شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 409
408 - أخبرنا أبو محمد جعفر بن محمد بن الحسين الأبهري الصوفي بهمدان ثنا أبو الحسن علي بن عمر بن محمد بن الحسن بن شاذان الصوفي ثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار ثنا يحيى بن معين ثنا هشام بن يوسف عن عبد الله بن سليمان النوفلي عن محمد بن علي يعني ابن عبد الله بن عباس و عن أبيه عن عبد الله بن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحبوا الله لما يغذوكم به من النعمة و أحبوني لحب الله و احبوا أهل بيتي لحبي قال الحليمي : رحمه الله : و هذا يحتمل أن يكون عامة أنعمه كلها و أن يكون اسم الغذاء في الطعام و الشارب حقيقة و لما عداهما من التوفيق و الهداية و نصب أعلام هذه المعرفة و خلو الحواس و العقل مجازا أو يكون جميع ذلك بالاسم مرادا فقد جاء عنه صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن فيه فقد وجد حلاوة الإيمان و في بعض الروايات طعم الإيمان و إنما يكون الطعم للأغذية و ما يجري مجراها فإذا جاز وصف الإيمان بالطعم جازت تسميته غذاء فيدخل الإيمان في جميع نعم الله عز و جل في هذا الحديث و الله أعلم
ہمیں خبر دی ہے ابو محمد جعفر بن محمد بن حسن ابھری صوفی نے ہمدان میں ان کو ابو الحسن علی بن عمر بن محمد بن حسن بن شاذان صوفی نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو ہشام بن یوسف نے ان کو عبداللہ بن سلیمان نوفلی نے ان کو محمد بن علی یعنی ابن عبداللہ بن عباس نے ان کو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کہ تم اللہ سے محبت کرو اس لئے کہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں کا (رزق دیتا ہے) اپنی نعمتیں کھلاتا ہے اور مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کے لئے اور میرے گھر والوں سے محبت کرو میری محبت کی وجہ سے۔ شیخ حلیمی کا قول: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ حدیث احتمال رکھتی ہے کہ تمام نعمتوں کے لئے عام ہو اور اس حدیث میں مذکور لفظ غذا حقیقۃ طعام اور پہننے کی چیز کا نام ہو اور یہی مراد ہو۔ اور ان کے علاوہ توفیق عطا ہونا، ہدایت ملنا۔ اور اس معرفت کے اسباب میسر ہونا اور عقل و حواس کا صحیح و سالم ہونا یہ سب چیزیں مجاز الفظ عذا سے مراد ہوں۔ یا یہ تمام مذکورہ چیزیں اور امور لفظ اور غذا کے نام سے یہی مراد ہوں۔ اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث آئی ہے کہ تین باتیں جس انسان میں آ جائیں وہ ایمان کی حلاوت کو پا لیتا ہے اور بعض روایات میں حلاوت کی جگہ طعم و الایمان آ یا ہے یعنی ایمان کا ذائقہ اور مزہ پا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذائقہ اور مزہ غذاؤں کا ہوتا ہے یا ان چیزوں کا جو غذاؤں کا قائم مقام ہو تی ہیں۔ جب یہ جائز ہے کہ ایمان کی وصف طعم اور ذائقہ کے ساتھ لائی جائے تو یہ بھی جائز ہے کہ ایمان کو غذا کے نام سے موسوم کیا جائے (جب ایمان غذا قرار پا جائے تو پھر) یہ ایمان اللہ تعالیٰ کی دیگر ان تمام نعمتوں میں داخل ہو جائے گا جو اس حدیث میں مذکور ہیں۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← محمد بن علي يعني ابن عبد الله بن عباس و ← عبد الله بن سليمان النوفلي ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو الحسن علي بن عمر بن محمد بن الحسن بن شاذان الصوفي ← أبو محمد جعفر بن محمد بن الحسين الأبهري الصوفي بهمدان
Hadith 409
