شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8469
8469 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا أحمد الحسين بن علي بن محمد بن يحيى يقول سمعت أبي يقول : كان أبو عثمان يميل إلى الأثواب الفاخرة فانصرف ابنه أبو بكر من العراق سنة من السنين و قد سوى له دست ثياب من أحسن ما قدر عليه و سأله أن يلبسه يوم مجلسه ففعل ذلك أبو عثمان فقام في آخر مجلسه سائل فسأل فظبره الناس و قالوا له اجلس حتى يفرغ من الدعاء فأقبل السائل على أبي عثمان و قال أيها اللص القاطع المرائي تلبس مثل هذه الأثواب و تأوى إلى سكن وكفاية و أنت تنظر إلى فقرنا و ضعفنا قال : فمد أبو عثمان يده إلى عمامته و نزعها عن رأسه ثم رمى بها إليه ثم مد يده إلى ردائه فدفعه إليه و نزع الدراعة فدفعها إليه ثم قال : لأهل المجلس سألتكم بحرمة الإسلام أن تحسنوا إلى هذا الرجل بكل ما أمكنكم قال فاجتمع بين يديه من الأثواب و الخواتيم و الخلاخل و الدنانير و الدراهم شيء كثير ثم قال الرجل يا هذا إن كنت أنا كما ذكرته فإني أسأل الرب أن يغفر لي و يتوب علي و إن لم أكن كذلك فإني أسأله أن يتوب عليك و قد نويت إن شفعني في غيري أن أشفع لك
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو احمد حسین بن علی بن محمد بن یحییٰ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ ابوعثمان قیمتی لباس استعمال کرتے تھے۔ ان کا بیٹا ابو بکر کسی سال اعراق سے لوٹے تو والد کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق خوبصورت کپڑا تیار کئے اور کہا کہ آپ جس دن اپنی محفل بر پا کرتے ہیں اس دن پہنا کر یں ابوعثمان نے بھنی ایسے ہی کیا ۔مگران کی مجلس کے آخر سے ایک سائل اٹھ کھڑ اہوا اس نے سوال کیا مگر لوگوں نے اسے ڈانٹ بیٹھا دیا کہ حضرت دعا سے فارغ ہو جائیں پھر سوال کرتا لہذا سائل ابوعثمان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا اے جوڈا کور یا کارتم ایسے ایسے کپڑے پہنتے ہو ، اور سکون کی جگہ رہتے ہو اور کفایت کی جگہ ( جہاں ساری ضرورتیں پوری ہوں ۔ ) حالانکہ آپ ہمارے فقر کو اور ہمارے ضعف کو جانتے ہو۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابوعثمان نے اپنا ہاتھ اپنی پگڑی کی طرف بڑھایا اور اپنے سر کے اوپر سے پگڑی کھینچ لی اور اس کو سائل کی طرف پھینک دیا اس کے بعد انہوں نے اپنی اوپر اوڑھنے والی چادر کھینچ لی اور وہ بھی اس کو دے دی اور میں بھی اتار کر اس کو دے دی اس کے بعد انہوں نے اہل مجلس سے کہا میں تم لوگوں سے اسلام کی عزت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم لوگ بھی اس آدمی کے ساتھ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اور بساط کے مطابق احسان اور نیکی کرولہذا اس بندے کے سامنے بہت سے کپڑے اور انگوٹھیاں اور پاز یبیں اور دینار اور دراہم اور دیگر بہت ہی اشیاء جمع ہوگئیں ، اس کے بعد ابوعثمان نے اس آدمی سے کہا کہ اگر میں ایسا ہوں جیسا کہ تم نے کہا ہے تو میں رب سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے اور میری توبہ قبول کر لے اور اگر میں ایسا نہیں ہوں تو میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے معاف کر دے تیری تو بہ قبول کرے میں نےیہ ا رادہ کیا ہے کہ تم میری شفاعت کر نا رب کے آگے میں نے اس لئے لوگوں کے آگے سفارش کی ہے۔
أَبِي ← أبا أحمد الحسين بن علي بن محمد بن يحيى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8469
