Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8204

8204 - أخبرنا أبو الحسين بن القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب نا عبد الله بن موسى أنا الأعمش عن منذر قال : كان الربيع بن خيثم يكنس حشه فقيل له فقال : إني لا أحب أن آخذ منه نصيبا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو اعمش نے منذر سے انہوں نے کہا کہ ربیع بن تنظیم اپنا جھاڑ وخودلگاتے تھے ۔ ان سے کہا گیا تو فرمایا میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں اس میں سے حصہ لوں ۔

إني لا أحب أن آخذ منه نصيبا ← كان الربيع بن خيثم يكنس حشه فقيل له ← مُنْذِرٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ← يَعْقُوبُ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو الحسين بن القطان

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8204

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8205

8205 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن سهل البخاري نا إبراهيم بن معقل نا حرملة نا ابن وهب حدثني مالك عن يزيد بن رومان عن سالم بن عبد الله : أنه كان يخرج إلى السوق في حوائج نفسه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی احمد بن سہل بخاری نے ان کو ابراہیم بن معقل نے ان کو حرملہ نے ان کو ابن و ہب نے ان کو حدیث بیان کی مالک نے ان کو یزید بن رحان نے ان کو سالم بن عبداللہ نے کہ وہ بازارخود جاتے تھے اپنے ذاتی ضروریات کو پورا کر نے کے لئے ۔

سالم بن عبد الله أنه كان يخرج إلى السوق في حوائج نفسه ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← مَالِكٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← إبراهيم بن معقل ← أحمد بن سهل البخاري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8205

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8206

8206 - قال : و اشترى سالم شملة فأتى بها المسجد فرمى بها إلى عبد الملك بن عمر بن عبد العزيز فحبسها عنده ساعة ثم قال : ألا نبعث من يحملها لك فقال سالم : أنا أحملها

وہ کہتے ہیں کہ سالم نے ایک شملہ خرید کیا اور اس کو مسجد میں لے آیا اور اسے عبد الملک بن عمر بن عبدالعزیز کی طرف پھینک دیا اس نے اسے تھوڑی دیر اپنے پاس رکھا پھر کہا کہ کیا ہم اس کو نہ بھیجیں جو اس کو آپ کے لئے اٹھا کر لے جائے۔سالم نےکہامیں اس کو اٹھاؤں گا۔

أحملها ← سَالِمٍ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8206

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8207

8207 - قال : و حدثني مالك قال : كان عبد الله بن عمر يخرج إلى السوق فيشتري و كان سالم رضي الله عنه دهره يشتري في الأسواق و كان من أفضل أهل زمانه فقيل لمالك أتكره الرجل الفاضل أن يخرج إلى السوق فيشتري حوائجه فيحابي بفضله ؟ فقال : لا و ما بأس بذلك قد كان سالم يفعل ذلك و قرأ مالك يأكل الطعام و يمشي في الأسواق فلأي شيء يمشون في الأسواق و ذكر مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يمشي في الأسواق قال الإمام أحمد رحمه الله : و إنما كره و ذلك للقاضي أن يتولى ذلك بنفسه خوف المحاباة و ربما أن يميل لأجلها عن الحق إذا رفع إليه من حاباه مكرمة و بالله التوفيق

انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے مالک نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر بازار کی طرف گئے اور کچھ خریدا اور سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے معاون تھے بازار سے خریداری کیا کرتے تھے اور اپنے زمانے کے افضل ترین لوگوں میں سے تھے ۔ مالک سے کہا گیا کیا قابل اور لائق فائق آدمی کو ناپسند کرتے ہیں کہ وہ بازار جائے خریداری کرے اپنی ضروریات کے مطابق پھر اپنے فضل کے ساتھ مدد کرے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے تحقیق تھے سالم یہ کام کرتے تھے اور مالک نے یہ آیت پڑھی ۔ با كل الطعام ويمشى فى الاسواق کھانا کھا تا ہے اور بازار میں چلتا ہے ۔کسی وجہ سے بازار میں جاتے ہیں مالک نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بازار میں چلتے تھے۔امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا سوائے اس کے نہیں کہ ناپسند کیا گیا۔اور قاضی کے لئے درست ہے کہ وہ خوداس کی ذمہ داری بوجہ طرف داری کے خوف کے ۔ کہ بسا اوقات اس کے لئے حق سے ہٹ جائے جب اس کے پاس ایسے بندے کا کیس آ جائے جس نے اس کی ہمدردی یاطرف داری کی تھی عزت کے لئے ۔

مَالِكٍ، ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8207

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8208

8208 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا يحيى بن الربيع المكي بمكة نا سفيان ابن عيينة عن ابن جريج عن ابن المرتفع عن ابن الزبير : و في أنفسكم أفلا تبصرون قال : سبيل الغائط و البول

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو یحییٰ بن ربیع مکی نے مکہ میں ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو ابن جریح نے ان کو این المرتفع نے ان کو ابن زبیر نے کہ وفی انفسکم افلا تبصرون.کہ تمہارے اپنے اندر نشانیاں ہیں کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔ فرمایا اس سے مراد پیشاب پاخانے کا راستہ (اور یہ نظام مراد ہے۔)

سبيل الغائط و البول ← ابن الزبير و في أنفسكم أفلا تبصرون ← ابن المرتفع ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سفيان ابن عيينة ← يحيى بن الربيع المكي بمكة ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8208

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8209

8209 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري قالا : نا الأصم نا الخضر بن أبان نا سيار نا جعفر ثنا ثابت قال : بلغنا أنه قيل يا رسول الله ما أعظم تجبر فلان ؟ قال : فقال : أليس بعده الموت

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد ابو محمد مقری نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی پہنچی ہے کہ کہا گیا یا رسول اللہ کس قد رفلاں کو زیادہ مجبور کیا جا تا ہے ۔ آپ نے فرمایا کیا اس کے بعد موت نہیں ہے۔

بلغنا أنه قيل ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← الأَصَمُّ: ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8209

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8210

8210 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى يقول : سمعت أبا محمد بن منصور يقول : سمعت محمد بن عبد الوهاب يقول : سمعت علي بن عثام يقول : قال الأحنف بن قيس و جفاه ابن الزبير ما ينبغي لمن خرج من مخرج البول مرتين أن يفخر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابومحمد بن منصور سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا محمد بن عبدالوہاب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن عثام سے وہ کہتے ہیں کہ احنف بن قیس نے کہا حالانکہ ابن زبیر نے اس پر زیادتی کی تھی ۔ کہ جو انسان دومرتبہ پیشاب کے راستے سے ہو کر گذرا ہو اور نکلا ہواس کے لئے کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ فخر کرے۔

عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أبا محمد بن منصور ← أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8210

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8211

8211 - قال علي : و قال بعضهم : ما بال من أوله نطفة مذرة و آخره جيفة قذرة و هو بين ذلك وعائه لقذره أن يفخر

کہاعلی نے کہ ان میں سے بعض نے کہا کیا حال ہے اس کا جس کی ابتدا ءنطفہ پھینکا ہوا ہوا نتہا ،مردار گندگی ہوتا ہواور وہ ان دونوں حالتوں کے درمیان گھر اہوا ہو کہ وہ فخر کرے۔

عَلِيٍّ و

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8211

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8212

8212 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو عبد الله الزبير بن عبد الواحد أخبرني أبو العباس أحمد بن يحيى بن بكير نا الربيع قال : سمعت الشافعي رحمه الله يقول : الكبر فيه كل عيب

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے ان کو عبداللہ زبیر بن عبد الواحد بن عبد الواحد نے ان کو خبر دی ابو اسحاق نے ان کو ابوعبداللہ زبیر بن عبد الواحد نے ان کو خبر دی ہے ابوالعباس احمد بن یحییٰ بن بکیر نے ان کو ربیع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا شافعی سے وہ کہتے ہیں تکبر وغرور کے اندر سارے عیب موجود ہیں۔

الكبر فيه كل عيب ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← أبو العباس أحمد بن يحيى بن بكير ← أبو عبد الله الزبير بن عبد الواحد ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8212

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8213

8213 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي نا محمد بن العباس الضبي نا محمد بن أبي علي نا الحسين بن إدريس نا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق نا هبان قال : قال ابن المبارك في كلام الفرس ما الذي لا يرضاه أحد ؟ قال : الكبر قيل فما الذي لا يكرهه أحد ؟ قال : التواضع

ہمیں حیرت بیان کی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عباس ضبی نے ان کو محمد بن ابوعلی نے ان کو حسین بن اور ادریس نے ان کو محمد بن علی بن حسن بن شقیق نے ان کو ہبان نے وہ کہتے ہیں ابن مبارک نے فرمایا۔ عقل مندوں کے کلام میں وہ کیا چیز ہے جس کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا؟ فرمایا کہ وہ تکبر ہے ۔ اور کہا گیا کہ وہ کیا چیز ہے جسے کوئی ابھی ناپسند نہیں کرتا ؟ فرمایا کہ وہ عاجزی ہے۔

التواضع ← الكبر قيل فما الذي لا يكرهه أحد ← ابن المبارك في كلام الفرس ما الذي لا يرضاه أحد ← هبان ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ، ← محمد بن العباس الضبي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8213

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8214

8214 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا محمد بن أحمد بن حامد العطار نا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار نا يحيى بن معين نا المبارك بن سويد حدثني زيد الكوفي عن رجل من أهل العلم قال : كان يقال : خمس خصال هن أقبح شيء فيمن هن فيه الحدة في السلطان و الكبر في ذي الحسب و البخل الغنى و الحرص من العالم و الفسق في الشيخ وثلاث هن أحسن شيء فيمن كن فيه تؤده في غير ذل وجود لغير ثواب و نصب لغير الدنيا

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو محمد بن احمد بن حامد عطار نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو مبارک بن سوید نے ان کوزید کوفی نے ایک آدمی سے اہل علم میں سے کہ کہا جا تا تھا کہ پانچ صفات ہیں جو جس میں ہو اس میں قبیح ترین صفات ہوتی ہیں بادشاہ میں تیزی۔ صاحب حسب نسب کے اندر تکبر غنی آدمی کے اندر بخل۔ حرص عالم کی اندر ۔ بدکاری بوڑھے کے اندر اور تین صفات ایسی ہیں جو سب سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں جس میں ہوں امانت داری غیر ذلت میں سخاوت غیر ثواب میں مشقت ، اٹھا نا غیر دنیا کے لئے ۔

رَجُلٌ، مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ← زيد الكوفي ← المبارك بن سويد ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← محمد بن أحمد بن حامد العطار، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8214

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8215

8215 - أخبرنا الإمام أبو الفتح العمري نا أبو الحسن علي بن عبد الله بن جهضم بمكة نا محمد ابن الحسن المقري نا يوسف بن الحسين يقول : سمعت ذا النون يقول : أربع خلال لها ثمرة العجلة و العجب و اللجاجة والشرة فثمرة العجلة الندامة و ثمرة العجب البغضة وثمرة اللجاجة الحيرة و ثمرة الشره الفاقة

ہمیں خبر دی امام ابوالفتح عمری نے ان کو ابوالحسن علی بن عبداللہ بن جہضم نے مکہ مکرمہ میں ان کو محمد بن حسن مقری نے ان کو یوسف بن حسین نے وہ کہتے ہیں میں نے سناذوالنون مصری سے وہ کہتے ہیں چار صفات میں ان کے لئے ثمرہ ہے اور انجام سے جلد بازی ۔خود پسندی۔ چپک کر سوال کرنا ۔ حرص و تیزی۔ جلد بازی کا ثمر و انجام ندامت ہے ۔ خود پسندی کا انجام بغض و نا پسندیدہ ہوتا ہے۔ چپک کر مانگنے کا انجام حیرانگی ہے اور لا لچ وحرص کا انجام بھو کا دین ہے۔

ذَا النُّونِ، ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← محمد ابن الحسن المقري ← أبو الحسن علي بن عبد الله بن جهضم بمكة ← الإمام أبو الفتح العمري

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8215

chevron_left Previous
1…192021…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood