Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 457

456 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا بكر محمد بن عبد الله الطيري يقول : سمعت علي بن سهل بن الأزهر يقول : الغافلون يعيشون في حلم الله و الذاكرون يعيشون في رحمة الله و العارفون يعيشون في لطف الله و الصادقون يعيشون في قرب الله و المحبون يعيشون في الأنس بالله و بالشوق إليه

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن عبداللہ طبری سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا علی بن سہل بن ازہر سے وہ کہتے تھے کہ عامل لوگ جیتے ہیں اللہ کے حوصلے میں۔ اور ذکر الٰہی کرنے والے جیتے ہیں اللہ کی رحمت میں۔ عارف لوگ جیتے ہیں اللہ کے لطف کرم میں صادق لوگ جیتے ہیں اللہ کے قرب میں۔ عاشق لوگ جیتے ہیں اللہ کے انس و محبت میں اور اس کی طرف شوق میں۔

علي بن سهل بن الأزهر ← أبا بكر محمد بن عبد الله الطيري ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 457

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 458

457 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت علي بن قتادة يقول : سمعت علي بن عبد الرحمن يقول : و قد سئل عن الفرق بين الحب و العشق فقال : الحب لذة تعمي عن رؤية غير المحبوب فإذا تناهي سمي عشقا و هو قول النبي صلى الله عليه و سلم حبك الشيء يعمي و يصم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا علی بن قتادہ سے انہوں نے علی بن عبدالرحمٰن سے ان سے پوچھا گیا کہ محبت اور عشق میں کیا فرق ہے؟ فرمایا کہ محبت ایسی لذت ہے جو محبوب کے سوا سب کو دیکھنے سے اندھا کر دیتی ہے۔ پھر جب وہ انتہا ء کو پہنچاتی ہے تو تو اس کا نام عشق رکھا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (ایک موقوف روایت میں) مروی ہے: "حبک الشئی بعمی ویصم"تیرا کسی شے سے محبت کرنا اندھا اور بہرا کر دیتا ہے۔

الحب لذة تعمي ← الفرق بين الحب و العشق ← و قد سئل ← علي بن عبد الرحمن ← علي بن قتادة، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 458

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 459

458 - و أخبرنا أبو عبد الرحمن قال : سمعت محمد بن عبد الله بن شاذان الرازي يقول : سمعت يوسف بن الحسين يقول : سمعت ذا النون يقول : الشوق أعلى الدرجات و أعلى المقامات إذا بلغها العبد استبطأ الموت شوقا إلى ربه و حبا للقائه و النظر إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن نے ان کو محمد بن عبداللہ بن شاذان رازی نے ان کو یوسف بن حسین نے انہوں نے ذوالنون مصری سے سنا کہتے تھے کہ شوق (اللہ کو ملنے اور دیکھنے کا) سب سے اونچا درجہ ہے، اور (معرفت الٰہی کا ) اونچا مقام ہے ، جب بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ (انتظار) موت کو تاخیر سمجھتا (یعنی موت کو جلدی چاہتا ہے) اپنے رب کے شوق اور اس کی ملاقات اور اس کے دیدار کی محبت کی وجہ سے۔

ذَا النُّونِ، ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← محمد بن عبد الله بن شاذان الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← و،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 459

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 460

459 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن محمد الرازي يقول : كتبت من كتاب أبي عثمان و ذكر أنه من كلام شاه قال : مقام المحبين شوقهم إلى محبوبهم و طلبهم رضاه حرصهم على خدمته و بهذا الإسناد عن شاه قال : المشتاقون على عشر مقامات تعلق القلب به و طيران الصدر إليه و الحركة عند ذكره و الأنس بالوحدة و الهرب من الألفة و التدبر لمعاني كلام الرحمن و البكاء على النفس في الخلوة و الاستغاثة به و التعرض لمناجاته و أظنه قال : و الاشتياق للقائه و قال أبو عثمان : الشوق هو المحبة من أحب الله اشتاق إلى لقائه و قال أبو عثمان في قوله تعالى : { إن أجل الله لآت } قل : هذه تعزية للمشتاقين معناه : إني أعلم إن اشتياقكم إلي غالب و إني قد أجلت للقائكم أجلا و عن قريب يكون وصالكم إلى من تشتاقون إليه و قال أبو عثمان : بقدر ما يصل إلى قلب العبد من السرور بالله يشتاق إليه و على قدر شوقه يخاف من بعده و طرده

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا عبداللہ بن محمد رازی سے کہتے تھے کہ میں نے ابو عثمان کی کتاب میں سے نقل کیا تھا اور ذکر کیا کہ یہ کلام شاہ میں سے ہے انہوں نے کہا کہ ۔ عاشق الٰہی لوگوں کو مقام ان کا شوق ہے ان کے محبوب کی طرف اور ان کا اپنے محبوب کی رضا طلب کرنا اور اس کی خدمت کے لئے حرص کرنا۔ عشق الٰہی کے دس مقام اور اسی اسناد کے ساتھ شاہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ مشتاق لوگوں کے دس مقامات ہیں: (1)۔ (اللہ ) کے ساتھ قلب کا تعلق۔ (2)۔ اسی کی طرف سینے کا اڑنا۔ (3) اسکی یاد اور ذکر کے وقت حرکت کرنا تحریک پیدا ہونا۔ (4)۔ وحدۃ کے ساتھ انس و محبت کرنا۔ (5)۔ الفت سے بھاگنا۔ (6)۔کلام رحمٰن کے معانی میں تدبر اور غور کرنا۔ (7)۔ خلوۃ میں بیٹھ کر اپنے نفس پر رونا۔ (8) اللہ سے فریاد و استغاثہ کرنا۔ (9)۔اسی سے سرگوشی کرنا۔ (10) میرا خیال ہے کہ فرمایا تھا ۔ اسی کی ملاقات کا شوق کرنا۔ ابو عثمان نے کہا کہ شوق وہی محبت ہے۔ جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اس کی ملاقات کی طرف مشتاق ہوتا ہے۔ اور ابو عثمان نے اللہ کے اس قول کے بارےمیں کہ: "ان اجل اللہ لات " (عنکبوت 5) بے شک اللہ کا مقرر ہ وقت آنے والا ہے۔ فرمایا کہ یہ دراصل عاشق اور مشتاق لوگوں کو صبر دلایا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ گویا کہ یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ تمہارا اشتیاق میری طرف غالب ہے۔ اور میں نے تمہاری ملاقات کےلئے ایک مقرر کر دیا ہے، عنقریب تمہارا وصال اس ذات کے ساتھ ہو جائے گا جس کی طرف تم مشتاق ہو۔ اور ابو عثمان نے کہا ۔ کہ بندے کے دل کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس قدر سرور ملے اسی قدر اس کی طرف مشتاق ہوتا ہے۔ اور جس قدر اس کا شوق ہوتا ہے اسی قدر اس سے دوری اور مسترد ہونے سے ڈرتاہے۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 460

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 461

460 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت علي بن بندار يقول سمعت محفوظا يقول : سمعت أبا حفص يقول : صدق حب الله أن تخاف سره فيك في غيب الأزل على ما جبلك و فطرك و في أي ديوان كتب اسمك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا علی بن بندار سے انہوں نے سنا محفوظ سے اس نے سنا ابو حفص سے کہتے تھے اللہ کی سچی محبت یہ ہے کہ آپ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ تیرے بارے میں غیب میں اور ازل میں اس کا کیا راز ہے۔ کہ اس نے تجھے کس جبلت پر اور کس فطرت پر پیدا کیا تھا؟ اور کون سے دفتر میں تیرا نام اس نے لکھا ہے؟

صدق حب الله ← أَبَا حَفْصٍ، ← مَحْفُوظًا، ← علي بن بندار ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 461

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 462

461 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر بن أبي دارم يقول : حدثني الفضل بن جعفر ثنا عبد الله بن مسلم قال : قال مالك بن دينار : خرجت يوما إلى المقابر فإذا شابان جالسان يكتبان شيئا فقلت لهما : يرحمكم الله ! من أنتما ؟ فقالا : ملكان نكتب المحبين لله عز و جل فقلت لهما : سألتكما بالله أنا ممن كتبتما ؟ فقالا : لا فسقط مالك مغشيا عليه ثم أفاق فقال : نشدتكما بالله لما كتبتماني في أسفل سطر : مالك دينار طفيلي يحب المحبين لله فلما كان الليل أتيت في منامي فقيل قد كتبت منهم المرء مع من أحب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو بکر بن دارم سے ان کو فضل جعفر نے ان کو عبداللہ بن مسلم نے انہوں نے کہا کہ مالک بن دینار نے کہا تھا کہ ایک دن قبرستان کی طرف نکل گیا دیکھا کہ ہوں دونوجوان بیٹھے کچھ لکھ رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا اللہ تمہارے اوپر رحم کرے تم کون ہو؟ وہ بولے ہم فرشتے ہیں ہم اللہ عزوجل سے محبت کرنے والوں کو لکھ رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ دونوں نے کیا مجھے ان لوگوں میں لکھا ہے؟ انہوں نے کہا ۔ نہیں۔ مالک بن دینار گرے اور بے ہوش ہو گئے پھر ہوش آئی اور بولے میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ تم لوگوں نے مجھے نیچے والی سطر میں کیوں لکھا؟ میں توطفیلی ہوں اللہ سے محبت کرنے والوں سے محبت کرتا ہوں۔ جب رات ہوئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ آپ ان میں سے لکھ دئیے گئے ہیں انسان اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا تھا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← أبا بكر بن أبي دارم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 462

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 463

462 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق ثنا معمر الزهري حدثني أنس بن مالك : أن رجلا من الأعراب أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله ! متى الساعة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أعددت لها ؟ فقال الأعرابي : ما أعددت لها من كثير أحمد عليه نفسي إلا أني أحب الله و رسوله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فإنك مع من أحببت رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع و عبد بن حميد عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور دمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو انس بن مالک نے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور سوا ل کیا یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ا س کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے بولا میں نے اس کے لئے کوئی بڑی تیاری تو نہیں کی جس پر میں اپنی تعریف کروں مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انت مع من احب تو ا س کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہے۔ مسلم نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے محمد بن رافع اور عبد بن حمید سے اور عبدالرزاق سے ۔

معمر الزهري ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 463

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 464

463 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا بكر الرازي يقول : سمعت أبا علي الجوزجاني يقول : ثلاثة أشياء من عقد التوحيد : الخوف و الرجاء و المحبة فزيادة الخوف من كثرة الذنوب لرؤية الوعيد و زيادة الرجاء من اكتساب الخير لرؤية الوعيد و زيادة المحبة من كثرة الذكر لرؤية المنة فالخائف لا يستريح من الهرب و الراجي لا يستريح من الطلب و المحب لا يستريح من ذكر المحبوب فالخوف نار منور و الرجاء نور منور و المحبة نور الأنوار

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے انہوں نے ابو بکر رازی سے انہوں نے ابو علی جوز جانی سے انہوں نے کہا کہ تین چیزیں عقیدہ توحید میں سے ہیں۔ (1) خوف ۔ (2) امید ۔ (3) محبت ۔ گناہوں کی کثرت سے وعید اور عذاب کو دیکھنے کے لئے خوف زیادہ ہوتا ہے۔ اور کثرت ذکر سے اس کے احسان کو دیکھنے کے لئے محبت زیادہ ہوتی ہے۔ خیر کے اکتساب سے عذاب سے بچنے کے لئے امید زیادہ ہو تی ہے۔ خوف کرنے والا بھاگنے سے بیٹھ کر آرام نہیں کرتا۔ امید کرنے والے طلب کو ترک نہیں کرتا۔ محبت کرنے والا محبوب کے ذکر کرنے سے آرام نہیں کرتا۔ خوف روشن کی ہوئی آگ ہے۔ امید روشن کیا ہوا نور ہے۔ اور محبت نوروں کا نور ہے۔

أبا علي الجوزجاني ← أبا بكر الرازي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 464

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 465

464 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا علي بن حمدان ثنا عباد بن عباس الرازي ثنا محمد بن جعفر الأشناني قال : سمعت يحيى بن معاذ يقول : و أنا أواكله على المائدة : إن فطنك ببره فرغك لذكره و إن فرغك لذكره من عليك بحبه و إن من عليك بحبه ناجاك بقربه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو علی بن حمدا ن نے ان کو عباد بن عباس رازی نے ان کو محمد بن جعفر اشنائی نے انہوں نے سنا یحیی ٰ بن معاذ سے کہتے تھے۔ ہم تو اس کے دستر خوان پر کھانے والے ہیں۔ اگر اپنے فضل احسان سے وہ تجھے کھلا دے تو وہ تجھے اپنے ذکر کے لئے فارغ بنا دیتا ہے۔ اور اگر وہ تجھے اپنے ذکر کے لئے فارغ کر دیتا ہے تو وہ تجھ سے محبت کرنے کا احسان کرتا ہے۔ اور اگر وہ اپنی محبت کا تیرےا وپر احسان کر دے تو اس نے تجھے اپنے قرب کے ساتھ نجات دے دی۔

و، ← يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← محمد بن جعفر الأشناني ← عباد بن عباس الرازي ← علي بن حمدان ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 465

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 466

465 - و فيما قرأت على أبي عبد الرحمن السلمي قال : قال أبو الحسين الوراق : المحبة شعبة من الإيمان بالله و هو أصل لجميع مراتب الأولياء و الأصفياء و قال : تتشعب شعب المحبة من دوام ذكر إحسان الله فمن ذكره على دوام إحسان الله تنسم ريح المحبة عن قربه

اس میں سے جو میں نے ابو عبدالرحمٰن سلمی پر پڑھا کہتے کہ ابو الحسین وراق نے کہا تھا۔ کہ محبت الٰہی ایمان با اللہ کا شعبہ ہے اور وہ اولیاء اصفیاء کے تمام مراتب کے لئے اصول ہے۔ اللہ کے احسان کو ہمیشہ ذکر کرنے سے محبت کے شگوفے پھوٹتے ہیں جو شخص اپنے اوپر اللہ کے احسان کو دائمی طور پر ذکر کرتا ہے اس کے لئے اللہ کے قرب سے محبت کی نسیم صبا مہکتی ہے۔

عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← و فيما

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 466

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 467

466 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا الحسين الفارسي يقول : سمعت ابن العطاء يقول في معنى الحديث الذي روى : جبلت القلوب على حب من أحسن إليها و بغض من أساء إليها فقال : كيف لا تحب و أجدك وما انفككت من تواتر نعمته قط و لا تنفك أبدا و لكن ضعف اليقين أو كدورة المعرفة و نقص الإيمان حجبك عن محبته و الميل إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا ابو الحسن فارسی سے انہوں نے ابن العطاء سے وہ اس حدیث کے مطلب کے بارے میں کہتے تھے۔ "جبلت القلوب علی حب من احسن الیھا وبغض من اسآء الیھا" فطری طور پر دل اس کی محبت پر جو اس کی طرف احسان کرے اور اس کے بغض پر جو ان کی طرف برائی کرے پر پیدا کئے گئے ہیں (پھر اس کے برعکس) آپ کیسے اللہ تعالیٰ سے محبت نہیں کرتے حالانکہ ہم آپ کو اس طرح پاتے ہیں کہ اس کی نعمتوں کا تسلسل اور تواتر کبھی آپ سے نہیں رکا اور نہ ہی کبھی ختم ہو گا۔ لیکن یقین کی کمزوری معرفت کی کدورت ، ایمان کا نقص ، اس کی محبت اور اس کی طرف میلان میں بطور حجاب حائل ہو گیا ہے۔

ابن العطاء ← أَبَا الْحُسَيْنِ الْفَارِسِيَّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 467

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 468

467 - قال : و سمعت أبا الحسين يقول سمعت أبا محمد الجريري يقول سمعت أبا سعيد الخزاز يقول في معنى الحديث فقال : واعجبا ممن لم ير محسنا غير الله فكيف لا يميل بكليته إليه

کہتے ہیں کہ میں نے ابو الحسین سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو محمد جریری سے سنا کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خزاز سےسنا کہ وہ مذکورہ حدیث کے مطلب کے بارے میں کہتے تھے۔ "واعجبا ممن لم یر محسنا غیر اللہ فکیف لا یمیل بکلیتہ الیہ" حیرانی ہے اس انسان پر جو اللہ کے سوا کوئی محسن نہیں دیکھتا پھر بھی مکمل طور پر اس کی طرف کیوں نہیں جھکتا؟

في معنى الحديث ← أَبَا سَعِيدٍ الْخَزَّازَ، ← أبا محمد الجريري ← أَبَا الْحُسَيْنِ، ← و،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 468

chevron_left Previous
1…45678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood