلیٰ بن زیاد نے ان کو حنظلہ سدوسی نے کہا جعفر نے میں اس کو گمان کرتا ہوں انصار کے ایک آدمی سے کہ اس نے کہا جو شخص نرد (چوسر) کھیلے گا گویا کہ اس نے سور کی چربی مل لی اور جو شخص اس کے ساتھ جوا کھیلے گا گویا اس نے سور کا گوشت کھا لیا۔

رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← جعفر أحسبه ← حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 6509

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6510

6511 - أخبرنا ابن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا يوسف بن موسى ثنا أبو سلمة المنقري ثنا ربيعة بن كلثوم حدثني أبي قال : خطبنا ابن الزبير فقال : يا أهل مكة بلغني عن رجال يلعبون بلعبة يقال لها : النردشير وإن الله تعالى يقول في كتابه : { إنما الخمر والميسر } إلى قوله { ينتهون } وإني أحلف بالله لا أوتى بأحد يلعب بها إلا عاقبته في شعره وبشره وأعطيت سلبه من أتاني به فروينا في التشديد فيه عن عثمان بن عفان حتى قال : ولقد هممت أن آمر بحزم الحطب ثم أرسل إلى بيوت الذين هي في بيوتهم فأحرقها وأسانيد ما لم يذكره ههنا مذكور في كتاب الشهادات من كتاب السنن

ہمیں خبر دی ابن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو بن ابی الدنیا نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو سلمہ منقری نے ان کو ربیعہ بن کلثوم نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خطبہ دیا ابن زبیر نے اور کہا اے اہل مکہ مجھے خبر پہنچی ہے کچھ لوگوں کے بارے میں کھیلنے کی چیز کے ساتھ جس کونرد تیر(چوسر) کہتے ہیں، بے شک اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔ انما الخمرو المیسر الخ بے شک شراب اور جوا اور بت اور قسمت کے تیر سب گندے نا پاک شیطانی کام ہیں ان سےبچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔(نجات پاؤ) پکی بات شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے شراب اور جوئے کی وجہ سے اور روک دے تم کواللہ کی یاد سے اور نماز سے کیا ہو تم باز آنے والے۔ ابن زبیر نے کہا بے شک میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو شخص کسی ایسے شخص کو پکڑ کر میرے پاس لائے گا جو چوسر نرد کے ساتھ جوا کھیل رہا تھا میں اس کو سخت سزا دوں گا اور اس کا مال چھین کر اسی کو دے دوں گا جو اس کو میرے پاس لائے گا۔ (اور ہم نے نرد کے ساتھ جو کھیلنے کے) بارے میں سختی کرنے کی بابت حضرت عثمان بن عفان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ البتہ تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں لکڑیوں کی گٹھری تیار کرنے کی بابت حکم دوں اس کے بعد کہ جن کے گھروں میں یہ کھیل ہوتا ہے ان کو جلا دوں۔ (علاوہ ازیں) کئی دیگر اسناد ایسی ہیں جن کو یہاں ذکر نہیں کیا مگر وہ کتاب السنن کی کتاب الشہادات مذکور ہیں۔

أَبِي ← رَبِيعَةَ بْنِ كُلْثُومٍ ← أَبُو سَلَمَةَ الْمِنْقَرِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← ابن بشران،

Hadith 6510

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood