Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 433

432 - سمعت عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد يقول سمعت أبا الحسن علي بن عبد الله الصوفي بمكة يقول ثنا محمد بن أحمد الوراق حدثني عبد الله بن سهل قال : سمعت يحيى بن معاذ يقول : كم بين من يريد الوليمة للوليمة و بين من يريد حضور الوليمة ليلتقي الحبيب في الوليمة !

میں نے سنا عبدالملک بن ابو عثمان زاہد سے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الحسن علی بن عبداللہ صوفی سے مکہ میں انہوں نے کہا ہمیں بات بتائی محمد بن وراق نے ان کو عبداللہ بن سہل نے انہوں نے کہا میں نے سنا یحییٰ بن معاذ سے کہتے تھے کتنی فرق ہے ان دو آدمیوں کے مابین کہ ایک ان میں سے ولیمہ میں جاتا ہے صرف ولیمہ کی نیت سے اور دوسرا ولیمہ میں اس لئے جاتا ہے کہ تانکہ ولیمہ میں جا کر محبوب سے ملاقات کرے (مراد یہ ہے کتنا فرق ہے ان دو انسانوں میں جن میں سے ایک تو جاتا صرف جنت میں داخلے کے لئے دوسرا جنت میں بھی اس لئے جاتا ہے تانکہ اللہ تعالیٰ کو جا کر دیکھے ظاہر ہے دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ (از مترجم)

يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← عبد الله بن سهل ← محمد بن أحمد الوراق ← أبا الحسن علي بن عبد الله الصوفي بمكة ← عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد

Hadith 433

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 434

433 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه ثنا محمد بن أحمد بن النضر الأزدي حدثني عبد الصمد الصائغ مردويه قال : دخل سفيان الثوري على رابعة العدوية فقالت له : يا سفيان ما تعدون السخاء فيكم ؟ قال : أما عند أبناء الدنيا فالذي يجود بماله و أما عند أبناء الآخرة فهو الذي يجود بنفسه فقالت : يا سفيان أخطأت فيها فقال سفيان : فما السخاء عندك ـ رحمك الله ؟ ـ قالت : أن تعبدوه حبا له لا لطلب جزاء و لا مكافأة ثم أنشأت تقول : ( لولاك ما طابت الجنان و لا نعيم لجنة الخلد ) ( قوم أرادوا للجنان و قلبي سواك لم يرد )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو محمد بن احمد بن نضر نے خبر دی ہے ان کو عبدالصمد صائغ مردویہ نے کہتے ہیں کہ حضرت سفیان ثوری حضرت بی بی رابعہ عدویہ کے پاس گئے رابعہ نے ان سے کہا کہ اے سفیان تم لوگ اپنے تئیں سخی کس کو کہتے ہو، حضرت سفیان نے فرمایا کہ اہل دینار کے نزدیک تو سخی وہ ہوتا ہے جو اپنے مال کے سخاوت کرتا ہو۔ اور اہل آخرت کے نزدیک جو شخص اپنے نفس کی سخاوت کرتا ہو۔ رابعہ نے کہا سفیان آپ نے اس جو اب میں غلطی کی ہے حضرت سفیان ثوری نے پوچھا محترمہ اللہ تعالیٰ آپ کے اوپر رحم کرے آپ کے نزدیک سخاوت کیا ہے؟ رابعہ نے جواب دیا ۔ میرے نزدیک سخاوت یہ ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو صرف اس کی محبت کے لئے نہ جزا طلب کرنے کے لئے اور نہ ہی سزا سے بچنے کے لئے نہ احسان کا بدلہ کرنے کے لئے پھر شعر پڑھنے لگیں اور کہا " لو لاک ماطابت الجنان ولا نعیم لجنۃ الخلد ، قوم ارادو ک للجنان وقلبی سواک لم یرد" اگر تو نہ ہوتا تو دلوں کے سرور خوشیانہ ہوتے اور نہ ہی جنت کی دائمی نعمتیں ہوتیں ، یہ لوگ تو تجھ سے محبت کرتے ہیں جنتوں کے لئے اور میرا دل تیرے سوا کسی شے سے محبت و ارادت ہی نہیں کرتا۔

عبد الصمد الصائغ مردويه ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 434

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 435

434 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو زكريا عبد الله بن أحمد البلاذري الحافظ ثنا محمد بن عبد الله العمري ثنا إبراهيم بن الجنيد ثنا إسماعيل بن عبد الرحمن الكوفي و كان من العباد قال : لقيني بهلول المجنون فقال لي : أسألك ؟ قال قلت : سل قال أي شيء السخاء ؟ قلت البذل و العطاء قال : هذا السخاء في الدنيا فما السخاء في الآخرة ؟ قلت : المسارعة إلى طاعة السيد قال فتريد منه الجزاء ؟ قلت : نعم بالواحدة عشرة قال : هذا في الدين قبيح و لكن المسارعة لطاعة سيدي أن لا يطلع على قلبك و أنت تريد منه شيئا بشيء

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو زکریا عبداللہ بن احمد بلاذری حافظ نے ان کو محمد بن عبداللہ عمری نے ا ن کو ابراہیم بن جنید نے ان کو اسماعیل بن عبدالرحمٰن کوفی نے جو کہ عابد تھے انہوں نے کہا کہ مجھ سے بہلول دیوانہ ملا اور مجھ سے کہنے لگا کہ میں آپ سے سوال کروں گا؟ میں نے کہا ٹھیک ہے آپ پوچھئے کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا ۔ سخاوت کیا شئی ہوتی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ خرچ کرنا۔ اور دینا ، لوٹانا۔ بہلول نے کہا کہ یہ تو دنیا کی سخاوت ہے۔ آخرت کی سخاوت کیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ مالک کی فرمانبرداری میں سے ایک دوسرے سے جلدی کرنا۔ بہلول بولا، پھر آپ مالک سے جزا اور بدلہ بھی چاہیں گے میں نے کہا کہ بالکل (صرف برابر کا اجر نہیں بلکہ ) ایک کے بدلے میں دس۔ بہلول مجنون بولا کہ یہ تودین میں قبیح اور برا ہے۔ ہاں میرے مالک کی اطاعت کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنا درست ہے (جزاء اور بدلہ والی بات نہ ہو تانکہ وہ جب) تیرے دل پر جھانک کر دیکھے تو یہ نہ کہ تو اس سے ایک شئی کے بدلے میں دوسری شئی کا ارادہ رکھتا ہو۔ (یعنی عمل کے مقابلے اجر و ثواب کا۔)

قلت سل ← لي أسألك ← لقيني بهلول المجنون ← إسماعيل بن عبد الرحمن الكوفي و كان من العباد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، ← أبو زكريا عبد الله بن أحمد البلاذري الحافظ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 435

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 436

435 - أخبرنا أبو سعيد الماليني ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن الحسن قال : سمعت جامع بن أحمد الخزاف قال : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : العارفون رجلان رجل مسرور بأنه عبده و رجل مسرور بأنه عرفه فالأول يفرح بالله من نفسه لنفسه و الآخر يفرح بالله من الله لله و قال : هذا سرور الخبر فكيف سرور النظر

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن ھسن نے انہوں نے سنا جامع بن احمد خزاف سے انہوں نے یحییٰ بن معاذ سے سنا کہتے تھے کہ : عارف لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک تووہ ہوتے ہیں جو اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے اس کی عبادت کی ہے اور دوسرے وہ ہوتے ہیں جو اس بات پر خوش ہوتے ہیں اس نے اس کو پہچان لیا ہے۔ لہذا پہلا شخص تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خوش ہوتا ہے اپنے نفس سے اپنے نفس کے لئے اور دوسرا شخص خوش ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اللہ سے اللہ ہی کے لئے اور فرمایا کہ خیر کا سرور ہے لہذا سرور نظر کیسا ہو گا؟

يحيى بن معاذ الرازي ← جامع بن أحمد الخزاف ← أبو بكر محمد بن أحمد بن الحسن ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 436

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 437

436 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت علي بن محمد بن جهضم بمكة يقول سمعت علي بن محمد بن حاتم يقول سمعت الجنيد يقول : بت ليلة عند سري فلما كان بعض الليل قال لي : يا جنيد أنت نائم ؟ قلت : لا قال : الساعة أوقفني الحق بين يديه و قال : يا سري أتدري لم خلقت الخلق ؟ قلت : لا قال : خلقت الخلق فادعوا كلهم محبتي في و أدعوا محبتي فخلقت الدنيا فاشتغلوا بها من عشرة آلاف تسعة آلاف و بقي ألف فخلقت الجنة فاشتغل تسعمائة بالجنة و بقيت مائة فسلطت عليهم شيئا من البلاء فاشتغلوا عني بالبلاء من المائة تسعون و بقيت عشرة فقلت لهم : ما أنتم ؟ لا الدنيا أردتم و لا في الجنة رغبتم و لا من البلاء هربتم ؟ قالوا : و إنك لتعلم ما نريد فقال : إني أنزل بكم من البلاء ما لا تطيقه الجبال الرواسي فتثبتون لذلك ؟ فقالوا ألست أنت الفاعل بنا ؟ قد رضينا قلت : و أنتم عبيدي حقا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہ انہوں نے سنا علی بن محمد بن جھضم سے مکہ میں کہتے تھے کہ انہوں نے سنا علی بن محمد بن حاتم سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جنید رحمۃ اللہ علیہ (بغدادی) سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے (مشہور متصوف) سری سقطی کے ہاں ایک رات گزاری ، جب کچھ رات گزر گئی اس نے مجھ سے کہا اے جنید کیا آپ سو رہے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں۔ کہنے لگے اسی ساعت مجھے حق تعالیٰ نے اپنے سامنے کھڑا کر کے فرمایا ہے اے سری کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے مخلوق کو کیوں پیدا کیا تھا؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں یعنی مجھے معلوم نہیں ہے ۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے مخلوق کو پیدا کیا تو ان میں سے سب نے میرے ساتھ محبت کا دعوی کیا میرے بارے میں انہوں نے میری محبت کا دعویٰ کیا تو میں نے دنیا بنا ڈالی تو ہر دس ہزار میں سے نو ہزار دنیا میں مشغول ہو گئے۔ باقی رہے ایک ہزار پھر میں نے جنت بنا ڈالی۔ لہذا نو سو جنت میں مشغول ہو گئے باقی رہے ایک سو لہذ امیں نے ان پر آزمائش مسلط کر دی چنانچہ سو میں سے نوے مجھ سے آزمائش کے ساتھ مشغول ہو گئے (وہ اسی میں پھنس کر رہ گئے) باقی بچے صرف دس افراد ، میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیا چیز ہو کیا شئی ہے؟ نہ تو تم نے دنیا سے محبت کی اور نہ ہی تم نے جنت میں رغبت کی۔ اور نہ ہی آزمائش اور مصیبت سے بھاگے۔ انہوں نے کہا ۔ وانک لتعلم مانرید۔ آپ خوب جانتے ہیں ہم جو کچھ چاہتے ہیں ۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہارے اوپر اتنی آزمائش اور مصیبت اتاروں گا کہ جس کی مضبوط پہاڑ بھی طاقت نہیں رکھیں گے تم اس کے لئے پکے ہو؟ انہوں نے کہا کہ کیا آپ ایسا کرنے والے نہیں ہیں ہمارے ساتھ؟ تحقیق ہم راضی ہیں میں نے کہا کہ تم ہی میرے سچ مچ بندے اور غلام ہو۔

الجنيد ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، ← علي بن محمد بن جهضم ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 437

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 438

437 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان قال سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام المحبة : الرضا في المكروه و حسن الظن به في المجهود و التحسين لاختياره في المحذور و ثلاثة من أعلام المعرفة : الإقبال إلى الله و الانقطاع إلى الله و الافتخار بالله عز و جل و ثلاثة من أعلام الإلحاظ بالله : الهرب من كل شيء إليه و سؤال كل شيء منه و الدلالة في كل وقت عليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان سے انہوں نے کہا میں نے ذوالنون سےسنا کہتے تھے تین چیزیں محبت کی نشانیوں میں سے ہیں نا پسندیدہ حالات پر راضی رہنا، پوری استطاعت و مقدور بھر اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنا۔ محذورو ممنوع میں اس کی طرف سے اختیار ملنے پر تحسین کرنا۔ معرفت کی نشانیاں تین ہیں اللہ کی طرف آنا۔۔ اور اللہ کی طرف منقطع ہونا سب مخلوقات سے۔ اللہ عزوجل پر فخر کرنا ۔ تین چیز اللہ ساتھ توجہ اور لگاؤ کی علامات میں سے ہیں۔ ہر چیز سے اللہ کی طرف بھاگنا ۔ ہر شے اللہ تعالیٰ سے مانگتا ۔ ہر وقت اللہ کی طر ف دلالت کرنا یعنی اسی کاسب کو راستہ دکھانا۔

ذَا النُّونِ، ← أَبَا عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 438

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 439

438 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أحمد بن علي بن جعفر يقول سمعت فارس يقول : ذا النون يقول : إن لله عبادا لهم همم مكتوبة من لباب المعرفة قد سقوا بكأس المحبة شربة فهاموا على وجوههم إقبالا على ربهم فسلكوا الطريق المستقيم و سارعوا إلى رضوان الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن علی بن جعفر سے وہ کہتے ہیں میں نے فارس سے سنا وہ کہتے تھے ذوالونون مصری کہتے تھے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ ان کی ہ متیں لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ معرفت کے خلاصے اور نچوڑ سے وہ محبت کے پیالے سے ایک گھونٹ پلائے گئے ہیں لہذا وہ چل پڑے ہیں اپنے منہ کے بل اپنے رب کی طرف وہ سیدھے راستے پر چل پڑے ہیں اور اللہ کی رضا کی طرف لپکے ہیں۔

ذَا النُّونِ، ← فارس ← أحمد بن علي بن جعفر، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 439

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 440

439 - أخبرنا أبو سعد الشعيبي قال : سمعت أبا الحسن علي بن الحسن بن المثنى الصوفي يقول سمعت أبا علي الحسن بن علوية يقول سمعت يحيى بن معاذ الرازي : و قد سئل أي مجلس أشهى و ألذ ؟ قال : الجلوس مع الفكرة في ميدان التوحيد تشم من رائحة المعرفة و تسقى من كأس المحبة سبحان الله ما ألذه من مجلس ! و أعذبه من شراب ! قيل : فأي طعام أشهى ؟ قال لقمة من ذكر الله في فم الصبر بتوحيد الله رفعها من مائدة الرضا عن الله عز و جل عند النظر لكرامة الله قيل : فما عيد المؤمن ؟ قال السرور بالإيمان و النزهة بالقرآن قال الله عز و جل : { قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا هو خير مما يجمعون }

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید شعبی نے کہتے ہیں کہ میں نے ابو الحسن علی بن حسن بن مثنیٰ صوفی سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو علی حسن بن علویہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معاذ رازی سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ کون سی مجلس زیادہ خواہش اور زیادہ چاہت کےلائق ہے اور اسب سے زیادہ لذ ت والی ہے فرمایا کہ میدان توحید میں غور و فکر کرنے والی مجلس میں بیٹھنا۔ آپ کو معرفت کو خوشبو سونگھنے کو ملے گی۔ اور آپ کو محبت کے پیالے میں پینے کو ملے گا۔ سبحان اللہ کتنی لذت والی مجلس ہو گی، اور یہ کتنی میٹھی شربت ہو گی پوچھا گیا کہ کون سا کھانا، مرغوب ترین ہے؟ فرمایا کہ ایک لقمہ اللہ کے ذکر میں سے صبر کے منہ میں اللہ کی توحید کے ساتھ جسے اللہ کی رضا کے دستر خوان سے اٹھایا گیا ہو اللہ کی عنایت کی نظر کرم کے وقت۔ پوچھا گیا کہ مومن کی عید کیا ہے؟ فرمایا کہ ایمان کے ساتھ سرور اور خوشی ، اور قرآن کے ساتھ تفریح و تسکین قلبی حاصل کرنا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: '' قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذالک فلیفر حوا ھر خیر مما یجمعون" (یونس 58) فرما دیجئے اللہ کے فضل اور راحت کے ساتھ اسی کے ساتھ چاہیے کہ خوش ہو ں وہ بہتر ہے اس سے جو جمع کرتے ہیں۔

يحيى بن معاذ الرازي و قد سئل أي مجلس أشهى و ألذ ← أبا علي الحسن بن علوية ← أبا الحسن علي بن الحسن بن المثنى الصوفي ← أبو سعد الشعيبي

Hadith 440

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 441

440 - أخبرنا محمد بن الحسين السلمي قال : سمعت علي بن بندار يقول سمعت علي بن عبد الحميد يقول سمعت سري السقطي يقول : السرور بالله هو السرور و السرور بغيره هو الغرور

ہمیں خبر دی ہے محمد بن حسن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا علی بن بندار سے وہ کہتے تھے انہوں نے سنا علی بن عبدالحمید سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سری سقطی سے سنا وہ کہتے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرور ہی در حقیقت سرور ہے اور اللہ کے سوا کسی اور کے ساتھ سرور در حقیقت غرور ہے اور دھوکہ ہے۔

السرور بالله هو السرور و السرور بغيره هو الغرور ← سَرِيَّ السَّقْطِيَّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← علي بن بندار ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 441

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 442

441 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو زكريا البلاذري ثنا محمد بن عبد الله المعمري ثنا إبراهيم الجنيد حدثني محمد بن الحسين حدثني أوس الأعور قال : رأيت ريحانة المجنونة ليلة تدعو و تقول في دعائها أعوذ بك من بدن لا ينصب بين يديك و عميت عينان لا تبكيان شوقا إليك و جفت كفان لا يبتهلان بالتضرع إليك ثم أنشأت تقول : ( يا حبيب القلوب أنت حبيبي لم تزل أنت منيتي و سروري )

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے ان کو ابو زکریا بلاذری نے ان کو محمد بن عبداللہ معمری نے ان کو ابراہیم جنید نے، ان کو محمد حسین نے ان کو اوس اعور نے انہوں نے کہا کہ میں نے ایک رات ریحانہ مجنونہ (دیوانی) کو دعا کرتے دیکھا۔ وہ اپنی دعا میں کہہ رہی تھی اے اللہ میں ایسے وجود سے اور جسم سے تیری پناہ مانگتی ہوں جو تیرے آگے کھڑا بھی نہ ہو سکے۔ اور اندھی ہو جائیں وہ آنکھیں جو تیرے شوق و محبت میں رو نہ سکیں اور وہ ہاتھ سوکھ جائیں اور شل ہو جائیں جو تیری بارگاہ میں گریہ و زاری کے ساتھ اٹھ نہ سکیں'' پھر شعر پڑھتے ہوئے کہنے لگیں: "یا حبیب القلوب انت حبیبی ، لم تزل انت منیتی وسوری " اے سارے دلوں کے محبوب تو ہی تو میرا محبوب ہے ۔ تو ہی ہمیشہ میری آرزوؤں کا اور خوشیوں کا مرکز رہے گا۔

أوس الأعور ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← إبراهيم الجنيد ← محمد بن عبد الله المعمري ← أبو زكريا البلاذري ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 442

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 443

442 - أخبرنا محمد بن الحسين قال سمعت محمد بن عبد الله بن شاذان يقول سمعت يوسف بن الحسين يقول سمعت ذا النون يقول : كنت في الطواف فرأيت ولهان المجنون و هو يقول : حبك قتلني و شوقك أتلفني و الاتصال بك أسقمني فبعدت قلوب تحب غيرك و ثكلت خواطر أنست بسواك

ہمیں خبر دی ہے محمد بن حسین نے کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا محمد بن عبداللہ بن شاذان سے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یوسف بن حسین سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا تھا ذوالنون مصری سےو ہ کہتے تھے۔ کہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا اسی اثناء میں میں نے ولہان مجنون (دیوانہ) کو دیکھا۔ وہ کہہ رہے تھے (اے اللہ ) تیری محبت نے مجھے قتل کر دیا ہے اور تیرے شوق نے مجھے تلف کر دیا ہے۔ اور تیرے ساتھ وصل نے مجھے بیمار کر دیا ہے۔ ملعون ہو جائیں وہ دل جو تیرے سوا کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ اور گم ہو جائیں وہ خیال جو تیرے ماسوا کے ساتھ انس پکڑتے ہیں۔

كنت في الطواف فرأيت ولهان المجنون و هو ← ذَا النُّونِ، ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← مُحَمَّد بن عبد الله بن شَاذان ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ،

Hadith 443

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 444

443 - أخبرنا أبو سعد الشعيبي أنا أبو علي الحسين بن محمد الزبيري يقول سمعت أبا محمد الحسن بن محمد بن نصر الرازي ببلخ يقول سمعت يوسف بن الحسين يقول سمعت ذا النون المصري يقول : الأنس بالله نور ساطع و الأنس بالناس غم واقع

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد شعیبی نے ان کو ابو علی حسین بن محمد زبیری نے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو محمد حسن بن محمد بن نصر رازی سے شہر بلخ میں انہوں نے یوسف بن حسین سے۔ انہوں نے سنا ذوالنون مصری سے کہتے تھے کہ اللہ کے ساتھ انس و محبت بلند ہونے والا نور اور روشنی ہے۔ اور انسانوں کے ساتھ انس و محبت واقع ہونے والا غم ہے۔

الأنس بالله نور ساطع و الأنس بالناس غم واقع ← ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبا محمد الحسن بن محمد بن نصر الرازي ببلخ ← أبو علي الحسين بن محمد الزبيري ← أبو سعد الشعيبي

Hadith 444

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood