Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7923

7923 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن ابن طاوس عن أبيه قال : كان رجل له أربعة بنون فمرض فقال أحدهم أما أن تمرضوه و ليس لكم من ميراثه شيء و إما أن أمرضه و ليس لي من ميراثه شيء ؟ قالوا بل مرضه و ليس لك من ميراثه شيء قال : فمرضه حتى مات ولم يأخذ من ماله شيئا قال : و أتى في النوم فقيل له ائت مكان كذا و كذا فخذ منه مائة دينار فقال في نومه أفيها بركة قالوا لا فأصبح فذكر ذلك لامرأته فقالت له فخذها فإن من بركتها أن تكتسي منها و تعيش منها قال فأبى فلما أمسى أتى في النوم فقيل له ائت مكان كذا و كذا فخذ منه عشرة دنانير فقال : أفيها بركة قالوا لا فلما أصبح ذكر ذلك لامرأته فقالت له مثل مقالتها الأولى فأبى أن يأخذها فأتى في النوم في الليلة الثالثة أن ائت مكان كذا و كذا فخذ منه دينارا فقال أفيه بركة فقال قالوا نعم فذهب فأخذ الدينار ثم خرج به إلى السوق فإذا هو برجل يحمل حوتين فقال : بكم هذا ؟ قال : بدينار فأخذهما منه بالدينار ثم انطلق بهما فلما دخل بيته شق الحوتين فوجد في بطن كل واحد منهما درة لم ير الناس مثلها فبعث الملك بدرة يشتريها فلم يوجد إلا عنده فباعها بوقر ثلاثين بغلا ذهبا فلما رآها الملك ما يصلح هذه إلا بأخت فاطلبوا مثلها و إن أضعفتم قال فجاءوه فقالوا عندك أختها يعطوك ضعف ما أعطيناك قال : أو تفعلون قال نعم فأعطاهم أختها بضعف ما أخذ الأولى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابومحمد عبد اللہ محمد بن علی بن عبد الحمید صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے انہوں نے ابن طاؤس سے اس نے اپنے والد سے انہوں نے کہا ایک آدمی تھا اس کے چار بیٹے تھے وہ آ دمی بیمار ہو گیا ایک بیٹے نے تین سے کہا کہ یا تو تم لوگ باپ کی تیمارداری کرو اور اسکی میراث نہ لو ( میں لوں گا تم لوگ ثواب لو ) یا میں تیمار داری کرتا ہوں اور میراث میں سے کچھ بھی نہیں لوں گا (یعنی ورثہ تم لوگ لے لو ) تینوں نے کہا کہ تیمارداری تم کرو اور تجھے میراث میں سے کچھ بھی نہیں دیں گے۔ فرمایا کہ اس ایک نے باپ کی خدمت کی آخر وہ مر گیا۔ اس نے حسب وعدہ کچھ بھی حصہ نہیں لیا فرمایا کہ اس نے خواب میں کسی کو دیکھا کہ اس سے کہہ رہا ہے کہ تم فلاں جگہ پر آ کر سود ینار لے جاؤ، اس نے خواب میں ہی سوچا کہ اس میں کیا برکت ہوگی؟ کہنے والوں نے کہا کہ نہیں ہوگی ۔صبح ہوئی تو اس نے یہ خواب اپنی بیوی کو بتایا تو اس نے کہا کہ جاؤ تم وہ لے آؤ اس میں برکت یہ ہوگی ۔ کہ تم اس سے کپڑے بنالو گے اور اس سےعیش کرلو گے۔ کہتے ہیں کہ اس نے جانے سے انکار کر دیا۔ جب اس نے شام کی تو پھر وہ سونے کے لئے آیا پھر خواب میں اس کو کہا گیا کہ فلاں جگہ آ جاؤ اور مجھ سے دس دینار لے جاؤ اس نے کہا کہ اس میں برکت ہو گی؟ کہنے والوں نے کہا کہ نہیں صبح ہوئی تو اس نے وہ خواب اپنی بیوی سے ذکر کیا اس نے آج بھی پہلی والی بات کہی ۔ مگر اس نے آج بھی لینے سے انکار کر دیا۔ پھر اس نے تیسری رات خواب میں دیکھا کہ تم فلاں فلاں جگہ پر آ کر مجھ سے ایک دینار لے جاؤ۔ اس نے پوچھاکیا اس میں برکت ہوگی ؟ کہنے والوں نے کہا کہ جی ہاں ہوگی ۔ وہ گیا اور ایک دینار لے آیا۔ پھر وہ اس کو لے کر بازار چلا گیا اس نے دیکھا کہ ایک آدمی نے دو مچھلیاں اٹھائی ہوئی ہیں ۔ اس نے پوچھا کہ یہ کتنے میں بیچو گے؟ اسنے کہا کہ ایک دینار میں۔ اس نے اس آدمی سے وہ دو مچھلیاں خرید لیں۔ اور لے کر چلا گیا گھر میں جا کر اس نے جب ان کا پیٹ چاک کیا تو کیادیکھتا ہے کہ دونوں کے پیٹ میں ایک ایک موتی رکھا ہوا ہے ۔ اور وہ اتنی قیمتی ہے کہ لوگوں نے اس جبیاد یکھا ہی نہیں ہے ۔ (اس نے ایک موتی کو تو چھپالیا ) اور ایک موتی کو اس نے بادشاہ کے پاس بیچنے کے لئے بھیجا موتی چونکہ صرف اس آدمی ہی کے پاس تھا اور کہیں نہیں تھا۔اس لئے اس آدمی نے وہ موتی مہنگے داموں بیچا اس نے کہا کہ میں اس کے بدلے میں تیس خچر پر لاد نے کاوزن سونالوں گا بادشاہ نے اتناسونا اس کو دے کر اس کو خرید لیا۔بادشاہ نے اس موتی کو جب غور سے دیکھا تو اس نے کہا کہ یہ موتی اکیلا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے ساتھ ایک مثل اور بھی ہوگا اس کی مثل کو بھی طلب کرو اور مانگو یہ موتیوں کی جوڑی ہوگی ۔ دوسرا موتی تلاش کرو خواہ اس سے دہری قیمت کے ساتھ ملے ۔ فرمایا کہ لوگ اس کے پاس آئے اور پوچھا کہ تیرے پاس اس جیسا اور بھی ہے ہم اس سے دوگنی قیمت دیں گے جو پہلے دی ہے اس نے پوچھا کہ واقعی تم لوگ دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہم ضرور دیں گے لہذا اس نے اس موتی کا بھائی موتی یعنی اس جیسا دوسرا بھی ان کو دوہری قیمت کے بدلے میں ان کو دے دیا۔ (یوں باپ کی خدمت کا صلہ دنیا میں اس کومل گیا۔ )

أَحَدُهُمْ: إِمَّا ← كان رجل له أربعة بنون فمرض ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7923

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7924

7924 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصغاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن يحيى بن أبي كثير قال : لما قدم أبو موسى و أبو عامر على رسول الله صلى الله عليه و سلم فبايعوه و أسلموا قال : ما فعلت امرأة منكم تدعى كذا و كذا قالوا تركناها في أهلها قال : فإنه قد غفر لها قالوا بم يا رسول الله ؟ قال : برها والدتها : قال كانت لها أم عجوز كبيرة فجاءهم النذير أن العدو يريد أن يغيروا عليكم الليلة فارتحلوا ليلحقوا بعظيم قومهم و لم يكن معها ما تحتمل عليه فعمدت إلى أمها فجعلت تحملها على ظهرها فإذا أعيت وضعتها ثم ألصقت بطنها ببطن أمها و جعلت رجليها تحت رجل أمها من الرمضاء حتى نجت هذا مرسل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحیی ٰبن ابو کثیر نے وہ کہتے ہیں کہ جب ابوموسی ٰاور ابو عامر رسول اللہ کے پاس آئے اور حضور سے بیعت ہوئے اور اسلام لائے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ایک کی عورت نے کیا کیا ہے جس نے ایسے ایسے دعویٰ کیا تھا ان لوگوں نے کہا کہ ہم اس کو اس کے اہل میں چھوڑ آئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی مغفرت ہوگئی ہے ۔ ان لوگوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! وہ کس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کیا تھا ۔ فرمایا کہ اس کی بوڑھی ماں تھی ۔ان لوگوں کے پاس ایک ڈرانے والا آیا اور آ کر بتایا کہ آج رات تمہارے اوپر دشمن غارت کرے گا یعنی لوٹ مارکرے گا۔انہوں نے وہاں سے کوچ کر لیا تا کہ وہ اپنی قوم کے سردار کے پاس پہنچ جائیں اور اس عورت کے پاس ماں کو سوار کرنے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی ۔لہذا اس عورت نے اپنی ماں کو اپنی پیٹھ پراٹھالیا جب یہ تھک جاتی تھی تو اس کو بیٹھادیتی تھی مگر راستہ میں گرم پتھریلی زمین بھی گرم پتھروں پر ضعیف ماں بیٹھ پالیٹ نہیں سکتی تھی ۔لہذا یہ اس کو اس طرح لیتی تھی کہ اس کا پیٹ اپنے پیٹ کے ساتھ ملاتی اور اپنی ٹانگیں ماں کی ٹانگوں کے نیچے رکھ دی تھی حتی کہ وہ بچ گئی اور نجات پاگئی ۔ یہ روایت مرسل ہے۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7924

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7925

7925 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي العلوي و أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن النجاد المقري بالكوفة قالا أنا أبو جعفر بن علي دحيم نا أحمد بن حازم نا عمرو بن حماد نا رجل قال : خرج علي و عمر من الطواف فإذا هما بأعرابي معه أم له يحملها على ظهره و هو يرتجز و يقول : ( أنا مطيتها لا أنفر و إذا الركاب ذعرت لا أذعر ) ( لبيك اللهم لبيك بما حملتني و رضعتني أكثر ) فقال علي مر يا أبا حفص ادخل بنا الطواف لعل الرحمة تنزل فتعمنا قال : فدخل يطوف بها و هو يقول : ( أنا مطيتها لا أنفر و إذا الركاب ذعرت لا أذعر ) ( لبيك اللهم لبيك وما حملتني و أرضعتني أكثر ) و علي يجيبه ( إن تبرها فالله أشكر يجزيك بالقليل الأكثر )

ہمیں خبر دی ابوالقاسم زید بن جعفر بن محمد بن علی علوی نے اور ابوالقاسم عبد الواحد بن محمد بن نجا مقری نے کوفے میں دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو جعفر بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو عمرو بن حماد نے ان کو خبر دی ایک آدمی نے اس نے کہا کہ حضرت علی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ طواف کرنے نکلے انہوں نے وہاں ایک دیہاتی کو دیکھا جس کے ساتھ اس کی ماں بھی تھی اس نے اسے اپنی پیٹھ پر سوا رکیا ہوا تھا اور وہ یہ رجز پڑھ رہا تھا اور یوں گنگنار ہا تھا شعر پڑھتے ہوئےجس کا مطلب یہ ہے۔کہ میں اس کی سواری ہوں میں اس سے نفرت نہیں کرتا یا میں اس سے الگ نہیں ہوں گا جس وقت سوار تھک کر پریشان ہوجاتے ہیں میں پریشان نہیں ہوں گا۔ میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں۔ اس نے جو مجھے پیٹ میں اٹھایا تھا اور مجھے دودھ پلایا تھا ۔ وہ اس مدت سے بہت زیادہ تھی۔انا مطيتها لا انفر واذا اـركاب ذعرت لا اذعر لبیک الھم لبیک بماحملتنى ورضتنى اكثر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابو حفص اس کو کہو کہ ہمارے ساتھ طواف میں داخل ہو جائے شاید ہمارے او پر بھی رحمت نازل ہو جائے کہتے ہیں کہ وہ بھی شامل ہو گیا وہ ماں کو طواف کر وار ہا تھا اور وہ یہی شعر کہ رہا تھا۔اور حضرت علی اس کو شعر کا جواب دے رہے تھے ان الفاظ میں ۔ان تبرها فالله اشكر يجزیک بالقليل الاكثر اگر تم ماں کے ساتھ نیکی کر رہے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی بہت بڑا قدردان ہے وہ قلیل عمل کے ساتھ کثیر جز اعطا کرے گا۔

رَجُلٌ: ← عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أبو جعفر بن علي دحيم

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7925

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7926

7926 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ تا أحمد بن سلمان نا جعفر بن شاكر نا عفان نا شعبة عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه : أن رجلا من أهل اليمن حمل أمه على عنقه فجعل يطوف بها حول البيت وهو يقول : ( إني لها بعيرها المدلل إذا ذعرت ركابها لم أذعر ) ( و ما حملتني أكثر ) ثم قال : أتراني جزيتها ؟ قال ابن عمر لا و لا بزفرة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ ان کو احمد بن سلمان نے ان کو جعفر بن شاکر نے ان کو عفان نے ان کو شعبہ نے ان کو سعید بن ابو بردہ نے ان کو ان کے والد نے کہ اہل یمن کا ایک آدمی تھا اس نے اپنی ماں کو اپنی گردن پر سوار کیا ہوا تھا اور اس کو طواف کروار ہاتھا بیت اللہ کے گر داور وہ یہ کہہ رہا تھا۔ میں اس کی سواری کا اونٹ ہوں جس کو اپنے سفر کا راستہ بتادیا گیا ہے اور معلوم ہے ( میں ایسی سواری ہوں جس کے سوار پر یشان ہو جانے میں میں پریشان نہیں ہوں گا ۔ )اس نے مجھے اس سے زیادہ ہی اٹھایا تھا۔انى لها بعيرها المدلل اذا ذعرت ركاب هالم الذعر وماحتلتني اكثر اس کے بعد وہ کہنے لگا کیا خیال ہے تیرا میں نے اس کو بدلہ دے دیا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ایک بار اس کے آہ بھر نے باٹھنڈی سانس لینے کا بھی نہیں ۔

أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ شَاكِرٍ، ← أبو عبد الله الحافظ تا أحمد بن سلمان

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7926

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7927

7927 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا العباس بن محمد نا سعيد بن عامر الضبعي نا أسماء بن عبيد قال سعيد و هو جدي أبو أمي قال : سمعت يونس بن عبيد يقول : كان يرجى للذي به هرق إذا كان بارا وكان يتخوفون على أعماله إذا كان عاقا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو سعید بن عامر ضبعی نے ان کو اسماء بن عبید نے وہ کہتے ہیں کہ کہا سعید نے وہ میرے نانا ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنایونس بن عبید سے وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی آدمی سرکش و ظالم ہوتا تھا تو اس کے بارے میں امید کی جاتی تھی کہ شاید وہ نیک ہو جائے اور جب وہ والدین کا نافرمان ہوتا تھا تو اس کے اعمال کے بارے میں ڈرتے تھے۔

يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سعيد و هو جدي أبو أمي ← أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ الضُّبَعِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7927

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7928

7928 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن أبي حامد المقري قالا نا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن سليمان البرلسي نا سليمان بن حرب نا جرير بن حازم قال : رأيت في المنام كان رأسي في يدي قلت فسألت ابن سيرين فقال : أحد من والديك حي قلت لا قال : ألك أخ أكبر منك ؟ قلت نعم : قال اتق الله وبره و لا تقطعه قال و كان بيني و بين جرير بن حازم شيء

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن ابو حامد مقری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو ابراہیم بن سلیمان برلسی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو جریر بن حازم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا جیسے میرا سر میرے ہاتھ میں ہےمیں نے جا کر ابن سیرین سے پوچھا ؟ تو انہوں نے پوچھا کہ کیا تیرے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔انہوں نے پوچھا کہ کیاتمہارا بڑا بھائی ہے؟ میں نے کہا کہ ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو اور تم اس سے قطع تعلق نہ کرو کہتے ہیں کہ میرے اور میرے بھائی جریر بن حازم کے درمیان کوئی بات تھی (یعنی ناراضگی تھی۔)

اتق الله وبره و لا تقطعه ← ألك أخ أكبر منك قلت نعم ← أحد من والديك حي قلت لا ← رأيت في المنام كان رأسي في يدي قلت فسألت ابن سيرين ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إبراهيمُ بنُ سليمانَ البُرلُّسيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن أبي حامد المقري

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7928

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7929

7929 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن عيسى الحيري نا إبراهيم بن محمد المروزي نا علي بن حجر نا الوليد بن مسلم عن محمد بن السائب النكري عن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حق كبير الأخوة على صغيرهم حق الوالد على ولده

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسی ٰحیری نے ۔ان کو ابراہیم بن محمد مروزی نے ان کوعلی بن حجر نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کومحمد بن سائب نکری نے ان کو سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑے بھائیوں کا حق ان کے چھوٹے بھائیوں پر ایسے ہوتا ہے جیسے والد کا حق اپنی اولا د پر ہوتا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← محمد بن السائب النكري ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7929

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7930

7930 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي أنا عمر بن سنان نا أحمد بن الفضل الدهقان نا الواقدي نا عبد الله بن منيب عن هثيم بن كثير بن كليب الجهني عن أبيه عن جده و له صحبة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الأكبر من الأخوة بمنزلة الأب و رواه أيضا غير الواقدي عن عبد الله بن منيب و قيل عنه عن محمد بن منيب

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو خبر دی عمر بن سنان نے ان کو احمد بن فضل دہقان نے ان کو واقدی نے ان کو عبد اللہ بن منیب نے ان کو عثیم بن کثیر بن کلیب جہنی نے ان کو ان کے والد نے وہ صحابی تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھائیوں میں سے بڑا بھائی بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے۔ اور اس کو بھی روایت کیا ہے غیر واقدی کے علاوہ عبداللہ بن منیب سے اور کہا گیا ہے کہ واقدی سے اس نے محمد بن منیب سے ۔

جده و له صحبة ← أَبِيهِ ← هثيم بن كثير بن كليب الجهني ← عبد الله بن منيب ← الْوَاقِدِيُّ ← أحمد بن الفضل الدهقان ← عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7930

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في صلة الرحم و إن كانت كافرة بما ليس فيه معصية · حديث 7931

7931 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر نا سفيان بن عيينة عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن جدتها أسماء بنت أبي بكر قالت : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أتتني أمي و هي راغبة أفأعطها ؟ قال : نعم صليها بكذا رواه سعدان بن نصر عن سفيان و خالفه الحميدي و غيره فرووه عن سفيان عن هشام بن عروة عن أبيه عن أسماء و كانت أمها مشركة قال سفيان : و فيها نزلت { لا ينهاكم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم أن تبروهم وتقسطوا إليهم إن الله يحب المقسطين } و كذلك رواه عبد الله بن أدريس و أبو أسامة و غيرهما عن هشام عن أبيه عن أسماء

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کوسفیان بن عیینہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو فاطمہ بنت منذر نے ان کو ان کی دادی اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ خواب میں میری امی آئی تھیں اور وہ جیسے کچھ مانگنا چاہ رہی تھیں کیا میں اسے دے سکتی ہوں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تم ان کے ساتھ اتنی صلہ رحمی کرو۔اس کو روایت کیا ہے سعدان بن نصر نے ان کو سفیان نے ۔حمیدی وغیرہ نے اس کی مخالفت کی ہے انہوں نے اس کو روایت کیا ہے سفیان سے اس نے ہشام بن عروہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے اسماء سے اور ان کی والد ہ مشر کہ تھیں ۔ سفیان کہتے ہیں کہ اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی ۔لاينها كم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم ان تبرو هم وتقسطوا اليهم ان الله يحب المقسطين . ( سورة ممتحنہ ۔۷) تمہیں اللہ تعالیٰ منع نہیں کرتا کہ تم نیکی کرو اور (انصاف کرو ) ان لوگوں کے ساتھ جو دین میں تم سے نہیں لڑے اور تمہیں تمہارے گھر وں سے بھی نہیں نکالا ۔ بے شک اللہ پسند کرتا ہے انصاف کر نے والوں کو ۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن ادریس اور ابواسامہ نے وغیرہ نے ہشام سے اس نے اپنے والد سے اس نے اسماء سے ۔

جدتها أسماء بنت أبي بكر ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Separation of the relationship of the kinship, even if it is an infidel, including a non-sin · Hadith 7931

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في صلة الرحم و إن كانت كافرة بما ليس فيه معصية · حديث 7932

7932 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو و قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا وهب بن جرير نا شعبة عن سماك بن حرب عن مصعب بن سعد عن أبيه قال : نزلت في أربع آيات فذكرهن قال : و قالت أم سعد أليس قد أمر الله ببر الوالدة و الله لا أطعم طعاما و لا أشرب شرابا حتى أموت أو أتكفر بالله فكانوا إذا أرادوا أن يطعموها أو يسقوها يسجروا فاها بالعصا و ادخلوا الطعام و الشراب فنزلت { و وصينا الإنسان بوالديه حسنا } { وإن جاهداك على أن تشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما وصاحبهما في الدنيا معروفا }

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوسعید بن ابوعمرو نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو مصعب بن سعد نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میرے بارے میں چارآیات نازل ہوئی تھیں ۔ انہوں نے ان کوذ کر کیا اور کہا کہ ام سعد نے کہا تھا۔ کیا اللہ نے حکم نہیں فرمایا والدہ کے ساتھ نیکی کرنے کا اور اس کی بات ماننے کا۔ اللہ کی قسم میں نہ تو کھانا کھاؤں گی اور نہ ہی پانی پیوں گی یہاں تک کہ میں مرجاؤں گی ورنہ تم اللہ کے ساتھ کفر کر لو۔ وہ لوگ جب اس کو کھلانے پلانے کی کوشش کرتے تھے تو لکڑی کے ساتھ اس کا منہ کھول کر اس میں کھانا پینا داخل کرتے تھے۔لہذا یہ آیت نازل ہوئی ۔( ا ) .....ووصينا الانسان بوالديه حسناً. (عنکبوت ۸) (۲) ...... وان جاهداك على ان تشرک بی مالیس لک به علم فلا تطعهما وصاحبهما في الدنيا معروفاً (لقمان ۱۵) (۱)۔ہم نے انسان کو لازمی حکم دیا ہے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا۔(۲)۔اگر وہ تجھے مجبور کر یں شرک کرنے پر جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے پس ان کی اطاعت نہ کیجئے اور دنیا میں اچھے طریقے پر ان کی رفاقت کر لیجئے ۔

و، ← نزلت في أربع آيات فذكرهن ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو و

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Separation of the relationship of the kinship, even if it is an infidel, including a non-sin · Hadith 7932

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7824

7824 - حدثنا السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه الدقاق نا محمد بن إسماعيل البخاري نا أبو الوليد هشام بن عبد الله الملك نا شعبة قال : الوليد بن عيزار أخبرني قال : سمعت أبا عمرو الشيباعي يقول : أخبرني صاحب هذه الدار و أومى بيده إلى دار عبد الله قال : قال : سألت النبي صلى الله عليه و سلم أي العمل أحب إلى الله عز و جل قال : الصلاة لوقتها قلت : ثم أي ؟ قال : بر الوالدين ثم قلت أي ؟ قال : الجهاد في سبيل الله قال و حدثني بهن و استزدته لزادني أخرجه البخاري هكذا و أخرجه مسلم من حديث غندر عن شعبة

ہمیں حدیث بیان کی سید ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤدعلوی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن دلویہ رقاق نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے ان کو ابو الولید ہشام بن عبد الملک نے ان کو شعبہ نے انہوں نے کہا کہ ولید بن عیزار نے مجھے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عمر شیباعی سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے صاحب اس کے گھر والے نے اور انہوں نے اشارہ کیا اپنے ہاتھ سے عبداللہ کے گھر کی طرف کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ کونسا عمل اللہ کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کونساعمل؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کونساعمل؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاد فی سبیل اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے ان باتوں کی حدیث بیان کی اگر میں ان سے مزید پوچھا تو وہ مجھے مزید بھی بتاتے ۔اس کو بخاری نے نقل کیا ہے اسی طرح اور ہم نے ان کو نقل کیا ہے حدیث غندر سے اس نے شعبہ سے۔

شُعْبَةُ، ← أبو الوليد هشام بن عبد الله الملك ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن دلوية الدقاق ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7824

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7825

7825 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي ببغداد نا أبو العباس محمد بن أحمد النيسابوري نا محمد بن أيوب أنا محمد بن كثير أنا سفيان عن حبيب عن أبي العباس عن عبد الله بن عمرو قال : أتى رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أجاهد قال : لك أبوان قال : نعم قال : ففيهما فجاهد رواه البخاري عن محمد بن كثير

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن محمد بن غالب خوارزمی نے بغداد میں ان کو ابوالعباس محمد بن احمد نیسا پوری نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب نے ان کو ابوالعباس نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ یارسول اللہ! میں جہاد کروں گا حضور نے پوچھا کہ تیرے ماں باپ ہیں؟ بولا کہ جی ہاں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس تو انہیں میں جہاد کر ( یعنی ان کی خدمت کر ) بخاری نے اس کو روایت کیا محمد بن کثیر سے ۔

أتى رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَبَّاسِ، ← حَبِيبٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو العباس محمد بن أحمد النيسابوري ← أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي -ببغداد-

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7825

chevron_left Previous
12345…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood