Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 445

444 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا سعيد العلاف يقول سمعت عبد الله بن القاسم الواعظ يقول سمعت أبا دجانة يقول سمعت ذا النون بن إبراهيم يقول : الأنس مع الله نور ساطع و الأنس مع الناس سم قاطع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید علاف نے ان کو عبداللہ بن قاسم واعظ نے انہوں نے سنا ابو دجانہ سے انہوں نے سنا ذوالنون بن ابراہیم سے وہ کہتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ محبت کرنا بلند ہونے والا نور ہے اور بندوں کے ساتھ محبت کرنا زہر قاتل ہے۔

الأنس مع الله نور ساطع و الأنس مع الناس سم قاطع ← ذا النون بن إبراهيم ← أبا دجانة ← عبد الله بن القاسم الواعظ ← أبا سعيد العلاف ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 445

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 446

445 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان الحناط يقول سمعت ذو النون يقول : ثلاثة من أعلام الأنس بالله : استلذاذ الخلوة و الاستيحاش من الصحبة و استحلاء الوحدة و ثلاثة من علامات الوصول : الأنس به في جميع الأحوال و السكون إليه في جميع الأعمال و حب الموت لغلبة الشوق في جميع الأشغال قال : و ثلاثة من أعلام الشوق : حب الموت مع الراحة و بغض الحياة مع الدعة و دوام الحزن مع الكفاية

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو عثمان حناط نے کہتے تھے کہ میں نے ذوالنون مصری سے سنا کہتے تھے کہ اللہ کے ساتھ محبت کی تین نشانیاں ہیں۔ خلوت میں لذت محسوس کرنا۔ جلوت میں وحشت و نفرت کرنا۔ وحدت کو شیریں سمجھنا۔ اور (اللہ تعالیٰ ) وصل کی تین علامات ہیں ۔ تمام حالات میں اللہ کےساتھ انس و محبت رکھنا اور تمام اعمال میں اسی کی طرف سکون پانا۔ اور تمام اشغال میں غلبہ شوق (دیدار الٰہی) میں موت کی محبت رکھنا۔ اور فرمایا کہ شوق کی تین علامات ہیں۔ راحت و سرور کے باوجود موت کی محبت ۔ اور سکون و آرام کے باجود زندگی سے نفرت ہمیشہ کا غم ہر ضرورت پوری ہونے کے باوجود۔

ذَو النُّونِ، ← أبا عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 446

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 447

446 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو زكريا عبد الله بن أحمد بن البلاذري الحافظ ثنا محمد بن عبد الله المعمري ثنا إبراهيم بن الجنيد حدثني محمد بن الحسين عن بكار بن خالد عن أبيه عن صالح المري قال : رأيت ريحانة المجنونة و قد كتبت من وراء جيبها : ( أنت أنسي و منيتي و سروري قد أبى القلب أن يحبى سواكا ) ( يا عزيزي و منيتي و اشتياقي طال شوقي متى يكون لقاكا ) ( ليس سؤلي من الجنان نعيم غير أني أريدها لأراكا ) و إذا على صدرها مكتوب : ( حسب المحب من الحبيب بعلمه أن المحب ببابه مطروح ) ( و القلب فيه و إن تنفس في الدجى بسهام لوعات الهوى مجروح )

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے ان کو ابو زکریا عبداللہ بن احمد بن بلاذری حافظ نے ان کو محمد ن عبداللہ معمری نے ان کو ابراہیم بن جنید نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو بکار بن خالد نے ان کو ان کے والد نے ان کو صالح مری نے انہوں نے کہا کہ میں نے ریحانہ مجنونہ کو دیکھا ان کے پچھلے دامن پر لکھا ہوا تھا۔ (یعنی اللہ کی محبت کی دیوانی)۔ "انت انسی ومنیتی وسروری ، قدابی القلب ان یحب سوا کا" تو ہی میری محبت ہے تو ہی میری آرزو ہے تو ہی میرا سرور ہے۔ دل تیرے سوا کسی اور سے محبت کرنے سے انکار کرتی ہے۔ "باعزیزی ومنیتی و اشتیاقی، طال شوقی متی یکون لقاکا" اے میرے پیارے اے میرا آرزو اے میرے اشتیاق۔ میرا شوق طویل ہو گیا ہے تیری ملاقات کب ہو گی؟ "لیس سولی من الجنان نعیم، غیر اننی اریدھا لا راکا" میرا سوال (تجھ سے) جنت کی نعمتوں کا نہیں ہے ۔ میں اس کے سوا کچھ نہیں چاہتی کہ میں تیرا دیدار کروں۔ (سامنے دیکھا تو ) سینہ کی جانب لکھا ہوا تھا۔ " حسب المحب من الحبیب بعلمہ ، ان المحب ببابہ مطروح" عاشق کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ اس کے محبوب کے علم میں ہے۔ کہ عاشق اس کے دروازے پر پڑا رہے۔ " والقلب فیہ وان تنفس فی الدجی ، بسھام لو عات الھوی مجروح " عاشق اگرچہ رات کی تاریکی میں سانس لیتا ہے مگر دل تو اس کی محبت میں گرم عشق و محبت کے تیروں سے زخمی ہے۔

صالح المري ← أَبِيهِ ← بكار بن خالد ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← محمد بن عبد الله المعمري ← أبو زكريا عبد الله بن أحمد بن البلاذري الحافظ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 447

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 448

447 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول سمعت أبا نصر الأصبهاني يقول سمعت أبا جعفر الحداد يقول سمعت علي بن سهل يقول : الأنس بالله أن تستوحش من الخلق إلا من أهل ولاية الله فإن الأنس بأهل ولاية الله هو الأنس بالله

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے کہتا ہے میں نے سنا ابو نصر اصفہانی سے کہتے ہیں میں نے سنا ابو جعفر حداد سے وہ کہتے تھے میں نے سنا علی بن سہل سے کہتےتھے: اللہ کے ساتھ محبت یہ ہے کہ تجھے مخلوق سے وحشت ہو مگر صرف اللہ سے محبت کرنے والوں سے، بےشک اللہ سے محبت رکھنے والوں سے محبت کرنا اللہ سے محبت کرنا ہے۔

علي بن سهل ← أبا جعفر الحداد ← أبا نصر الأصبهاني ← أبا عبد الرحمن السلمي

Hadith 448

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 449

448 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله الرازي يقول كتبت هذا من كتاب أبي عثمان و ذكر أنه من كلام شاه : علامة الأنس للاستيحاش من الغافلين و السكون إلى الوحدة و مرافقة الأحبة قال و سمعت عبد الله الرازي يقول سمعت أبا عثمان يقول : إذا صح للإنسان مكان السرور بالله يتولد له من ذلك مقام الأنس به فإذا صح أنسه به استوحش من كل شيء سواه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ رازی سے کہتے تھے میں نے اسے ابو عثمان کی کتاب سے لکھا تھا ۔ اس نے ذکر کیا تھا کہ یہ کلام شاہ میں سے ہے۔ محبت الٰہی کی علامت ۔ غافل لوگوں سے وحشت محسوس کرنا۔ اور وحدت میں سکون محسوس کرنا۔ احباب سے نرمی کرنا۔ ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ کا قول: کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ رازی سے سنا کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں: جب انسان کے لئے اللہ کے لئے اللہ کے ساتھ خوشی اور سرور کا مقام ٹھیک ہو جائے تو اس سے اس کے ساتھ انس کا مقام پیدا ہو تا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس و محبت ٹھیک ہو جائے تو اللہ کے سوا ہر شئی سے وحشت و نفرت کرتاہے۔

كتبت هذا من كتاب أبي عثمان و ← عبد الله الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 449

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 450

449 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الحناط قال : سمعت السري يقول سمعت فضيلا يقول : عن ابنة له توجعت كفها فعادها فقال لها : يا بنية كيف كفك هذه ؟ فقالت له : يا أبت إن قد بسط لي ثوابها ما لا أؤدي شكره عليها أبدا فتعجبت من حسن يقينها قال الفضيل فأنا عندها قاعد إذ أتاني ابن لي له ثلاث سنين فقبلته و ضممته إلى صدري فقالت لي : يا أبت سألتك بالله أتحبه ؟ فقلت : إي و الله يا بنية أني لأحبه فقالت لي : سوأة لك من الله يا أبت إني ظننت أنك لا تحب مع الله غير الله فقلت لها : أي بنية أو لا تحبون الأولاد ؟ فقالت : المحبة للخالق و الرحمة للأولاد قال : فلطم الفضيل رأس نفسه و قال : يا رب هذه ابنتي هجنتني في حبها و حب أخيها و عزتك لا أحببت معك أحدا حتى ألقاك

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو عثمان حناط نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سری سقطی سے سنا تھا کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے فضیل بن عیاض سے سنا وہ اپنی بیٹی کے بارے میں بتاتے تھے کہ اس کی ہتھیلی میں تکلیف ہو گئی تھی انہوں نے اس سے اس کے بارے میں بیمار پرسی کی اور کہا کہ اے بیٹا تیری ہتھیلی اب کیسی ہے؟ اس خاتون نے کہااے میرے بابا جان، اللہ تعالیٰ نے میرے لئے اس کا ثواب (یعنی تکلیف زیادہ کر کے) بڑھا دیا ہے۔ اس قدر کہ میں اس پر کبھی بھی شکر ادا نہیں کر سکتی (فضیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ) میں اس حسن یقین سے خوش ہو گیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں اس بیٹی کے ہاں بیٹھا تھا کہ اچانک میرا چھوٹا بیٹا جس کی عمر ابھی تین سال کی تھی میرے پاس آ گیا میں نے اسے بوسہ دیا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ تو میری بیٹی بولی ابا حضور میں آپ سے اللہ کی قسم کے ساتھ پوچھتی ہوں کیا آپ اس بیٹے سے محبت کرتے ہیں؟ میں نے کہاں ہاں بیٹا میں اس کو محبوب رکھتا ہوں۔ بیٹی نے کہا میرے ابا جی یہ بات اللہ کے ہاں آپ کے لئے باعث شرم و عار ہے۔ میرے ابا جان میں تو خیال کرتی تھی کہ آپ اللہ کے ساتھ اللہ کے ماسوا کی محبت نہیں رکھتے (یعنی محبت صرف اللہ سے کرتے ہیں اور بس) میں نے اسے جواب دیا کہ بیٹا کیا تم لوگ اولاد سے محبت نہیں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ محبت تو خالق کے لئے ہوتی ہے اور اولاد کے لئے رحمت و شفقت ہوتی ہے فرماتے ہیں کہ فضیل نے (بیٹی کا جواب سن کر خفت محسوس کرتے ہوئے) اپنا سر پیٹ لیا اور کہنے لگے اے میرے پروردگار میری بیٹی نے مجھے (لاجواب ) اور ذلیل کر دیا ہے اپنی محبت کے بارے میں بھی اور اپنے بھائی کی محبت کے بارے میں بھی (لہذا آج کے بعد ) مجھے تیری عزت کی قسم ہے میں تیرے ساتھ کسی کی محبت نہیں رکھوں گا یہاں تک کہ میں تجھے ملوں( یعنی زندگی بھر) اللہ کے سوا کسی سے محبت نہیں کروں گا۔

له يا أبت ← لها يا بنية كيف كفك هذه ← ابنة له توجعت كفها فعادها ← فُضَيْلًا ← السَّرِيُّ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 450

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 451

450 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا عبد الله بن أحمد الشيباني قال : سمعت زنجويه بن الحسن ثنا علي بن الحسن ثنا إبراهيم بن الأشعث يقول سمعت الفضيل يقول : طوبي لمن استوحش من الناس و أنس بربه و بكى على خطيئته

Not Found

طوبي لمن استوحش من الناس و أنس بربه و بكى على خطيئته ← الْفُضَيْلُ ← إبراهيم بن الأشعث، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ← زنجويه بن الحسن ← عبد الله بن أحمد الشيباني ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 451

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 452

451 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أحمد بن محمد بن زياد ثنا سلم بن عبد الله أبو محمد الخراساني قال : سمعت الفضيل بن عياض يقول : كفى بالله محبا و بالقرآن مونسا و بالموت واعظا و كفى بخشية الله علما و الاغترار بالله جهلا

ہمیں خبر دی ہے محمد بن یوسف نے ان کو احمد بن محمد بن زیاد نے ان کو سلم بن عبداللہ ابو محمد خراسانی نے انہوں نے کہا کہ میں نے فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے سنا تھاوہ کہتے تھے: اللہ محبت کرنے والا کافی ہے ۔ قرآن مونس و دل بہلانے والا کافی ہے، اور موت نصیحت کرنے والا واعظ کافی ہے اور خشیت الٰہی و خوف خدا کے لئے علم کافی ہے۔ اور غافل رہنے کے لئے جہالت کافی ہے۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← سلم بن عبد الله أبو محمد الخراساني ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 452

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 453

452 - سمعت أبا محمد عبد الله بن يوسف يقول سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن فراس يقول سمعت إبراهيم بن أحمد الخواص يقول : لا تطمع في لين القلب مع فضول الكلام و لا تطمع في حب الله مع حب المال و الشرف و لا تطعم في الأنس بالله مع الأنس بالمخلوقين

میں نے سنا ابو محمد عبداللہ یوسف سے وہ کہتے تھے کہ میں نے ابو اسحٰق ابراہیم بن فراس سے سنا تھا کہتے تھے کہ میں نے ابراہیم بن احمد خواص سے سنا وہ فرماتے تھے کہ: فضول گوئی کے ساتھ دل کی نرمی کی توقع نہ کرنا۔ جب مال و جب جاہ و مرتبہ کے ساتھ اللہ کی محبت کی توقع نہ کرنا مخلوق کے ساتھ انس و محبت کے ساتھ اللہ کی محبت کی توقع نہ کرنا۔

إبراهيم بن أحمد الخواص ← أبا إسحاق إبراهيم بن فراس ← أبا محمد عبد الله بن يوسف

Hadith 453

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 454

453 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا أبو عمرو بن السماك ثنا محمد بن علي بن بحر ثنا محمد بن إبراهيم البرجلاني عن أبيه يقول سمعت بشرا يقول : كان إبراهيم بن أدهم يؤدب نفسه حتى يكون ترك الطيبات ألذ من أكلها و قال بشر : أوحى الله عز و جل إلى داود يا داود خلقت الشهوات و اللذات لضعفة عبادي فأما الأبطال فمالهم و للشهوات و اللذات ؟ يا داود فلا تعقلن قلبك منها بشيء فأدنى ما أعاقبك به أن أنسخ حلاوة حبي من قلبك

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے ان کو ابو عمر و بن سماک نے ان کو محمد بن علی بن بحر نے ان کو محمد بن ابراہیم برجلانی نے کہ نفیس اور عمدہ چیزوں کو ترک کرنے میں ان کے کھانے سے زیادہ ان کو لذت ملتی تھی۔ اور بشر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو وحی کی تھی کہ میں نے خواہشات اور لذات کو اپنے کمزور بندوں کے لئے پیدا کی ہیں۔ اے داؤد آپ اپنے دل کو ان میں سے کسی شے کے ساتھ نہ لٹکانا (ورنہ اس پر)سب سے کم تر گرفت جو میں تجھ سے کروں گا وہ یہ ہو گی کہ میں اپنی محبت کی حلاوت تیرے دل سے ختم کر دو ں گا۔

بِشْرًا ← أَبِيهِ ← محمد بن إبراهيم البرجلاني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 454

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 455

454 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الحناط ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أخي يقول : تعبد رجل من بني إسرائيل في غيضة في جزيرة في البحر أربعمائة سنة فطال شعره حتى كان إذا مر في الغيضة تعلق بأغصانها بعض شعره فبينا هو ذات يوم يدور إذ مر بشجرة فيها وكر طير فنقل موضع مصلاه إلى قريب منها قال : فنودي أنست بغير ؟ و عزتي لأحطنك مما كنت فيه درجتين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو عثمان حناط نے ان کو احمد بن ابوالجواری نے ان کو ان کے بھائی نے انہوں نے کہا بنی اسرائیل کے ایک آدمی نے سمندر کے ایک جزیرہ میں چار سو سال تک عبادت کی اور اس کے بال لمبے ہو گئے یہاں تک کہ جب وہ جزیرے کی جھاڑیوں سے گزرتا تو اس کے بال ان کی ٹہنیوں میں الجھ جاتے تھے ایک دن وہ اس جزیرے کی جھاڑیوں اور درختوں میں گھوم رہا تھا کہ ایک درخت سے گذرا جس پر کسی پرندے کا گھونسلا تھا چنانچہ اس نے اپنے مصلے کی جگہ اس کے قریب منتقل کر دی کہتے ہیں کہ اسے آواز آئی کہ تم نے میرے سوا غیر سے انس کر لیا ہے پس میری عزت کی قسم ہے میں نے تجھے اس مقام سے جس پر تو تھا دو دریجے نیچے اتار دیا ہے۔

أَخِي ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 455

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 456

455 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا منصور بن عبد الله الأصبهاني يقول : سئل الشبلي ما علامة المعرفة ؟ قال : نسيان كل شيء معروقة فقال : ما علامة صحة المحبة ؟ قال : العمى عن كل شيء سوى محبوبه قال : و سمعت الشبلي يقول في قوله : { وما كنا عن الخلق غافلين } فقال : و ما كنا عن من قرب منا غافلين و لا عن من أقبل علينا شاغلين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا ابو نصر منصور بن عبداللہ اصفہانی سے وہ کہتے ہیں کہ (مشہور بزرگ) شبلی سے دریافت کیا گیا کہ معرفت کی کیا علامت ہے؟ انہوں نے جواب دیا اپنے محبوب کے سوا ہر شئی کی دیکھنے سے اندھا ہو جانا۔ کہتے ہیں کہ میں نے شبلی سے اس آیت کے بارے میں سنا تھا: "وما کان عن الخلق غافلین " (مومنون 17) ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اس کا مطلب ہے یعنی جو ہم سے قریب ہے ہم اس سے بے خبر نہیں ہیں ، اور جو ہمارے پاس آئے ہم اس سے معروف نہیں ہیں۔

من أقبل علينا شاغلين ← من قرب منا غافلين و لا ← الخلق غافلين فقال و ما كنا ← في قوله وما كنا ← الشبلي ← و، ← كل شيء سوى محبوبه ← الْعَمِّيُّ، ← نسيان كل شيء معروقة فقال ما علامة صحة المحبة ← سئل الشبلي ما علامة المعرفة ← أبا منصور بن عبد الله الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 456

chevron_left Previous
12345…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood