Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8469

8469 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا أحمد الحسين بن علي بن محمد بن يحيى يقول سمعت أبي يقول : كان أبو عثمان يميل إلى الأثواب الفاخرة فانصرف ابنه أبو بكر من العراق سنة من السنين و قد سوى له دست ثياب من أحسن ما قدر عليه و سأله أن يلبسه يوم مجلسه ففعل ذلك أبو عثمان فقام في آخر مجلسه سائل فسأل فظبره الناس و قالوا له اجلس حتى يفرغ من الدعاء فأقبل السائل على أبي عثمان و قال أيها اللص القاطع المرائي تلبس مثل هذه الأثواب و تأوى إلى سكن وكفاية و أنت تنظر إلى فقرنا و ضعفنا قال : فمد أبو عثمان يده إلى عمامته و نزعها عن رأسه ثم رمى بها إليه ثم مد يده إلى ردائه فدفعه إليه و نزع الدراعة فدفعها إليه ثم قال : لأهل المجلس سألتكم بحرمة الإسلام أن تحسنوا إلى هذا الرجل بكل ما أمكنكم قال فاجتمع بين يديه من الأثواب و الخواتيم و الخلاخل و الدنانير و الدراهم شيء كثير ثم قال الرجل يا هذا إن كنت أنا كما ذكرته فإني أسأل الرب أن يغفر لي و يتوب علي و إن لم أكن كذلك فإني أسأله أن يتوب عليك و قد نويت إن شفعني في غيري أن أشفع لك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو احمد حسین بن علی بن محمد بن یحییٰ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ ابوعثمان قیمتی لباس استعمال کرتے تھے۔ ان کا بیٹا ابو بکر کسی سال اعراق سے لوٹے تو والد کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق خوبصورت کپڑا تیار کئے اور کہا کہ آپ جس دن اپنی محفل بر پا کرتے ہیں اس دن پہنا کر یں ابوعثمان نے بھنی ایسے ہی کیا ۔مگران کی مجلس کے آخر سے ایک سائل اٹھ کھڑ اہوا اس نے سوال کیا مگر لوگوں نے اسے ڈانٹ بیٹھا دیا کہ حضرت دعا سے فارغ ہو جائیں پھر سوال کرتا لہذا سائل ابوعثمان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا اے جوڈا کور یا کارتم ایسے ایسے کپڑے پہنتے ہو ، اور سکون کی جگہ رہتے ہو اور کفایت کی جگہ ( جہاں ساری ضرورتیں پوری ہوں ۔ ) حالانکہ آپ ہمارے فقر کو اور ہمارے ضعف کو جانتے ہو۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابوعثمان نے اپنا ہاتھ اپنی پگڑی کی طرف بڑھایا اور اپنے سر کے اوپر سے پگڑی کھینچ لی اور اس کو سائل کی طرف پھینک دیا اس کے بعد انہوں نے اپنی اوپر اوڑھنے والی چادر کھینچ لی اور وہ بھی اس کو دے دی اور میں بھی اتار کر اس کو دے دی اس کے بعد انہوں نے اہل مجلس سے کہا میں تم لوگوں سے اسلام کی عزت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم لوگ بھی اس آدمی کے ساتھ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اور بساط کے مطابق احسان اور نیکی کرولہذا اس بندے کے سامنے بہت سے کپڑے اور انگوٹھیاں اور پاز یبیں اور دینار اور دراہم اور دیگر بہت ہی اشیاء جمع ہوگئیں ، اس کے بعد ابوعثمان نے اس آدمی سے کہا کہ اگر میں ایسا ہوں جیسا کہ تم نے کہا ہے تو میں رب سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے اور میری توبہ قبول کر لے اور اگر میں ایسا نہیں ہوں تو میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے معاف کر دے تیری تو بہ قبول کرے میں نےیہ ا رادہ کیا ہے کہ تم میری شفاعت کر نا رب کے آگے میں نے اس لئے لوگوں کے آگے سفارش کی ہے۔

أَبِي ← أبا أحمد الحسين بن علي بن محمد بن يحيى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8469

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8470

8470 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين علي بن محمد بن أحمد المصري نا مالك أبو غسان ثنا أبو عثمان نا علي بن عاصم عن بهز بن حكيم عن أبيه حدثني عمي قال : لجأ أهل بيت إلي فكانوا في جواري فخرجت لبعض شأني قال : فمرت خيل لرسول الله صلى الله عليه و سلم : فاجتاحتهم فلما قدمت الماء قلت ما فعل جيراني ؟ قالوا مرت عليهم خيل محمد فاجتاحتهم فخرجت كما أنا حتى قدمت عليه المدينة فإذا حوله ناس من أصحابه فقمت إليه فقلت يا محمد خل لي عن جيراني قال : يا أبا فلان الحق الذي جعل الله فيهم للمسلمين قلت يا محمد خل لي عن جيراني قال : يا أبا فلان الحق الذي جعل الله فيهم للمسلمين قلت يا محمد أتنهى عن الشر وتستخلي به قال : ذاك ويحك أشد علي خلوا له عن جيرانه قال الإمام أحمد رحمه الله : ويحتمل أنه استطاب قلوب من يخونه وعوض عن الخمس أهله ورده واحتمل عنه ما قال فيه حلما منه صلى الله عليه و سلم و كأنه كان يرجو إسلامه والله أعلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسین علی بن محمد احمد مصری نے ان کو مالک ابی غسان نے ان کو ابوعثمان نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو بہتر بن حکیم نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بات بیان کی ہے میرے چچانے وہ کہتے ہیں کہ ایک گھرانے والوں نے میری پناہ پکڑی اور وہ لوگ میرے پڑوس میں رہتے تھے میں اپنے کسی کام سے چلا گیا تھا بہز کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھڑ سواروں کی جماعت گذری ، جوان لوگوں کو پکڑ کر لے گئی۔ میں جب پانی کے مقام پر پہنچا تو میں نے پوچھا کیا کیا ہے میرے پڑوسیوں نے؟ یعنی ان کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے مجھے بتایا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی گھڑ سوار جماعت ان پر گذری اور وہ لوگ ان کو پکڑ کر لے گئے ہیں۔ کہتے کہ میں جیسے اور جس حال میں تھا سید ھامد ینے گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ ان کے اردگردان کے اصحاب میں سے کئی لوگ بیٹھے ہوئے تھے میں سیدھا حضور کے پاس جا کر کھڑا ہوا اور میں نے کہا اے محمد میرے پڑوسیوں کو چھوڑ دیجئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوفلاں! اللہ نے ان میں سے جوق مسلمانوں کا بنایا ہے وہ دے دیجئے۔ میں نے پھر کہا اے محمد نہیں بس میرے لئے میرے پڑوسیوں کو چھوڑ دیجئے آپ نے فرمایا اے ابوفلاں ان میں سے اللہ نے جومسلمانوں کا حق بنایا ہے وہ اس کو دے دیجئے ۔ میں نے کہا اے محمد آپ برائی کرنے سے روکتے ہیں اور علیحد گی میں آپ خود بھی کرتے ہیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہلاک ہو جائےیہ بات میرے خلاف بہت زیادہ سخت آپ نے کہی ہے۔ چلو بھائی اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو امام احمد نے فرمایا احتمال ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دلوں کو پاک سمجھا ہواورخمس کے مال میں سے ان لوگوں کا معاوضہ خود بیت المال کو ادا کر دیا ہو اوران کو واپس لوٹا دیا ہو۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ جو کچھ آپ نے فرمایا محض آپ کی طرف سے حلم و بردباری ہو گویا کہ آپ اس شخص کے مسلمان ہو جانے کی توقع کرتے تھے ۔واللہ اعلم ۔

عَمِّي، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← أَبُو عُثْمَانَ ← مالك أبو غسان ← أبو الحسين علي بن محمد بن أحمد المصري ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8470

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8471

8471 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا علي بن عاصم : فذكر مثل رواية ابن بشران الذي قبله و قال في آخره قال النبي صلى الله عليه و سلم ويحك أشد علي إن كنت كما تقول خلوا له عن جيرانه

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کوعلی بن عاصم نے پس اس نے ذکر کیا مثل روایت ابن بشر ان کے جو پہلے گذری ہے ۔ اور اس نے کہا اس کے آخر میں کہ کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے افسوس ہے تجھ پر ۔اگر میں ایسا ہوں جیسے تم کہتے ہوتو اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دیا جائے ۔

فِي آخِرِهِ ← علي بن عاصم فذكر مثل رواية ابن بشران الذي قبله و ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8471

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8472

8472 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن يعقوب إملاء نا حامد بن أبي حامد المقري نا إسحاق بن سليمان الرازي قال : سمعت مالك بن أنس يخبرنا عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن ابن مالك قال : كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و عليه برد نجراني غليظ الحاشية فأدركه أعرابي فجبذه من خلفه جبذة حتى رأيت صفحة عنق رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أثرت به حاشية البرد منشدة جبذته فقال يا محمد أعطني من مال الله الذي عندك فالتفت إليه النبي صلى الله عليه و سلم فضحك ثم أمر له بعطاء رواه مسلم عن عمرو بن الناقد عن إسحاق بن سليمان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے بطور املاء کے ان کو حامد بن ابوحامد مقری نے ان کو اسحاق بن سلیمان رازی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناما لک بن انس سے وہ ہمیں خبر دیتے ہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے اس نے ابن مالک سے وہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہاتھا اور ان کے اوپر نجرانی چادرتھی موٹے باڈروالی ایک دیہاتی نے آپ کو راستے میں پالیا اس نے پیچھے سے آ کر اس چادر کو اس قد رزور سے کھینچا کہ آپ کی گردن کا ایک حصہ مجھے کھل کر نظر آ گیا جس سے میں نے واضح طور پر اس کے زور کے ساتھ کھینچنے کا نشان پالیا۔اتنے میں وہ دیہاتی کہنے لگا اے محمد مجھے اللہ کے اس مال میں سے دیجئے جو آپ کے پاس ہے حضور اس کی طرف متوجہ ہوئے اور ہنس دیئے اس کے بعد اس کو مال دینے کا حکم دے دیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے عمرو بن ناقد سے اس نے اسحاق بن سلیمان سے ۔

ابْنِ مَالِكٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مالك بن أنس يخبرنا ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8472

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8473

8473 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا هارون بن عبد الله ثنا أبو عام نا محمد بن هلال سمع أباه يحدث قال : قال أبو هريرة و هو يحدثنا : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجلس معنا في المجلس يحدثنا فإذا قام قمنا حتى نراه قد دخل بعض بيوت أزواجه فحدثنا يوما فقمنا حين قام فنظر أعرابي قد أدركه فحبذ بردائه فحمر رقبته قال أبو هريرة : وكان رداء خشنا فالتفت فقال الأعرابي احملني على بعيري هذين فإنك لا تحملني من مالك و من مال أبيك فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا و استغفر الله لا و استغفر الله لا و استغفر الله لا أحملك حتى تفتدى من جبذني الذي جبذتني و كل ذلك يقول له الأعرابي والله لا أفتديكها فذكر الحديث ثم دعا رجلا فقال له احمل له بعيريه هذين على بعير شعيرا وعلى الآخر تمرا ثم التفت إلينا فقال انصرفوا على بركة الله

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ہارون بن عبداللہ نے ان کو ابو عامر نے ان کومحمد بن ہلال نے اس نے سنا اپنے والد سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں کہا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے اور وہ ہمیں حدیث بیان کر رہے تھے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ مجلس میں بیٹھتے تھے اور ہمیں باتیں سناتے تھے جب حضور اٹھتے تھے تو ہم لوگ بھی اٹھ جاتے تھے ہم آپ کو دیکھتے رہتے تھے یہاں تک آپ اپنی بعض بیویوں کے گھر میں چلے جاتے تھے ۔ایک دن آپ نے ہمیں حدیث بیان کی اور ہم کھڑے ہو گئے ۔ جب حضور کھڑے ہوئے اور آپ نے کہا ایک دیہاتی آپ کے پاس پہنچ گیا ہے اس نے زور سے آپ کی چادرکھینچی جس سے آپ کی گردن سرخ ہوگئی ۔ پس کہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ آپ کی چادر کھر دری تھی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو دیہاتی نے اس سے کہاان دواونٹوں میں سے ایک مجھے دے دیجئے اور آپ نہ تو مجھے اپنے مال میں سے دیں گے اور نہ ہی اپنے باپ کے مال میں سے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں نہیں بلکہ میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں نہیں بلکہ میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں میں تجھے اس پر سوار نہیں کروں گا یہاں تک کہ تو مجھے اس کھینچنے کا بدلہ دے جو آپ نے مجھے جھٹکا دیا ہے ۔ اور وہ دیہاتی ہر بار آپ سے کہتا رہا اللہ کی قسم میں آپ کو اس کا بدلہ نہیں دوں گا ۔ راوی نے حدیث کو ذکر کیا۔ کہ اس کے بعد حضور نے ایک آدمی کو بلا کر کہا کہ اس کو دونوں اونٹ دیجئے ایک اونٹ سے لا دیجئے اور دوسرا کھجوروں سے اس کے بعد ہماری طرف توجہ ہوئے اور فر مایا اللہ کی برکت کے ساتھ واپس لوٹ جاؤ۔

أَبَاهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ ← أبو عام ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8473

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8474

8474 - أخبرنا أبو بكر بن الحسن و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا العباس بن محمد الدوري نا خالد بن مخلد نا محمد بن هلال عن أبيه عن أبي هريرة : فذكره بمعناه و حديث أبو عامر أتم

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حسن اور محمد بن موسی ٰنے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو عباد بن محمد دوری نے ان کو خالد بن مخلد نے ان کومحمد بن ہلال نے اپنے والد سے اس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی نے اس کو ذکر کیا ہے مذکورہ حدیث کے مفہوم میں اور ابو عامر کی حد بیٹ زیادہ مکمل ہے۔

أبي هريرة فذكره بمعناه و حديث أبو عامر أتم ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر بن الحسن و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8474

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8475

8475 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو الفتح يوسف بن عمرو بن مسرور نا عبيد الله بن لولو يقول أخبرني محمد بن سوار أخبرني مالك بن دينار و معروف بن علي عن الحسن عن محارب بن دثار عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لما نزلت سورة براءة قال : بعثت بمداراة الناس قال سهل : فمن خالطهم داراهم و لم يمارهم فإن مداراتهم صدقة ومداراة الوالد فريضة ومداراة ذوي الأرحام سنة ومداراة السلطان طاعة ومداراة أهل البدع مداهنة ومداراة الأحمق شرف و الشرف التغافل والسلامة للجميع ( التقرب لله ) عز و جل هذا من قول سهل عبد الله التستري و أما الحديث فإنه غريب بهذا الإسناد و قد رويناه من وجه آخر عن جابر و في كلا الإسنادين ضعف

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابوالفتح یوسف بن عمرو بن مسرور نے ان کو عبید اللہ بن لولو نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے محمد بن سوار نے ۔ ان کو خبر دی مالک بن دینار نے اور معرور بن علی نے حسن سے اس نے محارب بن دثار سے اس نے جابر بن عبد اللہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب سورۃ براۃ نازل ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں کی مدارا ۃ ( خاطر کرنا ) کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔ کہا سہل نے کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ میل جول اچھے اخلاق رکھتا ہے اور ان کے ساتھ جھگڑ انہیں کرتاوہ ان سے خاطر مدارا ۃ کرتا ہے۔ بے شک لوگوں سے خاطر مداراۃ کر نامداہنت ہے اور احمق کی مداراۃ کرنا شرف ہے۔ اور شرف غفلت کرنا ہے اس سے ۔اور سب کے لئے سلامتی ہے اللہ کا تقرب حاصل کرنا ہے ۔ یہ الفاظ قول ہے سہل بن عبداللہ تستری کا اور بہر حال باقی رہی حدیث تو وہ اس اسناد کے ساتھ غریب ہے ۔اور ہم نے اس کو ایک اور طریق سے روایت کیا ہے جابر سے اور دونوں اسنادوں میں ضعف ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← الْحَسَنِ، ← مالك بن دينار و معروف بن علي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ، ← عبيد الله بن لولو ← أبو الفتح يوسف بن عمرو بن مسرور ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8475

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8476

8476 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا محمد بن أحمد بن حماد القرشي نا أحمد بن علي النحوي نا علي بن عبيد الأسدي حدثني محمد بن إبراهيم بن أبي ثابت نا يعقوب بن السكيت قال : قال محمد بن السماك : من عرف الناس داراهم ومن جهلهم ما رآهم و رأس المداراة ترك المماراة

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحٰق نے ان کواحمد بن احمد بن حماد قرشی نے ان کو احمد بن علی نحوی نے ان کو علی بن محمد بن عبیداسدی نے ان کومحمد بن ابراہیم بن ابی ثابت نے ان کو یعقوب بن سکیت نے وہ کہتے ہیں کہ کہا محمد بن سماک نے جوشخص لوگوں کو پہچانتا ہے ان کی عزت ومداراۃ کرتا ہے اور جوان سے بے خبر ہوتا ہے ان سے جھگڑ تا ہے اور مداراۃ اور عزت افزائی کی اصل جھگڑ اترک کر دیتا ہے۔

يعقوب بن السكيت ← محمد بن إبراهيم بن أبي ثابت ← علي بن عبيد الأسدي ← أحمد بن علي النحوي ← محمد بن أحمد بن حماد القرشي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8476

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8477

8477 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي نا عبد الصمد بن الفضل نا إبراهيم بن سليمان عن سفيان عن العلاء بن خالد قال : سمعت أبا وائل يقول سمعت عبد الله بن مسعود يقول : ارض بما قسم الله لك تكن من أغنى الناس واجتنب المحارم تكن من أورع الناس و أد ما افترض الله عليك تكن من أعبد الناس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابواحد بکر بن محمد صیر فی نے ان کوعبد الصمد بن فضل نے ان کو ابراہیم بن سلیمان نے ان کو سفیان نے ان کو علاء بن خالد نے انہوں نے سنا ابو وائل سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں اللہ نے جو آپ کے لئے تقسیم کی ہے اور مقدر بنایا ہے اس پر راضی ہو جا تو سب لوگوں سے بڑا غنی ہو جائے گا ۔ اور محرمات سے بچتا رہ تو سب لوگوں سے بڑا پر ہیز گار ہو جائے گا۔ اللہ نے جو چیز تیرے اوپر فرض کی ہے اس کو ادا کرتارہ تو سب لوگوں سے بڑ ا عابد ہو جائے گا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْعَلاَءِ بْنِ خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8477

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8478

8478 - قال : وجاءه رجل فشكى إليه جارا له فقال إنك إن سببت الناس سبوك وإن ناقرتهم ناقروك وإن تركتهم لم يتركوك وإن فررت منهم أدركوك وإن جهنم تقاد يوم القيامة بسبعين ألف زمام كل زمام بسبعين ألف ملك

فرمایا: اور اس کے پاس ایک شخص آیا اور اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا: اگر تو لوگوں کوگالیاں دے گا تو وہ بھی تجھے گالیاں دیں گے اور اگر تو ان سے فیصلہ چاہے گا تو وہ بھی فیصلہ چاہیں گے اور اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو وہ تجھے نہ چھوڑیں گے اور اگر توان سے بھاگے گا تو وہ تجھے پالیں گے اور بے شک جہنم قیامت کے ستر ہزار لگاموں کے ساتھ لائی جائے گی ۔ ہر لگام کوستر ہزار فرشتے تھامے ہوئے ہوں گے۔

وجاءه رجل فشكى إليه جارا له

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8478

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8479

8479 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء أنا منصور بن محمد الفقيه نا محمد بن علي الخادم قال : سمعت سعيد بن عبد العزيز الحلبي قال : سمعت القاسم بن عثمان يقول : سمعت سليم بن زياد يقول : مكتوب في التوراة من سالم الناس لم يسلم و من شتم الناس ومن طلب الفضل من غير أهله ندم

ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کومنصور بن محمد فقیہ نے ان کومحمد بن علی خادم نے وہ کہتے میں کہ میں نے سنا سعید بن عبدالعزیز حلبی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا قاسم بن عثمان سے وہ کہتے ہیں میں نے سناسلیم بن زیاد سے وہ کہتے ہیں کہ توراۃ میں لکھا ہے کہ جوشخص لوگوں کو بچاتا ہے وہ خود نہیں بچتا۔ اور جو شخص لوگوں کو گالیاں دیتا ہے اس کو خود گالیاں ملتی ہیں اور جو شخص نااہل سے مال طلب کرتا ہے پشیمان ہوتا ہے۔

سليم بن زياد ← الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحَلَبِيُّ ← محمد بن علي الخادم ← منصور بن محمد الفقيه ← عبد الله بن يوسف الأصبهاني املاء

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8479

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8480

8480 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا الطيب عبد الله بن محمد القاضي يقول سمعت أبا عوانة يقول : سمعت أحمد بن عبد الرحمن يقول سمعت الأصمعي يقول أخبرني أبو عمرو بن العلاء قال : ما تشاتم رجلان قط إلا غلب ألأمهما

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوالطیب عبداللہ بن محمد قاضی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعوانہ سے وہب کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن عبدالرحمٰن سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا اصمعی سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ابو عمرو بن علاء نے کہتے ہیں جب دو آ دی آپس میں گالی گلوچ کرتے ہیں دونوں میں سے جو زیادہ کمینہ ہوتا ہے وہ غالب آ جا تا ہے۔

ما تشاتم رجلان قط إلا غلب ألأمهما ← أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبَا عَوَانَةَ ← أبا الطيب عبد الله بن محمد القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8480

chevron_left Previous
1…414243…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood