Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8048

8048 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين بن بشران و أبو زكريا يحيى بن إبراهيم قالوا : أنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه نا رستم عن أبي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا أبا ذر لا تحقرن من المعروف شيئا و لو أن تلقى أخاك بوجه منبسط و في رواية أبي عبد الله بوجه طلق زاد أبو زكريا و ابن بشران في روايتهما و لو أن تفرغ من دلوك في إناء المستسقي و إذا طبخت قدرا فأكثر من مرقها و اغرف لجيرانك منها رواه مسلم عن أبي غسان عن عثمان بن عمر مختصرا إلى قوله بوجه طلق

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو ا لحسین بن بشران نے اور ابوز کر یا یحییٰ بن ابراہیم نے لوگوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن سلمان بن حسن فقیہ نے ان کو عبدالملک بن محمد رقاشی نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو ابو عامر خز از صالح بن رستم نے ان کو ابوعمران جونی نے ان کو عبد اللہ بن صامت نے ان کو ابوذر نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ڈر اچھائی کے کسی بھی کام کو حقیر اور معمولی نہ سمجھنا اگر چہ تم اپنے بھائی سے مسکرا کر بھی ملو۔ اور ابوعبداللہ کی ایک روایت میں ہے بوجہ طلق ۔ چمکتے چہرے کے ساتھ۔ ابوز کریانے اور ابن بشران نے اپنی راویتوں میں اضافہ کیا ہے ۔ اگر چہ اپنے پانی کے ڈول سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی انڈیلنا ہی کیوں نہ ہو ۔ اور تم جب ہنڈیا پکاؤ تو اس کا شور باقدرے زیادہ بنالو چنانچہ پڑوسی کے لئے بھی اس میں کچھ بھیج دو اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو غسان سے اس نے عثمان بن عجر سے مختصر اًصرف اسی قول تک بوجہ طلق ۔ ۸۰۴۹ ہمیں خبر دی ابوعلی رود باری نے ان کو خبر دی ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ نے ان کو ابن عفان نے ان کو ابوتمیمہ ہجمی نے ان کو ابو جری جابر بن سلیم نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ معروف اور نیکی کے کاموں میں سے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھنا اگر چہ تم مسلمان بھائی سے مسکرا کر بھی بات کرو بے شک یہ بھی نیکی کا کام ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← رُسْتُمُ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8048

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8049

8049 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا مسدد نا يحيى عن ابن عفان نا أبو تميمة الهجيمي عن أبي جري جابر بن سليم : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تحقرن من المعروف شيئا و إن تكلم أخاك و أنت منبسط إليه وجهك و أن ذلك من المعروف

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کو خبر دی ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ نے ان کو ابن عفان نے ان کو ابوتمیمہ ہجمی نے ان کو ابو جری جابر بن سلیم نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ معروف اور نیکی کے کاموں میں سے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھنا اگر چہ تم مسلمان بھائی سے مسکرا کر بھی بات کرو بے شک یہ بھی نیکی کا کام ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ ← أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، ← ابن عفان ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8049

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8050

8050 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن راشد التمار نا موسى بن إسماعيل أبو سلمة و سهل بن بكار قالا : نا عبد السلام صاحب الطعام حدثني عبيدة الهجيمي عن أبي جري الهجيمي : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم النبي على قعود لي شددته بالمسجد و دخلت فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم في بردتين له فقلت : عليك السلام فقال : عليك السلام تحية الموتى فقلت : إنا قوم من أهل البدو و فينا جفاء لتعلمني مما علمك الله قال : لا تحقرن من المعروف شيئا و لو أن تفرغ من دلوك في إناء المستسقي و لو أن تلقى أخاك و وجهك إليه منبسط أظنه قال : و لا تسبن شيئا قال أبو جري فو الذي ذهب بنفس محمد صلى الله عليه و سلم ما سببت بعده شيئا و لا بعيره و لا غلاما ـ و إياك و الإسبال فإنها من الخيلاء و إن الله لا يحب الخيلاء و حدثني أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بينما رجل ممن كان قبلكم عليه بردان له يتبختر فيهما إذ نظر إلى عطفيه فأعجب بنفسه فخسف به فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن راشد تمار نے ان کوموسیٰ بن اسماعیل نے ان کو ابوسلمہ اور سہل بن بکار نے دونوں نے کہا ان کوخبر دی ہے عبدالسلام صاحب صعام نے ۔ان کو حدیث بیان کی ہے عبیدہ ہجیمی نے ان کو ابو جری ہجیمی نے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اپنی سواری پر اس کو میں نے مسجد کے دروازے پر باندھ دیا اور اندر داخل ہو گیا یکایک حضور نے اپنی دو چادریں لپیٹ رکھی تھیں میں نے کہا علیک السلام حضور نے فرمایا علیک السلام مردوں کا سلام ہے میں نے کہا ہم دیہاتی لوگ ہیں ہمارے اندر جہالت ہے ہم اسی لئے آئے ہیں کہ آپ ہمیں اس چیز کی تعلیم دیں جواللہ نے آپ کو تعلیم دی ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کی حقیر اور معمولی نہ سمجھنا اگر چہ آپ اپنے ڈول میں سے پانی پینے والے کے برتن میں ڈال دیں اور اگر چہ آپ اپنے بھائی کو اپنے فراح اور مسکراتے چہرے کے ساتھ ملیں۔ میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا کسی چیز کو گالی نہ دینا۔ ابو جری کہتے ہیں پس قسم ہے جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے میں نے اس کے بعد کسی چیز کو گالی نہیں دی نہ اونٹ کو نہ ہی کسی غلام کو ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچاؤ تم اپنے آپ کوتہہ بند لٹکانے سے بے شک یہ تکبر میں سے ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ اور مجھے حدیث بیان کی ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کا یک ایک آدمی تھا پہلی امتوں میں سے اس پر دو چادر میں تھیں و ہ ان میں اکڑ رہا تھا غرور کر رہا تھا اچانک اس نے اپنے سائے کی طرف دیکھا تو اس کو اپنا سرا پا بہت اچھا لگا چنانچہ اسی زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک نیچے اتر تا جائے گا ۔

عُبَيْدَةَ الْهُجَيْمِيَّ ← عبد السلام صاحب الطعام ← موسى بن إسماعيل أبو سلمة و سهل بن بكار ← ابن راشد التمار ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8050

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8051

8051 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار أنا هشام بن علي نا رجا أنا همام عن أبي قتادة عن أبي ميمونة عن أبي هريرة : أنه أتى نبي الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا نبي الله إذا رأيتك طابت نفسي و قرت عيني فأنبئني عن كل شيء خلق الله ؟ قال : خلق الله كل شيء من الماء قال : فأنبئني بعمل إن أحدث به دخلت الجنة ؟ قال : أفش السلام و أطب الكلام و صل الأرحام و صل بالليل و الناس نيام ثم ادخل الجنة بسلام

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو رجاء نے ان کو ہمام نے ان کو ابو قتادہ نے ان کو ابومیمونہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم کے پاس آئے اور عرض کی یا رسول اللہ میں جب آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل خوش ہو جا تا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں لہذا آپ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتائیں گے جو بھی چیز اللہ نے پیدا کی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے کہ اگرمیں اس کو کروں تو اس کے ذریعہ جنت میں چلا جاؤں؟ آپ نے فرمایا سلام کو عام کرو ۔ اور کلام پاکیزہ کرو۔ اور رشتوں کو جوڑ کر رکھو ۔ اور رات کو نماز پڑھولوگ جب سور ہے ہوں اس کے بعد جنت میں سلامتی کے ساتھ جاؤ۔

فأنبئني بعمل إن أحدث به دخلت الجنة ← خلق الله كل شيء من الماء ← كل شيء خلق الله ← يا نبي الله إذا رأيتك طابت نفسي و قرت عيني فأنبئني ← أبي هريرة أنه أتى نبي الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي مَيْمُونَةَ2 ← أَبِي قَتَادَةَ، ← هَمَّامٌ، ← رجا ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8051

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8052

8052 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا قالا : نا عبد الله بن إسحاق بن الخراساني نا عبد الملك بن محمد الرقاشي نا أبو حفص عمر بن عامر التمار نا عبيد الله بن الحسن القاضي نا الجريري عن أبي عثمان النهدي قال : سمعت عمر بن الخطاب يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا التقى المسلمان فسلم كل منهما على صاحبه و تصافحا كان أحبهما إلى الله تعالى أحسنهما بشرا لصاحبه و نزلت بينها مائة رحمة للبادي تسعون و للمصافح عشر لفظ حديث أبي زكريا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابوز کریا نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے عبداللہ بن اسحاق بن خراسانی نے ان کو عبدالملک بن محمد رقاشی نے ان کو ابو حفص عمر بن عامر تمام نے ان کو عبید اللہ بن حسن قاضی نے ان کو جر یری نے ان کو ابوعثمان مہدی نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عمر بن خطاب سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان باہم ملاقات کرتے ہیں اور ہر ایک دونوں میں سے دوسرے پر سلام کرتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے تو دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے ساتھی کے لئے زیاد وا چھے اور خوش چہرے کے ساتھ ملتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک سورحمت نازل ہوئی ہے پہل کرنے والے کوننانوے اور مصافحہ کرنے والے کو دس ملتی ہیں ۔ یہ ا بوز کر یا کی حدیث کے الفاظ ہیں۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّه بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ← أبو حفص عمر بن عامر التمار ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← عبد الله بن إسحاق بن الخراساني ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8052

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8053

8053 - أخبرنا أبو عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا يحيى بن أبي طالب عن عبد الوهاب بن عطاء أنا سعيد عن قتادة عن الحسن : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من الصدقة أن تسلم على الناس و أنت منطلق الوجه و عن عبد الوهاب نا سعيد عن عبيد الله بن رزيق أو زريق عن الحسن أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من الصدقة أن تسلم على الناس و أنت طلق الوجه هكذا جاء مرسلا

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے عبدالوہاب بن عطاء سے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے ان کو حسن نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک صدقہ میں سے ہے کہ آپ لوگوں پر سلام کر یں اور آپ کا چہرہ چمک رہا ہو۔ اور روایت ہے عبدالوہاب سے اس کو خبر دی سعید نے ان کو عبید اللہ بن رزیق نے ان کو حسن نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ میں سے ہے کہ تو لوگوں پر سلام کرے اور تو چمکتے چہرے والا ہو۔اسی طرح یہ مرسل آئی ہے۔

الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أبو عبد الله بن يوسف

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8053

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8054

8054 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ أنا الفضل بن الحباب نا محمد بن كثير نا سفيان الثوري عن أبي عباد بن سعيد عن أبيه عن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا سليمان بن أحمد الطبراني نا معاذ بن المثنى و محمد بن محمد التمار قالا : نا ابن كثير نا سفيان عن أبي عباد عن سعيد المقبري عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إنكم لا تسعون الناس بأموالكم و لكن يسعهم منكم بسط الوجه و حسن الخلق تفرد به أبو عباد عبد الله بن سعيد عن أبيه عن عبد الله بن إدريس الأزدي عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و روي من وجه آخر ضعيف عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة مرفوعا أخبرناه أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا ابن أبي الدنيا حدثني محمد بن عبد الحميد العبدي بمكة نا بشر بن محمد الرازي نا عبد الله بن المغيرة عن هشام فذكره غير أنه قال : طلاقة الوجه و حسن البشر

ہمیں خبر دی ابوسعید مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو فضل بن حباب نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابوعباس بن سعید نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوسعید مقبری نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ اور ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو سلیمان بن احمد طبرانی نے ان کو معاذ بن مثنی نے اور محمد بن محمد تمار نے دونوں نے کہا ان کو ابن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو ابوعباد نے انکوسعید مقبری نے ان کو ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم لوگ اپنے مالوں کے ساتھ لوگوں کے لئے گنجائش نہیں رکھتے ہو ( یعنی سب کی سب ضرورتیں پوری نہیں کر سکتے ہو )لیکن تمہاری فرانی چہرہ اور حسن خلق ان کے لئے پورا ہوسکتا ہے ۔ (یعنی یہ چیز سب کو پوری ہوسکتی ہے ظاہر ہے انسان سب کو مال تو نہیں دے سکتالیکن اخلاق سب کو دے سکتا ہے۔ متفرد ہے ان کے ساتھ ابوعبادعبداللہ بن سعید اپنے والد سے اور روایت کی گئی ہے عبداللہ بن ادریس از دی سے اس نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسرے ایک ضعیف طریق ہشام بن عروہ اس نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بطور مرفوع روایت مروی ہے اور ہمیں اس کی خبر دی ہے ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابن ابی الدنیا نے ان کو حدیث بیان کی ہے محمد بن عبدالحمید عبدی نے مکہ میں ان کو بشر بن محمد رازی نے ان کو عبداللہ بن مغیرہ نے ان کو ہشام نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے سوائے اس کے کہ اس نے کہا ہے۔ طلاقة الوجه وحسن البشر چمکتا چہرہ اور جلد کی خوبصورتی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبِي عَبَّادٍ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ کَثِيرٍ ← معاذ بن المثنى و محمد بن محمد التمار ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبِيهِ ← أبي عباد بن سعيد ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8054

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8055

8055 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو سعيد الحارثي عن معاذ بن هشام نا أبي عن قتادة عن مورق العجلي : أن نبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله تعالى يحب السهل الطليق

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابوسعید حارثی نے ان کو معاذ بن ہشام نے ان کو ان کے والد نے ان کو قتادہ نے ان کومورق عجلی نے یہ کہاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بے شک اللہ تعالی ٰپسندفرماتا ہے نرم خو بے تکلف ہنس مکھ کو ۔

إن الله تعالى يحب السهل الطليق ← مورق العجلي أن نبي صلى الله عليه و سلم ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو سَعِيدٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8055

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8056

8056 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن جويبر عن محمد بن واسع عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يحب السهل الطليق

اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابومعاویہ نے ان کو جويبر نے ان کو محمد بن واسع نے ان کوا بوصالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں نرم خوہنس مکھ کو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← جُوَيْبِرٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8056

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8057

8057 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف نا أبو حفص الجمحي نا علي بن عبد العزيز نا سعيد بن يعقوب الطالقاني نا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه قال : مكتوب في الحكمة فليكن وجهك بسطا وكلمتك طيبة تكن أحب إلى الناس من الذي يعطهم العطاء

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو حفص جمحی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو سعید بن یعقوب طالقانی نے ان کو وکیع نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے کہا کہ حکمت کی باتوں میں یہ لکھا ہوا ہے ۔ کہ تیرا چہرہ کشادہ ہونا چاہئے ۔(یعنی ، ہنستا مسکراتا) اور تیرا کلام پاکیزہ ہونا چاہئے (نرم گفتگو ) لہذا تو لوگوں کو اس شخص سے بھی زیادہ محبوب ہوگا جوان کو عطیہ عنایت کرتا ہو۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعٌ، ← سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو حفص الجمحي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8057

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8058

8058 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن عمرويه العبد الدليل بمرو نا أحمد بن الصلت الحماني نا ثابت الزاهد قال : سمعت سفيان الثوري يقول : سمعت علي بن الحسن يقول : قد استرقك بالود من سبقك إلى البشر

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابواسحٰق ابراہیم بن محمد بن عمر و یہ عبدالدلیل نے مرو میں ان کو احمد بن صلت حمانی نے ان کو ثابت زاہد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان ثوری سے وہ کہتے ہیں میں نے سنامنصور سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناعلی بن حسن سے وہ کہتے ہیں کہ جس نے تم سے مسکراہٹ کی طرف سبقت کر لی اس نے تم سے محبت میں بلندی حاصل کر لی۔

قد استرقك بالود من سبقك إلى البشر ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← ثابت الزاهد ← أحمد بن الصلت الحماني ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن عمرويه العبد الدليل بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8058

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8059

8059 - أخبرنا أبو القاسم طلحة بن علي بن الصقر ببغداد نا أبو الحسن شكر بن عبد الله المصيصي نا النعمان بن هارون البلدي حدثني العباس بن عبد الله حدثني أبو عبيط الواسطي عن ابن المبارك عن الأوزاعي عن هشام عن بلال بن سعد قال : من سبقك إلى الود فقد إسترقك بالشكر 8059 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : أنا أبو الحسن الطرائفي يقول : سمعت شكر الهروي يقول : سمعت محمد بن محمد بن مردويه يقول : سمعت بشر بن عبيد يقول : سمعت عبد الله بن المغيرة عن حميد الطويل قال : قال ابن عمر : البر شيء هين وجه طليق و كلام لين

ہمیں خبر دی ابوالقاسم طلحہ بن علی بن صقر نے بغداد میں ان کو ابوالحسن شکر بن عبداللہ مصیصی نے ان کو نعمان بن ہارون بلدی نے ان کو حدیث بیان کی عباس بن عبداللہ نے ان کو حدیث بیان کی ابوعبیط واسطی نے ان کو ابن مبارک نے ان کو اوزاعی نے ان کو ہشام نے ان کو بلال بن سعد نے وہ کہتے ہیں جو شخص تم سے سبقت کر لے محبت کی طرف اس نے تم سے شکر کرنے میں بلندی حاصل کر لی ۔ مکرر ہے ۔ میں نے سنا ابوعبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں ان کو ابوالحسن طرائفی نے وہ کہتے ہیں میں نے سناشکر ہروی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا محمد بن محمد مردو یہ سے وہ کہتے ہیں میں نے سنابشر بن عبید سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن مغیرہ سے اس نے حمید طویل سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا نیکی ایک آسان چیز ہے۔ مسکراتا چہرہ اور نرم طرز کلام ۔

ابن عمر البر شيء هين وجه طليق و كلام لين ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بِشْرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← محمد بن محمد بن مردويه ← شكر الهروي ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبا عبد الرحمن السلمي ← «مَنْ سَبَقَكَ إِلَى الْوُدِّ، فَقَدِ اسْتَرَقَّكَ بِالشُّكْرِ» ← بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← هِشَامٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أبو عبيط الواسطي ← الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← النعمان بن هارون البلدي ← أبو الحسن شكر بن عبد الله المصيصي ← أبو القاسم طلحة بن علي بن الصقر ببغداد

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8059

chevron_left Previous
1…678…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood