شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 377
376 - أخبرنا أبو القاسم علي بن إبراهيم بن حامد البزاز بهمدان ثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا محمد بن أيوب ثنا محمد بن سنان العوقي ثنا همام عن قتادة عن سعيد بن أبي بردة و عن عون بن عبد الله أنهما شهدا أبا بردة يحدث عمر بن عبد العزيز عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يموت رجلة مسلم إلا أدخل الله مكانه النار يهوديا أو نصرانيا ـ فقال عون و لم ينكر سعيد على عون قوله ـ فاستحلفه عمر بالله الذي لا إله إلا هو ثلاث مرات بأن أباه حدثه عن النبي صلى الله عليه و سلم فحلف أخرجه مسلم في الصحيح من حديث عفان عن همام قال البيهقي رحمه الله : و روينا في الحديث الثابت عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل أحد الجنة إلا أري معقده من النار لو أساء ليزداد شكرا و لا يدخل النار أحد إلا أري مقعده من الجنة لو أحسن ليكون عليه حسرة
ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم علی بن ابراہیم بن حامد بزاز نے ھمدان میں ، ان کو ابو القاسم عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے، ان کو محمد بن ایوب نے، ان کو محمد بن سنان عوفی نے، ان کو ھمام نے قتادہ سے ، سعید بن ابی بردہ سے اور عون بن عبداللہ سے اور وہ دونوں ابو بردہ کے پاس حاضر تھے۔ وہ حدیث بیان کر رہے تھے عمر بن عبدالعزیز کو اپنے والد سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : جب بھی کوئی مسلمان آدمی مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں کسی یہودی یا نصرانی کو جہنم میں داخل کرتا ہے۔ پس عون نے کہا حدیث سن کر عون پر سعید نے انکار نہیں کیا تھا اس کے قول کا۔ پھر اس سے عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے قسم اٹھوائی (یعنی کہ م اس طرح قسم اٹھاؤ کہ ) مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں بس وہی معبود ہے۔ اور تین بار قسم کھا کر کہو کہ تیرے باپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث بیان کی تھی۔ سوا س نے قسم کھالی۔ اس کو مسلم نے صحیح میں عفان سے ھام سے نقل کیا ہے۔ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے وہ حدیث روایت کی ہے جو ابو زناد سے اعرج نے ابو ہریرہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جنت میں داخل نہیں کیا جاتا مگر اس کو اس کا جہنم والا ٹھکانہ نہ دکھا دیا جاتا ہے۔ اگر اس نے گناہ کیا تھا تو تانکہ وہ اس پر اللہ کا زیادہ سے زیادہ شکر کرے (کہ اللہ نے مجھے اس بری جگہ سے بچا لیا ہے) اور کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں کیا جاتا مگر اس کو اس کا ٹھکانہ جنت والا دکھا دیا جاتا ہے اگر اس نے کوئی نیکی کی تھی تاکہ اس پر حسرت و افسوس زیادہ سے زیادہ ہو۔
أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عون بن عبد الله أنهما شهدا أبا بردة ← سعيد بن أبي بردة و ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي ← أبو القاسم علي بن إبراهيم بن حامد البزاز بهمدان
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 377
