Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8072

8072 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنا القرهاذاني عبد الله بن محمد نا هشام بن عمار نا الوليد بن مسلم نا ابن عجلان نا سعيد المقري عن أبي هريرة قال : استطال رجل على أبي بكر الصديق و رسول الله صلى الله عليه و سلم جالس و أبو بكر ساكت فلما أكثر انتصر أبو بكر فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فاتبعه أبو بكر يا رسول الله استطال علي و أنت ساكت فلما انتصرت قمت فقال يا أبا بكر إنك ما سكن كان الملك يرد عليه فلما انتصرت ارتفع الملك و حضر الشيطان فلم أكن لأجالس الشيطان : يا أبا بكر ثلاث اعلم أنهن حق : ما عفا أمرؤ عن مظلمة إلا زاده الله بها عزا و ما فتح رجل على نفسه باب مسئلة يبتغي بها وجه كثرة إلا زاده الله بها فقرا و ما فتح رجل على نفسه باب صدقة يبتغي بها وجه الله إلا زاده الله كثرة و رواه الليث عن سعيد المقبري من بشر بن محرز عن سعيد بن المسيب أن رجلا سب أبا بكر فسكت ثم انتصر فقام النبي صلى الله عليه و سلم قال البخاري هذا أصح و هو مرسل

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کوتر ہاذانی عبداللہ بن محمد نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو ابن عجلان نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر برس پڑے جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے جب اس نے کچھ زیادہ ہی بک بک کی تو ابوبکر صدیق نے بھی مقابلے میں کچھ کہنا شروع کیا اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے مگر ابو بکر صدیق نے حضور سے کہا یا رسول اللہ اس نے مجھ پر زیادتی کی ہے اور آپ خاموش ہیں اور میں نے جب بدلے میں اسے کچھ کہا ہے آپ اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو بکر جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تیری طرف سے اس کو جواب دے رہا تھا جب تم نے خود اس سے بدلہ لینا شروع کیا ہے تو فرشتہ اوپر کو اٹھ گیا ہے اور شیطان حاضر ہو گیا ہے اب میں شیطان کے ساتھ نہیں ہم نشینی کر سکتا۔ اے ابوبکر تین چیزیں ہیں میں جانتا ہوں کہ وہ حق ہیں ۔ جب کوئی شخص کسی ظلم وزیادتی کو معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت اور زیادہ کر دیتا ہے جو شخص اپنے اوپر مانگنے کا درواز کھول لیتا ہے جس کے ذریعے وہ کثرت اور زیادتی کا طالب بنتا ہےتو اللہ اس کے ذریعے اس کے فقر ومحتا جی کو بڑھادیتا ہے ۔ اور جوشخص اپنے اوپر صدقہ کرنے کا درواز کھول لیتا ہے جس سے وہ اللہ کی رضا تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اور زیادہ عطا کرتا ہے۔ اس کو روایت کیا ہے لیث نے سعید مقبری سے بشر بن محرز سے اس نے سعید بن مسیب سے کہ ایک آدمی نے ابو بکر صدیق کو گالی دی وہ سن کر خاموش ہو گئے اس کے بعد انہوں نے اس سے بدلہ لے لیا لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم محفل سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ بخاری نے کہایہ روایت زیادہ صحیح ہے اور وہ مرسل ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سعيد المقرى ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← القرهاذاني عبد الله بن محمد ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8072

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8073

8073 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر محمد بن بكر نا أبو داود نا مسدد نا يحيى عن ابن عفان نا أبو تميمة الهجيمي عن أبي جرى جابر بن سليم : عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث ذكره قال و إن امرؤ شتمك و عيرك بما يعلم فيك فلا تعيره بما تعلم فإنما و بال ذلك عليه

ہمیں خبر دی ابوعلی رود باری نے ان کو ابو بکرمحمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ نے ان کو ابن عفان نے ا ن کو ابو تميمہ ہجيمي نے ان کو ابو جری جابر بن سلیم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ایک حدیث میں ہے جس کو اس نے ذکر کیا ہے کہا کہ اگر تجھے کوئی آدمی گالی دے اور تجھے عیب لگائے جس کو وہ تیرے اندر جانتا ہوتو تم اس کو عیب نہ لگاتا کسی ایسی بات کے ساتھ جس کو تم اس میں جانتے ہو لہذا اس عیب لگانے کا وبال اسی پر ہوگا۔

النبي صلى الله عليه و سلم في حديث ذكره ← أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ ← أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، ← ابن عفان ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8073

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8074

8074 - أخبرنا أبو الحسن بن الفضل القطان أنا إسماعيل الصفار و أبو عيسى أحمد بن يحيى بن أحمد بن شاذان قالا نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن أبيه قال : أبصر علي رسول الله صلى الله عليه و سلم ثيابا خلقانا فقال : ألك مال ؟ قال : نعم قال : أنعم على نفسك كما أنعم الله عليك قلت : إن رجلا مربي فاقريته فمررت به فلم يقرني أفاقريه ؟ قال : نعم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل صفار نے اور ابوعیسیٰ احمد بن یحییٰ بن احمد بن شاذان نے دونوں نے کہا کہ احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو بکر بن عیاش نے ان کو ابواسحٰق نے ابوالاحوص سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اوپر پھٹے پرانے کپڑے دیکھے تو پوچھا کہ کیا تیرے پاس کچھ مال ہے؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنے نفس پر انعام کر جیسے اللہ نے تجھ پر انعام کیا ہے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ۔ ایک آدمی میرے پاس مہمان بنا تو میں نے اس کی مہمان نوازی کی مگر میں جب اس کے پاس گیا تو اس نے مہمان نوازی نہیں کی کیا میں اب اس کو کھلا دوں؟ آپ نے فرمایا کہ جی ہاں تم اس کو کھلاؤ۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← إسماعيل الصفار و أبو عيسى أحمد بن يحيى بن أحمد بن شاذان ← أبو الحسن بن الفضل القطان

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8074

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8075

8075 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا وهب بن جرير نا شعبة عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن أبيه قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم و أنا قشف قال : فهل لك مال ؟ قلت : نعم قال : من أي المال ؟ قلت : من كل المال من الإبل و الخيل و الغنم و الرقيق قال : فإذا أتاك الله مالا فلير عليك ثم قال : هل تنتج إبل أهلك ضحاها أذانها فتعمد إلى الموسى فتقطع أذانها فتقول هذه بحر و تشقها أو تشق جلودها فتقدم هذه صرم فتحرمها عليك ؟ قال : نعم قال : فإن ما أتاك الله حل و ساعد الله أشد من ساعدك و موسى الله أحد من موساك قلت يا رسول الله رجل نزلت به فلم يقرني و لم يكرمني ثم نزل بي أجازيه بما صنع أم أقريه ؟ قال : بل أقره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو وہب بن جر یر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابواسحٰق نے ان کو ابوالا حوض نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ جب کہ میرے کپڑے نہیں تھے ؟ حضور نے پوچھا کہ کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا جی ہاں؟ آپ نے پوچھا کہ کون سامال ہے؟ میں نے کہا ہر طرح کا مال ہے اونٹ ہیں گھوڑے ہیں بکریاں ہیں غلام ہیں ۔ آپ نے فرمایا جب اللہ نے تجھے مال عطا کیا ہے تو اس کا اثر تیرے او پر بھی نظر آنا چاہئے اس کے بعد فرمایا۔ کیا تیرے گھر کے اونٹ اونٹنی تندرست بچہ دیتے ہیں جس کے کان صحیح سالم ہوتے ہیں اس کے بعد تو استرااٹھا تا ہے اور جا کر اس کے کان کو چیر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ جانور بحیرہ ہے یا کہا کہ تو ان کے چمڑوں کو چیر دیتا ہے ۔ پھر تو آ تا ہے اور کہتا ہے کہ یہ صرم ہے اور اسے اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے ۔اس نے کہا جی ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک وہ جواللہ نے تجھے دیا ہے وہ حلال ہے ( یعنی تم اس کو خود اپنے لئے حرام نہ کرو۔ ) اوراللہ کا ساعد و باز و تیرے ساعد و بازو سے زیادہ سخت ہے اور اللہ کا استرا تیرے استرے سے زیادہ تیز ہے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ میں کسی آدمی کے پاس جا تا ہوں تو وہ پھر اکرام نہیں کرتا مجھے کھانا بھی نہیں کھلا تا اس کے بعد وہ کبھی ہمارے پاس مہمان بنتا ہے تو کیا میں اس کے ساتھ وہی بدلہ کروں جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا۔ میں اس کو کھلاؤں؟ فرمایا کہ بلکہ تم اس کو کھانا کھلاؤ۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8075

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8076

8076 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا أبو العباس عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدورقي نا إسحاق بن إبراهيم الفروي نا مالك بن أنس عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أقال مسلما عثرته أقاله الله عز و جل يوم القيامة قال أبو العباس كان إسحاق يحدث بهذا الحديث عن مالك عن سمي فحدثنا به من أصل كتابه عن سهيل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابولحسن علی بن محمد مصری نے ان کوابوالعباس عبداللہ بن احمد بن ابراہیم دور قی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم فروی نے ان کو مالک بن انس نے ان کو سہیل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص کسی مسلمان کی کسی لغزش اورغلطی سے درگذر کر تا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے درگذرکرے گا۔ ابوالعباس نے کہا اسحاق یہ حدیث بیان کرتے تھے مالک سے وہ سمی سے اس نے ہمیں یہ حدیث بیان کی تھی اپنی اصل کتاب سے سہیل سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← مالک بن أنس ← إسحاق بن إبراهيم الفروي ← أبو العباس عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدورقي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8076

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8077

8077 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو بكر محمد بن علي بن إسماعيل الشاشي الفقيه نا يحيى بن محمد الهاشمي نا إبراهيم بن أيوب المخرمي نا سعيد بن محمد الجرمي نا يعقوب بن أبي المتئد خالد سفيان بن عيينة عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ألا أدلكم على أكرم أخلاق الدنيا و الآخرة أن تعفو عمن ظلمك و تصل من قطعك و تعطي من حرمك

ہمیں حدیث بیان کی امام ابوالطیب سہل بن محمد بن سلیمان سے اس نے ابو بکر محمد بن علی بن اسماعیل شاشی فقیہ نے ان کو یحییٰ بن محمد ہاشمی نے ان کو ابراہیم بن ایوب مخرمی نے ان کو سعید بن جرمی نے ان کو یعقوب بن مؤتد خالد سفیان بن عینیہ نے ان کوا بواسحٰق نے حارث سے اس نے علی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تجھے بتلاؤں دنیا اور آخرت کا سب سے بہترین اخلاق و ہ یہ ہے کہ تم اس کو معاف کر دو جو تم پرظلم کرے اور تم اس سے ملاؤ جو تم سے کاٹے اور تم اس کو دو جو تمہیں نہ دے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← يعقوب بن أبي المتئد خالد سفيان بن عيينة ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجِرْمِيُّ، ← إبراهيم بن أيوب المخرمي ← يحيى بن محمد الهاشمي ← أبو بكر محمد بن علي بن إسماعيل الشاشي الفقيه ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8077

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8078

8078 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا العباس بن محمد الدوري نا يحيى بن معين نا حماد بن أسامة أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أيوب بن ميسرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال أعد من لا يعودك و اهد لمن له لا يهدي لك قال يحيى بن معين : أيوب بن ميسرة هذا مدني قال أحمد و الحديث مرسل جيد فيه تأكيد لما فسرنا به حسن الخلق في أول الباب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یحیی ٰبن معین نے ان کو حماد بن اسامہ نے ان کو ابواسامہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کوایوب بن میسرہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی مزاج پرسی کرو جو تمہاری مزاج پرسی نہ کرے اور تم اس کو ہد یہ دو جوتمہیں ہد یہ نہ دے۔ یحییٰ بن معین نے کہا کہ ایوب بن میسرہ بہ مدنی ہے ۔ احمد نے کہا کہ حدیث مرسل ہے جید ہے اس میں تاکید ہے اس کے لئے جو ہم نے ابھی تک وضاحت لکھی ہے حسن خلق کے بارے میں شروع باب سے ۔

أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَبُو أُسَامَةَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8078

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8079

8079 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عبيد بن شريك نا عبد الوهاب نا إسماعيل بن عياش نا أسيد بن عبد الرحمن الخثعمي عن عروة بن مجاهد اللخمي عن عقبة بن عامر الجهني قال : كنت أمشي ذات يوم مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عقبة بن عامر صل من قطعك و اعط من حرمك و اعف عمن ظلمك ثم قال لي رسول الله يا عقبة بن عامر أمسك لسانك و أبك على خطيئتك و ليسعك بيتك قال : و كان عروة بن مجاهد يقول إذا حدثت بهذا الحديث إلا فرب من يملك لسانه و لا يبكي على خطيئته و لا يسعه بيته تابعه عاصم بن علي عن إسماعيل في الحديث الأول

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبیدہ بن شریک نے ان کو عبداللہ الوھاب نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو اسید بن عبد الرحمٰن شعمی نے ۔ ان کو عروہ بن مجامد عجمی نے عقبہ بن عاد جھی سے ۔ وہ کہتے ہیں میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عقبہ بن عامر آپ اس نے تعلق جوڑ یے جو آپ سے تعلق کا ٹے اور اس کو آپ دیجئے جو آپ کو نہ دے اور اس کو معاف کیجئے جو آپ کے اوپر ظلم کرے ۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا اے عقبہ بن عامر ۔اپنی زبان کو روک رکھئے اور اپنے گناہ پر روئیے اور اپنے گھر میں رہئے ۔ کہتے ہیں کہ عروہ بن مجاہد فرماتے تھے جب میں یہ حدیث بیان کرتا ہوں ۔ تو امر واقعہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جواپنی زبان کے مالک نہیں ہیں (یعنی ان کی زبان ان کے کنٹرول میں نہیں ہے ) اور اپنی خطا پر نہیں روتے اور گھر میں نہیں ٹکتے ۔ عامر بن علی نے اس کا متابع بیان کیا ہے اسماعیل سے حدیث اول میں۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عروة بن مجاهد اللخمي ← أسيد بن عبد الرحمن الخثعمي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8079

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8080

8080 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن محمد بن فنجويه الدنيوري نا عمر بن الخطاب العنبري نا عبد الله بن الفضل بن داجرة نا محمد بن أبي بكر المقدمي نا دلال بنت أبي المدل عن الصبهاء عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ألا أدلكم على كرائم الأخلاق في الدنيا و الآخرة أن تصل منة قطعك و تعطي من حرمك و تجاوز و عمن ظلمك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حسین بن محمد بن فنجو یہ د ینوری نے ان کو عمر بن خطاب عنبری نے ان کو عبد اللہ بن فضل بن داجرہ نے ان کومحمد بن ابی بکر مقدمی نے ان کو دلال بنت ابواعدل نے صہباء سے اس نے عائشہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں خبر نہ دوں دنیاوآخرت کے لحاظ سے عمدہ اخلاق کے بارے میں یہ کہ تو جوڑ پیدا کر اس آدمی سے جو تجھ سے تعلق قطع کرے اور تو اس کو دے جو تجھے محروم رکھے اور معاف کر تو اس کو جو تم پرظلم کرے۔

عَائِشَةَ ← الصبهاء ← دلال بنت أبي المدل ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عبد الله بن الفضل بن داجرة ← عمر بن الخطاب العنبري ← أبو عبد الله الحسين بن محمد بن فنجويه الدنيوري

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8080

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8081

8081 - و أخبرنا أبو الحسن علي بن الحسن بن فهر المصري بمكة نا أبو الحسن علي بن عمر الحافظ املاءنا أحمد بن إسحاق بن بهلول نا أبي عن أبيه عن محمد بن يونس بن حباب عن يونس بن حباب عن الحسن عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أدلكم على مكارم الأخلاق في الدنيا و الآخرة ؟ قالوا بلى يا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : صل من قطعك و اعط من حرمك و اعف عمن ظلمك 8081 - مكرر ـ سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول سمعت أبا عمرو بن مطر يقول سمعت محمد بن موسى الحلواني يقول سمعت أحمد بن إسحاق بن منصور يقول : سمعت أبي يقول لأحمد بن حنبل : ما حسن الخلق ؟ قال : هو أن تحتمل ما يكون من الناس

اور ہمیں خبر دی ابوحسن علی بن حسن بن فہر مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابوالحسن علی بن عمر حافظ نے بطور املاء کے ان کو احمد بن اسحاق بن بہلول نے ان کو ان کے والد نے ان کومحمد بن یونس بن حباب نے ان کو یونس بن حباب نے ان کو حسن نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں دنیاو آخرت کے لحاظ سے بہترین اخلاق کے بارے میں؟ لوگوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا آپ اس کے ساتھ جوڑ یے جو آپ سے کاٹے اور اس کو دیجئے جو تجھے محروم کرے اور اس سے درگذر کیجئے جو تجھ پر ظلم کرے۔ (مکررہے ) میں سنا ابوعبدالرحمٰن سلمی وہ کہتے ہیں میں سنا ابو عمرو بن مطر سے کہتے کہ میں نے سنامحمد بن موسیٰ حلوانی وہ کہتے میں سنا احمد بن اسحاق بن منصور نے کہتے ہیں میں سنا اپنے والد وہ کہتے ہیں بن حنبل کہ حسن حلق کیا ہے؟ فرمایا وہ یہ ہے کہ یہ وہ لوگوں کا بوجھ اپنے ذمے لے لے۔:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← يونس بن حباب ← محمد بن يونس بن حباب ← أَبِيهِ ← أَبِي ← أبو الحسن علي بن عمر الحافظ املاءنا أحمد بن إسحاق بن بهلول ← أبو الحسن علي بن الحسن بن فهر المصري-بمكة-، ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8081

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8082

8082 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا العباس ابن محمد نا أبو النضر نا محمد بن عبد الله العمي عن ثابت نا أنس بن مالك قال : كان رسول الله يكثر أن يقول أيعجز أحدكم أن يكون مثل أبي ضمضم قالوا : و ما أبو ضمضم يا رسول الله ؟ قال : كان أبو ضمضم رجلا فيمن كان قبلنا إذا أصبح قال اللهم إني أتصدق اليوم بعرضي على من ظلمني

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوسعید محمد بن موسیٰ نے دونوں کہا کہ کو خبر دی ابوالعباس اصم نے کو عباس محمد ان کو خیر دی ابوالنصر ان کومحمد بن عبد اللہ عمی نے ان کو ثابت نے کو انس بن مالک نے وہ کہتے کہ حضور کثرت کے ساتھ یہ کہتے کیا تم میں سےکوئی آدمی اس بات سےبھی عاجز کہ وہ ابو ضمضم کی مثل ہولوگوں نےکہا کہ ابو ضمضم کیا شئی ہے؟ یارسول اللہ کہ ابو ضمضم پہلے لوگوںمیں ایک آدمی تھاجب وہ صبح کرتا تو کہتا تھا اللہ میں نے آج کے دن اپنی عزت صدقہ کر دی ہے اس پر جو جو مجھ پرظلم کرے گا۔

و ما أبو ضمضم ← أيعجز أحدكم أن يكون مثل أبي ضمضم ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُكْثِرُ أَنْ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَمِّيُّ، ← أَبُو النَّضْرِ، ← العباس ابن محمد ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8082

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8083

8083 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا جعفر بن محمد بن الليث نا ابن عائشة عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم على قوم يرتبعون حجرا فقال : ماذا الذي أراكم ترتبعونه ؟ قالوا : ترتبعه في الجاهلية قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أدلكم على أشد الناس ؟ قالوا و من هو يا رسول الله ؟ قال : رجل فيمن كان قبلكم كان إذا خرج من بيته قال إني وهبت عرضي لمن شتمه قال : صلى الله عليه و سلم أيعجر أحدكم مثل أبي ضمضم قال و من أبو ضمضم قال : رجل ممن كان قبلكم كان إذا خرج من بيته قال : اللهم إني وهب عرضي لمن شتمه كذا قال عن أنس و الصحيح رواية من رواه حماد بن سلمة عن ثابت عن عبد الرحمن بن عجلان عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو عمرو بن مطر نے کو جعفر محمد بن لیث نے کو ابن عائشہ ان کو حماد بن سلمہ نے کو ثابت نے کو انس نے وہ کہتے ہیں نبی کریم ایک قوم کے پاس تشریف لائے اور وہ لوگ چہار زانوں بیٹھے ہوئے تھے ایک پتھر کے آگے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے کہ میں تمہیں دیکھتا کہ تم اس کے آگے جھک کر بیٹھے ہو؟ لوگوں نے جواب کہ ہم لوگ جاہلیت میں اس کے آگے ایسے بیٹھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں دلالت کروں لوگوں میں سےسخت ترین پر ؟ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا کہ وہ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی تھا جب اپنے گھر سے نکلتا تو یہ کہتا میں نے اپنی عزت شخص کو اس شخص کو بخش دی جو مجھے گالی گا۔ فرمایا تمہارا ایک اس بات سے بھی عاجز ہے کہ وہ ابو ضمضم کی مثل ہو جائے ۔لوگوں نے کہاکہ کون ہے ابو ضمضم؟ فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی تھا۔ جب بھی وہ گھر سے نکلتا تھا تو کہتا تھا۔ میں نے اپنی عزت اس کو ھبہ کر دی ہے جو مجھے گالی دے۔ اسی طرح کہا ہے حضرت انس سے اور روایت صحیح اس کی ہے جس نے اس کو روایت کیا ہے حماد بن سلمہ سے اس نے ثابت سے اس نے عبد الرحمٰن بن عجلان سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا۔

ترتبعه في الجاهلية ← ماذا الذي أراكم ترتبعونه ← أتى النبي صلى الله عليه و سلم على قوم يرتبعون حجرا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← ابْنُ عَائِشَةَ ← جعفر بن محمد بن الليث ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8083

chevron_left Previous
1…8910…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood