Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8012

8012 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف نا أبو سعيد بن الأعرابي نا إبراهيم بن مهدي نا محمد بن عبيد نا محمد بن ثور عن معمر عن أبي حازم عن سهل بن سعد الساعدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل يحب معالي الأخلاق و يكره سفاسفها خالفه عبد الرزاق فرواه عن معمر عن أبي حازم عن طلحة بن كريز الخزاعي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى يحب معالي الأمور و يكره سفاسفها أخبرناه عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا الرمادي نا عبد الرزاق فذكره و كذلك رواه سفيان الثوري عن أبي حازم عن طلحة بن عبد الله بن كريز الخزاعي عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابراہیم بن مہدی نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو محمد بن ثور نے ان کو معمر نے ان کو ابوحازم نے ان کو سہل بن سعد ساعدی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ پسند کرتا سے اخلاقی بلندیوں کو اور اعلی اخلاق کو ۔ اور گھٹیا اور پست اخلاق کو ناپسند کرتا ہے ۔عبدالرزاق نے اس کی مخالفت کی ہے اور اس کو روایت کیا ہے معمر سے اس نے ابوحازم سے اس نے طلحہ بن کر یزخزاعی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا ًنقل کیا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8012

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8013

8013 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو بكر محمد بن عبد الله بن يوسف العماني نا أبو سعيد عبيد بن عبد الواحد الكوفي نا ضرار بن صرد نا عاصم بن حميد عن أبي حمزة و هو الثمالي عن عبد الرحمن بن جبير عن كميل بن زياد النخعي قال : قال علي بن أبي طالب يا سبحان الله ما أزهد كثيرا من الناس في خير عجبا لرجل يجيئه أخوه المسلم في الحاجة فلا يرى نفسه للخير أهلا فلو كان لا يرجو ثوابا و لا يخشى عقابا لكان ينبغي له أن يسارع في مكارم الأخلاق فإنها تدل على سبيل النجاح فقام إليه رجل فقال : فداك أبي و أمي يا أمير المؤمنين أسمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم و ما هو خير فذكر حديثا في قدوم ابنة حاتم الطائي و ذكرها أخلاق أبيها و أنه لم يريد طالب حاجة قط و ذكرناها في كتاب دلائل النبوة قال : فقال النبي صلى الله عليه و سلم : خلوا عنها فإن أباها كانا يحب مكارم الأخلاق و الله يحب مكارم فقام أبي بردة بن دينار فقال : يا رسول الله الله عز و جل يحب مكارم الأخلاق ؟ فقال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : و الذي نفسي بيده لا يدخل الجنة أحد إلا بحسن الخلق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابو بکر محمد بن یوسف عما کی نے ان کو ابوسعید عبید بن عبدالواحد کوفی نے ان کو ضرار بن صردنے ۔ ان کو عاصم بن حمید نے ان کو ابو حمز ہ نے وہ ثمالی میں اس نے عبدالرحمٰن بن حبیب سے اس نے کمیل بن زیاد نخعی سے وہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب نے اے سبحان اللہ کی قدردنیا سے بے رغبت میں بعض لوگ خیر میں ۔ تعجب ہے اس آدمی کے لئے جس کے پاس اس کا مسلمان بھی کسی حاجت کے لئے آیا ہے اور وہ اپنے آپ کو خیر کے لئے اہل نہیں سمجھتا اگر ہوتا و ہ نہ امید کرتا ثواب کی اور نہ ڈرتا عذاب سے تو بھی اس کے لئے مناسب تھا کہ وہ مکارم اخلاق میں جلدی کرتا ۔ بے شک وہ راستہ دیکھنا چا ہے کامیابی کی راہ کا ۔ چنانچہ ایک آدمی آپ کی طرف اٹھ کھڑ ا ہوا اور کہنے لگا کہ میری والد ہ اور والد آپ کے اوپر قربان اے امیر المؤمنین کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں اور ہر خیر ۔ اور انہوں نے حدیث ذکر کی حاتم طائی کی بیٹی کی آمد کے بارے میں بھی اور اس کو ذکر کیا اور اس کے والد کے اخلاق کو ذکر کیا کہ اس نے کبھی کسی طالب حاجت کو یا سوالی کو خالی واپس نہیں کیا تھا۔ اور ہم نے اس کو اپنی کتاب دلائل النبوہ میں ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑ دو اس کو بے شک اس کے والد مکارم اخلاق کو پسند کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ بھی مکارم اخلاق کو پسند فرماتا ہے چنانچہ ابو بردہ بن نیار کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! کیا واقعی اللہ تعالیٰ مکارم اخلاق کو پسند کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے نہیں داخل ہو گا جنت میں کوئی ایک بھی مگر حسن خلق کے ساتھ ۔

كميل بن زياد النخعي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أبي حمزة و هو الثمالي ← عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ ← ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ← أبو سعيد عبيد بن عبد الواحد الكوفي ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن يوسف العماني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8013

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8014

8014 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو يحيى زكريا بن داود الخفاف نا عبد الله بن صالح نا خلف بن خليفة نا حجاج بن دينار عن محمد بن ذكوان عن عبيد بن عمرو بن عنبسة : أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم فقال له : ما الإيمان ؟ قال : الصبر و السماحة و خلق حسن قال أحمد رحمه الله : يعني بالصبر الصبر على محارم الله و السماحة أن يسمح بإداء ما افترض الله و خلق مكارم الأخلاق و العمل هكذا وجدته مدرجا و هذا التفسير من قوله بعض رواته و قد

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابویحییٰ زکریا بن داؤدخفاف نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو حجاج بن دینار نے ان کومحمد بن ذکوان نے ان کو عبید بن عمر نے ان کوعمرو بن عنبسہ نے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے۔ آپ نے فرمایا صبر اور سماحت اور حسن خلق ۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا صبر سے آپ نے یہ مرادلیا ہے اللہ کی حرام کردہ چیزوں ( محارم اللہ ) سے رک جانا اور سماحت یہ ہے کہ جو چیز اللہ نے اس پر لازم کر دی ہے اس کو ادا کر نے میں فراخ دلی اور طیب خاطر سے کام لے۔ اور خلق حسن : نیک اخلاق ہیں اور ان پر عمل کرنا۔ میں نے اس کو ایسی ہی پایا ہے درج شد و۔ اور یہی تفسیر اس کے بعض راویوں سے بھی آئی ہے۔ ۸۰۱۵ ہمیں خبر دی ابوعبداللہ بن عبداللہ بیہقی نے ان کو احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ان کو داؤد بن حسین بیہقی نے ان کو حمید بن زنجویہ نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو حجاج بن دینار نے ان کو محمد بن ذکوان نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو عمر و بن عنبسہ نے وہ کہتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا پاکیزہ کلام کرنا اور کھانا کھلا نا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا اس شخص کا اسلام کہ مسلمان جس کے ہاتھ سے اور اس کی زبان سے سلامت رہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ ایمان کون سا افضل ہے آپ نے فرمایا حسن خلق ۔

عبيد بن عمرو بن عنبسة ← مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ ← حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ الْخَفَّافُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8014

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8015

8015 - أخبرنا أبو عبد الله بن عبد الله البيهقي أنا أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي نا داود بن الحسين البيهقي نا حميد بن زنجويه نا يعلى بن عبيد نا الحجاج بن دينار عن محمد ابن ذكوان عن شهر بن حوشب عن عمرو بن عنبسة قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : ما الإسلام ؟ قال : طيب الكلام و إطعام و الطعام قال : قلت : ما الإيمان ؟ قال : الصبر و السماحة قلت : أي الإسلام أفضل ؟ قال : من سلم المسلمون من لسانه و يده قال : قلت : أي الإيمان أفضل ؟ قال : الخلق الحسن

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ بن عبداللہ بیہقی نے ان کو احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ان کو داؤد بن حسین بیہقی نے ان کو حمید بن زنجویہ نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو حجاج بن دینار نے ان کو محمد بن ذکوان نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو عمر و بن عنبسہ نے وہ کہتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا پاکیزہ کلام کرنا اور کھانا کھلا نا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا اس شخص کا اسلام کہ مسلمان جس کے ہاتھ سے اور اس کی زبان سے سلامت رہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ ایمان کون سا افضل ہے آپ نے فرمایا حسن خلق ۔

الخلق الحسن ← قلت أي الإيمان أفضل ← من سلم المسلمون من لسانه و يده ← الصبر و السماحة قلت أي الإسلام أفضل ← قلت ما الإيمان ← طيب الكلام و إطعام و الطعام ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت ما الإسلام ← عَمْرِو بْنِ عَنْبَسَةَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← محمد ابن ذكوان ← الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ← أبو عبد الله بن عبد الله البيهقي

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8015

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8016

8016 - أخبرنا أبو عبد الله بن عبد الله البيهقي أنا أحمد بن محمد بن البيهقي نا داود بن الحسين نا حميد نا عبد الله ابن صالح حدثني الليث حدثني عقيل عن ابن شهاب أخبرني كعب بن مالك : أن رجلا من بني سلمة كان يحدثه أنه سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حسن الخلق ثم راجعه الرجل فلم يزل رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : حسن الخلق حتى بلغ خمس مرات

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ بیہقی نے ان کو خبر دی احمد بن محمد بیہقی نے ان کو داؤد بن حسین نے ان کو حمید بن عبداللہ بن صالح نے ان کو لیث نے ان کو عقیل نے ان کو ابن شہاب نے ان کو کعب بن مالک نے کہ ایک آدمی نے بنی سلمہ میں سے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اسلام کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن خلق اس کے بعد اس آدمی نے دوبارہ سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہے ۔ حسن خلق حتی ٰ کہ پانچ بارفرمایا۔

كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عبد الله ابْن صَالِحٍ ← حُمَيْدٍ ← داود بن الحسین، ← أحمد بن محمد بن البيهقي ← أبو عبد الله بن عبد الله البيهقي

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8016

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8017

8017 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا محمد بن عثمان الدمشقي نا أبو كعب أيوب بن محمد السعدي حدثني سليمان بن حبيب المحاربي عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا زعيم ببيت يربض الجنة لمن ترك المراء و إن كان محقا و ببيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب و إن كان مازحا و ببيت في أعلى الجنة لمن حسن خلقه

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو محمد بن عثمان دمشقی نے ان کو ابو کعب ایوب بن محمد سعدی نے ان کو حدیث بیان کی ہے سلیمان بن حبیب محاربی نے ان کو ابوامامہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: میں جنت میں گھر دلانے ک ضامن ہوں اس شخص کے لئے جنت کے آغاز میں جور یا کاری اور دیکھاوا ترک کر دے اگر چہ و ہ حق پر ہو اور میں جنت کے وسط میں گھر دلانے کی ضمانت دیتا ہوں اس شخص کے لئے جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگر چہ مذاق میں ہی کیوں نہ ہو اور میں جنت کے اوپر کے حصے میں گھر دلانے کا ذمہ دار ہوں اس شخص کے لئے جس کے اخلاق اچھے ہوں ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ ← أَبُو کَعْبٍ أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8017

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8018

8018 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر أحمد بن عبيد بهمدان نا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا محمد بن إبراهيم بن حياد قالا : نا مسلم بن إبراهيم نا صدقة بن موسى نا مالك بن دينار عن عبد الله بن غالب عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خصلتان لا يكونان في مؤمن سوء الخلق و البخل و في رواية الحافظ لا يجتمعان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر احمد بن عبید نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین بن دیز یل نے ۔ اورہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد مصری نے ان کو محمد بن ابراہیم بن حیاد نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی مسلم بن ابراہیم نے ان کو صدقہ بن موسیٰ نے ان کو مالک بن دینار نے ان کو عبداللہ بن غالب نے ان کو ابوسعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو خصلتیں ایسی ہیں کہ وہ کسی مؤمن میں نہیں ہوتیں ۔ یا نہیں ہونی چاہئیں ۔ بخل اور بداخلاقی۔ اور حافظ کی ایک روایت میں ہے کہ وہ دونوں مؤمن میں جمع نہیں ہوتیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ غَالِبٍ ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← صدقة بن موسى ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← محمد بن إبراهيم بن حياد ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل و ← أبو جعفر أحمد بن عبيد بهمدان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8018

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8019

8019 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا عباس الدوري نا علي بن الحسن بن شقيق نا عبد الله بن المبارك عن معمر عن عثمان بن زفر عن بعض ولد رافع بن مكيث قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سوء الخلق شؤم و حسن الملكة نماء و الصدقة تدفع ميتة السوء

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو عباس دوری نے ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو معمر نے ان کو عثمان بن زفر نے ان کو رافع بن مکیث کے بعض لڑکوں نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بداخلاقی نحوست و بدشگونی ہے اور حسن ملکہ بڑھوتر ی ہے اور صدقہ بری موت کو مٹا تا ہے۔

بعض ولد رافع بن مكيث ← عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8019

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8020

8020 - و أخبرنا أبو محمد الأصبهاني أنا أبو سعيد نا الرمادي نا عبد الرزاق أنا معمر عن عثمان : بإسناده مثله

اور ہمیں خبر دی ہے ابومحمد اصفہانی نے ان کو ابوسعید امادی نے ان کوعبدالرزاق نے ان کو معمر نے عثمان سے اپنی اسناد کے ساتھ مذکور کی مثل ۔

عثمان بإسناده مثله ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الرمادي، ← أَبُو سَعِيدٍ ← أبو محمد الأصبهاني، ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8020

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8021

8021 - و حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن أحمد بن علي الفقيه أنا أبو أحمد محمد بن أحمد ابن الغطريف أنا أبو عمران موسى بن سهل الجوني نا سهيل بن إبراهيم الجاوردي نا الفضل بن عيسى الرقاشي أنا محمد بن المنكدر عن جابر قال : قالوا : يا رسول الله ما الشؤم ؟ قال : سوء الخلق

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن احمد بن علی فقیہ نے ان کو ابواحمد محمد بن احمد بن غطریف نے ان کو ابو عمران موسیٰ بن سہل جونی نے ان کو سیل بن ابراہیم جارودی نے ان کو فضل بن عیسیٰ رقاشی نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یارسول اللہ! بدشگونی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ بداخلاقی ۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الْفَضْلِ بْنِ عِيسَى الرَّقَاشِيِّ، ← سهيل بن إبراهيم الجاوردي ← أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْجَوْنِيُّ، ← أبو أحمد محمد بن أحمد ابن الغطريف ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن أحمد بن علي الفقيه ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8021

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8022

8022 - و أخبرنا أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي أنا أحمد بن عبيد نا أبو عمران الجوني نا سهيل بن إبراهيم الجارودي فذكره و أخبرنا أبو الحسن أنا أحمد بن ناجيه نا سهيل بن إبراهيم أبو الخطاب الجاوردي نا عبيد الله بن سفيان العداني نا الفضل بن عيسى الرقاشي : فذكره غير أنه قال : قيل يا رسول الله فزاد ابن ناجيه في إسناده رجلا وهو أولى وكيف كان فهو ضعيف الإسناد وقد روي أبو بكر عبد الله الغساني و هو ضعيف عن حبيب بن عبيد الرحبي عن عائشة مرفوعا قال : الشؤم سوء الخلق

اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بکر اھوازی نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابوعمران جونی نے ان کو سہیل بن ابراہیم جارودی نے ان کو عبید اللہ بن سفیان عدانی نے ان کو فضل بن عیسیٰ رقاشی نے پھر اس کو ذکر کیا ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: کہا گیا یا رسول اللہ ۔ابن ناجیہ نے اپنی اسناد میں ایک آدمی کا اضافہ کیا ہے اور وہ سب سے بہتر ہے اور کیسے ہوسکتا ہے وہ ضعیف الاسناد ہے۔ اور تحقیق روایت کیا ہے ابو بکر عبداللہ غسانی نے حالانکہ وہ ضعیف ہے حبیب بن عبید رجی سے اس نے سیدہ عائشہ سے بطور مرفوع روایت کے حضور نے فرمایا۔بد شگونی بداخلاقی ہے۔

قِيلَ ← الفضل بن عيسى الرقاشي فذكره غير أنه ← عبيد الله بن سفيان العداني ← سهيل بن إبراهيم أبو الخطاب الجاوردي ← أحمد بن ناجيه ← أَبُو الْحَسَنِ ← سهيل بن إبراهيم الجارودي فذكره و ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8022

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8023

8023 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا الأصم نا العباس الدوري نا إبراهيم بن شماس السمرقندي نا الفضيل بن عياض عن ليث عن حبيب بن أبي ثابت عن ميمون بن أبي شبيب عن معاذ قال : قلت : يا رسول الله أوصني بوصية قال : اتق الله حيث ما كنت قال : قلت زدني قال : اتبع السيئة الحسنة تمحها قال : قلت زدني قال : خالق الناس بخلق حسن

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو ابراہیم بن شماس سمرقندی نے ان کوفضیل بن عیاض نے ان کولیث نے ان کو حبیب بن ابو ثابت نے ان کو میمون بن ابوشبیب نے ان کو معاذ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے کوئی وصیت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرتا رہ تو جہاں بھی ہو کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھے اور زیادہ وصیت کیجئے فرمایا کہ ہر برائی کے بعد نیکی ضرور کیجئے دوا سے مٹادے گی میں نے عرض کی اور زیادہ کیجئے فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق رکھئے۔

قُلْتُ ← مُعَاذٌ، ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← لَيْثٌ، ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← إبراهيم بن شماس السمرقندي ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← الأَصَمُّ: ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8023

chevron_left Previous
12345…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood