Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7933

7933 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة أخبرني محمد بن عبد الجبار قال : سمعت محمد بن كعب القرظي يحدث عن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن للرحم لساما يوم القيامة تحت العرش فتقول يا رب قطعت يا رب ظلمت يا رب أسيء إلي فيجيبها ربها ألا ترضين أن أصل من وصلك و أقطع من قطعك

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو خبر دی محمد بن عبدالجبار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن کعب قرضی سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں بے شک قیامت کے دن رحم کو یعنی رشتہ کو اللہ تعالیٰ ایک زبان عطا کر یں گے وہ عرش کے سائے کے نیچے کھڑے ہو کر کہے گا یارب میں کا ٹا گیا تھا یارب مجھ پر ظلم کیا گیا تھا یارب میرے ساتھ برائی کی گئی تھی اس کا رب اس کوجواب دے گا ۔ کیا تو راضی نہیں ہے اگر میں جوڑ دوں اس کو جس نے تجھے جوڑ ا تھا اور کاٹ دوں اس کو جس نے تجھے کاٹ دیا تھا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7933

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7934

7934 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان نا قتيبة بن سعيد نا حاتم بن إسماعيل عن معاوية بن أبي مزرد مولى بني هاشم حدثني أبو الحباب سعيد بن يسار عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى خلق الخلق حتى إذا فرغ منهم قامت الرحم فأخذت بحقو الرحمن فقال : مه فقالت هذا مكان من القطيعة ؟ قال : نعم أما ترضى أن أصل من وصلك و اقطع من قطعك ؟ قالت : بلى قال فذاك لك ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرأوا إن شئتم { فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم * أولئك الذين لعنهم الله فأصمهم وأعمى أبصارهم * أفلا يتدبرون القرآن أم على قلوب أقفالها } رواه البخاري عن إبراهيم بن حمزة عن حاتم و رواه مسلم عن قتيبة قوله فأخذت بحقو الرحمن معناه استجارت بالله و اعتصمت به كما تقول العرب تعلقت بظل جناحه أي اعتصمت به و قيل الحقو للأزار و أزار الله عز و جل عزه و معناه أنه موصوف بالعز فاستعاذت الرحم بعز الله من القطيعة و لاذت به و قيل : معناه العرش فقد روي في هذا الخبر أنه قال : الرحم معلقة بالعرش

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو حاتم بن اسماعیل نے ان کو معاویہ بن ابومزادمولیٰ بنو ہاشم نے ان کو حدیث بیان کی ابو حباب سعید بن یسار نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ نے جب ساری مخلوق کو پیدا کرلیا تو رحم یعنی رشتہ کھڑا ہو گیا اس نے رحمٰن کی کوکھ کو یا دامن کو پکڑ کر عرض کی اللہ نے فرمایا کہ یہ کیفیت ہے تیری کٹ جانے کی وجہ سے اس نے کہا جی ہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایالیا تو راضی نہیں کہ میں جوڑوں گا اسے جو تجھے جوڑے گا اور میں کاٹوں گا اسے جو تجھے کاٹے گا ؟ اس نے جواب دیا جی ہاں ۔ اللہ نے فرمایا یہی ہوگا تیرے لئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑھو تم اگر چاہو ۔ فهل عسيتم ان توليتم أن تفسدوا في الارض وتقطعوا ارحامكم اولئك الذين لعنهم الله فاصمهم واعمى ابصارهم افلا يتدبرون القرآن ام على قلوب اقفالها. (محمد،۲۲۔۲۴) قریب ہے کہ تم ذمہ دار بن جاؤ اورزمین پر فساد پا ؤ اور رشتوں کو کاٹو ۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے لعنت کی ہے اور ان کو بہرا کر دیا ہے اور ان کی آنکھوں اندھا کر دیا ہے ۔ کیا وہ لوگ قرآن کوغورنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑھ چکے ہیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ۔ ابراہیم بن جمز ہ سے اس نے حاتم سے اور اس کو مسلم نے روایت کیا قتیبہ سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبو الحباب سعيد بن يسارٍ، ← معاوية بن أبي مزردٍ مولى بني هاشمٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7934

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7935

7935 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد ين جعفر نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا وكيع عن معاوية بن أبي مزرد العدني عن يزيد بن رومان عن عروة عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : : إن الرحم معلقة بالعرش تقول من وصلني وصله الله و من قطعني قطعه الله رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة عن وكيع

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر نے ان کو عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو وکیع نے ان کو معاویہ بن ابومز رد مدنی نے ان کو یزید بن رومان ان کوعروہ نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: بے شک رحم عرش کے ساتھ لٹکا ہوا ہے کہتا ہے جو مجھے جوڑے گا اللہ اس کو جوڑے گا اور جو مجھے کاٹے گا اللہ اس کو کاٹے گا ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن ابوشیبہ سے اس نے وکیع سے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← معاوية بن أبي مزرد العدني ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أحمد ين جعفر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7935

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7936

7936 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم السبكي البخاري نا صالح بن محمد البغدادي نا منجاب بن الحارث نا شريك عن عبد الملك بن عمير عن أبي العنبس الثقفي عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن للرحم لسانا ذلقا يقول يوم القيامة رب صل من وصلني و اقطع من قطعني

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عمرو بن اسحٰق بن ابراہیم سبکی بخاری نے ان کو صالح بن محمد بغدادی نے ان کو منجاب بن حارث نے ان کو شریک نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو ابوالعنبس ثقفی نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بے شک رحم ورشتہ کی بڑی تیز زبان ہو گی قیامت کے دن وہ کہے گا اے اللہ جوڑ تو اس کو جو مجھ کو جوڑے اور کاٹ تو اس کو جو مجھے کاٹے ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أبي العنبس الثقفي ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَرِيکٍ ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ← عمرو بن إسحاق بن إبراهيم السبكي البخاري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7936

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7937

7937 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصغاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن قتادة يرويه قال : تجيء الرحم يوم القيامة لها حجنة تحت العرش تتكلم بلسان طلق يقول اللهم صل من وصلني و اقطع من قطعني 7937 - مكرر ـ و بإسناده عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الرحم شعبة من الرحمن تجيء يوم القيامة لها حجنة تحت العرش تكلم بلسان طلق فمن أشارت إليه بوصل وصله الله و من أشارت إليه بقطع قطعة الله و هذان المرسلان شاهدان للموصول قبلهما

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ اس کو روایت کرتے ہیں فرمایا کہ قیامت کے دن رحم آئے گا عرش کے نیچے اس کا ٹھکانہ ہوگا تیز زبان کے ساتھ کلام کرے گا وہ کہے گا اے اللہ جوڑ تو اس کو جو مجھے جوڑے اور کاٹ تو اس کو جو مجھے کا ٹے ۔ مکرر ہے۔ اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے معمر سے اس نے ابن طاؤس سے اسی نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک رحم رشتہ شعبہ ہےرحمٰن کا قیامت کے دن آئے گا عرش کے نیچے اس کا ڈیرہ ہوگا تیز ترین زبان کے ساتھ کلام کرے گا جس کی طرف وہ وصل کا اشارہ کرے اللہ اس کو وصل عطا کرے گا اور وہ جس کی طرف کاٹنے کا اشارہ کرے گا اللہ اس کو کاٹے گا ۔ یہ دونوں مرسل روایتیں شاہد ہیں اس موصول روایت کے لئے جوان سے پہلے گذری ہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← اللهم صل من وصلني و اقطع من قطعني مكرر و بإسناده ← تجيء الرحم يوم القيامة لها حجنة تحت العرش تتكلم بلسان طلق ← قتادة يرويه ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7937

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7938

7938 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي و أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان من أصلهما قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عصام الأصبهاني نا إسماعيل بن عبد الملك الخزار حدثني فائد أبو الورقاء عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الرحم معلقة بالعرش لها لسان ذلق يقول اللهم صل من وصلني و اقطع من قطعني

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ابوعثمان سعید بن محمد بن محمد بن عبدان نے اپنے اصل سے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عصام اصفہانی نے ان کو اسماعیل بن عبد الملک نے خزاز نے ان کوفائد ابوالورقاء نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک رحم ( رشتہ ) عرش کے ساتھ لٹک جائےگا اور کہے گا اے اللہ جوڑ تو اس کے ساتھ جو مجھ کو جوڑے اور کاٹ تو اس کو جو کاٹے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← فَائِدُ أَبُو الْوَرْقَاءِ، ← إسماعيل بن عبد الملك الخزار ← أَحْمَدُ بْنُ عِصَامٍ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7938

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7939

7939 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عبد الكريم بن الهيثم نا أبو توبة نا يزيد بن ربيعة الرحبي عن أبي الأشعث الضغاني عن أبي عثمان الضغاني عن ثوبان : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاث معلقات بالعرش الرحم يقول اللهم إني بك فلا اقطع و الأمانة تقول اللهم إني بك فلا اختان و النعمة تقول اللهم إني بك فلا أكفر

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عبد الکریم بن ہیثم نے ان کو ابوتو بہ نے ان کو یزید بن ربیعہ رحبی نے ان کو ابوالاشعث صغانی نے ان کو ابوعثمان صغانی نے ان کو ثوبان نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں عرش کو پکڑکر کہیں گی اے اللہ بے شک میں تجھ سے مدد چاہتی ہوں پس مجھے تو ڑا نہ جائے ۔ اور امانت کہے گی اے اللہ میں تجھ سے مدد چاہتی ہوں کہ مجھ میں خیانت نہ کی جائے اور نعمت کہے گی اے اللہ میں تجھ سے مدد چاہتی ہوں کہ میری ناشکری نہ کی جائے ۔

ثَوْبَانَ، ← أبي عثمان الضغاني ← أبي الأشعث الضغاني ← يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ، ← أَبُو تَوْبَةَ، ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7939

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7940

7940 - حدثنا أبو محمد بن يوسف نا الأصم محمد بن يعقوب نا محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا سعيد بن أبي مريم ح و أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني نا أبو عبد الله بن بن إسحاق القرشي بهراه نا عثمان بن سعيد الداري نا سعيد بن رومان عن عروة عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الرحم شجنة من الرحمن من وصلها وصلته و من قطعها قطعته و في رواية الصغاني الرحم شجنة من الله من وصلها وصله و من قطعها قطعه رواه البخاري عن ابن أبي مريم

ہمیں حدیث بیان کی ابومحمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق مغانی نے ان کو سعید بن ابومریم نے ’’ح‘‘۔اور ہمیں خبر دی ہے ابومحمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوعبدالله احمد بن اسحٰق قریشی نے ہراۃ میں ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو سعید بن حکم بن ابومریم نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو معاویہ بن ابومز رد نے ان کو یزید بن رومان نے ان کو عروہ نے اس کو عائشہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ رحم رحمٰن سے جڑی ہوئی ایک شاخ ہے جو اسکو ملائے گا میں اس کو ملاؤں گا اور جو اس کو گاٹے گا میں بھی اس کو کاٹوں گا ۔ اور صغانی کی ایک روایت میں کہ رحم اللہ سے وابستہ ایک شاخ ہے جو اس کو ملائے گا میں اس سے ملاؤں گا جو اس کو کاٹے گا میں اس سے کاٹوں گا ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← سعيد بن رومان ← عثمان بن سعيد الداري ← أبو عبد الله بن بن إسحاق القرشي بهراه ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← و، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الأصم محمد بن يعقوب ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7940

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7941

7941 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن خالد بن خلي نا بشر بن شعيب بن أبي حمزة عن أبيه عن الزهري حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا الرداد الليثي أخبره عن عبد الرحمن بن عوف : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول قال الله عز و جل أنا الرحمن أنا خلقت الرحم و شققت لها من اسمي فمن وصلها وصلته و من قطعها بتته و رويناه من حديث معمر و ابن عيينة عاليا في كتاب السنن في باب قسم الصدقات قال الحليمي : فأصل قوله أنا الرحمن و هي الرحم شققت لها اسما من اسمي أن الرحمن قتادة الرحم اسمان مشتقان من الرحمة فأنا الرحمن لما وسع كل شيء من رحمتي و هي الرحم لأن الجور في الرحمن موجب للرحمة فمن عرف هذا الحق جزيته خيرا و من أغفله ذلك الخير

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو بکر قاضی نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن خالد بن خلی نے ان کو بشر بن شعیب بن ابوحمزہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو زہری نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابو دردا ءلیثی سے ان کو خبر دی ہے عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں رحمٰن ہوں میں نے رحم کو ( رشتہ کو )پیدا فرمایا اور میں نے اس کا نام اپنے نام ہی سے نکال کر رکھا جو شخص اس کو جوڑ کے رکھے گا میں بھی اس کو جوڑ کر رکھوں گا اور جوشخص کاٹے گا میں بھی اس کو کاٹوں گا ۔ہم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث معمر سے اور ابن عیینہ سے سند عالی سے کتاب السنن میں باب قسم صدقات میں ۔ شیخ حلیمی نے فرمایا فاصل . قوله انا الرحمن ( میں رحمٰن ہو ) حضور کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے رحم کو پیدا کیا اور اس کا نام کواپنے نام سے مشتق کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ رحمٰن ۔اور رحم دونوں اسم ہیں جو کہ رحمت سے مشتق ہیں ۔ اور میں رحمٰن ہوں اس لئے کہ میری رحمت ہرشی کو احاطہ کر چکی ہے۔ اور یہ رحم ہے کیونکہ جوار في الرحمن موجب رحمت ہے جو شخص اس حق کو پہچان لے میں اس کو جزائے خیر دوں گا اور جو اس سے غافل ہو میں اس کو اس خیر سے محروم کر دوں گا ۔

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7941

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7942

7942 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا محمد بن عبيد الله بن يزيد نا إسحاق بن يوسف الأصبهاني نا عمرو بن عثمان بن موهب عن موسى بن طلحة عن أبي أيوب الأنصاري : أن أعرابيا عرض للرسول الله صلى الله عليه و سلم في سير له فأخذ بخطام الناقة أو زمامها فقال يا رسول الله أو يا محمد أخبرني بما يقربني من الجنة و يساعدني من النار ؟ قال : تعبد الله و لا تشرك به شيئا و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تصل الرحم أخرجه مسلم عن ابن نمير عن عمرو بن عثمان

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورزاز نے ان کو محمد بن عبید اللہ بن زیاد نے ان کو اسحاق بن یوسف اصفہانی نے ان کو عمر و بن عثمان بن موہب نے ان کو موسیٰ بن طلحہ نے ان کو ابوایوب انصاری نے کہ ایک اعرابی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آیا اس نے اونٹنی کی مہار تھام لی اور کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے ایسی چیز بتائیے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور مجھے جہنم سے دور کر دے؟ فرمایا کہ اللہ کی عبادت کیجئے اس کے ساتھ کسی شئی کوشر یک نہ ٹھہر ایئے اور نماز کو قائم کیجئے صلہ رحمی کیجئے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے ابن نمیری سےاس نے عمرو بن عثمان سے۔

مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ مُوهِبٍ ← إسحاق بن يوسف الأصبهاني ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7942

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7943

7943 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا محمد بن أيوب أخبرني أبو أيوب نا شعبة أخبرني محمد بن عثمان بن عبد الله بن موهب قال : سمعت موسى بن طلحة عن أبي أيوب قال : قلت يا رسول الله دلني على عمل يدخلني الجنة قال : تعبد الله لا تشرك به شيئا و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تصل الرحم قاله البخاري عن أبي الوليد عن شعبة 7943 - مكرر ـ أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب أنا أبو داود نا إسحاق بن سعيد حدثني أبي قال : كنت عند ابن عباس فأتاه رجل فسأله ممن أنت ؟ فمت له برحم بعيدة فألان له القول و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اعرفوا أنسابكم تصلوا أرحامكم فإنه لا قرب بالرحم إذا قطعت و إن كانت قريبة و لا بعد بها إذا وصلت و إن كانت بعيدة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابونضر فقیہ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو شعبہ نے ان کو خبر دی محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناموسیٰ بن طلحہ سے اس نے ایوب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یارسول اللہ مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی شئی کوشریک نہ کرو اور نماز قائم کروز کوۃ ادا کرو ۔ اور صلہ رحمی کرو۔ بخاری نےاس ک روایت کیا ہے ابو الولید سے اس نے شعبہ سے۔ (مکرر ہے) ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو اسحٰق بن سعید نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے وہ کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو اس نے کوئی دور کا رشتہ بتایا۔ انہوں نے اس کے ساتھ نرم بات کی اور فرمایا کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا ۔اپنے نسبوں کو پہچانا کرو۔ اور اپنے رشتوں کو جوڑ کر رکھا کرو بے شک حال یہ ہے کہ رشتے میں کوئی قرب نہیں رہتا جب رشتہ کاٹ دیا جائےاگر چہ قریبی رشتہ ہو ۔ اور رشتے میں کوئی دوری نہیں رہتی جب رشتہ جوڑ دیا جائےاگر چہ وہ رشتہ دور کا ہو ۔

قُلْتُ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7943

شعب الإيمان · السادس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في صلة الأرحام · حديث 7944

7944 - أخبرنا : أبو بكر بن الحسن القاضي و أبو سعيد محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا العباس الدوري نا قراد أبو نوح أنا إسحاق بن سعيد عن أبيه عن ابن عباس قال : أتاه رجل و أنا عنده فمت إليه برحم بينه و بينه قال : فعرفها ابن عباس قال : ابن عباس : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : احفظوا أنسابكم تصلوا أرحامكم فإنه لا بعد للرحمن إذا قربت و إن كانت بعيدة و لا قرب لها إذا بعدت و إن كانت قريبة و إن كل رحم أتيه أمام صاحبها يوم القيامة تشهد له بصلة إن كان وصلها و في قطيعة إن كان قطعها إن كان قطعها

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حسین قاضی اور ابوسعید محمد بن موسی ٰنے وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو قرادابونوح نے ان کو اسحاق بن سعید نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں ان کے پاس آدمی آیا اور میں ان کے پاس بیٹھا تھا ۔ اس نے اپنے اور ابن عباس کے درمیان کوئی دور کا رشتہ بتایا کہتے ہیں کہ ابن عباس نے اس کو پہچان لیا اس کے بعد فرمایا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہتے اپنے نسبوں کی حفاظت کیا کر واوراپنے رشتوں کو جوڑ کر رکھا کرو بے شک رشتے میں کوئی دوری نہیں ہوتی جب قریب ہو جائے اگر چہ رشتہ دور کا ہو۔ اور اس میں کچھ قرب نہیں ہوتا جب دوری ہو جائے اگر چہ رشتہ قریبی ہو۔ بے شک ہر رشتہ قیامت کے دن صاحب رشتہ کے آگے آئے گا اور صلہ کرنے اور جوڑ نے کی شہادت دے گا اگر اس نے جوڑا ہوگا اور توڑنے کی بھی شہادت دے گا اگر اس نے توڑ اہوگا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← فعرفها ابن عباس ← عنده فمت إليه برحم بينه و بينه ← أتاه رجل و ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، ← قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر بن الحسن القاضي و أبو سعيد محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-sixth of the people of faith › And it is the door in the relationship of relatives · Hadith 7944

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood