Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8288

8288 - و بمعناه رواه حاتم بن إسماعيل عن عبد الله بن هارون البجلي الكوفي عن ليث بن أبي سليم : ـ

اسی مذکور ہ مفہوم کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے خاتم بن اسماعیل نے عبداللہ بن ہارون بجلی کوفی سے اس نے لیث بن ابی سلیم سے۔

ليث بن أبي سليم ← عبد الله بن هارون البجلي الكوفي ← و بمعناه رواه حاتم بن إسماعيل

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8288

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8289

8289 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه و عبد الله يوسف الأصبهاني قالا نا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا إبراهيم بن الحارث البغدادي عن يحيى بن بكير نا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم خطبة إلى مغربان الشمس حفظها من حفظها و نسيها من نسيها و أخبرنا بما هو كائن إلى يوم القيامة حمد الله و أثنى عليه ثم قال أما بعد فإن الدنيا خضرة حلوة و إن الله تعالى مستخلفكم فيها فناظر كيف تعملون ألا فاتقوا الدنيا و اتقوا النساء إلا إن بني آدم خلقوا على طبقات شتى فمنهم من يولد مؤمنا و يحيى مؤمنا و يموت مؤمنا ومنهم من يولد كافرا و يحيا كافرا و يموت كافرا ومنهم من يولد مؤمنا و يحيا مؤمنا و يموت كافرا و منهم من يولد كافرا و يحيى كافرا و يموت مؤمنا ألا إن الغضب جمرة تتوقد في جوف ابن آدم ألم تروا إلى حمرة عيينه وانتفاخ أوداجه فإذا وجد أحدكم من ذلك شيئا فليلزق بالأرض ألا إن خير الرجال من كان بطيء الغضب سريع الفيء و شر الرجال من كان بطيء الفيء سريع الغضب فإذا كان الرجل سريع الغضب سريع الفيء فإنها بها و إذا كان بطيء الغضب بطيء الفيء فإنها بها ألا وإن خير التجار من كان حسن القضاء حسن الطلب و شر التجار من كان سيء القضاء سيء الطلب و إذا كان الرجل حسن القضاء سيء الطلب فإنها بها و إذا كان الرجل سيء القضاء حسن الطلب فإنها بها ألا لا يمنعن رجلا مهابة الناس أن يقول بالحق إذا علمه ألا إن لكل غادر لواء بقدر غدرته يوم القيامة ألا و إن أكبر الغدر غدر أمير العامة ألا وإن أفضل الجهاد من قال كلمة الحق عند سلطان جائر فلما كان عند مغيربان الشمس قال : ألا إن ما بقي من الدنيا فيما مضى منه كمثل ما بقي من يومكم هذا فيما مضى

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے اور عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث بغدادی نے ان کو یحییٰ بکیر نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن زید نے ان کو ابونصرہ نے ان کو ابوسعید خلدی نے وہ کہتے ہیں ہمیں رسول اللہ نے خطبہ دیا سورج کی دو مغربوں تک یا درکھا ان کو جس نے یادر کھا اور بھلا دیا جس نے بھلا دیا اور ہمیں آپ نے قیامت تک ہونے والی باتوں کی خبر دی اور اللہ کی حمد وثنا کی اس کے بعد کہا اما بعد بے شک دنیا تر و تازہ ہے اور میٹھی ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں میرے بعد بھی رکھے گا اور دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کر تے ہو خبر دارتم دنیا سے بچوتم عورتوں سے بچو۔ خبر دار بنوآدم مختلف طبقات پر پیدا کئے گئے ہیں ۔بعض وہ ہیں جو مؤمن پیدا ہوں گے اور مؤمن ہی زندہ رہیں گے ۔ اور مؤمن ہی مریں گے۔ بعض ان میں سے وہ ہیں جو جو کافر ہی کافر ہی زندہ رہیں گے اور کافر ہی مریں گے۔ بعض وہ ہیں جو مؤمن پیدا ہوں گے مؤمن ہی رہیں گے اور کافر مریں گے بعض وہ ہوں گے جو کافر پیدا ہوں گے کا فرزندہ رہیں گے اور مؤمن مریں گے خبر دار وہ ایک انگارہ ہے جو اولاد آدم کے پیٹ میں سلگتا ہے، کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں اس کی آنکھیں سرخ ہوتی ہیں ۔ گلے کی رگیں پھول جاتی ہیں، جب تم میں سے کوئی آدمی یہ کیفیت پائے تو اسے چاہئے کہ وہ زمین سے لگ جائے۔خبر دار بہترین آدمی وہ ہے جس کو غصہ دھیرے سے آئے مہربانی جلدی آئے ۔اور برا آدمی وہ ہے جس کو شفقت دیر سے آئے اور غصہ جلدی آئے۔ جب کسی آدمی کو جلدی غصہ آئے اور جلدی مہربان ہو جائے وہ تو بہتر ہے اور جس کو غصہ دیر سے آئے اور دیر سے اترے وہ بھی برا ہے ۔خبر دار تاجروں میں سے بہتر وہ ہے جس کا فیصلہ اچھا ہواورطلب بھی اچھی ہو اور بدتر تا جر وہ ہیں جن کا فیصلہ برا ہواور طلب بھی بری ہو۔ جب کسی میں حسن قضا اور بری طلب ہووہ اس کا عیب ہے ۔ اور جب کسی آدمی میں برائے فیصلہ اور حسن طلب ہے وہ بہتر ہے خبر دارلوگوں کا ڈر خوف کسی کو حق بات کہنے سے نہ رو کے جب دہ اس کو جانتا ہو۔ خبر دار ہر دھوکہ کر نے والے کے لئے قیامت کے دن اس کے دھوکے کے بقد را یک جھنڈا نصب ہوگا۔ خبر دار بے شک سب سے بڑا دھوکہ امیر عام کے ساتھ دھوکہ ہے ۔ خبردار افضل جہاد اس شخص کا ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہے۔ قیامت کے لئے خبر دار دنیا سے جو وقت باقی رہ گیا ہے اس کی مثال ایسے ہے۔ جیسے آج تمہارے اس دن کا حصہ باقی رہ گیا ہے اس کے وقت کے مقابلے میں گذر چکا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أبو طاهر الفقيه و عبد الله يوسف الأصبهاني

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8289

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8290

8290 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصغاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عمن سمع الحسن و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانيء نا أبو عمر و أحمد بن المبارك المستملي نا زكريا بن يحيى بن يحيى نا الحسين بن الوليد القرشي نا عوف عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم أن الغضب جمرة في قلب ابن آدم ألم تروا إلى انتفاخ أوداجه و حمرة عينيه فمن حس ذلك شيئا فإن كان قائما فليقعد و إن كان قاعدا فليضطجع و في رواية معمر توقد في قلب ابن آدم ألم تروا إلى احمرار عينيه فإذا وجد أحدكم ذلك فذكره قال : فليتكئ مكان فليضطجع هكذا جاء مرسلا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ صنعانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے اس سے حسن نے حسن سے سنا تھا اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو ابوعمر احمد بن مبارک مستملی نے ان کو زکریا بن یحییٰ بن یحیی نے ان کو حسین بن ولید قرشی نے ان کوعوف نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک غصہ ایک انگارہ ہوتا ہے ابن آدم کے دل میں کیا تم اس کی گردن کی رگیں پھولی ہوئی اور آنکھیں سرخ شد ہ نہیں دیکھتے جوشخص اس کیفیت میں سے کچھ محسوس کرےاگر وہ کھڑ اہوتو بیٹھ جائےاوراگر بیٹھا ہوتو لیٹ جائے۔اور معمر کی روایت میں ہے کہ ابن آدم کے دل میں سلگتا ہے فرمایا کہ تم دیکھتے نہیں اس کی دونوں آنکھیں سرخ ہوتی ہیں جب تم میں سے کوئی اس کیفیت کو پالے ۔ پھر حدیث کو اس نے مکمل ذکر کیا۔ فرمایا کہ اس کو دچاہئے کہ کسی جگہ نیک اور سہارالگا لے۔ لیٹنے کی جگہ یہ ہے۔اسی طرح یہ روایت مرسل آئی ہے۔

الْحَسَنِ، ← عَوْفٌ، ← الحسين بن الوليد القرشي ← زكريا بن يحيى بن يحيى ← أبو عمر و أحمد بن المبارك المستملي ← أبو جعفر محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← الحسن و ← معمر عمن ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8290

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8291

8291 - أخبرنا الأستاذ أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم أنا محمد بن محمد بن رزمويه نا يحيى بن محمد بن غالب نا إسحاق بن إبراهيم أنا إبراهيم بن خالد الصنعاني نا أبو وائل المرادي قال : كنا عند عروة بن محمد بن عطية فاغضبوه في شيء فدخل فتوضأ ثم خرج فقال حدثني أبي عن جدي عطية السعدي أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : الغضب من الشيطان و الشيطان خلق من النار و النار تطفأ بالماء فإذا غضب أحدكم فليتوضأ رواه أبو داود عن بكر بن خلف عن إبراهيم بن خالد بمعناه

ہمیں خبر دی استاد ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم نے ان کو محمد بن رزمویہ نے ان کو یحییٰ بن محمد بن غالب نے ان کو اسحاق بان ابراہیم نے ان کو ابراہیم بن خالد صنعانی نے ان کو ابو وائل مری نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عروہ بن محمد بن عطیہ کے پاس تھے انہوں نے اس کو کسی چیز میں ناراض کر دیا تھا ۔ وہ اندر گئے وضو کر کے باہر آئے اور کہنے لگے مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی تھی میرے دادا عطیہ سعدی سے کہ انہوں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے ۔ کہ غضب ( غصہ ) شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان آگ سے بنایا گیا ہے اور آگ پانی کے ساتھ بجھتی ہے جب تم میں سے کوئی آدمی غصہ ہو جائےتو اس کو چاہئے کہ وہ وضو کرے۔ اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے بکر بن خلف سے اس نے ابراہیم بن خالد سے اسی مفہوم میں ۔

أبو وائل المرادي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← يحيى بن محمد بن غالب ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَزْمَوَيْهِ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8291

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8292

8292 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق عن معمر عن زيد بن أسلم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الغضب من الشيطان و إن من الغضب طعنان في قلب ابن آدم ألا ترون كيف يذر أوداجه أحسبه قال و تحمر عيناه هذا منقطع

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زید بن اسلم نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور بے شک شیطان دومرتبہ ابن آدم کے دل میں کچوکا مارتا ہے کیا تم دیکھتے نہیں ہو کیسے اس کی رگیں پھول جاتی ہیں اور اس کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں ۔ یہ سند منقطع ہے ۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8292

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8293

8293 - أخبرنا أبو الحسين أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة قال : قال علي رضي الله عنه سبع من الشيطان : شدة الغضب شدة العطاس و شدة التثاؤب و القيء و الرعاب و النجوى و النوم عند الذكر

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین چیز یں شیطان کے اثر سے ہوتی ہیں۔شدیدغصہ، شدید جمائیاں ،شدید چھینکیں ،شدیدقہی ،شد ید نکسیر ،کا نا پھوسی کرنا اور ذکر کے وقت نیندآ تا ۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَينِ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8293

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8294

8294 - حدثنا أبو سعد عبد الملك بن محمد الواعظ و أبو حازم الحافظ قال نا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد السلمي نا أبو عبد الله محمد بن الحسن بن الخليل نا هشام بن عمار الدمشقي نا مخيس بن تميم عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الغضب ليفسد الإيمان كما يفسد الصبر العسل قال أبو حازم تفرد به هشام بن عمار عن مخيس بن تميم

ہمیں حدیث بیان کی ابوسعد عبدالملک بن محمد واعظ نے اور ان کو ابو حازم حافظ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوعمر واسماعیل بن نجید سلمی نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن حسن بن خلیل نے ان کو ہشام میں عمار دمشقی نے ان کو مخیس بن تمیم نے ان کو بہزبن حکم نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک غصہ ایمان کو ایسے خراب کر دیتا ہے جیسے ایلواشہید کو۔ ابو حازم نے کہا اس کے ساتھ ہشام بن عمارمخيس بن تمیم سے متفرد ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← مُخَيِّسُ بْنُ تَمِيمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن الحسن بن الخليل ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ ← أبو سعد عبد الملك بن محمد الواعظ و أبو حازم الحافظ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8294

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8295

8295 - أخبرنا أبو بكر بن الحسن القاضي أنا حاجب بن أحمد نا محمد بن حماد نا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال : كانوا يقولون إن الشيطان يقول كيف يغلبني ابن آدم و إذا رضي خبئت حتى أكون في قلبه و إذا غضب طرت حتى أكون في رأسه

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو محمد بن حماد بن ابی معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو خثیمہ نے وہ کہتے ہیں کہ ( علماء) کہتے تھے کہ شیطان کہتا ہے ابن آدم مجھ سے کیسے غالب آئےگا جب وہ خوش ہوتا ہے میں چھپ جا تا ہوں یہاں تک کہ میں اس کے دل میں ہوتا ہوں اور جب وہ غصہ کرتا ہے میں اوپراڑ تا ہوں یہاں تک کہ اس کے سر میں ہو جا تا ہوں ۔

كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو بكر بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8295

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8296

8296 - حدثنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا الزعفراني أنا حكام بن سلم الرازي نا أبو سنان عن ثابت عن عكرمة في قوله تعالى : و اذكر ربك إذا نسيت قال إذا غضبت

ہمیں حدیث بیان کی ابومحمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو زعفرانی نے ان کو حکام بن سلم رازی نے ان کو بوسنان نے ان کو ثابت نے مکرمہ سے اللہ کے اس قول کے بارے میں ۔ واذكر ربك اذا نسبت . یادکر وتم اپنے رب کو جب تم بھول جاؤ۔ فرمایا کہ مراد ہے جب تم غصے میں آ جاؤ۔

إِذَا غَضِبْتَ ← عكرمة في قوله تعالى و اذكر ربك إذا نسيت ← ثَابِتٍ، ← أَبُو سِنَانٍ ← حُکَّامِ بْنِ سَلْمٍ الرَّازِيِّ ← الزَّعْفَرَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8296

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8297

8297 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا حفص بن عمر الحوضي نا شعبة عن أبي إسحاق قال : سمعت أبا عبد الله الجدلي قال : سألت عائشة عن خلق رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت لم يكن فاحشا و لا متفحشا و لا صخابا في الأسواق و لا يجزي بالسيئة السيئة و لكن يعفو و يصفح

ہمیں خبر دی ابوالحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو حفص بن عمر حوضی نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبداللہ جدلی سے وہ کہتے ہیں میں نے سناسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ حضور فحش بات نہیں کرتے تھے اور نہ ہی بیہودہ بات کرتے تھے نہ ہی بازاروں میں کھڑے ہوکر شور کرتے تھے ۔اور حضور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معاف کرتے تھے اور درگذرکر تے تھے۔

خلق رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← أبا عبد الله الجدلي ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8297

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8298

8298 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا إبراهيم بن جعفر السختياني نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي نا ابن بكير نا الليث عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم أنه قال : بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : و ذكر كلمة الناس في بعيد أخلاقهم رجل سريع الرضا بعيد فذاك له لا عليه و رجل بعيد الرضا بعيد الغضب فذاك كفاك و رجل بعيد الرضا سريع الغضب فذاك عليه لا له

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابراہیم بن جعفر سختیانی نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم عبدی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کوزید بن اسلم نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور آپ نے لوگوں کے اخلاق کے بارے میں بات کی فر مایا ایک آدمی ہوتا ہے جو راضی جلدی ہوتا ہے اس کو غصہ دیر سے آ تا ہے ۔اس کو فائدہ ہوتا ہے۔ دوسرا ایک آدمی ہوتا ہے جس کو راضی خوشی دیر سے ہوتا ہے اور اس کو غصہ بھی دیر سے آ تا ہے۔اس کے لئے کفایت ہے۔ اور تیسر اوہ ہوتا ہے جو راضی دیر سے ہوتا ہے غصہ اس کو جلدی آ تا ہے اس پر یہ وبال ہوتا ہے اس کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اس پر کوئی وہال نہیں ہوتا ۔

بلغني ← زيد بن أسلم أنه ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← اللَّيْثُ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ محمد بن إِبْرَاهِيمُ الْعَبْدِيُّ ← إبراهيم بن جعفر السختياني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8298

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8299

8299 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا عثمان بن أبي شيبة نا وكيع بن الجراح عن أبيه عن شيخ يقال له طارق عن عمرو بن مالك الرواسي قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله أرض عني ؟ قال : فاعرض عني ثلاثا قال : قلت يا رسول الله إن الرب ليترضى فيرضى فارض عني قال : فرضي عنه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عثمان بن ابی شيبہ نے ان کو وکیع بن جراح نے ان کو ان کے والد نے ایک شیخ سے جسے طارق کہا جا تا ہے عمرو بن مالک احمد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے کہا یا رسول اللہ آپ مجھ سے راضی ہو جائیے۔ کہتے ہیں حضور نے تین بار مجھ سے منہ پھیر لیا۔ کہتے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ بے شک رب بھی راضی ہو جا تا ہے آپ بھی مجھ سے راضی ہو جائیے۔ کہتے ہیں کہ آپ ان سے راضی ہو گئے ۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الرُّوَاسِيِّ، ← شيخ يقال له طارق ← أَبِيهِ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8299

chevron_left Previous
1…262728…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood