Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8312

8312 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار نا تمتام نا محمد بن الصباح نا عبد الله بن بكير عن القاسم بن مهران عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من ملك لسانه ستر الله عورته و من ملك غضبه كف الله عنه عذابه و من اعتذر إلى الله في الدنيا قبل الله معذرته

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو تمتام نے ان کو محمد بن صباح نے ان کو عبداللہ بن بکیر نے ان کو قاسم بن مہران نے ان کو عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اس نے ان کے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی زبان پر کنٹرول کرے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا ۔ اور جوشخص اپنے غصے پر کنٹرول کرے اللہ تعالیٰ اس کا عذاب روک دے گا اور جو شخص دنیا میں اللہ کے آگے معذرت پیش کرے گا اللہ اس کی معذرت قبول کرے گا ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ ← عبد الله بن بكير ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8312

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8313

8313 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عتبة عبيد نا الأسقاطي نا أبو سلمة و هو يحيى بن خلف نا الفضل بن سنان عن غالب القطان عن الحسن عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ينادي مناد من كان أجره على الله فليدخل الجنة مرتين فيقوم من عفا عن أخيه قال الله تعالى : { فمن عفا و أصلح فأجره على الله }

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسفاطی نے ان کو ابوسلمہ نے وہ یحییٰ بن خلف ہے ان کو فضل بن سنان نے غالب قطان سے اس نے حسن سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ اعلان کرنے والا اعلان کرے گا اللہ کے ذمہ جس کا بھی اجر ہو وہ جنت میں چلا جائے دو بارفر مایا لہذ اوہ شخص کھڑاہوگا جس نے اپنے بھائی کو معاف کیا۔ اللہ تعالی ٰکا فرمان ہے: فمن عفى واصلح فاجره على الله جو شخص معاف کرے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذریعے ہیں ۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← غَالِبٌ الْقَطَّانُ ← الفضل بن سنان ← أبو سلمة و هو يحيى بن خلف ← الأسقاطي ← أحمد بن عتبة عبيد ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8313

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8314

8314 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن علي بن أحمد بن قرقوب التمار بهمذان نا إبراهيم بن الحسين نا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتية أن عبد الله بن عباس قال : قدم عيينة بن حصين بن حذيفة بن بدر فنزل على ابن أخيه الحر بن قيس بن حصن و كان من النفر الذين يدينهم عمر بن الخطاب و كان القراء أصحاب مجالس عمر و مشاورته كهولا كانوا أو شبانا قال عيينة لابن أخيه هل لك وجة عند هذا الأمير فتستأذن لي عليه ؟ فقال سأستأذن لك عليه قال ابن عباس فاستأذن الحر لعيينة فأذن له عمر فلما دخل عليه قال : هي يا ابن الخطاب ما تعطينا الجزل و لا تحكم بيننا بالعدل فغضب عمر حتى هم أن يوقع به فقال له الحر يا أمير المؤمنين إن الله عز و جل قال لنبيه صلى الله عليه و سلم : { خذ العفو و أمر بالعرف و أعرض عن الجاهلين } و إن هذا من الجاهلين قال : فو الله ما جاوزها عمر حين تلاها و كان قد وقانا عند كتاب الله عز و جل رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن علی بن احمد بن قرقوب تمار نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابوالیمان نے ان کو خبر دی شعیب نے ان کو زہری نے ان کو خبر دی عبداللہ بن عبداللہ بن عقبہ نے کہ عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ عیینہ بن حفص بن حذیفہ بن بدر آیا۔ اور اپنے بھائی حسن بن قیس بن حصن کے پاس ٹھہرا۔ اور وہ ان لوگوں کے گرفت میں سے تھا جنہیں حضرت عمر بن خطاب قریب کرتے تھے ۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس مشاورت کے لوگ قراء تھے خواہ بوڑھے ہوں یا جوان ہوں ۔عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا کیا تیری رسائی ہے امیر المؤمنین تک کہ آپ میرے لئے ملاقات کی ان سے اجازت دلوائیں؟ اس نے کہا کہ میں آپ کو اجازت دلوا دوں گا۔ حضرت ابن عباس نے کہا کہ تم نے عیینہ آنے کے لئے اجازت مانگی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اجازت دے دی ۔ عینہء جب امیر المومنین کے پاس داخل ہوئے تو کہنے لگے اے ابن خطاب آپ ہمیں کوئی بڑا عطیہ بھی نہیں دیتے اور ہمارے مابین آپ انصاف بھی نہیں کرتے ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے یہاں تک کہ انہوں نے اسے مارنے پیٹنے کا ارادہ کر لیا۔ اتنے میں حر نے انہیں کہا اے امیر المومنین ہے شک اللہ عزوجل اپنے نبی کو حکم فرماتا ہے: خذ العفو وامر بالمعروف و اعرض عن الجاهلين (اے پیغمبر ) معاف کیجئے اور درگذر کیجئے اور بھلائی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے منہ پھیر لیجئے ۔ اور بے شک یہ جاہلوں میں سے ہے ۔ پس اللہ کی قسم جب حر نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عیینہ کو کچھ بھی نہ کہا حضرت عمر کتاب اللہ پر بڑے عمل کرنے والے اوراسی پر اکتفا کرنے والے تھے ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا صحیح میں ابوالیمان سے ۔

عبيد الله بن عبد الله بن عتية ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8314

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8315

8315 - اخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الخضر بن أبان نا سيار نا جعفر بن ثابت قال : اشترى رجل بيتا بالمدائن فمر سلمان الفارسي بالمدائن و هو أمير فحسب سلمان علجا فقال يا فلان تعالى فجاء سلمان فقال احمل فحمله فمضى به فجعل يتلقاه الناس اصلح الله الأمير نحمل عنك و يا عبد الله نحمل عنك أبا عبد الله نحمل عنك فقال الرجل ثكلتني أمي و عدمتني لم أجد أحد أسخره إلا الأمير قال فجعل يعتذر إليه و يقال أبا عبد الله لم أعرفك رحمك الله قال : انطلق فانطلق به حتى بلغ به منزله ثم دعاه فقال لا تسخر بعدي أحدا أبدا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابی حامد مقری نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مدائن میں گھر خریدا۔ حضرت سلمان فارسی کا مدائن سے گذر ہوا جب کہ وہ امیر تھے اس نے حضرت سلیمان کو کوئی بار بردار سمجھا اور کہا فلا نے میرے پاس آئے وہ آئے اس نے کہا سامان اٹھا کر لے چلئے انہوں نے اسے اٹھالیا اور چل دیئے اب راستے میں جولوگ ان سے ملے تو کہا اللہ تعالی ٰآپ کو نیکی دے دے اے امیر ہم آپ کی طرف سے وزن اٹھا لیتے ہیں ۔ اور اے اللہ کے بندے ہم آپ کی طرف سے اٹھا لیتے ہیں، اے عبداللہ ہم تمہاری طرف سے اٹھا لیتے ہیں۔ اس آدمی نے کہا میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی ۔ اور مجھے گم کر بیٹھی تھی میں نے کسی ایسے آدمی کو نہ پایا جس سے میں مذاق کروں سوائے امیر کے ۔اب اس نے ان کی خدمت میں معافی مانگنی شروع کی اور کہنا شروع کیا کہ اے ابوعبداللہ میں نے آپ کو نہیں پہچانا تھا اللہ آپ کے اوپر رحم فرمائے مگر انہوں نے فرمایا کہ بس اب تم چلتے رہو اور خود ساتھ چلتے رہے یہاں تک کہ اس کو اس کی منزل پر پہنچایا ۔ پھر اسے بلا کر کہا کہ آپ کے بعد آئندہ کسی سے میرے بعد مذاق نہ کرنا۔

جعفر بن ثابت ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8315

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8316

8316 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد أنا إبراهيم بن عبد الواحد العبسي أنا وريزة بن محمد الغساني نا الفضل بن محمد قال : سمعت أبي يقول : وقع بين الحسين بن علي و بين محمد بن الحنفية كلام حبس كل واحد منهما عن صاحبه فكتب إليه محمد بن الحنفية : أبي و أبوك علي بن أبي طالب و أمي امرأة من بني حنيفة لا ينكر شرفها في قومها و لكن أمك فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم و أنت أحق بالفضل مني فصر إلي حتى ترضاني فلبس الحسين رداءه و نعله و صار إليه فترضاه

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے ان کو ابو بکر محمد بن داؤد بن سلیمان زاہد نے ان کو ابراہیم بن عبد الواحد عبسی نے ان کو ور یز ہ بن محمد غسانی نے ان کو فضل بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنادہ کہتے ہیں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت محمد بن حنفیہ کے درمیان کچھ بات ہو کر شکر رنجی ہوگئی ہر ایک دوسرے سے ملنے سے رک گیا ،لہذا حضرت محمد بن حنفیہ نے ان کی طرف رقعہ لکھا کہ آپ کا اور میرا باپ علی المرتضی ہے اور میری ماں بنو حنفیہ کی ایک عورت ہے جس کے شرف کا اس کی قوم میں انکار نہیں کیا جاسکتا (بلکہ وہ معزز ہ مانی جاتی ہے )مگر آپ کی امی فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور آپ مجھ سے فضیلت کے زیادہ حقدار ہیں آپ میرے پاس آئے اور مجھے راضی کیجئے( منائیے ) چنانچہ حضرت حسین نے اپنی چادر اوڑھی جوتے پہنے اور ان کے پاس چلے گئے اور جا کر ان کو منالیا۔

أَبِي ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← وريزة بن محمد الغساني ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْعَبْسِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الزَّاهِدُ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8316

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8317

8317 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف نا أبو بكر أحمد بن سعيد بن فرضخ العثماني نا طاهر بن يحيى الحسيني حدثني أبي حدثني شيخ من أهل اليمن قد أتت عليه بضع و سبعون سنة فيما أخبرني يقال له عبد الله بن محمد قال : سمعت عبد الرزاق يقول : جعلت جارية لعلي بن الحسين تسكب عليه الماء فتهيأ للصلاة فسقط الإبريق من يد الجارية على وجه فشجه فرفع علي بن الحسين رأسه إليها فقالت الجارية إن الله عز و جل يقول : { و الكاظمين الغيظ } فقال له قد كظمت غيظي قالت : { و العافين عن الناس } فقال له قد عفا الله عنك قالت : { و الله يحب المحسنين } قال اذهبي فأنت حرة

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو بکر احمد بن سعید بن فرضخ عثمانی نے ان کو طاہر بن یحییٰ حسینی نے ان کو ان کے والد نے ان کو اہل یمن کے ایک شیخ نے جس کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی ۔اس میں جو جواس نے مجھے خبر دی۔اسے کہا جا تا تھا عبداللہ بن محمد وہ کہتا ہے میں نے سنا عبدالرزاق سے وہ کہتے ہیں حضرت علی بن حسین کے لئے ایک باندی مقرر کی گئی جو ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالتی تھی وہ نماز کی تیاری کر تے تھے چنانچہ منہ دھوتے وقت پانی کا ڈونگا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر علی بن حسین کہ منہ پر گر گیا جس سے وہ زخمی ہو گئے انہوں نے سر اوپر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو لونڈی نے کہا بے شک اللہ تعالی ٰفرماتے ہیں: والكاظمين الغيظ کہ اللہ والے اپنے غصے کو پی جانے والے ہوتے ہیں ۔ لہذا اعلی نے کہا کہ میں اپنا غصہ پی گیا ہوں ۔ وہ بولی: والعافين عن الناس اور لوگوں سے در گذر بھی کرتے ہیں معاف کر تے ہیں ۔ علی نے اس سے کہا تحقیق اللہ نے تجھے معاف کر دیا ہے وہ بولی: والله يحب المحسنين اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے ۔ یعنی احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا جاؤ تم چلی جاؤ تم آزاد ہو ۔ ( سبحان اللہ قرآن کے ایک ایک جملے پر بروقت عمل کر تے گئے ۔ غصہ بھی پی لیا لونڈی کو معاف بھی کر دیا اور اس کے ساتھ احسان بھی کر دیا اسے آزاد کر دیا۔)

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8317

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8318

8318 - قال و نا طاهر نا أبي حدثني أبو بكر حدثني المفضل بن غسان نا موسى بن داود حدثني مولى بني هاشم : أن علي بن الحسين دعا مملوكه مرتين فلم يجبه ثم أجابه في الثالث فقال له يا بني أما سمعت صوتي ؟ قال : بلى قال فما لك لم تحبني ؟ قال : أمنتك قال الحمد لله الذي جعل مملوكي يأمنني

فر مایا کہ ہمیں خبر دی طاہر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابوبکر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے فضل بن غسان نے ان کو موسیٰ بن داؤد نے ان کو مولیٰ بن ہاشم نے یہ کی علی بن حسین نے دومر تبہ اپنے غلام کو بلایا مگر وہ نہ آیا تیسری بار بلانے پر آیاعلی نے اس سے پوچھا کیا بات ہے بیٹے تم نے میری آواز نہیں سنی تھی؟ اس نے کہا بلکہ بنی تھی۔ پوچھا کہ پھر تم نے مجھے جواب کیوں نہ دیا ؟ میں آرہا تھا انہوں نے کہا شکر ہے اللہ کا جس نے میرے غلام کوایسا بنایا ہے کہ وہ میرے اوپر اعتمادکرتا ہے۔

مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبِي ← طاهرٌ ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8318

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8319

8319 - أخبرنا أبو حازم الحافظ أنا أحمد بن الحسين بن علي القاضي قال سمعت أبا أحمد بن رذام يقول سمعت سعيد بن مسعود يقول : كان في المسجد الحرام ننتظر عبد الله بن يزيد المقري فخرج و بيدي قلم أصلحه فأخذ في القراءة و وقفت أنظر في الكتاب فانحل السكين من يدي فأصاب رأس الشيخ فانهار الدم قال : فما زاد على أن رفع رأسه إلي و قال : يا بني إن أردت قتلي فاخرجني من الحرم

ہمیں خبر دی ابو حازم حافظ نے ان کو احمد بن حسین بن علی قاضی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے ابواحمد بن رذام سے وہ کہتے میں میں نے سنا ہے سعید بن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد الحرام میں عبداللہ بن یزید مقری کا انتظار کر رہے تھے وہ باہر آئے ان کے ہاتھ میں قلم تھا جس کو وہ درست کر رہے تھے وہ آتے ہی قراء میں مصروف ہو گئے میں بھی رک گیا اور رک کر کتاب میں دیکھنے لگا۔ ان کے ہاتھ سے چھری گر گئی اور شیخ کے سر میں لگ گئی جس سے ان کا خون بہنے لگا۔ فرماتے ہیں کہ اس شیخ نے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا کہ بس ان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور کہا اے بیٹے اگر تم نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پھر مجھے حرم سے تو باہر نکال لو ۔

سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أبا أحمد بن رذام ← أحمد بن الحسين بن علي القاضي ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8319

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8320

8320 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن أحمد بن عمر نا محمد بن المنذر حدثني موسى بن عمر قال : سمعت محمد بن حميد و نوح بن حبيب يقولان : كنا عند ابن المبارك فألحوا عليه فقال هاتوا كتبكم حتى أقرأ فجعلوا يرمون إليه الكتب من قريب و من بعيد و كان رجل من أهل الري يسمع كتاب الإستئذان فرمى بكتابه فأصاب صلعة ابن المبارك حرف كتابه فانشق و سال الدم فجعل ابن المبارك يعالج الدم حتى سكن ثم قال : سبحان الله كاد أن يكون قتالا ثم بدأ بكتاب الرجل فقرأه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن احمد بن عمر نے ان کومحمد بن منذر نے ان کوموسیٰ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن محمد سے اور نوح بن حبیب سے وہ کہتے ہیں کہ ہم دونوں حضرات ابن مبارک کے پاس تھے ۔سب نے ان پر اصرار کیا۔ ابن مبارک نے فرمایا لا وتم اپنی اپنی کا پیاں کہ میں ان کو پڑھوں سب لوگ اپنی اپنی لکھی ہوئی کتا بیں دور قریب سے ان کے پاس پھینکنے لگے ایک آدمی تھا اہل رائے میں سے وہ کتاب استیذ ان سنوانا چاہتا تھا اس نے جواپنی کا پی پھینکی تو وہ حضرت ابن مبارک کے پیشانی پر لگ گئی جس سے وہ جگہ پھٹ گئی اور خون بہنے لگا حضرت ابن مبارک خون بند کرتے جاتے تھے یہاں تک کہ خون رک گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا سبحان اللہ اس کے بعد کہا ۔ سبحان اللہ قریب تھا کہ وہ ماردیتی اس کے بعد اس آدمی ہی کی کتاب سے ابتداء کی اور پہلے اس کو انہوں نے پڑھا اور چیک کیا۔

مُوسَى بْنِ عُمَرَ ← محمد بن المنذر ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8320

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8321

8321 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانيء نا محمد بن إبراهيم بن مهران نا أحمد بن سنان قال : سمعت عبد الرحمن بن مهدي يقول سمعت سفيان بن عيينة يقول : قال عمر بن عبد العزيز إن من أحب الأعمال إلى الله عز و جل العفو عند القدرة و تسكين الغضب عند الحدة و الرفق بعياد الله قال : و قال عمر بن عبد العزيز لا عفو لمن لم يقدر و لا فضل لمن لم يقدر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن سالہ بن ہانی نے ان کومحمد بن اسماعیل بن مہران نے ان کو احمد بن سنان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن مہدی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ بے شک اللہ کے نزدیک محبوب ترین اعمال میں سے قدرت کے وقت درگذر کرنا، غصے کی تسکین کرنا اور اس کو ٹھنڈا کر نا حدت و تیزی کے وقت اللہ کے بندوں کے ساتھ نرمی کرنا کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ جوشخص کچھ کرنے کی قدرت ہی نہیں رکھتا اس کا در گذر کر نا کوئی معاف کرنا نہیں اور جس کو قدرت ہی نہیں اس کو کوئی فضیلت نہیں ہے۔

عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِهْرَانَ، ← أبو جعفر محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8321

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8322

8322 - أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي المؤذن أنا محمد بن علي بن الحسين ببخارا أنا أحمد بن عبد الله بن نصر الدمشقي نا وريزة بن محمد نا محمد بن شبيب قال : الهيثم قال خالد بن صفوان : إن أولى الناس بالعفو أقدرهم على العقوبة و انقص الناس عقلا من ظلم من هو دونه

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالخالق بن علی مؤذن نے ان کو محمد بن علی بن حسین نے بخارا میں ان کو احمد بن عبد اللہ بن نصر دمشقی نے ان کو دریزہ بن محمد نے ان کومحمد بن شعیب نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ہثیم نے وہ کہتے ہیں کہ کہا خالد بن صفوان نے بے شک معاف کرنے کے لئے سب سے زیادہ حق دار وہ ہے جو ان میں سے سزا دینے پر سب سے زیادہ قادر ہو۔اور عقل کے اعتبار سے سب سے زیادہ ناقص عقل والا وہ ہے جو اپنے آپ سے کمزور پر ظلم کرے۔

الْهَيْثَمُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَبِيبٍ ← وريزة بن محمد ← أحمد بن عبد الله بن نصر الدمشقي ← محمد بن علي بن الحسين ببخارا ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8322

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8323

8323 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا الحسن الكارزي يقول : سمعت علي بن أحمد بن حمدان البغدادي بنيسابور يقول : سمعت عبيد الله بن أحمد الرملي يقول : سمعت حمدان بن عمرو يقول : سمعت عبيد الله بن أحمد الرملي يقول : سمعت حمدان بن عمرو يقول : سمعت عبيد بن عمير يقول : في قصصه كان يقال : من حق الجار عليك أن تعرفه معروفك و تكف عنه أذاك و من حق القرابة أن تصله إذا قطعك و تعطه إذا حرمك و إن أولى الناس بالعفو أقدرهم على العقوبة و إن أنقص الناس عقلا من ظلم من هو دونه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اس نے سنا ابوحسن کارزی سے انہوں نے سنا علی بن محمد بن حمدان بغدادی سے نیسا پور میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبید اللہ بن احمد املی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا حمدان بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبید بن عمیر سے وہ مواعظ میں کہتے ہیں۔ کہا جا تا تھا کہ پڑوسی کا حق تجھ پر یہ ہے کہ تم اس کو اپنے اچھے کام سے آگاہ کر واور اس کو اپنی ایذا سے بچاؤ ۔ اور یہ بات حق قرابت داری میں سے ہے کہ جب تم سے کوئی قطع کرے تو تم اس سے جوڑو ۔ اور جب وہ تمہیں محروم کرے تو تم اسے دو ۔ بے شک سب لوگوں سے عفو و در گذر کرنے کا زیادہ حق دار وہ ہے جوان میں سے سزادینے پر سب سے زیادہ قدرت رکھتا ہواور سب سے زیادہ ناقص عقل والا وہ ہے جواپنے سے زیادہ کمزور پر ظلم کرے۔

عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حَمْدَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عبيد الله بن أحمد الرملي ← حَمْدَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عبيد الله بن أحمد الرملي ← علي بن أحمد بن حمدان البغدادي بنيسابور ← أَبَا الْحَسَنِ الْكَارِزِيَّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8323

chevron_left Previous
1…282930…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood