Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 421

420 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن عبد الله شاذان يقول سمعت إبراهيم بن علي المريدي يقول : من المحال أن تعرفه ثم لا تحبه و من المحال أن تحبه ثم لا تذكره و من المحال أن تذكره ثم لا يوجدك طعم ذكره و من المحال أن يوجدك طعم ذكره ثم لا يشغلك به عما سواه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن عبداللہ بن شاذان سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے ابراہیم بن علی مریدی سےسنا وہ فرماتے تھے کہ یہ بات محال ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں پھر اس سے محبت نہ کریں۔ اور یہ بھی محال ہے کہ آپ اللہ تعالی سے محبت تو کریں مگر اس کا ذکر نہ کریں۔ اور یہ بھی محال ہے کہ آپ اس کا ذکر تو کریں مگر آپ اس کے ذکر میں ذائقہ اور لذت نہ پائیں اور یہ بھی محال ہے کہ اس کے ذکر کی لذت کو تو پالے مگر وہ تجھے دنیا کے دیگر کاموں سے ذکر تجھے مصروف نہ کر دے (یعنی ذکر کی لذت آپ نے پالی تو آپ ذکر کے سوا سارے مشاغل ترک کریں گے۔)۔

إبراهيم بن علي المريدي ← محمد بن عبد الله شاذان ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 421

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 422

421 - أخبرنا أبو عبد الرحمن قال : سمعت عبد الرحمن بن الحسن الحداد يقول سمعت الحسن بن محمد بن إسحاق يقول سمعت سعيد بن عثمان يقول سمعت ذا النون يقول : من علامة الحب ترك كل ما شغله عن الله حتى يكون الشغل كله بالله عز و جل وحده

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن حسن حداد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن بن محمد بن اسحاق سے کہتے تھے کہ میں نے سنا سعید بن عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ فرماتے تھے کہ ۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کی علامت میں سے ہے کہ انسان ہراس شئی کو ترک کر دے جو اس کع اللہ سے مصروف کرے اور روکے یہاں تک کہ اس کی ساری مصروفیت اور سار ی مشغولیت صرف اور صرف اللہ وحدہ کے ساتھ ہو جائے۔

الله حتى يكون الشغل كله بالله عز و جل وحده ← من علامة الحب ترك كل ما شغله ← ذَا النُّونِ، ← سعيد بن عثمان ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عبد الرحمن بن الحسن الحداد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Hadith 422

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 423

422 - أخبرنا أبو عبد الرحمن قال : سمعت عبد الواحد بن بكر الورثاني حدثني أحمد بن علي البرذعي قال : سمعت طاهر بن إسماعيل الرازي قال : سمعت يحيى بن معاذ يقول : حقيقة المحبة ألا ترى شيئا سوى محبوبك و لا ترى سواه لك ناصرا و لا معينا و لا تستغني بغيره عنه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن نے ان کو عبدالواحد بن بکر ورثانی نے ان کو احمد بن علی برذعی نے انہوں نے سنا طاہر بن اسماعیل رازی سے انہوں نے سنا یحییٰ بن معاذ سے وہ کہتے ہیں کہ محبت کی حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے محبوب کے سوا کسی شئی کو نہ دیکھیں اور اس کے ماسوا نہ اپنا مددگار سمجھیں یہ معین سمجھیں اور مخلوق کی طرف دیکھ کر (اس محبوب حقیقی اللہ) سے اپنے آپ کو مستغنی نہ سمجھیں۔

يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← طَاهِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيَّ ← أحمد بن علي البرذعي ← عبد الواحد بن بكر الورثاني ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Hadith 423

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 424

423 - أخبرنا أبو سعيد الماليني قال : سمعت أبا القاسم عمر بن أحمد بن محمد البغدادي بشيراز يقول : سمعت أبا الحسن علي بن محمد الواعظ يقول سمعت أبا سعيد الخزاز يقول : ـ { هل جزاء الإحسان إلا الإحسان } هل جزاء من انقطع عن نفسه إلا التعلق بربه ؟ و هل جزاء من انقطع عن أنس المخلوقين إلا الأنس برب العالمين ؟ و هل جزاء من صبر علينا إلا الوصول إلينا و من وصل إلينا هل يجمل به أن يختار علينا ؟ و هل جزاء التعب في الدنيا و النصب فيها إلا الراحة في الآخرة ؟ و هل جزاء من صبر على البلوى إلا التقرب إلى المولى ؟ و هل جزاء من سلم قلبه إلينا أن نجعل توليته إلى غيرنا ؟ و هل جزاء من بعد عن الخلق إلا التقرب إلى الحق

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے انہوں نے سنا ابو القاسم عمر بن احمد بن محمد بغدادی سے شیراز میں کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو الحسن علی بن محمد واعظ سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے تھے کہ : "ھل جزا ء الا حسان الا الاحسان (الرحمٰن 60) نیکی کا بدلہ نیکی ہو سکتا ہے۔ (جب یہ حقیقت ہے تو پھر بتائیے ) کہ جو شخص اپنی ذات سے بھی تعلق منقطع کر لے کیا اس کا بدلہ اس کے رب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے؟ جو شخص ہمارے اوپر صبر کر لے اس کی جزا ہمارا وصل ہے ۔ اور جو شخص ہم سے واصل ہو جائے کیا اس کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ ہمارے اوپر کسی اور کو ترجیح دے۔ کیا دنیا میں مشقت اور تکلیف اٹھانے کی جزا آخرت میں راحت کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ جو شخص مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرتا رہا تو کیا اس کی جزا مولیٰ کے تقرب کے علاوہ کوئی اور ہو سکتی ہے؟ وہ شخص جس نے اپنا دل ہمارے حوالے کر دیا تھا کیا اسے ہم اپنے سوا کسی غیر کے حوالے کر سکتے ہیں؟ وہ شخص جو مخلوقو سے دور ہو گیا اس کی جزا تقرب الی اللہ کے سوا کچھ نہیں۔

هل جزاء من انقطع ← أَبَا سَعِيدٍ الْخَزَّازَ، ← أبا الحسن علي بن محمد الواعظ ← أبا القاسم عمر بن أحمد بن محمد البغدادي ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 424

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 425

424 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول سمعت أبا بكر الرازي يقول سمعت يوسف بن الحسين يقول : سئل ذو النون المصري رحمه الله عن معنى قوله عز و جل : { هل جزاء الإحسان إلا الإحسان } قال : معناها هل جزاء من أحسنت إليه إلا أن أحفظ إحساني عليه فيكون إحسانا إلى إحسان

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے انہوں نے سنا ابو بکر رازی سے انہوں نے یوسف بن حسین سے کہتے ہیں کہ ذوالنون مصری سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا: " ھل جزا ء الا حسان الا الاحسان " (الرحمٰن 60) نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔ کا مطلب ہے کہ میں نے جس جس پر احسان کیا ہے اس کی جزا اور بدلہ یہی ہے کہ میں اپنے احسان کی حفاظت کروں جو کوئی کسی سے احسان کرے گا وہ احسان کے بدلے میں احسان ہو گا یا یہ مطلب ہے کہ جس پر تو احسان کرے تمہیں چاہیے کہ وہ اپنے اوپر میرے احسان کو بھی یاد کر لو اس طرح نیکی اور احسان کا بدلہ نیکی اور احسان ہو گا۔

معنى قوله عز و جل هل جزاء الإحسان إلا الإحسان ← سئل ذو النون المصري ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبا بكر الرازي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Hadith 425

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 426

425 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن محمد الحبيبي بمرو أخبرني محمد بن عبد الله الجوهري ثنا الفيض بن إسحاق أخبرني عبد الله بن أبي عيسى قال : كان رجل من أهل البصرة يقال له ضيغم تعبد قائما حتى أقعد ثم تعبد قائما حتى استلقى ثم تعبد و هو مستلقي حتى أفحم فلما أجهد قال : اجلسوني فرفع بصره إلى السماء فقال : سبحانك عجبا للخليقة كيف أنست بأحد سواك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد بمیبی نے مقام مرو میں ان کو محمد بن عبداللہ جوہری نے ان کو فیض بن اسحاق نے ان کو عبداللہ بن ابو عیسیٰ نے کہتے ہیں کہ اہل بصرہ میں سے ایک آدمی تھا ضیغم کہلاتا تھا کھڑے کھڑے عبادت کرتا رہا حتیٰ کہ بیٹھ گیا (یعنی قیام کے قابل نہ رہا) پھر بیٹھ کر عبادت کرتا رہا حتیٰ کہ لیٹ گیا (یعنی بیٹھنے کے قابل جب نہ رہا پھر لیٹے لیٹے عبادت کرتا رہا یہاں تک کہ خوب رویا (یا جب سخت مشقتوں میں پڑ گیا اٹھنے کے قابل بھی نہ رہا تو) لیٹنا بھی مشکل ہو گیا تو کہا کہ مجھے اٹھا کر بیٹھاؤ (بیٹھ کر) اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور کہنے لگا: "سبحانک عجبا للخلیقۃ کیف انست باحد سواک " مخلوق پر حیران ہو ں کہ تیرے سوا کسی ایک کے ساتھ کیسے انس و محبت کرتی ہے۔

عبد الله بن أبي عيسى ← الْفَيْضُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← محمد بن عبد الله الجوهري ← علي بن محمد الحبيبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 426

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 427

426 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الحناط ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا جذيمة وهب بن أبي حافظ الليثي قال : قال راهب من الرهبان : إذا استقرت المحبة في القلب ذهل عن الأهل و الولد قال و حدثنا أحمد قال : سمعت راهبا في دير خلد يقول للحسن بن شوذب : لا يكون المحب لله عز و جل محبا حتى يحبه بكل الكل فصاح الحسن بن شوذب قال و حدثنا أحمد قال : سمعت مضاء بن عيسى يقول : حب الله يلهمك العمل له بلا دليل يلجئك إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو عثمان حناط نے ان کو احمد بن بی حواری نے انہوں نے سنا ابو جذیمہ وھب بن ا بی حافظ لیثی سے انہوں نے کہا کہ راھبوں میں سے ایک راہب نے کہا تھا کہ جب اللہ کی محبت دل میں جگہ بنا لیتی ہے تو انسان اہل و عیال و اولاد کو بھول جاتا ہے۔ اور حافظ لیثی کہتے ہیں کہ ہمیں بات بتائی احمد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے مقام خلد کے گرجے میں ایک راہب سےسنا وہ حسن بن شوذب سے کہہ رہے تھے۔ کہ اللہ سے محبت کرنے والا محبت کرنے والا نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اس سے محبت کرے پوری پوری چنانچہ حسن بن شوذب کی چیخ نکل گئی۔ حافظ لیثی کہتے ہیں کہ مجھے بات بتائی احمد نے انہوں نے کہا میں نے سنا مضاء بن عیسیٰ سے کہتے تھے ۔ کہ اللہ کی محبت تیرے دل میں اللہ کے لئے عمل کو خود الہام کرے گی بغیر دلیل کے، تجھے اس کی طرف مجبو رکرنے لگی۔

أَبَا جَذِيمَةَ وَهْبَ بْنَ أَبِي حَافَظَ اللَّيْثِيَّ ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 427

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 428

427 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو عمرو بن السماك ثنا جعفر محمد الرازي أبو يحيى ثنا محمد بن عبد العزيز بن غزوان المروزي ابن أبي رزمة ثنا إبراهيم بن محمد بن إسماعيل الكوفي عن حبيب بن أبي العالية عن مجاهد عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : { هل جزاء الإحسان إلا الإحسان } قال : ما جزاء من أنعمت عليه بالتوحيد إلا الجنة قال البيهقي رحمه الله : تفرد به إبراهيم بن محمد الكوفي هذا و هو منكر و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے ان کو ابو عمر و بن سماک نے ان کو جعفر بن محمد رازی نے ابو یحیٰٰ نے ان کو محمد بن عبدالعزیز بن غزوان مروزی نے یعنی ابن رزمہ نے ان کو ابراہیم بن محمد بن اسماعیل کوفی نے حبیب بن ابو العالیہ سے انہوں نے مجاہد سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "ھل جزاء الا حسان الا الاحسان " (الرحمٰن60) مطلب ہے کہ جس پر میں توحید کا انعام کیا اس کی جزا جنت ہی ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؟ اس روایت کے ساتھ ابراہیم بن محمد کوفی اکیلا ہے اس میں وہ متفرد بھی ہے اور وہ منکر بھی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← حَبِيبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ ← إبراهيم بن محمد بن إسماعيل الكوفي ← محمد بن عبد العزيز بن غزوان المروزي ابن أبي رزمة ← جعفر محمد الرازي أبو يحيى ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 428

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 429

428 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه ثنا عبد الله اليشكري قال : سمعت الفيض بن إسحاق يقول قال : الفضيل بن عياض قال : حكيم من الحكماء : إني لأستحي من ربي أن أعبده رجاء للجنة فقط فأكون مثل أجير السوء إن أعطي عمل و إن لم يعط لم يعمل و لكن حبه يستخرج مني ما لا يستخرجه غيره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوا لنضر محمد بن محمد بن یوسف فقیہ نے ان کو فضل بن عبداللہ یشکری نے انہوں نے سنا فیض بن اسحٰق سے کہتے ہیں انہوں نے کہا فضیل بن عیاض نے فلسفیوں میں سے ایک فلسفی نے کہا مجھے شر م آتی ہے کہ میں فقط جنت کی لالچ میں اپنے رب کی عبادت کروں تو میری مثال اس برے مزدور کی سی ہو جائے گی کہ جس کو کچھ دیا جائے تو کام کرے نہ ملے تو کام بھی نہ کرے لیکن اس کی محبت مجھ سے وہ نکلوا سکتی ہے جو اور کوئی چیزنہیں نکلوا سکتی۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْفَيْضُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← عبد الله اليشكري ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 429

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 430

429 - حدثنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني ثنا أبو الفضل عبيد الله بن عبد الرحمن الزهري ثنا أبو عمرو الدقيقي ثنا محمد بن أحمد بن المهدي يقول سمعت علي بن الموفق ما لا أحصيه يقول : اللهم إن كنت تعلم أني أعبدك خوفا من نارك فعذبني بها و إن كنت تعلم أني أعبدك حبا مني لجنتك و شوقا إليها فاحرمنيها و إن كنت تعلم أني إنما أعبدك حبا مني و شوقا إلى وجهك الكريم فأبحنيه مرة و اصنع ما شئت

ہمیں حدیث بیان کی ہے او سعد احمد بن محمد مالینی نے ان کو ابوالفضل عبداللہ بن عبدالرحمٰن زہری نے ان کو ابو عمر دقیقی نے ان کو محمد بن احمد بن مہدی نے کہتے ہیں کہ میں نے علی بن موفق سے سنا جسے میں پورا پورا محفوظ نہیں کر سکا کہتے تھے۔ اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری عبادت تیری جہنم کے خوف سے کرتا ہوں تو تو مجھے جہنم میں عذاب دیجو۔ اور اگر آپ جانتے ہیں کہ تیری عبادت تیری جنت کے ساتھ میری محبت اور اس کے شوق کے لئے ہے تو تو مجھے جنت سے محروم کر دیجو۔ اور اگر آپ جانتے ہیں کہ میں تیری عبادت میری طرف سے تیری محبت اور تیرے وجہ کریم کی زیارت اور دیدار کے شوق میں ہے تو اسے ایک بار میرے لئے جائز اور ممکن بنا دینا اس کے بعد جو تو چاہے سو کرنا۔

علي بن الموفق ما لا أحصيه ← محمد بن أحمد بن المهدي ← أبو عمرو الدقيقي ← أَبُو الْفَضْلِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ ← أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 430

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 431

430 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله القرشي بالساوة ثنا أبو العباس بن مسروق الزاهد حدثني محمد بن معاذ حدثني حكيم بن جعفر قال : قال ضيغم الحلاب : إن حبه شغل قلوب مريديه عن التلذذ بمحب غيره فليس لهم في الدنيا مع حبه لذة و لا يأملون في الآخر من كرامته الثواب أكثر عندهم من النظر إلى وجهه الكريم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ قریشی نے مقام ساوہ میں ان کو ابو العباس بن مسروق زاہد نے ان کو محمد بن معاذ نے ان کو حکیم بن جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ ضیغم بن حلاب نے کہا تھا کہ۔ بے شک اللہ کی محبت نے اللہ والوں کے دلوں کو دنیا کی لذتوں سے مصروف مشغول اور بے خبر کر دیا ہے لہذا ان کے لئے دنیا میں اللہ کی محبت کے ساتھ کسی شے کی کوئی لذت نہیں ہے اور آخرت میں ثواب کے برعکس ان کے نزدیک وجد کریم کے دیدار یعنی اللہ تعالیٰ کے چہرے انور و اقدس کی طرف نظر کرنے کی آرزو کے علاوہ کوئی آرزو نہیں ہے۔

ضيغم الحلاب إن حبه شغل قلوب مريديه ← حَكِيمُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أبو العباس بن مسروق الزاهد ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله القرشي بالساوة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 431

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 432

431 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني قال : سمعت أبا عمرو محمد بن محمد النجاد الزاهد يقول سمعت عبد الرحمن بن عبد ربه يقول قال ذو النون : من قتلته عبادته فديته جنته و من قتله حبه فديته النظر إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو عمر محمد بن محمد نجاد زاہد نے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبدربہ سے کہتے تھے کہ ذوالنون مصری نے کہا تھا کہ جس کو اللہ کی عبادت نے قتل کیا ہے اس کا خون بہا اس کی جنت ہے اور جس کو اس کی محبت نے قتل کیا اس کا فدیہ اور بدلہ اس کی طرف دیکھتا ہے۔

عبد الرحمن بن عبد ربه ← أبا عمرو محمد بن محمد النجاد الزاهد ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Hadith 432

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood