شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8048
8048 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين بن بشران و أبو زكريا يحيى بن إبراهيم قالوا : أنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه نا رستم عن أبي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا أبا ذر لا تحقرن من المعروف شيئا و لو أن تلقى أخاك بوجه منبسط و في رواية أبي عبد الله بوجه طلق زاد أبو زكريا و ابن بشران في روايتهما و لو أن تفرغ من دلوك في إناء المستسقي و إذا طبخت قدرا فأكثر من مرقها و اغرف لجيرانك منها رواه مسلم عن أبي غسان عن عثمان بن عمر مختصرا إلى قوله بوجه طلق
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو ا لحسین بن بشران نے اور ابوز کر یا یحییٰ بن ابراہیم نے لوگوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن سلمان بن حسن فقیہ نے ان کو عبدالملک بن محمد رقاشی نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو ابو عامر خز از صالح بن رستم نے ان کو ابوعمران جونی نے ان کو عبد اللہ بن صامت نے ان کو ابوذر نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ڈر اچھائی کے کسی بھی کام کو حقیر اور معمولی نہ سمجھنا اگر چہ تم اپنے بھائی سے مسکرا کر بھی ملو۔ اور ابوعبداللہ کی ایک روایت میں ہے بوجہ طلق ۔ چمکتے چہرے کے ساتھ۔ ابوز کریانے اور ابن بشران نے اپنی راویتوں میں اضافہ کیا ہے ۔ اگر چہ اپنے پانی کے ڈول سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی انڈیلنا ہی کیوں نہ ہو ۔ اور تم جب ہنڈیا پکاؤ تو اس کا شور باقدرے زیادہ بنالو چنانچہ پڑوسی کے لئے بھی اس میں کچھ بھیج دو اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو غسان سے اس نے عثمان بن عجر سے مختصر اًصرف اسی قول تک بوجہ طلق ۔ ۸۰۴۹ ہمیں خبر دی ابوعلی رود باری نے ان کو خبر دی ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ نے ان کو ابن عفان نے ان کو ابوتمیمہ ہجمی نے ان کو ابو جری جابر بن سلیم نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ معروف اور نیکی کے کاموں میں سے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھنا اگر چہ تم مسلمان بھائی سے مسکرا کر بھی بات کرو بے شک یہ بھی نیکی کا کام ہے۔
اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← رُسْتُمُ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8048
