Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 341

341 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي و محمد بن موسى قالوا ثنا أبو العباس الأصم ثنا هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور عن ذر عن عبد الله بن شداد عن ابن عباس : أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم : يا رسول الله إني لأجد في نفسي شيئا لأن أكون حممة أحب إلي فقال : الحمد لله الذي أمره إلى الوسوسة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو عبداللہ اسحٰق بن محمد یوسف سوسی نے اور محمد بن موسیٰ نے ان لوگوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ،انہوں نے کہا ، ہمیں حدیث بیان کی ہے ہارون بن سلیمان اصفہانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرحمٰن بن مھدی نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے،انہوں نے ذر سے، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنے دل میں ایسی بات پاتا ہوں کہ اگر میں جل کر کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے وہ پسند ہے مگر زبان پر لانا پسند نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر کہ جس نے اپنا معاملہ وسوسہ کی طرف پھیر دیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← ذَرٍّ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 341

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 342

342 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمويه العسكري ثنا جعفر بن محمد القلانسي ثنا آدم بن أبي إياس ثنا شيبان ثنا قتادة عن ذر أبي عمر عن عبد الله بن شداد بن الهاد عن ابن عباس : أن رجلا قال : يا رسول الله إن أحدنا ليحدث نفسه تعرض له بالشيء لأن يكون حمما أحب إليه من أن يتكلم به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أكبر الحمد لله الذي رد أمره إلى الوسوسة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے کہ خبر دی ہے ابو بکر بن محمد بن احمد بن محمویہ عسکری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے جعفر بن محمد قلانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم بن ابی ایاس نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شیبان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قتادہ نے ذر بن عمر سے، انہوں نے عبداللہ بن شداد بن ھاد سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک کوئی ایک ہم میں سے اپنے نفس سے باتیں کرتا ہے، اسے کوئی ایسی شے بھی پیش آتی ہے کہ اگر وہ جل کر کوئلہ ہو جائے یہ اس کو پسند ہوتا ہے مگر اس کو زبان پر لانا گوارا نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: البتہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے۔اللہ کا شکر ہے جس نے اپنا معاملہ وسوسہ کی طرف پھیر دیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← ذر أبي عمر ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 342

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 343

343 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني عبد العزيز بن عبد الله الأويسي ثنا إبراهيم بن سعد عن ابن شهاب عن يحيى بن عمارة أبي حسن المازني بلغه : أن رجالا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم سألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الوسوسة التي يوسوس بها الشيطان في أنفسهم فقالوا : يا رسول الله أشياء نجدها في أنفسنا يسقط أحدنا من عن الثريا أحب إليه من أن يتكلم به فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أوجدتم ذلك ؟ ذاك صريح الإيمان إن الشيطان يريد أن يوقع العبد فيما دون ذلك فإذا عصم منه وقع فيما هنالك قال البيهقي رحمه الله و إنما الإيمان اغتمامه بما وقع في قلبه مما لا طاقة له بدفعه و كراهيته له و إشفاقه محبة و بالله العصمة فصل في القصاص من المظالم

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن فضل نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن جعفر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب بن سفیان نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے ، انہوں نے یحییٰ بن عمارہ بن ابی حسن مازنی سے، اس کو خبر پہنچی ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کچھ جوانوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وسوسہ کے بارے میں سوال کیا جن کا شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگ اپنے نفسوں میں اور دلوں میں ایسے ایسے خیال پاتے ہیں کہ اگر ہم ثریا ستارے پر جا کر نیچے گر جائیں (اور ہلاک ہو جائیں) تو یہ ہمیں پسند ہو گا ، مگر اس خیال کے ساتھ کلام کرنا پسند نہیں ہو گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ واقعی تم ایسے ایسے خیالات پاتے ہو؟ یہ تو صریح صاف ایما ن ہے۔ (کہ بری بات کو زبان پر لانا بھی گوارا نہ ہو ، اور برائی دور کی بات ہے اس کو زبان پر لانا بھی اس قدر برا محسوس ہو) بے شک شیطان یہ چاہتا ہے کہ وہ بندے کو ایسی ایسی برائی میں واقع کر دے۔ مگر جب بندہ ایسی برائی سے محفوظ رہتا ہے تو پھر وہ اسی برے خیال میں واقع کر دیتا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بے شک کسی انسان کا دل برے خیال کے آنے پر غمگین ہو جاتا ہے جو کہ انسان کے اپنے اختیار سے نہیں آیا۔ جس کے روکنے پر وہ قادر بھی نہیں ہوتا اور ایسےبرے خیال سے کراہت کرنا اور اس سے ڈرنا اللہ کی محبت ہے اور حفاظت تو در حقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو برائیوں سے اور برے خیالات سے حفاظت فرمائے اوراپنے خصوصی فضل و کرم سے ہمارے مغفرت فرمائے اور آخرت میں عذاب جہنم سے بچائے اور دخول جنت سے سرفراز فرمائے۔ آمین یا رب العالمین (مترجم)۔

يحيى بن عمارة أبي حسن المازني بلغه ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 343

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 344

344 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن نعيم ثنا قتيبة بن سعيد ثنا إسماعيل بن جعفر عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قال : أتدرون من المفلس ؟ قالوا : المفلس من لا درهم له و لا متاع فقال : إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة و صيام و زكاة و يأتي قد شتم هذا و قذف هذا و أكل مال هذا و سفك دم هذا و ضرب هذا من حسناته و هذا من حسناته فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه ثم طرح في النار رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة قال البيهقي رحمه الله و قد ذكرنا متن هذا الحديث في باب زيادة الإيمان و نقصانه و قد ذكرنا تفسيره و هو أن من لم ير إحباط الحسنة بالسيئة في الإيمان يقول : يعطي خصمه من أجر حسناته الذي تقابل عقوبة سيئاته و لا يذهب جميعه لأن أجر حسناته لا نهاية له و عقوبة سيئاته له نهاية فلا يستحق ما لا نهاية له بما له نهاية و قوله : إن فنيت حسناته يعني آخرها قابل منها بسببه و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ، انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن نعیم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن جعفر نے علاء بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ غریب مفلس کون ہے؟صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ مفلس وہ ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو، سامان ضرورت نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزے ، زکوٰۃ (غرضیکہ ساری نیکیاں لے کر آئے مگر اس نے (دنیا میں) کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کو تہمت لگائی ہو گی ، کسی کامال کھایا ہو گا۔ کسی کا ناحق خون بہایا ہو گا۔ کسی کوپیٹا ہوگا۔ لہذا سب کو باری باری اس کی نیکیاں اس کی زیادتیوں کے بدلے چکانے کے لئے) دی جائیں گی۔ پھر اگر اس کی نیکیاں اس کےمظالم کا بدلہ پورا کرنے سےپہلے ختم ہو گئیں (تو بدلہ پورا کرنے کے لئے) مظلوموں اور زیادتی شدہ لوگوں کے گناہ لے کر اسی بندے کے اوپر ڈالے جائیں گے (اب صورتحال کچھ یوں ہو جائے گی کہ نیکیاں ساری برباد اور گنام لازم ، وہ بھی دوسروں کے گناہ۔ اب وہ غریب اور مفلس ترین انسان ہو گا، آخرت کےاور اعمال کے اعتبار سے)پھر اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ( اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے بچائے) اس کومسلم نے صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے۔ قول بیہقی رحمۃ اللہ علیہ: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے اس حدیث کا متن باب زیادۃ الایمان و نقصانہ میں ذکر کیا ہے اور اس کی وضاحت بھی ذکر کی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ جو لوگ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ ایمان کے ہوتے ہوئے گناہوں کےبدلے میں نیکیاں برباد ہو جائیں گی وہ کہتے ہیں کہ خصم کو اور دعویدار کو اس کی نیکیوں کے اجر میں سے دیا جائے گا ۔ ان نیکیوں کا اجر جو اس کے گناہوں کی سزا کے بدلے میں ہوں گی، تمام نیکیاں گناہ کے بدلے میں نہیں جائیں گی۔ اسلئے کہ نیکیوں کے اجر کی انتہاء نہیں ہوتی اور گناہوں کی سزا کی حدود انتہاء ہوتی ہے۔ لہذا جس چیز کی حدود انتہاء ہے۔ اس کے بدلے میں وہ چیز لینا جس کی حد نہیں ہے۔ یہ کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہو گا۔ باقی رہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول: ان فنیت حسناتہ۔ اگر اس کی نیکیاں فنا ہو گئیں سے آپ کی مراد ہے ان کا آخر ہو جانا یعنی آخری نیکی اس کی نیکیوں میں سے جو سب کے مقابل ہو گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 344

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 345

345 - أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان و أبو يعلى قالا ثنا محمد و هو ابن المنهال ثنا يزيد بن زريع ثنا سعيد عن قتادة عن أبي المتوكل عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذه الآية : { و نزعنا ما في صدورهم من غل إخوانا على سرر متقابلين } قال : يخلص المؤمنون على الصراط فيحبسون على قنطرة بين الجنة و النار فيقتص لبعضهم من بعض مظالم كانت بينهم في الدنيا حتى إذا هذبوا و نقوا أذن لهم في دخول الجنة فو الله إن أحدهم لأهدى لمنزله في الجنة من منزله في الدنيا قال قتادة : كان يقال ما يشبه بهم إلا أهل الجمع انصرفوا من جمعهم رواه البخاري في الصحيح عن الصلت بن محمد عن يزيد بن زريع قال البيهقي رحمه الله و هذا يحتمل أن يكون المراد به حتى إذا ذهبوا و نقوا بأن يرضى عنهم خصماؤهم و رضاهم قد يكون بالاقتصاص كما مضى في حديث أبي هريرة و قد يكون بأن يثيب الله المظلوم خيرا من مظلمته و يعفو عن الظالم برحمته

ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو محمد بن عبداللہ ادیب نے خبر دی ہے ابو بکر اسماعیلی نے کہ مجھے خبردی ہے حسن بن سفیان نے اور ابو یعلی نے ان دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد نے اور وہ ابن منھال ہیں۔ انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ہے۔ یزید بن زریع نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید نے قتادہ سے انہوں نے ابوالمتوکل سے انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کےبارے میں: "ونزعنا ما فی صدورھم من غل اخوانا علی سرر متقابلین (الحجر 47) اہل جنت کےسینوں میں سے ہم کھوٹ اور کدورت نکال دیں گے۔ بھائی بھائی ہوں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھنے والے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن (جنت کے ) راستے پر گذر رہےہوں گے کہ جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل کے اوپر روک لئے جائیں گے اور بعض سے بعض کے ایک دوسرے کے لئے مظالم کا جو دنیا میں ہوتے تھے بدلہ لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب لوگ خوب تہذیب و تنقید کر لئے جائیں گے (یعنی گناہوں سے صاف ہو جائیں اور ایک دوسرے کے حقوق سے) تو ان کےلئے جنت میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ اللہ کی قسم ہر انسان جنت میں اپنے ٹھکانے کو اس سے زیادہ پہچانے گا جتنا وہ نیا میں اپنے گھر کو پہچانتا ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :ان کی مثال اس جماعت سےدی جا سکتی ہے جو اپنے مجمع سے لوٹ گئی ہو۔ اس کوبخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں صلت بن محمد سے انہوں نے یزید بن زریع سے۔ امام بیہقی کا قول: یہ حدیث احتما ل رکھتی ہے کہ اس سے مراد ہو کہ جب لوگ تہذیب و تنقید اور صاف ہونے کے عمل سے گذر چکیں گے۔ بایں صورت کہ ان سے ان کے مخالف اوردعویدار راضی ہو جائیں گے اور ان کا راضی ہونا کبھی تو قصاص اور بدلے کے سبب ہو گا۔ جیسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے اور کبھی بایں صورت ہو گا کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کو ظالم سے بہتر اور ثواب عطافرمائیں گے اور ظالم کو اپنی رحمت سے معاف فرما دیں گے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← محمد و هو ابن المنهال ← الحسن بن سفيان و أبو يعلى ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 345

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 346

346 - و قد روي فيه ما : حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى الهلالي ثنا أبو داود الطيالسي ثنا عبد القاهر بن السري حدثني بن لكنانة بن العباس بن مرداس السلمي عن أبيه عن جده عباس بن مرداس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعا عشية عرفة لأمته بالمغفرة و الرحمة فأكثر الدعاء فأوحى الله إليه أني قد فعلت إلا الظلم بعضهم بعضا و أما ذنوبهم فيما بينهم و بيني قد غفرتها فقال : يا رب إنك قادر على أن تثيب هذا المظلوم خيرا من مظلمته و تغفر لهذا الظالم فلم يجبه تلك العشية فلما كان غداة المزدلفة أعاد الدعاء فأجابه أني قد غفرت لهم قال فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له بعض أصحابه يا رسول الله تبسمت في ساعة لم تكن تتبسم فيها قال : تبسمت من عدو الله إبليس أنه لما علم أن الله تعالى قد استجاب لي في أمتي أهوى يدعو بالويل و الثبور و يحثو التراب على رأسه قال البيهقي رحمه الله و هذا الحديث له شواهد كثيرة و قد ذكرناها في كتاب البعث فإن صح بشواهده ففيه الحجة و إن لم يصح فقد قال الله عز و جل : { و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء } و ظلم بعضهم بعضا دون الشرك و في الحديث الثابت عن زيد بن وهب عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أتاني جبريل فأخبرني أنه من مات من أمتي لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة قال : قلت يا رسول الله و إن زنى و إن سرق قال : و إن زنى و إن سرق

اس بارے میں وہ حدیث بھی مروی ہے جو ہمیں ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے حدیث بیان کی ہے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن حسین قطان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن حسین ابو عیسیٰ ہلالی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو داؤد طیالسی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالقاہر بن سری نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابن الکنانہ بن عباس بن مرداس سلیمی نے اپنے والد سے، اس نے اپنے دادا عباس بن مرداس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کی اور دعا کی کثرت فرمائی۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ میں نے ساری دعائیں قبول کر لی ہیں سوائے ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کے۔ باقی رہے ان کےگناہ تو وہ میرے اور بنددوں کےمابین ہیں وہ میں نے معاف کر دئیے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دعا کی کہ اے میرے رب تو اس بات پر بھی قادر ہے کہ مظلوم کو اس پر ہونے والے ظلم سے بہتر ثواب عطا کر دے اور ادھر ظالم کو بھی معاف کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس دعا کو اس شام قبول نہیں فرمایا، پھر جب مزدلفہ کی صبح ہوئی تو آپ نے پھر دعا کی۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا اور فرمایا کہ میں نے ان کو بھی بخش دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے ، آپ کے بعض اصحاب نے آپ سے دریافت کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ اس وقت مسکرائے ہیں جبکہ بظاہر مسکرانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ فرمایا کہ میں مسکرایا ہوں اللہ کے دشمن ابلیس پر۔ اس کو جب یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے بارے میں میری دعا قبول کر لی ہے تو وہ پلٹ کر ویل اور ہلاکت کو پکار رہا ہے اور اپنے سر میں مٹی ڈال رہا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے شواہد کثیر ہیں جنہیں ہم نے کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دیا ہے۔ اگر یہ اپنے شواہد سمیت صحیح ہے تو اس میں مسئلہ مذکور کی حجت ہے اور اگر صحیح نہیں ہے تو (بھی مسئلہ کی حجت قرآن میں موجود ہے) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "ویغفر مادون ذالک لمن یشاء" (النساء 48-116)شرک کے ماسوا جس کے لئے چاہے گا معاف فرما دے گا۔ اور لوگوں کے ایک د وسرے پر مظالم ماسوائے شرک میں داخل ہیں۔ اور ثابت کی حدیث میں زید بن وھب سے ابو ذر سےنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور مجھے خبر دی ہے کہ جو شخص میری امت میں سے مر گیا جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر وہ زنا کرے اور چوری کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (بالکل جنت میں جائے گا) اگر زنا کرے اور چوری کرے۔

جده عباس بن مرداسٍ: ← أَبِيهِ ← بن لكنانة بن العباس بن مرداس السلمي ← عبد القاهر بن السري ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← علي بن الحسن بن أبي عيسى الهلالي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← و قد روي فيه ما

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 346

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 347

347 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانئ ثنا السري بن خزيمة ثنا عمر بن حفص ثنا أبي ثنا الأعمش ثنا زيد بن وهب : فذكره في حديث طويل رواه البخاري في الصحيح عن عمر بن حفص و أخرجه مسلم من أوجه أحدها عن الأعمش قال : البيهقي رحمه الله رواه أبو الأسود الديلي عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من عبد قال : لا إله إلا الله ثم مات على ذلك إلا دخل الجنة قال : قلت و إن زنى و إن سرق قال : و إن زنى و إن سرق على رغم أنف أبي ذر و قد أخرجاه في الصحيح و له شواهد عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه و سلم ثم عن عثمان بن عفان و عبد الله بن مسعود و عبادة بن الصامت و جابر بن عبد الله و غيرهم عن النبي صلى الله عليه و سلم و ليس بين هذه الأحاديث و بين حديث أبي هريرة و أبي سعيد منافاة و قد يكون دخوله الجنة بعد الاقتصاص و الاقتصاص قد يكون بالتعذيب على ما طرح عليه من السيئات فيبقى مرتهنا بسيئاته و سيئات خصمه و قد يثيب الله تعالى المظلوم و يعفو عن الظالم إن صح الخبر الوارد به أما التعزيز بالنفس فما لا يرضاه عاقل و من لا يصبر على وجع سن و حمى يوم فحقيق أن يحترز من أمر يعرضه لعذاب وجيع و عقاب أليم لا يعلم شدته و لا نهايته إلا الله عز و جل و قد جاء في حديث أبي ظلال عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه و سلم أن عبدا في جهنم ينادي ألف سنة يا حنان يا منان حتى يأمر به جبريل عليه التسليم فيخرجه منها نعوذ بالله من عذاب الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ہانی نے اس کو سری بن خزیمہ نے ان کو عمر بن حفص نے ان کو ان کے والد نے ، ان کو اعمش نے ان کو زید بن وھب نے پھر اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں عمر بن حفص سے اور مسلم نے کئی طریقوں سے اور اعمش سے روایت کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس کو ابو الاسود دیلی نے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو بھی بندہ لا الہۃ الا اللہ کہتا ہے پھر مر جاتا ہے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا ہوا ہو۔ آپ نے فرمایا اگر چہ چوری اور زنا بھی کیا ہو ابی ذرکی مرضی کے خلاف بھی۔ بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے اور اس حدیث کے کئی شواہد ہیں۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور عبداللہ بن مسعود عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان تمام روایات میں اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو سعید کی روایات میں کوئی مخالف بات نہیں ہے۔ گناہگار مومن کا جنت میں دخول کبھی تو قصاص کے اور بدلے کے بعد ہو گا اور بدلہ کبھی عذاب دینے کے ساتھ ہو گا۔ بایں صورت کہ مظلوم کی غلطیاں اور گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے۔ لہذا یہ بے چارہ اپنے اور اپنے مخالف دعویدار کے گناہوں میں پھنس کر رہ جائے گا اور کبھی اللہ تعالیٰ مظلوم کو از خود ثواب دیں گے اور ظالم کو بھی از خود معاف فرما دیں گے ۔ بشرطیکہ اس بارے میں آنے والی حدیث صحیح ہو۔ باقی رہا قصاص اور بدلہ نفس کا نفس کے ساتھ اس کا کوئی عقل مند قائل نہیں ہے۔ جو انسان دانت کے درد اور ایک دن کے بخار کے ساتھ صبر نہ کر سکے اسے چاہیے کہ ہر ایسے امر سے اجتناب کرے جو اس کو دردناک عذاب اور خطر ناک سزا سے دو چار کر دے، جس کی شدت اور سختی کا کسی کو اندازہ نہیں اور انتہاء کا علم نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے ۔ حدیث ابی ظلال میں حضرت انس بن مالک سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ ایک بندہ قیامت کے دن جہنم میں ہزار سال تک پکارتا رہے یا حنان یا منان پھر جبرئیل علیہ السلام کو حکم ہو گا تو وہ اسے جہنم سے نکالیں گے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔

الْاَعْمَشِ ← عمر بن حفص و أخرجه مسلم من أوجه أحدها ← زيد بن وهب فذكره في حديث طويل رواه البخاري في الصحيح ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 347

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 348

348 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا محمد بن حسان الأزرق ثنا عبد الرحمن بن مهدي قال كان حزم بن أبي حزم يقول : اللهم من ظلمناه بمظلمة فأثبه من مظلمتنا خيرا و اغفر لنا و من ظلمنا بمظلمة فأثبنا من مظلمته و اغفرها له

یہی خبر دی ہے ابو سعید بن ابو عمرو نے، ان کو ابو عبداللہ صفار نے، ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے، ان کو محمد بن حسان اذرق نے، ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ، وہ کہتے ہیں کہ حزم بن ابی حزم کہتے تھے : اے اللہ جس پر ہم نے کوئی ظلم و زیادتی کی ہو اللہ تو اس کو ہماری زیادتی کے بدلے میں بہتر ثواب عطا فرما اور اس کو ظلم کو ہم سے معاف فرما اور جس نے ہمارے اوپر کوئی زیادتی کی ہو اللہ تو ہمیں اس کے ظلم کے بدلے میں ثواب عطافرما اور اس زیادتی کو اس سے معاف فرما۔

كان حزم بن أبي حزم ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 348

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 349

349 - قال و ثنا أبو بكر حدثني رجل من عبد القيس من أهل البصرة قال كانت رابعة العابدة تقول : اللهم وهبت من ظلمني فاستوهبني ممن ظلمت

انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ ایک آدمی نے عبدالقیس سے اہل بصرہ سے، اس نے کہا رابعہ بصریہ عابدہ کہتی تھیں اے اللہ میں نے اس کو معاف کیا ہے، جس نے مجھ پر زیادتی کی ہے۔ اے اللہ تو بھی مجھے اس سے معاف کر وا دے جس پر میں نے زیادتی کی ہو۔ فصل:۔۔۔۔ حیات دنیاوی کے اختتام اور حیات اخروی کے آغاز کی کیفیت اور قیامت کے دن وضاحت " اشراط و علامات" امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : دنیوی حیات کے اختتام کے متعدد مقدمات اور پیش آمدہ امور ہیں۔ جنہیں قیامت کی شرطیں کہا جاتا ہے اور وہی قیامت کی علامات اور نشانیاں ہیں۔ (1)۔۔۔ دجال کا نکلنا۔ (2)۔۔۔ حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول۔ (3)۔۔۔دجا کا قتل ہونا۔ (4) یاجوج ماجوج کا نکلنا ۔ (5)۔۔۔ دلبۃ الارض کا نکلنا۔ (6)۔۔۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ یہ قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ اور وہ امور جو ان مذکورہ اشراط و علامات سے پہلے وجود میں آئیں کہ وہ یہ ہیں: (1)۔۔۔علم کا قبض ہونا۔ (2)۔۔۔جہالت کا غلبہ ہونا۔ (3) ۔۔۔ اہل علم میں تکبر و تعلیٰ۔ (4)۔۔۔ علم و حکمت کو بیچنا۔ (5)۔۔۔گانے بجانے کے آلات کا ظاہر ہو جانا ۔ (6)۔۔۔شرا ب نوشی کا عام ہونا۔ (7) ۔۔۔ عورتوں کا عورتوں سے اپنی خواہش پوری کرنا۔ (8)۔۔۔مردوں کا مردوں کے ساتھ اپنی خواہش پوری کرنا۔ (9)۔۔۔بڑی بڑی عمارات بنانا۔ (10)۔۔۔لڑکوں (یعنی غیر پختہ رائے رکھنے والوں) کا حکومت و اقتدار کرنا۔ (11)۔۔۔ امت مسلمہ کے پچھلے طبقے کا پہلے طبقے کو لعنت کرنا (یا برا کہنا یا غلط کہنا)۔ (12)۔۔۔ قتل کی کثرت ہو جانا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ تمام مذکورہ امور اسباب حادث ہیں اور ان تمام خبروں کے عیاں ہو جانے اور ظاہر ہوجانے کے باوجود ان کے بارے میں ڈرانے اور متنبہ کرنے والی احادیث کو نقل کرنا تکلف ہے اور غیر ضروری ہے۔ علاوہ ازیں وہ احادیث جو بڑ ی بڑی نشانیوں کے بارے میں آئی ہیں ، ہم نے ان کو کتاب البعث والنشور میں درج کر دیا ہے۔ لہذا یہاں اب ان کے دوبارہ نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ جب قیامت قائم ہونے کی شرائط پوری ہو جائیں گی اور وہ وقت آن پہنچے گا جو اللہ تعالیٰ تمام زندہ مخلوقات کو خواہ وہ آسمانوں میں رہتی ہوں یا زمین میں یا سمندر میں مارنے اور ختم کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو اسرافیل علیہ السلام کو حکم دیں گے ، وہ بعض اہل علم کے نزدیک عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک ہیں اور صاحب لوح محفوظ ہیں۔ وہ صور پھونکیں گے، وہی قرن ہے۔

كانت رابعة العابدة تقول اللهم وهبت من ظلمني فاستوهبني ممن ظلمت ← رجل من عبد القيس من أهل البصرة ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 349

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 350

350 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر محمد بن مهرويه الرازي ثنا عمرو بن تميم ثنا أبو نعيم ثنا سفيان الثوري عن سليمان التيمي عن أسلم العجلي عن بشر بن شغاف عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن الصور قال : قرن ينفخ فيه

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے، ان کو ابو بکر محمد بن مہرویہ رازی نے ، ان کو عمرو بن تیم نے، ان کو ابو نعیم نے، ان کو سفیان ثوری نے ، ان کو سلیمان تیمی نے ، ان کو اسلم عجلی نے، ان کو بشر بن شغاف نے ، ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صور کے بارے میں پوچھاگیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ ایک قرن (یعنی سینگ) ہے۔ اس میں پھونک ماری جائے گی۔

«قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ» ← الصور، ← سئل النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، ← أبو بكر محمد بن مهرويه الرازي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 350

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 351

351 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا محمد بن بشار ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن النعمان بن سالم قال : سمعت يعقوب بن عاصم بن عروة بن مسعود قال : سمعت رجلا قال لعبد الله بن عمرو : إنك تقول الساعة تقوم كذا و كذا فقال : لقد هممت ألا أحدثكم بشيء إنما قلت إنكم ترون بعد قليل أمرا عظيما فكان حريق البيت فقال شعبة هذا أو نحوه قال عبد الله بن عمرو قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يخرج الدجال في أمتي فيمكث فيهم أربعين لا ندري أربعين يوما أو أربعين شهرا أو أربعين عاما فيبعث الله عز و جل عيسى ابن مريم كأنه عروة بن مسعود الثقفي فيطلبه فيهلكه ثم يلبث الناس بعده سبع سنين ليس بين اثنين عداوة ثم يرسل الله عز و جل ريحا باردا من قبل الشام فلا يبقى أحد في قلبه مثقال ذرة من الإيمان إلا قبضته حتى لو أن أحدكم دخل في كبد جبل لدخلت عليه قال سمعتها من رسول الله صلى الله عليه و سلم و يبقى شرار الناس في خفة الطير و أحلام السباع لا يعرفون معروفا و لا ينكرون منكرا فيتمثل لهم الشيطان فيقول ألا تستحيون فيأمرهم بالأوثان فيعبدونها و هم في ذلك دارة أرزاقهم حسن عيشهم ثم ينفخ في الصور فلا يسمعه أحد إلا أصغى ليتا ـ و رفع فيدار ( و هو خطأ ) إحدى منكبيه ـ و أول من يسمعه يلوط حوضه فيصعق ثم لا يبقى أحد إلا صعق ثم يرسل أو ينزل الله مطرا كأنه الطل أو الظل ـ النعمان الشاك ـ فينبت منه أجساد الناس ثم ينفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون ثم يقال يا أيها الناس هلموا إلى ربكم عز و جل وقفوهم إنهم مسؤولون ثم يقال أخرجوا بعث النار فيقال كم ؟ فيقال من كل ألف تسعمائة و تسعة و تسعون قال محمد بن جعفر و حدثني شعبة بهذا الحديث مرات و عرضته عليه رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن بشار قال البيهقي رحمه الله و لم يذكر عبد الله بن عمرو في هذا الحديث سائر الاعلام من خروج يأجوج و مأجوج و الدابة و طلوع الشمس من مغربها و قد ذكر غيره خروج يأجوج و مأجوج بعد نزول عيسى بن مريم و إرسال الله عليهم النغف و موتهم في قيام الساعة بعد ذلك و ذكر هو عن النبي صلى الله عليه و سلم أن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها و خروج الدابة على الناس ضحى فأيهما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على أثرها و قال من قبل نفسه : فأظن أولها خروجا طلوع الشمس من مغربها و إنما قال ذلك عبد الله بن عمرو حين أخبر بقول مروان بن الحكم أن أول الآيات خروجا الدجال فإذا كان حديث عبد الله صحيحا فهو أولى من غيره و هو صحيح لا شك فيه لصحة إسناده و الله أعلم و لا شك في كون هذه الآيات قبل النفخ في الصور تقدم بعضها أو تأخر و كلما هو آت قريب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ، ان کو محمد بن بشار نے ان کو محمد بن جعفر نے ، ان کو شعبہ نے ان کو نعمان بن سالم نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ایک آدمی سے اس نے کہا میں نے سنا عبداللہ بن عمرو سے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ قیامت ایسے ایسے قائم ہو گی۔ انہوں نے فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا۔ میں کہتا ہوں کہ تم لوگ تھوڑے ہی دنوں کے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے (تھوڑے ہی دنوں کے بعد ) بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ پیش آ گیا ۔ شعبہ نے کہا یہ بات یہ اس جیسی بات۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں دجال نکلے گا اور وہ چالیس رہے گا ان میں۔ میں نہیں جانتا کہ دن، مہینے یا سال۔ پھر اللہ تعالیٰ ان میں عیسیٰ بن مریم کو بھیجیں گے ۔ وہ عروہ بن مسعود ثقفی جیسے ہوں گے۔ آ کر دجال کو تلاش کریں گے اور اس کو قتل کر دیں گے۔ پھر سات برس تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ دو آدمیوں میں بھی جھگڑا نہیں ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلائیں گے۔ جس سے ہر وہ آدمی انتقال کر جائے گا۔ جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر ایمان ہو گا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کے جگر میں داخل ہو جائے تو وہ ہوا اس پر بھی پہنچ جائے گی۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اور بدترین لوگ زندہ باقی رہ جائیں گے۔ پرندوں کے ہلاک ہونے میں اور درندوں کے خوابوں میں (یعنی برائیوں کی طرف پرندوں کی طرح اڑ کر جائیں، اخلا میں درندوں کی طرح ) جو کسی نیکی کو نیکی نہیں سمجھیں گے اور کسی برائی کو برائی نہیں جانیں گے۔ شیطان ان کے سامنے بھیس بدل کر آئے گا اور ان سے کہے گا کیا تم لوگ شرم نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو کہے گا اور وہ بتوں کی عیادت کریں گے ۔ وہ اس کیفیت میں رزق کی فراوانی میں ہوں گے ، زندگی عیش کی ہو گی۔ اس کےبعد صور پھونک دیا جائے گا جو بھی سنے گا وہی کان لگائے گا اور کان لگاتے ہی مر جائے گا ۔ جو نظر اُٹھائے گا نیچے کرنے سے پہلے مر جائے گا جو کروٹ پھرے گا مڑنے سے پہلے مر جائے گا۔ پہلا شخص جو اس کی آواز سنے گا وہ پانی کو حوض پلاستر کر رہاہو گا سن کر بے ہوش ہو جائے گا۔ اس کے بعد کوئی بھی باقی نہیں رہےگا۔ سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش کریں گے۔ پھنوار کی طرح یا سائے کی طرح۔ نعمان کو شک ہے۔ اس بارش سے لوگوں کے جسم اگیں گے۔ اس کے بعد دوسری بار صور پھونکا جائے گا۔ (جس کے نتیجے میں لوگ) اچانک کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ (زندہ ہو کر) اس کے بعد لوگوں سے کہا جائے گا چلو تم اپنے رب کے پاس (اعلان ہو گا) روکو، ان کو ان کا حساب ہو گا۔ اس کے بعد کہا جائے گا کہ آگ اور جہنم کے لئے لوگوں کو نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنی تعداد میں؟ جواب آئے گا ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں بھیجو۔ محمد بن جعفر نے کہا کہ شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار بیان کی اور میں نے اس کو اس پر پیش بھی کیا تھا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن بشار سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمرو نے اس حدیث میں تمام بڑی بڑی نشانیاں ذکر نہیں فرمائیں جیسے یا جوج ماجوج کا نکلنا۔ دلبۃ الارض کا ظہور۔ سورج کا مغرب سے طلوع ۔ عبداللہ بن عمرو کے سوا باقیوں نے عیسیٰ بن مریم کے نزول کے بعد یا جوج ماجوج کا خروج ذکر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یاجوج ماجوج پر وبائی مرض کے ساتھ موت بھیجناقیامت قائم ہونے پر اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ظہور کے اعتبار سے پہلی نشانی سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے اور دلبۃ الارض کا ظہور صبح چاشت کے وقت ہو گا۔ دونوں میں سے جو پہلے ظاہر ہو ئی دوسری چیز اس کے پیچھے ہو گی۔ پھر انہوں نے اپنی طرف سے یہ بات کہی کہ میرا گمان ہے کہ ظہور کے اعتبار سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہو نا ہو گا۔ ہاں یہ بات عبداللہ بن عمرو نے اس وقت کہی تھی جب انہوں نے مروان بن حکم کے قوم کے بارے میں خبر دی تھی کہ خروج کے اعتبار سے پہلی نشانی دجا ل کا ظہور ہو گا۔ جب حدیث عبداللہ صحیح ہے تو وہ اپنے ماسوا سے اولیٰ ہے۔ اور وہ صحیح ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کی اسناد صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ ان نشانیوں کے صور پھونکنے سے قبل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔ بعض پہلے یا بعض بعد میں ہوں گی۔ مگر جو چیز آنے ولی ہے وہ قریب ہے۔

رَجُلًا ← يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 351

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 352

352 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا أبو عمرو سعيد بن حفص خال النفيلي ثنا موسى بن أعين عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد و عن عمران يعني البارقي عن عطية عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف أنعم و صاحب القرن قد التقمه فأصغى سمعه و حنا جبينه ينتظر متى يؤمر فينفخ قالوا يا رسول الله كيف نقول قال : قولوا حسبنا الله و نعم الوكيل على الله توكلنا

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے، ان کو احمد بن عبید صفار نے ، ان کو جعفر بن محمد فریابی نے، ان کو ابو عمر و سعید بن حفص خالد نفیلی نے ، ان کو موسیٰ بن اعین نے اعمش سے، انہوں نے ابو صالح سے ، انہوں نے ابی سعید سے اور عمران بارقی سے، انہوں نے عطیہ سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: کیسی لگی ہیں یہ نعمتیں، حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے اسے منہ میں لے لیا ہے اور حکم سننے کے لئے کان لگا لیا ہے اور جبین جھکائے منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ پھونک مار دے۔ لوگوں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، تم یوں کہو: " حسبنا اللہ ونعم الوکیل علی اللہ توکلنا " ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ، ہم نے اللہ پر ہی بھروسہ کیا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← عمران يعني البارقي ← أبي سعيد و ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أبو عمرو سعيد بن حفص خال النفيلي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 352

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood