شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8144
8144 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن أحمد بن محبوب الرملي بمكة نا عبد الله بن سعيد بن عبد الرحمن الزهري بمصر نا أسد بن موسى نا شعبة عن النعمان بن سالم عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
من تكبر تعظما وضعه الله و من تواضع لله تخشعا رفعه الله
ہمیں خبر دی ابوعبید اللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن احمد بن محبوب رملی نے مکہ مکرمہ میں ان کو عبد اللہ بن سعید بن عبد الرحمٰن زہری نے مصر میں ان کو اسد بن موسیٰ نے ان کو شعبہ نے ان کو نعمان بن سالم نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تکبر کرے بڑائی جتلانے کے لئے اور جوشخص اللہ کی رضا کے لئے عاجزی کرے خشوع ظاہر کرنے کے لئے اللہ اس کو اونچا کرے گا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← عبد الله بن سعيد بن عبد الرحمن الزهري بمصر ← أبو الحسن أحمد بن محبوب الرملي بمكة، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8144
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8145
8145 - أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني سكن بيهق أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ نا عبد الله بن سعيد بن عبد الرحمن بن الزهري بمصر : فذكره بإسناده مثله
ہمیں خبر دی ابومنصور احمد بن علی دامغانی نے وہ بیہق میں سکونت پذیر تھے ان کو خبر دی احمد بن عبداللہ بن عدی حافظ نے ان کو عبداللہ بن سعید بن عبد الرحمٰن زہری نے مصر میں اس نے اس کو ذکر کیا ہے اسی کی مثل ۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8145
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8146
8146 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف أنا أبو سهل الاسفرايني أنا أبو جعفر الحذاء نا علي بن المديني نا جرير بن عبد الحميد عن سليمان الأعمش عن المسيب بن رافع عن عامر بن عبده قال : قال عبد الله من يسمع يسمع الله به و من يرائي الله به و من تواضع لله خشوعا رفعه الله ومن تكبر خفضه الله عز و جل
ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن ابی المعروف نے ان کو ابو سہل اسفرائنی نے ان کو ابو جعفر حذاء نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو سلیمان اعمش نے ان کو مسیب بن رافع نے ان کو عامر بن عبدہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبداللہ نے جوشخص دوسرے کوسنوائے گا اللہ اس کو سنوائے گا اور جو دوسرے کو دیکھائے گا اللہ اس کو دیکھائے گا اور جو شخص اللہ کے لئے عاجزی کرے گا جھکتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرے گا اور جو شخص غرور و تکبر کرے گا اللہ اس کو پست و بے عزت کر دے گا۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8146
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8147
8147 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا ابن نمير عن الأعمش عن أبي ظبيان عن جرير بن عبد الله قال : نزلنا الصفاح فإذا رجل نائم في ظل شجرة قد أدركته الشمس فأمرت الغلام يظلل عليه قطعا حتى استيقظ فإذا هو سلمان الفارسي قال فحياني و حيتته فقال يا جرير بن عبد الله تدري ما الظلمات يوم القيامة قال : قلت لا
قال : هو ظلم الناس بينهم في الدنيا يا جرير بن عبد الله لو التمست في الجنة مثل هذه لم تجده و أخذ عودا من الأرض بين أصبعيه فقلت يا أبا عبد الله فأين النخل و الشجر ؟ قال : أصولها و سوقها ذهب و لؤلؤ و أعلاها تمر
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو ابوضبیان نے ان کو جریر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم وادی صفاح میں اترے اچا نک دیکھا تو ایک آدمی درخت کے سائے تلے سورہا ہے اس پر دھوپ آ رہی ہے ۔ میں نے غلام سے کہا اس پر کسی چیز کے ٹکڑے سے سایہ کرے یہاں تک کہ وہ جاگ گیا دیکھا تو وہ حضرت سلمان فارسی تھے ۔اس نے مجھے سلام کیا میں نے ان کو سلام کیا انہوں نے کہا اے جریر بن عبداللہ کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن اندھیرے کیا ہوں گے ۔ یا قیامت کے اندھیرے کیا ہیں؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ نہیں میں نہیں جانتا انہوں نے فرمایا کہ و ظلم ہوگا جو دنیا میں لوگوں نے ایک دوسرے پر کیا ہو گیا۔ اے جریر بن عبداللہ اگر آپ جنت اس کی مثل تلاش کر یں تو اس کو بھی نہیں پائیں گے اور زمین کے اوپر سے ایک لکڑی انہوں نے اٹھالی دو انگلیوں کے مابین ، میں نے کہا اے ابو عبداللہ کہاں جائیں گے کھجور کے درخت اور جنت کے درخت؟ فرمایا ان کی جڑ یں اور ان کے تنے سونے کے ہوں گے اور موتی ہوں گے اور اوپر والا حصہ ان کا کھجور کے پھل ہوں گے ۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8147
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8148
8148 - حدثنا أبو الحسن العلوي نا أبو محمد بن الشرقي نا عبد الله بن هاشم نا وكيع أخبرني أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا أحمد بن عبد الجبار نا حفص بن غياث كلاهما عن مسعد عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه عن الأسود بن يزيد عن عائشة قالت : يغفلون عن أفضل العبادة التواضع و في رواية حفص إنكم لتدعون أفضل العبادة التواضع
ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن علوی نے ان کو ابومحمد بن شرقی نے ان کو عبداللہ بن ہاشم نے ان کو وکیع نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو احمد بن عبد الجبار نے ان کو حفص بن غیاث نے دونوں نے مسعد سے اس نے سعید بن ابو بردہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے اسود بن یزید سے اس نے عائشہ سے وہ کہتی ہیں لوگ غافل ہیں افضل عبادت سے وہ عاجزی کرتا ہے اور حفص کی ایک روایت میں ہے کہ تم لوگ البتہ چھوڑ چکے ہو اصل عبادت کو یعنی تواضع کر نے کو۔
أفضل العبادة التواضع و في رواية حفص إنكم لتدعون أفضل العبادة التواضع ← يغفلون ← عَائِشَةَ ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← مُسْعَدٌ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ کِلَاهُمَا ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← أبو محمد بن الشرقي ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8148
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8149
8149 - حدثنا أبو طاهر الفقيه نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن الوليد حدثني أبي قال سمعت الأوزاعي يقول سمعت يحيى بن أبي كثير يقول : أفضل العمل الورع و خير العبادة التواضع
میں حدیث بیان کی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اوزاعی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا یحییٰ بن ابی کثیر سے وہ کہتے ہیں افضل عمل پر ہیز گاری ہے اور بہتر عبادت تواضع کرنا ہے۔
أفضل العمل الورع و خير العبادة التواضع ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8149
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8150
8150 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد نا أبو سعيد القهندري نا يحيى بن يحيى أنا أبو معاوية عن العوام بن جويبر عن الحسن عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
أربع لا تصبن إلا بعجب الصمت و هو أول العبادة و التواضع و ذكر الله و قلة الشيء
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو براہیم بن محمد بن حاتم زاہد نے ان کو ابوسعید مہندی نے ان کویحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابومعاویہ نے ان کو عوام بن جو یبر نے ان کو حسن نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار چیزیں ہیں نہیں حاصل ہوتیں مگر حیرانی کے ساتھ خاموشی ،وہ اول عبادت ہے اور تو اضع ۔اور ذکر اللہ ۔ اور قلت شئی ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← العوام بن جويبر ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبو سعيد القهندري ← إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8150
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8151
8151 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا عبد الله بن أحمد بن سعد نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي نا ابن عائشة نا حماد بن سلمة من عطاء بن السائب عن ميسرة أن سلمان قال : كان إذا سجدت له العجم طأطأ رأسه و قال خشعت لله خشعت لله و بإسناد عن عطاء بن السائب أن أبا البختري و أصحابه كان إذا يثني على أحد منهم و وجد عجبا في قلبه حتى ظهره و قال خشعت لله خشعت لله
ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو عبد اللہ بن احمد بن سعد نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم بوشنجی ابن عائشہ نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو میسرہ نے یہ کہ سلمان نے کہا تھا وہ جب اس کو عجمی سجد ہ کر تے تھے تو وہ اپنا سر نیچے کرتا تھا اور کہتا تھا میں نے اللہ کے لئے خشوع کیا ہے اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے عطاء بن سائب سے یہ کہ ابو سنجری اور اس کے اصحاب ایسے تھے کہ ان میں سے کسی کی تعریف ہوتی تو وہ اپنے دل میں خود پسندی کو پا تا تھا اور اس کو ظاہر کر دیتا اور کہتا کہ میں نے اللہ کے لئے عاجزی کی ہے میں نے اللہ کے لئے عاجزی کی ہے۔
مَيْسَرَةَ ← حماد بن سلمة من عطاء بن السائب ← ابْنُ عَائِشَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← عبد الله بن أحمد بن سعد ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8151
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8152
8152 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا الباغندي و عبد العزيز بن معاوية قال نا يحيى بن حماد
و أخبرنا أبو بكر الأشناني أنا أبو الحسن بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا محمد بن بشار نا يحيى بن حماد نا شعبة نا أبان بن تغلب عن فضيل بن عمرو عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر و لا يدخل النار من بقي في قلبه مثقال ذرة من إيمان
فقال رجل يا رسول الله الرجل يحب أن يكون ثوبه حسنا و نعله حسنا فقال رسول الله إن الله جميل يحب الجمال الكبر من بطر الحق و غمط الناس
لفظ حديث الإشناني و رواه مسلم عن محمد بن بشار و قوله : بطر الحق يعني الكبر عند الحق فلم يقبله و قوله غمط الناس يعني احتقرهم و قوله الكبر كبر من فعل هذا كقوله تعالى : و لكن البر من اتقى يعني البر بر من آمن بالله
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو باغندی نے اور عبدالعزیز بن معاویہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو یحییٰ بن حماد نے ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابو بکر اشنائی نے ان کو ابوالحسن بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو محمد بن بشار نے ان کو یحییٰ بن حماد نے ان کو شعبہ نے ان کو ابان بن تغلب نے ان کو فضیل بن عمروان کو ابراہیم نے ان کو علقمہ نے ان کو عبداللہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے برابر تکبر ہوگا ۔ اور وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان چاہتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہواوراس کا جوتا اچھا ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ مایہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالی ٰجمیل ہے اور وہ جمال کو پسند کرتا ہے تکبر کرنا اترانا ہے حق سے اور لوگوں کو حقیر جاننا یہ الفاظ اشنانی کی روایت کے ہیں ۔ اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے محمد بن بشار سے ۔ اور آپ کا یہ قول ۔بطر الحق ۔ یعنی از راہ تکبرحق کو نہ ماننا۔ یہ قول غمط الناس یعنی ان کو حقیر جاننا۔ اوریہ قول۔ الکبریعنی جس نے یہ فعل کیا اس نے تکبر کیا یہ ایسے ہے جیسے اللہ کا یہ قول ولكن البر من اتقی ۔لیکن نیکی والا وہ ہے جو تقوی ٰاختیار کرے یعنی نیکی اس شخص کی ہے یا نیک وہ شخص ہے جو اللہ کے ساتھ ایمان لایا۔
عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، ← اَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ← أبو بكر الأشناني ← يحيى بن حماد و ← الباغندي و عبد العزيز بن معاوية ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8152
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8153
8153 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان نا أبو اليمان و علي بن عياش الحمصيان قالا نا جرير بن عثمان عن سعيد بن مرثد قال : سمعت عبد الرحمن بن حوشب يحدث عن ثوبان بن شهر قال : سمعت كريب بن أبرهة و هو جالس مع عبد الملك في سطح و ذكروا الكبر فقال كريب سمعت أبا ريحانة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
لا يدخل شيء من الكبر الجنة
قال قائل : يا رسول الله إن أحب أن اتجمل بعلاق سوطي و شسع نعلي فقال النبي صلى الله عليه و سلم :
إن ذلك ليس بالكبر إن الله جميل يحب الجمال إنما الكبر من سفه الحق و غمص الناس بعينيه
و اللفظ لأبي اليمان
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابوالیمان نے اور علی بان عیاش حمصیان نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی جریر بن عثمان نے ان کو سعید بن مرثد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن حوشب نے وہ حدیث بیان کرتا ہے ثو بان بن شہر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا کریب بن ابرہہ سے وہ بیٹھے تھے عبدالملک کے ساتھ چھت پر انہوں نے تکبر کا ذکر کیا تو کریب نے کہا میں نے سنا تھا ابوریحانہ سے وہ کہہ رہے تھے میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے۔ تکبر میں سے کوئی چیز جنت میں نہیں جائے گی ۔ کسی کہنے والے نے کہا یا رسول اللہ اگر میں پسند کروں کہ میں خوبصورتی اختیار کروں اپنے چا بک کے دستے کو خوبصورت کر نے اور جوتے کے تسمے کو خوبصورت کرنے سے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیز تکبر نہیں ہے بے شک اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورت بننے کو پسند کرتا ہے سوائے اس کے نہیں کہ تکبر اس کا ہے جو حق کا انکار کرے اور لوگوں کو اپنے نظروں سے گرائے اور الفاظ ابوالیمان کے ہیں ۔
قَائِلٌ ← لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ مِنْ الْكِبْرِ الْجَنَّةَ ← أَبَا رَيْحَانَةَ ← كُرَيْبٍ، ← كريب بن أبرهة و هو جالس مع عبد الملك في سطح و ذكروا الكبر ← ثَوْبَانَ بْنِ شَهْرٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَوْشَبٍ ← سَعِيدِ بْنِ مَرْثَدٍ، ← جَرِيرُ بْنُ عُثْمَانَ ← أبو اليمان و علي بن عياش الحمصيان ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8153
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8154
8154 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا مروان بن شجاع حدثني إبراهيم بن أبي عبلة العقيلي من أهل بيت المقدس عن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف قال : التقي عبد الله بن عمر و عبد الله بن عمرو بن العاص على المروة فتحدثا ثم مضى عبد الله بن عمرو و بقي عبد الله بن عمر يبكي فقال له رجل مايبكيك يا أبا عبد الرحمن قال هذا يعني عبد الله بن عمرو أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من كبر كبه الله عز و جل على وجهه في النار
ہمیں خبر دی ابو طا ہر فقیہ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو حدیث بیان کی ہے ان کے والد نے ان کومروان بن شجاع نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن ابو عبلہ عقیلی نے اہل بیت المقدس سے اس نے ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں عبداللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عمرو بن العاص مقام مروہ پر ایک دوسرے سے ملے اور باتیں کرتے رہے اس کے بعد عبداللہ بن عمرو چلے گئے اورعبداللہ بن عمر باقی رہ گئے جو کہ رورہے تھے، کسی نے ان سے پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن کیوں رور ہے ہو اور کس نے آپ کو رولا یا ہے؟ وہ بولے کہ عبداللہ بن عمر نے رولایا ہے ۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی تھی آپ نے فرمایا تھا۔ جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا ۔
أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← إبراهيم بن أبي عبلة العقيلي من أهل بيت المقدس ← مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8154
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8155
8155 - أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي و أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن إبراهيم بن معاوية النيسابوري قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن عبد الله العبسي أنا وكيع عن الأعمش عن أبي حازم الأشجعي عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة و لا يزكيهم : شيخ زان و ملك كذاب و عائل مستكثر
ہمیں خبر دی ابوعبد الله اسحاق بن محمد بن یوسف سوسی نے اور ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن علی بن ابراہیم بن معاو یہ نیسا پوری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ عبسی نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو ابو حازم اشجعی نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین شخص ہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے ساتھ نہ تو کلام کرے گا اور نہ ہی ان کو پاک کرے گا۔ بوڑ ھازانی۔ جھوٹا بادشاہ اور مفلس زیادہ مانگنے والا ۔