Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 493

492 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا نصر محمد بن محمد بن إسماعيل يقول : سمعت أبا القاسم الرازي الواعظ يقول سمعت أبا دجانة يقول : كانت رابعة إذا غلب عليها الحب تقول : ( تعصي الإله و أنت تظهر حبه هذا محال في الفعال بديع ) ( لو كان حبك صادقا لأطعته إن المحب لمن أحب مطيع )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو نصر محمد بن محمد بن اسماعیل سے کہتے تھے کہ میں نے سنا ابوالقاسم رازی واعث سے کہتے تھے کہ میں نے ابو دجانہ سے وہ کہتے تھے کہ رابعہ بصریہ پر جب محبت الٰہی کا غلبہ ہوتا یہ کہتی تھیں۔ "تعصی الا الہ وانت تظھر حبہ، ھذا محال فی الفعال بدیع " معبود کی تو نافرمانی کرتا ہے اور تو اس کی محبت کا اظہار کرتا ہے یہ محال ہے اور فعل و عمل کے اعتبار سے عجیب بات ہے۔ " لوکان حبک صادقاً لاطعتہ ، ان المجب لمن احب مطیع " اگر تیرمحبت سچی ہوتی تو تو ضرور اس کی اطاعت کرتا بے شک محبت کرنے والا جس سے محبت کرتا ہے اس کا مطیع ہوتا ہے۔

أبا دجانة ← أبا القاسم الرازي الواعظ ← أبا نصر محمد بن محمد بن إسماعيل ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 493

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 494

493 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أخبرني محمد بن أحمد بن محمد بن حماد القرشي حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن جعفر الطبري أملاه من حفظه قال : سمعت محمد بن هارون الفقيه يقول : سمعت السختياني يقول : و يتمثل بقول إسماعيل بن القاسم أبي العتاهية : ـ ( تعصي الإله و أنت تظهر حبه هذا محال في القياس بديع ) ( لو كان حبك خالصا لأطعته إن المحب لمن يحب مطيع )

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو محمد بن احمد بن محمد بن حماد قرشی نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن جعفر طبری نے ان کو اپنے حافظہ سے لکھ رہا تھا فرمایا کہ میں نے سنا تھا محمد بن ہارون فقیہ سے کہتے تھے کہ میں نے سنا سختیانی سے وہ کہتے تھے اسماعیل بن قاسم ابوا لعتاھیہ کے قول کے ساتھ تمثیل پیش کرتے تھے۔ " تعصی الا الٰہ وانت تظھر حبہ ، ھذا محال فی القیاس بدیع" تو معبود کی نافرمانی کرتا ہے اور تو اس کی محبت کا اظہار کرتا ہے یہ محال ہے اور عقل میں عجیب ہے۔ " لوکان حبک صادقا ً، ان المحب لمن یحب مطیع" اگر تیری محبت صادق ہوتی تو اس کی اطاعت کرتا محب اپنے محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے۔

السِّخْتِيَانِيُّ، ← محمد بن هارون الفقيه ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن جعفر الطبري أملاه من حفظه ← محمد بن أحمد بن محمد بن حماد القرشي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 494

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 495

494 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبو عبد الله محمد بن محمد بن عبد الله الجرجاني الواعظ يقول أنشدنا العبد الصالح أبو عمر بن سعيد الجرجاني لنفسه : ـ ( و حبان في قلبي محال كلاهما محبة فردوس و دار غرور ) ( و من يرج مولاه و يرجو جواره يسابق في الخيرات غير فتور ) ( و من صادق من يدعي حب ربه و أمسى عن اللذات غير صبور ) ( أو يسألوا عن الدنيا وعن كل شهوة و عن كل ما يودي بوصل سرور )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے انہوں نے سنا ابو عبداللہ محمد بن محمد بن عبداللہ جرجانی واعظ سے کہتے ہیں کہ ہمیں نیک بندے ابو عمر بن سعید جرجانی نے اپنے اشعار سنائے۔ "وحبان فی قلبی محال کلاھما، محبۃ فردوس و دار غرور " میرے دل میں بیک وقت دو محبتیں موجود ہونا محال ہے (دومحبتیں) جنت الفردوس کی اور دھوکہ والے گھر (یعنی دنیا) کی ہیں۔ " ومن یرج مولاہ ویرجو جوارہ ، یسابق فی الخیرات غیر فتور " جو شخص اپنے مولیٰ کے ملنے کی اور اس کی ہمسائگی کی امید کرتا ہے بغیر کسی رکنے کے مسلسل نیکیوں میں مسابقت کرتا ہے۔ "ومن صادق من یدعی حب ربہ ، وامسی عن اللذات غیر صبور" اور جو شخص اپنے رب کی محبت کا ادعا (جھوٹا دعویٰ) کرتا ہے ہمیشہ لذات کے لئے بے صبر رہتا ہے۔ اویسئلو عن الدنیا وعن کل شھوۃ ، وعن کل مایو دی یوصل سرور" یا دنیا کا سوال کرتے ہیں اور ہر شہوت و لذت طلب کرتے ہیں اعراض کرتے ہیں اس چیز سے جو وصل و سرور تک پہنچا دے۔

أبو عبد الله محمد بن محمد بن عبد الله الجرجاني الواعظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 495

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 496

495 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن حمدان الصيرفي بمرو ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا القرشي ثنا العباس بن الفرج ثنا الأصمعي عن سلام بن مسكين قال : دخل السجن مالك بن المنذر بن الجارود فإذا فيه الفرزدق فقال : أما آن لك أن تقصر من قذف المحصنات ؟ فقال : و الله لله أحب إلي من عيني التي أبصر بهما أفتراه يعذبني

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن حمدان صیرنی نے مرو میں ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا قرشی نے ان کو عباس بن فرج نے ان کو اصمعی نے سلام بن مسکین سے فرمایا کہ مالک بن منذر بن جار ود جیل میں گیا تو فرزوق شاعر بیٹھا تھا۔ منذر بن جارود نے اس سے کہا کہ کیا ابھی تک تیرے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تو پاک دامن عورتوں کو برائی کی تہمت لگانے سے باز آ جائے؟ وہ کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ مجھے میری دونوں آنکھوں سے جن کے ساتھ میں دیکھتا ہوں زیادہ محبوب ہے کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ مجھے عذاب دے گا۔

أما آن لك أن تقصر من قذف المحصنات ← دخل السجن مالك بن المنذر بن الجارود فإذا فيه الفرزدق ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا الْقُرَشِيُّ، ← محمد بن حمدان الصيرفي بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 496

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 497

496 - أخبرنا أبو عبد الله قال : سمعت أبا عبد الله بن محمد بن العباس العصمي يقول : سمعت أبا بكر بن أبي عثمان يقول : سمعت أبي يقول و قام في مجلسه رجل من أهل بغداد فقال : يا أبا عثمان متى يكون الرجل صادقا في حب مولاه ؟ قال : إذا خلا من خلافه كان صادقا في حبه قال : فوضع الرجل التراب على رأسه و صاح و قال : كيف ادعى حبه و لم أخل طرفة عين من خلافه ؟ قال : فبكى أبو عثمان و أهل المجلس قال : فجعل يبكي أبو عثمان و يقول في بكائه صادق في حبه مقصر في حقه قال البيهقي رحمه الله : و هذا الذي قاله أبو عثمان من صدق حبه و إن كان مقصرا في حياته يشهد له :

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبداللہ محمد بن عباس عصمی سے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر بن ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ۔ ابو عثمان سے سنا تھا کہ فرماتے تھے کہ میری مجلس میں ایک رومی اہل بغداد میں سے کھڑا ہوا ور کہنے لگا اے ابو عثمان یہ بتائیے کہ بندہ اپنے مولیٰ کی محبت میں کب سچا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس وقت بندہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے سے خالی ہو جائے اس وقت اس کی محبت میں سچا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اتنے میں اس نے اپنے سر میں مٹی ڈال لی اور چیخ چیخ کر رونے لگا اور بولا کہ میں کیسے اللہ کی محبت کا دعویٰ کر سکتا ہوں جب کہ میں آنکھ جھپکنے کی دیر بھی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی سے خالی نہیں رہا کہتے ہیں ، اس پر حضرت ابو عثمان اور اہل مجلس رو پڑے۔ کہتے ہیں کہ ابو عثمان رونے لگے اور اپنے رونے کے دوران کہا کہ یہ شخص اللہ کی محبت میں سچا ہے، مگر اللہ کے حق میں کوتاہی کرنے والا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ بات جو ابو عثمان نے اس کے بارے میں فرمائی اس شخص کی محبت کی سچائی کی اگرچہ عمل زندگی میں اس میں کوتاہی کرتا تھا۔ یہ بات کہنا کہ حق میں (بہت بڑے عالم کی ) شہادت ہے۔

في بكائه صادق في حبه مقصر في حقه ← فجعل يبكي أبو عثمان و ← فبكى أبو عثمان و أهل المجلس ← كيف ادعى حبه و لم أخل طرفة عين من خلافه ← فوضع الرجل التراب على رأسه و صاح و ← إذا خلا من خلافه كان صادقا في حبه ← يا أبا عثمان متى يكون الرجل صادقا في حب مولاه ← و قام في مجلسه رجل من أهل بغداد ← أَبِي ← أبا بكر بن أبي عثمان ← أبا عبد الله بن محمد بن العباس العصمي ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Hadith 497

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 498

497 - ما أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا محمد بن كناسة ثنا الأعمش عن شقيق عن أبي موسى قال : قلت يا رسول الله الرجل يحب القوم و لما يلحق بهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المرء مع من أحب أخرجاه في الصحيح من حديث الأعمش و قيل فيه عن الأعمش عن شقيق عن عبد الله بن مسعود و قد أخرجاه أيضا في الصحيح

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو محمد بن کناسہ نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق نے ابو موسیٰ سے انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ۔ ایک آدمی قوم (مسلم) سے محبت کرتا ہے مگر ابھی تک ان کے ساتھ لاحق نہیں ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ المرء مع من حب۔ آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرے۔ بخاری مسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے اعمش کی حدیث سے۔ اور اس کی سند میں یہ بھی کہا گیا ہے ۔ کہ اعمش سے اس نے شقیق سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے اور دونوں نے اس کو بھی صحیح میں نقل کیا ہے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا

Hadith 498

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 499

498 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا زكريا بن يحيى ثنا سفيان عن الزهري عن أنس قال : قال رجل يا رسول الله متى الساعة ؟ قال : و ما أعددت لها ؟ فلم يذكر كثيرا إلا أنه يحب الله و رسوله فقال : أنت مع من أحببت أخرجه مسلم في الصحيح من حديث سفيان بن عيينة

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو زکریا بن یحییٰ نے ان کو سفیان نے زہری سے اس نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا تم نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ کچھ اس نے زیادہ بات نہیں کی بس یہی کہا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "انت مع من احببت " تو ان کے ساتھ ہو گا جن سے تو محبت کرتاہے۔ اس کومسلم نے صحیح میں سفیان بن عیینہ کی روایت سے نقل کیا ہے۔

رَجُلٌ: ← أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 499

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 500

499 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب هو الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصاغاني ثنا عبد الله بن صالح حدثنا الليث ثنا خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن زيد بن أسلم عن أبيه عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه : أن رجلا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم كان اسمه عبد الله و كان يلقب خمارا و كان يضحك رسول الله و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد جلده في الشراب فأتي به يوما فأمر به فجلد فقال رجل من القوم : اللهم العنه ما أكثر ما يؤتى به ! فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تلعنه فو الله ما علمت إنه ليحب الله و رسوله رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير عن الليث و هذا تصحيح قوله أبي عثمان صادق في حبه مقصر في حقه فإنه مع شربه سماه محبا و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صاغانی نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو لیث نے ان کو خالد بن یزید نے ان کو سعید بن ہلال نے زید بن اسلم سے ان کو ان کے باپ نے عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جس کا نام عبداللہ اور لقب خمار تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنساتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر شراب پینے کی حد جاری کی تھی۔ ایک دن لایا گیا اسے کوڑے مارے گئے جماعت میں سے کچھ لوگوں نے کہا اللھم العنہ اے اللہ اس کو لعنت فرما کتنی زیادہ ہے اس کا یہ عمل (شراب نوشی) جس میں اسے پکڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "لاتلعنہ فواللہ ماعلمت انہ لیحب اللہ ورسولہ " اے لعنت نہ کیجئے پس قسم ہے اللہ کی میں جو کچھ جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت کرتا ۔ بخاری نے صحیح می اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن بکیر سے اس نے لیث سے۔ اور یہ روایت در اصل ابو عثمان کے قول کی تصدیق بن جاتی ہے پیچھے جو گذرا ہے کہ انہوں نے مجمع میں رونے والے آدمی کے بارے کہا گیا کہ اللہ کی محبت میں سچا ہے اس کے حق میں کوتاہی کرتاہے ۔ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مذکورہ واقعہ میں اس شخص کی شراب نوشی کے باوجود اس کو محبت کرنے والا قرار دیا ہے۔ اسلامی سزائیں تادیب کے لئے ہیں اور تطہیر کے لئے ہیں تحقیر و تذلیل کے لئے نہیں ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ بخاری کی مذکورہ روایت پر غور فرمائیے کہ حد شراب جاری ہو جانے کے بعد ، عبداللہ پر لعنت کرنے سے منع فرمایا گیا جس سے یہ مسائل ثابت ہو تے ہیں۔ (1)۔ یہ دلیل شرعی ہے اس بات کی حد جاری ہونے کے بعد انسان تطہیر کے عمل سے گذر جاتا ہے اس کے بعد اسے برا کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ (2) ۔۔ یہ کہ حدود شرعیہ کا مقصد انسانیت کی تحقیر و تذلیل نہیں مجرم کی صرف تادیب مقصود ہے لہذا یہ سزائیں وحشیانہ نہیں ہیں۔ (3)۔۔ یہ کہ وہ شخص اس کے باوجود بدستور مومن اور محب اللہ و محب رسول رہا تھا اس کا ایمان و اسلام ختم نہیں ہو گیا تھا۔ (4)۔۔ شارع علیہ السلام نے اس کو باوجود شراب نوشی کے محب اللہ اور محب رسول کا نام سے موسوم کیا ۔ (از مترجم)

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ ← أبو العباس بن يعقوب هو الأصم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 500

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 501

500 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا بكر الرازي يقول : سمعت أبا علي الحافظ يقول : سئل سمنون عن المحبة فقال : صفاء الود مع دوام الذكر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہتے ہیں کہ میں نے ابو بکر رازی سے سنا تھا کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو علی حافظ سے کہتے تھے کہ شیخ سمنون سے محبت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ فرمایا کہ محبت صاف و خالص ہونا ذکر کے دوام کے ساتھ ہے۔

المحبة فقال صفاء الود مع دوام الذكر ← سئل سمنون ← أبا علي الحافظ ← أبا بكر الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 501

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 502

501 - قال أبو عبد الرحمن و قال مالك بن دينار : علامة حب الله دوام ذكره لأن من أحب شيئا أكثر ذكره قال الحليمي رحمه الله : و قال بعضهم الحب اللزوم لأن من أحب شيئا ألزم ذكره قلبه فمحبة الله تعالى لزوم لذكره قال الحليمي رحمه الله : و هذا الذي فسره هذا القائل به المحبة من أنه اللزوم موافق لقول أهل اللسان لأنهم يقولون : أحب الجمل : إذا برك فلزم مكانه

ابو عبدالرحمٰن نے کہا کہ حضرت مالک ابن دینار رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ کی محبت کی علامت ذکر اللہ پر مداومت کرنا ہے۔ اس لیے جو شخص کسی شے کو پسند کرتا اس کا تذکرہ زیادہ کرتا ہے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ محبت کو لازم پکڑنا ہے ۔ اس لیے کہ جو شخص کسی شے سےمحبت کرتا ہے اس کے ذکر کو لازم کر لیتا ہے اس کا دل ۔ گو یا کہ اللہ کی محبت اس کے ذکر کو لازم کر لینا ہے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس شخص نے محبت کی یہ تعریف کی ہے یعنی محبت بمعنی لزوم، لازم پکڑنا۔ یہ اہل زبان کے قول کے مطابق و موافق ہے ۔ اس لیے کہ اہل زبان کہتے ہیں ، احب الجمل ۔ اونٹ نے لازم کر لیا ہے یہ محاورہ اس وقت استعمال کرتے ہیں ۔ اذابرک فلزم مکانہ۔ جب اونٹ گھٹنے ڈال کر بیٹھ جائےاور اپنی جگہ کو لازم پکڑے ۔

Hadith 502

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 503

502 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني جعفر بن محمد بن نصير حدثني أبو العباس بن مسروق قال : سمعت السري بن المغلس يقول : قرأت في بعض كلام الحكماء : أبعد الناس من الملال و الضجر من لم يفارق قلبه ذكر الله عز و جل و حسبك من صدق العبد دوام ذكر الله عز و جل عنده

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبردی جعفر بن نصیر نے ان کو ابو االعباس بن مسروق نے انہوں نے سری بن مفلس سے کہتے ہیں کہ میں بعض فلسفیوں کی کلام سے پڑھا تھا ۔ شرمندگی پشیمانی ۔ اور ڈانٹ سے وہ شخص دو ر رہے گا جس کا دل ذکر اللہ سے جدا نہیں ہوتا ۔ سچا بندہ ہونے کے لیے اللہ کا دائمی ذکر کافی ہے ۔

السَّرِيَّ بْنَ الْمُغَلِّسِ، ← أبو العباس بن مسروق ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 503

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 504

503 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر الحفيد يقول : سمعت جدي يعني العباس بن حمزة يقول سمعت ذا النون المصري يقول : أن العارف استغنى بربه فمنى أغنى منه ؟ فلذته ذكره و إناخته بفنائه و إستئناس به قال : و سمعت ذا النون يقول : من عرف ربه وجد طعم العبودية و لذة الذكر و الطاعة فهو مع الخلق ببدنه و قد باينهم بالهموم و الخطرات

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کہتے کہ میں نے سنا ابوبکر حفید سے کہتے تھے کہ میں نے سنا ہے اپنے دادا یعنی عباس بن حمزہ سے کہتے تھے کہ میں نے ذوالنون مصری سے سنا کہتے تھے کہ : عارف با اللہ اپنے رب کے ساتھ مستغنی ہے لہذا اس سے کون بے پرواہ ہو سکتا ہے ۔ اس کی لذت اللہ کا ذکر ہے اور کسی مالک کے دروازے پر سواری کی اونٹنی کو بیٹھا دینا اور اس کے ساتھ انس پکڑنا ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے ذوالنون مصری سے سنا وہ کہتے تھے ۔ جو شخص اپنے رب کی معرفت حاصل کر لیتا ہے وہ عبدیت کا مزہ پالیتا ہے ۔ او ر ذکر وطاعت کی لذت کو پالیتا ہے ۔ وہ اپنی مخلوق کے بدن کے بھی قریب تر ہوتا ہے ان کو ہمدم اور غموم اور خطرات سے دور کر لیتا ہے ۔

ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ ← جدي يعني العباس بن حمزة ← أبا بكر الحفيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 504

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood