شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8192
8192 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عياش بن تميم السكري نا يحيى بن أيوب الزاهد نا أبو إسماعيل المؤدب عن مسلم الأعور عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجلس على الأرض و يأكل على الأرض و يعتقل الشاة و يجيب دعوة المملوك قال أبو إسماعيل فحدثت به الأعمش عن مسلم قال : أما إنه قد كان يطلب العلم ثم حدثني عن مجاهد قال : لقد كان الرجل من أهل العوالي يدعو رسول الله صلى الله عليه و سلم شطر الليل على خبز الشعير فيجيبه كذا قال
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عیاش بن تمیم سکری نے ان کو یحیی ٰبن ایوب زاہد نے ان کو ابواسماعیل مؤدب نے ان کو مسلم اعور نے ان کو سعید بن جبر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھتے تھے زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے ۔ بکری کوخود باندھتے تھے غلام کی دعوت قبول کرتے تھے۔ ابواسماعیل نے کہا میں نے اس کے بارے میں حدیث بیان کی اعمش کومسلم سے تو انہوں نے کہا خبر دی بے شک وہ علم کی طلب کرتے تھے۔ پھر انہوں نے مجھ کو حدیث بیان کی مجاہد سے انہوں نے کہا البتہ ہوتا تھا ایک آدمی شہر کے کنارے سے آ تارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لےجا تا آدھی رات کو بھی جو کی روٹی کھلانے کے لئے حضوراس کے بلانے پر ہی جاتے تھے ۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8192
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8193
8193 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا : نا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن سليمان البرلسي نا عباد بن موسى نا أبو إسماعيل عن عبد الله مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يجلس على الأرض و يأكل على الأرض و يعتقل الشاة و يجيب دعوة المملوك
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ( آخرین میں )انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو ابراہیم بن سلیمان برسی نے ان کو عباد بن موسٰی نے ان کو خبر دی ابواسماعیل نے ان کو عبداللہ بن مسلم نے ان کو سعید بن جبر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم زمین پر بھی بیٹھ جاتے تھے زمین پر بیٹھ کر کھا بھی لیتے تھے بکری کو خود باندھ لیتے تھے غلام کی دعوت پر چلے بھی جاتے تھے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عبد الله مسلم ← أبو إسماعيل ← عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ← إبراهيمُ بنُ سليمانَ البُرلُّسيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ ← و،
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8193
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8194
8194 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور الرمادي نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري و هشام بن عروة عن عروة قال : سألت عائشة هل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعمل في بيته ؟ قال
: نعم كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يرفه ثوبه و يخصف نعله و يعمل في بيته كما يعمل أحدكم في بيته
ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور ا مادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے اور ہشام بن عروہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی کام کاج بھی کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے پھٹے ہوئے کو خودسی لیتے تھے اور اپنے جوتے کو خودگانٹھ لیتے تھے اور اپنے گھر میں ایسے کام کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر میں کام کرتا ہے۔
عُرْوَةَ ← الزهري و هشام بن عروة ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8194
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8195
8195 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا علي بن سهل نا شبابة بن سوار نا ابن أبي ذئب عن القاسم بن عباس عن نافع بن جبير بن مطعم عن أبيه قال : يقولون لي ابن التيه و قد ركبت الحمار و لبست الشملة و حلبت الشاة و قد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
من فعل هذا فليس فيه من الكبر شيء
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو علی بن سہل نے ان کو شبا بہ بن سوار نے ان کو ابن ابی ذئب نے قاسم بن عباس سے اس نے نافع بن جبیر بن مطعم سے اس نے اپنے والد سے وہ فرماتے ہیں کہ لوگ مجھے ابن التیہ کہتے تھے ۔ میں گدھے پر سواری بھی کر لیتا تھا او شملہ پہن لیتا تھا۔ کبری خود دوھ لیتا تھا اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو شخص سارے کام کرتا اس میں تکبر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8195
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8196
8196 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر نا سفيان عن أيوب الطائي عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال : لما قدم عمر بن الخطاب عرض الله عنه الشام عرضت له مخاضة فنزل عن بعيره و نزع موقيه فأمسكهما بيده فخاض في الماء و معه بعيره فقال له أبو عبيدة قد صنعت اليوم صنيعا عظيما عند أهل الأرض صنعت كذا و كذا قال : فصك في صدره و قال : آوه لو غيرك يقولها : يا أبا عبيدة إنكم كنتم أذل الناس و أحقر الناس و أقل الناس فأعزكم الله بالإسلام فمهما تطلبوا العز بغيره يذلكم الله
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار رضی اللہ عنہ نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو سفیان نے ان کو ایوب طائی نے ان کوقیس بن مسلم نے ان کو طارق بن شہاب نے وہ کہتے ہیں جب حضرت عمر بن خطاب آئے اللہ نے شام کو ان کے سامنے کیا ان کے آگے پانی کا گھاٹ سامنے آیا تو وہ اپنے اونٹ سے اترے انہوں نے اپنے جوتے اور موزے اتارے اور ان کو خود اپنے ہاتھ میں پکڑ ااور خود پانی میں اتر گئے جب کہ ان کے ساتھ ان کا اونٹ بھی تھا۔ حضرت ابوعبیدہ نے ان سے کہا کہ آپ نے تو آج بڑا عظیم کام کیا ہے اہل زمین کے نزد یک آپ نے ایسے ایسے کیا ہے کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا اوہ ! یایوں کہ آہ کاش کہ تم یہ نہ کہتے تمہاری جگہ کوئی اور کہتا یہ بات اے ابوعبیدہ !تم لوگ سب لوگوں میں سے ذلیل ترین لوگ تھے سب لوگوں میں سے حقیر ترین تھے قلیل ترین تھے اللہ نے تمہیں اسلام کی بدولت عزت عطا کی ہے لہذا تم جب بھی اسلام کے علاوہ عزت تلاش کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں ذلت سے دو چار کر دے گا ۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8196
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8197
8197 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن سهل نا إبراهيم بن معقل أنا حرملة أنا ابن وهب حدثني مالك عن عمه عن أبيه : أنه رأى عمر و عثمان إذا قدما من مكة ينزلان بالمعرض فإذا ركبوا ليدخلوا المدينة لم يبق منهم أحد إلا أردف وراءه غلاما فدخلا المدينة على ذلك قال : و كان عمر و عثمان يردفان فقلت له : أراد التواضع قال : نعم و التماس حمل الراجل لئلا يكون كغيرهم من المملوك ثم ذكر ما أحدث الناس من أن يمشوا غلمانهم خلفهم و هم ركبان و يغيب ذلك عليهم به
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی احمد بن سہل نے ان کو ابراہیم بن معقل نے ان کوحرملہ نے ان کو ابن وہب نے ان کو حدیث بیان کی ہے مالک نے ان کو ان کے چچا نے ان کو ان کے والد نے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا جب وہ مکے سے آئے تھے مقام معرص پر اترے تھے۔ جب سوار ہوئے مدینے میں داخل ہونے کے لئے کوئی بھی ان میں سے باقی نہیں رہا تھا مگر ہرایک سواری پر ڈبل سوار ہوا اس کے پیچھے لڑ کا اسی حالت میں مدینے میں داخل ہوئے کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ سواری پر ڈبل دونوں سوار تھے میں نے اس سے پوچھا کیا انہوں نے کہا کہ کیا انہوں نے تواضع و عاجزی کا ارادہ کیا تھا انہوں نے جواب دیاکہ جی ہاں ساتھ ساتھ پیدل والے کو سواری دینے کا بھی ارادہ کیا تھا تا کہ وہ دیگر بادشاہوں کی طرح نہ بن جائیں ۔اس کے بعد راوی نے وہ ذکر کیا جولوگوں نے گھڑلیا ہے کہ ان کے بارے میں یا لوگ جو ان کے بارے میں باتیں بیان کرتے ہیں کہ وہ پیدل چلتے تھے ان کے غلام ان کے پیچھے سواریوں پر ہوتے تھے اور اس کے ذریعے ان پر لوگ عیب لگاتے ہیں ۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8197
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8198
8198 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن أشعث بن سوار عن ابن سيرين قال : دخل حذيفة المدائن و هو على حمار و قد سدل رجليه من جانب و معه عرق لحم يتعرقه و هو أمير
ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کومحمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا اشعث بن سوار سے اس نے ابن سیرین سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ مدائن میں داخل ہوئے وہ گدھے پر سوار تھے اور انہوں نے اپنے دونوں پیر ایک طرف لٹکار کھے تھے وہ پسینے پسینے تھے حالانکہ وہ امیر تھے ۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8198
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8199
8199 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا مسلم بن إبراهيم الوراق نا عكرمة بن عمار نا محمد بن القاسم قال : و زعم عبد الله بن حنظلة بن راهب أنه رأى عبد الله بن سلام في السوق على رأسه حزمة يعني من حطب قال : فقلت له أليس قد أوسع الله عليك ؟ قال : بلى و لكن أدرت أن أرفع الكبر و قد سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
لا يدخل الجنة من في قبله مثقال حبة من خردل من كبر
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو مسلم بن ابراہیم وراق نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو محمد بن قاسم نے وہ کہتے ہیں کہ گمان کیا عبداللہ بن حنظلہ بن راہب نے کہ انہوں نے عبداللہ بن سلام کو بازار میں دیکھا ان کے سر پر لکڑیوں کی گھڑی تھی میں نے ان سے پوچھا کیا اللہ نے آپ کے او پر وسعت نہیں کر رکھی؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں لیکن میں نے چاہا کہ میں اس طرح کر کے اپنے غرور و تکبر کو مٹاؤں اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے۔ جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا۔
مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← مسلم بن إبراهيم الوراق ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8199
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8200
8200 - أخبرنا محمد بن أبي المعروف الفقيه أنا أبو سهل الإسفرايني نا أحمد بن الحسين الحذاء نا علي بن المديني نا إبراهيم بن عمر نا محمد بن مسلم عن ابن أبي نجيح عن أبيه قال : قال عمر : ليعجبني الرجل أن يكون في أهل بيته كالصبي فإذا ابتغى منه وجد رجلا
8200 - مكرر ـ قال : و نا علي نا محمد بن خازم نا الأعمش عن ثابت بن عبيد قال : كان زيد بن ثابت من أفكه الناس في أهله و أزمته عند القوم
ہمیں خبر دی محمد بن ابوالمعروف فقیہ نے ان کو ابو سہل اسفرائنی نے ان کو احمد بن حسین حذاء نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو ابراہیم بن عمر نے ان کو محمد بن مسلم نے ان کو ابن ابی نجیح نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر نے مجھے وہ مرداچھا لگتا ہے جو اپنے گھر میں بچے کی مثل ہو جب اس سے کوئی ضرورت طلب کی جائے تو مر دوالے کام کرے۔
(مکرر ہے ) کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی علی نے ان کومحمد بن حازم نے ان کواعمش نے ان کو ثابت بن عبید نے وہ کہتے ہیں کہ زید بن ثابت اپنے گھر میں سب لوگوں سے زیادہ خوش مزاج تھے اور اپنی سختی میں قوم کے نزدیک ۔
عمر ليعجبني الرجل ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بن عُمَرَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ ← أبو سهل الاسفرايني ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8200
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8201
8201 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا سويد بن سعيد نا بقية عن عمر بن موسى عن القاسم عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
من حمل بضاعته فقد برئ من الكبر
في إسناده ضعف
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کومحمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو سوید بن سعید نے ان کو بقیہ نے ان کو عمر بن موسیٰ نے ان کو قسم نے ان کو ابوامامہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص اپنا سامان خود اٹھائے وہ کبروغرور سے پاک ہو جا تا ہے ۔ اس کی اسناد میں ضعف ہے۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8201
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8202
8202 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو بكر الحميدي نا سفيان قال : كان أبو سنان يشتري الشيء من السوق فيحمله فيأتيه الرجل فيقول له : يا أبا سنان أنا أحمله لك فيأبى و يقول : أنه لا يحب المستكبرين
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو بکر حمیدی نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ ابوسنان ایسے تھے کہ وہ بازار سے کوئی چیز خریدتے تھے اور اس کو خود اٹھا لیتے تھے اگر کوئی آدمی ان سے کہتا کہ اے ابوسنان میں آپ کے ساتھ اٹھالیتا ہوں تو و منع کر دیتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
أنه لا يحب المستكبرين ← أحمله لك فيأبى و ← له يا أبا سنان ← كان أبو سنان يشتري الشيء من السوق فيحمله فيأتيه الرجل ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8202
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8203
8203 - قال سفيان و كان شيخا من العرب له ناحية حسنة قال سفيان و سمعت أبا سنان يقول : حلبت الشاة منذ اليوم و استقيت لأهلي رواية من ماء و كان يقال : خيركم أنفعكم لأهله
کہا سفیان نے جو عرب کے شیخ تھے ۔ ان کا خوبصورت باغ تھا سفیان نے کہا کہ میں نے ابوسفیان سے سنا تھا وہ کہتے تھے ۔ میں نے آج بکریوں کا دودھ خود نکالا ہے اور اپنے گھر والوں کو پلایا ہے پانی کی مشکیں بھر کر اور کہا جا تا تھا کہ تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جواپنے اہل خانہ کے لئے زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہے۔
أَبَا سِنَانٍ، ← سفيان و ← سفيان و كان شيخا من العرب له ناحية حسنة
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8203