Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 389

388 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس المالكي بمكة ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو عبيد القاسم بن سلام ثنا الأشجعي عن يحيى بن عبيد الله المديني عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : ما رأيت مثل النار نام هاربها و لا رأيت مثل الجنة نام طالبها

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے، ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن فراس مالکی نے، اس کو علی بن عبدالعزیز نے، ان کو ابو القاسم بن سلام نے، ان کو اشجعی نے یحییٰ بن عبیداللہ مدینی سے، اس نے اپنے باپ سے ، اس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا غفلت کی نیند سو رہا ہو۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيِّ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو إسحاق إبراهيم بن فراس المالكي بمكة، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 389

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 390

389 - أخبرنا أبو عبد الله أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي ثنا محمد بن صابر قال : قلت لأبي شيبة بن أبي بكر بن أبي شيبة أحدثك عبد الرحمن بن شريك ثنا أبي عن محمد الأنصاري و السدي عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما رأيت مثل الجنة نام طالبها و لا رأيت مثل النار نام هاربها ؟ فأقر به و قال نعم و روي ذلك أيضا عن عاصم عن زر عن عبد الله بن مسعود مرفوعا و روي عنه موقوفا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے ، ان کو محمد بن صابر نے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو شیبہ بن ابو بکر بن ابو شیبہ سے کہا کیا آپ کو عبدالرحمٰن بن شریک نے حدیث بیان کی ہے؟ اس نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے ان کو محمد انصاری نے ، ان کو سدی نے، ان کو ان کے والد نے ، ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : می نے جنت جیسی کوئی شے نہیں دیکھی جس کا طالب سوتا رہے اور نہ ہی میں نے جہنم جیسی کوئی چیز دیکھی ہے جس سے دور بھاگنے والا بھی غفلت کی نیند سو تا رہے۔ بس آپ نے اس کا اقرار کیا اور فرمایا کہ ہاں۔ اور یہی حدیث عاصم سے مروی ہے ۔ ان کو ذر نے ،ان کو عبداللہ بن مسعود نے مرفوعا بیان کی اور انہیں سے مرفوعا بھی مروی ہے۔

محمد بن صابر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 390

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 391

390 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر محمد بن عبد الله ابن بنت العباس بن حمزة يقول : سمعت جبيرا يقول سمعت أحمد بن حنبل يقول : سبحانك ما أغفل هذا الخلق عما أمامهم ! الخائف منهم مقصر و الراجي منهم متوان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن عبداللہ عباس بن حمزہ کے نواسے سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا جبیر سے ، انہوں نے سنا احمد بن حنبل سے وہ کہتے تھے اللہ تعا لیٰ تو پاک ہے ، مخلوق کو اس چیز سے کس نے غافل کر دیا ہے۔ ان امور سےجو ان کے آگے ہیں ان سے ڈرنے والا کوتاہی کرتا ہے اور ان کی امید رکھنے والا کاہل ہے۔

أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← جبيرا ← أبا بكر محمد بن عبد الله ابن بنت العباس بن حمزة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 391

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 392

391 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن علي بن عبد الرحمن الساوي بها أنا أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي ثنا إسحاق الحربي ثنا سليم بن منصور بن عمار حدثني أبي ثنا الهقل بن زياد عن الأوزاعي عن بلال بن سعد قال : تنادي النار يوم القيامة بأربعة : يا نار خذي يا نار أنضجي يا نار انتفي يا نار كلي و لا تقتلي قال البيهقي رحمه الله : و قد ذكرنا في كتاب البعث و النشور في صفة الجنة و النار من الكتاب و السنة و الآثار ما نكتفي به و مما يحق معرفته في قول الله عز و جل : { كلما نضجت جلودهم بدلناهم جلودا غيرها ليذوقوا العذاب }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن بن علی بن عبدالرحمٰن ساوی نے ، ان کو احمد بن جعفر بن حمدان قطیعی نے، ان کو اسحٰق حربی نے، ان کو سلیم بن عمار نے ، ان کو ان کے باپ نے، ان کو صقل بن زیاد نے، ان کو اوزاعی نے، ان کو بلال بن سعد نے، وہ کہتے ہیں قیامت کے دن جہنم کو چار پکاریں لگیں گی۔ اے آگ پکڑ لے ، اے آگ جلا دے، اے آگ ختم ہو جا۔ اے آگ کھا جا، مگر اے آگ ہلاک نہ کر۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ ہم نے کتاب البعث والنشور میں جنت اور جہنم کی صفت کے بارے میں کتاب و سنت میں سے اور ارشاد میں سے جو کچھ ذکر کر دیا ہے اس پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔ اس بات کا بیان کہ جب اہل جہنم کے چمڑے جل جائیں گے دوسرے بدل دئیے جائیں گے اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان کے بارے میں جس کی توضیح کی معرفت ضروری ہے وہ درج ذیل ہے: "کلما نضجت جلو دھم بدلنا ھم جلو دا ً غیرھا لیذوق العذاب " (النساء 56) جب بھی اہل جہنم کے چمڑے جل جائیں گے ، ہم ان کے چمڑے بدل دیں گے تاکہ (زیادہ سے زیادہ) عذاب چکھتے رہیں۔

بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبِي ← سليم بن منصور بن عمار، ← إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّاوِيُّ بها،

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 392

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 393

392 - ما أخبرناه أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمر الزاهد أنا ثعلب عن سلمة عن الفراء قال : يقال أبدلت الخاتم بالحلقة إذا نحيت هذا و جعلت هذا مكانه و بدلت الحلقة بالخاتم إذا أذبتها و جعلتها خاتما قال ثعلب و حقيقة بدلت إذا غيرت الصورة إلى صورة غيرها و الجوهرة بعينها أبدلت إذا نحيت الجوهرة و جعلت مكانها جوهرة أخرى قال أبو عمر فعرضت هذا الكلام على محمد بن يزيد المبرد فاستحسنه و قال لي : قد بقيت فيه فاصلة أخرى قلت : و ما هي ؟ ـ أعزك الله ـ قال : هي أن العرب قد جعلت بدلت بمعنى أبدلت وهو قول الله عز و جل : { فأولئك يبدل الله سيئاتهم حسنات } ألا ترى أنه تعالى قد أزال السيئات و جعل مكانها الحسنات و أما ما شرط أحمد بن يحيى و هو ثعلب و هو بمعنى قوله عز و جل : { كلما نضجت جلودهم بدلناهم جلودا غيرها } قال : فهذه في الجوهرة و تبديلها تغيير صورتها إلى غيرها لأنها كانت ناعمة فاسودت بالعذاب فردت صورة جلودهم الأولى لما نضجت تلك الصورة و الجوهرة واحدة و الصور مختلفة قال البيهقي رحمه الله : و روينا في كتاب البعث عن الحسن البصري أنه قال في هذه الآية : تأكلهم النار كل يوم سبعين ألف مرة كلما أكلتهم قيل لهم عودوا فيعودون كما كانوا

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو عمر زاہد نے،ا ن کو ثعلب نے، ان کو سلمہ نے، ان کو فراء (نحوی) نے کہ عربی محاورے میں یوں کہا جاتا ہے: ابدلت الخاتم بالحلقۃ " میں نے انگوٹھی کو کڑے سے یعنی رنگ سے بدل دیا ہے۔ یہ اس وقت کہتے ہیں جب اسے گھڑ کر انگوٹھی کی جگہ حلقہ بنا لیں۔ (اس محاورے میں ابدلت ابدال سے یعنی باب افعال سے ہے) اور دوسرا محاورہ یوں ہے: " بدلت الحلقۃ بہ الخاتم " میں نے حلقے کو انگوٹھی سے تبدیل کر لیا ہے۔ یہ اس وقت کہتے ہیں جب آپ رنگ اور حلقے کو پگھلا کر انگوٹھی بنا لیں۔ یہ فراء نحوی کی تحقیق تھی۔ اس دوسرے محاورے میں بدلت تبدیل سے یعنی باب تفصیل سے ہے ۔ اور ثعلب نے کہا کہ بدلت کی یعنی تبدیل کی حقیقت یہ ہے کہ جس وقت آپ کسی شے کی شکل و صورت کو دوسری شکل و صورت سے متغیر کر لیں اور بدل لیں جبکہ اس کا اصل جوہر بعینہ رد ہے اور ابدلت کی یعنی ابدال کی حقیقت یہ ہے کہ جب آپ اصل جوہر کو گھڑ کر اس کی جگہ دوسرا جوہر کر دیں۔ ابو عمر نے کہا کہ میں نے یہ کلام محمد بن یزید مبرد (نحوی) پر پیش کیا۔ انہوں نے اس کی تحسین کی اور مجھ سے کہا کہ اس میں ایک دوسرا فاصلہ باقی رہ گیا ہے۔ میں نے کہا وہ کیا ہے؟ اللہ آپ کو عزت دے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ ہے کہ عربوں نے ایک بدلت کو بمعنی ابدلت کیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول اسی معنی میں ہے۔ "فاولئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات " (الفرقان 70) بس وہی لوگ ہیں اللہ نے جن کی سیئات کو حسنات سے بدل دیا ہے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سیئات کا ازالہ کر کے اور ہٹا کر کرے اس کی جگہ حسنات کو کر دیا ہے۔ بہر حال احمد بن یحییٰ یعنی ثعلب نے جو شرط لگائی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے معنی میں ہے: "کلما نضجت جلودھم بدلنا ھم جلوداً غیرھا " (النساء 56) جب بھی ان کے چمڑے جل جائیں گے ہم ان کے چمڑے دوسرے تبدیل کر دیں گے۔ مبرد نے کہا ، یہ تو اہل جوہر میں ہے اور ان کی تبدیلی ان کی شکل و صورت کو دوسری میں بدلنا ہے۔ اس لئے کہ جلد ترو تازہ تھی اور عذاب کے ساتھ سیاہ ہو گئی۔ لہذا ان کے چمڑوں کی پہلی صورت واپس لوٹا دی جائے گی جب بھی یہ صورت جلے گی ۔ اور اصل جوہر ایک رہے گا اور شکلیں مخلتف ہوں گے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کتاب البعث میں حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جہنمیوں کو آگ ہر دن ستر ہزار مرتبہ کھا جائے گی۔ جب بھی انہیں کھا لے گی ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ آؤ، لہذا وہ لوٹ آئیں گے جیسے کہ پہلے تھے۔

الْفِرَاءِ ← سَلَمَةَ، ← ثعلب. ← أبو عمر الزَّاهد، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← مَا

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 393

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 394

393 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عيسى بن حامد القاضي ثنا حامد بن شعيب ثنا سريج بن يونس ثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن بن صالح عن هارون بن سعد عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ضرس الكافر في النار مثل أحد و غلض جلده مسيرة ثلاث رواه مسلم في الصحيح عن سريج بن يونس و روينا في كتاب البعث عن المقدام عن النبي صلى الله عليه و سلم في الكافر قال : يعظم للنار حتى يصير جلده أربعين باعا و حتى يصير نابا من أنيابه مثل أحد و روينا غير ذلك من أحب علمه رجع إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عیسیٰ بن حامد قاضی نے ان کو حامد بن شعیب نے ان کو سریج بن یونس نے ، ان کو حمید بن عبدالرحمٰن نے، ان کو حسن بن صالح نے، ان کو ھارون بن سعد نے، ان کو حازم نے ، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں کافر کی ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو گی اور اس کی جلد کی موٹائ تین رات کے سفر کے برابر ہو گی۔ اس کو مسلم نے صحیح میں سریج بن یونس سے روایت کیا ہے۔ اور ہم نے کتاب البعث میں مقدام سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ : کافر آگ کے لئے بڑا ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کی جلد چالیس ہاتھ ہو جائے گی اور اس کی داڑھوں میں سے ایک داڑھ یا دانتوں میں سے ایک دانت احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی۔ اور ہم نے اس کے سواء روایت کی ہے جو شخص جس کے علم کو پسند کرتا ہے اسی کی طرف رجوع کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ ← عيسى بن حامد القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 394

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 395

394 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه إملاء ثنا أبو بكر محمد بن إبراهيم مربع الحافظ ببغداد ثنا يحيى بن معين ثنا مروان بن معاوية الفزاري ثنا الفضل بن يزيد الثمالي عن ابن العجلان المحاربي قال : سمعت عبد الله بن عمر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الكافر ليجر لسانه فرسخين يوم القيامة يتوطأه الناس

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے بطور املاء کے، ان کو ابو بکر محمد بن ابراہیم مربع حافظ نے بغداد میں، ان کو یحییٰ بن معین نے، ان کو مروان بن معاویہ فزاری نے ، ان کو فضل بن یزید شمالی نے، ان کو عجلان محاربی نے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کافر قیامت کے دن اپنی زبان کو دو فرسخ تک گھسیٹے گا اور لوگ اس کو روندتے جائیں گے۔ فصل:۔۔۔۔ عذاب قبر کی بحث آخرت میں ہر ایک کو عذاب ہو گا، خواہ وہ کافر ہو یا مؤمن (ہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کو عذاب نہیں ہو گا)۔ کس کو عذاب ہو گا؟ اور کس کونہیں ہو گا؟ اس میں فرق اور تمیز اس وقت ہو گی: (1)۔۔ جب فرشتے اس کی روح کو قبض کرنے کےلئے اس پر اتریں گے۔ (2)۔۔۔۔ اور قبض کرنے کی حالت میں۔ (3)۔۔۔ اور اس مقام اور جگہ میں جس کی طرف اس کی روح لے جائی جاتی ہے یا جہان جا کر رہتی ہے۔ (4)۔۔۔ اور دفن کے بعد۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (1)۔۔۔ ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقامو ا الخ (فصلت 30) اہل ایمان و اہل استقامت سے بوقت موت فرشتوں کی بشارت اور تسلی تحقیق جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے ، پھر اسی پر قائم رہے۔ ان پر اترتے ہیں فرشتے کہ تم مت ڈرو اور نہ غم کھاؤ اور خوشخبری سنو اس بہشت کی جس کا تم سے وعدہ تھا۔ ہم میں تمہاری رفیق دنیا میں اور آخرت میں اور تمہارے لئے وہاں ہے جو چاہے جی تمہارا اور تمہارے لئے وہاں ہے جو کچھ مانگو۔ مہربانی ہے اس بخشنے والے مہربان کی طرف سے۔ مجاہد کا قول: حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ (مذکورہ بات ہو گی) موت کے وقت۔ کفار کو روح قبض کرتے وقت فرشتے مارتے ہیں اور آگ کے عذاب کی دھمکی دیتے ہیں (2) ۔۔۔ اور کفار کے بارے میں فرمایا: "ولو تریٰ اذا الظالمون فی غمرات الموت والملائکۃ باسطو ا ایدیھم " (الانعام 93 الایۃ) اگر تو دیکھے جس وقت ظالموں کو موت کی سختیوں میں اور فرشتے ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں آج تم کو بدلے میں ملے گا ذلت کا عذاب اس واسطے کہ تم کہتے تھے اللہ پر جھوٹی باتیں۔ اور اس کی آیات سے تکبر کرتے تھے۔ یہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کفار پر ان کے ارواح کو کھینچنے اور ان کے نفس کو نکالنے کے وقت ان پر سخت ڈانٹ پڑتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ذلت اور شدید عذاب کے لئے جا رہے ہیں اور ایسے میں مومنوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں بشارت دی جاتی ہے کہ وہ امن اور دائمی نعمتوں پر آئے ہیں۔ دنیاوی اور اخروی زندگی میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو مضبوط کرتا ہے (4)۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: " یثبت اللہ الذین امنو ا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ ویضل اللہ الظالمین ویفصل اللہ مایشاء " (ابراہیم 27) مضبوط کر تا ہے اللہ ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور بچلا دیتا ہے اللہ بے انصافوں کو اور کرتا ہے اللہ جو چاہے۔ (1)۔۔ہم نے حضرت براء بن عازب سے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آیت مؤمن کے بارے میں ہے، جب قبر میں اس سے سوال ہو گا۔ (2)۔۔۔ اور اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی مروی ہے۔ (3)۔۔۔ اور اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر میں بھی آیا ہے۔ (5)۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : "وحاق بال فرعون سوءالعذاب النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا ویوم تقوم الساعۃ ادخلو ا اٰل فرعون اشدا العذاب (غافر 45) اور الٹ پڑا فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب ۔ وہ آگ ہے کہ دکھلا دیتے ہیں ان کو صبح و شام اور جس دن قائم ہو گی قیامت۔ حکم ہو گا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ صبح و شام ان کو عذاب دکھلاتے ہیں ۔ یعنی جب تک دنیا قائم ہے ۔ اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ان کے کہا جاتا ہے اے آل فرعون۔ یہ ہیں تمہارے ٹھکانے ، یہ ان کو بطور ڈانٹ کے بطور ذلت کے بطور ناراضگی اور غصے کے کہا جاتا ہے۔ (6)۔ اور اللہ تعالیٰ منافقوں کے بارے میں فرماتے ہیں: "سنعذبھم مرتین ثم یردون الیٰ عذاب عظیم " (توبہ) ان کو ہم عذاب دیں گے دوبار ہ پھر وہ لوٹا ئے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ایک عذا ب تو قبر میں ہو گا اور دوسرا عذاب جہنم میں۔ (7) ۔ اور جو شخص اللہ کے ذکر (یعنی قرآن) سے اعراض کرے گا اس کے بارے میں فرماتے ہیں: "ومن اعرض عن ذکری فانہ لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی (طٰہٰ 124) جس نے منہ پھیر ا میری یاد سے ( یا میرے قرآن سے) تو اس کو ملنی ہے گذر ان تنگی کی اور لائیں گے ہم اس کو قیامت کے اندھا اور وہ کہے گا اے میرے رب اٹھا لایا تو مجھے اندھا اور میں تو تھا دیکھنے والا۔ اور ہم نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مرفوع اور ان دونوں تک موقوف دونوں طرح کی روایت کی ہے اور پھر اسی طرح حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں کا قول روایت کیا ہے کہ یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں ہے۔ اور ہم نے حضرت عطاء سے روایت کی ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں: "(8)۔ اذا لا ذقنک ضعف الحیوات وضعف الممات "(الاسراء 75)تب تو ضرور چکھاتے ہم تجھ کو دو نامزہ زندگی میں اور دو نا مزہ مرنے میں۔ عطاء نے فرمایا ضعف الممات ، عذاب قبر ہے۔ اور ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں روایت کی ہے۔ (9)۔ "وان للذین ظلمو ا عذابا دون ذالک " اور بے شک ظالموں کے لئے ایک اور عذاب ہے اس عذاب کے سوا۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ، یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے۔ اس باب میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ہم نے انہیں کتاب عذاب القبر میں ذکر کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے اب یہاں انکو مکمل ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن کچھ مقدار ذکر کر دیتےہیں جس سے اس باب کا مقصود واضح ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← ابن العجلان المحاربي ← الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ الثُّمَالِيِّ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أبو بكر محمد بن إبراهيم مربع الحافظ ببغداد ← أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه إملاء، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 395

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في عذاب القبر ـ · حديث 396

395 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا سعدان بن نصر ثنا أبو معاوية الضرير ثنا الأعمش عن المنهال بن عمرو عن زاذان أبي عمر عن البراء بن عازب قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة رجل من الأنصار فانتهينا إلى القبر و لما يلحد قال : فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم و جلسنا حوله كان على رؤوسنا الطير و في يده عود ينكت به قال : فرفع رأسه و قال : استعيذوا بالله من عذاب القبر فإن الرجل المؤمن إذا كان في انقطاع من الدنيا و إقبال من الآخرة نزل إليه ملائكة من السماء بيض الوجوه و كأن وجوههم الشمس معهم حنوط من حنوط الجنة و كفن من كفن الجنة حتى يجلسوا منه مد البصر ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول : أيتها النفس الطيبة ! اخرجي إلى مغفرة من الله و رضوان قال فتخرج نفسه فتسيل كما تسيل القطرة من فم السقاء فيأخذها فإذا أخذها لم يدعها في يده طرفة عين حتى يأخذها فيجعلها في ذلك الكفن و في ذلك الحنوط و تخرج منها كأطيب نفحة ريح مسك وجدت على ظهر الأرض فلا يمرون بملأ من الملائكة إلا قالوا : ما هذه الريح الطيبة ! فيقولون فلان بن فلان ! بأحسن أسمائه الذي كان يسمى بها في الدنيا حتى ينتهي بها إلى السماء الدنيا فيفتح له فيشيعه من كل سماء مقربوها إلى السماء التي تليها حتى ينتهي بها إلى السماء السابعة فيقول الله عز و جل اكتبوا عبدي في عليين في السماء السابعة و أعيدوه إلى الأرض فإني منها خلقتهم و فيها أعيدهم و منها أخرجهم تارة أخرى فتعاد روحه في جسده فيأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان : من ربك ؟ فيقول : ربي الله فيقولان : و ما دينك ؟ فيقول : ديني الإسلام فيقولان : ما هذا الرجل الذي بعث فيكم ؟ فيقول هو رسول الله صلى الله عليه و سلم فيقولان و ما يدريك فيقول : قرأت كتاب الله عز و جل فآمنت به و صدقت قال : فينادي مناد من السماء أن صدق عبدي فافرشوه من الجنة و البسوه من الجنة و افتحوا له بابا من الجنة فيأتيه من روحها و طيبها و يفسح له في قبره مد بصره و يأتيه رجل حسن الوجه طيب الريح فيقول له أبشر بالذي يسرك فهذا يومك الذي كنت توعد فيقول من أنت ؟ فوجهك الوجه الذي يأتي بالخير فيقول : أنا عملك الصالح فيقول : رب أقم الساعة ! رب أقم الساعة ! حتى أرجع إلى أهلي و مالي و أما العبد الكافر إذا كان في انقطاع من الدنيا و إقبال من الآخرة نزل إليه من السماء ملائكة سود الوجوه معهم المسوح حتى يجلسوا منه مد البصر ثم يأتيه ملك الموت فيجلس عند رأسه فيقول أيتها النفس الخبيثة اخرجي إلى سخط الله و غضبه قال : فتفرق في جسده فينتزعها و معها العصب و العروق كما ينتزع السفود من الصوف المبلول فيأخذونها فيجعلونها في تلك المسوح قال : و يخرج منها أنتن من جيفة وجدت على وجه الأرض فلا يمرون بها على ملأ من الملائكة إلا قالوا ما هذه الروح الخبيثة ! فيقولون فلان بن فلان بأقبح أسمائه التي كان يسمى بها في الدنيا حتى ينتهى بها إلى السماء الدنيا فيستفتح له فلا يفتح له ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم { لا تفتح لهم أبواب السماء } إلى آخر الآية قال : فيقول الله تبارك و تعالى : اكتبوا كتابه في سجين في الأرض السابعة السفلى و أعيدوا إلى الأرض فإنا منها خلقناهم و فيها نعيدهم و منها نخرجهم تارة أخرى قال : فتطرح روحه طرحا ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم : { و من يشرك بالله فكأنما خر من السماء } الآية ثم تعاد روحه في جسده فيأتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له من ربك ؟ فيقول هاه هاه لا أدري ! فيقولان له : ما دينك ؟ فيقول هاه هاه لا أدري فيقولان : له ما هذا الرجل الذي بعث فيكم ؟ فيقول هاه هاه لا أدري ! فينادي مناد من السماء إن كذب فافرشوه من النار و ألبسوه من النار و افتحوا له بابا من النار فيأتيه من حرها و سمومها و يضيق عليه قبره حتى تختلف فيه أضلاعه قال : و يأتيه رجل قبيح الوجه منتن الريح فيقول : أبشر بالذي يسوءك هذا يومك الذي كنت توعد قال : فيقول من أنت ؟ فوجهك الوجه الذي يجيء بالشر فيقول : أنا عملك الخبيث فيقول : رب لا تقم الساعة رب لا تقم الساعة قال البيهقي رحمه الله : هذا حديث صحيح الإسناد و قد ذكرنا سوى هذا من حديث أبي هريرة و أبي سعيد الخدري و أنس بن مالك و أسماء بنت أبي بكر و غيرهم عن النبي صلى الله عليه و سلم و رواه عيسى بن المسيب عن عدي بن ثابت عن البراء عن النبي صلى الله عليه و سلم و ذكر فيه اسم الملكين فقال في ذكر المؤمن فيرد إلى مضجعه فيأتيه منكر و نكير يثيران الأرض بأنيابهم و يلحفان الأرض بأشفاههما أصواتهما كالرعد القاصف و أبصارهما كالبرق الخاطف فيجلسانه ثم يقال له : يا هذا من ربك فذكره و قال : في ذكر الكافر : فيأتيه منكر و نكير يثيران الأرض بأنيابهما و يلحقان الأرض بأشفاههما و أصواتهما كالرعد القاصف و أبصارهما كالبرق الخاطف فيجلسانه ثم يقولان له : يا هذا من ربك ؟ فيقول : لا أدري فينادي من كل جانب القبر لا دريت و يضربانه بمرزبة من حديد لو اجتمع عليها من بين الخافقين لم يقلوها يشتعل منها قبره نارا و يضيق عليه قبره حتى تختلف أضلاعه

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے، ان کو ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ میں، انکو سعد ان بن نصر نے، ان کو ابو معاویہ ضریر نے ان کو اعمش نے ان کو منہال بن عمرو نے، ان کو زاذان ابو عمر نے ان کو براء بن عازب نے ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک آدمی کے جنازے میں نکلے۔ ہم لوگ قبر تک پہنچے، ابھی تک لحد نہیں بنی تھی۔ حضرت براءفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے، ہم لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد بیٹھ گئے (سناٹا چھا گیا) گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی جس کے ساتھ زمین پر آپ ہلکے ہلکے سے مار رہے تھے۔ براء فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا اللہ کی پناہ مانگو عذاب قبر سے، بے شک مومن آدمی جب دنیا سے ناطہ توڑ نے اور آخرت میں قدم رکھنے میں ہوتا ہے تو آسمان سے اس کی طرف سفید روشن چہروں والے فرشتے اس کی طر ف اترتے ہیں ، گویا کہ ان کےچہرے (چمکتے ہیں) سورج کی طرح ہیں ، ان کے پاس جنت کی خوشبوؤں میں سے ایک (حنوط) اور خوشبو ہوتی ہے اور جنت کے کفن میں سے ایک کفن ہوتا ہے۔۔ یہاں تک کہ (مرنے والے) کے پاس تا حد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت (موت کا فرشتہ) آتا ہے۔ وہ آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے اے پاکیزہ روح تو باہر آ جا اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی کی طرف جانے کے لئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس کی روح بہتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے قطرہ بہتا ہے۔ پس (ملک الموت) اسے لے لیتا ہے۔ جب اسے لیتا ہے تو اسے آنکھ جھپکنے کی دیر بھی اپنے ہاتھ میں نہیں چھوڑتا (بلکہ فورا اسے) اس کفن میں لپیٹ دیتا ہے اور اسی خوشبو میں بسا دیتا ہے اور اس روح سے کستوری کی پاکیزہ ترین خوشبوجیسی خوشبو جو روئے زمین پر ہو سکتی ہے وہ مہکتی ہے (اور اس روح کو اوپر لے جاتے وقت) جب فرشتوں میں سے کسی فرشتے کے ساتھ گذر ہوتاتو وہ کہتے ہیں یہ کس چیز کی اتنی پاکیزہ خوشبو ہے (لہذا روح کو لے جانے والے فرشتے) کہتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں کی روح ہے اور اسے خوبصورت ترین نام سے موسوم کرتے ہیں، جس کے ساتھ وہ دنیا میں موسوم کیا جاتا تھا۔حتی کہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں اور اس روح کےلئے وہ آسمان کھولا جاتا ہے ، پھر خوش آمدید کہی جاتی ہے ہر آسمان سے، ایک آسمان سے دوسرے کو قریب کرتے ہوئے ، حتیٰ کہ اسے ساتویں آسمان تک پہنچا یا جاتا ہے ۔ پھر اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو علیین میں ساتویں آسمان میں لکھ لیں اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو۔ بے شک میں نےانہیں اسی سے پیدا کیا تھا اور اسی میں ان کو لوٹاؤں گا۔ اور دوسری باری میں ان کو اسی سے نکالوں گا۔ پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کو بٹھاتے ہیں ، پھر وہ کہتے ہیں تیرا رب کون ہے؟ و ہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔ وہ دونوں پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے۔وہ دونوں پوچھتے ہیں یہ وہ آدمی جو تمہارے اندر بھیجا گیا تھا اس کا مقام کیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔وہ دونوں پوچھتے ہیں تجھے کیسے معلوم ہوا ( کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟) وہ جواب دیتا ہے میں نے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) پڑھی تھی۔ لہذا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایمان لے آیا تھا اور اس کی تصدیق کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر آسمان سے منادی کرنے والا منادی کرتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کو جنت کا بستر دے دو یا بچھا دو اور جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لئے جنت میں دروازہ کھول دو۔ پھر اس کی خوشبو اور خوشبو دار ہوا س کے پاس آتی رہتی ہے اور اس کی حد نگاہ تک اس کی قبر اس کےلئے کشادہ کر دی جاتی ہے اور اس کے پاس خوبصورت چہرے والا آدمی پاکیزہ خوشبو والا آتا ہے اورا س سے کہتا ہے کہ توا س چیز کے ساتھ خوش ہو جا جو تجھے خوش کر دے گی۔ یہ وہی دن ہے جس کاتجھے وعدہ دیا گیا تھا۔ پھر انسان پوچھتا ہے کہ تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو وہ چہرہ ہے جو خیر لے آتا ہے۔ وہ کہتا ہے میرا تیرا نیک عمل ہوں۔ پھر وہ انسان کہتا ہے اے میرے رب قیامت قائم فرما دے، اے میرے رب قیامت قائم فرماتا کہ میں اپنے اہل اور اپنے مال میں لوٹ جاؤں۔ بہر حال بندہ کافر جب دنیا سے کوچ کرنے اور آخرت کی طرف آنے کی حالت میں ہوتا ہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اترتے ہیں اس کی طرف ۔ ان کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کی حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ان کے پاس ملک الموت آتا ہے۔ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھتا ہے اور کہتا ہے اے خبیث روح اللہ کی ناراضگی اور اللہ کے غضب کی طرف (چلنے کے لئے) باہر آ جا۔ لہذا اس کے جسم میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ پھر ملک الموت (اس روح خبیثہ کو) کھینچتا ہےجس کے ساتھ تمام رگ و پٹھے کھنچ جاتے ہیں ۔ جیسے خاردار جھاڑی گیلی اون میں سے کھینچی جائے، فرشتے یوں کھینچ کر اسے لے لیتے ہیں۔ لہذا اسے اس بد بو دار کفن میں لپیٹتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس روح سے مری ہوئی اور سڑی لاش سے زیادہ بدبو نکلتی ہے جوروئے زمین پر سب سے بری بد بو ہو سکتی ہے۔ توفرشتوں میں سے جس فرشتے کے پاس سے اسے لے کر گزرتے ہیں تو فرشتے کہتے ہیں یہ کیسی یا کس کی بدبودار خبیث روح ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ فلاں بن فلاں کی روح ہے اور دنیا میں جس بدترین نام سے اسے پکارا جاتا تھا اس قبیح ترین نام سے اسے موسوم کرتے ہیں ۔ اسی طرح اسے آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلوانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کے لئے دروازہ نہیں کھولا جاتا ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےیہ آیت پڑھی: " لا تفتح لھم ابواب السمآء (اعراف 40 –آخر تک) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس کی تحریر لکھ دو سجین میں سب سے نچلی ساتویں زمین میں اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو، بے شک ہم نے ان کو اسی سے پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف ہم ان کو لوٹائیںگے۔پھر اس سے ہم ان کو ایک اور بار نکالیں گے۔ فرمایا کہ پھر اس کی روح کو پھینک دی جاتی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "ومن یشرک باللہ فکا انما خر من السماء (الحج 31) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ ایسا ہے جیسے کہ وہ اسمان سے گرے اور اسے پرندے اچک لیں۔ (اور پھاڑ ڈالیں) یاہوا اسے گہرائی میں کہیں پہنچادے۔ فرمایا اس کے بعد اس کی روح اس کے جسم کے اندر لوٹا دی جاتی ہے اور دو فرشتے اسکے پاس آتے ہیں ،اسے بیٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں تیرا ر ب کون ہے؟ وہ حیران و پریشان ہو کر کہتاہے کہ میں نہیں جانتا۔ وہ پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟پھر وہ حیران و پریشان ہو کر کہتا ہے میں نہیں جانتا۔ وہ پوچھتے ہیں کہ وہ آدمی کون ہے جو تمہارے اندر بھیجا گیا تھا؟ وہ حیران و پریشان ہو کر کہتا ہے ، میں نہیں جانتا ۔ اتنےمیں آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا ہے، اس کو جہنم کا بستر یعنی آگ لگا دو اور اس کا آگ کا لباس پہنا دو اور جہنم کی طرف اس کے لئے دروازہ کھول دو تاکہ اس کی طرف اس کی تپش اور گرم ہوا آتی رہے اور اس پر اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی (دائیں بائیں) پسلیاں باہم مل جاتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس کے پاس ایک بد صورت بد بو دار ادمی آتا ہے اور وہ کہتا ہے تو خوش ہو جاؤ اس عذاب کے ساتھ جو تجھے برا لگے گا۔ یہ وہی دن ہے جس کا تجھے وعدہ دیا جاتا تھا۔ یہ پوچھتا ہے تو کون ہے؟ تیرا تو چہرہ بھی شر پیش کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میں تیرا خبیث عمل ہوں۔ چنانچہ اسے دیکھ کر یہ بندہ کہتا ہے اے رب قیامت قائم نہ کر ، اے رب قیامت قائم نہ کر۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ہم نے اس حدیث کے سوا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی روایات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی ہیں اور اس کو عیسیٰ بن مسیب نے عدی بن ثابت سے ، براء سے ، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس نے اس میں دو فرشتوں کا ذکر کیا ہے اور مومن کے تذکرہ میں فرمایا کہ اسے پھر اس کے لپیٹنے کی جگہ کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ پھر اس کے پاس منکر اور نکیر آتے ہیں جو کہ اپنے دانتوں سے زمین کو چیرتے ہیں ، ان کے ہونٹ زمین سے لگتے ہیں (اور زمین کو لگاتے ہیں۔) ان کی آوازیں ایسے جیسے بجلی کڑکتی ہے۔ ان کی آنکھیں جیسے آنکھوں کو اچک لینے والی بجلی، اسے بیٹھاتے ہیں ، پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ اے فلانے تیرا رب کون ہے؟ پھر پورا ذکر کیا۔ اور کافر کا ذکر کرتے ہوئے کہا اس کےپاس منکر نکیر آتے ہیں جو کہ اپنے دانتوں سے زمین کو چیرتے ہیں اور اپنے ہونٹوں کو زمین سے لگاتے ہیں (یعنی ہونٹ زمین تک پہنچتے ہیں) ان کی آوازیں ایسی جیسے بجلی کڑکتی ہے ، آنکھیں ایسی جیسے آنکھ کو اچک لینے والی بجلی، اسے بیٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں ، اے فلانے تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا۔ پھر قبر کی طرف سے آواز آتی ہے تو نے نہیں جانا پھر اس کو لوہے کے ہتھوڑے مارتے ہیں۔ اگر اس پر مشرق و مغرب جمع ہو جائیں اسے کم نہ سمجھیں اس ضرب سے اس کی قبر آگ سے روشن ہو جاتی ہے اور شعلے مارنے لگتی ہے اور اس کی قبر اس پر تنگ ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے کی جگہ آ جاتی ہیں۔ دائیں بسلیاں بائیں جانب اور بائیں پسلیاں دائیں جانب۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter on the torment of the grave · Hadith 396

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في عذاب القبر ـ · حديث 397

396 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أبو النضر هاشم بن القاسم ثنا عيسى بن المسيب حدثني عدي بن ثابت : فذكره يزيد و ينقص قال البيهقي رحمه الله : و روي عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه اسم الملكين كذلك و روينا في الحديث الثابت عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أشعرت أنه أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور و روينا عن أسماء بنت أبي بكر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قد أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور قريبا من فتنة الدجال و روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم في أخبار كثيرة أنه كان يستعيذ بالله من عذاب القبر و من فتنة القبر و روينا عن نافع عن صفية امرأة ابن عمر عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن للقبر ضغطة لو نجا منها أحد لنجا سعد بن معاذ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا هاشم بن القاسم ثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن نافع فذكره قال البيهقي رحمه الله : و روينا في حديث آخر أن ذلك لأنه كان يقصر في بعض الطهور من البول و في سياق الأحاديث التي وردت في قبض المؤمن و الكافر دلالة على أنهم يعبرون بالنفس عن الروح و أنهما عبارتان عن شيء واحد و البنية ليست من شرط الحياة و الله تعالى قادر على إعادة الحياة في الأجزاء المتفرقة أو في بعضها و تعذيب ما شاء منها إلى الوقت الذي شاء و ليس علينا إلا طاعة الله بالتسليم لما جاء به رسول الله صلى الله عليه و سلم و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ،ا ن کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن اسحٰق صاغانی نے، ان کو ابو النضر ھاشم بن قاسم نے ، ان کو عیسیٰ بن مسیّب نے ،ا ن کو عدی بن ثابت نے ، مگر اس کا ذکر کم زیادہ ہوتا ہے۔ (1)۔۔امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دو فرشتوں کا نام اسی طرح روایت کیا گیا ہے۔ (2)۔۔ اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت کی حدیث میں روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں یہ آگاہ کرتا ہوں کہ میری طرف وحٰ کی گئی ہے کہ بیشک تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے۔ (3)۔۔۔ اور ہم نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تحقیق میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تم لوگ قبروں میں فتنے میں مبتلا ہو گے، فتنہ دجال کے قریب۔ (4)۔۔۔ اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اخبار کثیرہ میں روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عذاب قبر سے اور قبر کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ (5)۔۔۔ اور ہم نے نافع سے، انہوں نے صفیہ زوجہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک قبر کا گھٹنا اور تنگ ہونا ہوتا ہے، اگر اس سے کوئی نجات پا سکتا تو حضرت سعد بن معاذ ضرور نجات پا جاتے۔ (6)۔۔۔ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق نے ، ان کو ہاشم بن قاسم نے، ان کو شعبہ نے، ان کو سعد بن ابراہیم نے، ان کو نافع نے، پھر انہوں نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔ (7)۔۔۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک اور حدیث میں روایت کی ہے (کہ عذاب قبر اس لئے ہوا کہ) وہ صاحب قبر کوتاہی کرتا تھا، بعض دفعہ پیشاب سے طہارت کرنے میں۔ نفس اور روح ایک شے ہے مومن اور کافر کی روح کو قبض کرنے کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں ان کے سیاق میں اس بات کی دلالت ہے( عرب اہل زبان) روح کو نفس کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ نفس اور روح شے واحد ہے اور الفاظ دو ہیں اور مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حیات کے لئے جسم شرط نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ بکھرے ہوئے یا بعض اجزاء میں حیات کا اعادہ کرنے پر پوری طرح قادر ہے اور بکھرے ہوئے اجزاء میں سےا ن بعض اجزاء کو عذاب دینے پر بھی قادر ہے ، جن کو چاہے اور جس وقت چاہے۔ ہمارے ذمے صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور تسلیم کرنا ہے ہر اس بات کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے ہیں اور توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← أشعرت أنه أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور و روينا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عمر بن الخطاب اسم الملكين كذلك و روينا في الحديث الثابت ← البيهقي و روي ← عدي بن ثابت فذكره يزيد و ينقص ← عيسى بن المسيب ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter on the torment of the grave · Hadith 397

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في عذاب القبر ـ · حديث 398

397 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو محمد عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا أحمد بن حنبل ثنا علي بن عبد الله المديني ثنا هشام بن يوسف عن عبد الله بن بحير القاص عن هانئ مولى عثمان قال : كان عثمان بن عفان إذا وقف على قبر بكى حتى يبل لحيته فقيل له تذكر الجنة و النار فلا تبكي و تبكي من هذا ؟ فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : القبر أول منازل الآخرة فإن ينج منه فما بعده أيسر منه و إن لم ينج منه فما بعده أشد منه و قال : و الله ما رأيت منظرا قط إلا و القبر أفظع منه

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر قتادہ نے ، ان کو ابو محمد عبداللہ بن احمد بن سعد حافظ نے، ان کو ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ، ان کو احمد بن حنبل نے، ان کو علی بن عبداللہ مدینی نے، ان کو ہشام بن یوسف نے ،ان کو عبداللہ بن بحیر القاص نے ، ان کو ھانی مولی عثمان نے فرمایا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی قبر پررک جاتے تو رو پڑتے ، یہاں تک کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو جاتی تھی۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کا ذکر کر کے اتنا نہیں روتے مگر قبر کے ذکر سے رواتے ہیں، کیوں؟ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ اگر یہاں سے نجات ہو گئی تو اس کا مابعد زیادہ آسان ہو گا اور قبر سے نجات نہ ہوئی تو ا س کا مابعد اس سے زیادہ سخت ہو گا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم ، میں نے جو بھی منظر دیکھا ہو ، قبر سے زیادہ گھبراہٹ والا منظر ہے۔

هَانِئٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أبو محمد عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter on the torment of the grave · Hadith 398

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في عذاب القبر ـ · حديث 399

398 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن حسن الغضائري و أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر الدقاق ببغداد قالا : ثنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن النجاد ثنا الحسن بن مكرم ثنا عثمان بن عمر ثنا شعبة عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه عن البراء بن عازب عن أبي أيوب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج حين وجبت الشمس فقال : هذه أصوات يهود تعذب في قبورها أخرجه البخاري و مسلم في الصحيح من أوجه عن شعبة بن الحجاج

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن حسن غضائری نے اورا بو عبداللہ محمد بن احمد بن ابو طاہر دقاق نے بغداد میں ، دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر احمد بن سلمان بن حسن نجاد نے، ان کو حسن بن مکرم نے، ان کو عثمان بن عمر نے ، ان کو شعبہ بن عون بن ابی جحیفہ نے ، ان کو ان کے والد نے، ان کو حضرت براء بن عازب نے، ان کو حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے اس وقت نکلے جب سورج غروب ہو چکا تھا (اور آوازیں سنائی دیں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ یہودیوں کی آوازیں ہیں اور وہ اپنی قبروں میں عذاب دئیے جا رہے ہیں۔ بخاری اور مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں نقل کیا ہے کئی طریقوں سے شعبہ بن حجاج سے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ النَّجَّادُ،

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter on the torment of the grave · Hadith 399

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في عذاب القبر ـ · حديث 400

399 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا يوسف بن يعقوب ثنا حكام عن عمرو بن أبي قيس عن الحجاج بن أرطأة عن المنهال بن عمرو عن زر عن علي قال : ما زلنا في شك من عذاب القبر حتى نزلت : { ألهاكم التكاثر * حتى زرتم المقابر } تابعه الحسين بن عبد الأول عن حكام بن سلم

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید صفار نے ، ان کو احمد بن یحییٰ حلوانی نے ،ان کو یوسف بن یعقوب نے ،ان کو حکام نے ، ان کو عمرو بن ابو قیس نے، ان کو حجاج بن ارطاۃ نے منہال بن عمرو سے، انہوں نے ذر سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا کہ ہم عذاب قبر کے بارے میں ہمیشہ شک میں رہے تھے ، یہاں تک کہ یہ سورۃ نازل ہوئی: "الھکم التکاثر حتیٰ زرتم المقابر (التکاثر 1-2) مال کی کثر ت کی طلب نے تمہیں غافل کئے رکھا، یہاں تک کہ تم قبروں سے جاملے۔ حسن بن عبدالاول نے حکا بن سلیم سے اس کا تابع بیان کیا ہے۔

عَلِيٍّ، ← زِرٍّ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← حَكَّامٌ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter on the torment of the grave · Hadith 400

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood