Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8060

8060 - أخبرنا أبو حازم العبدوي أنا أبو عبد الله المسندي أنا أبو الحسين بن أبي علي الخلالي نا إبراهيم بن عبد السلام العنبري نا إبراهيم بن سعيد الجوهري نا إسماعيل بن حماد عن سعير بن الخمس : أنه قيل له : ما أبشك ؟ قال : إنه يقوم على برخص

ہمیں خبر دی ابو حازم عبداللہ نے ان کو ابوعبداللہ مسندی نے ان کو ابوالحسین بن ابی علی خلالی نے ان کو ابراہیم بن عبد السلام عنبری نے ان کو ابراہیم بن سعید جوہری نے ان کو اسماعیل بن حمار نے ان کو سعید بن خمس نے بے شک شان یہ ہے کہ ان کو کہا گیا کس چیز نے تجھے پھیلا یا ؟ فرمایا کہ بے شک شان یہ ہے کہ وہ مجھ کو رخصتوں پر عمل کراتا ہے۔

إنه يقوم على برخص ← سعير بن الخمس أنه قيل له ما أبشك ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَمَّادٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ الْعَنْبَرِيُّ، ← أبو الحسين بن أبي علي الخلالي ← أبو عبد الله المسندي ← أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8060

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8061

8061 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى و أبو عبد الله الحافظ و حمزة بن عبد العزيز قالوا : نا أبو عبد الله الصفار نا أبو علي إسماعيل بن يحيى بن عمرو العسكري العدل بأصبهان و لقه سمعان نا إسحق بن محمد بن إسحاق العمي نا أبي عن يونس بن عبيد عن الحسن عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأس العقل بعد الإيمان بالله التودد إلى الناس و أهل التودد في الدنيا لهم درجة في الجنة و من كانت له في الجنة درجة فهو في الجنة و نصف العلم حسن المسئلة و الاقتصاد في المعيشة نصف العيش تكفي نصف النفقة و ركعتان من رجل و رع أفضل من ألف ركعة من مخلط و ما تم دين المسلم قط حتى يتم عقله و الدعاء يرد الأمر و صدقة السر تطفيء غضب الرب و صدقة العلانية تقي ميتة السوء و صنائع المعروف إلى الناس تقي صاحبها مصارع السوء الآفات و المهلكات و أهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة و المعروف ينقطع فيما بين الناس و لا ينقطع فيما بين الله و بين من افتعله هذا إسناد ضعيف و الحمل فيه على العسكرى و العمي

ہمیں خبر دی ابوسعید محمد بن موسیٰ نے اور ابوعبداللہ حافظ نے اور حمر و بن عبد العزیز نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ صفار نے ان کو ابوعلی اسماعیل بن یحییٰ بن عمر و عسکری عدل نے اصفہان میں اور اس کا لقب سمعان ہے ان کو اسحاق بن محمد بن اسحاق عمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے ان کوانس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ ایمان کے بعد عقل کی سردار چیز محبت کرنا ہے لوگوں کے ساتھ اور اہل محبت دنیاوی میں ان کے لئے جنت میں ایک درجہ ہے۔ اور جس شخص کا جنت میں درجہ ہووہ جنت میں ہوگا اور نصف علم اچھے طریقے سے سوال کرنا ہے۔ اور معیشت میں میانہ روی آدھی زندگی ہے آدھے خرچ سے کفایت کرتی ہے۔ پرہیز گاری آدمی کی دورکعتیں گناہ گار کی ہزار رکعت سے افضل ہیں ۔ اورمسلمان کا دین کبھی مکمل نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کی عقل مکمل ہو جائے ۔اور د عا حکم کو اور قضا کو واپس لوٹا دیتی ہے۔چھپ کر دیا ہو صد قہ رب کے غضب کو بجھا دیا ہے۔ اور ظاہر دیا ہواصدقہ ، بری موت سے بچاتا ہے لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے نیکی کے کام صاحب عمل کو بری موتوں سے آفات سے اور مصائب سے بچاتے ہیں۔ اور دنیا میں اہل نیکی آخرت میں بھی اہل معروف ہوں گے ۔ اچھائیاں لوگوں کے مابین ختم ہو جاتی ہیں اور اللہ کے ادر کرنے والے کے مابین ختم نہیں ہوتیں ۔یہ اسناد ضعیف ہے اور اس میں حمل عکسر ی اور عمی پر ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبِي ← إسحق بن محمد بن إسحاق العمي ← أبو علي إسماعيل بن يحيى بن عمرو العسكري العدل بأصبهان و لقه سمعان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8061

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8062

8062 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو منصور أحمد بن محمد أحمد عبد الله العنبري الصوفي النيسابوري نزيل بغداد نا عبد الله بن أحمد بن عامر نا أبي نا علي بن موسى الرضا نا موسى بن جعفر المرتضى حدثني أبي جعفر بن محمد نا أبي عن أبيه علي بن الحسين عن أبيه عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأس العقل بعد الدين التودد إلى الناس و اصطناع الخير إلى كل بر و فاجر و روينا في التودد إلى الناس عن علي بن يزيد عن ابن المسيب عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا و رويناه عن أبي الجويرية عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حدیث بیان کی ابومنصور احمد بن محمد بن عبد اللہ عنبری صوفی نیساپوری نزیل بغداد نے ان کو عبد اللہ بن احمد بن عامر نے ان کو ان کے والد نے ان کوعلی بن موسیٰ رضا نے ان کوموسیٰ بن جعفر مرتضیٰ نے ان کو ابو جعفر بن محمد نے ان کو ان کے والد علی بن حسین نے اپنے والد سے انہوں نے علی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایاد ین کے بعد عقل کی سردارلوگوں کے ساتھ محبت کرنا ہے اور خیر کاعمل کرنا ہر نیک اور بد کے ساتھ۔ اور ہم سے روایت کی ہے لوگوں کی طرف دوستی کرنے میں۔ علی بن یزید سے اس نے ابن مسیب سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور مرسل روایت کے ۔اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے ابوالجو یر یہ سے اس نے ابن عباس سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← أبيه علي بن الحسين ← أَبِي ← أبي جعفر بن محمد ← موسى بن جعفر المرتضى ← علي بن موسى الرضا ← أَبِي ← عبد الله بن أحمد بن عامر ← أبو منصور أحمد بن محمد أحمد عبد الله العنبري الصوفي النيسابوري نزيل بغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8062

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8063

8063 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد نا يحيى بن معين نا السهمي عبد الله بن بكر حدثني بشر أبو نصر : أن عبد الملك بن مروان دخل على معاوية و عنده عمرو بن العاص فسلم ثم جلس فلم يلبث أن نهض فقال معاوية : ما أكمل مروة هذا الفتى فقال عمرو : يا أمير المؤمنين إنه أخذ بأخلاق أربعة و ترك أخلاقا ثلاثة إنه أخذ بأحسن البشر إذا لقي و بأحسن الحديث إذا حدث و بأحسن الإستماع إذا حدث و بأيسر المؤنة إذا خولف و ترك مزاح من لا يثق بعقله و لا دينه و ترك مخالفة لئام الناس و ترك من الكلام كلما يعتذر منه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو سہمی عبداللہ بن بکر نے ان کو حدیث بیان کی ہے بشر ابونصر نے یہ کہ عبدالملک بن مروان حضرت معاو یہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کے پاس عمرو بن العاص موجود تھے عبدالملک نے سلام کیا اور بیٹھ گئے تھوڑی سی دیر کے بعد اپنی جگہ سے اٹھے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس جوان کی مروت کس قدر کامل ہے ۔ عمرو بن العاص نے کہا۔اے امیر المؤمنین اس نے چار اوصاف کو حاصل کیا ہے اور تین اوصاف کو چھوڑ دیا ہے جو اوصاف اس نے اخذ کی ہیں وہ یہ ہیں جب ملتا ہے تو مسکرا کر ملتا ہے۔ جب کوئی بات کرتا ہے تو اچھی بات کرتا ہے ۔اور جب کوئی بات کرےیہ سنے تو احسن طریقے سے سنتا ہے۔ اور جب اس کی مخالفت کی جائے تو آسان مشقت وصورت اختیار کرتا ہے۔ اور تین چیز یں جو ترک کر دی ہیں وہ یہ ہیں اس نے مذاق کرنا چھوڑ دیا ہے اس آدمی کے ساتھ جس کے عقل اور دین پر وہ یقین نہیں کرتا ۔اور اس نے کمینہ خصلت رزیل لوگوں کی مخالفت کرنا ترک کر دی ہے ۔ اور اس نے ایسی کلام کرنا بھی چھوڑ دیا ہے جس سے کسی وقت بھی معذرت کر نا پڑے ۔

بِشْرٌ أَبُو نَصْرٍ ← السَّهْمِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8063

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8064

8064 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ يقول : سمعت أبا بكر محمد بن عبد العزيز الواعظ يقول : سمعت يوسف بن الحسين يقول : سمعت ذا النون يقول : خمسة من أعلام أهل الجنة وجه حسن و قلب رحيم و لسان لطيف و اجتناب المحارم و أظنه قال : و خلق حسن و علامة أهل النار خمسة سوء الخلق و قلب قاسي و ارتكاب المعاصي و لسان غليظ و وجه حامض سمعت أبا نصر بن قتادة يقول : سمعت أبا حامد أحمد بن علي بن الحسن المقري يقول : سمعت أحمد بن شيبان الرملي يقول : اجتمع سفيان الثوري و سفيان بن عيينة و فضيل بن عياض و عبد الله بن المبارك فقال بعضهم لبعض : أليس معنى حديث النبي صلى الله عليه و سلم : إن حسن الخلق ليبلغ درجة الصائم القائم فاتفقوا على ثلاث بسط الوجه و كف الأذى و بذل المعروف

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو بکر محمد بن عبدالعزیز واعظ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یوسف بن حسین سے وہ کہتے ہیں میں نے سناذ والنون سے وہ کہتے ہیں اہل جنت کی علامات پانچ ہیں : خوبصورت چہرہ ،مہربان دل ، نرم زبان ۔محارم سے اجتناب کرنا میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا تھا اور حسن خلق ۔ اور اہل جہنم کی علامات بھی پانچ ہیں: بداخلاقی ، سنگدلی ، گناہوں کا ارتکاب کرن غلیظ و گندی زبان ،ترش رو چہرہ ۔ میں نے سنا ابونصر بن قتادہ سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابوحامد احمد بن علی بن حسن مقری سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا احمد بن شیبا رملی سے وہ کہتے ہیں ۔ سفیان ثوری اور سفیان بن عیینہ اور فضیل بن عیاض اور عبداللہ بن مبارک جمع ہوئے اور بعض نے بعض سے کہا کیا اس حدیث نبی کا معنی اور مفہوم یہ نہیں ہے ---- بے شک حسن خلق روز ہ دار اور شب بیدار کے درجے تک پہنچا دیتا ہے ۔ پھر وہ لوگ تین چیزوں پر متفق ہو گئے ۔ چہرے کی مسکراہٹ، تکلیف پہنچانے سے رک جانا اور نیکی کو عام کرنا۔

ذَا النُّونِ، ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَاعِظَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8064

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8065

8065 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني يقول : سمعت جدي يقول : سمعت إسحاق بن إبراهيم يقول في حديث النبي صلى الله عليه و سلم في حسن الخلق قال : حسن الخلق بسط الوجه و تجنب الغضب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا اسماعیل بن محمد بن فضل بن محمد شعرانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اسحاق بن ابراہیم سے وہ کہتے ہیں حدیث نبی میں حسن خلق کے بارے میں فرمایا کہ حسن خلق کشادہ روئی اور غصے سے ایک طرف ہو جانے کا نام ہے۔

حسن الخلق بسط الوجه و تجنب الغضب ← في حديث النبي صلى الله عليه و سلم في حسن الخلق ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8065

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8066

8066 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا عبد الله بن أحمد بن مرزوبه الفارسي أنا حامد بن المبارك نا إسحاق بن يسار النصيبي نا الأصمعي قال : سمعت ابن المبارك يقول : إنه ليعجبني من القراء كل طلق مضحاك فأما من تلقه بالبشر و يلقاك بالعبوس كأنه يمن عليك بعمله فلا أكثر الله في القراء مثله

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو عبداللہ بن احمد بن مروز یہ فارسی نے ان کو خبر دی حامد بن مبارک نے ان کو اسحٰق بن یسار نصیبی نے ان کو اصمعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن مبارک سے وہ کہتے ہیں البتہ مجھے پسند آتا ہے قراء میں سے ہر چمکتے چہرے والا خوشرو یعنی مسکراتے چہرے والا بہر حال جس کو تم ملوخوشروئی کے ساتھ اوروہ آپ کو ملے تر شروئی کے ساتھ جیسے کہ وہ آپ کے اوپر احسان کرتا ہے اپنے عمل کے ساتھ پس نہ زیادہ کرے اللہ قراء میں اس جیسوں کو ۔

ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← إسحاق بن يسار النصيبي ← حامد بن المبارك ← عبد الله بن أحمد بن مرزوبه الفارسي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8066

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8067

8067 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ عن مالك عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير عن عائشة أم المؤمنين أنها قالت : ما خير رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أمرين إلا أخذ أيسرهما ما لم يكن إثما فإن كان إثما كان أبعد الناس منه و ما انتقم رسول الله صلى الله عليه و سلم لنفسه إلا أن تنتهك حرمة الله فينتقم الله بها رواه البخاري عن القعنبي و رواه مسلم عن يحيى بن يحيى عن مالك

ہمیں خبر دی ابوز کر یابن ابی اسحاق نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھاما لک پر ابن شہاب سے اس نے عروہ بن زبیر سے اس نے سیدہ عائشہ ام المؤمنین سے اس نے کہا حضور جب بھی دو امروں کے درمیان اختیار دیئے گے تو آپ نے دونوں میں سے آسان تر عمل کو پسند کیا جب کہ اس میں گناہ نہ ہواور اگر وہ کام گناہ تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ بعید ہو گئے اس سے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے کوئی انتقام اور بدلہ نہیں لیا مگر یہ کہ اللہ کی حرمت ریزی کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا خود انتقام لے لیتے ۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے قعنبی سے اور اس کو مسلم نے روایت کیا یحییٰ بن یحییٰ سے اس نے مالک سے۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← القعنبي فيما قرأ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8067

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8068

8068 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا محمد بن عبد الله بن المهاجر نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت : ما ضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده خادما قط و لا امرأة و لا ضرب بيده شيئا إلا أن يجاهد في سبيل الله عز و جل أخرجه مسلم من حديث هشام بن عروة عن أبيه

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن مہاجر نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو عروہ نے ان کو عائشہ نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنے ہاتھ سے نہ کسی خادم کو مارا پیٹانہ ہی کسی عورت کو اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو مارا پیٹا۔ ہاں مگر یہ کہ جہاد فی سبیل اللہ کرتے تھے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہشام بن عروہ کی حدیث سے اس نے اپنے والد سے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8068

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8069

8069 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاذ نا إبراهيم بن صالح نا سعيد بن منصور ح قال و نا علي بن حمشاذ نا محمد بن أيوب أنا أبو الربيع قالا نا حماد بن زيد ثابت عن أنس قال : خدمت النبي صلى الله عليه و سلم عشر سنين فما قال لي أف قط و لا قال لشيء مما يصنعه الخادم لم فعلت كذا و كذا و هلا فعلت كذا و كذا رواه مسلم عن سعيد و أبي الربيع

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوعلی بن حمشاذ نے ان کو ابراہیم بن صالح نے ان کو سعید بن منصور نے ۔’’ ح‘‘ وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی علی بن حمشاذ نے اور محمد بن ایوب نے ان کو ابوالربیع نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر وی حماد بن زید نے ان کو ثابت نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے مجھے کبھی آپ نے اف تک نہیں کہا اور نہ ہی کسی ایسی چیز پر کچھ کہا جو خادم کر لیتا ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا یا تم نے ایسا کیوں نہ کیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے سعید سے اور ابوالربیع سے ۔

سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← إبراهيم بن صالح ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8069

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8070

8070 - حدثنا عمر بن أحمد العبدوي الحافظ أنا أبو سعيد إسماعيل بن أحمد التاجر أنا أحمد بن علي المثنى نا أبو بكر بن أبي شيبة نا وكيع عن عروة بن ثابت عن ثمامة بن عبد الله عن أنس بن مالك قال : خدمت رسول الله صلى الله عليه و سلم عشر سنين فما أرسلني في حاجة قط فلم يتهيأ لي إلا قال لو قضي لكان و لو قدر لكان

ہمیں حدیث بیان کی ہے عمر بن احمد عبدوی حافظ نے ان کو خبر دی ابوسعید اسماعیل بن احمد تاجر نے ان کو احمد بن علی مثنی نے ان کو ابوبکر بن ابی شیبہ نے ان کو وکیع نے عروہ بن ثابت سے اس نے ثمامہ بن عبد اللہ سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے مجھے کسی ایسی حاجت میں آپ نے کبھی نہیں بھیجا کہ وہ کام نہ ہوسکا ہو اور مجھے آپ نے کہا ہو کاش کہ اگر یہ کام ہو جا تاتویہ فائدہ ہوتا نہیں ہوتو یہ نقصان ہوا۔ اگر یہ مقدر ہوتا تو یہ فائدہ ہوتا۔ ( یہ کبھی نہیں کہا)۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← عروة بن ثابت ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُثَنَّى ← أبو سعيد إسماعيل بن أحمد التاجر ← عمر بن أحمد العبدوي الحافظ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8070

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8071

8071 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا محمد بن إسحاق نا علي بن حجر نا إسماعيل بن جعفر عن العلا عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما نقصت صدقة من مال و ما زاد الله بعفو إلا عزا و ما تواضع أحد لله إلا رفعه رواه مسلم في الصحيح عن علي بن حجر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابونصر فقیہ نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو علی بن حجر نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی صدقہ کسی مال کو کم نہیں کرتا اور نہیں زیادہ کرتا اللہ عفو وردرگذر سے مگر اس کے بدلے میں اور عطا کرتا ہے اور نہیں عاجزی کرتا کوئی شخص اللہ کے لئے مگر اللہ اس کو بلند کر دیتا ہے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں علی بن حجر سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← العلا ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8071

chevron_left Previous
1…789…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood