Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 377

376 - أخبرنا أبو القاسم علي بن إبراهيم بن حامد البزاز بهمدان ثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا محمد بن أيوب ثنا محمد بن سنان العوقي ثنا همام عن قتادة عن سعيد بن أبي بردة و عن عون بن عبد الله أنهما شهدا أبا بردة يحدث عمر بن عبد العزيز عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يموت رجلة مسلم إلا أدخل الله مكانه النار يهوديا أو نصرانيا ـ فقال عون و لم ينكر سعيد على عون قوله ـ فاستحلفه عمر بالله الذي لا إله إلا هو ثلاث مرات بأن أباه حدثه عن النبي صلى الله عليه و سلم فحلف أخرجه مسلم في الصحيح من حديث عفان عن همام قال البيهقي رحمه الله : و روينا في الحديث الثابت عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل أحد الجنة إلا أري معقده من النار لو أساء ليزداد شكرا و لا يدخل النار أحد إلا أري مقعده من الجنة لو أحسن ليكون عليه حسرة

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم علی بن ابراہیم بن حامد بزاز نے ھمدان میں ، ان کو ابو القاسم عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے، ان کو محمد بن ایوب نے، ان کو محمد بن سنان عوفی نے، ان کو ھمام نے قتادہ سے ، سعید بن ابی بردہ سے اور عون بن عبداللہ سے اور وہ دونوں ابو بردہ کے پاس حاضر تھے۔ وہ حدیث بیان کر رہے تھے عمر بن عبدالعزیز کو اپنے والد سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : جب بھی کوئی مسلمان آدمی مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں کسی یہودی یا نصرانی کو جہنم میں داخل کرتا ہے۔ پس عون نے کہا حدیث سن کر عون پر سعید نے انکار نہیں کیا تھا اس کے قول کا۔ پھر اس سے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے قسم اٹھوائی (یعنی کہ م اس طرح قسم اٹھاؤ کہ ) مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں بس وہی معبود ہے۔ اور تین بار قسم کھا کر کہو کہ تیرے باپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث بیان کی تھی۔ سوا س نے قسم کھالی۔ اس کو مسلم نے صحیح میں عفان سے ھام سے نقل کیا ہے۔ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے وہ حدیث روایت کی ہے جو ابو زناد سے اعرج نے ابو ہریرہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جنت میں داخل نہیں کیا جاتا مگر اس کو اس کا جہنم والا ٹھکانہ نہ دکھا دیا جاتا ہے۔ اگر اس نے گناہ کیا تھا تو تانکہ وہ اس پر اللہ کا زیادہ سے زیادہ شکر کرے (کہ اللہ نے مجھے اس بری جگہ سے بچا لیا ہے) اور کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں کیا جاتا مگر اس کو اس کا ٹھکانہ جنت والا دکھا دیا جاتا ہے اگر اس نے کوئی نیکی کی تھی تاکہ اس پر حسرت و افسوس زیادہ سے زیادہ ہو۔

أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عون بن عبد الله أنهما شهدا أبا بردة ← سعيد بن أبي بردة و ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي ← أبو القاسم علي بن إبراهيم بن حامد البزاز بهمدان

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 377

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 378

377 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أنا الحسن بن سفيان أخبرنا فياض بن زهير ثنا علي بن عياش ثنا شعيب عن أبي الزناد : فذكره رواه البخاري رحمه الله في الصحيح عن أبي اليمان عن شعيب بن أبي حمزة قال البيهقي رحمه الله : و روي ذلك أيضا من حديث أبي صالح عن أبي هريرة مرفوعا و في رواية أخرى عنه : ما منكم من رجل إلا له منزلان منزل في الجنة و منزل في النار فإن مات ودخل النار ورث أهل الجنة منزله قال : فذلك قوله : { أولئك هم الوارثون }

ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو ادیب نے ، ان کو ابو بکر اسماعیلی نے، ان کو حسن بن سفیان نے ،ا ن کو فیاض بن زبیر نے، ان کو علی بن عیاش نے، ان کو شعیب نے ابو زناد سے پھر اس کو ذکر کیا ہے اور اس کو بخاری نے صحیح میں ابو الیمان سے شعیب بن ابو حمزہ سے روایت کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ روایت کیا گیا ہے ابو صالح سے ابو ہریرہ سے بھی مرفوعا اور ان سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہر آدمی کی دو منزلیں ہیں۔ ایک جنت میں دوسرا جہنم میں۔ اگر مر کر وہ جہنم میں چلا جاتا تو اہل جنت اس کے جنت والے گھر کے وارث بن جاتے ہیں۔ پھر کہا کہ یہی مطلب اس آیت کا ہے: اولئک ھم الوارثون "(المومنون 10) کہ وہی لوگ ہی وارث ہیں۔

شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي الْيَمَانِ ← أبي الزناد فذكره رواه البخاري في الصحيح ← شُعَيْبٌ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ← فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 378

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 379

378 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس و هو الأصم ثنا أحمد بن عبد الجبار أنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فذكره هذه الرواية الآخرة قال البيهقي رحمه الله : و يشبه أن يكون هذا الحديث تفسيرا لحديث الفداء و الكافر إذا أورث على المؤمن مقعده من الجنة و المؤمن إذا أورث على الكافر مقعده من النار يصير في التقدير كأنه فدى المؤمن بالكافر و الله أعلم و قد علل البخاري رحمه الله حديث الفداء برواية بريد بن عبد الله و غيره عن أبي بردة عن رجل من الأنصار عن أبيه و برواية أبي حصين عنه عن عبد الله بن يزيد و برواية حميد عنه عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال الخبر عن النبي صلى الله عليه و سلم في الشفاعة و أن قوما يعذبون ثم يخرجون من النار أكثر و أبين و حديث أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قد صح عند مسلم بن الحجاج و غيره رحمهم الله من الأوجه التي أشرنا إليها و غيرها و وجهه ما ذكرناه و ذلك لا ينافي حديث الشفاعة فإن حديث الفداء و إن ورد مورد العموم في كل مؤمن فيحتمل أن يكون المراد به كل مؤمن قد صارت ذنوبه مكفرة بما أصابه من البلايا في حياته ففي بعض ألفاظه : إن أمتي أمة مرحومة جعل الله عذابها بأيديها فإن كان يوم القيامة دفع الله إلى كل رجل من المسلمين رجلا من أهل الأديان فكان فداؤه من النار و حديث الشفاعة يكون فيمن لم تصر ذنوبه مكفرة في حياته و يحتمل أن يكون هذا القول لهم في حديث الفداء بعد الشفاعة و الله أعلم و أما حديث شداد أبي طلحة الراسبي عن غيلان بن جرير عن أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يجيء يوم القيامة ناس من المسلمين بذنوب مثل الجبال يغفرها الله لهم و يضعها على اليهود و النصارى ـ فيما أحسب أنا ـ قاله بعض رواته فهذا حديث شك فيه راويه و شداد أبو طلحة ممن تكلم أهل العلم بالحديث فيه و إن كان مسلم بن الحجاج استشهد به في كتابه فليس هو ممن يقبل منه ما يخالف فيه و الذين خالفوه في لفظ الحديث عدد و هو واحد و كل واحد ممن خالفه أحفظ منه فلا معنى للاشتغال بتأويل ما رواه مع خلاف ظاهر ما رواه الأصول الصحيحة الممهدة في { ألا تزر وازرة وزر أخرى } و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس رحم نے ، ان کو ابو معاویہ نے، ان کو اعمش نے ، ان کو ابو صالح نے، ان کو ابو ہریرہ نے، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، پھر ابو صالح رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ حدیث یعنی آخری روایت ذکر کی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : زیادہ انسب یہ ہے کہ یہ حدیث فدیہ اور بدلے والی حدیث کی تفسیر ہو اور کافر جب اپنی جنت والی جگہ کا مومن کو وارث بناتا اور مومن جب کافر کو اپنی جہنم والی جگہ کا وارث بناتا تو تقدیر میں گویا یہ ہے کہ کافر مومن کے بدلے میں دیا جائے۔ اور تحقیق امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فدیہ والی حدیث کی تعلیل بیان کی ہے برید بن عبداللہ وغیرہ کی روایت کے ساتھ ابو بردہ سے۔ اس نے انصار کے ایک آدمی سے، اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے۔ اور ابو حصین کی روایت کے ساتھ جو کہ عبداللہ بن یزید سے مروی ہے۔ اور حمید کی روایت کے ساتھ جو اصحاب رسول کے ایک آدمی سے مروی ہے۔ پھر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفاعت کے بارے میں یہ حدیث کہ ایک قوم کے لوگ عذاب دئیے جائیں گے، پھر جہنم سے نکالے جائیں گے۔ یہ حدیث زیادہ اکثر ہے اور زیادہ واضح ہے۔ اور ابو بردہ والی حدیث ابو موسیٰ سے، اس کے والد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسلم بن حجاج وغیرہ رحمہم اللہ کے نزدیک صحیح ہے کئی وجوہ سے وہ جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور اس کے علاوہ بھی۔ اور اس کی توجیہ وہی ہے جس کو ہم نے ذکر کیا ہے اور یہ حدیث ، حدیث شفاعت کےمنافی ہے۔ بے شک فدیہ والی حدیث اگرچہ ہر مومن کے بارے میں عموم کے مورد میں وارد ہوئی ہے، احتمال رکھتی ہے کہ اس سے مراد ہر مومن ہو تو اس کے گناہ اس کی زندگی میں آنے والی آزمائشوں اور مصیبتوں کے ساتھ مٹ جائیں گے۔ وہ ان کا کفارہ بن جائیں گی۔ اس روایت کے بعض الفاظ یہ ہیں: " ان امتی امۃ مرحومۃ جعل اللہ عذابھا بایدیھا فاذا کان یوم القیمۃ دفع اللہ الی کل رجل من المسلمین رجلاس اھل الادیان فکان فداہ من النار " بے شک میری امت مرحومہ ہے (رحم کی ہوئی ہے) اللہ تعالیٰ اس کی سزا اس کے ہاتھوں سے کریں گے جب قیامت کا دن ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان مرد کو دیگر اہل ادیان میں سے ایک آدمی دیں گے جو کہ جہنم سے اس کا فدیہ اور بدلہ ہو گا۔ لہذا شفاعت والی حدیث اس اعتبار سے پھر ان لوگوں کے بارے میں ہو گی جن کے گناہوں کا دنیا کی زندگی میں کوئی کفارہ نہیں ہو سکا ہو گا اور وہ نہیں مٹ سکے ہوں گے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ قول ان مومنون کے لئے فدیہ والی حدیث میں شفاعت کے بعد ہو۔ واللہ اعلم۔ بہر حال شداد بن ابی طلحہ ذاہبی والی حدیث غیلان بن جریر سے ابو بردہ بن ابو موسیٰ سے ان کے والد سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا تھا: قیامت کے دن کچھ مسلمان لوگ پہاڑوں کی مثل گناہوں کے ساتھ لائے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے ان کو بخش دے گا اور ان کے گناہوں کو یہود و نصاریٰ پر رکھ دے گا۔ میرے خیال کے مطابق اس کو بھی مذکورہ روایت کے راویوں نے کہا ہے۔ مگر یہ ایسی حدیث ہے جس کے راویوں میں شک ہے اور شداد ابو طلحہ ان لوگوں میں ہے جس کے بارے میں اہل علم بالحدیث نے کلام کیا ہے۔ اگرچہ امام مسلم بن حجاج نے اپنی کتاب میں اس کے ساتھ شہادت پکڑی ہے۔ تاہم وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہو سکتا کہ اس کی وہ روایت قبول کی جائے جس میں اس کی مخالفت کی گئی ہو اور جن لوگوں نے لفظ حدیث میں اس کی مخالفت کی ہے وہ متعدد ہیں۔ اور جب کہ وہ خود اکیلا ہے اور ہر ایک ان میں سے جس نے اس کی مخالفت کی ہے اس سے زیادہ محفوظ کرنے والا ہے لہذا جو روایت اس نے نقل کی ہے اس کی تاویل کے ساتھ ااشتعال کا کوئی مطلب نہیں اور کوئی معنی نہیں اس کے باوجود کہ وہ اس کے خلاف ہے جو ظاہر اصول صحیحہ جن کی بنیاد اس اصول پر ہے: "ان لاتزرورازرۃ رزر اخریٰ (النجم 38) کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ جو روایت اس اصول اور اس اصول کے مطابق مری احادیث کے ظاہر کے خلاف ہو اس کی تاویل میں مشغول ہونے کا کوئی مقصد نہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو العباس و هو الأصم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 379

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 380

379 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء ثنا أبو بكر محمد بن محمد بن إسماعيل القاضي ثنا جعفر بن محمد بن سوار ثنا محمد بن رافع ثنا يحيى بن آدم قال : قال سفيان بن عيينة : لما نزلت هذه الآية : { و رحمتي وسعت كل شيء } مد إبليس عنقه فقال : أنا من الشيء فنزلت : { فسأكتبها للذين يتقون ويؤتون الزكاة والذين هم بآياتنا يؤمنون } قال : فمد اليهود و النصارى أعناقها فقالوا : نحن نؤمن بالتوراة و الإنجيل و نؤدي الزكاة قال : فاختلسها الله من إبليس و اليهود و النصارى فجعلها لهذه الأمة خاصة فقال : { الذين يتبعون الرسول النبي الأمي الذي يجدونه مكتوبا عندهم في التوراة والإنجيل } الآية

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو ابو بکر بن محمد بن محمد اسماعیل قاضی نے، ان کو جعفر بن محمد سوار نے، ان کو محمد بن رافع نے ، ان کو یحییٰ بن آدم نے ، انہوں نے کہا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا جب یہ روایت نازل ہوئی: "ورحمتی وسعت کل شیء (الاعراف 156) اور میری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے۔ تو ایاس نے گردن اپنی اوپر ٹکا کر کہا میں بھی شیء ہوں ۔(یعنی جب تیری رحمت ہر چیز سے وسیع ہے تو مجھ سے بھی وسیع ہوئی۔ کیونکہ میں بھی شیء ہوں۔ لہذا میری بھی مغفرت ہونی چاہیئے) تو پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ :" فسا کتبھا للذین یتقون ویؤتون الزکوٰۃ والذین ھم با یا تنا یؤمنون "(اعراف 56) میں جلدی لکھ دوں گا رحمت ان لوگوں کے لئے جو نافرمانی سے بچتے رہے، زکوٰۃ ادا کرتے رہے اور جو لوگ ہماری زبان پر ایمان رکھتے ہیں۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ پھر یہود و نصاریٰ نے اپنی گردنیں دراز کیں اور بولے ہم تو راۃ پر ایمان رکھتے ہیں اور انجیل پر بھی۔ ہم زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو ابلیس سے بھی اور یہود و نصاریٰ سے بھی اچک لیا اور چھین لیا اور اسی امت کے لئے مخصوص کر دیا اور ارشاد فرمایا: " الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدو نہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل (اعراف 157) (وہ مذکورہ بالا لوگ) وہ ہیں جو رسول ا امی کی اتباع کرتے ہیں جس رسول کا تذکرہ یہود ونصاریٰ اپنے پاس تو راۃ و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔

الْآيَةِ ← فاختلسها الله من إبليس و اليهود و النصارى فجعلها لهذه الأمة خاصة ← نحن نؤمن بالتوراة و الإنجيل و نؤدي الزكاة ← فمد اليهود و النصارى أعناقها ← من الشيء فنزلت ← سفيان بن عيينة لما نزلت هذه الآية مد إبليس عنقه ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ ← أبو بكر محمد بن محمد بن إسماعيل القاضي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 380

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 381

380 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني عمر بن أحمد الزاهد قال : سمعت الثقة من أصحابنا يذكر : أنه لما رأى أبا بكر بن الحسين بن مهران رحمه الله في المنام في الليلة التي دفن فيها قال فقلت : أيها الأستاذ ما فعل الله بك ؟ فقال إن الله عز و جل أقام أبا الحسن العامري بحذائي و قال لي : هذا فداؤك من النار قال و توفي في اليوم الذي توفي فيه أبو بكر أبو الحسن العامري و أشار إلى كونه معروفا بالإلحاد نعوذ بالله من الكفر و الفسوق و سوء العاقبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، ان کو عمر بن احمد زاہد نے، انہوں نے کہا ہم نے اپنے اصحاب میں سے ثقہ اور مضبوط شخص سے سنا وہ ذکر کر رہے تھے کہ انہوں نے ابو بکر بن حسین بن مہران رحمۃ اللہ علیہ کو نیند میں خواب میں دیکھا جس رات کو وہ دفن کئے گئے تھے۔ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا استاذ محترم اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا بے شک اللہ عزوجل نے میرے برابر میں ابو الحسن عامر کو کھڑا کیا اور مجھ سے فرمایا : یہ تیرا فدیہ ہے اور بدلہ ہے جہنم سے۔ کہتے ہیں کہ جس دن استاذ ابو بکر فوت ہوئے تھے اسی دن ابوالحسن عامری بھی فوت ہوئے تھے اور استاذ نے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو کہ وہ یعنی ابوالحسن عامری اپنے الحاد کی وجہ سے مشہور تھے۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کفر سے فسوق سے اور برے خاتمہ سے۔ فصل :۔۔۔۔۔۔ اصحاب الاعراف: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نےفرمایا کہ اعراف شرف و عظمت والی جگہ ہے۔ اور ہم نے حذیفہ بن یمان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں ان کو جہنم سے بچا گئی ہیں اوران کی غلطیاں ان کو جنت سے قاصر کر رہی ہیں۔ :" فادا ضرفت ابصارھم تلقاء اصحٰب النار قالوا ربنا لاتجعلنا مع القوم الظالمین (اعراف 47) جب ان کی نگاہیں جہنمیوں کی طرف پھیر جائیں گی (تو جہنمیوں کی بری حالت دیکھ کر) کہیں گے، اے ہمارے پروردگار ہمیں ظالموں کے ساتھ نہ کرنا۔ بس وہ اسی جال میں ہو ں گے، اچانک تیرا رب ان پر جھانک کر فرمائے گا۔ کھڑے ہو جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ بے شک تمہیں معاف کر دیا ہے۔ اور یہ روایت معناً مرفوع ہے۔ اور علی بن ابی طلحہ کی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت میں ہے اس قول باری تعالیٰ کے بارے میں: "وبینھما حجاب وعلی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم (الاعراف 46) جہنم اور جنت کے درمیان آڑ اور پردہ ہو گا اور مقام اعراف پر ایسے مرد ہوں گے جو پہچانیں گے سب کو ان کی نشانیوں سے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اہل جہنم منہ کی سیاہی سے اور اہل جنت چہروں کی روشنی سے پہچانیں جائیں گے اور اعراف و جنت و جہنم کے درمیان دیوار ہو گی اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ : "لم یدخلوھا وھم یطمعون" وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکیں گے مگر طمع کریں گے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کے گناہ بہت بڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا معاملہ بھی اہم ہو گا۔ مقام اعراف پر کھڑے ہوں گے۔ جب جنت کی طرف دیکھیں گے تو جنت کی تمنا کریں گے کہ اس میں داخل ہو جائیں اور جس وقت جہنم کی طرف دیکھیں گے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کر دے گا۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا۔ " اھؤ لاء الذین اقسمتم لا ینالھم اللہ برحمۃ " کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ : پہنچے گی ان کو رحمت اللہ کی یعنی اصحاب اعراف کو ۔ "ادخلو ا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون " (اعراف 49) اے اعراف والو داخل ہو جاؤ تم جنت میں (اے اعراف والے) نہ ڈر ہے تمہارے اوپر نہ تم غمگین ہو گے۔

الثقة من أصحابنا يذكر ← عمر بن أحمد الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 381

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الأعراف ـ · حديث 382

381 - أخبرناه أبو زكريا قال أنا أبو الحسن الطرايفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس : فذكره قال البيهقي رحمه الله : و روينا في حديث مرسل ضعيف أنه سئل عن أصحاب الأعراف فقال : قوم قتلوا في سبيل الله عز و جل في معصية آبائهم فمنعهم من الجنة معصيتهم آباءهم و منعهم من النار قتلهم في سبيل الله عز و جل و أما قوله : { ونادى أصحاب الأعراف رجالا يعرفونهم بسيماهم قالوا ما أغنى عنكم جمعكم وما كنتم تستكبرون } فهذا قولهم وهم على السور قبل أن يدخلوا الجنة لرجال من الكفار ثم ينظرون إلى أهل الجنة فيرون الضعفاء و المساكين ممن كان يستهزئ بهم الكفار في الدنيا فينادونهم يعني فينادون الكفار أهؤلاء يعني الضعفاء و المساكين الذي حلفتم إذا أنتم في الدنيا { لا ينالهم الله برحمة } يعني الجنة و يقول الله لأصحاب الأعراف : { ادخلوا الجنة لا خوف عليكم و لا أنتم تحزنون } هكذا فسره الكلبي فيما رواه عن أبي صالح عن ابن عباس و قال مقاتل بن سليمان هذا قول أصحاب الأعراف لرجال من أهل النار في النار { يعرفونهم بسيماهم قالوا ما أغنى عنكم جمعكم وما كنتم تستكبرون } فأقسم أهل النار أن أصحاب الأعراف داخلون النار معهم فقالت الملائكة الذين حبسوا أصحاب الأعراف على الصراط أهؤلاء يعني أصحاب الأعراف الذين أقسمتم يا أهل النار لا ينالهم الله برحمة و هم داخلون النار معكم { ادخلوا الجنة لا خوف عليكم و لا أنتم تحزنون } بالموت و هذا القول أشبه بما روينا عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس و أمر أصحاب الأعراف على الأصل الذي قدمنا ذكره و هو أن من وافى القيامة مؤمنا و لسيئاته وزن في ميزانه و هو بين أن يغفر له من غير تعذيب و بين أن يعذب بقدر ذنوبه ثم يغفر له فقد يكون منهم من لا يدخل الجنة في الحال و لا يدخل النار و لكن يحبس على الأعراف و هو السور ـ قال مقاتل على الصراط ـ فإذا أراد الله دخولهم الجنة أمرهم بدخولها برحمته أو بشفاعة الشفعاء و الله أعلم

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو زکریا نے، ان کو ابو الحسن طرائفی نے ، ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ۔ ان کو عبداللہ بن صالح نے، ان کو معاویہ بن صالح نے ، ان کو علی بن ابو طلحہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، پھر مذکورہ روایت ذکر کی ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم نے مرسل اور ضعیف حدیث میں روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اصحاب اعراف کے بارے میں پوچھا گیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہوں مگر وہ ماں باپ کے نا فرمان ہوں گے۔ لہذ ا والدین کی نا فرمانی ان کو جنت سے روک دے گی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور شہید ہو جانا ان کو جہنم سے روک دے گا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : "ونادی اصحب الاعراف رجالاً یعرفون نھم بسیماھم قالو ما اغنی عنکم جمعکم وما کنتم تستکبرون (اعراف 48) اعراف والے پکاریں گے کچھ ان جوانوں کو جنہیں وہ ان کی نشانیوں سے پہچانتے ہوں گے۔ نہ کام آئی تمہاری جماعت اور نہ ہی تمہارا اترانا۔ اعراف والوں کی یہ بات دیوار کے پاس ہو گی اور جنت میں ان کے داخلے سے قبل کافر مردوں سے ہو گی۔ پھر اعراف والے اھل جنت کو دیکھیں گے تو ان میں ضعیف اور مسکین نظر آئیں گے ۔ کفار جن کے ساتھ دنیا میں استہزاء کرتے تھے۔ پھر اعراف والے کافروں کو پکار کر کہیں گے کیا یہی ضعفاء اور مساکین تھے جن کے ساتھ تم قسمیں کھاتے تھے جب تم دنیا میں تھے کہ ان کو اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی۔ یعنی جنت نہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اصحاب اعراف سے فرمائیں گے تم جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہارے اوپر کوئی خوف نہیں اور نہ ہی تم غمگین ہو گے۔ کلبی نے اسی طرح ان آیات کی تفسیر کی ہے اس روایت کے مطابق جسے ابو صالح نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ اور مقاتل بن سلیمان نے کہا کہ یہ قول اصحاب اعراف کا اہل جہنم کے کچھ لوگوں کے لئے ہو گا جو جہنم میں ہوں گے۔ پہچانیں گے ان کو ان کی نشانیوں سے (اور کہیں گے کہ) تمہیں تمہاری جماعت نے اور تمہارے اکڑنے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ چنانچہ جہنمی قسمیں کھائیں گے کہ اعراف والے بھی ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے اور فرشتے کہیں گے جنہوں نے اصحاب اعراف کو راستے پر روک رکھاہو گا (جہنمیوں ےس) کہ کیا یہی لوگ تھے۔ یعنی اعراف والے جن کے بارے میں تم اے اہل جہنم قسمیں کھاتے تھے کہ ان کو اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی اور وہ لوگ تمہارے ساتھ جہنم میں داخل ہو ں گے۔ (تم داخل ہو جاؤ اے اعراف والو جنت میں تمہارے اوپر کوئی خوف نہیں نہ تم غمگین ہو گے موت کے ساتھ)۔ یہ قول زیادہ انسب ہے اس روایت کے سبب جسے ہم نے علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور اصحاب اعراف کا معاملہ اس اصول اور قاعدے کے مطابق ہے جس کا ذکر ہم نے پہلے کر دیا ہے اور وہ یہ کہ جو شخص قیامت کے دن ایمان کی حالت میں آیا اور اس کے گناہوں کا اس کے ترازو میں وزن بھی بن گیا ، وہ اس کیفیت کے درمیان ہو گا کہ اسے بغیر عذاب کے بخش دیا جائے گا یا اس کو اس کے گناہوں کی مقدار کے مطابق عذاب دیا جائے۔ اس کے بعد اس کو بخش دیا جائے۔ لہذا وہاں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو فی الحال نہ تو جنت میں داخل ہوں گے اور نہ ہی جہنم میں۔ لیکن اعراف پر روک لئے جائیں گے اور وہ دیوار ہے۔ مقاتل کے بقول صراط پر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کرنے کا ارادہ کرے گا تو ان کو اپنی رحمت سے یا سفارش کرنے والوں کی سفارش سے جنت میں داخلے کا حکم دے گا۔ واللہ اعلم۔ فصل اس باب میں جس چیز کی معرفت لازمی ہے اور ضرور ی ہے وہ یہ ہے کہ آپ یہ جان لیں کہ جنت و جہنم دونوں مخلوق ہیں، جو اپنے اپنے مستحق لوگوں کے لئے بنائی جا چکی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جنت کے بارے ارشاد فرماتے ہیں: اعدت للمتقین (آل عمران 133) تقوے والے لوگوں کےلئے جنت تیا ر کی گئی ہے۔ اور جہنم کے بارے میں فرمایا کہ : اعد ت للکافرین (البقرہ 24) وہ کافروں کے لئے تیا ر کی گئی ہے۔ تیار کرنے کی وضاحت فرمائی ہے اور تیار وہی چیز ہو تی ہے جو پیدا ہو چکی ہو اور موجود ہو۔ نیز جنت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وجنۃ عرضھا السموات والارض (آل عمران 133) جنت کا عرض اور چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ اور معدوم اور غیر موجود شے کا عرض نہیں ہوتا ۔ یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ جنت و جہنم بن چکی اور تیار ہو چکی ہیں اور موجود ہیں۔

البيهقي و روينا في حديث مرسل ضعيف ← ابْنُ عَبَّاسٍ فَذَكَرَهُ. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in the owners of customs · Hadith 382

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 383

382 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن عفان ثنا عبد الله بن نمير عن الأعمش ـ ح ـ قال : و حدثنا أبو العباس ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الله عز و جل : ( أعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رأت و لا أذن سمعت و لا خطر على قلب بشر ) ثم قرأ : { فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون } أخرجاه في الصحيح من حديث أبي معاوية و أخرجه مسلم من حديث ابن نمير

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو حسن بن عفان نے ، ان کو عبداللہ بن نمیر نے، ان کو اعمش نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس نے، ان کو احمد بن عبدالجبار نے، ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے ، ان کو ابو صالح نے، ان کو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے اپنے نیک بندوں کےلئے وہ چیز تیار کی ہے جسے نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی وہ کسی انسان کے دل میں کھٹکی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: " فلا تعلم نفس ماخفی لھم من قرۃ اعین جزاء بما کانو یکسبون (السجدہ 17) کوئی نفس نہیں جانتا جو ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کی جزا ہے۔ بخاری و مسلم نے اس کو صحیحین میں نقل کیاہے ابو معاویہ کی روایت سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے ابن نمیر کی روایت سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← و، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَفَّانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 383

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 384

383 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا أحمد بن يونس ثنا الليث بن سعد عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مات أحدكم عرض عليه مقعده بالغداة و العشي إن كان من أهل الجنة فمن أهل الجنة و إن كان من أهل النار فمن أهل النار رواه البخاري رحمه الله في الصحيح عن أحمد بن يونس و أخرجاه من حديث مالك عن نافع قال البيهقي رحمه الله و فيه من الزيادة : يقال هذا مقعدك حتى يبعثك الله إليه يوم القيامة و في رواية سالم عن ابن عمر : إن كان من أهل الجنة فالجنة و إن كان من أهل النار فالنار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے، ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو لیث بن سعد نے نافع سے، اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مر جاتا ہے تو اس کا اصل ٹھکانہ صبح و شام اس پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو جنت والا ٹھکانہ اگر وہ اہل جہنم میں سے ہے تو جہنم والا ٹھکانہ اس پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں احمد بن یونس سے روایت کیا ہے اور بخاری و مسلم نے دونوں نے مالک بن نافع سے روایت کیا ہے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں کچھ زائد الفاظ بھی وہ یہ ہیں کہ ٹھکانہ دکھانے کے بعد اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا اصل ٹھکانہ ہے یہاں تک کہ اللہ تجھے اٹھائے گا اس کی طرف قیامت کے دن۔ اور سالم کی ایک روایت میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اگر اہل جنت میں سے ہے تو جنت اور اگر اہل جہنم میں سے ہے تو جہنم دکھائی جاتی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 384

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 385

384 - حدثنا أبو سعد عبد الملطك بن أبي عثمان الزاهد إملاء أنا أبو عمرو بن مطر ثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد بن عبد الله عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق الله الجنة و النار أرسل جبريل عليه السلام إلى الجنة فقال : اذهب فانظر إليه و إلى ما أعددت لأهلها فيها فذهب فنظر إليها و إلى ما أعد الله لأهلها فيها فرجع فقال : وعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها فأمر بالجنة فحفت بالمكاره فقال : ارجع فانظر إليها و إلى ما أعددت لأهلها فيها قال فنظر إليها ثم رجع فقال : و عزتك لقد خشيت أن لا يدخلها أحد قال : ثم أرسله إلى النار قال : اذهب فانظر إليها و إلى ما أعددت لأهلها فيها قال : فنظر إليها فإذا هي تركب بعضها بعضا ثم رجع فقال : و عزتك لا يدخلها أحد يسمع بها فأمر بها فحفت بالشهوات ثم قال : اذهب فانظر إليها وإلى ما أعددت لأهلها فيها فنظر إليها فرجع فقال : و عزتك لقد خشيت أن لا ينجو منها أحد إلا دخلها قال البيهقي رحمه الله : و هذا باب كبير الأخبار فيها كثيرة و قد ذكرناها في الجزء الثامن من كتاب البعث و ذكرنا في الآخر بعده ما ورد من الآثار و الأخبار في صفة الجنة و عددها و صفة النار و عددها و صفة النار و عددها فأغنى ذلك عن الإعادة ها هنا و دل الكتاب ثم السنة على أن عدد الجنان أربعة و ذلك لأنه قال في سورة الرحمن : { و لمن خاف مقام ربه جنتان } ثم وصفهما ثم قال { و من دونهما جنتان } ثم وصفهما و روينا عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : جنتان من ذهب آنيتهما و ما فيهما و جنتان من فضة آنيتهما و ما فيهما و في رواية أخرى : جنتان من ذهب للسابقين و جنتان من ورق لأصحاب اليمين و ذكر بعض أهل العلم أن جنة المأوى اسم للجميع و كذلك جنة عدن و جنة النعيم و دار الخلد و دار السلام و يشبه أن يكون الفردوس أيضا اسما للجميع و قد قيل هي اسم لأعلاهن درجة و أما أبواب الجنة فهن ثمانية روينا ذلك في حديث عمر و سهل بن سعد و غيرهما عن النبي صلى الله عليه و سلم و روينا عن عتبة بن عبد السلمي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : و إن لها ـ يعني الجنة ـ ثمانية أبواب و لجهنم سبعة أبواب و قد قال الله عز و جل في جهنم : { لها سبعة أبواب لكل باب منهم جزء مقسوم } و روينا عن علي رضي الله عنه أنه قال : أبواب جهنم هكذا يعني بابا فوق باب و روينا في حديث مرسل أنها سبعة أبواب جهنم و لظى و الحطمة و السعير و سقر و الجحيم و الهاوية و قال بعض أهل العلم جهنم اسم لجميع الدركات و دركات سبع فذكر هذه و ذكر معهن الحريق و أما إكرام الله المؤمنين بالنظر إليه فقد ذكرناه في كتاب الرؤية مع ما ورد فيه من الكتاب و السنة من أراد معرفته نظر فيه إن شاء الله و عندي أنه لو وقف الحليمي رحمه الله على حديث أبي هريرة في صفة الإيمان و تأول اللقاء المذكور فيه على ما تأول عليه أبو سليمان الخطابي رحمه الله في جماعة من أصحابنا رحمهم الله لجعل الإيمان بلقاء الله تعالى ـ و هو رؤيته و النظر إليه كما وردت به الأخبار الصحيحة مع الآيات التي دلت عليه من كتاب الله عز و جل ـ شعبة من شعب الإيمان و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے بو سعیدعبدالملک بن ابی عثمان زاہد نے بطور املاء کے ان کو خبر دی ابو عمرو بن مطر نے ان کو محمود بن محمد واسطی نے ان کو وھب بن بقہ نے ان کو خالد بن عبداللہ ، ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ نے جب جنت اور جہنم بنائی تو جبرائیل علیہ السلام کی جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ جاؤ جا کر جنت کو دیکھو اور میں نے اس میں جو اہل جنت کے لئے نعمتیں تیار کی ہیں وہ دیکھو جبرئیل گئے جنت دیکھی اور جنت میں اہل جنت کے لئے جو کچھ تیار کیا گیا ہے اس کو جا کر دیکھا۔ جبرئیل واپس آئے اور آ کر عرض کیا، تیری عزت کی قسم ہے جو بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہونے سے نہیں روکے گا۔ ضرور اس میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جنت کو مشکلات کی باڑ لگا دی گئی۔ پھر فرمایا جبرئیل واپس جاؤ اور جا کر جنت کو دیکھو اور میں نے اس میں جو کچھ جنت والوں کے لئے تیار کیا ہے۔ اس کو دیکھو فرمایا کہ جبرائیل نے جا کر دیکھا ۔ پھر واپس آ ئے اور کہا تیری عزت کی قسم ہے میں ڈرتا ہوں کہ اس میں تو اب کوئی بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔ پھر جبرائیل کو بھیجا جہنم کی طرف ۔ فرمایا کہ جا تو اس کو دیکھ اور میں نے اہل جہنم کے لئے اس میں جو عذاب تیار کر رکھے ہیں ان کو دیکھ کر اس نے جا کر جہنم کو دیکھا اور وہ بعض بعض سے مرکب تھی۔ واپس لوٹا اور کہنے لگا تیری عزت کی قسم جو بھی اس کے (عذاب) کو سنے گا کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا اور وہ شہوات و لذات کی باڑ لگا دی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ اب جا کر اس کو دیکھ اور میں نے اس میں اہل جہنم کے لئے جو عذاب تیار کیا ہے اس کو بھی دیکھ اس نے جا کر اس کو دیکھا پھر واپس آیا اور عرض کیا تیری عزت کی قسم ہے میں تو اس بات سے ڈرتاہوں کہ اس سے کوئی بھی نہیں بچے گا بلکہ ہر شخص اب تو جہنم میں داخل ہوجائے گا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ بہت بڑا باب ہے۔ اس بارے میں احادیث بہت ہیں۔ ہم نے انہیں کتاب البعث والنشور کی آٹھویں جلد میں ذکر کر دیا ہے اور ان کے بعدآخر میں ہم نے وہ اخبار و آثارذکر کی ہیں جو جنت کی تعریف اور اس کی تعداد کے بارے میں اور جہنم کی وضاحت اور اس کی تعداد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ جس کے بعد اب ان کا یہاں اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چار جنات ہیں۔ کتاب و سنت اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تعدد چار ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ رحمٰن میں ارشاد فرمایا ہے کہ : " ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمٰن 46) جو شخص اپنے رب کے آگے پیشی کے لئے کھڑے ہو نے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں (یا دو باغ ہیں)۔ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی وصف بیان کی ہے ۔ پھر ارشاد فرمایا کہ : "ومن دونھما جنتٰن (الرحمٰن 62) اور ان دو کے علاوہ یا ان کے سوا دو باغ اور ہیں۔ پھر ان دو کی وصف بیان فرمائی ہے۔ اور ہم نے حضرت موسیٰ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دو جنتیں ایسی ہیں کہ وہ دونوں سونے کی ہیں۔ اس کے برتن اور سب کچھ جو ان دونوں میں ہے (سونے کا ہے) اور دو جنتیں چاندی کی ہیں، ان کے برتن بھی اور وہ سب کچھ جو ان میں ہے( وہ چاندی کا ہے) اور ایک دوسری روایت میں ہے۔ دو جنتیں سونے کی سابقون کے لئے ہیں اور دو جنتیں چاندی کی دائیں ہاتھ والوں کے لئے ہیں۔ (یعنی جن کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے)۔ اور بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ (جنۃ الماویٰ) سب کا اور جمیع کا نام ہے۔ اسی طرح (جنۃ عدن) اور (جنۃ نعیم ) اور (دارالخلد) اور (دار السلام) اور مناسب ہے کہ (جنۃ الفردوس) بھی جمیع کا اور سب کا نام ہو اور تحقیق یہ کہاگیا ہے کہ یہ درجے کے اعتبار سے ان سب سے اونچے کی جنت کا نام ہے۔ اور جنت کے دروازے آٹھ ہیں۔ جن کے بارے میں ہم نے حدیث میں حضرت عمر حضرت سہل بن سعد اور ان دونوں کے سوا کی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی ہیں۔ اور ہم نے عتبہ بن عبد سلمی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "لھا سبعۃ ابواب لکل باب منھم جزء مقسوم (الحجر 44) جہن کے سات دروازے ہیں ۔ ہر دروازے کے لئے جہنمیوں کا ایک کوٹہ مقرر ہے۔ اور ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک دروازہ دوسرے کے اوپر ہے۔ اور ہم نے ایک مرسل حدیث مین یہ بات روایت کی ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ۔ ان کے نام یہ ہیں (1) لظی (2) الحطمۃ (3) السعیر (4) سقر (5) الجحیم (6) الھاویہ ۔ اور بعض اہل علم نے کہا کہ جہنم نام ہے تمام طبقات جہنم کا اور اس کے طبقات سات ہیں۔ نہوں نے مذکورہ چھ نام لکھا ہے اور ان کے ساتھ یہ ذکر کیا ہے۔ (7)۔۔ الحریق ۔ باقی رہا اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان پر نظر کرم کے ساتھ اکرام کرنا تو ہم نے اس کو کتاب الرؤیت میں ذکر کر دیا ہے اور اس کے ساتھ وہ دلائل بھی ذکر کر دئیے ہیں جو اس بارے میں کتاب و سنت میں آئے ہیں۔ جو شخص اس کی معرفت کا ارادہ کر ے وہ اس کے دیکھے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف: اور میرے نزدیک (حقیقت یہ ہے کہ) اگر شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ صفت ایمان کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث پر واقف ہوتے تو مطلع ہوتے اور اس میں مذکورہ اللہ کی ملاقات کی وہ تاویل کرتے جو ہمارے اصحاب رحمہم اللہ کی جماعت میں سے شیخ ابو سلیمان خطابی نے کی ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کرنے پر ایمان لانے کو ایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ قرار دیتے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات وہی اس کی رؤیت ہے اور اس کی طرف نظر کرنا اور دیکھنا ہے، جبکہ اس کے بارے میں اخبار صحیحہ کے ساتھ ساتھ کتاب اللہ کی آیات بھی آئی ہیں جو ا س کتاب اللہ میں سے دلالت کرتی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،: ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو سعد عبد الملطك بن أبي عثمان الزاهد إملاء

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 385

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 386

385 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا مسدد ثنا إسماعيل بن علية ثنا أبو حيان عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم بارزا يوما للناس فأتاه رجل فقال ما الإيمان ؟ فقال : الإيمان أن تؤمن بالله و ملائكته و كتابه و لقائه و رسله و تؤمن بالبعث و ذكر الحديث أخرجه البخاري و مسلم في الصحيح قال أبو سليمان قوله : أن تؤمن بلقائه فيه إثبات رؤية الله عز و جل الدار الآخرة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظنے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو مسدد نے ، ان کو اسماعیل بن علیہ نے، ان کو ابو حیان نے، ان کو ابو زرعہ نے ، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، انہوں نے فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں تشریف فرما تھے۔ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ اور اس کی کتاب کے ساتھ اور اس کی ملاقات کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور اتو ایمان لے آ مرنے کے بعد جی کر اٹھنے کے ساتھ۔ اور حدیث ذکر فرمائی ہے اس کو بخاری اور مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ شیخ ابو سلیمان خطابی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول : " ان تؤمن بلقا ئہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رؤ یت کا اثبات ہے آخرت میں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 386

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 387

386 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ثنا أبي عن صالح بن كيسان ثنا نافع أن عبد الله بن عمر قال : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يدخل أهل الجنة الجنة و يدخل أهل النار النار ثم يقوم مؤذن بينهم يا أهل الجنة لا موت يا أهل النار لا موت كل خالد فيما هو فيه و رواه البخاري عن علي بن عبد الله و أخرجه مسلم من حديث محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر عن جده و فيه من الزيادة ذبح الموت بين الجنة و النار و قد أخرجناه في كتاب البعث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو عباس بن محمد دوری نے، ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے، ان کو ان کے والد نے ابو صالح بن کیسان سے، ان کو نافع نے یہ کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو ں گے۔ پھر ان کے درمیان اعلان کرنے والا کھڑے ہو کر اعلان کرے گا اے جنت والو (آج کے بعد ) کوئی موت نہیں ہے اور اے جہنم والوں (آج کے بعد) کوئی موت نہیں ہے۔ ہر ایک جہاں ہے بس وہی ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اس کو بخاری نے علی بن عبداللہ سے روایت کیا ہے۔ اور مسلم نے اس کو محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر کی روایت سے ان کے دادا سے نقل کیا ہے اور روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ موت کو جنت اور جہنم کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ ہم نے اس کو کتاب البعث والنشور میں نقل کیا ہے۔

نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 387

شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 388

387 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي المؤملي ثنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش ـ ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو الوليد ثنا مسدد بن قطن ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا دخل أهل الجنة الجنة و أهل النار النار يجاء بالموت كأنه كبش أملح فينادى مناد : يا أهل الجنة هل تعرفون هذا فيشرئبون و ينظرون و كلهم قد رآه فيقولون : نعم هذا الموت ثم يؤخذ فيذبح ثم يقال : يا أهل الجنة خلود و لا موت و يا أهل النار خلود و موت قال و ذكر قول الله عز و جل : { و أنذرهم يوم الحسرة إذ قضي الأمر و هم في غفلة } قال : أهل الدنيا في غفلة لفظ حديث يعلى و رواه مسلم في الصحيح عن عثمان بن أبي شيبة

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد حسن بن علی مؤملی سے، ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے ، ان کو یعلیٰ بن عبید نے، ان کو اعمش نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ابو الولید نے، ان کو مسدد بن فطن نے ان کو عثمان بن ابی شیبہ نے ، ان کو جریر نے اعمش سے، اس نے ابو صالح سے،انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہو چکیں گے ، موت لائی جائے گی ، گویا کہ وہ مینڈھا ہے بغیر سینگ والا۔ پھر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا اے جنت والوں ، کیا تم اس کو پہچانتے ہو ؟ لہذا سب اسے گردن اٹھا کر دیکھیں گے اور سب اسے دیکھ چکیں گے۔ بولیں گے کہ ہاں یہ موت ہے۔ پھر اسے پکڑ کر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا اے اہل جنت دوام ہے ہمیشہ رہنا ہے کوئی موت نہیں ہے اور اے جہنمیوں دوام ہے ہمیشہ رہنا ہے ، کوئی موت نہیں ہے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد فرمایا : وانذرھم یوم الحسرۃ اذقضی الامر وھم فی غفلۃ (مریم 39) اور ( اے پیغمبر) ڈر ا تو ان کو حسرت و افسوس کے دن جب فیصلہ ہو چکے گا اور وہ بے خبر ی میں ہوں گے۔ فرمایا کہ اہل دنیا غفلت میں ہیں۔ اور حدیث یعلی کو مسلم نے صحیح میں عثمان بن ابی شیبہ سے روایت کیا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد الحسن بن علي المؤملي

Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 388

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood