Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7874

7874 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن إسحاق الصفار نا أبو بكر بن أبي شيبة نا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن سالم بن أبي الجعد عن مجاهد عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة عاق و لا مدمن خمر و لا منان

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحد بن عبید نے ان کو محمد بن اسحاق صفار نے ان کو ابوبکر بن شیبہ نے ان کو عبدالرحیم بن سلیمان نے ان کو یزید بن ابوز یاد نے ان کو سالم بن ابو الجعد نے ان کو مجاہد نے انہوں نے ابوسعید خدری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جنت داخل نہیں ہوگا والدین کا نافرمان اور نہ ہی عادی شرابی اور نہ ہی احسان جتلانے والا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُجَاهِدٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7874

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7875

7875 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة أخبرني منصور قال : سمعت سالم بن أبي الجعد يحدث عن نبيط عن جابان عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل الجنة عاق و لا منان و لا ولد زنية و لا مدمن و رواه جرير عن منصور فلم يذكر في إسناده نبيطا

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو خبر دی منصور نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سالم بن ابوالجعد سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں نبیط سے اس نے جابان سے اس نے عبداللہ بن عمرو سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں نہیں داخل ہوگا جنت میں والدین کا نافرمان اور نہ ہی احسان جتلانے والا اور نہ ہی زانیہ کابیٹا اور نہ ہی عادی شرابی۔اس کو روایت کی جریر نے منصور سے اس نے اس کی سند میں نبیط کا ذکر نہیں کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جابان ← نُبَيْطٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7875

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7876

7876 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن المصري نا محمد بن عمرو بن خالد نا سعيد بن أسد بن موسى نا مؤمل عن سفيان الثوري زبيد اليافعي عن جابان عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل الجنة مدمن خمر و لا قاطع رحم و لا ولد زنية و لا عاق والديه و لا من أتى ذات محرم و هو إن صح فهو ولد الزنا محمول على أن من عمل عمل أبويه و الله أعلم و قد ذكرنا في كتاب السنن سائر ما قيل فيه

تمہیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ابو الحسن مصری نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو خالد نے ان کو سعید بن اسد بن موسیٰ نے ان کو مومل نے سفیان ثوری ، زبید یافعی سے ان کو جابان نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کہتے ہیں کہ۔ جنت میں داخل نہیں ہو گا عادی شرابی ،قطع رحمی کرنے والا ، نہ ہی ولد الحرام ، نہ ہی والدین کا نافرمان ، نہ ہی وہ شخص جومحرم عورت سے برائی کرے۔ اگر یہ روایت صحیح ہوتو پھرولد زنا(حرامی) محمول ہوگااس شرط پر کہ اپنے مال والا عمل کرے۔ (یعنی زنا کی اولاد جو بھی زنا کرے نیک صالح نہ ہو ) واللہ اعلم ۔ تحقیق ہم نے ذکر کیا ہے کتاب السنن میں وہ تمام روایات جو اس بارے میں مذکور ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جابان ← سفيان الثوري زبيد اليافعي ← مُؤَمَّلٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7876

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7877

7877 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة قالا : أنا يحيى بن منصور القاضي نا أبو مسلم نا أبو عاصم عن عمر بن محمد عن عبد الله بن يسار عن سالم عن ابن عمر : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاثة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة و ثلاثة لا يدخلون الجنة فأما الثلاثة الذي لا يدخلون الجنة فالعاق لوالديه و المرأة المترجلة تشبه بالرجال و الديوث و أما الثلاثة الذين لا ينظر الله إليهم فالعاق لوالديه و مدمن خمر و المنان بما أعطى كذا جاء به أبو عاصم و تبعه فيه غيره فذكر العاق في موضعين

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابونصر بن قتادہ نے ان کو یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو ابومسلم نے ان کو ابو عاصم نے ان کو عمر بن محمد نے ان کوعبداللہ بن یسار نے ان کو سالم نے ان کوابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔ اور تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے جو تین جنت میں نہیں جائیں گے ایک تو والدین کا نافرمان ہے اور دوسری متر جلہ عورت یعنی جومردوں جیسی بنتی ہے یعنی مردوں جیسی مشابہت بناتی ہے ۔اور دیوث ( اپنی بیوی سے برائی کروانے والا ۔ ) اور وہ تین جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظرنہیں کرے گا۔ والدین کا نافرمان، دائمی شراب پینے والا اور دے کر احسان جتلانے والا ۔ ایسی ہی ابو عامہ روایت لائے ہیں اور اس میں اس کے سوا دوسروں نے اس کا متابع نقل کیا ہے دونوں جگہ والدین کے نافرمان کا ذکر ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7877

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ حديث جرير العابد في فضل حفظ قلب الأم · حديث 7878

7878 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هاني نا السري بن خزيمة نا موسى بن إسماعيل نا سليمان بن المغيرة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي الحسن بن علي الحافظ أنا أبو يعلى نا هدبه و شيبان قالا : نا سليمان بن المغيرة نا حميد بن هلال عن أبي رافع عن أبي هريرة قال : كان جريج يتعيد في صومعته فجاءته أمه فقالت : يا جريج أنا أمك كلمني قال أبو هريرة : جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يصف لنا صفتها حين قالت هكذا و وضع يده اليمنى على جبينه هكذا و قال موسى في حديثه و وضع سليمان يده اليمنى على حاجبه الأيمن و أما شيبان فقال في حديثه و وصف لنا أبو رافع صفة أبي هريرة يصف رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه حيث دعته كيف جعلت كفها فوق حاجبها ثم رفعت رأسها تدعوه فقالت : يا جريج أنا أمك فكلمني فصادفته يصلي قال : اللهم أمي و صلاتي فاختار صلاته فرجعت ثم أتته الثانية فقالت : يا جريج أنا أمك فكلمني قال : فصادفته يصلي قال : اللهم أمي و صلاتي فاختار صلاته ثم أتته الثالثة فقالت : يا جريج أنا أمك فكلمني فصادفته يصلي قال : اللهم أمي و صلاتي فاختار صلاته فقالت : اللهم إن هذا جريج و إنه ابني و إني قد كلمته فأبى أن يكلمني اللهم فلا تمته حتى تريه المومسات قال : و لو دعت عليه أن يفتن لفتن قال : و كان راعي ضأن يأوي إلى ديره فخرجت امرأة من القرية فوقع عليها فحملت فولدت غلاما فقيل لها : ممن هذا ؟ قالت : من صاحب هذه الصومعة و قال موسى : من صاحب هذا الدير فأقبلوا عليه قال : فجاءوا بفؤسهم و مساحيهم فنادوه و صادفوه يصلي فلم يكلمهم فأخذوا يهدمون ديره فلما رأى نزل إليهم فقالوا له : سل هذه فمسح رأس الصبي و في حديث فتبسم ثم مسح رأس الصبي و قال : من أبوك قال : أبي راعي الضأن فلما سمعوا ذلك منه و رأوا ما رأوا قالوا : نحن نبني ما هدمنا من ديرك بالذهب و الفضة قال : لا و لكن أعيدوه ترابا كما كان زاد شيبان في حديثه قال : ثم علاه رواه مسلم عن شيبان

ہمیں خبر دی ابوعبیداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کوموسیٰ بن اسماعیل نے ان کو سلیمان بن مغیرہ نے ’’ح“ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوعلی حسن بن علی حافظ نے ان کو ابویعلی نے ان کو ہد بہ اور شیبان نے دونوں نے کہا ان کو سلیمان بن مغیرہ نے ان کو حمید بن ہلال نے ان کو ابورافع نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ جریج نامی شخص اپنے گر جے میں عبادت کرتا رہتا تھا۔ اس کی ماں اس کے پاس آئی اور بولی اے جریج ! میں تیری ماں ہوں مجھ سے کلام کر ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کرنے لگے کہ اس عورت نے ایسے کیا اتنے میں حضور نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے ماتھے پر ایسے رکھ لیا۔ اور موسی ٰنے کہا ہے اپنی حدیث میں کہ سلیمان نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں بھنویں پر رکھ لیا۔ بہر حال شیبان نے اس نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ ہمارے سامنے ابورافع نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی صفت بیان فرمائی جو کہ رسول اللہ کی صفت بیان کر رہے تھے ۔ بے شک شان یہ ہے کہ جہاں ماں نے اس کو بلایا اس نے اپنی ہتھیلی اپنے بھنوں کے اوپر رکھ لی۔ پھر اپنا سر اٹھایا وہ اس کو بلا رہی تھی اور بولی اے جریج ! میں تیری ماں ہوں مجھ سے کلام کر ۔ مگر اس عورت نے ایسے وقت میں اس کو پکارا جب اتفاق سے وہ نماز پڑھ رہاتھا۔ اس نے دل میں کہا اے اللہ ! میری امی بھی بلا رہی ہے اور میں نماز بھی پڑھ رہا ہوں ( رب میں کیا کروں ماں کو دیکھوں یا نماز کو۔ ) چنانچہ اس نے نماز کوترجیح دی اور نماز کو پسند کیا ( مگر ماں نے ناراض ہو کر بد دعا دے دی ) پھر وہ چلی گئی ۔ پھر آ گئی۔ دوسری مرتبہ اس نے کہا اے جریج میں تیری ماں ہوں ۔ مجھ سے بات کر لے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ اپنی نماز میں مصروف رہا۔ پھر تیسری مرتبہ بھی آئی اور مذکورہ الفاظ کہے۔ اس نے پھر اپنا مذکور ہ عمل ( نماز ) کو جاری رکھا تو ماں نے ناراض ہوکر بددعا دی اے اللہ ! یہ جریج میرا بیٹا ہے اور میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی ہے اس نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اے اللہ اس کو موت نہ دینا یہاں تک کہ آپ اس کو بد کار عورتیں دیکھا دینا۔ فرمایا کہ اگر وہ بددعا دے دیتی کہ وہ گناہ میں مبتلا ہو جائے تو وہ ہو جا تا۔اتفاق سے اس کے عبادت خانے کے قریب ایک بھیٹروں کا چرواہا آ کر پنا ہ لیتا تھا۔ چنانچہ ایک عورت بستی سے نکلی اور اس چرواہے کے ہتھے چڑھ گئی اس نے اس عورت کے ساتھ برائی کر لی جس سے وہ حاملہ ہوگئی اور اس کا لڑ کا پیدا ہوا۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ کہاں سے لائی ہو؟ یہ کس کا ہے؟ اس عورت نے چرواہے کوتو چھپالیا اور اس عابد جریج کا نام لگا دیا اور کہا کہ اس گھر ہے میں جور بتا ہے یہ اس کا ہے ۔ اور موسی ٰنے کہا کہ اس جھونپڑی کا مالک کون ہے؟ لوگ اس کے پاس آئے اور اپنے کلہاڑے اور کدال ساتھ لائے انہوں نے اس کو بلا یا اتفاق سے اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہا تھا اس نے ان کے ساتھ بات نہیں کی ۔لہذا انہوں نے اس کے عبادت خانے کو ڈھانا شروع کیا اس نے جب یہ حال دیکھا تو ان کے پاس اتر آیا لوگوں نے اس سے کہا کہ اس بچے سے پوچھ لو چنانچہ اس نے اس بچے کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ بچہ مسکرایا۔ اس عابد نے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے اس بچے نے بتایا کہ بھیٹروں کا چرواہا میرا باپ ہے۔ جب انہوں نے اس کی یہ کرامت دیکھی تو بولے ہم نے جو کچھ تیرا عبادت خانہ تو ڑا ہے ہم وہ سونے چاندی سے بنوا دیتے ہیں ۔ اس نے کہا نہیں بلکہ تم لوگ اس کو دو بار ومٹی کا ہی بنا دو۔ جیسے پہلے تھا۔ شیبان نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ اس نے کہا پھر وہ اس پر چڑھ گیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا شبیان سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هدبه و شيبان ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Jarir Al-Abed hadith about the merit of preserving the mother's heart · Hadith 7878

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ حديث جرير العابد في فضل حفظ قلب الأم · حديث 7879

7879 - أخبرنا أبو الخير جامع بن أحمد الوكيل المحمد أبادي من أصل سماعه نا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أبادي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا موسى بن إسماعيل نا جرير بن حازم قال : سمعت محمد بن سيرين عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم يتكلم في المهد إلا ثلاثة عيسى بن مريم قال وكان في بني إسرائيل رجل يقال له جريج و كان عابدا فابتنى صومعة فجعل يصلي فيها فأتته أمه فقالت : يا جريج فقال : يا رب أمي و صلاتي فأقبل على صلاته فانصرفت ثم جاءته يوما آخر ففعل مثل ذلك ثم جاءته يوما ثالثا ففعل مثل ذلك فقالت له أمه : اللهم لا تمته حتى يرى أو ينظر في وجوه المومسات قال : فذكر يوما بنو إسرائيل جريجا و فضله فقالت بغي من بغايا بني إسرائيل : إن شئتم لأفتننه لكم فقالوا قد شئنا فانطلقت فعرضت لجريج فلم يلتفت إليها فأتت راعيا كان يأوي إلى صومعة جريج بغنمه فأمكنته من نفسها فحملت فولدت غلاما فقالت : هو من جريج فأتاه بنو إسرائيل فضربوه و شتموه و هدموا صومعته فقال : ما شأنكم ؟ فقالوا : زنيت بهذه البغي و ولدت غلاما قال : فأين الغلام قال : فجيء به فقام وصلى و دعا ثم انصرف إلى الغلام فطعنه بإصبعه في صدره و قال : يا غلام من أبوك قال : أبي الراعي قال : فوثب الناس إليه فجعلوا يقبلونه و قالوا نبني صومعتك من ذهب ؟ قال : لا حاجة لي في ذلك ابنوها كما كانت من قبل و بينا امرأة جالسة و في حجرها ابن لها ترضعه إذ مر بها راكب ذو شارة فقالت : اللهم اجعل ابني مثل هذا فترك ثديها ثم أقبل على الراكب فنظر إليه فقال : اللهم لا تجعلني مثل هذا ثم أقبل على ثديها يمصه قال أبو هريرة : فكأني أنظر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يحكي مصه و وضعه إصبعه في فيه فجعل يمصها ثم مر بأمة معها الناس تضرب فقالت : اللهم لا تجعل ابني مثل هذا فترك ثديها و نظر إليها و قال : اللهم اجعلني مثلها فعند ذلك تراجما الحديث فقالت : حلقي أي بني كر بي الراكب ذو شارة فقلت : اللهم اجعل ابني مثل هذا فقلت : اللهم لا تجعلني مثله ثم مر بهذه الأمة فقالت : اللهم لا تجعل ابني مثل هذه الأمة فقلت : اللهم اجعلني مثلها فقال : يا أمتاه إن الراكب الذي مر بك جبار فدعوت الله أن يجعلني مثله فقلت اللهم لا تجعلني مثله و هذه يقولون سرقت و لم تسرق و زنت و لم تزن و هي تقول حسبي الله رواه البخاري عن مسلم بن إبراهيم عن جرير بن حازم و رواه مسلم في زهير بن حرب عن يزيد بن هارون عن جرير

ہمیں خبر دی ابوالخیر جامع بن احمد الوکیل محمد آبادی نے اپنے اصل سماع سے ان کو ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو جریر بن حازم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنامحمد بن سیرین سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :نہیں کلام کیا تھا جھولے میں مگر تین افراد نے ایک تو عیسیٰ علیہ السلام نے ۔اور دوسرا فر د جریج تھا۔ یہ بنی اسرائیل کا ایک عابد تھا اس نے ایک اپنا عبادت خانہ بنایا تھا اس میں عبادت کرتارہتا تھا ایک دن وہ نماز پڑھار ہاتھا ،اس کی ماں آئی اس نے جریج کو آواز دی اس نے سوچا اللہ میں نماز میں ہوں اور میری ماں بھی بلا رہی ہے مگر وہ نماز کی طرف متوجہ ر ہاو ہ لوٹ کر چلی گئی پھر وہ دوسرے دن آئی اس نے دوسرے دن بھی ایسے ہی کیا اس کے بعد وہ تیسرے دن آئی اس نے پھر ایسے کیا۔ (اب اس کی ماں کو غصہ آیا تو اس نے اس کو بد دعا دے دی )اے اللہ جریج کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک یہ بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دن بنی اسرائیلی جریج کی بزرگی کا ذکر کر ر ہے تھے کہ ان کی طوائفوں میں سے ایک طوائف نے کہا اگر تم لوگ چاہوتو میں اس کو فتنے میں واقع کر سکتی ہوں تمہارے لئے ۔ان لوگوں نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں (کہ کوئی تماشہ بنے )وہ چلی گئی اور وہ جریج کے درپے ہوئی مگر اس نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی چنانچہ وہ اس چرواہے کے پاس گئی جو اس کےگرجے کی چھاؤں میں اپنی بکریاں بیٹھا تا تھا اس نے اس چرواہے کو اپنے اوپر قدرت دی اس کے ساتھ برائی کی اور اس سے حاملہ ہوکر لڑ کا جنا اورلوگوں سے کہا کہ یہ جریج کا ہے ۔ بنی اسرائیلی اس کے پاس آ گئے اور آ کر اس کو مارا پیٹا گالی گلوچ کی اور اس کا عبادت خانہ توڑ دیا۔ اس نے پوچھا کہ بات کیا ہے؟ مجھے کیوں مارتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ تم نے اس طوائف کے ساتھ زنا کیا تھا اور اس نے یہ بچہ جنا ہے۔ جریج نے پوچھا کہ لڑ کا کہاں پر ہے؟ فرمایا: کہ اس بچے کولا یا گیا۔ جریج نے کھڑے ہوکر نماز پڑھی اور اللہ سے دعا کی ( کہ اے اللہ! یہ ناحق الزام گناہ جو مجھ پر آ گیا ہے تو ہی اس سے میری صفائی دے )دعا کے بعد اس بچے کے پاس آ کر اس بچے کو اپنی انگلی کے ساتھ اس کے سینے میں کچوکا دیا۔اور کہا کہ اے لڑ کے بتا تیرا باپ کون ہے؟ ( اللہ کی قدرت سے بچہ بول اٹھا )کہ میراباپ چرواہا ہے۔ فرمایا: کہ لوگ پھر تو اس پر کود پڑے اس کو چومنا شروع کر دیا۔ اور کہنے لگے کہ ہم تمہارا گر جاسونے کا بنوادیتے ہیں۔اس عابد نے کہا کہ نہیں مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بس تم ویسا بنوادو جیسے تھا۔ اور تیسرافر دبھی ایک بچہ تھا ایک عورت اس کو اپنی گود میں لئے بیٹھی تھی اس کو دودھ پلارہی تھی اچا نک اس کے پاس سے ایک خوبصورت سوارسواری پر گذرا۔ وہ عورت کہنے لگی اے اللہ ! تو میرے اس بیٹے کو بھی اس سوار جیسا بنادے۔ بچے نے یہ بات سنی تو ماں کا دودھ چھوڑ کر سوار کو دیکھنے لگا اس کو دیکھ کر کہا اے اللہ تو مجھے ایسانہ بنانا۔ اس کے بعد وہ اپنی ماں کا دودھ چوسنے لگا ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ ر ہاہوں جو اس بچے کے دودھ چوسنے کی نقل کر ر ہے تھے اپنی انگلی اپنے منہ میں رکھ کر چوس کر دیکھائی ۔ اس کے بعد وہ عورت اس بچے کو لئے گذررہی تھی اچا نک ایک ایسی لونڈی کے پاس سے گذری جس کو لوگ مار پیٹ رہے تھے۔ بچے کی ماں نے دیکھا تو کہنے لگی اے اللہ !میرے بیٹے کو ایسا نہ بنانا چنانچہ اس بچے نے پھر دودھ چھوڑ کر اس عورت کی طرف دیکھا اور کہنے لگا اے اللہ ! مجھے اس عورت جیسا بنانا ۔ پھر اس وقت ماں بیٹے میں اس بات پر مذاکرہ ہوا۔ خاتون نے کہا بیٹے میرے قریب سے خوبصورت جوان سوار گذرا میں نے کہا اللہ !میرے بیٹے کو ایسا بنانا تو تم نے کہا اے اللہ ! مجھے ایسا نہ بنانا ۔ پھر اس لونڈی کے پاس گذر ہوا تو میں نے کہا کہ میرے بیٹے کو ایسا نہ بنانا تو تم نے کہا اللہ ! مجھے اس جیسا بنانا ۔ اب بچے نے کہا اے میری ماں ! وہ سوار جو تیرے پاس سے گذرا تھا وہ سرکش ظالم تھا ۔ اور تم نے یہ دعادی کہ اللہ تو اس کو بھی ویسا بنا دے اس لئے میں نے کہا تھا اللہ مجھے ایسا نہ بنا۔ (اور باقی رہا اس لونڈی کا مسئلہ )تو یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ تم نے چوری کی ہے زنا کیا ہے حالانکہ اس نے نہ چوری کی ہے نہ ہی زنا کیا ہے۔ اور وہ کہہ رہی ہے حسبی اللہ۔ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے مسلم بن ابراہیم سے اس نے جریر بن حازم سے ۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے زہیر بن حرب اس نے یزید بن ہارون سے اس نے جریر سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أبو الخير جامع بن أحمد الوكيل المحمد أبادي من أصل سماعه

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Jarir Al-Abed hadith about the merit of preserving the mother's heart · Hadith 7879

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ حديث جرير العابد في فضل حفظ قلب الأم · حديث 7880

7880 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن يونس نا ابن الريان الأسدي نا ليث بن سعد و أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو الأحرز محمد بن عمر بن جميل الأزدي نا محمد بن يونس القرشي نا الحكم بن الريان اليشكري نا ليث بن سعد حدثني يزيد بن حوشب الفهري عن أبيه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : و في رواية الصفار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو كان جريج الراهب فقيها عالما لعلم أن إجابته أمه أفضل من عبادة ربه و كذلك رواه علي بن الموصل عن محمد بن يونس عن الحكم بن الريان و وقع في كتابي عن ابن عبدان محمد بن الريان و الحكم أصح و هذا إسناد مجهول

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبد صفار نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو ابن ریان اسدی نے ان کولیث بن سعد نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علوی نے ان کو ابوالاحر زمحمد بن عمر بن جمیل از دی نے ان کو محمد بن یونس قرشی نے ان کو حکم بن ریان یشکری نے ان کولیث بن سعد نے ان کو یزید بن حوشب فہری نے ان کوان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ صفارکی روایت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ اگر جریج فقیہ عالم ہوتا تو وہ جانتا کہ اس کی ماں اس کے رب کی عبادت سے افضل ہے۔ اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے علی بن موسیٰ نے محمد بن یونس سے اس نے حکم بن ربان سے اور میری کتاب میں واقع ہے ابن عبدان محمد بن ریان سے اور حکم زیادہ صحیح ہے اور یہ سند مجہول ہے۔

و في رواية الصفار ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← يزيد بن حوشب الفهري ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← الحكم بن الريان اليشكري ← محمد بن يونس القرشي ← أَبُو الْأَحْرَزِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْأَزْدِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← ليث بن سعد و ← ابن الريان الأسدي ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Jarir Al-Abed hadith about the merit of preserving the mother's heart · Hadith 7880

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ حديث جرير العابد في فضل حفظ قلب الأم · حديث 7881

7881 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا يحيى بن جعفر أنا زيد بن الحباب نا ياسين بن معاذ نا عبد الله بن مرثد عن طلق بن علي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو أدركت والدي أو أحدهما و أنا في صلاة العشاء و قد قرأت فيها بفاتحة الكتاب تنادي يا محمد لأجبتها لبيك ياسين بن معاذ ضعيف

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو زید بن حباب نے ان کو یاسین بن معاذ نے ان کو عبد اللہ بن مرثد نے ان کو طلق بن علی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ سے فرماتے تھے کہ اگر میں اپنے والد کو یا دونوں میں سےایک کو پالوں اور عشاء کی نماز میں ہوں اور سورۃ فاتحہ پڑھ چکوں اور وہ آواز لگا دے اے محمد ! تو میں اس کو جواب دے دوں گا کہ میں حاضر ہوں ۔ یا سین بن معاذ ضعیف ہے۔

فيها بفاتحة الكتاب تنادي يا محمد لأجبتها لبيك ياسين بن معاذ ضعيف ← في صلاة العشاء و قد ← لو أدركت والدي أو أحدهما و ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← طلق بن علي ← عبد الله بن مرثد ← يَاسِينُ بْنُ مُعَاذٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Jarir Al-Abed hadith about the merit of preserving the mother's heart · Hadith 7881

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ حديث جرير العابد في فضل حفظ قلب الأم · حديث 7882

7882 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن المؤمل نا الفضل بن محمد نا مسدد نا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن مكحول قال : إذا دعتك أمك و أنت في الصلاة فأجب

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کومحمد بن مؤمل نے ان کو فضل بن محمد نے ان کو مسدد نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو اوزاعی نے ان کو مکحول نے وہ فرماتے ہیں کہ جب تجھے تیری ماں بلائے اور تم نماز میں ہو تو تم اس کی بات کا جواب دو۔

إذا دعتك أمك و أنت في الصلاة فأجب ← مَكْحُولٌ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Jarir Al-Abed hadith about the merit of preserving the mother's heart · Hadith 7882

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ حديث جرير العابد في فضل حفظ قلب الأم · حديث 7883

7883 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا عبد الملك بن عبد الحميد الميموني نا روح نا الأوزاعي قال : قال المكحول : إذا دعتك والدتك و أنت في الصلاة فأجبها وإذا دعاك أبوك فلا تجبه حتى تفرغ من صلاتك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو عبدالملک بن عبد الحمید میمونی نے ان کو روح نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ مکحول نے کہا جب تجھے تیری والد و بلائے اور تم نماز میں ہوتو اس کو جواب دے دو اور جب تجھے تیراوالد بلائےاس کو جواب نہ دو یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو کر پھر جواب دو۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← رَوْحٌ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَيْمُونِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Jarir Al-Abed hadith about the merit of preserving the mother's heart · Hadith 7883

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ حديث جرير العابد في فضل حفظ قلب الأم · حديث 7884

7884 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن رجاء نا شيبان بن فروخ نا أبو عوانة عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : رغم أنف ثم رغم أنف ثم رغم أنف رجل أدرك أبويه عند الكبر أحدهما أو كلاهما فلم يدخل الجنة رواه مسلم عن شيبان بن فروخ

ہمیں خبر دی ابوعبد اللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ بن یعقوب بن رجاء نے ان کو شیبان بن فروخ نے ان کو ابوعوانہ نے ان کو سہیل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خاک آلود ہو پھر خاک آلود ہو پھر خاک آلود ہو ، ناک اس آدمی کی ، جواپنے والدین کو پالے ان کے بڑھاپے میں ایک کو یا دونوں کو پھر بھی وہ جنت میں نہ جا سکے (یعنی ان کی خدمت کر کے ) اس کو مسلم نے روایت کیا شیبان بن فروح سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Jarir Al-Abed hadith about the merit of preserving the mother's heart · Hadith 7884

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ حديث جرير العابد في فضل حفظ قلب الأم · حديث 7885

7885 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن قتادة سمع زرارة يحدث عن أبي بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أدرك والديه أو أحدهما ثم دخل النار فأبعده الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے اس نے سنا زرارہ سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اپنے والد ابن مالک سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص اپنے والدین کوپالے یا دونوں میں سے ایک کو پالے پھر بھی وہ جہنم میں چلا جائے اللہ اس کو دور کر دے گا ( رحمت سے۔)

أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ ← زُرَارَةَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Jarir Al-Abed hadith about the merit of preserving the mother's heart · Hadith 7885

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood