شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6499
6500 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عبد الله بن محمد بن عبد الله الرازي أنا إبراهيم بن زهير ثنا مكي بن إبراهيم ثنا الجعيد بن عبد الرحمن عن موسى بن عبد الرحمن يعني الخطمي أنه سمع محمد بن كعب وهو يسأل عبد الرحمن فقال : أخبرني ما سمعت أباك يقول : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عبد الرحمن : سمعت أبي يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : مثل الذي يلعب بالنرد ثم يقوم فيصلي مثل الذي يتوضأ بالقيح ودم الخنزير ثم يقوم فيصلي يقول الله : تقبل صلاته يعني لا تقبل صلاته
ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عبداللہ بن محمد بن عبداللہ رازی نے ان کو ابراہیم بن زبیر نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو جعید بن عبدالرحمٰن نے موسیٰ بن عبدالرحمٰن سے یعنی خطمی سے کہ انہوں نے سنا محمد بن کعب سے انہوں نے پوچھا عبدالرحمٰن سے اور کہا کہ مجھے اس حدیث کی خبر دیجئے جو تم نے اپنے والد سے سنی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں پس کہا عبدالرحمٰن نے میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس شخص کی مثال جو نرد(چوسر) کے ساتھ کھیلتا ہے اس کے بعد اٹھتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور خون خنزیر کے ساتھ وضو کرے اس کے بعد وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اللہ پاک فرمائیں گے کہ کیا اس کی نماز قبول کی جائے گی ؟ یعنی اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی۔
أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبَاك ← مَا ← مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ← مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِى الْخَطْمِىَّ أَنَّهُ ← الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← عبد الله بن محمد بن عبد الله الرازي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و،
Hadith 6499
