شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8072
8072 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنا القرهاذاني عبد الله بن محمد نا هشام بن عمار نا الوليد بن مسلم نا ابن عجلان نا سعيد المقري عن أبي هريرة قال : استطال رجل على أبي بكر الصديق و رسول الله صلى الله عليه و سلم جالس و أبو بكر ساكت فلما أكثر انتصر أبو بكر فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فاتبعه أبو بكر يا رسول الله استطال علي و أنت ساكت فلما انتصرت قمت فقال يا أبا بكر إنك ما سكن كان الملك يرد عليه فلما انتصرت ارتفع الملك و حضر الشيطان فلم أكن لأجالس الشيطان : يا أبا بكر ثلاث اعلم أنهن حق : ما عفا أمرؤ عن مظلمة إلا زاده الله بها عزا و ما فتح رجل على نفسه باب مسئلة يبتغي بها وجه كثرة إلا زاده الله بها فقرا و ما فتح رجل على نفسه باب صدقة يبتغي بها وجه الله إلا زاده الله كثرة و رواه الليث عن سعيد المقبري من بشر بن محرز عن سعيد بن المسيب أن رجلا سب أبا بكر فسكت ثم انتصر فقام النبي صلى الله عليه و سلم قال البخاري هذا أصح و هو مرسل
ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کوتر ہاذانی عبداللہ بن محمد نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو ابن عجلان نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر برس پڑے جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے جب اس نے کچھ زیادہ ہی بک بک کی تو ابوبکر صدیق نے بھی مقابلے میں کچھ کہنا شروع کیا اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے مگر ابو بکر صدیق نے حضور سے کہا یا رسول اللہ اس نے مجھ پر زیادتی کی ہے اور آپ خاموش ہیں اور میں نے جب بدلے میں اسے کچھ کہا ہے آپ اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو بکر جب تک تم خاموش تھے فرشتہ تیری طرف سے اس کو جواب دے رہا تھا جب تم نے خود اس سے بدلہ لینا شروع کیا ہے تو فرشتہ اوپر کو اٹھ گیا ہے اور شیطان حاضر ہو گیا ہے اب میں شیطان کے ساتھ نہیں ہم نشینی کر سکتا۔ اے ابوبکر تین چیزیں ہیں میں جانتا ہوں کہ وہ حق ہیں ۔ جب کوئی شخص کسی ظلم وزیادتی کو معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت اور زیادہ کر دیتا ہے جو شخص اپنے اوپر مانگنے کا درواز کھول لیتا ہے جس کے ذریعے وہ کثرت اور زیادتی کا طالب بنتا ہےتو اللہ اس کے ذریعے اس کے فقر ومحتا جی کو بڑھادیتا ہے ۔ اور جوشخص اپنے اوپر صدقہ کرنے کا درواز کھول لیتا ہے جس سے وہ اللہ کی رضا تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اور زیادہ عطا کرتا ہے۔ اس کو روایت کیا ہے لیث نے سعید مقبری سے بشر بن محرز سے اس نے سعید بن مسیب سے کہ ایک آدمی نے ابو بکر صدیق کو گالی دی وہ سن کر خاموش ہو گئے اس کے بعد انہوں نے اس سے بدلہ لے لیا لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم محفل سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ بخاری نے کہایہ روایت زیادہ صحیح ہے اور وہ مرسل ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سعيد المقرى ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← القرهاذاني عبد الله بن محمد ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8072
