Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7838

7838 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا محمد بن أيوب نا مسلم بن إبراهيم نا وهيب بن خالد نا ابن شبرمة قال : سمعت أبا زرعة عن أبي هريرة قال : إن رجلا قال : يا نبي الله من أبر ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : أبوك أخرجه مسلم من حديث وهيب و استشهد البخاري برواية ابن شبرمة و هو عبد الله و أخرجاه من حديث عمارة عن أبي زرعة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوانضر فقیہ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو وہب بن خالد نے ان کو ابن شبرمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوزرعہ سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے کہا کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی! میں کس کے ساتھ نیکی کروں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو۔ اس نے پوچھا پھر کس سے کروں؟ فرمایا کہ پھر تمہاری ماں ۔اس نے پوچھا کہ پھر کون؟ پھر فرمایا تیری ماں ۔اس نے پوچھا کہ پھر کون؟ فرمایا کہ پھر تیرا باپ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے وہیب کی حدیث سے ۔ اور بخاری اس کا شاہد لائے ہیں ابن شبرمہ کی روایت کے ساتھ وہ عبداللہ ہے اور بخاری ومسلم نے اس کونقل کیا ہے حدیث عمارہ سے انہوں نے ابوزرعہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا زُرْعَةَ، ← ابْنِ شُبْرُمَةَ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7838

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7839

7839 - أخبرنا أبو منصور عبد القاهر بن طاهر الإمام من أصل كتابه و أبو نصر بن قتادة و عبد الرحمن بن علي بن حمدان قالوا أنا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد أنا أبو مسلم ثنا الأنصاري حدثني بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قلت : يا رسول الله من أبر ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : ثم أمك ثم أباك ثم الأقرب فالأقرب

ہمیں خبر دی ابومنصور عبد القاہر بن طاہر امام نے اپنی اصل کتاب سے اور ابونصر بن قتادہ اور عبدالرحمن ٰبن علی بن حمدان نے ،ان سب لوگوں نے کہا ان کو ابوعمر واسماعیل بن نجید نے ان کو ابومسلم انصاری نے حدیث بیان کی بہز بن حکیم سے اس نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ میں کس کے ساتھ نیکی کروں؟ فرمایا : کہ اپنی والدہ سے نیکی کرو۔ اس نے پوچھا کہ اس کے بعد کس سے؟ فرمایا اپنے ماں کے ساتھ ۔ پھر پوچھا کس کے ساتھ نیکی کروں؟ فرمایا کہ والد کے ساتھ ۔اس کے بعد جو زیادہ قرابت دار ہو درجہ بدرجہ اس سے کرو۔

قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7839

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7840

7840 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر أحمد بن سلمان قال : قرئ على محمد بن مسلمة و أنا أسمع نا يزيد بن هارون أنا بهز بن حكيم عن معاوية القشيري حدثني أبي عن أبيه قال : قلت : يا رسول الله من أبر ؟ قال : أمك قلت : ثم من ؟ قال : أمك قلت : ثم من ؟ قال : أمك قلت : ثم من ؟ قال : ثم أباك ثم الأقرب فالأقرب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن سلمان نے وہ کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ کے سامنے پڑھی گئی اور میں سن رہا تھا اس نے کہا ہمیں خبر دی ہے یزید بن ہارون نے ان کو خبر دی بہز بن حکیم نے معاویہ قشیری سے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! میں کس کے ساتھ نیکی کروں ؟ فرمایا کہ اپنی ماں کے ساتھ ۔ میں نے پوچھا کہ ماں کے بعد پھر کس سے کروں؟ فرمایا پھر بھی ماں کے ساتھ ۔ پھر میں نے پوچھا کہ ماں کے بعد کس سے کروں؟ فرمایا پھر بھی اپنی ماں کے ساتھ ۔ میں نے کہا اس کے بعد کس سے کروں؟ فرمایا کہ اس کے بعد اپنے والد کے ساتھ پھر درجہ بدرجہ قرابت داروں سے ۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← أَبِي ← معاوية القشيري ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أسمع ← قرئ على محمد بن مسلمة و ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7840

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7841

7841 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير الخلدي املاء نا إبراهيم بن علي العمري نا المعلي بن مهدي أنا أبو عوانة عن منصور عن عبيد الله بن علي بن عرقطة السلمي عن خراش أبي سلام قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوصى امرءا بأمه ثلاث مرات و أوصى امرءا بأبيه مرتين أوصى امرءا بمواليه الذي يليه و إن كان عليه منه أدنى يؤديه تابعه عفان عن أبي عوانة و قال : مسدد عن أبي عوانة عن علي بن عبيد الله بن عرفطة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابومحمد جعفر بن محمد نصیر خلدی نے بطور املاء کے ان کو ابراہیم بن علی عمری نے ان کو معلی ٰبن مہدی نے ان کو ابوعوانہ نے ان کو منصور نے ان کو عبید اللہ بن علی بن عرفط سلمی نے ان کو خراش ( ابوسلام ) سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ایک آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں تین بار وصیت فرمائی تھی اور ایک آدمی کو اس کے والد کے بارے میں دو با روصیت کی تھی اور ایک آدمی کو اس کے قریبی رشتہ داروں کے بارے میں وصیت فرمائی تھی اگر چہ اس پر بہت ہی کمتر احسان ہو جس کو وہ ادا کرے عفان نے اس کا متابع بیان کیا ہے ابوعوانہ سے ۔اور کہا مسدد نے کہ روایت ہے ابوعوانہ سے اس نے علی بن عبید اللہ بن عرفطہ سے ۔

خراش أبي سلام ← عبيد الله بن علي بن عرقطة السلمي ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُمَرِيُّ، ← أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير الخلدي املاء ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7841

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7842

7842 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عمر بن مدرك القاضي نا مكي بن إبراهيم نا السري بن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق عن عبد الله بن مسعود قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم أعرابي فقال : يا رسول الله إني رجل من أهل البادية و إني موسر و إن لي أما و أبا و أختا و أخا و عما و عمة و خالا و خالة فأيهم أولى بصلتي فقال رسول الله : أمك و أباك و أختك و أخاك و أدناك أدناك

ان کو خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عمر بن مدرک قاضی نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کوسری بن اسماعیل نے ان کو شعبی نے ان کو مسروق نے ان کو عبد اللہ بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا یارسول اللہ ! میں دیہاتی آدمی ہوں اور میں آسودہ حال ہوں۔ میری ماں باپ ہیں اور بہن بھائی ہیں ۔ چچا ہیں پھوپھی ہیں ماموں ہیں خالہ ہیں ،ان سب میں سے میرے صلہ رحمی کرنے کا ان میں کون زیادہ حق دار ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں اور باپ تیری بہن تیرا بھائی اور قریبی رشتہ دار ۔

أتى النبي صلى الله عليه و سلم أعرابي فقال ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← السري بن اسماعيل ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عمر بن مدرك القاضي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7842

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7843

7843 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا إسماعيل الصفار نا عمر بن مدرك نا حرمي بن حفص نا زياد بن عبد الرحمن عن عاصم بن بهدلة عن أبي وائل عن عبد الله بن مسعود : قال رجل : يا رسول الله إن لي أما و أبا و أخا و أختا و عما و عمة و خالا و خالة فأيهم أولى إلي بصلتي فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أمك و أباك و أختك و أخاك و أدناك أدناك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو عمر بن مدرک نے ان کوحرمی بن حفص نے ان کو زیاد بن عبدالرحمن ٰنے ان کو عاصم بن بہدلہ نے ان کو ابو وائل نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ میں بہن بھائی ہیں چچا پھو پھی ہیں ماموں خالہ ہیں ان میں سے کون میرے صلے کا زیادہ حق دار ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری والد ہ پھر تیرا والد پھر تیری بہن پھر تیرا بھائی اس کے بعد زیادہ قریبی پھر قر یبی۔

رَجُلٌ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ ← عُمَرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7843

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7844

7844 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا هشام بن علي نا عبد الله بن رجاء نا السعودي عن أياد بن لقيط عن أبي رمثة يعني التيمي ثم الرباب قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم و هو يخطب و هو يقول : يد المعطي العليا أمك و أباك و أختك و أخاك ثم أدناك أدناك ثم جاء ناس من بني يربوع حتى دخلوا المسجد فقال رجل من الأنصار : يا رسول الله مولاء يربوع قتلت فلانا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجني نفس على أخرى

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو عبد اللہ بن رجاء نے ان کو سعودی نے ان کو ایا د بن لقیط نے ان کو ابور مثہ تیمی نے پھر رباب نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور وہ خطبہ دے رہے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہے جو دے اپنی ماں کو پھر باپ کو پھر بہن کو پھر بھائی کو پھر قریبی رشتہ دار کو پھر اس کے بعد قریبی کو اس کے بعد کچھ لوگ آ گئے بنی یربوع سے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو گئے ۔ایک آدمی نے کہا انصار میں سے یا رسول اللہ ! مولا ء یربوع نے فلاں کو قتل کیا تھا۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ کوئی نفس دوسرے نفس کے خلاف جنایت نہیں کیا جاتا۔ (گناہ)

أبي رمثة يعني التيمي ثم الرباب ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← السعودي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7844

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7845

7845 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي ببغداد نا أحمد بن سلمان نا هلال بن العلا نا أبي نا بقيه حدثني بحير بن سعيد عن خالد بن معدان عن المقدام بن معدي كرب : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله عز و جل يوصيكم بأمهاتكم ثم يوصيكم بآبائكم ثم يوصيكم بالأقرب فالأقرب

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ہلال بن علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو بقیہ نے ان کو بحیر بن سعید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو مقدام بن معدی کرب نے کہ اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہے تھے ۔اللہ تعالی ٰ تمہیں وصیت کرتا ہے تمہاری ماؤں کے بارے میں پھر وصیت کرتا ہے تمہارے باپوں کے بارے میں پھر وصیت کرتا ہے تمہیں سب سے زیادہ قریبی رشتہ داروں کے بارے میں ( درجہ بدرجہ ۔ )

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَنَّهُ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعيد ← بَقِيَّةُ ← أَبِي ← هلال بن العلا ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي ببغداد

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7845

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7846

7846 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا حاجب بن أحمد نا عبد الرحيم بن منيب نا جرير بن عبد الحميد أنا سهيل بن أبي مالح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي نا سعيد بن مسعود أنا عبيد الله بن موسى نا سفيان عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يجزي الولد والده إلا أن يجده مملوكا فيشتريه فيعتقه و في رواية جرير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يجزي ولد والده فذكره أخرجه مسلم من أوجه عن سفيان و عن زهير و غيره عن جرير

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو سہیل بن ابو مالح نے ، اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محبوبی نے ان کو سعید بن مسعود نے ان کو عبید اللہ بن موسٰی نے ان کو سفیان نے ان کو سہیل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کہتے ہیں نہیں بدلہ دے گا بیٹا اپنے باپ کا مگر یہ کہ اس کو غلام پائے تو اس کوخرید کر آزاد کر دے۔ اور ایک دوسری روایت میں جریر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کوئی بیٹا اپنے والد کا بدلہ نہیں دے گا۔ نقل کیا ہے اسکو مسلم نے کئی طریقوں سے سفیان سے اس نے زبیر وغیرہ سے اس نے جریر سے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← سهيل بن أبي مالح و ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7846

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7847

7847 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن شيبان نا سفيان ابن عيينة عن عطاء و أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر نا الفضل بن موفق نا مسعر بن كدام عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن عن أبي الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الوالد باب من أبواب الجنة أو أوسط أبواب الجنة احفظ ذلك أو ضيعه و في رواية سفيان إن الوالد أوسط أبواب الجنة فاحفظ ذلك الباب أو دعه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن شبیان نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عطاء نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو کبر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابوالا زھر نے ان کوفضل بن موفق نے ان کومسعر بن کدام نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ابوعبدالرحمن ٰنے ان کو ابو درداء نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ کہ والد ایک درواز وں ہے جنت کے دروازوں میں سے یا جنت کے درمیان والے دروازوں میں سے ۔ اس کی حفاظت کریں یا اس کو ضائع کریں ۔ اور سفیان کی ایک روایت میں ہے کہ بے شک والد جنت کا درمیان والا دروازہ ہے پس تو حفاظت کر اس دروازے کی یا اس کو چھوڑ دے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوَفِّقٍ ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← عَطَاءِ، وَ ← سفيان ابن عيينة ← أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7847

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7848

7848 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا جعفر بن عون عن مسعر عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي : أن رجلا أمرته أمه أن يتزوج ثم أمرته بطلاقها فسأل أبا الدرداء فقال : لا آمرك بطلاق امرأتك و لا آمرك أن تعق أمك و قال أبو الدرداء : سأحدثك سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الوالد أوسط أبواب الجنة فإن شئت فاحفظ و إن شئت فضيع قال : لا بل أحفظ فطلقها

ہمیں خبر دی ابوبکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم شیبانی نے ان کو احمد بن حازم بن ابی غرز ہ نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو مسعر نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے کہ ایک آدمی کو اس کی ماں نے حکم دیا کہ وہ شادی کر لے اس کے بعد اس کو حکم دے دیا کہ اس کو طلاق دے دے ۔اس نے حضرت ابو درداء سے مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا کہ میں نہ تو تمہیں بیوی کو طلاق دینے کا کہوں گا اور نہ ماں کی نافرمانی کرنے کا۔ ابودرداء نے کہا میں ابھی تمہیں حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی وہ فرماتے تھے کہ والد جنت کا بیچ والا دروازہ ہے تو اس کی حفاظت کر ۔ اور چاہے تو اس کو ضائع کر ۔اس آدمی نے کہا بلکہ میں اس کی حفاظت کروں گا ۔ لہذا اس نے بیوی کو طلاق دے دی۔

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مِسْعَرٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7848

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7849

7849 - أخبرنا الأستاذ أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني نا يونس بن حبيب نا أبو الدرداء الطيالسي نا ابن أبي ذئب عن الحارث بن عبد الرحمن عن حمزة بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال : كانت لي امرأة كنت أحبها وكان أبي يكرهها فقال لي : طلقها فأتيت بأبي رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال : طلقها فطلقها

ہمیں خبر دی استاذ ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابودردا ،طیالسی نے ان کو ابن ابو ذئب نے ان کو حارث بن عبد الرحمن ٰنے ان کو حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ۔ میری ایک بیوی تھی جسے میں چاہتا تھا اور میرے والد اس کو نا پسند کرتے تھے (اس کی عادات کی وجہ سے )۔ والد نے مجھے کہا کہ اس کو طلاق دے میں اپنے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور میں نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم طلاق دے دو ۔ لہذا اس نے طلاق دے دی ۔

أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أبو الدرداء الطيالسي ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7849

chevron_left Previous
1…56789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood