Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 481

480 - سمعت عبد الله بن يوسف الأصبهاني يقول : سئل أبو الحسن البوشنجي رحمه الله عن الحب فقال : بذل المجهود مع معرفتك بالمحبوب و المحبوب مع بذلك مجهودك يفعل ما يشاء

میں نے عبداللہ بن یونس اصفہانی سے نسا کہ ابو الحسین بوشنجی رحمۃ اللہ علیہ سے محبت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ محبوب کی معرفت کے ساتھ پوری پوری طاقت و استطاعت صرف کر ڈالنا۔ اور محبوب باوجود اس کے جو چاہے سو کرے۔

الحب ← سئل أبو الحسن البوشنجي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 481

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 482

481 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنا الغلابي عن إبراهيم بن عمر ثنا الأصمعي قال : قال أعرابي و رآه على معصية قال : ويحك ما تحب الله ؟ قال : و هل رأيت محبا إلا و هو ويتوخى سرور من أحبه ؟ و أم من خاف أن يسئل عن الشكر طاب نفسا عن النعم

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید ابو عمرو نے ان کو خبر دی حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو غلابی نے ابراہیم بن عمر سے ان کو اصمعی نے کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے کہا۔ اس وقت جب اسے انہوں نے کسی گناہ میں د یکھ لیا تھا فرمایا افسوس ہے تجھ پر کیا تم اللہ سے محبت نہیں کرتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں نے کوئی محبت کرنے والا نہیں دیکھا مگر اپنے محبوب کی خوشی چاہتا ہے۔ اور جو شخص اس بات سے ڈرے کہ اس سے شکر کے بارے میں سول ہو گا وہ اپنے نفس کو اور دل کو نعمتوں کے بغیر خوش کر لے۔

ويحك ما تحب الله ← أعرابي و رآه على معصية ← الْأَصْمَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمَ بن عُمَرَ ← الغلابي، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 482

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 483

482 - أخبرنا أبو سعيد الشعيبي أنا أبو الفضل نصر بن محمد الصوفي قال : سمعت إبراهيم بن شيبان يقول سمعت أبا عبد الله المغربي يقول : تفكر إبراهيم عليه الصلاة و السلام ليلة من الليلة في شأن آدم عليه السلام قال : يا رب خلقته و نفخت فيه من روحك و أسجدت له ملائكتك ثم بذنب واحد ملأت أفواه الناس حتى يقولون : { و عصى آدم ربه فغوى } قال : فأوحى الله أن يا إبراهيم أما علمت أن مخالفة الحبيب على الحبيب شديدة

ہمیں خبر دی ابو سعید شعیبی نے ان کو ابو الفضل نصر بن محمد صوفی نے انہوں نے سنا ابراہیم بن شیبان سے انہوں نے ابو عبداللہ مغربی سے کہتے ہیں ۔ کہ ایک رات حضرت ابراہیم علیہ السلام پوری رات حضرت آدم علیہ السلام کی شان کی بابت غور فرماتے ہیں اور عرض کرنے لگے اے میرے پروردگار آپ نے خود ہی اسے پیدا فرمایا۔ اور آپ ہی نے اس میں اپنی روح پھونکی۔ اور آپ نے ہی اس کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کروایا۔ پھر آپ نے صرف ایک ہی غلطی کی وجہ سے لوگوں کے منہ پھروا دئیے یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں: "وعصیٰ ادم ربہ فغوی (طٰہٰ 121) نا فرمانی کی آدم نے اپنے ر کی پس وہ بھٹک گیا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ اے ابراہیم کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ محبوب کی مخالف محبوب کے خلاف شدید ہوتی ہے اور سخت ہوتی ہے۔

أبا عبد الله المغربي ← إبراهيم بن شيبان ← أبو الفضل نصر بن محمد الصوفي ← أبو سعيد الشعيبي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 483

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 484

483 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبا دعلج بن أحمد ثنا مخول بن محمد ثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري ثنا إسماعيل بن عبد الكريم ثنا عبد الصمد بن معقل عن وهب قال : أوحى الله عز و جل إلى داود عليه السلام : يا داود ارفع رأسك فقد غفرت لك غير أنه ليس عندي ذلك الود الذي كان

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے، ان کو دعلج بن احمد نے ان کو مخول بن محمد نے ان کو ابراہیم بن سعید جوہری نے ان کو اسماعیل بن عبدالکریم نے ان کو عبدالصمد بن معقل نے، ان کو وھب نے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی اے داؤد اپنا سر اٹھا میں نے تجھے بخش دیا ہے سوائے اس کے کہ میرے پاس وہ محبت نہیں ہے جو تھی۔

وَھْبٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← مخول بن محمد ← أبو الحسين بن بشران أنبأ دعلج بن أحمد

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 484

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 485

484 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو محمد عاصم بن العباس بهراة ثنا أبو يعقوب يوسف بن يعقوب قال : سمعت سعيد بن عثمان بن عياش يقول : سمعت ذا النون يقول : و قد قيل له متى يأنس العبد بربه ؟ قال : إذا خافه أنس به أما علمتم أنه من واصل الذنوب نحي عن باب المحبوب

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد یوسف اصفہانی نے ان کو ابو محمد عاصم بن عباس نے شہر ہرات میں ان کو ابو یعقوب یوسف بن یعقوب نے انہوں نے سنا سعید بن عثمان بن عیاش سے انہوں نے سنا ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے وہ کہتے ہیں کہ ان سے سوال کیا گیا ۔ بندہ اپنے رب سے کب محبت کرتا ہے فرمایا کہ جب اسے ڈرتا ہے تو اس سے انس و محبت کرتا ہے۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ جو شخص گناہوں سے ملتا ہے و ہ در محبوب سے ایک طرف کر دیاجاتا ہے۔

بَابِ الْمَحْبُوبِ» ← إذا خافه أنس به أما علمتم أنه من واصل الذنوب نحي ← و قد قيل له متى يأنس العبد بربه ← ذَا النُّونِ، ← سعيد بن عثمان بن عياش ← أبو يعقوب يوسف بن يعقوب ← أبو محمد عاصم بن العباس بهراة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 485

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 486

485 - و بإسناده عن سعيد بن عثمان قال : سمعت ذا النون يقول : ما رجع إلا من الطريق و لو وصلوا إليه ما رجعوا فازهد في الدنيا ترى العجب

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا عاصم بن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الحسن موسیٰ بن عیسیٰ دینوری سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابو یعقوب یوسف بن یوسف بن حسین رازی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے سنا کہتے تھے کہ میں نے صخر ہ بیت المقدس پر چند سطریں لکھی ہوئی دیکھیں لہذا میں ایسے بندے کو لے کر آیا جو ان کا ترجمہ کر کے مجھے بتا دے اس پر جو کچھ لکھا ہوا تھا۔ کل عاص متوحش، ہر گناہ کرنے والا ڈرتا ہے۔ وکل مطیع مستانس اور اطاعت کرنے والا، محبت کرنے والا ہوتا ہے، وہ یہ ہے وکل خائف ھارب۔ اور ہر ڈرنے والا بھاگتا ہے۔ وکل راج طالب اور ہر امید کرنے والا طلب کرنے والا ہواتا ہے۔ وکل قانع غنی اور قناعت کرنے والا غنی ہوتا ہے۔ وکل محب ذلیل اور ہر عاشق ذلیل ہوتا (ہر محبت کرنے والا عاجز ہوتا ہے ۔ ہر محبت کرنے والا کمزور ہوتا ہے) لہذا میں نے ان فقروں پر غور شروع کیا تو معلوم ہوا کہ یہ تو سارے کے سارے اصول ہیں۔ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ مخلوق کو اپنا عبد اور بندہ بنانا چاہتے ہیں۔

ذَا النُّونِ، ← سعيد بن عثمان ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 486

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 487

486 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف قال : سمعت عاصم بن العباس يقول : سمعت أبا الحسن موسى بن عيسى الدينوري بها يقول سمعت أبا يعقوب يوسف بن الحسين الرازي يقول : سمعت ذا النون المصري يقول : وجدت صخرة ببيت المقدس عليها أسطر مكتوبة فجئت بمن ترجمها فإذا عليها مكتوب : كل عاص مستوحش و كل مطيع مستأنس و كل خائف هارب و كل راج طالب و كل قانع غني و كل محب ذليل ففكرت في هذه الأحرف فإذا هي أصول كلها استعبد الله عز و جل به الخلق

Not Found

ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ ← أبا يعقوب يوسف بن الحسين الرازي ← أبا الحسن موسى بن عيسى الدينوري بها ← عاصم بن العباس ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 487

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 488

487 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر عبد الله بن يحيى الطلحي بالكوفة ثنا أبو الحريش أحمد بن عيسى الكلابي قال : سمعت يحيى بن معاذ الرازي رحمه الله : ينشد : ( أن المليك قد اصطفى خداما متوددين مواطئين كراما ) ( رزقوا المحبة و الخشوع لربهم فترى دموعهم تسح سجاما ) ( يحيون ليلهم بطول صلاتهم لا يسأمون إذا الخلي ناما ) ( قوم إذا رقد العيون رأيتهم صفوا لشدة خوفه أقداما ) ( وتخالهم موتى لطول سجودهم يخشون من نار الإله غراما ) ( شغفوا بحب الله طول حياتهم فتجنبوا لوداده آثاما )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر عبداللہ نے بن یحییٰ طلحی نے کوفہ میں ان کو ابو الحریش احمد بن عیسیٰ کلابی نے انہوں نے کہا میں نے حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا وہ یہ شعر کہتے تھے: " ان الملیک قد اصطفی خداما، متود دین مواطئین کراماً" بیشک بادشاہ (حقیقی ) نے کچھ ایسے خدام منتخب کر لئے ہیں جو محبت کرنے والے اطاعت کرنے والے بزرگ ہیں۔ "رزقوا المحبۃ والخشوع لربھم، فتریٰ دموعھم تسح سجاماً" (وہ ایسی خدام ہیں) جو اپنے رب کی محبت اور اس کے آگے عاجزی کرنے کی توفیق دے گئے آپ دیکھیں گے کہ ان کے آنسو مسلسل بہہ رہے ہیں۔ " یحیون لیلھم بطول صلاتھم ، لا یسئمون اذا الخلی ناما" اپنی لمبی لمبی نمازوں کے ساتھ اپنی راگوں کو زندہ رکھتے ہیں جب بے فگ لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔ مگر نہیں تھکتے (لمبے قیام سے) ۔ "قوم اذارقد العیون رایتھم، صفوا لشدۃ خوفۃ اقداماً " وہ ایسےلوگ ہیں کہ جب ساری آنکھیں سو رہی ہوتی ہیں آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ اللہ کے خوف کی شدت سے(عبادت کے لئے) صف باندھے چلے آتے ہیں۔ "وتخالھم موتی لطول سجودھم، یخشون من نارا لہ غراماً" ان کے لمبے لمبے سجدوں کی وجہ سے آپ انہیں خیال کریں گے کہ وہ مر چکے ہیں (مرے نہیں بلکہ وہ) معبود حقیقی کی جہنم کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ "شغفو ابحب اللہ طول حیاتھم ، فتجنبو ا لو دادہ اثاماً " زندگی بھر کے لئے اللہ کی محبت ان کے دلوں کی گہرائی میں رچا بسا دی گئی ہے ، لہذا وہ اسی محبت کےلئے گناہوں کی آلودگی سے الگ ہو کر صاف ستھرے ہو گئے ہیں۔

أَبُو الْحَرِيشِ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْكِلَابِيُّ ← أبو بكر عبد الله بن يحيى الطلحي بالكوفة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 488

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 489

488 - أخبرنا أبو سعيد الشعيبي قال : سمعت أبا بكر محمد بن أحمد بن محمد بن يعقوب المفيد يقول : سمعت الجنيد بن محمد يقول سمعت سري السقطي يقول : وقد كلمته يوما في شيء من المحبة فضرب بيده إلى جلدة ذراعه فمدها ثم قال : و الله لو قلت إن هذا جف على هذا من محبة الله لصدقت ثم أغمي عليه ثم تورد وجهه حتى صار مثل القمر

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید شعیبی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن محمد یعقوب مفید نے کہتے ہیں کہ میں نے جنید بن محمد سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے سری سقطی سے سنا وہ کہتے تھے حالانکہ میں نے اس کے ساتھ ایک دن محبت کے معاملے میں کچھ بات کی تھی چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ اپنی کلائی پر مارا اور اس کے چمڑے کو کھینچا پھر فرمایا اللہ کی قسم اگر میں یہ کہوں کہ اس نے اس پر اللہ محبت میں ظلم کیا ہے تو میں سچا ہوں گا پھر اس پر بیہوشی طاری ہو گئی پھر اس کا چہرہ روشن ہو گیا یہاں تک کہ چاند کی طرح ہو گیا۔

سَرِيَّ السَّقْطِيَّ ← الْجُنَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ← أبا بكر محمد بن أحمد بن محمد بن يعقوب المفيد ← أبو سعيد الشعيبي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 489

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 490

489 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا نصر الطوسي يقول : سمعت جعفرا الخلدي يقول سمعت الجنيد يقول : قال رجل للسري السقطي كيف أنت فأنشأ يقول : ( من لم يبت و الحب حشو فؤاده لم يدر كيف تفتت الأكباد )

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو نصر موسیٰ سے کہتے تھے کہ میں نے سنا جعفر خلدی سے انہوں نے سنا جنید بغدادی سے کہتے ہیں کہ کسی آدمی نے سری سقطی سے کہا آپ کیسے ہیں؟ پھ اس نے شعر کہا: "من لم یبت والحب حشو فوادہ ، لم بدر کیف تفتت الاکباد " جس شخص کی رات اس حالت میں نہیں گزرتی کہ اس دل کے اندر محبت بھر ہوئی ہو وہ یہ کیسے جانے کہ عاشقوں کے جگر کیسے پھٹتے ہیں؟

من لم يبت و الحب حشو فؤاده لم يدر كيف تفتت الأكباد ← رجل للسري السقطي كيف أنت فأنشأ ← الجنيد ← جعفرا الخلدي ← أبا نصر الطوسي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 490

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 491

490 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني جعفر بن محمد حدثني الجنيد بن محمد قال : رفع إلي سري مرة رقعة فقال لي احفظ هذه الرقعة فإذا فيها مكتوب : ( و لما شكوت الحب قال كذبتني فما لي أرى الأعضاء منك كواسيا ) ( فما الحب حتى يلصق الجلد بالحشي و تذبل حتى لا تجيب المناديا ) ( و تنحل حتى لا يبقي لك الهوى سوى مقلة تبكي بها أو تناجيا )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے جعفر بن محمدنے ان کو بات بتائی ہے جنید بغداد ی بن محمد نے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سری سقطی نے میرے پاس ایک رقعہ بھیجا اور فرمایا کہ اس رقعہ کو حفاظت سے رکھنا (میں نے دیکھا تو ) اس میں یہ اشعار لکھے تھے: "ولما شکوت الحب قال کذبتنی ، فما لی اری الا عضاء منک کواسیاً " جب بھی میں نے (درد) محبت کی شکایت کی اس نے کہا کہ تم نے مجھ سےجھوٹ بولا، اب میرے پاس (کوئی چارہ نہیں سوا اس کہ) میں دیکھو اعضاء کو تیری محبت میں کھال کا لباس پہننے والا ۔ "فما الحب حتیٰ یلصق الجلد باالحشی ، وتذیل حتیٰ لا تجیب المنا دیا " پس نہیں ہے محبت (اس وقت تک) جب تک کہ کھال آنتوں سے نہ لگ جائے اور تو گھل جائے یہاں تک کہ تو آواز دینے والے کا جواب بھی نہ دے سکے۔ وتنحل حتیٰ لا یبقی لک الھوی، سوی حقلۃ تبکی بھا اوتنا جیاً" اور گھل جا تو یہاں تک کہ تیری کوئی بھی خواہش باقی نہ رہے ، سوائے آنکھ کے جس کے ساتھ تو روتے یا منا جات کر کے۔

لي احفظ هذه الرقعة فإذا فيها مكتوب و لما شكوت الحب ← رفع إلي سري مرة رقعة ← الْجُنَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 491

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 492

491 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الحناط ثنا محمد بن بشير الكندي ثنا إبراهيم بن مسلم المزني قال : قال الحسن بن محمد ابن الحنفية : من أحب حبيبا لم يبغضه ثم قال : ( تعصي الإله و أنت تظهر حبه عار عليك إذا فعلت شنيع ) ( لو كان حبك صادقا لأطعته إن المحب لمن أحب مطيع ) و قال أيضا : ( ما ضر من كانت الفردوس منزله ما كان في العيش من بؤس و إقتار ) ( تراه يمشي حزينا خائفا شعثا إلى المساجد يسعى بين أطمار )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابو عثمان حناط نے ان کو محمد بن بشر کندی نے ان کو ابراہیم بن مسلم مزنی نے وہ کہتے ہیں کہ احسن بن محمد ابن الحنفی نے جو شخص کسی محبوب سے محبت کرتا ہے تو اس سے بغض و نفرت نہیں کرتا پھر شعر کہا: "تعصی الالہ وانت تظھر حبہ ، عار علیک اذا فعلت شنیع " معبود حقیقی کی تو نافرمانی کرتا ہے حالانکہ تو اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے یہ بات تیرے لئے باعث شرم ہے جب تو یہ فعل قبیح کرتا ہے۔ " لوکان حب صادقاً لاطعتہ ، ان المحب لمن احب مطیع" اگر تیری محبت سچی ہوتی تو تو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا۔ بے شک عاشق اپنے محبوب کا فرماں بردار ہوتا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا: ماضر من کانت الفردوس منزلہ ، ماکان فی العیش من بؤس واقتار" جس شخص کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہو اس کو یہ بات کوئی نقصان نہیں دے سکتی کہ دنیوی زندگی میں سختی بھوک اور افلاس ہو۔ "تراہ یمشی حزیناً خائفا ً شیعثاً ، الی المساجد یسعی بین اطمار " (خواہ ) آپ دیکھیں اس کو اس حال میں کہ خوف زدہ پریشان حال مغموم چلتاپھرتا ہے (تمام پریشانیوں کے باوجود ) مساجد کی طرف دوڑتا ہے پرانے طمار میں۔

الحسن بن محمد ابن الحنفية من أحب حبيبا لم يبغضه ثم ← إبراهيم بن مسلم المزني ← محمد بن بشير الكندي ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 492

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood