Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حفظ حق الوالدين بعد موتهما · حديث 7911

7911 - أخبرنا أبو علي الروذباري نا أبو محمد عبد الله بن شودب إملاء بواسط نا محمد بن أبي العوام نا منصور بن صقير نا موسى بن أعين الحراني عن عباد بن كثير عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي : إذا أردت أن تتصدق صدقة فاجعلها عن أبويك فإنه يلحقهما و لا ينقص من أجرك شيئا

ہمیں خبر دی ابوعلی رود باری نے ان کو ابومحمد عبداللہ بن شوذب نے بطور املاء کے مقام واسط میں ان کو محمد بن ابو العوام نے ان کو منصور بن صقیر نے ان کو موسیٰ بن اعین حرانی نے ان کو عباد بن کثیر نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے والد سے جب آپ صدقہ کرنے کا ارادہ کر یں تو اسے اپنے والدین کی طرف سے کیا کرو ان کو پہنچ جاتا ہے اور تیرا جر بھی کم نہیں ہوتا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عباد بن كثير ← موسى بن أعين الحراني ← مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أبو محمد عبد الله بن شودب إملاء بواسط ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter in preserving the right of parents after their death · Hadith 7911

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حفظ حق الوالدين بعد موتهما · حديث 7912

7912 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا أحمد بن يزيد بن دينار بالسقيا أبو العوام نا محمد بن إبراهيم يعني الحارثي عن حنظلة بن أبي سفيان السدوسي عن عبد العزيز بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من حج عن والديه بعد وفاتهما كتب له عتقا من النار و كان للمحجوج عنهما أجر حجة تامة من غير أن ينقص من أجورهما شيئا و قال صلى الله عليه و سلم ما وصل ذو رحم بأفضل من حجة يدخلها عليه بعد موته في قبره و قال صلى الله عليه و سلم من مشى عن راحلته عقبه فكأنما أعتق رقبة قال أبو أحمد الفقيه : ستة أميال قال الإمام أحمد في هذا الإسناد شيخ أبي محمد و شبخ شيخه مجهولان

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوعثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابواحمد محمد بن عبد الوہاب نے ان کو احمد بن یزید بن دینار نے سقیا میں ابوالعوام سے ان کو محمد بن ابراہیم نے یعنی حارثی نے ان کو حنظلہ بن ابوسفیان سدوسی نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ بن عمر نے ان کو ان کے والد نے ان کے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنے والدین کی طرف سے حج کرے ان کی وفات کے بعد اس کے لئے جہنم سے آزادی لکھ دی جاتی ہے اور اس کے والدین کو بھی پورے حج کا ثواب ملتا ہے جب کہ ان کا اجر بھی کم نہیں کیا جا تا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کوئی صاحب تعلق یا صاحب قرابت سے جب تعلق کو جوڑ تا ہے تو یہ تعلق جوڑ نا اس حج کے ذریعے تعلق جوڑنے سے افضل نہیں ہوسکتا جوکسی کے مرنے کے بعد اس کے لئے کر کے اس کی قبر میں پہنچا تا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ رحمت نازل کرے اس پر جواپنی سواری میت کے لئے صدقہ کر کے خود پیدل چلتا ہے گویا کہ اس نے غلام آزاد کر لیا۔ ابواحمد فقیہ نے کہا کہ مجھے میل ( یعنی جوشخص میت کے پیچھے اتنی لمبی مسافت طے کر کے دفن کے لئے جاتا ہے وہ ایسے ہے جیسے اس نے غلام آزاد کرلیا ہو۔ امام احمد نے کہا کہ اس سند میں شیخ ابومحمداوران کے شیخ کا شیخ دونوں مجہول ہیں۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← حنظلة بن أبي سفيان السدوسي ← محمد بن إبراهيم يعني الحارثي ← أحمد بن يزيد بن دينار بالسقيا أبو العوام ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter in preserving the right of parents after their death · Hadith 7912

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7913

7913 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا أيوب بن سويد حدثني محمد بن أبان بن صالح عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار : أنه كان جالسا عند ابن عباس إذ أتاه أعرابي فقال : إني خطبت امرأة فخطبها غيري فتزوجته و تركتني فغدوت عليه فقتلته فهل لي من توبة ؟ فقال ألك والدان حيان أو أحدهما ؟ قال لا قال : تقرب إلى الله عز و جل بما قدرت عليه فقلنا له بعد ما خرج فقال لو كان حيين أبواه أو أحدهما رجوت له أنه ليس شيء أحط للذنوب من بر الوالدين

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسی ٰنے دونوں نے کہا کہ انہیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو محمد بن ابان بن صالح نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطاء بن یسار نے گویا کہ وہ ابن عباس کے پاس بیٹھے تھے اچانک ان کے پاس ایک دیہاتی آیا اور بولا کہ میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا ہے اور اس کو میرے علاوہ بھی کسی نے پیغام دیا تھا اس عورت نے مجھے چھوڑ کر اس کے ساتھ شادی کر لی میں نے صبح صبح جا کر اس آدمی کوقتل کر دیا ہے۔ اب کیا میری تو یہ ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا کہ کیا تیرے والدین زندہ ہیں یا کوئی ایک ؟اس نے کہا کہ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا قرب ڈھونڈ واس عمل کے ساتھ جس پر تجھے قدرت ہو۔اس کے جانے کے بعد ہم نے پوچھا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اگر وہ بتا تا کہ دونوں یا ایک زندہ ہے تو میں اس شخص کے لئے امید کر سکتا تھا کہ اس کے گناہ کومٹانے ( والی والدین کے ساتھ نیک سلوک سے زیادہ مٹانے )والی کوئی چیز نہیں ہے ۔

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7913

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7914

7914 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا أيوب بن سويد عن السري بن يحيى عن سبيل بن عروة ابن عم له عن شهر بن حوشب : أن أعرابيا أتى أبا ذر فقال : يا أبا ذر إنه قتل حاج بيت الله ظالما فهل له من مخرج ؟ فقال له أبو ذر ويحك أحي والداك ؟ قال : لا قال فأحدهما ؟ قال : لا قال : لو كانا حيين أو أحدهما لرجوت لك وما أجد لك مخرجا إلا في إحدى ثلاث فقال : لله الحمد و ما هن ؟ قال : فهل تستطيع أن تحييه كما قتلته ؟ قال : لا و الله ما أستطيع أن أحييه قال : فهل تستطيع أن لا تموت ؟ قال : لا و الله ما من الموت بد فما الثالثة ؟ قال هل تستطيع أن تبتغي نفقا في الأرض أو سلما في السماء فقال الرجل و له صراخ فلقيه أبو هريرة فحسب أنه رجل مات له حميم فقال يا عبد الله عليك بالصبر قال : و من أنت ؟ قال أبو هريرة قال : إنه قتل حاج بيت الله ظالما فهل له من توبة قال : ويحك أحيان والداك ؟ قال : لا قال : لو كانا حيين أو أحدهما رجوت لك و لكن اغز في سبيل الله و تعرض للشهادة فعسى

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوالعباس محمد ن یعقوب نے ان کور بیع بن سلیمان نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو سری بن یحییٰ نے ان کو سبیل بن عروہ نے اس کو اس کے ابن عم نے شہر بن حوشب سے کہ ایک اعرابی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا اے ابوذر! میں نے ناحق قتل کیا ہے وہ بھی بیت اللہ کے حاجی کوکیامیری تو بہ ہے؟ابوذر نے پوچھا ہلاک ہو جائے کیا تیرے والدین زندہ ہیں کہا کہ نہیں۔ پوچھا کہ دونوں میں سے ایک ؟ بتایا کہ نہیں ہے۔فرمایا کہ اگر دونوں یا ایک زندہ ہوتا تو میں تیرے لئے امید کر سکتا تھا۔ اب تو میں تیری کوئی خلاصی نہیں پاتا ہوں ہاں مگر ایک کام کر کے ۔ اس شخص نے کہا الحمد للہ وہ کیا ہے؟ فرمایا کہ کیا تم اس کوزندہ کر سکے ہو جیسے تم نے اسے قتل کر لیا ہے؟ (یعنی اس طرح بچ جاؤ ) ( یعنی یا تو اس کو زندہ کر دو )اس نے جواب دیا ۔ نہیں اللہ کی قسم میں اس کو زندہ نہیں کرسکتا۔ فرمایا کیا تم یہ کر سکتے ہو کہ تم نہ مرو؟ اس جواب نہیں اللہ کی قسم موت سے کوئی خلاصی نہیں ہے ۔اب بتائیے کہ تیسری صورت کیا ہے؟ فرمایا کیا تم یہ کر سکتے ہو کہ تم زمین کی سرنگ میں چھپ جاؤ یا آسمان پر کوئی سیڑھی رکھ کر چڑ ھ جاؤ ؟ (اس طرح بچ جاؤ ) پس کہا آدمی نے کہ وہ چیخ رہا تھا رو رہا تھا۔ اتنے میں ان کو حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ ملے ۔اس نے گمان کیا وہ ایک ایسا آدمی تھا کہ اس کے دوست مر چکے ہیں ۔ بس ابو ہریرہ نے فرمایا اے اللہ کا بند ہ صبر کر ۔ اس نے پوچھا آپ کون ہیں؟ بتایا کہ میں ابو ہریرہ ہوں ۔فرمایا کہ اس نے ظلماً بیت اللہ کے حاجی کوقتل کر دیا ہے ۔ کیا اس کی تو بہ ہے؟ انہوں نے پوچھا ہلاک ہو جائے کیا تیرے والدین زندہ ہیں ۔ اس نے کہا کہ نہیں ہیں۔اس نے بھی کہا کہ اگر وہ دونوں زندہ ہوتے یا دونوں میں سے ایک بھی ہوتا تو میں تیرے لئے امید رکھتا تھا۔ لیکن ایک صورت ہے کہ تو اللہ کی راہ میں جہادکر اور شہید ہوجا۔(قریب ہے تیری مغفرت ہو جائے۔)

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← سبيل بن عروة ابن عم له ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7914

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7915

7915 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن عبد الملك نا يزيد أنا سليمان عن سعد بن مسعود عن ابن عباس قال : ما من مسلم له أبوان فيصبح و هو محسن إليهما إلا فتح له بابان من الجنة و لا يمسي و هو محسن إليهما إلا فتح له بابان من الجنة و لا سخط عليه واحد منهما فرض الله عز و جل عنه حتى يرضى قال : قلت و إن كان ظالما قال : و إن كان ظالما قال : و إن كان ظالما و روى من وجه آخر كما

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن عبدالملک نے ان کو یزید نے ان کو سلیمان نے ان کو سعد بن مسعود نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس مسلمان کے والدین زندہ ہیں اور وہ صبح ان دنوں کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے مگر اس کے لئے جنت کے دونوں دروازے کھل جاتی ہیں ۔اور جب شام کو وہ ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے تو پھر دروازے اس کے لئے جنت کے کھل جاتے ہیں ۔ اور اگر دونوں میں سے کوئی ایک ناراض ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے منہ پھیر لیتا ہے یہاں تک وہ راضی ہو جائیں ۔ کہتے کہ میں نے پوچھا اگر والد ین ظالم ہوں (یعنی ناحق ناراض ہو ) فرمایا کہ اگر چہ وہ ظالم ہوں اگر چہ وہ ظالم ہوں ۔ اور دوسرے طریق مروی ہے جیسے ذیل میں ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ ← سُلَیْمَانَ ← يَزِيدُ: ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7915

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7916

7916 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ أنا أبو الطيب محمد بن عبد الله بن المبارك نا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن موسى السرخسي بنيسابور نا سعيد بن يعقوب الطلقاني نا عبد الله بن المبارك عن يعقوب بن القعقاع عن عطاء عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أصبح مطيعا في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة و إن كان واحدا فواحدا و من أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار و إن كان واحدا فواحدا قال الرجل : و إن ظلماه ؟ قال : و إن ظلماه و إن ظلماه و إن ظلماه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو ابوطیب محمد بن عبد اللہ بن مبارک نے ان کو ابومحمد عبد اللہ بن یحیی ٰبن موسیٰ سرخسی نے نیشا پور میں ان کو سعید بن یعقوب طلقانی نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو یعقوب بن قعقاع نے ان کو عطاء نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص صبح کو والدین کی اطاعت کرتا ہے وہ اس حالت میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر والدین میں ایک ہے تو ایک درواز کھل جا تا ہے اور جو اس حال میں شام کرتا ہے کہ وہ والدین کے بارے میں اللہ کا نافرمان ہوتا ہے اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر دونوں میں سے ایک ہے تو ایک درواز کھل جا تا ہے ۔ اس آدمی نے پوچھا کہ اگر چہ والدین اس پر ظلم کر یں؟ آپ نے جواب دیا اگر چہ وہ اس پرظلم کر یں اگر چہ وہ اس پرظلم کریں اگر چہ وہ اس پر ظلم کر یں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سعيد بن يعقوب الطلقاني ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن موسى السرخسي بنيسابور ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7916

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7917

7917 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق نا معمر عن سعيد الجريري أن رجلا جاء إلى ابن عمر قال : إني كنت أكون مع النجدات و قد أصبت ذنوبا فأحب أن تعد علي الكبائر فعد عليه سبعا أو ثمانيا الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس و أكل الربا و أكل مال اليتيم و قذف المحصنة و اليمين الفاجرة ثم قال له ابن عمر هل لك والدة ؟ فقال نعم فقال فأطعمها من الطعام و ألن لها من الكلام فو الله لتدخلن الجنة و قد روى في هذا المعنى عن ابن عمر مرفوعا فيما تقدم من هذا الباب

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو سعید جر یری نے کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر کے پاس آیا کہنے لگا ۔ کہ میں بہادر اور طاقتور لوگوں کے ساتھ ہوتا تھا میں نے بہت سارے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے میں چاہتا ہوں آپ میرے بڑے بڑے گناہ گنوائیں انہوں نے اس کو سات یا آٹھ گناہ شمار کئے ۔اللہ کے ساتھ شرک کرنا ۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔ ناحق قتل کرنا۔ سو دکھانا۔ ناحق یتیم کا مال کھانا ۔ پاک دامن عورت کو تہمت لگانا ۔ جھوٹی قسم کھانا۔اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ کیا تیری والدہ ہے؟ بولا کہ ہے ۔ فرمایا تم اس کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا ؤ اور اس کے لئے نرم نرم با تیں کرو اللہ کی قسم تم جنت میں ضرور داخل ہو جاؤ گے۔ اورتحقیق اسی مفہوم میں روایت کی گئی ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بطور مرفوع روایت کے اس میں جو گذرچکی ہے اس بات میں ۔

سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7917

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7918

7918 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عمر بن برهان و أبو الحسين بن الفضل القطان و أبو محمد السكري قالوا أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا الحسن بن عرفه حدثني محمد بن فضيل بن غزوان الضبي عن داود الأزدي عن عامر عن علقمة عن عبد الله قال : من سره أن ينظر إلى وصية محمد صلى الله عليه و سلم التي عليها خاتمة أمره فليقرأ { قل تعالوا أتل ما حرم ربكم عليكم } الآيات الثلاث

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حسین بن عمر بن برہان نے اور ابوالحسین بن فضل قطان نے اور ابومحمد سکری نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو محمد بن فضیل بن عز وان ضبی نے ان کو داؤ داز دی نے ان کو عامر نے ان کو علقمہ نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ جس کو یہ بات خوش لگے کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کی طرف دیکھے جس پر آپ کا معاملہ ختم ہی ہو گیا تھا اسے چاہئے کہ وہ یہ تین آیات پڑھے۔قل تعالو اتل ماحرم ربكم عليكم. (سورۃ الانعام پارہ ۸ آیت ۱۵۱-۱۵۲-۱۵۳) آپ کہہ دیجئے تم لوگ آ ؤ میں تمہیں پڑھ کر بتاؤں جو کچھ تمہارے رب نے تمہارے اوپر حرام کیا ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدَ الْأَزْدِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ الضَّبِّيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7918

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7919

7919 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أبادي أنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا يحيى بن يحيى أنا المعتمر بن سليمان قال : قال أبي : كان مورق يفلي أمه 7919 - مكرر ـ و أنا يحيى بن يحيى أنا خارجة عن هشام قال : كان محمد بن سيرين لا يكون فطر و لا أضحى إلا صنع لأمه بيده المعصفرات

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان ابواحمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو معتمر بن سلیمان وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا کہ حضرت مورق اپنی ماں کی جوئیں خود نکالتے تھے (والدہ کی خدمت کاحق ادا کرتے تھے۔) (مکرر ہے ) وہ کہتے ہمیں خبر دی یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو خارجہ نے ان کو ہشام نے وہ کہتے ہیں کہ محمد بن سیرین عید الفطر ہو یا عید الاضحیٰ و ہ اپنی والدہ کے لئے مہندی وغیر خود بناتے تھے (کپڑے رنگناوغیر وعید کی ضروریات۔ )

هِشَامٍ ← خَارِجَةَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبي كان مورق يفلي أمه مكرر و ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7919

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7920

7920 - قال و أنا يحيى بن يحيى أنا جرير عن مغيرة قال : كان طلق بن حبيب يدرب أمه يعني يعينها في عملها 7920 - مكرر أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم نا أبي نا يحيى بن يحيى قال : كنت مع المنكدر بن محمد المنكدر فأومى إلى دار قال كان أبي يأتي أعلى السطح يروح عن أمه و عمي فصلى إلى الصباح فقال له أبي ما يسرني ليلتي ليلتك

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سی بن یحییٰ نے ان کو جو یر نے ان کو مغیرہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت طلق بن حبیب اپنی والد ہ کا ہاتھ بٹاتے تھے یعنی ان کے کام میں ان کی مددکرتے تھے ۔ ( مکرر ہے) ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں میں ساتھ تھامنکدر بن محمد بن منکدر کے انہوں نے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا کہ میرے والد چھت پر آیا کرتے تھے اپنی والدہ اور چچا پر پنکھا جھلتے رہے جب صبح کی نماز پڑھ لی تو میرے والد نے ان سے کہا مجھے اپنی رات تیری رات سے زیادہ بہتر نہیں لگی ۔

له أبي ما يسرني ليلتي ليلتك ← أمه و عمي فصلى إلى الصباح ← كان أبي يأتي أعلى السطح يروح ← كنت مع المنكدر بن محمد المنكدر فأومى إلى دار ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← كان طلق بن حبيب يدرب أمه يعني يعينها في عملها مكرر ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7920

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7921

7921 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان حدثني أبو بشر نا سعيد بن عامر عن عبد الله بن المبارك قال : قال محمد بن المنكدر بات عمر أخوه يصلي و بت أعمر رجل أمي و أحب أن ليلتي بليلته

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابوبشر نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے وہ کہتے ہیں کہ محمد بن منکدر نے کہا کہ میرا چچارات بھر نماز پڑھتارہا اور میں رات بھر والد کے پیرد با تارہا اوراس نے یہ چاہا کہ میری رات اس کی رات کے بدلے میں ہو جائے۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7921

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 7922

7922 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي علي السقا أنا أبو سهل بن زياد القطان نا إبراهيم الحربي و عبد الرحمن بن يوسف بن فراس قالا نا يعقوب الدورقي نا أبو النضر عن الأشجعي قال : طلبت أم مسعر ليلة من مسعر ماء قال فقام فجاء بالكوز فصادفها و قد نامت فقام على رجليه بيده الكوز إلى أن أصبحت فسقاها

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن ابوعلی سقاء نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو ابراہیم حربی نے اور عبدالرحمٰن بن یوسف بن فراس نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی یعقوب دورقی نے ان کو ابوالنضر نے ان کو اشجعی نے وہ کہتے ہیں کہ ایک رات ام مسعر نے مسعر سے پانی مانگا کہتے ہیں کہ وہ پانی کا کٹورا لے کر آیاتو اتفاق سے وہ سوگئی تھیں لہذا یہ ہاتھ میں پانی کا برتن لئے رات بھر پیروں پر کھڑے رہے حتی ٰکہ صبح ہوگئی پھر ان کو پانی پلا کر ہی ہٹے ۔

طلبت أم مسعر ليلة من مسعر ماء ← الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← إبراهيم الحربي و عبد الرحمن بن يوسف بن فراس ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أبو الحسن بن أبي علي السقا

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Season · Hadith 7922

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood