شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في لين الجانب و سلامة الصدر · حديث 8132
8132 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا أبو بكر محمد بن هارون بن حجة نا أبو الوليد نا عمران بن زيد العمي عن زيد العمي عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صافح رجلا لم ينزع يده من يده حتى يكون الرجل هو الذي ينزع و لا يصرف وجهه حتى يكون الرجل هو الذي يصرف و لم ير يعني مقدما ركبتيه بين يدي جليس له قط
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کوابوبکر محمد بن ہارون بن حجہ نے ان کو ابوالولید نے ان کو عمران بن زیدعمی نے ان کو زیدعمی نے انس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی کے ساتھ مصافحہ کرتے (ہاتھ ملاتے ) تو اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں کھینچتے تھے بلکہ آگے والا آدمی خود اپنا ہاتھ پہلے کھینچتا تھا۔ اور نہ ہی اپنا منہ پھیرتے تھے بلکہ وہ آدمی چہرہ ہٹا تا تھا۔اور نہیں دیکھتے تھے یعنی آگے اس کے دوزانوں کو کبھی جو آپ کے آ گے بیٹھا ہوتا تھا۔
أَنَسٍ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← عمران بن زيد العمي ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أبو بكر محمد بن هارون بن حجة ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate the side and the integrity of the chest · Hadith 8132
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8133
8133 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو عبد الله محمد بن يزيد نا محمد بن الحسن بن الفرج نا أبو عمار ح
و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا أبو عمار الحسين بن حديث ثنا الفضل بن موسى عن الحسين بن واقد عن مطر حدثني قتادة عن مطرف بن عبد الله بن الشخير عن عياض بن حمار أخي بني مجاشع قال : قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم خطيبا فذكر الحديث إلى أن قال إن الله عز و جل أوحى إلى أن تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد و في رواية السلمي عن عياض بن حمار أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : في خطبته إن الله عز و جل أوحى إلى أن تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد رواه مسلم في الصحيح عن أبي عمار و لا يبغي أحد على أحد
ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوعبداللہ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یزید نے ان کو محمد بن حسن بن فرج نے ان کو ابوعمار نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو ابو عمار حسین بن حریث نے ان کوفضل بن موسیٰ نے ان کو حسین بن واحد نے ان کو مطر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی قتادہ نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے اس نے عیاض بن حمار بنی مجاشع کے بھائی سے انہوں نے فرمایا ہمارے اندرایک دن رسول اللہ کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے آپ نے بات بیان فرمائی یہاں تک کہ فر مایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے یہ کہ تم لوگ تواضع اور عاجزی کرو یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابوعمار سے اور نہ زیادتی کرے کوئی ایک کسی ایک پر ۔
عياض بن حمار أخي بني مجاشع ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← مَطَرٍ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أبو عمار الحسين بن حديث ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْفَرَجِ، ← أبو عبد الله محمد بن يزيد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8133
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8134
8134 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الخطاب نا ابن أبي عدي عن شعبة عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما نقصت صدقة من مال و لا عفا رجل من مظلمة إلا زاده الله عز و جل بها عزا و لا تواضع عبد الله إلا رفعه الله
قال : و حدثنا يوسف نا أبو الربيع نا إسماعيل بن جعفر نا العلا بإسناده نحوه غير أنه قال : بالعفوا إلا عزا و ما تواضع أحد لله إلا رفعه الله أخرجه مسلم في الصحيح من حديث إسماعيل
ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالخطاب نے ان کو ابن عدی نے ان کو شعبہ نے ان کو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کرنا کسی میں کمی نہیں کرتا ۔نہیں معاف کرتا کوئی آدمی کسی ظلم کو مگر اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ عزت دیتا ہے ۔اور جو بھی انسان عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف نے ان کو ابوالربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو العلا ء نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل علاوواز یں اس نے کہا ہے ۔ معاف کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ عزت دیتا ہے اور جو شخص تواضع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے اسماعیل کی حدیث سے ۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8134
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8135
8135 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسماعيل بن الفضل البخلي حدثني أبو موسى الهروي نا عباد بن العوام أبو سهل عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي أمامة عن عبد الله بن كعب بن مالك عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
البذاذة من الإيمان
قال عباد يعني التقشف كذا قال عن أبيه
8135 - مكرر و قد روينا في كتاب الإيمان من حديث محمد بن مسلمة عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي أمامة عن عبد الله بن كعب عن أبي أمامة : فيحتمل أن يكون المراد بقوله عن أبيه أبي عبد الله بن أمامة و الله أعلم
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن فصل بلخی نے ان کو حدیث بیان کی ابوموسیٰ ھروی نے ان کو عباد بن عوام نے ابو سہل سے ان کو ابواسحاق بن فصل بلخی نے ان کو حدیث بیان کی ابوموسی ٰهروی نے ان کو عباد بن عوام ابو سہل نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو عبداللہ بن ابوامامہ نے ان کو عبداللہ بن کعب بن مالک نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا بذاذت ایمان میں سے ہے۔ عباد نے کہا کہ آپ کی مراد اس سے تقشف ہے اسی طرح کہا ہے اس نے اپنے والد سے ۔ (اس سے سادگی مراد ہے اور بے تکلفی )
( مکرر ہے ) تحقیق ہم نے روایت کیا ہے کتاب الایمان میں حدیث محمد بن مسلمہ سے اس نے محمد بن اسحاق سے اس نے عبداللہ بن ابی امامہ سے اس نے عبداللہ بن کعب سے اس نے ابو امامہ سے احتمال رکھتا ہے کہ اس سے مراد ہو اس قول سے ۔ ان کے والد سے یعنی ابو عبداللہ بن ابوامامہ سے واللہ اعلم ۔ ۸۱۳۶ ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رز از نے ان کو عبد الرحمٰن بن محمد بن منصور نے ان کو عبد الرحمٰن مہدی نے ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفرقطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبد الرحمٰن نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو صالح بن ابو صالح نے ان کو عبد اللہ بن ابی امامہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :سادگی ایمان میں سے ہے، سادگی ایمان میں سے ۔ابن بشر نے زیادہ کیا ہے اپنی روایت میں کہ عبدالرحمٰن نے کہا اس سے مرادتو اضع ہے ۔
أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عباد بن العوام أبو سهل ← أبو موسى الهروي ← إسماعيل بن الفضل البخلي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8135
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8136
8136 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا عبد الرحمن بن محمد بن منصور نا عبد الرحمن بن مهدي
و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا عبد الرحمن نا زهير بن محمد عن صالح بن أبي صالح عن عبد الله بن أبي أمامة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم البذاذة من الإيمان البذاذة من الإيمان زاد ابن بشران في روايته قال عبد الرحمن يعني التواضع
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رز از نے ان کو عبد الرحمٰن بن محمد بن منصور نے ان کو عبد الرحمٰن مہدی نے ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفرقطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبد الرحمٰن نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو صالح بن ابو صالح نے ان کو عبد اللہ بن ابی امامہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :سادگی ایمان میں سے ہے، سادگی ایمان میں سے ۔ابن بشر نے زیادہ کیا ہے اپنی روایت میں کہ عبدالرحمٰن نے کہا اس سے مرادتو اضع ہے ۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8136
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8137
8137 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا مالك بن يحيى نا يزيد بن هارون أنا عاصم بن محمد عن أبيه عن ابن عمر عن عمر بن الخطاب قال : لا أعلمه إلا رفعه قال : يقول الله عز و جل من تواضع لي هكذا و أشار بيده اليمنى بباطن كفه إلى الأرض و أدناها من الأرض رفعته هكذا و جعل باطن كفيه إلى السماء و رفعهما نحو السماء
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد مصری نے ان کو مالک بن یحییٰ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عاصم بن محمد نے اپنے والد سے اس نے ابن عمر سے اس نے عمر بن خطاب سے وہ کہتے ہیں میں اس کو نہیں جانتا مگر مرفوع روایت کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں جو شخص میرے لئے عاجزی کرے اس طرح ۔یعنی آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا اپنے ہاتھ کے اندر کے حصہ کے ساتھ زمین کی طرف اور اس کو زمین نے قریب کر دیا۔ میں نے اس کو اسی طرح مرفوع کیا ہے ۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کی اندرونی طرف کو آسمان کی طرف کیا اور ان کو آسمان کی طرف اٹھایا۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8137
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8138
8138 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن عبد الملك الدقيقي نا يزيد بن هارون نا عاصم بن محمد عن أبيه عن ابن عمر عن عمر قال : و أراه رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : يقول الله عز و جل من تواضع لي هكذا و بسط كفه اليمنى و أشار ببطنها إلى الأرض رفعته هكذا و بسط كفه اليمنى و أشار بباطنها إلى السماء و أرانا يزيد بن هارون
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کومحمد بن عبدالملک دقیقی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عاصم بن محمد نے اپنے والد سے ان کو ابن عمر نے ان کو عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس نے اس کو مرفوع کیا ہے نبی کریم کی طرف فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی ٰفرماتے ہیں: جوشخص میرے لئے عاجزی کرے اس طرح ، اور اپنی دائیں تھیلی کو کھول دیا اور دونوں ہتھیلیوں کے اندر کے حصے زمین کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے اس کو اسی طرح اور اپنی دائیں تھیلی کو پھیلا لیا اور اس کے اندر والے حصے کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا اور دیکھ لیا ہمیں یزید بن ہارون نے ۔
و أراه رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8138
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8139
8139 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف الاسفرائيني أنا أبو سهل بشر بن أحمد أنا أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء نا علي بن عبد الله المديني نا سفيان عن محمد بن عجلان أنه سمع بكير بن عبد الله بن الأشج يحدث عن معمر عن عبيد الله بن عدي بن الخيار بن نوفل قال سمعت عمر بن الخطاب عن المنبر يقول : إن العبد إذا تواضع لله رفع الله حكمته و قال انتعش نعشك الله و هو في نفسه حقير و في عين الناس كبير و إذا تكبر وعدا طوره الله و قصمه الله إلى الأرض و قال أخس أخساك فهو في نفسه كبير و في أعين الناس قليل حتى لهو أهون عليهم من الخنزير ثم قال عمر أيها الناس لا تبغضوا الله إلى عباده قالوا : و كيف ذاك أصلحك الله ؟ قال : يكون أحدكم إماما فيطول على القوم حتى يبغض إليهم ما هم فيه قال و نا علي نا عبد الله بن إدريس و سليمان بن حبان جميعا أنهما سمعا هذا الحديث من محمد بن عجلان عن بكير عن عبد الله بن الأشج من معمر بن أبي حبيبة عن عبيد الله بن عدي بن الخيارة قال : قال عمر فذكرا جميعا نحوا من حديث سفيان إلا أنه ليس في حديثهما قال : قال رجل و كيف ذاك أصلحك الله و قد روينا عاليا من حديث سفيان في كتاب المدخل
ہمیں خبر دی ابوالحسین محمد بن ابوالمعروف اسفرائنی نے ان کو ابو سہل بشر بن احمد سے ان کو ابوجعفر احمد بن حسین حذاء نے ان کوعلی بن عبد اللہ مد ینی نے ان کو سفیان نے ان کومحمد بن عجلان نے کہ اس نے سنا بکیر بن عبداللہ بن رشج کو وہ حدیث بیان کرتے ہیں معمر سے وہ عبید اللہ بن عدی بن خیار بن نوفل سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عمر بن خطاب سے منبر رسول پر کہتے تھے بے شک کوئی بندہ جب اللہ کے لئے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حکمت کو اونچا کرتا ہے بلند ہواللہ تجھے بلندی عطا کرے حالانکہ وہ انسان اپنے دل میں حقیر ہوتا ہے مگر لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوتا ہے اور کوئی انسان تکبر وغرور کرتا ہے اور زیادتی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو لپیٹ دیتا ہے اور اس کو توڑ دیتا ہے زمین کی طرف اور فرماتا ہے ذلیل ہو جاؤ اللہ نے تجھے ذلیل کر دیا ہے لہذادہ اپنے دل میں بڑا ہوتا ہے اور وہ لوگوں کی نظروں میں حقیر و کمتر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ان کی نظروں میں خنزیر سے بھی بے عزت ہو جاتا ہے اس کے بعد حضرت عمر نے فرمایا: اے لوگوتم لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کے بندوں کے نزدیک ناپسند یدہ نہ بناؤ لوگوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح کرے؟ فرمایا تم میں سے کوئی آدمی امام بنتا ہے پھر لمبی لمبی نماز پڑھا تا ہے لوگوں کو یہاں تک کہ لوگوں کے دلوں میں اس کیفیت و حالت کو نا پسند یدہ بنادیتا ہے جس میں وہ ہے ۔ اور تم میں سے کوئی آدمی وعظ کرنے بیٹھتا ہے اور لمبی لمبی تقریر کرتا ہے لوگوں کے سامنے جس کو ان کے دل میں ناپسندیدہ بنا دیتا ہے اس کیفیت کو جس میں وہ تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں خبر دی علی نے ان کو عبداللہ بن ادریس نے اور سلیمان بن حبان نے اکھٹے کہ انہوں نے سنا تھا اس حدیث کو محمد بن عجلان سے اس نے بکیر بن عبداللہ اشج سے اس نے معمر بن حبیبہ سے اس نے عبداللہ بن عدی بن خیار سے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر نے کہا۔ دونوں سب کو ذ کر کیا مثل حدیث سفیان کے مگر ان کی حدیث میں یہ بات نہیں ہے کہ ایک آدمی نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے اللہ آپ کی اصلاح کرے ۔ اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے مسند عالی کے ساتھ حدیث سفیان نے کتاب المدخل میں ۔
مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ← أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء ← أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن محمد بن أبي المعروف الاسفرائيني
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8139
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8140
8140 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا علي بن المؤمل نا الكديمي نا سعيد بن سلام العطار نا الثوري عن الأعمش عن إبراهيم بن عابس بن ربيعة قال : قال عمر و هو المنبر أيها الناس تواضعوا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
من تواضع لله رفعه الله فهو في نفسه صغير و في أعين الناس عظيم و من تكبر و ضعه الله فهو في أعين الناس صغير و في نفسه كبير حتى لهو أهون عليهم من كلب أو خنزير
ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو علی بن مؤمل نے ان کو کد یمی نے ان کو سعید بن سلام عطار نے ان کو ثوری نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم بن عابس بن ربیعہ نے وہ کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا حالانکہ وہ منبر پر تھے اے لوگو! عاجزی کرو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے ۔ جوشخص اللہ کے لئے عاجزی کرے اللہ اس کو بلند کرے گا جب کہ وہ اپنے دل میں چھوٹا ہوگا اور لوگوں کی نظروں میں عظیم ہوگا اور جو شخص تکبر کرے گا اللہ اس کو نیچا کرے گا وہ لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوگا اور اپنے دل میں بہت بڑا ہو گا حتی ٰکہ وہ اس کے نزدیک بے قدر ہوگا کتے سے کہا تھایا کہ خنزیر سے ۔
رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عمر و هو المنبر أيها الناس تواضعوا فإني ← إبراهيم بن عابس بن ربيعة ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← سعيد بن سلام العطار ← الكديمي ← عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8140
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8141
8141 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن يونس نا أبو علي الحنفي زمعة عن سلمة عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
ما من آدمي إلا في رأسه سلستان سلسلة في السماء و سلسلة في الأرض فإذا تواضع العبد رفعه الملك الذي بيده سلسلة من السماء و إذا تجبر جذبته السلسلة التي في الأرض
رواه أيضا عبد الله بن عبد الرحمن السمرقندي عن الحنفي
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبد صفار نے ان کو محمد بن یونسن نے ان کو ابوعلی حنفی زمعہ نے ان کو سلمہ نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ہر آدمی کے ساتھ دوز نجیریں اس کے سر کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ایک زنجیر زمین میں ہے اور دوسری زنجیرآ سان میں جب انسان عاجزی کرتا ہے تو وہ فرشتہ اس کی وہ ز نجیرکھینچتا جس کا سرا آسمانوں پر ہے اور جب وہ بڑائی کرتا ہے وہ زنجیر کھینچتا ہے جس کا سراز مین پر ہے ۔ اس کو روایت کیا عبداللہ بن عبد الرحمٰن سمرقندی نے حنفی سے ۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8141
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8142
8142 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن علي بن حشيش المقري بالكوفة أخبرنا أبو زرعة أحمد بن الحسين الرازي نا أبو محمد بن داود بن عبد الرحمن الكاتب ببغداد نا أبو موسى محمد بن المثنى الزمن نا عبيد الله بن عبد المجيد الثقفي نا زمعة بن صالح عن سلمة عن عكرمة عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
ما من آدمي إلا في رأسه سلسلتان إحداهما في السماء السابعة و الأخرى في الأرض السابعة فإذا تواضع الله بالسلسلة التي في السماء و إذا أراد أن يرفع نفسه وضعة الله
ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین محمد بن علی بن حشیش مقری نے کوفے میں ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوز رعد احمد بن حسین رازی نے ان کو ابو محمد بن داؤ دعبدالرحمٰن الکاتب نے بغداد میں ان کو ابوموسیٰ محمد بن مثنی زمن نے ان کوعبداللہ بن عبدالحمید ثقفی نے ۔ ان کو زمعہ بن صالح نے ان کو سلمہ نے ان کو عکر مہ نے ان کو ابن عباس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے فرمایا ۔ ہر آدمی کے سر میں دوز نجیر یں لگی ہیں ایک ان میں سے ساتو یں آسمان پر ہے اور دوسری ساتو یں زمین میں ہے جب وہ بندہ عاجزی کرتا ہے اللہ اس کو اس زنجیر کے ساتھ اونچا کر دیتا ہے جو آ سمان میں ہے اور جب وہ بندہ اپنے نفس کواونچا کرنا چاہتا ہے اللہ اس کو نیچا کر دیتا ہے۔
النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عبيد الله بن عبد المجيد الثقفي ← أبو موسى محمد بن المثنى الزمن، ← أبو محمد بن داود بن عبد الرحمن الكاتب ببغداد ← أبو زرعة أحمد بن الحسين الرازي ← أبو الحسن محمد بن علي بن حشيش المقري بالكوفة
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8142
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8143
8143 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أحمد بن ين يوسف نا عثمان بن سعيد نا المنهال بن خليفة عن علي بن زيد بن جدعان عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
ما من آدمي إلا في رأسه حكمة الحكمة بيد ملك فإن تواضع قيل للملك ارفع حكمته وإن ارتفع قيل للملك ضع حكمته
تابعه علي بن عبد العزيز و غيره عن عثمان بن سعيد المري
ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر فقطان نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو منہال بن خلیفہ نے ان کوعلی بن زید بن جدعان نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوبھی آدمی ہے اس کے سر میں حکمت و دانائی ہے اور حکمت ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہے اگر وہ عاجزی کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے اس کی حکمت کو اونچا کر دے اور وہ آدمی خود اونچا بنتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے نیچے کر دو اس کی حکمت کو ۔علی بن عبدالعزیز نے اور دیگر نے عثمان بن سعید مری اس حدیث کا متابع بیان کیا ہے ۔