Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6538

6539 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا محمد بن العلاء و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج ثنا مطين ثنا محمد بن العلاء أنا يحيى بن آدم عن قطبة قال : أبو داود بن عبد العزيز بن سياه عن الأعمش عن ابن يحيى القتات عن مجاهد عن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التحريش بين البهائم ورواه زياد بن عبد الله البكالي عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن مجاهد عن ابن عباس ورواه منصور بن أبي الأسود عن الأعمش عن سعيد بن جبير عن ابن عمر ورواه ليث عن مجاهد عن ابن عمر

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن علاؤ نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو محمد بن علاء نے ان کو یحییٰ بن آدم نے ان کو قطبہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابو داؤد بن عبدالعزیز بن سیاہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابو یحییٰ قتات نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں چوپایوں کے درمیان لڑائی کروانے سے منع فرمایا تھا۔ اور اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بکالی نے ان کو اعمش نے ان کو منہال بن عمرو نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس نے۔ اور اس کو روایت کیا ہے منصور بن ابو الاسود نے ان کو اعمش نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عمر نے اور اس کو روایت کیا ہے لیث نے مجاہد سے اس نے ابن عمر سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← ابن عمر ورواه ليث ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابن عباس ورواه منصور بن أبي الأسود ← مُجَاهِدٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← التحريش بين البهائم ورواه زياد بن عبد الله البكالي ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← ابن يحيى القتات ← الْاَعْمَشِ ← أبو داود بن عبد العزيز بن سياه ← قُطْبَةَ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← مطين ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← محمد بن العلاء و ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6538

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6539

6540 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي ببغداد ثنا أحمد بن سلمان ثنا محمد بن عبدوس ثنا أحمد بن إبراهيم ثنا مؤمل ثنا سفيان عن ليث عن مجاهد قال : ما من ميت إلا يعرض عليه أهل مجالسته الذين كان يجالس أن كانوا أهل اللهو وإن كانوا أهل الذكر فأهل الذكر

ہمیں خبر دی ابو القاسم حرفی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلیمان نے ان کو محمد بن عہدوس نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو مؤمل نے ان کو سفیان نے ان کو لیث نے ان کو مجاہد نے وہ کہتے ہیں کہ کوئی میت ایسے نہیں مگر اس پر اس کے ہم نشین پیش کئے جاتے ہیں جن کے ساتھ وہ اٹھتا بیٹھتا تھا اگر وہ کھیل تماشے والے تھے تو بھی اور اگر وہ اہل ذکر تھے تو اہل ذکر پیش کئے جاتے ہیں۔

مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي ببغداد

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6539

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6540

6541 - وبإسناده ثنا أحمد بن إبراهيم ثنا سعيد بن نصير حدثني عامر بن غالب قال : سمعت الربيع بن مرة وكان عبدا بالبصرة يقول : أدركت الناس بالشام وقيل لرجل : يا فلان قل لا إله إلا الله قال : اشرب واسقني وقيل بالأهواز يا فلان قال لا إله إلا الله فجعل يقول ده يا زده ده دوازده وقيل لرجل ها هنا بالبصرة : يا فلان قال لا إله إلا الله فجعل يقول : ( يا رب قائلة يوما وقد تعبت كيف الطريق إلى حمام منجاب ) قال أبو بكر هذا رجل استدلته امرأة إلى الحمام فدلها إلى منزله فقاله عند الموت وأما الحديث الذي

اور اپنی اسناد کے ساتھ۔ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن ابراہیم نے ان کو سعید بن نصیر نے ان کو عامر بن غالب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ربیع بن مرہ سے وہ بصرہ کے عابد تھے کہتے ہیں میں نے لوگوں کو ملک شام میں پا لیا ہے اور ایک آدمی سے کہا گیا اے فلانے کہو لا الہ الا اللہ اس نے کہا تم پیو اور مجھ کو پلاؤ۔ اور کہا گیا مقام اھاز میں اے فلانے کہ لا الہ الااللہ وہ شروع ہو گئے یہ کہہ رہے تھے دو۔۔ یا زدہ۔ دوازدہ ، دس گیارہ بارہ۔ اور ایک آدمی سے کہا گیا یہاں بصرہ میں اسے فلانے کہ لا الہ الا اللہ۔ اس نے یہ کہنا شروع کر دیا۔ اے رب دن کے دوپہر ہو گئے ہیں میں تھک چکا ہوں کیسے طے ہو گا سست روی سے آنے والی موت کا راستہ۔ کہا ابو بکر نے یہ ایسا آدمی ہے اس سے ایک عورت نے موت کی طرف راستہ پوچھا تھا اس نے اس کو اپنی منزل کا راستہ بتا دیا یہ کہا تھا اس نے اس کو اپنی موت کے وقت۔

يا رب قائلة يوما وقد تعبت كيف الطريق إلى حمام منجاب ← لا إله إلا الله فجعل ← ده يا زده ده دوازده وقيل لرجل ها هنا بالبصرة يا فلان ← لا إله إلا الله فجعل ← اشرب واسقني وقيل بالأهواز يا فلان ← أدركت الناس بالشام وقيل لرجل يا فلان قل لا إله إلا الله ← الربيع بن مرة وكان عبدا بالبصرة ← عامر بن غالب ← سَعِيدُ بْنُ نُصَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6540

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6541

6542 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى ثنا عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو عن المطلب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الهوا والعبوا فإني أكره أن يرى في دينكم غلظة فهذا منقطع وإن صح فإنه يرجع إلى اللهو المباح الذي ذكرناه في أول هذا الباب

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکر فارسی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عبد العزیز بن محمد نے ان کو عمرو بن ابی عمرو نے ان کو مطلب نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تفریح کرو اور کھیلو بے شک میں ناپسند کرتا ہوں کہ تمہارے دین میں شدت دیکھی جائے۔ یہ روایت منقطع ہے۔ اور اگر یہ صحیح ہو تو یہ لہو مباح کی طرف راجع ہو گی یعنی وہ کھیل یا تفریح جو مباح ہو۔ جس کو ہم نے اس باب کے شروع میں ذکر کیا ہے۔

الْمُطَّلِبِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6541

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6542

6543 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر بن عبيد ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا شيبان عن جابر عن عامر عن قيس بن سعد قال : ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم صنع شيئا إلا وقد رأيته يعمل به إلا أمرا واحدا فإنه كان يقلس له ويلعب له يوم الفطر

ہمیں خبر دی ابو عبیداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر بن عبید نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو شیبان نے ان کو جابر نے ان کو عامر نے ان کو قیس بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ کوئی چیز بنوائی ہو، مگر میں نے ان کو دیکھا اس کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے سوائے ایک امر کے بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے توپ تیار کی جاتی تھی اور کھیل کیا جاتا تھا ان کے لئے عید الفطر کے دن۔

قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← شَيْبَانَ ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر بن عبيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6542

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6543

6544 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر بن عبيد ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا أبو نعيم ثنا شريك عن جابر عن عامر عن قيس بن سعد قال : كل شيء قد رأيته يصنع لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقد رأيتكم تصنعون به إلا التقليس

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر بن عبید نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابو نعیم نے ان کو شریک نے ان کو جابر نے ان کو عامر نے ان کو قیس بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ ہر چیز جس کو میں نے دیکھا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کی گئی تحقیق میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم اس کو تیار کرتے ہو۔ سوائے تقلیس کے یعنی ٹوپی پہنانے کے۔

قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← شَرِيکٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر بن عبيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6543

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6493

6494 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن محمد الكعبي ثنا محمد بن أيوب أنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن سالم عن جابر قال : أقبلت عير بتجارة يوم جمعة ورسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب فانصرف الناس ينظرون وبقي رسول الله صلى الله عليه و سلم في اثني عشر رجلا فنزلت هذه الآية : { وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما } رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة وأخرجه البخاري و مسلم من أوجه عن حصين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد کعبی نے۔ ان کو محمد بن ایوب نے ان کو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان کو عبداللہ بن ادریس نے ان کو حصین نے ان کو سالم نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ جمعے کے دن تجارتی قافلہ اس وقت مدینے میں آ گیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ لوگ اس کو دیکھنے کے لئے ہٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بارہ افراد میں رہ گئے لہٰذا یہ آیت نازل ہوئی۔ واذا راؤ تجارۃ اولھر انفضوا الیھا وتر کوک قائماً اور جس وقت یہ دیکھتے ہیں کوئی تجارت یا کوئی کھیل تماشہ اسی کی طرف چلے جاتے ہیں اور تمہیں چھوڑ جاتے ہیں کھڑ اہوا۔اب ان کو بتا دیجئے کہ اللہ کے پاس جو نعمتیں ہیں وہ کھیل کو دے اور تجارت سے بہتر ہیں اور اللہ بہتر رزق دینے والا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو بکر بن ابی شیبہ سے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے اور مسلم نے کئی طریقوں سے حصین سے۔

جَابِرٍ ← سَالِمٍ ← حُصَيْنٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6493

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6494

6495 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبيد الله بن محمد الكعبي ثنا إسماعيل بن قتيبة ثنا يزيد بن صالح ثنا بكير بن معروف عن مقاتل بن حيان أنه قال في هذه الآية قال : كان يخطب النبي صلى الله عليه و سلم ويقوم يوم الجمعة قائما وإن دحية الكلبي كان رجلا تاجرا وكان قبل أن يسلم إذا أقبل بتجارته إلى المدينة خرج الناس ينظرون إلى ما جاء به فيشترون منه فقدم ذات يوم المدينة ووافق الجمعة والناس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم في المسجد وهو قائم يخطب فاستقبل أهل دحية العير دخلوا المدينة بالطبل واللهو فذلك اللهو الذي ذكر الله فسمع الناس في المسجد أن دحية قد نزل بتجارة عند أحجار الزيت وهو مكان في سوق المدينة وسمعوا أصواتا فخرج عامة الناس إلى دحية ينظرون إلى تجارته وإلى اللهو وتركوا رسول الله صلى الله عليه و سلم قائما ليس معه كثير أحد فبلغني والله أعلم أنهم فعلوا ذلك ثلاث مرات في كل مرة بعير تقدم من الشام للتجارة وكان ذلك يوافق الجمعة وبلغنا أن العدة التي بقيت في المسجد مع النبي صلى الله عليه و سلم عدة قليلة فقال النبي صلى الله عليه و سلم عند ذلك لولا هؤلاء يعني هؤلاء الذين بقوا في المسجد مع النبي صلى الله عليه و سلم : لقصدت إليهم الحجارة من السماء ونزل : { قل ما عند الله خير من اللهو ومن التجارة والله خير الرازقين } قال الحليمي رحمه الله : فكان خروجهم إليه ونظرهم إلى العير لهوا لا فائدة فيه إلا أنه كان مما لا مأثم فيه لو وقع على ذلك غير ذلك الوجه ولكنه لما اتصل به الإعراض عن رسول الله صلى الله عليه و سلم والانفضاض عن حضرته غلظ وكبر ونزل وجاء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث الذي

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبیداللہ بن محمد کعبی نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یزید بن صالح نے ان کو کبیر بن معروف نے ان کو مقاتل بن حیان نے کہ انہوں نے اس مذکورہ آیت کے بارے میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیا کرتے تھے اور جمعہ کے دن خاص طور پر خطبے کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ اور ایک آدمی تھا دحیہ کلبی وہ تاجر آدمی تھا اسلام قبول کرنے سے قبل جب وہ سامان تجارت لے کر مدینے میں آتا تو لوگ دیکھنے جاتے کہ کیا سامان لے کر آیا ہے وہ اس سے جا کر خرید کرتے تھے۔ ایک بار وہ حسب عادت مدینے میں آیا تو اتفاق سے جمعے کا دن تھا اور لوگ مسجد میں رسول اللہ کے پاس بیٹھے تھے۔ اور آپ کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے۔ دحیہ کلبی کے گھر والوں نے مدینے میں اس کے آنے پر ڈھول تاشے اور کھیل کود کے مظاہرے کے ساتھ اس کا استقبال کیا۔ لہو اورکھیل سے یہی تماشہ اور سامان تجارت سے وہی دحیہ کا سامان تجارت مراد ہے جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے لوگوں نے مسجد میں بیٹھے ہوئے یہ شور سنا کہ دحیہ سامان تجارت لے کر مقام احجارزیت کے پاس مدینے کے بازار میں اتر گئے ہیں ، یہ آوازیں سن کر عام لوگ مسجد سے سامان تجارت کو دیکھنے یا کھیل تماشہ دیکھنے کے لئے نکل گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا ہوا چھوڑ گئے آپ کے پاس کچھ لوگ باقی رہ گئے۔ مجھے خبر پہنچی ہے کہ انہوں نے تین مرتبہ یہ حرکت کی ہر دفعہ شام سے سامان لے کر تجارتی قافلہ آیا تھا اور میں اتفاق سے جمعہ کا دن ہوتا تھا۔ اور ہمیں خبر پہنچی ہے کہ مسجد میں جو گنتی کے لوگوں کی رہ گئی تھی وہ کم لوگ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ لوگ بھی مسجد میں نہ ہو تے یعی جو باقی مسجد میں رسول اللہ کے ساتھ رہ گئے تھے تو آسمان سے پتھر برس جاتے ان لوگوں پر۔ پھر یہی آیت نازل ہوئی قل ماعند اللہ الخ کہ کہہ دیجئے جو نعمت جو ثواب اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے سے اور سامان تجارت سے بہتر ہے اللہ تیر ارزاق ہے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا مسجد سے نکل جانا اس کی طرف اور قافلے کو جا کر دیکھنا گھومنا اس میں کوئی فائدہ نہیں تھا اس قبیل سے جس میں کوئی گناہ نہیں ہے اگر وہ اس طریقے پر نہ ہوتا۔ لیکن جب اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرنا اور ان کی صحبت سے نکل جانا برا ہے اور بڑا گناہ بن گیا تھا اور ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا اور قرآن نے اس فعل کی برائی کی لہو کا اس کو نام دے کر۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث آئی ہے جو کہ درج ذیل ہے۔

مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ ← يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عبيد الله بن محمد الكعبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6494

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6495

6496 - أخبرنا الشيخ أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا هشام عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلام عن عبد الله بن زيد بن الأزرق عن عقبة بن عامر قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : ارموا واركبوا وأن ترموا أحب إلي من أن تركبوا كل شيء يلهو به الرجل باطل إلا رمي الرجل بقوسه أو تأديبه فرسه أو ملاعبته امرأته فإنهن من الحق ومن ترك الرمي بعد ما علمه فقد كفر بالذي علمه قال الحليمي رحمه الله ومعنى هذا والله أعلم أن كل ما يتلهى به الرجل مما لا يفيده في العاجل ولا في الآجل فائدة فهو باطل والإعراض عنه أولى إلا هذه الأمور الثلاثة فإنه وإن يفعلها على أنه يتلهى بها ويستأنس بها وينشط فإنها حق لاتصالها بما قد يفيد فإن الرمي بالقوس وتأديب الفرس جميعا من معاون القتال وملاعبة الأهل قد يؤدي إلى ما يكون عنه ولد يوحد الله تعالى ويعبده فلهذا كله هذه الثلاثة من الحق ثم قال منها اللعب بالنرد والشطرنج وقد وردت فيهما أخبار وآثار وجملة القول فيهما أن اللعب بهما على شرط المال حرام باتفاق واللعب بهما على غير شرط المال مختلف فيه وتحريمه عندي أشبه والله أعلم وأطال الكلام في تحريم اللعب بهما جميعا

ہمیں خبر دی شیخ ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ہشام نے ان کو یحییٰ بن ابی کثیر نے ان کو ابو سلام نے عبداللہ بن زید بن ازرق نے ان کو عقبہ بن عامر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی کی مشق کرو۔ گھڑ سواری کی مشق کروا کرو اگر تم گھڑ سواری کی مشق کرو تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے جس سے کوئی آدمی بے فائدہ کھیل کھیلے۔ مگر آدمی کا کمان کے ساتھ تیر پھینکنا، یا اپنے گھوڑے کو سدھانا یا اپنی بیوی کے ساتھ محبت اور کھیل کرنا بے شک یہ چیزیں حق ہیں اور درست ہیں ، جو شخص تیر اندازی سیکھنے کے بعد بھلا دے اور چھوڑ دے اس نے اس کی ناشکری کی جس نے اس کو اس کا علم دیا تھا۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہروہ چیز جس کے ساتھ انسان کھیل کرے ان چیزوں میں سے جو اس کو کوئی فائدہ نہیں دیتیں نہ دنیا میں نہ آخرت میں، کوئی بھی فائدہ وہ کھیل باطل ہیں ، اس سے اعراض کرنا زیادہ بہتر ہے مگر یہ امور ثلاثہ اگر وہ یہ کام کرے گا اور ان کے ساتھ کھیلے گا اور ان کے ساتھ مانوس و محظوظ ہو گا ، اور لطف اندوز ہو گا تو میں ہے (یعنی جائز ہے) اس فائدے کی وجہ سے جو ان کے ساتھ متعلق ہے اور وابستہ ہے۔ مثلاً صورت حال اس طرح ہے کہ کمان کے ساتھ تیر اندازی ہو یاگھوڑے کو سدھانا یہ سب امور جہاد میں معاون ہیں۔ اور اپنی اہلیہ کے ساتھ کھیل اور محبت پیار کرنا کبھی اس کے نتیجے میں اولاد ہو گی جواللہ کی توحید کوقبول کرے گی یہ اللہ کو ایک سمجھے گا اور اسی کی عبادت کرے گا اسی وجہ سے یہ سب تینوں حق میں سے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ بعض ان میں سے نرد کے ساتھ کھیل ہے اور شطرنج کا کھیل ہے تحقیق ان دونوں میں احادیث اور آثار صحابہ وارد ہوئے ہیں۔ خلاصہ قول ان دونوں کے بارے میں یہ ہے کہ ان کے ساتھ کھیلنا اگر مالی شرط لگانے کے ساتھ ہو تو ایسا کھیل حرام ہے بالاتفاق اور اگر دونوں کے ساتھ کھیل بغیر مالی شرط لگانے کے ہو تو اس میں اختلاف ہے، میرے نزدیک اس کی حرمت زیادہ مناسب ہے۔ واللہ اعلم۔ اور طویل کلام کیا ہے دونوں کے ساتھ اجتماعی کھیل کھیلنے میں۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْأَزْرَقِ ← أَبِي سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6495

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6496

6497 - أخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب قال : سمعت سفيان الثوري يحدث عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من لعب بالنردشير فكأنما غمس يده في لحم الخنزير ودمه أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الثوري قال الحليمي رحمه الله : ومعنى قوله هذا عند أهل العلم أي كمن هو غمس يده في لحم الخنزير بهيئته لأن يأكل والجملة أن اللعب بالنرد كأكل لحم الخنزير

ہمیں خبر دی ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان ثوری سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں علقمہ بن مرثد سے اس نے سلیمان بن بریدہ سے اس نے اپنے والد سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص نردشیر کے ساتھ کھیلے (چوسر کھیلے) و وایسے ہے جیسے کہ اس نے اپنے ہاتھ کو سور کے گوشت اور خون میں ڈبو لیا ہے۔ مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث ثوری سے۔ شیخ حلیمی نے فرمایا کہ اہل علم کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ قول سے مراد ہے کہ جس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت میں ڈبو دیا اس لئے تاکہ وہ اس کو کھائے خلاصہ کلام یہ ہے کہ نرد کے ساتھ کھیلنا ایسا برا ہے جیسے خنزیر کا گوشت کھانا حرام اور برا ہے۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى،

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6496

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6497

6498 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن عبد الحميد ثنا أبو أسامة عن أسامة عن سعيد بن أبي هند ح و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك ح و أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز أنا أبو عمرو السلمي ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا ابن بكير ثنا مالك عن موسى بن ميسرة عن سعيد بن أبي هند عن أبي موسى الأشعري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من لعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالحمید نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو اسامہ نے اس کو سعید بن ابو ہند نے۔ ’’ح“ ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک کے سامنے۔ ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو نصر عمر بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عمرو سلمی نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک نے ان کو موسیٰ بن مسیرہ نے ان کو سعید بن ابو ہند نے ان کو ابو موسیٰ اشعری نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای: جو شخص نرد(چوسر) کے ساتھے کھیلے اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، ← أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← و، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← أُسَامَةُ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6497

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6498

6499 - وروينا من وجه آخر عن محمد بن كعب عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : لا يقلب كعباتها أحد ينتظر ما يأتي به إلا عصى الله ورسوله وفي رواية أسامة قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم

ہم نے روایت کی دوسرے طریق سے محمد بن کعب سے اس نے ابو موسیٰ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا: نہیں الٹ پلٹ کرتا نرد کھیل (چوسر) کے مہروں کو کوئی ایک شخص جو اس سے دیکھتا ہے کہ اس سے کیا نتیجہ سامنے آئے گا مگر وہ شخص نافرمانی کرتا ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور اسامہ کی ایک روایت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← وَرُوِّينَا مِنْ، وَجْهٍ آخَرَ

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6498

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood