Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7850

7850 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن داود الرزاز أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا محمد بن إسماعيل السلمي أنا أيوب بن سليمان نا أبو بكر يعني ابن أبي أويس عن سليمان بن بلال قال : قال محمد و موسى بن عقبة : نا ابن شهاب نا سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني أراني في الجنة فبينما أنا فيها سمعت صوت رجل بالقرآن فقلت : من هذا ؟ قالوا : حارثة بن النعمان كذلك البر كذلك البر كذا قال محمد بن أبي عتيق و موسى بن عقبة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن محمد بن داؤ ورزاز نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو محمد بن اسماعیل سلمی نے ان کو ایوب بن سلیمان نے ان کو ابو بکر یعنی ابن ابواویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے وہ کہتے ہیں کہ کہا محمد نے اور موسی ٰبن عقبہ نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جنت میں دیکھایا گیا تھا ، میں جنت میں چل رہا تھا کہ یکایک ایک آدمی کی قرآن مجید پڑھنے کی آواز سنائی دی میں نے پو چھا کہ یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا یہ حارثہ بن نعمان کی آواز ہے ۔ ایسی ہوتی ہے نیکی ایسی ہوتی ہے نیکی ۔ اسی طرح کہا ہے محمد بن ابوعتیق او رموسیٰ بن عقبہ نے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← محمد و موسى بن عقبة ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أبو بكر يعني ابن أبي أويس ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7850

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7851

7851 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر محمد بن الحسين بن الحسن بن الخليل القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أخبرنا معمر بن راشد عن الزهري عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نمت فرأيتني في الجنة فسمعت صوت قارئ يقرأ فقلت من هذا ؟ قالوا : حارثة بن النعمان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كذاك البر كذاك البر كذاك البر و كان أبر الناس بأمه

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکرمحمد بن حسین بن حسن خلیل قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر بن راشد نے ان کو زہری نے ان کو عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سورہاتھا میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا میں نے ایک قاری کی آواز سنی جو قرأت کر رہا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا حارثہ بن نعمان ہے ۔ لہذارسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: نیکی ایسی ہوتی ہے نیکی ایسی ہوتی ہے نیکی ایسی ہوتی ہےاور حارثہ اپنی ماں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکی اور حسن سلوک کرتا تھا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو بكر محمد بن الحسين بن الحسن بن الخليل القطان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7851

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7852

7852 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثني أبي عن صالح بن كيسان نا نافع أن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بينما ثلاثة رهط يتماشون أخذهم المطر فأووا إلى غار في جبل فبينما هم فيه حطت صخرة من الجبل فأطبقت عليهم فقال بعضهم لبعض : انظروا أعمالا عملتموها لله سبحانه و اسألوه بها لعله يفرج بها عنكم فقال : أحدهم اللهم إنه كان لي والدان كبيران و كانت لي امرأة وولد صغار و كنت أرعى غنمي عليهم فإذا رحت غنمي عليهم بدأت بأبوي فسقيتهما فنأى بي يوما الشجر فلم آت حتى نام أبواي فطيبت الإناء ثم حلبت فيه ثم قمت بحلابي عند رأس أبواي و الصبية يتضاغون عند رجلي أكره أن أبدأ بهما قبل أبواي و أكره أن أوقظهما من نومهما فلم أزل كذلك حتى أضاء الفجر اللهم إن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا فرجة نرى منها السماء ففرج لهم فرجة فرأوا منها السماء وقال الآخر اللهم إنها كانت لي ابنة عم فأحببتها حتى كانت أحب الناس إلي فسألتها نفسها فقالت : لا حتى تأتيني بمائة دينار فسعيت حتى جمعت مائة دينار فأتيتها بها فلما كنت بين رجليها قالت : اتق الله و لا تفتح الخاتم إلا بحقه فقمت عنها اللهم إن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا فرجة ففرج لهم فيها فرجة فقال الثالث اللهم إني كنت استأجرت أجيرا بفرق ذرة فلما قضى عمله عرضت عليه فأبى أن يأخذه و رغب عنه فلم أزل أعمل به حتى جمعت منه بقرا و رعاها فجاءني فقال : اتق الله و أعطني حقي و لا تظلمني فقلت له : اذهب إلى تلك البقر و ارعها فخذها فقال اتق الله و لا تهزأ بي فقلت إني لا أهزأ بك فاذهب إلى تلك البقر و ارعها فخذها فاستاقها اللهم إن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما بقي منا ففرج الله عنهم فخرجوا يتماشون رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب و غيره عن يعقوب بن إبراهيم و أخرجاه من وجه آخر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی میرے والد نے صالح بن کیسان سے ان کو نافع نے یہ کہ حضرت عبداللہ بن نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تین آدمی پیدل سفر کر رہے تھے انہیں بارش نے گھیر لیا لہذا انہوں نے پہاڑ کی ایک غار میں پناہ لے لی اور ابھی اسی میں بیٹھے ہی تھے کہ پہاڑ کے اوپر سے ایک پتھر گرا جس نے غار کے دہانے کو بند کر دیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ تم لوگ اپنے اپنے اعمال کو یاد کرو جوتم نے خالص اللہ کی رضا کے لئے کئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ سے اسی خالص عمل کے ساتھ اور اسی کے ذریعے اوروسیلے سے اللہ سے دعا کروشاید وہ تم سے اسی مشکل کوکھول دے۔لہذا ان میں سے ایک نے کہا اے اللہ ! میرے بوڑھے والدین تھے ۔ اور میری بیوی بچے بھی تھے، بچے چھوٹے چھوٹے تھے، میں بکریاں چرایا کرتا تھا جب شام کو میں بکریاں واپس لے کر آتا تو سب سے پہلے میں اپنے والدین کو ان کا دودھ پلاتا تھا ایک دن میں درختوں کی تلاش میں دور نکل گیا واپسی دیر سے ہوئی جب میں بکریاں لے کر آیا تو میرے والدین سو چکے تھے۔ میں نے برتن دھو یا اور اس میں دودھ نکالا اور وہ دودھ لے کر والدین کے سرھانے ان کے جاگنے کا انتظار کرنے کھڑا ہو گیا بچے میرے پیروں میں بلبلا رہے تھے میں نے اس بات کوناپسند کیا کہ میں پہلے ان کو پلا دوں اور والدین کو جگانا بھی ناپسند کیا میں رات بھر اسی حالت میں رہاحتیٰ کہ فجر طلوع ہوگئی اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام محض تیری رضا کے لئے کیا تھا تو ہم سے اتنی اس چٹان کو ہٹادے جس سے ہم آسمان کو دیکھ سکیں چنانچہ چٹان اس قدرہٹ گئی کہ وہ آسمان کو دیکھنے لگے۔ اتنے میں دوسرے نے کہا اے اللہ ! میرے چچا کی لڑکی تھی میں اس سے محبت کرتا تھا اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی میں نے اس سے گناہ کرنے کی بات کہی تو اس نے کہا کہ میں اس وقت مانوں گی جب تم مجھے ایک سود ینار دو گے لہذا میں نے کوشش کر کے سود مینار جمع کئے اور لے کر اس کے پاس پہنچ گیا اور اسے دے دیا۔ جب میں اس کے پیروں کی طرف بیٹھا تو اس نے کہا کہ تو اللہ سے ڈر اور گو اس مہر کو نہ کھول مگرحق کے ساتھ ۔ لہذا میں اس کے پاس سے اٹھ گیا۔ اللہ اگرتو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل محض تیری رضا کے لئے کیا تھا تو تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے اور ہماری مشکل کشائی کر ۔ اللہ نے ان کے لئے اس سوراخ میں اور اضافہ کر دیا۔اب تیسرے نے کہا اے اللہ ! میں اجرت پر لوگوں سے کام کرواتا تھا ان کومز دوری میں ایک فرق مکئی غلہ دیتا تھا۔ ایک مزدور نے جب کام پورا کر لیا تو میں نے اس کو مزدوری دی اس نے اس کو کم سمجھا اور لینے سے انکار کر دیا ناراض ہوکر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کو بڑھانا شروع کر دیا حتیٰ کہ میں نے اس کے ساتھ گائے اور ان کا چرواہا جمع کر لہے ایک عرصے بعد وہ واپس آیا اور کہنے لگا۔ اللہ سے ڈراور مجھے میرا حق دے دے میں نے اسے کہا جا لے جایہ گائے اور ان کو چرانے والا یہ سب تیرے ہیں ۔اس شخص نے کہا اللہ سے ڈرمیرے ساتھ مذاق نہ کر ۔ میں نے کہا کہ میں نے مذاق نہیں کیا یہ سب تیرا ہے لے جالہند او ہ ان کو با نک کر لے گیا اے اللہ! اگر یہ کام میں نے تیری رضا کے لئے کیا تھا تو جانتا ہی ہے تو اس پتھر کو ہم سے ہٹادے باقی جورہ گیا ہے ۔ لہذا اللہ نے ان سے وہ پتھر ہٹادیا اوروہ نکل کر پیدل چلتے ہوئےچلے گئے ۔اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب وغیرہ سے انہوں نے یعقوب بن ابراہیم سے اور بخاری ومسلم نے دوسرے طریق سےبھی اس کونقل کیا ہے ۔

نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7852

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7853

7853 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا مطين نا علي بن حكيم نا شريك عن الأعمش عن مغراء عن ابن عمر قال : مر رجل على أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم رجل له حشم خلقا فقالوا لو كان هذا في سبيل وجاء النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : لو كان هذا في سبيل الله فقال : لعله يكد على أبوين شيخين كبيرين فهو في سبيل الله لعله يكد على صبية صغار فهو في سبيل الله لعله يكد على نفسه ليغنيها عن الناس فهو في سبيل الله

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو مطین نے ان کوعلی بن حکیم نے ان کو شریک نے ان کو اعمش نے ان کو مغراء نے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گذرا۔ پرانے بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس تھا صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا کاش میں اس طرح جہاد فی سبیل اللہ میں ہوتا ۔ اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے صحابہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ کاش کہ یہ آدمی اللہ کی راہ میں ہوتا ۔اور ایسا ہو جا تا ۔حضور نے فرمایا کہ شاید یہ والدین کی خدمت کی مشقت اٹھارہا ہوتو بھی یہ اللہ کی راہ میں ہوگا یہ شخص اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی مشقت برداری کر رہا ہو تو بھی یہ فی سبیل اللہ ہوگا یایہ اپنے نفس کی مشقت اٹھار باہوتا کہ اس کولوگوں سے مستغنی کر دے تو بھی یہ فی سبیل اللہ ہوگا۔

ابْنِ عُمَرَ ← مَغْرَاءَ، ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ← مطين ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7853

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7854

7854 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا أصبع نا ابن وهب نا يحيى بن أيوب زبان بن فائد عن سهل بن معاذ عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من بر بوالديه زاد الله في عمره و قد ذكرنا في باب صلة الرحم ما قيل في زيادة العمر

ہمیں خبروی بوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو اصبع نے ان کو ابن وہب نے ان کو یحییٰ بن ایوب زبان بن فائد نے ان کوسہل بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں اضافہ کر دیتا ہے اور تحقیق ہم نے ذکر کیا ہے باب صلۃ الرحم میں جو کچھ روایات آئی ہیں عمر کی زیادتی کےبارے میں ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، ← يحيى بن أيوب زبان بن فائد ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أصبع ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن عبدوس ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7854

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7855

7855 - أخبرنا أبو الفتح هلال بن محمد الحفار ببغداد أنا الحسين بن يحيى بن عياش القطان نا أبو الأشعث نا حزم ابن أبي حزم نا ميمون بن سياه عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب أن يمد الله في عمره و يزيد في رزقه فليبر والديه و ليصل رحمه

ہمیں خبر دی ابوالفتح ہلال بن محمد حفار نے بغداد میں ان کو حسین بن یحیی ٰبن عیاش قطان نے ان کو ابو الاشعث نے ان کو حزم بن ابوحزم نے ان کو میمون بن سیارہ نے ان کوانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جوشخص پسند کرتا ہے کہ اللہ اس کودرازی عمر عطاء کرے اور ان کے رزق میں اضافہ کرے ان کو چاہئے کہ وہ والدین کے ساتھ نیکی کرے اور صلہ رحمی بھی کرے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ ← حزم ابن أبي حزم ← أَبُو الْأَشْعَثِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ← أبو الفتح هلال بن محمد الحفار ببغداد

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7855

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7856

7856 - أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني و أبو الحسن علي بن عبد الله البيهقي قالا : نا أبو بكر الإسماعيلي نا أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء نا محمد بن حميد نا زافر بن سليمان نا المستسلم بن سعيد عن الحكم ابن أبان عن عكرمة عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من ولد بار ينظر نظرة رحمة إلا كتب الله بكل نظرة حجة مبرورة قالوا و إن نظر كل يوم مائة مرة ؟ قال : نعم الله أكبر و أطيب

ہمیں خبر دی ابومنصور احمد بن علی دامغانی نے اور ابوالحسن علی بن عبداللہ بیہقی دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو بکر اسماعیلی نے ان کوابو جعفر احمد بن حسین حذاء نے ان کو محمد بن حمید نے ان کوز افر بن سلیمان نے ان کومستسلم بن سعید نے ان کو حکم بن ابان نے ان کو عکر مہ نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں کوئی بیٹا جو نیکی کرنے والا ہے جو نظر شفقت سے دیکھتا ہے مگر اس کے لئے ہرایک نظر کے بدلے میں ایک حج مقبول لکھ دیا جاتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اگر وہ ہر روز سومر تبہ بھی نظر اٹھا کر دیکھے؟ فرمایا کہ جی ہاں اللہ بہت بڑا ہےاور زیادہ پاکیزہ ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ ابن أَبَانٍ، ← الْمُسْتَسْلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ← زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7856

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7857

7857 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن إسحاق البغوي نا محمد بن إسماعيل السلمي نا أبو صالح نا الليث نا إبراهيم بن أعين البصري من بني عجل عن الحكم بن أبان عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا نظر الوالد إلى ولده ـ يعني فسر به ـ كان للولد عتق نسمة قال : قيل يا رسول الله و إن نظر ستين و ثلثمائة نظرة ؟ قال : الله أكبر من ذلك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوعبداللہ بن اسحاق بغوی نے ان کو محمد بن اسماعیل سلمی نے ان کو ابو صالح نے ان کولیث بن ابراہیم بن اعین بصری جو قبیلہ بنی عجل سے ہیں ان کو حکم بن ابان نے ان کو عکر مہ نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی والد اپنے بیٹے کی طرف دیکھتا ہے اور اس کو خوشی ہوتی ہے اس بیٹے کے لئے ایک جان کی آزادی کی طرح ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہا کیا یارسول اللہ اگر وہ تین سو ساٹھ بار دیکھے؟ فرمایا اللہ بہت بڑا ہے اس سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← إبراهيم بن أعين البصري من بني عجل ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7857

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7858

7858 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا عثمان بن أحمد بن السماك نا الحسن بن عمرو قال : سمعت بشر بن الحارث يقول : الولد بالقرب من أمه حيث سمع نفسه أفضل من الذي يضرب بسيفه في سبيل الله عز و جل و النظر إليها أفضل من كل شيء

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو حسن بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنابشر بن حارث سے وہ کہتے ہیں۔ کہ بیٹا اپنی ماں کے قریب تر ہو ایسی جگہ جہاں اس کا نفس سن سکے یہ افضل ہے اسی شخص سے جواللہ کی راہ میں تلوار چلا تاہے ۔ اور ماں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا افضل ہے ہر چیز سے ۔

الولد بالقرب من أمه حيث ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7858

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7859

7859 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ أنا محمد بن حامد حدثني مكي بن عبدان نا الحسن بن هارون نا منصور بن جعفر نا نهشل بن سعيد عن الضحاك عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من ولد بار ينظر إلى والدته نظرة رحمة إلا كان له بكل نظرة حجة مبرورة قالوا و إن نظر إليها كل يوم مائة مرة ؟ قال : نعم الله أكبر و أطيب منصور بن جعفر هو والد الحسين بن منصور السلمي النيسابوري

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو محمد بن حامد نے خبر دی ان کو حدیث بیان کی مکی بن عبدان نے ان کو حسن بن ہارون نے ان کومنصور بن جعفر نے ان کو نہشل بن سعید نے ان کوضحاک نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا نہیں کوئی بیٹا نیکی کرنے والا جواپنی والدہ کی طرف نظر شفقت سے دیکھتا ہے مگر اس کو ہر نظر کے بدلے میں حج مقبول کا اجر ملتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا کیا اگر چہ وہ ایک دن میں سوبار بھی دیکھے فرمایا کہ اللہ اس سے بہت بڑا ہے اور زیادہ پاکیزہ ہے سند میں منصور بن جعفریہ والد ہے حسین بن منصور سلمی نیشاپوری کا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← نهشل بن سعيد ← منصور بن جعفر ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ، ← مَكِّيُّ بْنُ عَبْدَانَ، ← محمد بن حامد ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7859

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7860

7860 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو علي الحافظ أنا أبو يعلى أحمد بن علي الموصلي نا أبو ياسر عمار المستملي نا سعيد بن زيد عن محمد بن جحادة عن طلحة بن مصرف عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال : النظر إلى الوالد عبادة و النظر إلى الكعبة عبادة و النظر في المصحف عبادة و النظر إلى أخيك حبا له في الله عبادة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابوعلی حافظ نے ان کو ابویعلی احمد بن علی موصلی نے ان کو ابو سرعمار مستملی نے ان کو سعید بن زید نے ان کو محمد بن حجادہ نے ان کو طلحہ بن مصرف نے ان کو ابراہیم نے ان کو علقمہ نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ والد کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور کعبے کی طرف دیکھنا عبادت ہے قرآن کی طرف دیکھنا عبادت ہے اپنے بھائی کی طرف شفقت سے دیکھنا عبادت ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← أبو ياسر عمار المستملي ← أبو يعلى أحمد بن علي الموصلي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7860

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7861

7861 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو سعيد بن عبد الله بن أبي عثمان الجدي أنا عبد الله بن محمد الشرقي نا محمد بن عقيل أبو صالح العبدي نا أبو مقاتل عن عبد العزيز بن أبي رواد عن عبد الله بن طاوس عن أبيه عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قبل بين عيني أمه كان له سترا من النار إسناده غير قوي و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعمر وسعید بن عبد اللہ بن ابو عثمان جدی نے ان کو عبداللہ بن محمد شرقی نے ان کومحمد بن عقیل ابو صالح عبدی نے ان کو ابو مقاتل عبد العزیز بن ابو رواد نے ان کو عبد اللہ بن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص اپنی ماں کی پیشانی چوم لے اس کے لئے جہنم کی آگ سے پردہ ہوگا۔ اس کی سند غیر قوی نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← أَبُو مُقَاتِلٍ ← محمد بن عقيل أبو صالح العبدي ← عبد الله بن محمد الشرقي ← أبو عمرو سعيد بن عبد الله بن أبي عثمان الجدي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7861

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood