Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8397

8397 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا خالي حدثني إسحاق ابن إبراهيم بن يونس نا إسماعيل بن محمود عن ابن المبارك عن سفيان عن يونس ابن عبيد : أنه أصيب بمصيبة فقيل له إن ابن عون لم يأتك ؟ قال : إنا إذا وثقنا بمودة أخينا لم يضره أنه ليس يأتينا

ہمیں خبر دی ابوالحسین مقری نے ان کو حسن بن محمد بن الحق نے ان کو ان کے ماموں نے ان کو اسحاق بن ابراہیم بن یونس نے ان کو اسماعیل نے محمود سے ان کو ابن مبارک نے ان کو سفیان نے ان کو یونس بن عبدی نے کہ ان کوکوئی مصیبت پہنچ گئی تو ان سے کہا گیا کہ ابن عون افسوس کرنے کے لئے آپ کے پاس نہیں آیا؟ انہوں نے جواب دیا ہم جب اپنے بھائی کی محبت پر یقین رکھتے ہیں تو اس کو یہ بات کوئی نقصان نہیں دیتی کہ وہ ہمارے پاس نہیں آیا۔

سُفْيَانَ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَحْمُودٍ، ← إسحاق ابن إبراهيم بن يونس ← خَالِي، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8397

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8398

8398 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن عثمان الواسطي نا محمد بن الحسين الراقفي نا علي بن حرب قال : قال لي سفيان بن عيينة : إذا تأكدت المودة بينك و بين أخيك فلا يضرك أن لا تلقى صاحبها

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابومحمد عبد اللہ بن محمد بن عثمان واسطی نے ان کو محمد بن حسین راقفی نے ان کو علی بن حرب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے سفیان بن عیینہ نے کہا جب تیرے اور تیرے اور تیرے بھائی کے درمیان دوستی پکی سچی ہوتو یہ بات تجھے کوئی نقصان نہیں دے گی کہ تم اس سے نہ ملو ۔

عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ← محمد بن الحسين الراقفي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8398

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8399

8399 - قال بدر المغازلي : قيل لبشر بن الحارث : يا أبا نصر في كم يزور الرجل أخاه ؟ قال : إن كانا صادقين ففي كل سنة مرة

کہا بدر المغازلی نے کہ کہا تھا بشر بن حارث سے اے ابو نصر کتنی مدت میں آدمی اپنے بھائی سے ملے اور زیارت کرے؟ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں سچے ہیں تو ہر سال میں ایک مرتبہ۔

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8399

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8400

8400 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا الربيع بن سليمان نا أسد بن موسى نا بقية بن الوليد حدثنا صفوان بن عمرو عن أبي سعيد عن أبي الدرداء : أنه كتب إلى سلمان يدعوه إلى أرض المقدسة فقال سلمان : يا أخي إن تكن بعدت الدار من الدار فإن الروح من الروح قريب و طير السماء على أنفه حمر الأرض تقع به

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو اسد بن موسیٰ نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو صنوان بن عمرو نے ان کو ابوسعید نے ان کو ابو درداء نے کہ انہوں نے لکھا مسلمان کی طرف جو کہ انہیں بیت المقدس میں بلا ر ہے تھے چنانچہ سلمان نے فرمایا اے میرے بھائی اگر چہ تیرا گھر میرے گھر سے بعید ہے تو کوئی بات نہیں روح تو روح کے قریب ہے ۔ اور قضا کے ہر بندہ ہے جس کی ناک پر زمین کی سرخی ہے اسی پر وہ بھیجتا ہے۔

إلى سلمان يدعوه إلى أرض المقدسة ← أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8400

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8401

8401 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن داود أخبرني أبو الفضل جعفر بن محمد الوراق أنشدني أبو علي الحسن بن علي الخراط في رجل اعتذر إلى رجل من ترك عبادته : ـ ( و لئن جفوتك بالزيارة أنني ببقاء نفسك في الدعاء لجاهد ) ( و لربما ترك الزيارة مشفق و طوى على عمل الضمير العابد )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن داؤد نے ان کو خبر دی ہے ابوالفضل جعفر بن محمد وراق نے وہ کہتے ہیں مجھے شعر سنائے ابوعلی حسن بن علی خراط نے اس آدمی کے بارے میں جو معذرت کرتا ہے دوسرے آدمی کی طرف اپنی ترک عبادت کی ۔ اگر چہ میں تیری ملاقات نہ کر کے زیادتی کرتا ہوں تو (کوئی حرج نہیں )کیونکہ میں تیری ذات کی بقا کی دعابڑی کوشش سے اور شدت سے کرتا ہوں۔اور البتہ بسا اوقات ترک ملاقات کا ڈرلگتا ہے مگر عبادت گذار دل محبت سے سرشار ہوتا ہے۔

أبو بكر بن داود ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8401

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8402

8402 - أخبرنا أبو حازم الحافظ أنا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد نا مسدد بن قطن نا أحمد بن إبراهيم الدورقي نا أبو غسان نا سيار أبو سلمة قال : قيل لضيغم بن مالك يا أبا مالك لقد هممت أن أشتري في قربك دارا ليكثر لقي إياك فقال : إن مودة تغيرها قلة الحياء قلة اللقاء لمدخولة

ہمیں خبر دی ابو حازم حافظ نے ان کوابوعمر واسماعیل بن نجید نے ان کومسدد بن قطر نے ان کو احمد بن ابراہیم دورقی نے ان کو ابوغسان نے ان کو سیار نے ان کو ابوسلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا ضیغم بن مالک سے اے ابو مالک میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ میں آپ کے قریب گھر خریدلوں تا کہ میں زیادہ سے زیادہ آپ سے مل سکوں انہوں نے کہا کہ بے شک دوستی اور محبت اس کو کم ملاقات کے ساتھ بدل دے گی ۔

سَيَّارٌ أَبُو سَلَمَةَ، ← أبو غسان، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8402

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8403

8403 - أخبرنا عبد الخالق بن علي قال : سمعت أبا العباس الفضل بن الفضل الكندي بهمدان يقول : سمعت أبا خليفة الفضل بن الحباب يقول : سمعت أبي يقول : سمعت عبد الرحمن بن مهدي يقول : سمعت ابن المبارك يقول : إذا تأكد الإخاء قبح الثناء

ہمیں خبر دی عبدالخالق بن علی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوالعباس فضل بن الفضل کندی سے ہمدان میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سال ابوخلیفہ فضل بن حباب سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عبدالرحمٰن بن مہدی سے وہ کہتے ہیں میں نے سناابن مبارک سے وہ فرماتے تھے۔ جب دوستی اور بھائی چارہ پکا ہو جا تا ہے تو تعریف کرنا برا لگتا ہے۔

إذا تأكد الإخاء قبح الثناء ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← أبا خليفة الفضل بن الحباب ← أبا العباس الفضل بن الفضل الكندي بهمدان ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8403

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8404

8404 - أخبرنا أبو سهل المهراني نا جعفر بن محمد بن نصير الخلدي نا أحمد بن محمد بن مسروق نا أحمد بن عبد الله الخوارزمي نا أبو بكر بن عثمان نا أبو بكر بن عياش قال : سمعت العلاء بن عبد الكريم يقول : من احتشم من أخيه فقد فارقه

ہمیں خبر دی ابو سہل مہران نے ان کو ابو جعفر بن محمد بن نصیر خلدی نے ان کو احمد بن محمد بن مسروق نے ان کو احمد بن عبداللہ خوازمی نے ان کو ابو بکر بن عثمان نے ان کوابو بکر بن عیاش نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علاء بن عبدالکریم سے وہ کہتے ہیں کہ جس نے اپنے بھائی سے غصہ کیا اس نے اس سے جدائی کر لی۔

من احتشم من أخيه فقد فارقه ← الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أبو بكر بن عثمان ← أحمد بن عبد الله الخوارزمي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ ← أَبُو سَهْلٍ الْمِهْرَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8404

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8405

8405 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد بن عبد الله المروزي نا صالح بن محمد جزره قال : سمعت يحيى بن معين يقول : سمعت ابن كناسه يقول : ـ ( في انقباض وحشمة فإذا صادفت أهل الوفا و الكرم ) ( أرسلت نفسي على سجيتها و قلت ما قلت غير محتشم )

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کوخبر دی علی بن محمد بن عبداللہ مروزی نے ان کو صالح بن محمد جرزہ نے انہوں نے سنایحییٰ بن معین سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابن کناسہ سے وہ کہتے ہیں۔ شعر جس کا مطلب ہے کہ اہل وفا اور اہل سخاوت بھی جب تنگ دلی اور غصے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں تو اپنے نفس کو اس کی اپنی فطرت پر چھوڑ دیتا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ غیر درست ہے (یعنی اب تو خود ہی اپنی مرضی کر ۔ )

ابْنُ كُنَاسَةَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← صالح بن محمد جزره ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8405

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8406

8406 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أخبرني أبو الحسن بن سفيان الكوفي بها نا أحمد بن علي النحوي أنشدنا علي بن محمد بن عبيد أنشدنا إسحاق بن محمد القرشي لأبي العتاهيه : ـ ( إذا اجتمع الأخوان كان أذلهم لإخوانه نفسا أبر و أفضلا ) ( و ما الفضل في أن يؤثر المرء نفسه و لكن فضل المرء أن يتفضلا )

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے ان کو خبر دی ابوالحسن بن سفیان کوفی نے کوفے میں ان کواحمد بن علی نحوی نے ان کوعلی بن محمد بن عبید نے ان کو شعر بیان کئے اسحاق بن محمد قرشی نے ابوعتاہبہ شاعر کے، جن کا مطلب ہے ۔ جب دوست جمع ہوتے ہیں تو ان میں سے سب سے زیادہ ان کے لئے جھکنے والا یعنی اپنے احباب کے لئے وہی ہوتا ہے جوان میں سے سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ فضیلت کا حامل ہوتا ہے ۔ یہ بات کوئی فضل ہے و بزرگی کی نہیں ہے کہ کوئی انسان اپنے نفس کو خود ہی تر جیح دے بلکہ آدمی کا شرف فضیلت اس بات میں ہے کہ اس میں خوبیاں ہوں ۔

أبو الحسن بن سفيان الكوفي بها ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8406

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8407

8407 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ أنا أبو طاهر أحمد بن الحسين نا علي بن عبد الرحيم الصفار نا علي بن حجر السعدي نا عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه عن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيد القوم في السفر خادمهم فمن سبقهم بخدمة لم يسبقوه بعمل إلا الشهادة ذكره في ترجمة أبي الحسن النيسابوري الصفار من فقهاء أصحاب الرأي و من أهل الورع منهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو ابو طاہر احمد بن حسین نے ان کو علی بن عبد الرحیم صفار نے ان کو علی بن حجر سعدی نے ان کو عبد العزیز بن ابوحازم نے ان کو ان کے والد نے ان کو سہل بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سفر میں لوگوں کا سردار ہی ان کا خادم ہوتا ہے جو شخص خدمت کرنے کے لئے ان میں سے سبقت کرے گا لوگ اس سے کسی عمل میں سبقت نہیں لے جائیں گے سوائے شہادت ( فی سبیل اللہ ) کے۔ اس کو ابوالحسن نیسا پوری کے عنوان میں ذکر کیا ہے صفار نے فقہاء اصحاب رائے نے اور بعض اہل تقویٰ نے ان میں سے ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← علي بن عبد الرحيم الصفار ← أبو طاهر أحمد بن الحسين ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8407

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8408

8408 - أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي أنشدني الحسين بن يحيى لأبي بكر بن داود : ـ ( أن أخا الإحسان من يسعى معك و من يضر نفسه لينفعك ) ( ومن إذا ريب زمان صدعك شتت شمله ليجمعك )

ہمیں شعر بیان کئے ابوعبدالرحمٰن بن سلمی نے ان کو ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کوشعر سنائے حسین بن یحییٰ نے ابو بکر بن داؤد سے ۔ جن کا مفہوم ہے۔ بے شک نیکی اور احسان کرنے والا دوست وہ ہے جو تیرے ساتھ ساتھ سعی و جہد کرے اور جو تیرے فائدے کے لئے اپنا خود کا نقصان کرے اور جو حوادثات زمانے کے وقت تیرا ساتھ دے اور تجھے محفوظ رکھنے کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پہ لگادے۔

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8408

chevron_left Previous
1…353637…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood