Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7862

7862 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا عثمان بن أحمد بن السماك نا محمد بن علي بن بحر البراز حدثني محمد بن إبراهيم البرحلاني عن أبيه قال : سألت بشرا يعني ابن الحارث عن رجل له أب بالثغر و له أم ببغداد و أمه تنهاه أن يأتي أباه و أبوه يريد أن يأتيه و يكون عنده أيضا قال : بشر سألت عبد الله بن داود هذا عن هذا فقال : يقيم عند أمه و لا يأتي أباه إلا أن تأذن له أمه قلت لبشر : فإن يزيد نا عن هشام عن الحسن قال : للأم ثلثا البر و للأب الثلث قال بشر سمعت فضيل بن عياض يذكر عن هشام عن الحسن هذا الحديث فقلت له فحدثت به بهز بن حكيم فقال : لهذا في العطية و قال بشر : أرى الأب يأخذ من مال ابنه إذا كان يحتاج ما يكفيه و الأم أيضا تأخذ بقدر ما تحتاج و قال : للأب و الأم في هذا سواء و أما في الإقامة فأنا إلى الأم أميل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو محمد بن علی بن بحر البراز نے ان کو محمد بن ابراہیم بر جلانی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھابشر بن الحارث سے ایک آدمی کے بارے میں جس کے والد ثغر میں تھے اور ماں بغداد میں ۔اور اس کی ماں اس کو منع کرتی ہے کہ وہ اپنے والد کے پاس نہ جائے جب کہ باپ چاہتا ہے کہ وہ اس کے پاس آئے ۔اور اس کے پاس ہی رہے۔بشر نے کہا کہ میں نے پوچھا تھا عبداللہ بن داؤد سے یہ سوال اسی بارے میں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ماں کے پاس رہے اپنے والد کے پاس نہ جائے مگر ماں کی اجازت سے۔ میں نے بشر سے کہا کہ بے شک یزید نے ہمیں خبر دی ہے جس سے انہوں نے فرمایا تھا کہ ماں کا حق تین چیز یں میں یعنی تین بار نیکی کرنے کا حکم ہے ۔ اور باپ کے لئے تہائی ہے۔ بشر نے کہا میں نے سنا تھا فضیل بن عیاض سے وہ ذکر کرتے تھے ہشام سے وہ حسن سے اس حدیث کو میں نے ان سے کہا آپ نے یہ حدیث بہنر بن حکم کو بیان کی تھی انہوں نے کہا کہ اسی لئے عطیہ ہے۔ اور بشر نے کہا میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ باپ بیٹے کے مال میں سے بغیر اجازت لے سکتا ہے جب اس کو اس کی ضرورت ہو بقد رضرورت اور ماں بھی بقدر حاجت لے سکتی ہے ۔ اور فرمایا کہ اس مسئلے میں ماں اور باپ برابر ہیں ۔بہر حال اقامت و ذمہ داری اور کفایت میں ۔ بہر حال میں ماں کی طرف مائل ہوں ۔

رجل له أب بالثغر و له أم ببغداد و أمه تنهاه ← سألت بشرا يعني ابن الحارث ← أَبِيهِ ← محمد بن إبراهيم البرحلاني ← محمد بن علي بن بحر البراز ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7862

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7863

7863 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان الحناط قال : قال ذو النون : ثلاثة من أعلام البر : بر الوالدين بحسن الطاعة لهما و لين الجناح و بذل المال و بر الوالد بحسن التأديب لهم و الدلالة على الخير و بر جميع الناس بطلاقة الوجه و حسن المعاشرة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعثمان حناط نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ذوالنون نے کہ تین چیز نیکی کی نشانیاں ہیں ۔ والدین کے ساتھ نیکی کرنا ان دونوں کی حسن اطاعت کے ساتھ ۔ اور بازو نرم رکھنا ۔ اور مال خرچ کرنا۔ اور والد کی نیکی ( اولاد کے ساتھ )ان کو ادب سکھانا ہے اور خیر کی رہنمائی کرنا اور جمیع لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا خوش چہرے کے ساتھ اور حسن معاشرہ کے ساتھ ۔

أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7863

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7864

7864 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن السراج نا مطين نا عبد الله بن عمر و محمد بن العلا قالا : نا أبو معاوية ح و أخبرنا أبو عبد الله بن الفضل بن نظيف المصري بمكة نا القاضي أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله بن نصر الذهلي إملاء نا أبو بكر القاسم بن زكريا المطرز نا أبو كريب محمد بن العلا و محمد بن إسماعيل بن سمرة قالا : نا أبو معاوية عن محمد بن سوقة عن أبي بكر بن حفص عن ابن عمر قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إني أذنبت ذنبا عظيما فهل لي من توبة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألك والدة و في رواية ابن قتادة أما لك والدان ؟ قال : لا قال : ألك خالة ؟ قال : نعم قال : فبرها و في رواية ابن قتادة فبرها إذا

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن السراج نے ان کو مطین نے ان کو عبداللہ بن عمر اور محمد بن علاء نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو معاویہ نے ”ح‘‘اور ہمیں خبر دی عبداللہ بن فضل نظیف مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو قاضی ابو طاہر محمد بن احمد بن عبداللہ بن نصر ذہلی نے بطور املا ء کے ان کو ابو بکر قاسم بن زکریا مطرز نے ان کو ابو کر یب محمد بن علاء اور محمد بن اسماعیل بن سمرہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبردی معاویہ نے محمد بن سوقہ سے اس نے ابو بکر بن حفص سے اس نے ابن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے ایک بہت بڑا گناہ کر لیا ہے کیا میرے لئے تو بہ ہے؟ حضور نے پوچھا کہ کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اور ابن قتاہ کی روایت میں ہے کہ کیا تیرے والد ین ہیں؟ اس نے کہا کہ نہیں ہیں ۔فرمایا کہ تیری خالہ ہے؟ کہا کہ جی ہاں ہے۔ فرمایا جا اس کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔اور ا بن قتادہ کی ایک روایت میں ہے کہ پھر اس کے ساتھ نیکی کر ۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو كريب محمد بن العلا و محمد بن إسماعيل بن سمرة ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُطَرِّزُ ← القاضي أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله بن نصر الذهلي ← أبو عبد الله بن الفضل بن نظيف المصري ← و، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عبد الله بن عمر و محمد بن العلا ← مطين ← أبو الحسن السراج، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7864

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7865

7865 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بحر بن نصر نا بشر بن بكر نا سعيد بن عبد العزيز عن أم أيمن : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أوصى بعض أهل بيته فقال : لا تشرك بالله عز و جل و إن عذبت و إن حرقت و أطع ربك و والديك و إن أمرك أن تخرج من كل شيء لك فأخرج ولا تترك الصلاة متعمدا فإن من ترك الصلاة متعمدا فقد برئت منه ذمة الله إياك و الخمر فإنها مفتاح كل شر إياك و المعصية فإنها تسخط الله لا تنازعن الأمر أهله و إن رأيت أن لك لا مفر من الزحف إن أصاب الناس موت و أنت فيهم فأثبت و أنفق على أهلك من طولك و لا ترفع عصاك عنهم و أخفهم في الله عز و جل و رواه معمر عن إسماعيل بن أمية عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا ببعض معناه و رواه راشد أبو محمد عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء قال : أوصاني رسول الله صلى الله عليه و سلم بسبع فذكرهن و روى عن أمية مولاة النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر قاضی دونوں نے کہا ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو بشر بن بکر نے ان کو سعید بن عبدالعزیز نے ان کوام ایمن نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اہل بیت کو وصیت فرمائی تھی ۔ کہ اللہ کے ساتھ شریک نہ کر نا اگر چہ تمہیں عذاب دیا جائے اور تم جلا دیئے جاؤ اور اپنے رب کی اطاعت کرنا اور اپنے والدین کی اطاعت کرنا اگر چہ وہ تجھے حکم دیں کہ تم اپنی ہرشی سے نکل جاؤ۔ اور جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑنا، جوشخص جان بوجھ کر نماز چھوڑے گا اس سے اللہ کا ذمہ ختم ہو جائے گا اور بچا ناتم اپنے آپ کو شراب سے بے شک وہ ہر شر کی چابی ہے اور بچانا تم اپنے آپ کو معصیت سے بے شک وہ اللہ کو ناراض کرتی ہے۔اور کوئی معاملہ ان کے اہل سے نہ چھیننا۔ اور اگر تم دیکھو کہ تمہارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اگر لوگ مر جائیں اور تم ان میں ہو تو ثابت قدم رہو ۔اور تم اپنے اہل خانہ پر خرچ کرواپنی استطاعت کے مطابق ۔ اور اپنی لاٹھی ان سے نہ اٹھانا اور ان کو اللہ سے ڈراتے رہنا۔ اس کو روایت کیا ہے معمر نے اسماعیل بن امیہ سے اس نے نبی کریم سے بطور مرسل کے ۔ اس کے بعض مفہوم کے ساتھ اور اس کو روایت کیا ہے راشد ابومحمد نے شہر بن حوشب سے اس نے ام درداء سے اس نے ابودرداء سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی سات باتوں کی اس نے ان کو ذکر کیا ہے اور روایت کی گئی ہے امیر مولاۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

أُمِّ أَيْمَنَ ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7865

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7866

7866 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ نا إبراهيم بن عبد الله أنا يزيد بن هارون أنا الجريري ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد بن زياد العدل أنا محمد بن إسحاق أنا إسحاق بن شاهين نا خالد عن الجريري عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أنبئكم بأكبر الكبائر ؟ قال : قلنا بلى يا رسول الله قال : الإشراك بالله و عقوق الوالدين و كان متكئا فجلس فقال : ألا و قول الزور و شهادة الزور فما زال يقولها حتى قلنا : لا يسكت لفظ حديث خالد رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق بن شاهين و أخرجه مسلم من وجه آخر عن سعيد عن الجريري

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو جریر نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابومحمد بن زیا دعدل نے ان کومحمد بن اسحٰق نے ان کو اسحٰق بن شاہین نے ان کو خالد نے ان کو جریدی نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابوبکر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیامیں تمہیں سب سے بڑےکبیرہ گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں؟ہم نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ !فرمایا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سہارا لگائے ہوئے تھے اس کے بعد سید ھے ہو کر بیٹھ گئے اورفرمایا خبر دار اور جھوٹی بات کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ آپ یہ لفظ بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کیا آپ چپ نہیں کریں گے؟ یہ الفاظ خالد کی روایت کے ہیں ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن شاہین سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے طریق سعید سے اس نے جو یری سے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← إسحاق بن شاهين ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7866

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7867

7867 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا الحسين بن يعقوب العدل نا الحسين بن محمد بن زياد حدثني محمد القرشي نا محمد بن جعفر نا شعبة نا عبد الله بن أبي بكر قال : سمعت أنس بن مالك قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم الكبائر أو سئل عن الكبائر فقال : الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس ثم قال : ألا أنبئكم بأكبر الكبائر قول الزور أو قال : شهادة الزور قال شعبة : و أكثر ظني أنه قال : وشهادة الزور روياه عن محمد بن الوليد

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو حسین بن یعقوب عدل نے ان کو حسین بن محمد بن زیاد نے ان کو محمد قرشی نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو شعبہ نے ان کو عبداللہ بن ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا۔ یاحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ ناحق قتل کرنا۔اس کے بعد فرمایا۔ کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں؟ وہ ہے جھوٹی بات کرنا ہے۔ یایہ فر مایا تھا کہ جھوٹی گواہی دینا۔ کہا شعبہ نے کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ جھوٹی گواہی دینا۔ دونوں نے اس کو روایت کیا ہے محمد بن ولید سے۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← وشهادة الزور روياه ← شعبة و أكثر ظني أنه ← شَهَادَةُ الزُّورِ. ← أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟، قَوْلُ الزُّورِ، أَوْ ← الكبائر فقال الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس ثم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم الكبائر أو سئل ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← محمد القرشي ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7867

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7868

7868 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن القاسم بن أبي برة عن أبي الطفيل قال : سئل علي رضي الله عنه هل خصكم رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء ؟ قال : ما خصنا بشيء لم يعم به الناس كافة إلا ما كان في قراب سيفي هذا و أخرج صحيفة فإذا فيها مكتوب لعن الله من ذبح لغير الله و لعن الله من سرق منار الأرض و لعن الله من ذبح لغير الله و لعن الله من سرق منار الأرض و لعن الله من لعن والديه و لعن الله من أوى محدثا رواه مسلم في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمر بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو قاسم بن ابو برہ نے ان کو ابوطفیل نے وہ کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا تم لوگوں کو رسول اللہ نے کسی چیز کے ساتھ خاص کیا تھا؟ فرمایا کہ ہمیں کسی شئی کے ساتھ خاص نہیں کیا تھا جس میں تمام لوگوں کو عام نہ کیا ہوسوائے اس کے جو کچھ میری اس تلوار کے نیام میں ہے۔ پھر انہوں نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا۔ اس میں یہ لکھا ہوا تھا اللہ لعنت کرے اس شخص کو جس نے غیر اللہ کے لئے ذبح کیا۔ اور اللد لعنت کرے اس کو جوز مین کے نشانات چرائے۔ (جو راستوں پر قائم کئے جاتے ہیں بطور نشان) اور اللہ لعنت کرے اس شخص کو جو اپنے والدین کولعنت کرے ( یا برا کہے ) اور اللہ لعنت کرے اس کو جو بدعتی کو پناہ دے۔اس کو مسلم نے روایت کیا شعبہ کی حدیث سے ۔

سئل علي هل خصكم رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَرَّةَ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7868

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7869

7869 - أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني أبو يعلى نا عباد بن موسى الختكي حدثني إبراهيم حدثني أبي عن حميد بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أكبر الكبائر أن يلعن الرجل والديه قيل : يا رسول الله و كيف يلعن والديه قال : يسب أبا الرجل فيسب أباه و يسب أمه فيسب أمه رواه البخاري عن أحمد بن يونس عن إبراهيم بن سعد

ہمیں خبر دی ابوعمر ومحمد بن عبداللہ ادیب نے ان کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی ابویعلی نے ان کو عباد بن موسیٰ نے ختکی نے ان کو حدیث بیان کی ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن نے ان کو عبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک کبیرہ گناہوں میں سے کبیرہ گناہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے والد ین کولعنت کرے ۔ کہا گیا کہ یا رسول اللہ! سے کوئی اپنے والدین کو لعنت کرے گا ؟ فرمایا کہ وہ کسی کے باپ کو گالی دے گا لہذاوہ پلٹ کر اس کے والد کو گالی دے گا۔ اور یہ کسی کی ماں کو گالی دے گا اور وہ بھی پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دے گا۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے احمد بن یونس سے اس نے ابراہیم بن سعد سے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمَ، ← عباد بن موسى الختكي ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7869

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7870

7870 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة نا سعد بن إبراهيم قال : سمعت حميد بن عبد الرحمن يقول : سمعت عبد الله بن عمرو يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن من أكبر الكبائر و الذنوب أن يسب الرجل والديه في الإسلام قيل : يا رسول الله و كيف يسب والديه ؟ قال : يسب أبا الرجل فيسب أباه و يسب أمه فيسب أمه أخرجه مسلم من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو سعد بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حمید بن عبدالرحمٰن سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عبد اللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں بے شک اکبر الکبائر اور گناہ یہ ہیں کہ اسلام میں آنے کے بعد بھی کوئی اپنے والدین کو گالی بکے۔ کہا گیا یارسول اللہ! کیسے کوئی اپنے والدین کوگالی دے گا ؟ فرمایا کہ یہ کسی کے باپ کو گالی دے گا اور وہ ان کے والد کوگالی دے گا یہ کسی کی ماں کو گالی دے گا اور وہ اس کی ماں کو گالی دے گا ۔ اس کونقل کیا ہے مسلم نے حدیث شعبہ سے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7870

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7871

7871 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا يعلى بن عبيد نا محمد بن سوقه عن محمد بن عبد الله الثقفي عن وراد قال : كتب المغيرة بن شعبة إلى معاوية و زعم و راد أنه كتب بيده قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله تبارك و تعالى حرم ثلاثة و نهى عن ثلاثة : عقوق الأمهات و وأد البنات و لا وهات و نهى عن ثلاث : قيل و قال إضاعة المال و إلحاف السؤال أخرجه مسلم من وجه آخر عن محمد بن سوقة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبد الوہاب فراء نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کومحمدبن سوقہ نے ان کومحمد بن عبد اللہ ثقفی نے ان کو وراد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا اور یہ دعویٰ کیاوراد نے کہ اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تین چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ اور تین چیزوں سے منع کیا ہے ماؤں کی نافرمانی کرنا۔ بیٹیوں کوزندہ زمین میں دفن کرنا ۔ دینے کے لئے منع کرنا اور لینے کے لئے لاؤ دے دو کہنا۔ اور تین چیزوں سے منع کیا تھا۔ مال کو ضائع کرنا ، چپک کر سوال کر نا مانگنا اور قیل قال و حجت بازی کرنا ۔اس کو مسلم نے دوسرے طریق سے نقل کیا ہے محمد بن سوقہ سے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← إضاعة المال و إلحاف السؤال أخرجه مسلم من وجه آخر ← ثلاث قيل و ← ثلاثة عقوق الأمهات و وأد البنات و لا وهات و نهى ← إن الله تبارك و تعالى حرم ثلاثة و نهى ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إِنِّي ← بيده ← المغيرة بن شعبة إلى معاوية و زعم و راد أنه ← وَرَّادٍ ← محمد بن عبد الله الثقفي ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7871

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7872

7872 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي نا المطرز قاسم بن زكريا نا عبيد الله عن شيبان عن منصور عن المسيب بن رافع عن وراد عن المغيرة بن شعبة : أنه كتب إلى معاوية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا سلم من الصلاة قال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير و قال : إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات و وأد البنات و منع و هات وكره لكم قيل و كثرة السؤال و إضاعة المال رواه البخاري عن سعد بن حفص عن شيبان

ہمیں خبر دی ابو عمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو مطرز قاسم بن زکریا نے ان کو عبید اللہ نے ان کو شیبان نے ان کو منصور نے مسیب بن رافع سے اس نے وراد سے اس نے مغیرہ بن شعبہ سے کہ انہوں نے حضرت معاویہ کی طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔ لا اله الا الله وحده لاشريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شئ قدير . اور فرمایا کہ للہ تعالیٰ نے تمہارے اوپرحرام کیا ہے ماؤں کی نافرمانی کرنا بیٹیوں کوزند و در گور کرنا۔ دینے کے لئے منع کرنا اور لینے کے لئے ہاتھ پھیلا نا اور مکروہ قرار دیا ہے تمہارے لئے حجت بازی کرنے کو، کثرت سے مانگنے کو اور مال ضائع کرنے کو۔ بخاری نے اس کو روایت کی سعد بن حفص سے اس نے شیبان سے۔

إِلَى مُعَاوِيَةَ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ ← وَرَّادٍ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← المطرز قاسم بن زكريا ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7872

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7873

7873 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا جرير بن عبد الحميد عن زياد بن أبي زياد عن مجاهد عن أبي سعيد الخدري قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : لا يدخل الجنة ولد زنا و لا مدمن خمر و لا عاق لوالديه و لا منان

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کوحسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالربیع نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو زیاد بن ابو زیاد نے ان کو مجاہد نے ان کو ابوسعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے ۔ جنت میں داخل نہ ہو گا ولد الزنا (حرامی ) اور دائمی شرابی اور والدین کا نافرمان ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُجَاهِدٍ ← زياد بن أبي زياد ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7873

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood