Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7957

7957 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا أحمد بن سلمان النجاد و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر أحمد بن سلمان عن الحسن بن يونس الزاهد ببغداد نا جعفر بن أبي عثمان الطيالسي نا محمد بن يزيد بن عبد الملك أبو عثمان الكاهلي نا سعيد بن زيد القطيعي نا قتادة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صل من قطعك و أعف عمن ظلمك فقال رجل يا رسول الله هل بقي من بر والدي شيء بعد موتهما ؟ قال خلال الإستغفار لهما و انفاد و صيتهما و اكرام صديقها و صلة الرحم التي لا رحم إلا بهما

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو احمد بن سلمان نجار نے اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان نے ان کو حسن بن یونس زاہد نے بغداد میں ان کو جعفر بن ابوعثمان نے ان کو قتادہ نے ان کوانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ تعلق جوڑ یئے جو تم سے منقطع کرے اور اس سے درگذر کیجئے جو آپ کے اوپرظلم کرے۔ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا میرے والدین کے ساتھ نیکی کرنا ان کی موت کے بعد بھی کچھ باقی رہ گیا ہے؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ان دونوں کے لئے استغفار کرنا اور ان کی وصیت پوری کر نا اور صلہ رحمی کرنا اس رشتہ کی جوصرف والدین کی طرف سے ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سعيد بن زيد القطيعي ← محمد بن يزيد بن عبد الملك أبو عثمان الكاهلي ← جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ← الحسن بن يونس الزاهد ببغداد ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أحمد بن سلمان النجاد و ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7957

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7958

7958 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر من رجل عن عكرمة قال : قال عمر بن الخطاب : ليس الوصل أن تصل من وصلك ذلك القصاص و لكن الوصل أن تصل من قطعك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ایک آدمی سے اس نے عکرمہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا وصل اور ملاپ یہ نہیں ہے کہ جو تجھ سے جوڑے تو بھی اس کے ساتھ جوڑ لے ۔ یہ تو بدلہ ہوا بلکہ جوڑ نا تو یہ ہے کہ جو تجھ سے تعلق قطع کرے تم اس کے ساتھ جوڑو۔

عِكْرِمَةَ، ← معمر من رجل ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7958

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7959

7959 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي املاء نا محمد بن المؤمل أنا الفضل بن محمد الشعراني نا سعيد بن أبي مريم نا يحيى بن أيوب عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة عن عقبة بن عامر قال : لقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فبادرت فأخذت بيده أو فبادرني فأخذ بيدي فقال لي يا عقبة ألا أخبرك بأفضل أخلاق أهل الدنيا و الآخرة ؟ تصل من قطعك و تعطي من حرمك و تعفو عمن ظلمك ألا و من أراد أن يمد له و في عمره و يوسع له رزقه فليصل ذا رحم منه رواه ابن وهب عن يحيى بن أيوب عن عبيد الله بن زهر عن القاسم

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبد الرحمٰن سلمی نے بطور املاء کے ان کومحمد بن مؤمل نے ان کو فضل بن محمد شعرانی نے ان کو سعید بن ابی مریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کوعلی بن یزید نے ان کو قاسم نے ان کو ابوامامہ نے ان کوعقبہ بن عامر نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا میں نے جلدی سے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ یا یوں کہا تھا کہ انہوں نے جلدی کی اور میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے سے فرمانے لگے اے عقبہ کیا میں تجھے دنیا اور آخرت کے بہترین اخلاق کے بارے میں نہ بتلا دوں؟ جو تجھ سے کاٹے اس کے ساتھ جوڑ یئے اور جو تجھے محروم کرے اس کو عطا کیجئے ۔ اور تجھ پر ظلم کرے اس سے درگذر کیجئے۔ خبر دار جو چاہتا ہے کہ اس کی عمر میں درازی کی جائے اور اس کے رزق میں فراخی کی جائے وہ صاحب قرابت لوگوں سے جوڑ پیدا کرے۔اس کو روایت کیا ہے ابن وہب نے یحییٰ بن ایوب سے اس نے عبیداللہ بن زبیر سے اس نے قاسم سے ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7959

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7960

7960 - حدثنا أبو سعد بن أبي عثمان الزاهد أنا أبو سهل بشر بن أحمد التميمي نا محمد بن يحيى ابن سليمان المروزي نا عاصم بن علي نا شعبة أخبرني عيينة بن عبد الرحمن قال : سمعت أبي يحدث عن أبي بكرة الثقفي : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من ذنب أحرى أن يعجل الله عز و جل لصاحبه العقوبة في الدنيا مع ما يدخر له في الآخرة في قطيعة الرحم و البغي

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوسعد بن ابی عثمان زاہد سے اس نے ابو سہل بن بشر بن احمد تمیمی سے اس نے محمد بن یحییٰ بن سلیمان مروزی سے اس نے عاصم بن علی سے اس نے شعبہ سے اس کو عیینہ بن عبدالرحمٰن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابوبکر ثقفی سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں کہ نہیں کوئی گناہ جو اس قابل ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو دنیا میں سزادینے میں جاری کر ے باوجود یکہ و ہ اس کا گناہ اس کے لئے آخرت میں بھی جمع رہے (یعنی آخرت میں بھی اس کی سزا موجودر ہے )مگروہ قطع رحمی کرنا اور ظلم کرتا ہے۔ (یاز نا کرنا )

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرَةَ الثَّقَفِيِّ، ← أَبِي ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← محمد بن يحيى ابن سليمان المروزي ← أبو سهل بشر بن أحمد التميمي ← أبو سعد بن أبي عثمان الزاهد

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7960

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7961

7961 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عمر بن برهان الغزال و أبو الحسين القطان و أبو محمد السكري قالوا نا إسماعيل بن محمد الصفار نا الحسن بن عرفة نا حفص بن غياث عن الحجاج بن أرطاة عن محمد بن عبد العزيز الراسبي عن مولى لأبي بكره عن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ذنبان يعجلان لا يغفران البغي و قطيعة الرحم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حسین بن عمر بن بر ہان غزال نے اور ابوالحسین قطان نے اور ابو محمد عسکری نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو حجاج بن ارطات نے ان کو محمد بن عبد العزیز وارسبی نے ان کومولیٰ ابو بکرہ نے ان کو ابوبکرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دینے میں جلدی کی جاتی ہے اور وہ معاف نہیں کئے جاتے ظلم اور قطع رحمی ۔

أَبِي بَكْرَةَ ← مولى لأبي بكرة ← محمد بن عبد العزيز الراسبي ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7961

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7962

7962 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا محمد بن عبيد نا أبو حماد الأسلمي نا عبد الله بن أبي أوفى قال : كنا جلوسا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم عشية عرفة في حلقة فقال لي لا يحل لرجل أمسى قاطع رحم إلا قام عنا فلم يقم إلا فتى كان في أقصى الحلقة فأتى خالة له فقالت ما جاء بك هذا عن أمرك فأخبرها بما قال النبي صلى الله عليه و سلم ثم رجع فجلس في مجلسه فقال له النبي صلى الله عليه و سلم ما لي لم أر أحدا قام من الحلقة غيرك الرحمة على قوم فيهم قاطع رحم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو ابوحماد اسلمی نے ان کو عبد اللہ بن ابی اوفیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ کے حلقے میں عرفہ کی شام کے وقت حضور نے مجھ سے فرمایا کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے جس نے شام کی ہے درانحالانکہ وہ قطع رحمی کرنے والا ہے مگر وہ ہم سے اٹھ جائے ۔ ایک آدمی کے سوا کوئی نہیں اٹھا جو حلقہ رسول کے آخر میں بیٹھا ہوا تھا اوروہ سیدھا اپنی خالہ کے پاس گیا اور اس کو یہ بات بتائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ۔ جب خالہ نے اس سے پوچھا کہ اس وقت تم کیسے آئے ہو۔ اس کے بعد وہ شخص واپس آیا اور اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے تم ہی صرف مجلس سے اٹھے ہو؟ اس نے حضور کو وہ بات بتائی جو اس نے اپنی خالہ سے کہی تھی اور جو خالہ نے اس سے کہی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کوفر مایا کہ تم بیٹھے رہوتم نے اچھا کیا۔ خبر دار بے شک اس قوم پر رحمت نازل نہیں ہوتی جن میں قطع رحمی کرنے والا ہو۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← أبو حماد الأسلمي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7962

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7963

7963 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا ابن وهب أنا سليمان بن بلال عن قادمة بن موسى عن ابن دينار : أن كعب الأحبار جلس يوما يقص بدمشق حتى إذا فرغ قال إنا نريد أن ندعوا فمن كان منكم يؤمن بالله و اليوم الآخر و كان قاطعا إلا قام عما فقام فتى من القوم فولى إلى عمة له كان بينه و بينها هجرة فدخل عليها فصالحها فقالت ما بدالك قال : سمعت كعبا يقول كذا و كذا و قال كعب إن الأعمال تعرض كل يوم خمسين و اثنين إلا عمل قاطع يجلجل بين السماء و الأرض

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابوالعباس بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ابن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کوقد امہ بن موسیٰ نے ان کو ابن دینار نے کہ حضرت کعب الاحبار ایک دن جامع مسجد دمشق میں بیٹھے وعظ فرمارہے تھے حتی ٰکہ جب وہ فارغ ہو گئے تو فرمایا کہ ہم لوگ دعا کرنا چاہتے ہیں جو شخص تم میں سے اللہ کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اور آخرت کے ساتھ اور وہ قاطع رحم بھی ہے وہ ہم لوگوں میں سے اٹھ کر چلا جائے لوگوں میں سے ایک آدمی اٹھ کر چلا گیا اور وہ اپنی پھوپھی کے پاس گیا اس کے اور پھوپھی کے درمیان قطع تعلق تھا اس کے پاس جا کر اس سے صلح کر لی پھوپھی نے پوچھا کہ تم کیا دیکھ کر آئے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے حضرت کعب سے سنا وہ ایسے ایسے فرمارہے تھے اور حضرت کعب نے فرمایا کہ ہر جمعرات اور پیر کولوگوں کے اعمال اللہ کے ہاں پیش کئے جاتے ہیں سوائے قطع رحمی کرنے والے کے کہ اس کے اعمال آسمان وزمین کے درمیان معلق رہتے ہیں۔

ابْنِ دِينَارٍ، ← قادمة بن موسى ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7963

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7964

7964 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصغاني نا إسحاق بن إبراهيم نا عبد الرزاق عن معمر عن الأعمش قال : كان ابن مسعود جالسا بعد الصبح في حلقة فقال أنشد الله قاطع الرحم أما قام عنا فإنا نريد أن ندعوا ربنا و إن أبواب السماء مرتجة دون قاطع الرحم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو اعمش نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ صبح کے بعد ایک حلقے میں بیٹھے ہوئےتھے۔ فرمانے لگے کہ میں قطع رحمی کرنے والے کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ ہم لوگوں میں سے اٹھ جائے ہم اپنے رب سے دعا کرنا چاہتے ہیں اور بے شک آسمان کے دروازے قطع رحمی کرنے والے کے آگے کانپ جاتے ہیں۔

أنشد الله قاطع الرحم أما قام عنا ← كان ابنُ مسعودٍ جالِساً بعدَ الصُّبح في حَلَقَةٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7964

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7965

7965 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا سالم بن شيخ بالبصرة نا الخزرج بن عثمان عن أبي أيوب مولى عثمان بن عفام عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تعرض الأعمال عشية كل خمسين ليلة الجمعة فلا يرفع فيها قاطع رحم و بهذا الإسناد قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قطع ميراثا فرضه الله و رسوله قطع الله به ميراثا من الجنة

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کوابو بکرمحمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسیٰ سلمی نے ان کو سالم بن شیخ نے بصرہ میں ان کو خبر دی خزرج بن عثمان نے ابوایوب مولیٰ عثمان بن عفان سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شب جمعہ میں اعمال پیش ہوتے ہیں اس میں کسی قطع رحمی کرنے والے کے اعمال نہیں اٹھائےجاتے۔اور ای اسناد کے ساتھ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جوشخص کسی کی میراث کاٹ کھائےجس میراث کو اللہ نے مقرر کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس شخص سے جنت کی میراث کاٹ لیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي أيوب مولى عثمان بن عفام ← الْخَزْرَجُ بْنُ عُثمَان، ← سالم بن شيخ بالبصرة ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7965

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7966

7966 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا محمد بن عبيد الله بن المنادي نا يونس بن محمد المؤدب نا الخزرج عن أبي أيوب عن أبي هريرة قال : جاء عشية خميس ليلة الجمعة قال : فقعد الناس حوله قال احرج علي كل قاطع رحم إلا قام من عندنا قال : فقام شاب فأتى عمة له قد حرمها منذ سنين فسلم عليها فقالت ابن أخ ما جاء بك ؟ قال : لا إني قعدت إلى أبي هريرة فقال : أخرج علي كل قاطع رحم إلا قام من عندنا حتى كانت الثالثة قالت ارجع إليه فسأله ثم قال ذلك فرجع إليه فقص عليه القصة ما كان من أمره و ما قالت له عمته فقال أبو هريرة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن أعمال بني آدم تعرض كل خميس ليلة الجمعة فلا يقبل عمل قاطع رحم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو محمد بن عبداللہ بن منادی نے ان کو یونس بن محمد مودب نے ان کو خزرج نے ان کو ابوایوب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خمیس کی شام یعنی شب جمعہ کو تشریف لائے لوگ ان کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گئے۔وہ فرمانے لگے کہ میں ہر قطع رحمی کرنے والے کو تکلیف دوں گا کہ وہ ہمارے ہاں سے اٹھ جائے۔ کہتے ہیں کہ ایک نو جوان اٹھ کر چلا گیا اور وہ سیدھا اپنی پھوپھی کے پاس گیا۔ جس نے کئی سال سے اس سے قسم کھا رکھی تھی ۔ اس نے جا کر پھوپھی کو سلام کیا۔اس نے پوچھا کہ اے بھتیجے تم کیسے آئے ہو؟ اس نے بتلایا کہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حلقے میں بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں ہر قطع رحمی کرنے والے شخص کو قسم دیتا ہوں کہ وہ ہمارے ہاں سے اٹھ کر چلا جائے۔ یہاں تک کہ تیسری بار کہا: اب اس شخص کی پھوپھی نے کہا کہ تم جاؤ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور جا کر ان سے ان کی وجہ معلوم کرو۔ چنانچہ وہ واپس گیا اور جا کر پوچھا اور پھوپھی کے پاس جانے والی بات بتائی ۔تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا وہ فرماتے تھے۔بے شک اولاد آدم کے اعمال ہر جمعرات کو پیش ہوتے ہیں ۔ یعنی شب جمعہ میں ۔مگر قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل بھی قبول نہیں کیا جا تا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← له عمته ← ذلك فرجع إليه فقص عليه القصة ما كان من أمره و ما ← ارجع إليه فسأله ثم ← أخرج علي كل قاطع رحم إلا قام من عندنا حتى كانت الثالثة ← لا إني قعدت إلى أبي هريرة ← ابن أخ ما جاء بك ← فقام شاب فأتى عمة له قد حرمها منذ سنين فسلم عليها ← احرج علي كل قاطع رحم إلا قام من عندنا ← فقعد الناس حوله ← جاء عشية خميس ليلة الجمعة ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي أَيُّوبَ، ← الْخَزْرَجُ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7966

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7967

7967 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن درستويه نا يعقوب بن سفيان الفارسي حدثني أبي موسى عمران بن هارون الرياح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الحكم المصري نا عمران بن أبي عمران نا سليمان بن حبان عن داود بن أبي هند عن الشعبي عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل ليعمر للقوم الديار و يكثر لهم الأموال و ما نظر إليهم منذ خلقهم بغضا لهم قيل يا رسول الله : و لم ؟ وفي رواية الفارسي قيل : و كيف ذلك يا رسول الله ؟ قال : بصلتهم أرحامهم و أخبرناه أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي بمكة أنا أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد المستملي ببلخ أنا أبو عبد الله محمد بن مخلد العطار نا أبو نشيط محمد بن هارون بالرملة نا أبو خالد الأحمر و هو سليمان بن حيان نا داود فذكره بإسناده غير أنه قال قيل : فكيف ذلك يا رسول الله كما قال الفارسي

ہمیں نیروی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوحمد عبد اللہ بن جعفر بن درستو یہ نے ان کو یعقوب بن سفیان فارسی نے ان کو ابو موسیٰ عمران بن ہاروان ریاح نے ۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کومحمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبد الحکیم مصری نے ان کو عمران بن ابو عمران نے ان کو سلیمان بن حبان نے ان کو داؤود بن ابی ہند نے ان کو شعبی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ عز وجل بسنے والی کچھ اقوام کو زندگی دیتے ہیں اور ان کے کثیر مال بناتے ہیں اور ان کی طرف اللہ نے ایک بار بھی نہیں دیکھا جب سے ان کو پیدا کیا ہے بوجہ ان کے ساتھ بغض رکھنے کے کہا گیا کہ ایسا کیوں ہے یا رسول اللہ ؟ اور روایت فارسی میں ہے کہ کہا گیا کیسے یا رسول اللہ ؟ فرمایا کہ بوجہ ان کے صلہ رحمی کو ضائع کرنے کے۔ اور ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوذ رعبداللہ بن احمد بن محمد ہروی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابواسحٰق ابراہیم بن احمد مستملی نے بلخ میں ان کو ابوعبداللہ محمد بن محمد عطار نے ان وابونشیط محمد بن ہارون نے رملہ میں ان کو ابو خالد احمر نے اور وہ سلیمان بن حیان ہیں ان کو خبر دی داؤد نے ۔اس نے اسے اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے سوائے اس کے اس نے کہا کہا گیا یہ کیسے ہوسکتا ہے یا رسول اللہ؟ جیسے روایت فارسی میں ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← سليمان بن حبان ← عِمْرَانُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، ← محمد بن عبد الحكم المصري ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أبي موسى عمران بن هارون الرياح و ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7967

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7968

7968 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن حمدان الجلاب نا محمد بن عبده المصيصي نا هشام بن عمار نا إسماعيل بن عياش عن سفيان الثوري و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو قتيبة سالم بن الفضل الآدمي بمكة ثنا أحمد بن زنجويه ثنا هشام بن عمار عن ابن عياش ثنا سفيان الثوري عن عبيد الله بن عبد الله الوصافي عن عطاء بن أبي رباح عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن أهل البيت إذا تواصلوا أجري عليهم الرزق و كانوا في كنف الله عز و جل و في رواية المصيصي في كف الرحمن و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم تفرد به إسماعيل بن عياش عن الثوري قال أحمد و صله عنه هشام بن عمار

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حمدان الحلاب نے ان کومحمد بن عبد و مصیصی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو سفیان ثوری نے اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور مجھے خبروی سے ابوقتیبہ سالم بن فضل آدمی نے مکہ مکرمہ میں ان کو احمد بن زنجو یہ نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو ابن عیاش نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو عبید اللہ بن عبداللہ وصافی نے ان کو عصاء بن ابی رباح نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک کسی گھر والے جب آ پس میں جوڑ پیدا کر تے ہیں (یعنی صلہ رحمی کرتے ہیں ) تو ان کا رزق جاری کر دیا جاتا ہے اور واللہ کی حفاظت میں ہو جاتے ہیں ۔ اور مصیصی کی ایک روایت میں ہے کہ وولوگ رحمن کی ہتھیلی میں ہوتے ہیں۔ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ساتھ اسماعیل بن عیاش کا تفرد ہے ثوری سے اور کہا احمد نے کہ وصل کیا ہے اس کو ہشام بن عمار نے اس سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عبيد الله بن عبد الله الوصافي ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← ابْنُ عَيَّاشٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أحمد بن زنجويه ← أبو قتيبة سالم بن الفضل الآدمي بمكة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← سفيان الثوري و ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَةَ الْمِصِّيصِيُّ، ← عبد الرحمن بن حمدان الجلاب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7968

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood