شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7923
7923 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن ابن طاوس عن أبيه قال : كان رجل له أربعة بنون فمرض فقال أحدهم أما أن تمرضوه و ليس لكم من ميراثه شيء و إما أن أمرضه و ليس لي من ميراثه شيء ؟ قالوا بل مرضه و ليس لك من ميراثه شيء قال : فمرضه حتى مات ولم يأخذ من ماله شيئا قال : و أتى في النوم فقيل له ائت مكان كذا و كذا فخذ منه مائة دينار فقال في نومه أفيها بركة قالوا لا فأصبح فذكر ذلك لامرأته فقالت له فخذها فإن من بركتها أن تكتسي منها و تعيش منها قال فأبى فلما أمسى أتى في النوم فقيل له ائت مكان كذا و كذا فخذ منه عشرة دنانير فقال : أفيها بركة قالوا لا فلما أصبح ذكر ذلك لامرأته فقالت له مثل مقالتها الأولى فأبى أن يأخذها فأتى في النوم في الليلة الثالثة أن ائت مكان كذا و كذا فخذ منه دينارا فقال أفيه بركة فقال قالوا نعم فذهب فأخذ الدينار ثم خرج به إلى السوق فإذا هو برجل يحمل حوتين فقال : بكم هذا ؟ قال : بدينار فأخذهما منه بالدينار ثم انطلق بهما فلما دخل بيته شق الحوتين فوجد في بطن كل واحد منهما درة لم ير الناس مثلها فبعث الملك بدرة يشتريها فلم يوجد إلا عنده فباعها بوقر ثلاثين بغلا ذهبا فلما رآها الملك ما يصلح هذه إلا بأخت فاطلبوا مثلها و إن أضعفتم قال فجاءوه فقالوا عندك أختها يعطوك ضعف ما أعطيناك قال : أو تفعلون قال نعم فأعطاهم أختها بضعف ما أخذ الأولى
ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابومحمد عبد اللہ محمد بن علی بن عبد الحمید صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے انہوں نے ابن طاؤس سے اس نے اپنے والد سے انہوں نے کہا ایک آدمی تھا اس کے چار بیٹے تھے وہ آ دمی بیمار ہو گیا ایک بیٹے نے تین سے کہا کہ یا تو تم لوگ باپ کی تیمارداری کرو اور اسکی میراث نہ لو ( میں لوں گا تم لوگ ثواب لو ) یا میں تیمار داری کرتا ہوں اور میراث میں سے کچھ بھی نہیں لوں گا (یعنی ورثہ تم لوگ لے لو ) تینوں نے کہا کہ تیمارداری تم کرو اور تجھے میراث میں سے کچھ بھی نہیں دیں گے۔ فرمایا کہ اس ایک نے باپ کی خدمت کی آخر وہ مر گیا۔ اس نے حسب وعدہ کچھ بھی حصہ نہیں لیا فرمایا کہ اس نے خواب میں کسی کو دیکھا کہ اس سے کہہ رہا ہے کہ تم فلاں جگہ پر آ کر سود ینار لے جاؤ، اس نے خواب میں ہی سوچا کہ اس میں کیا برکت ہوگی؟ کہنے والوں نے کہا کہ نہیں ہوگی ۔صبح ہوئی تو اس نے یہ خواب اپنی بیوی کو بتایا تو اس نے کہا کہ جاؤ تم وہ لے آؤ اس میں برکت یہ ہوگی ۔ کہ تم اس سے کپڑے بنالو گے اور اس سےعیش کرلو گے۔ کہتے ہیں کہ اس نے جانے سے انکار کر دیا۔ جب اس نے شام کی تو پھر وہ سونے کے لئے آیا پھر خواب میں اس کو کہا گیا کہ فلاں جگہ آ جاؤ اور مجھ سے دس دینار لے جاؤ اس نے کہا کہ اس میں برکت ہو گی؟ کہنے والوں نے کہا کہ نہیں صبح ہوئی تو اس نے وہ خواب اپنی بیوی سے ذکر کیا اس نے آج بھی پہلی والی بات کہی ۔ مگر اس نے آج بھی لینے سے انکار کر دیا۔ پھر اس نے تیسری رات خواب میں دیکھا کہ تم فلاں فلاں جگہ پر آ کر مجھ سے ایک دینار لے جاؤ۔ اس نے پوچھاکیا اس میں برکت ہوگی ؟ کہنے والوں نے کہا کہ جی ہاں ہوگی ۔ وہ گیا اور ایک دینار لے آیا۔ پھر وہ اس کو لے کر بازار چلا گیا اس نے دیکھا کہ ایک آدمی نے دو مچھلیاں اٹھائی ہوئی ہیں ۔ اس نے پوچھا کہ یہ کتنے میں بیچو گے؟ اسنے کہا کہ ایک دینار میں۔ اس نے اس آدمی سے وہ دو مچھلیاں خرید لیں۔ اور لے کر چلا گیا گھر میں جا کر اس نے جب ان کا پیٹ چاک کیا تو کیادیکھتا ہے کہ دونوں کے پیٹ میں ایک ایک موتی رکھا ہوا ہے ۔ اور وہ اتنی قیمتی ہے کہ لوگوں نے اس جبیاد یکھا ہی نہیں ہے ۔ (اس نے ایک موتی کو تو چھپالیا ) اور ایک موتی کو اس نے بادشاہ کے پاس بیچنے کے لئے بھیجا موتی چونکہ صرف اس آدمی ہی کے پاس تھا اور کہیں نہیں تھا۔اس لئے اس آدمی نے وہ موتی مہنگے داموں بیچا اس نے کہا کہ میں اس کے بدلے میں تیس خچر پر لاد نے کاوزن سونالوں گا بادشاہ نے اتناسونا اس کو دے کر اس کو خرید لیا۔بادشاہ نے اس موتی کو جب غور سے دیکھا تو اس نے کہا کہ یہ موتی اکیلا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے ساتھ ایک مثل اور بھی ہوگا اس کی مثل کو بھی طلب کرو اور مانگو یہ موتیوں کی جوڑی ہوگی ۔ دوسرا موتی تلاش کرو خواہ اس سے دہری قیمت کے ساتھ ملے ۔ فرمایا کہ لوگ اس کے پاس آئے اور پوچھا کہ تیرے پاس اس جیسا اور بھی ہے ہم اس سے دوگنی قیمت دیں گے جو پہلے دی ہے اس نے پوچھا کہ واقعی تم لوگ دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہم ضرور دیں گے لہذا اس نے اس موتی کا بھائی موتی یعنی اس جیسا دوسرا بھی ان کو دوہری قیمت کے بدلے میں ان کو دے دیا۔ (یوں باپ کی خدمت کا صلہ دنیا میں اس کومل گیا۔ )
أَحَدُهُمْ: إِمَّا ← كان رجل له أربعة بنون فمرض ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7923
