شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8216
8216 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا منصور بن محمد بن إبراهيم أنا علي بن محمد بن نصرويه قال : سمعت يوسف بن الحسين يقول : ما صحبني متكبر قط إلا اعتراني داؤه لأنه يتكبر فإذا تكبر غضبت فإذا غضبت أداني الغضب إلى الكبر فإذا داءه قد اعتراني
ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو منصور بن محمد بن ابراہیم نے ان کو علی بن محمد بن نصرویہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یوسف بن حسین سے وہ کہتے ہیں نہیں میرے ساتھ بیٹھا کوئی متکبر بھی مگر اس کی بیماری مجھے بھی لگ گئی کیونکہ وہ تکبر کرتا ہے جب وہ تکبر کرتا ہے تو مجھے غصہ آتا ہے جب مجھے غصہ آتا ہے تو غصہ مجھے تکبر تک پہنچادیتا ہے لہذا اس کی بیماری مجھے بھی لگ گئی ہے ۔
يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← علي بن محمد بن نصرويه ← منصور بن محمد بن إبراهيم ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8216
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8217
8217 - أخبرنا أبو سعد سعيد بن محمد بن أحمد الشعيثي نا أبو أحمد عبد الرحمن بن محمد بن دله بحر فارس نا أحمد بن إسحاق بن أحمد بن زبرك نا سنيد بن داود عن ابن عيينة قال : من كانت معصيته في شهوة فأرجو له التوبة فإن آدم عصى مشتهيا فغفر له و إذا كانت معصيته في كبر فأخشى على صاحبه اللعن فإن إبليس أبى مستكبرا فلعن
ہمیں خبر دی ابوسعد سعید بن محمد بن احمد شعنعیی نے ان کو ابو احمد عبدالرحمٰن بن محمد بن دلہ ( بحر فارس ) نے ان کو احمد بن اسحاق بن زبری ) نے ان کو سنید بن داؤد نے ان کو ابن عیینہ نے وہ فرماتے ہیں جس شخص کا گناہ شہوت میں یعنی نفسانی خواہش میں ہو میں اس میں تو بہ قبول ہونے کی امید کرتا ہوں ۔ بے شک آدم علیہ السلام نے نافرمانی کی تھی طبیعی انتہا ءاور خواہش کے حوالے سے جو کہ ان کے لئے بخش دی گئی ۔ اور جب گناہ ہو تکبر اور غرور کے قبیلے سے تو اس گناہ کے مرتکب پر میں خوف کرتا ہوں کہ لعنتی بن جائے گا۔ بے شک ابلیس نے انکار کیا تکبر کرتے ہوئے اورلعنتی ہوگیا۔
ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← سُنَيْدَ بْنَ دَاوُدَ ← أحمد بن إسحاق بن أحمد بن زبرك ← أبو أحمد عبد الرحمن بن محمد بن دله بحر فارس ← أَبُو سَعْدٍ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشُّعَيْثِيُّ،
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8217
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8218
8218 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو الحسن علي بن محمد بن إسحاق نا علي بن عبد الحميد قال : سمعت محمد بن أبي الورد يقول : دون الفهم أغطية على القلوب قد حجبت الفهم الذنوب و التكبر على المؤمنين قال الله عز و جل : { سأصرف عن آياتي الذين يتكبرون في الأرض بغير الحق }
ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد بن اسحاق نے ان کو علی بن عبدالحمید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن ابوالور د سے وہ کہتے ہیں فہم کے آگے دلوں پر بہت سے پردے ہیں ۔ فہم کے آگے حجاب گناہ ہیں اور تکبر کرنا مؤمنوں پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ساصرف عن اياتي الذين يتكبرون في الارض بغير الحق. جولوگ زمین پر ناحق اتراتے ہیں عنقریب میں ان کواپنی نشانیوں سے پھیر دوں گا ۔
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَرْدِ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أبو الحسن على بن محمد بن اسحاق ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8218
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8219
8219 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنا أبو عثمان الخياط نا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا سليمان يقول : إن الله تعالى أطلع على قلوب الآدميين فلم يجد قلبا أشد تواضعا من قلب موسى عليه السلام فخصه بالكلام لتواضعه قال : و قال : غير أبي سليمان أوحى الله إلى الجبال أني مكلم عليك عبدا من عبيدي فتطاولت الجبال ليكلمه عليها و تواضع الطور قال : إن قدر شيء كان قال : وكلمه عليه لتواضعه
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعثمان خیاط نے ان کو احمد بن ابی الجواری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوسلیمان سے وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام آدمیوں کے دلوں پر جھانکا تو موسیٰ علیہ السلام کے دل سے بڑھ کر تواضع کے اعتبار سے زیادہ سخت دل نہ پایا اندر اس نے اسی کو اس کی تواضع کی وجہ سے اپنی ہم کلامی کے لئے منتخب کیا وہ کہتے ہیں کہ کہا غیر ابوسلیمان نے کہ اللہ نے وحی کی تھی پہاڑوں کی طرف کہ میں تیرے اوپر اپنے بندوں میں سے ایک بندے کے ساتھ کلام کروں گا لٰہذا تمام پہاڑ اترانے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اوپر کھڑے بندے سے کلام کرے گا مگر طور پہاڑ نے عاجزی کی ۔اس نے کہا کہ اگر ایک شئی حقدار ہو گی تو وہ ہوکر رہے گی اللہ تعالیٰ نے اس کی تواضع کی وجہ سے اس سے ہم کلامی کی۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8219
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8220
8220 - و أخبرنا أبو عبد الله الحسن بن محمد الدينوري أنا أبو القاسم عبد الله بن عبد الرحمن الدقاق نا محمد بن عبد العزيز نا أبو يوسف محمد بن أحمد الصيدلاني الرقي نا الوليد بن سلمة الأزدي حدثني النصر بن محرز و الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
إياكم و مشارة الناس فإنها تدفن الغرة و تظهر العرة قال الوليد : يعني بالغرة حسن الرجل تفرد به الوليد بن سلمة الأردني و له من أمثال هذا إفراد لم يتابع عليها و الله أعلم
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حسین بن محمد دینوری نے ان کو ابوالقاسم عبداللہ بن عبد الرحمٰن وفاق نے ان کو محمد بن عبدالعزیز نے ان کو ابو یوسف محمد بن احمد صید لانی رقی نے ان کو ولید بن سلمہ از دی نے ان کو حدیث بیان کی نصر بن محرز نے اور اوزاعی یحییٰ بن ابی کثیر سے اس نے ابو سلمہ سے اس نے ابوعبدالرحمٰن سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچاؤ تم اپنے آپ کو لوگوں کے ساتھ کثرت میل جول سے بے شک یہ عمل چہرے کی رونق کو دفن کر دیتا ہے اور عیب نمایاں کر دیتا ہے ۔ ولید نے کہا غرۃ سے مرادآ دمی کا حسن ہے ۔ ولید بن سلمہ اردنی کا اس میں تفرد ہے ۔اور اس کی ایسی کئی ایک اور روایات ہیں جن کا کوئی متابع نہیں ملتا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← النصر بن محرز و الأوزاعي ← الوليد بن سلمة الأزدي ← أبو يوسف محمد بن أحمد الصيدلاني الرقي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ، ← أبو القاسم عبد الله بن عبد الرحمن الدقاق ← أبو عبد الله الحسن بن محمد الدينوري ← و،
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8220
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8221
8221 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا علي سعيد بن أحمد البلخي يقول : سمعت أبي يقول : سمعت محمد بن عبيد يقول : سمعت خالي محمد بن الليث يقول : سمعت حامد اللفاف يقول : سمعت حاتم الأصم يقول : أصل الطاعة ثلاثة أشياء : الحزن والرضا و الحب و أصل المعصية ثلاثة أشياء : الكبر و الحرص و الحسد
میں نے سنا ہے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابوعلی سعید بن احمد بلخی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا محمد بن عید سے وہ کہتے میں نے سنا اپنے ماموں محمد لیث سے انہوں نے سنا حامد لفاف سے انہوں نے حاتم اصم سے وہ کہتے ہیں ۔ اطاعت کی اصل تین چیزیں ہیں ۔ حزن وغم ۔ رضا اور محبت اور معصیت کی بھی تین چیزیں ہیں ۔ تکبر ۔حرص۔حسد ۔
حَاتِمٌ الْأَصَمُّ، ← حامد اللفاف ← خالي محمد بن الليث ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← أَبِي ← أبا علي سعيد بن أحمد البلخي ← أبا عبد الرحمن السلمي
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8221
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8222
8222 - سمعت أبا عبد الرحمن يقول : سمعت أبا عمرو بن حمدان يقول : وجدت في كتاب أبي سمعت أبا عثمان يقول : الخوف من الله يوصلك إلى الله و الكبر و العجب في نفسك يقطعك عن الله و احتقار الناس في نفسك مرض عظيم لا يداوى
میں نے سنا ابوعبدالرحمٰن سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو عمرو بن حمدان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے یا یا اپنے والد کی کتاب میں کہ انہوں نے سنا ابوعثمان سے وہ کہتے تھے اللہ کا خوف تھے اللہ کی طرف بلائےگا۔اورتکبر وخود پسندی جو تیرے دل میں ہوں وہ تجھے اللہ سے کاٹ دیں گے اور تیرا لوگوں کو حقیر سمجھنا اپنے دل کے اندر بہت بڑی بیماری ہے جس کا علاج نہیں ہے۔
أَبَا عُثْمَانَ ← وجدت في كتاب أبي ← أَبَا عَمْرِو بْنَ حَمْدَانَ، ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8222
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8223
8223 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبي يقول : سمعت أبا علي الثقفي يقول : عنوان ديوان القرآء تعظيم أنفسهم وعنوان ديوان الفتيان احتقار أنفسهم
ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعلی ثقفی سے وہ کہتے ہیں ۔ قاریوں کے اعمال کے عنوان ونشان ان کا اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور نیک خصلت لوگوں کانشان ان کا اپنے آپ کو حقیر سمجھنا ہے۔
عنوان ديوان القرآء تعظيم أنفسهم وعنوان ديوان الفتيان احتقار أنفسهم ← أبا علي الثقفي ← أَبِي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8223
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8224
8224 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الفضل بن إبراهيم نا يوسف بن موسى المروروذي نا أحمد بن هارون بن آدم نا خلف بن تميم سمعت إبراهيم بن أدهم يقول : لا ينبغي للرجل أن يضع نفسه دون قدره ولا يرفع نفسه فوق قدره
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو یوسف بن موسیٰ مروزی نے ان کو احمد بن ہارون بن آدم نے ان کو خلف بن تمیم نے انہوں نے سنا ابراہیم بن ادہم سے وہ کہتے ہیں کسی آدمی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے مقام اور مرتبے سے نیچے گرائے اور یہ بھی کسی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنےآپ کواپنےمقام سے اونچادیکھائے۔
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ ← خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ← أحمد بن هارون بن آدم ← يوسف بن موسى المروروذي ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8224
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8225
8225 - أخبرنا أبو علي الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان أنا عثمان بن أحمد السماك نا عبد العزيز بن معاوية نا بنشر بن الوضاح نا حوقل أبو عبد الله قال : لما مات أبو عبد الله السرحسي رأيته في المنام فقال : ما منعك أن تصلي علي فاعتذرت ببعض ما يعتذر به الناس من الشغل فقال : أما إنك لو صليت علي لربحت رأسك قال : فأي شيء وجدتم أفضل ؟ قال : فأومأ بيد إلى الأرض و قال : التواضع التواضع
ہمیں خبر دی ابوعلی حسن بن احمد بن ابراہیم بن شاذان نے ان کو عثمان بن احمد سماک نے ان کو عبد العزیز بن معاویہ نے ان کو بشر بن وضاح نے ان کو حوقل ابو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں جب ابوعبداللہ سرخسی کا انتقال ہو گیا تو میں نے اس کو خواب میں دیکھا کہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ تم میرے اوپر نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھی میں نے اس کے آگے بعض عذر پیش کئے جولوگ عذر پیش کر تے میں مصروفیات وغیرہ کا انہوں نے کہا بہر حال بے شک تم اگر مجھ پر جنازہ پڑھ لیتے تو تمہیں فائدہ پہنچتا ۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ تم نے کون سی چیز کو افضل پایا؟ اس نے اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تواضع تواضع ۔
مَا مَنَعَكَ؟ ← لما مات أبو عبد الله السرحسي رأيته في المنام ← حوقل أبو عبد الله ← بنشر بن الوضاح ← عبد العزيز بن معاوية ← عثمان بن أحمد السماك ← أبو علي الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8225
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8226
8226 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف قال : سمعت أبا المكارم ناصر بن محمد يقول : سمعت أبا بكر الشبلي يقول : سمعت الجنيد بن محمد اليغدادي يقول : سمعت ذا النون المصري يقول : من كمال سعادة المرء سبع خصال صفاء التوحيد و غريزة العقل وكمال الخلق وحسن الخلق و خفة الروح وطيب المولد وتحقيق التواضع
ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بوالمکارم ناصر بن محمد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناذ والنون مصری سے وہ کہتے ہیں۔ آدمی کی کمال سعادت میں سے میں سات خصلتیں۔ تو حید کا خالص ہونا ،فطری طور پر عقل مندی، کمال خلق حسن خل ،، خفتہ روح ۔ پا کیز ہ ولادت تواضع و عاجزی کا پکا ہونا ۔
ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ ← الجنيد بن محمد اليغدادي ← أَبَا بَكْرٍ الشِّبْلِيَّ، ← أبا المكارم ناصر بن محمد ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8226
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8227
8227 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا عمرو يقول : سمعت أبا عبد الله السجزي يقول : علامة الأولياء ثلاث : تواضع عن رفعه وزهد عن قدرة و إنصاف عن قوة و هذا الكلام قد رويناه عن عبد الملك بن مروان أنه قيل له من أفضل الناس ؟ قال : من تواضع عن رفعة وزهد عن قدرة و أنصف عن قوة
میں نے ابو عبدالرحمٰن سلمی سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عمرو سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابوعبداللہ سنجری سے وہ کہتے ہیں کہ اولیاء کی علامتیں تین ہیں۔ رفعت و بلندی حاصل ہونے کے باوجود عاجزی کرنا۔ اسباب دنیا پر قدرت کے باوجود ترک دنیا کرنا ۔ طاقت وقدرت رکھنے کے باوجود انصاف کرنا۔اس کلام کو تم نے روایت کیا ہے عبدالملک بن مروان سے کہ ان سے کہا گیا تھا کہ سب لوگوں سے افضل کون ہے؟ فرمایا کہ جو شخص بلند مقام ہونے کے باوجود عاجزی کرے۔ اور دنیا پر قدرت کے باوجود جو ترک دنیا کرے اور طاقت وقوت رکھنے کے باوجود انصاف کرے۔
قوة ← قدرة و أنصف ← رفعة وزهد ← من تواضع ← عبد الملك بن مروان أنه قيل له من أفضل الناس ← قوة و هذا الكلام قد رويناه ← قدرة و إنصاف ← رفعة وزهد ← علامة الأولياء ثلاث تواضع ← أبا عبد الله السجزي ← أبا عمرو ← أبا عبد الرحمن السلمي
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8227