Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8036

8036 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ أنا محمد بن أبي سويد و نا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز قالا : نا شيبان نا عيسى بن ميمون عن محمد بن كعب و قال ابن عبد العزيز سمعت محمد بن كعب القرظي عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : حسن الخلق يذيب الخطايا كما تذيب الشمس الجليد زاد ابن عبد العزيز : و إن الخلق السيء يفسد العمل كما يفسد الخل العسل تفرد به عيسى بن ميمون عن محمد بن كعب و كان ضعيفا وروي من وجه أخر ضعيف عن أبي هريرة أخبرناه أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أسلم بن سهل محشل نا حسين بن سلمة بن أبي كبشة نا يعقوب بن إسحاق الحضرمي نا النضر بن معبد الجرمي عن ابن سيرين عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أحسن الخلق يذيب الخطيئة كما تذيب الشمس الجليد و إن سوء الخلق يفسد العمل كمال يفسد الصبر العسل تفرد به النضر بن معبد أبو قحدم و هو ضعيف

ہمیں خبر دی ابوسعید مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو محمد بن ابوسوئد نے اور ان کو خبر دی عبداللہ بن محمد بن عبد العزیز نے دونوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے شیبان نے ان کو عیسیٰ بن میمون نے ان کو محمد بن کعب بن کعب نے اور کہا ہے ابن عبد العزیز نے کہ میں نے سنا محمد بن کعب قرظی سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا حسن خلق گناہوں کو ایسے پگھلاتا جیسے سورج برف کو۔ ابن عبدالعزیز نے یہ الفاظ زیادہ کئے ہیں ۔ بے شک برے اخلاق عمل کو ایسے خراب کر دیتے ہیں جیسے سر کہ شہد کو اس کی ساتھ عیسیٰ بن میمون متفرد ہے محمد بن کعب سے اور وہ ضعیف تھا اور دوسرے طریق سے ابو ہریرہ سے مروی ہے اور وہ طریق ضعیف ہے اور ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو لحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو اسلم بن سہل محشل نے ان کو حسن بن سلمہ بن ابو کبشہ نے ان کو یعقوب بن اسحٰق حضرمی نے ان کو نضر بن محمد جرمی نے ان کو ابن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک حسن خلق گناہ کوایسے پگھلاتا ہے جیسے جیسے سورج برف کو اور بے شک بدخلق عمل کو ایسے خراب کرتا ہے جیسے مصبر (ایلوا) شہد کو ۔نضر بن معبد ابوفحدم اس کے ساتھ متفرد ہے اور وہ ضعیف ہے۔

حسن الخلق يذيب الخطايا كما تذيب الشمس الجليد زاد ابن عبد العزيز و ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← ابن عبد العزيز ← محمد بن كعب و ← عِيسَى بْنُ مَيْمُونَ، ← شَيْبَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← محمد بن أبي سويد و ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8036

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8037

8037 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر أحمد بن سعيد بن فرضخ الأخنسي بمكة نا أبو حاتم عقبة بن محمد بن حبيب البلخي الزاهد نا ابن أبي ثميلة المروزي ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا الزبير بن عبد الواحد الحافظ الأسد أباذي و نا أبو سعيد محمد بن القاسم بن حامد الفريابي نا محمد بن حمدان بن نا ابن أبي ثمليلة نا الفضل بن موسى الشيباني عن سفيان بن سعيد الثوري عن سعيد بن أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه عن جده أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حسن الخلق زمام من رحمة الله في أنف صاحبه و الزمام بيد الملك و الملك يجره إلى الخير و الخير يجره إلى الجنة و سوء الخلق زمام من عذاب الله في أنف صاحبه و الزمام بيد الشيطان و الشيطان يجره إلى الشر و الشر يجره إلى النار و في رواية ابن يوسف من غضب الله بدل قوله من عذاب الله و الباقي سواء و رواية ابن يوسف عالية ورواية شيخنا وقعت نازلة و روي ذلك من وجه آخر ضعيف عن الفضل بن موسى كما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد صالح بن داود الترمذي بمكة نا محمد بن المكي الترمذي نا أبو شعيب صالح بن كامل نا محمد بن عبد ربه نا الفضل بن موسى فذكره بإسناده و معناه و كلا الإسنادين ضعيف و رواه شيخ من أهل نيسابور يقال له محمد بن حامد بن محمد بن إبراهيم أبو بكر الحيري عن محمد بن يحيى الذهلي عن أبي نعيم عن سفيان الثوري بإسناده مثله و هو فيما أنبأني أبو عبد الله الحافظ إجازة نا أبو سعيد بن أبي بكر بن أبي عثمان نا محمد بن حامد نا محمد بن يحيى الذهلي نا أبو نعيم نا سفيان فذكره و هذا و هم من هذا الشيخ و ليس له من هذا الوجه أصل و الله أعلم

اور ہمیں خبر دی ہے ابومحمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوبکر احمد بن سعید بن فرضح اخمینی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو حاتم عقبہ بن محمد بن حبیب بلخی زاہد نے ان کو این ثمیلہ مروزی نے ” ح ‘‘اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو زبیر بن عبدالواحد حافظ اسد آبادی نے ان کو ابو سعید محمد بن قاسم بن حامد فریابی نے ان کو محمد بن حمدان نے ان کو ابن ابو ثمیلہ نے ان کوفضل بن موسیٰ شیبانی نے ان کو سفیان بن سعید ثوری نے اس کو سعید بن ابو بردہ بن ابوموسیٰ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو ابوموسیٰ اشعری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن خلق مہار ہے اللہ کی رحمت سے صاحب خلق کی ناک میں ۔ اور وہ مہارا یک فرشتے کے ہاتھ میں ہے اور فرشتہ اس شخص کو خیر کی طرف کھینچتا ہے اور خیر اس کو جنت کی طرف کھینچتی ہے اور بدخلقی مہار ہے عذاب الہیٰ سے بدخلقی والے کی ناک میں اور وہ مہار شیطان کے ہاتھ میں ہے اور شیطان اس کو کھینچتا ہے شر اور برائی کی طرف اور شرو برائی اس کو کھینچتی ہے جہنم کی طرف اورابن یوسف کی ایک روایت میں ہے ۔من غضب اللہ ، عذاب اللہ کی جگہ اور باقی برابر ہے اور روایت ابو یوسف عالی ہے ۔ اور ہمارے شیخ کی روایت غیر عالی واقع ہوئی ہے۔ اور یہ روایت ایک اور دوسری ضعیف وجہ سے بھی مروی ہے فضل بن موسیٰ ہے ۔ جیسے ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابومحمد صالح بن محمد بن داؤ وتر مذی نے مکہ مکرمہ میں ان کو محمد بن مکی ترمذی نے ان کو خبر دی ابوشعیب صالح بن کامل نے ان کو محمد بن عبدربہ نے ان کوفضل بن موسیٰ نے اس نے ذکر کیا ہے اس کو اپنی اسناد کے ساتھ اور اس کے مفہوم میں ۔مگر دونوں اسناد میں ضعیف ہیں اور اس کو روایت کیا ہے ایک شیخ نے اہل نیسا پور سے کہا جاتا ہے ان سے محمد بن حامد بن محمد بن ابراہیم ابوبکر حیری نے ان کومحمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو ابو نعیم نے ان کو سفیان ثوری نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل وہ اس میں جو مجھے خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے بطور اجازت کے ان کو خبر دی ہے ابوسعید بن ابی بکر بن ابی عثمان نے ان کومحمد بن حامد نے ان کوثد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو ابو نعیم نے ان کو سفیان نے پھر اس نے اسی کوذکر کیا ہے اور یہ دہم ہے اس شیخ سے اور اس روایت کی اس طریق سے کوئی اصل نہیں ہے ۔

جده أبي موسى الأشعري ← أَبِيهِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى الشَّيْبَانِيُّ، ← ابن أبي ثمليلة ← محمد بن حمدان بن ← أبو سعيد محمد بن القاسم بن حامد الفريابي ← الزبير بن عبد الواحد الحافظ الأسد أباذي و ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← ابن أبي ثميلة المروزي ← أبو حاتم عقبة بن محمد بن حبيب البلخي الزاهد ← أبو بكر أحمد بن سعيد بن فرضخ الأخنسي بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8037

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8038

8038 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق تا عبدان الجواليقي نا هشام بن عمار نا عبد الله بن يزيد البكري نا أبو غسان المسمعي قال : سمعت داود بن فراهيج يقول : سمعت أبا هريرة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا و الله ما حسن خلق رجل و خلقه فتطعمه النار و رواه أيضا سوار بن عمارة عن أبي غسان محمد بن مطرف

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو عبدان جوالہقی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو عبد اللہ بن یزید بکری نے ان کو ابوغسان مسمعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا داؤد بن فراھیج سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے نہیں اللہ کی قسم نہیں خوبصورت کیا اللہ نے کسی آدمی کے خلق کو اور اس کی صورت کو پس کھائے اس کو آگ (یعنی اس کو آگے نہیں جلائے گی۔) اور اس کو روایت کیا سوار بن عمارہ نے بھی ابوغسان محمد بن مطرف سے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ← أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الحسن بن محمد بن إسحاق تا عبدان الجواليقي ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8038

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8039

8039 - أخبرنا الإمام أبو إسحاق الأسفرايني أنا أبو جعفر محمد بن علي الجوسقاني نا الحسن بن سفيان نا هشام بن عمار نا القاسم بن عبد الله بن عمر : نا محمد بن المنكدر عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سعادة ابن آدم حسن الخلق و من شقوته سوء الخلق

ہمیں خبر دی امام ابواسحٰق اسفرائنی نے ان کو ابوجعفرمحمد بن علی جوسقانی نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو قاسم بن عبد اللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے محمد بن منکدر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ابن آدم کی سعادت میں سے ہے حسن خلق اور اس کی شقاوت و بدقسمتی میں سے بداخلاقی ۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو جعفر محمد بن علي الجوسقاني ← الإمام أبو إسحاق الأسفرايني

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8039

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8040

8040 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف بمكة نا أبو الفضل العباس بن محمد إملاء نا محمد بن عبد الرحمن بن كامل نا أبو عتبة ليث بن هارون العكي نا محمد بن بشر عن مسعر عن شعبة بن الحجاج عن معاوية بن قرة قال : قال عمر رضي الله عنه : ما أفاد أمرء بعد إيمان بالله خيرا من امرأة حسنة الخلق و ما أفاد امرؤ بعد كفر الله شرا من امرأة حديدة اللسان سيئة الخلق

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ محمد بن فضل بن نظيف نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابوالفضل عباس بن محمد نے بطور املاء کے ان کو محمد بن عبد الرحمٰن بن کامل نے ان کو ابوعتبہ لیث بن ہارون مکی نے ان کو محمد بن بشر نے ان کو مسعر نے ان کو شعبہ بن حجاج نے اس کو معاذ بن قرہ نے وہ کہتے ہیں کہا عمر رضی اللہ عنہ نے کہ ایمان باللہ کے بعد کسی آدمی کو کسی خیر کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سوائے نیک اخلاق کے اور نہیں فائدہ دیا کسی آدمی کو کفر باللہ کے بعد کسی شر کا اس عورت سے جو تیز زبان ہو بداخلاق ہو۔

مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← مِسْعَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أبو عتبة ليث بن هارون العكي ← محمد بن عبد الرحمن بن كامل ← أبو الفضل العباس بن محمد إملاء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظَيفٍ بِمَكَّةَ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8040

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8041

8041 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن علي بن الهيثم المقري ببغداد نا معاذ بن المثنى العنبري حدثني أبي عن شعبة عن فراس عن الشعبي عن أبي بردة بن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة يدعون الله فلا يستجيب لهم رجل كان له دين فلم يشهد و رجل أعطى سفيها ماله و قد قال الله عز و جل : { و لا تؤتوا السفهاء أموالكم } و رجل كانت عنده امرأة سيئة الخلق فلم يطلقها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر حمد بن علی بن ہیثم مقری نے بغداد میں ان کو معاذ بن مثنی عنبری نے ان کو حد بیث بیان کی ان کے والد نے شعبہ سے اس نے فراس سے اس نے شعبی سے اس نے ابو بردہ بن ابوموسیٰ سے اس نے ابی موسیٰ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ہیں جواللہ سے دعا کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول نہیں کرتا ایک وہ آدمی جس پر قرض ہے مگر وہ اس کی شہادت نہیں دیتا اقرارنہیں کرتا۔ دوسرادہ آدمی جو کم عقل کو اس کا مال دیتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ولاتؤتوا السفهاء اموالکم. اور تم اپنے مال سے بے عقلوں کو نہ دو۔ تیسراو ہ شخص ہے جس کے پاس بداخلاق عورت ہو اور اس کو طلاق نہیں دیتا۔

أبي بردة بن أبي موسى ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← أبو بكر محمد بن علي بن الهيثم المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8041

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8042

8042 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا موسى بن إسماعيل بن إسحاق القاضي نا محمد بن أحمد بن البراء نا عبد المنعم بن إدريس نا عبد الصمد بن معقل عن أبيه عن وهب بن منبه عن ابن عباس قال : قال موسى عليه السلام : يا رب أمهلت فرعون أربعمائة سنة و هو يقول : أنا ربكم الأعلى و يكذب بآياتك و يجحد رسلك فأوحى الله إليه أنه كان حسن الخلق سهل الحجاب فأحببت أن أكافيه

ہمیں خبر دی ابوعبیداللہ حافظ نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو محمد بن احمد بن براء نے ان کو عبدالمنعم بن اور ادریس نے ان کو عبد الصمد بن معقل نے ان کو ان کے والد نے ان کو وہب بن منبہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے میرے رب۔ آپ نے چار سو سال تک فرعون کو مہلت دے رکھی حالانکہ وہ یہ کہتا تھا کہ میں سب سے بڑا رب ہوں اور تیری آیات کی تکذیب کرتا تھا اور تیرے رسولوں کا انکار کرتا تھا اللہ تعالی ٰنے اس کی طرف وحی کی کہ فرعون کے اخلاق اچھے تھے سہل الحجاب تھایعنی اس کو لوگ آسانی سے مل سکتے تھے لہذا میں نے پسند کیا کہ میں اس کو اسی بات کا بدلہ دے دوں ۔

موسى يا رب أمهلت فرعون أربعمائة سنة و هو ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8042

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8043

8043 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت علي بن حمشاذ يقول : سمعت محمد بن نعيم يقول : سمعت محمد بن شعيب الأسدي يقول : نا علي بن الحسن بن شقيق نا ابن المبارك نا وهيب عن هشام عن الحسن قال : من ساء خلقه عذب نفسه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا علی بن حمشاد سے وہ کہتے تھے میں نے سنامحمد بن نعیم سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا محمد بن شعیب اسدی سے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی علی بن حسن بن شقیق نے ان کو ابن مبارک نے ان کو وہیب نے ان کو ہشام نے حسن سے فرمایا کہ جس شخص کے اخلاق برے ہوں وہ اپنے آپ کو عذاب دیتا ہے۔

من ساء خلقه عذب نفسه ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← وُهَيْبٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← محمد بن شعيب الأسدي ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8043

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8044

8044 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا عثمان بن أحمد بن السماك نا الحسن بن عمرو قال : سمعت بشرا يقول : قال الفضيل لا تخالط إلا حسن الخلق فإنه لا يأتي إلا بخير و لا تخالط سيء الخلق فإنه لا يأتي إلا بشر

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو حسن بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنابشر سے وہ کہتے ہیں کہ کہا فضیل نے تم مت میل جول رکھو سوائے اچھے اخلاق والوں کے بے شک وہ خیر ہی لاتا ہے ۔ اور مت میل جول کر بد اخلاق کے ساتھ کیونکہ و ہ شر اور برائی ہی لاتا ہے۔

بِشْرًا ← الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8044

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8045

8045 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو حامد بن الشرقي نا أبو الأزهر نا علي بن عاصم عن بيان و إسماعيل بن أبي خالد و أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله بن إبراهيم الهاشمي نا عثمان بن أحمد بن السماك نا يحيى بن أبي طالب نا علي بن عاصم أنا بيان بن بشر عن قيس بن أبي حازم عن جرير بن عبد الله قال : ما حجبني رسول الله صلى الله عليه و سلم منذ أسلمت و لا رآني إلا ضحك و في رواية الهاشمي إلا تبسم في وجهي

ہمیں خبر دی ابوالحسن علوی نے ان کو ابوحامد بن شرقی نے ان کو ابوالا زہر نے ان کوعلی بن عاصم نے ان کو بیان نے اور اسماعیل بن ابی خالد نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن عبداللہ بن ابراہیم ہاشمی نے ان کو عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کوعلی بن عاصم نے ان کو بیان بن بشر نے ان کوقیس بن ابی حازم نے ان کو جریر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جب بھی رسول اللہ کودیکھا کہ وہ مجھے مل کر جانے لگے ہوں یا سامنے آ کر انہوں نے مجھے دیکھا ہو ہمیشہ ہنستے مسکراتے دیکھا ہے۔ ہاشمی کی روایت میں ہے مگر میرے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیئے۔

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ← بيان و إسماعيل بن أبي خالد و ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8045

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8046

8046 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان نا محمد بن عبد الله بن نمير نا عبد الله بن إدريس عن إسماعيل عن قيس عن جرير قال : ما حجني رسول الله صلى الله عليه و سلم منذ أسلمت و لا رآني إلا تبسم في وجهي ولقد شكوت إليه أني لا أثبت على الخيل فضرب بيده في صدري و قال : اللهم ثبته و اجعله هاديا مهديا روياه عن محمد بن عبد الله بن نمير و أخرجه البخاري من حديث بيان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی عبداللہ بن اور ادریس نے ان کو اسماعیل نے ان کو قیس نے جریر سے وہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے مل کر جدا ہوئے ہوں یا سامنے آئے ہوں جب سے میں مسلمان ہوا ہوں آپ ہمیشہ میرے سامنے مسکرادیئے ۔البتہ میں نے آپ کی خدمت میں دعا فرمائی ۔ اے اللہ اس کو جمادے اور اس کو ر ہنما بنا اور ہدایت یافتہ بنا۔ دونوں نے اس کو روایت کیا ہے محمد بن عبداللہ بن نمیر سے اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے حدیث بیان سے ۔

جَرِيرٌ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8046

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8047

8047 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو الأسود النضر بن عبد الجبار أنا ابن لهيعة ح و أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا ابن أبي الدنيا نا داود بن عمرو الضبي نا عبد الله بن المبارك عن ابن لهيعة عن عبد الله بن المغيرة عن عبد الله بن الحارث بن جزء قال : ما رأيت أحدا أكثر تبسما من رسول الله صلى الله عليه و سلم و في رواية أبي الأسود عن ابن جزء و الباقي سواء

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابوالاسود نے نضر بن عبدالجبار سے ان کو ابن لہیعہ نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابن ابی الدنیا نے ان کو داؤد بن عمرضبی نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو عبداللہ بن مغیرہ نے ان کوعبداللہ بن حارث بن جزع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھ کر مسکرانے والا کسی ایک کو بھی نہیں دیکھا۔ اور ابوالاسود کی ایک روایت میں ہے ابن جزء سے اور باقی برابر ہے۔

عبد الله بن الحارث بن جزء ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← اَبُو الْاَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8047

chevron_left Previous
1…567…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood