Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في لين الجانب و سلامة الصدر · حديث 8132

8132 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا أبو بكر محمد بن هارون بن حجة نا أبو الوليد نا عمران بن زيد العمي عن زيد العمي عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صافح رجلا لم ينزع يده من يده حتى يكون الرجل هو الذي ينزع و لا يصرف وجهه حتى يكون الرجل هو الذي يصرف و لم ير يعني مقدما ركبتيه بين يدي جليس له قط

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کوابوبکر محمد بن ہارون بن حجہ نے ان کو ابوالولید نے ان کو عمران بن زیدعمی نے ان کو زیدعمی نے انس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی کے ساتھ مصافحہ کرتے (ہاتھ ملاتے ) تو اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں کھینچتے تھے بلکہ آگے والا آدمی خود اپنا ہاتھ پہلے کھینچتا تھا۔ اور نہ ہی اپنا منہ پھیرتے تھے بلکہ وہ آدمی چہرہ ہٹا تا تھا۔اور نہیں دیکھتے تھے یعنی آگے اس کے دوزانوں کو کبھی جو آپ کے آ گے بیٹھا ہوتا تھا۔

أَنَسٍ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← عمران بن زيد العمي ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أبو بكر محمد بن هارون بن حجة ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate the side and the integrity of the chest · Hadith 8132

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8133

8133 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو عبد الله محمد بن يزيد نا محمد بن الحسن بن الفرج نا أبو عمار ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا أبو عمار الحسين بن حديث ثنا الفضل بن موسى عن الحسين بن واقد عن مطر حدثني قتادة عن مطرف بن عبد الله بن الشخير عن عياض بن حمار أخي بني مجاشع قال : قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم خطيبا فذكر الحديث إلى أن قال إن الله عز و جل أوحى إلى أن تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد و في رواية السلمي عن عياض بن حمار أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : في خطبته إن الله عز و جل أوحى إلى أن تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد رواه مسلم في الصحيح عن أبي عمار و لا يبغي أحد على أحد

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوعبداللہ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یزید نے ان کو محمد بن حسن بن فرج نے ان کو ابوعمار نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو ابو عمار حسین بن حریث نے ان کوفضل بن موسیٰ نے ان کو حسین بن واحد نے ان کو مطر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی قتادہ نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے اس نے عیاض بن حمار بنی مجاشع کے بھائی سے انہوں نے فرمایا ہمارے اندرایک دن رسول اللہ کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے آپ نے بات بیان فرمائی یہاں تک کہ فر مایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے یہ کہ تم لوگ تواضع اور عاجزی کرو یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابوعمار سے اور نہ زیادتی کرے کوئی ایک کسی ایک پر ۔

عياض بن حمار أخي بني مجاشع ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← مَطَرٍ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أبو عمار الحسين بن حديث ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْفَرَجِ، ← أبو عبد الله محمد بن يزيد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8133

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8134

8134 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الخطاب نا ابن أبي عدي عن شعبة عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما نقصت صدقة من مال و لا عفا رجل من مظلمة إلا زاده الله عز و جل بها عزا و لا تواضع عبد الله إلا رفعه الله قال : و حدثنا يوسف نا أبو الربيع نا إسماعيل بن جعفر نا العلا بإسناده نحوه غير أنه قال : بالعفوا إلا عزا و ما تواضع أحد لله إلا رفعه الله أخرجه مسلم في الصحيح من حديث إسماعيل

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالخطاب نے ان کو ابن عدی نے ان کو شعبہ نے ان کو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کرنا کسی میں کمی نہیں کرتا ۔نہیں معاف کرتا کوئی آدمی کسی ظلم کو مگر اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ عزت دیتا ہے ۔اور جو بھی انسان عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف نے ان کو ابوالربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو العلا ء نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل علاوواز یں اس نے کہا ہے ۔ معاف کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ عزت دیتا ہے اور جو شخص تواضع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے اسماعیل کی حدیث سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو الْخَطَّابِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8134

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8135

8135 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسماعيل بن الفضل البخلي حدثني أبو موسى الهروي نا عباد بن العوام أبو سهل عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي أمامة عن عبد الله بن كعب بن مالك عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : البذاذة من الإيمان قال عباد يعني التقشف كذا قال عن أبيه 8135 - مكرر و قد روينا في كتاب الإيمان من حديث محمد بن مسلمة عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي أمامة عن عبد الله بن كعب عن أبي أمامة : فيحتمل أن يكون المراد بقوله عن أبيه أبي عبد الله بن أمامة و الله أعلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن فصل بلخی نے ان کو حدیث بیان کی ابوموسیٰ ھروی نے ان کو عباد بن عوام نے ابو سہل سے ان کو ابواسحاق بن فصل بلخی نے ان کو حدیث بیان کی ابوموسی ٰهروی نے ان کو عباد بن عوام ابو سہل نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو عبداللہ بن ابوامامہ نے ان کو عبداللہ بن کعب بن مالک نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا بذاذت ایمان میں سے ہے۔ عباد نے کہا کہ آپ کی مراد اس سے تقشف ہے اسی طرح کہا ہے اس نے اپنے والد سے ۔ (اس سے سادگی مراد ہے اور بے تکلفی ) ( مکرر ہے ) تحقیق ہم نے روایت کیا ہے کتاب الایمان میں حدیث محمد بن مسلمہ سے اس نے محمد بن اسحاق سے اس نے عبداللہ بن ابی امامہ سے اس نے عبداللہ بن کعب سے اس نے ابو امامہ سے احتمال رکھتا ہے کہ اس سے مراد ہو اس قول سے ۔ ان کے والد سے یعنی ابو عبداللہ بن ابوامامہ سے واللہ اعلم ۔ ۸۱۳۶ ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رز از نے ان کو عبد الرحمٰن بن محمد بن منصور نے ان کو عبد الرحمٰن مہدی نے ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفرقطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبد الرحمٰن نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو صالح بن ابو صالح نے ان کو عبد اللہ بن ابی امامہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :سادگی ایمان میں سے ہے، سادگی ایمان میں سے ۔ابن بشر نے زیادہ کیا ہے اپنی روایت میں کہ عبدالرحمٰن نے کہا اس سے مرادتو اضع ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عباد بن العوام أبو سهل ← أبو موسى الهروي ← إسماعيل بن الفضل البخلي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8135

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8136

8136 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا عبد الرحمن بن محمد بن منصور نا عبد الرحمن بن مهدي و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا عبد الرحمن نا زهير بن محمد عن صالح بن أبي صالح عن عبد الله بن أبي أمامة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم البذاذة من الإيمان البذاذة من الإيمان زاد ابن بشران في روايته قال عبد الرحمن يعني التواضع

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رز از نے ان کو عبد الرحمٰن بن محمد بن منصور نے ان کو عبد الرحمٰن مہدی نے ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفرقطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبد الرحمٰن نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو صالح بن ابو صالح نے ان کو عبد اللہ بن ابی امامہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :سادگی ایمان میں سے ہے، سادگی ایمان میں سے ۔ابن بشر نے زیادہ کیا ہے اپنی روایت میں کہ عبدالرحمٰن نے کہا اس سے مرادتو اضع ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عبد الرحمن بن مهدي و ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8136

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8137

8137 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا مالك بن يحيى نا يزيد بن هارون أنا عاصم بن محمد عن أبيه عن ابن عمر عن عمر بن الخطاب قال : لا أعلمه إلا رفعه قال : يقول الله عز و جل من تواضع لي هكذا و أشار بيده اليمنى بباطن كفه إلى الأرض و أدناها من الأرض رفعته هكذا و جعل باطن كفيه إلى السماء و رفعهما نحو السماء

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد مصری نے ان کو مالک بن یحییٰ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عاصم بن محمد نے اپنے والد سے اس نے ابن عمر سے اس نے عمر بن خطاب سے وہ کہتے ہیں میں اس کو نہیں جانتا مگر مرفوع روایت کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں جو شخص میرے لئے عاجزی کرے اس طرح ۔یعنی آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا اپنے ہاتھ کے اندر کے حصہ کے ساتھ زمین کی طرف اور اس کو زمین نے قریب کر دیا۔ میں نے اس کو اسی طرح مرفوع کیا ہے ۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کی اندرونی طرف کو آسمان کی طرف کیا اور ان کو آسمان کی طرف اٹھایا۔

لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مالك بن يحيى ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8137

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8138

8138 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن عبد الملك الدقيقي نا يزيد بن هارون نا عاصم بن محمد عن أبيه عن ابن عمر عن عمر قال : و أراه رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : يقول الله عز و جل من تواضع لي هكذا و بسط كفه اليمنى و أشار ببطنها إلى الأرض رفعته هكذا و بسط كفه اليمنى و أشار بباطنها إلى السماء و أرانا يزيد بن هارون

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کومحمد بن عبدالملک دقیقی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عاصم بن محمد نے اپنے والد سے ان کو ابن عمر نے ان کو عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس نے اس کو مرفوع کیا ہے نبی کریم کی طرف فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی ٰفرماتے ہیں: جوشخص میرے لئے عاجزی کرے اس طرح ، اور اپنی دائیں تھیلی کو کھول دیا اور دونوں ہتھیلیوں کے اندر کے حصے زمین کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے اس کو اسی طرح اور اپنی دائیں تھیلی کو پھیلا لیا اور اس کے اندر والے حصے کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا اور دیکھ لیا ہمیں یزید بن ہارون نے ۔

و أراه رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8138

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8139

8139 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف الاسفرائيني أنا أبو سهل بشر بن أحمد أنا أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء نا علي بن عبد الله المديني نا سفيان عن محمد بن عجلان أنه سمع بكير بن عبد الله بن الأشج يحدث عن معمر عن عبيد الله بن عدي بن الخيار بن نوفل قال سمعت عمر بن الخطاب عن المنبر يقول : إن العبد إذا تواضع لله رفع الله حكمته و قال انتعش نعشك الله و هو في نفسه حقير و في عين الناس كبير و إذا تكبر وعدا طوره الله و قصمه الله إلى الأرض و قال أخس أخساك فهو في نفسه كبير و في أعين الناس قليل حتى لهو أهون عليهم من الخنزير ثم قال عمر أيها الناس لا تبغضوا الله إلى عباده قالوا : و كيف ذاك أصلحك الله ؟ قال : يكون أحدكم إماما فيطول على القوم حتى يبغض إليهم ما هم فيه قال و نا علي نا عبد الله بن إدريس و سليمان بن حبان جميعا أنهما سمعا هذا الحديث من محمد بن عجلان عن بكير عن عبد الله بن الأشج من معمر بن أبي حبيبة عن عبيد الله بن عدي بن الخيارة قال : قال عمر فذكرا جميعا نحوا من حديث سفيان إلا أنه ليس في حديثهما قال : قال رجل و كيف ذاك أصلحك الله و قد روينا عاليا من حديث سفيان في كتاب المدخل

ہمیں خبر دی ابوالحسین محمد بن ابوالمعروف اسفرائنی نے ان کو ابو سہل بشر بن احمد سے ان کو ابوجعفر احمد بن حسین حذاء نے ان کوعلی بن عبد اللہ مد ینی نے ان کو سفیان نے ان کومحمد بن عجلان نے کہ اس نے سنا بکیر بن عبداللہ بن رشج کو وہ حدیث بیان کرتے ہیں معمر سے وہ عبید اللہ بن عدی بن خیار بن نوفل سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عمر بن خطاب سے منبر رسول پر کہتے تھے بے شک کوئی بندہ جب اللہ کے لئے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حکمت کو اونچا کرتا ہے بلند ہواللہ تجھے بلندی عطا کرے حالانکہ وہ انسان اپنے دل میں حقیر ہوتا ہے مگر لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوتا ہے اور کوئی انسان تکبر وغرور کرتا ہے اور زیادتی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو لپیٹ دیتا ہے اور اس کو توڑ دیتا ہے زمین کی طرف اور فرماتا ہے ذلیل ہو جاؤ اللہ نے تجھے ذلیل کر دیا ہے لہذادہ اپنے دل میں بڑا ہوتا ہے اور وہ لوگوں کی نظروں میں حقیر و کمتر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ان کی نظروں میں خنزیر سے بھی بے عزت ہو جاتا ہے اس کے بعد حضرت عمر نے فرمایا: اے لوگوتم لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کے بندوں کے نزدیک ناپسند یدہ نہ بناؤ لوگوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح کرے؟ فرمایا تم میں سے کوئی آدمی امام بنتا ہے پھر لمبی لمبی نماز پڑھا تا ہے لوگوں کو یہاں تک کہ لوگوں کے دلوں میں اس کیفیت و حالت کو نا پسند یدہ بنادیتا ہے جس میں وہ ہے ۔ اور تم میں سے کوئی آدمی وعظ کرنے بیٹھتا ہے اور لمبی لمبی تقریر کرتا ہے لوگوں کے سامنے جس کو ان کے دل میں ناپسندیدہ بنا دیتا ہے اس کیفیت کو جس میں وہ تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں خبر دی علی نے ان کو عبداللہ بن ادریس نے اور سلیمان بن حبان نے اکھٹے کہ انہوں نے سنا تھا اس حدیث کو محمد بن عجلان سے اس نے بکیر بن عبداللہ اشج سے اس نے معمر بن حبیبہ سے اس نے عبداللہ بن عدی بن خیار سے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر نے کہا۔ دونوں سب کو ذ کر کیا مثل حدیث سفیان کے مگر ان کی حدیث میں یہ بات نہیں ہے کہ ایک آدمی نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے اللہ آپ کی اصلاح کرے ۔ اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے مسند عالی کے ساتھ حدیث سفیان نے کتاب المدخل میں ۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ← أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء ← أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن محمد بن أبي المعروف الاسفرائيني

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8139

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8140

8140 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا علي بن المؤمل نا الكديمي نا سعيد بن سلام العطار نا الثوري عن الأعمش عن إبراهيم بن عابس بن ربيعة قال : قال عمر و هو المنبر أيها الناس تواضعوا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من تواضع لله رفعه الله فهو في نفسه صغير و في أعين الناس عظيم و من تكبر و ضعه الله فهو في أعين الناس صغير و في نفسه كبير حتى لهو أهون عليهم من كلب أو خنزير

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو علی بن مؤمل نے ان کو کد یمی نے ان کو سعید بن سلام عطار نے ان کو ثوری نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم بن عابس بن ربیعہ نے وہ کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا حالانکہ وہ منبر پر تھے اے لوگو! عاجزی کرو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے ۔ جوشخص اللہ کے لئے عاجزی کرے اللہ اس کو بلند کرے گا جب کہ وہ اپنے دل میں چھوٹا ہوگا اور لوگوں کی نظروں میں عظیم ہوگا اور جو شخص تکبر کرے گا اللہ اس کو نیچا کرے گا وہ لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوگا اور اپنے دل میں بہت بڑا ہو گا حتی ٰکہ وہ اس کے نزدیک بے قدر ہوگا کتے سے کہا تھایا کہ خنزیر سے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عمر و هو المنبر أيها الناس تواضعوا فإني ← إبراهيم بن عابس بن ربيعة ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← سعيد بن سلام العطار ← الكديمي ← عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8140

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8141

8141 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن يونس نا أبو علي الحنفي زمعة عن سلمة عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من آدمي إلا في رأسه سلستان سلسلة في السماء و سلسلة في الأرض فإذا تواضع العبد رفعه الملك الذي بيده سلسلة من السماء و إذا تجبر جذبته السلسلة التي في الأرض رواه أيضا عبد الله بن عبد الرحمن السمرقندي عن الحنفي

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبد صفار نے ان کو محمد بن یونسن نے ان کو ابوعلی حنفی زمعہ نے ان کو سلمہ نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ہر آدمی کے ساتھ دوز نجیریں اس کے سر کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ایک زنجیر زمین میں ہے اور دوسری زنجیرآ سان میں جب انسان عاجزی کرتا ہے تو وہ فرشتہ اس کی وہ ز نجیرکھینچتا جس کا سرا آسمانوں پر ہے اور جب وہ بڑائی کرتا ہے وہ زنجیر کھینچتا ہے جس کا سراز مین پر ہے ۔ اس کو روایت کیا عبداللہ بن عبد الرحمٰن سمرقندی نے حنفی سے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ، ← أبو علي الحنفي زمعة ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8141

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8142

8142 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن علي بن حشيش المقري بالكوفة أخبرنا أبو زرعة أحمد بن الحسين الرازي نا أبو محمد بن داود بن عبد الرحمن الكاتب ببغداد نا أبو موسى محمد بن المثنى الزمن نا عبيد الله بن عبد المجيد الثقفي نا زمعة بن صالح عن سلمة عن عكرمة عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من آدمي إلا في رأسه سلسلتان إحداهما في السماء السابعة و الأخرى في الأرض السابعة فإذا تواضع الله بالسلسلة التي في السماء و إذا أراد أن يرفع نفسه وضعة الله

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین محمد بن علی بن حشیش مقری نے کوفے میں ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوز رعد احمد بن حسین رازی نے ان کو ابو محمد بن داؤ دعبدالرحمٰن الکاتب نے بغداد میں ان کو ابوموسیٰ محمد بن مثنی زمن نے ان کوعبداللہ بن عبدالحمید ثقفی نے ۔ ان کو زمعہ بن صالح نے ان کو سلمہ نے ان کو عکر مہ نے ان کو ابن عباس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے فرمایا ۔ ہر آدمی کے سر میں دوز نجیر یں لگی ہیں ایک ان میں سے ساتو یں آسمان پر ہے اور دوسری ساتو یں زمین میں ہے جب وہ بندہ عاجزی کرتا ہے اللہ اس کو اس زنجیر کے ساتھ اونچا کر دیتا ہے جو آ سمان میں ہے اور جب وہ بندہ اپنے نفس کواونچا کرنا چاہتا ہے اللہ اس کو نیچا کر دیتا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عبيد الله بن عبد المجيد الثقفي ← أبو موسى محمد بن المثنى الزمن، ← أبو محمد بن داود بن عبد الرحمن الكاتب ببغداد ← أبو زرعة أحمد بن الحسين الرازي ← أبو الحسن محمد بن علي بن حشيش المقري بالكوفة

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8142

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8143

8143 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أحمد بن ين يوسف نا عثمان بن سعيد نا المنهال بن خليفة عن علي بن زيد بن جدعان عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من آدمي إلا في رأسه حكمة الحكمة بيد ملك فإن تواضع قيل للملك ارفع حكمته وإن ارتفع قيل للملك ضع حكمته تابعه علي بن عبد العزيز و غيره عن عثمان بن سعيد المري

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر فقطان نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو منہال بن خلیفہ نے ان کوعلی بن زید بن جدعان نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوبھی آدمی ہے اس کے سر میں حکمت و دانائی ہے اور حکمت ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہے اگر وہ عاجزی کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے اس کی حکمت کو اونچا کر دے اور وہ آدمی خود اونچا بنتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے نیچے کر دو اس کی حکمت کو ۔علی بن عبدالعزیز نے اور دیگر نے عثمان بن سعید مری اس حدیث کا متابع بیان کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن ين يوسف ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8143

chevron_left Previous
1…131415…48
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood