Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 329

329 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان قال حدثني عبد العزيز بن عبد الله ثنا إبراهيم بن سعد عن ابن شهاب عن سعيد بن مرجانة قال : جلست إلى عبد الله بن عمر فتلا هذه الآية : { لله ما في السموات و ما في الأرض } إلى آخرها فبكى حتى سمع نشيجه فقمت حتى أتيت ابن عباس فأخبرته بما تلا ابن عمر فقال يغفر الله لأبي عبد الرحمن لقد وجد المسلمون منها حين نزلت مثل ما وجد ما وجد عبد الله فأنزل الله عز و جل : { لا يكلف الله نفسا إلا وسعها } و كانت الوسوسة مما لا طاعة للمسلمين به فصار الأمر بعد إلى قضاء الله تعالى أن النفس لها ما كسبت و عليها ما اكتسبت في القول و الفعل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے کہ خبر دی ہے عبداللہ بن جعفر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب بن سفیان نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عبدالعزیز بن عبداللہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے سعید بن مرجانہ سے اس نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: "للہ ما فی السموات وما فی الارض" آخر تک پڑھنے کے بعد رو پڑے، یہاں تک کہ میں نے ان کا گلا بھرانے کی آواز سنی۔ میں وہاں سے اٹھ کر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور میں نے ان کو اس بات کی خبر دی ہے جو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تلاوت کی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمٰن کی یعنی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معاف فرمائے۔ البتہ تحقیق مسلمان اس وقت بھی اسی طرح رنجیدہ خاطر اور دکھی ہوئے تھے جب یہ آیت اتری تھی جیسے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دکھی ہوئی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی: "لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا" اللہ تعالیٰ کسی کو ا س کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتے۔ اور وسوسہ بھی ان باتوں میں سے تھا جس کے ساتھ مسلمانوں کی طاقت نہیں تھی۔ پھر معاملہ اللہ کی قضاء کے سپرد ہو گیا کہ نفس کے بھلے کے لئے جو نیکی کرے گا اور اسی کے برے کےلئے جو برائی کرے گا، خواہ یہ بات قول میں ہو خواہ عمل میں ہو۔

سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 329

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 330

330 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنا محمد بن الحسين بن مكرم بالبصرة ثنا محمد بن الحسن بن تسنيم ثنا روح ثنا شعبة عن خالد يعني الحذاء عن مروان الأصفر : عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أحسبه ابن عمر : { إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله } قال نسختها الآية التي بعدها رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق بن منصور عن روح قال البيهقي رحمه الله و هذا النسخ بمعنى التخصيص و التبين فإن الآية الأولى و ردت مورد العموم فوردت الآية التي بعدها فبينت إنما لا يخفى ما لا يؤاخذ به و هو حديث النفس الذي لا يستطيع العبد دفعه عن قلبه و هذا لا يكون منه كسب في حدوثه و بقائه و كثير من المتقدمين كانوا يطلقون عليه اسم النسخ على الاتساع بمعنى أنه لولا الآية الأخرى لكانت الآية الأولى تدل على مؤاخذاته بجميع ذلك و يحتمل أن يكون هذا خبرا مضمنا بحكم و كأنه حكم بمؤاخذة عباده بجميع ذلك و تعبدهم به و له أن يتعبدهم بما شاء فلما قابلوه بالسمع و الطاعة خفف عنهم و وضع عنهم حديث النفس فيكون قوله { يحاسبكم به الله } خيرا مضمنا لحكم أي حكم بمحاسبتكم به و هذا كقوله عز و جل : { إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين } أي حكم بذلك ثم قال : { الآن خفف الله عنكم و علم أن فيكم ضعفا فإن يكن منكم مائة صابرة يغلبوا مائتين } فنسخ الحكم الأول و أثبت الثاني كذلك هذا و الله أعلم و هذا الذي كتبته مختصر من جملة ذكرها الشيخ الإمام أبو بكر الإسماعيلي رحمه الله في هذا الباب فيما أخبرناه أبو عمرو الأديب عنه و ذكر فيما لا يؤاخذ به من حديث النفس معنى ما ذكرناه ثم قال و على هذا المعنى ما روي : لك النظرة الأولى و ليست لك الثانية إذا كانت الأولى لا عن قصد تعمد فإذا أعاد النظر فهو كمن حقق الخطرة قال البيهقي رحمه الله إذا تحقق الخطرة فهو كمن حقق النظر و بالله التوفيق و قال أبو سليمان الخطابي رحمه الله : النسخ لا يجري فيما أخبر الله به عنه أنه كان و أنه فعل ذلك فيما مضى لأن يؤدي إلى الكذب و الخلف و يجري عند بعضهم فيما أخبر أنه يفعله و ذلك أن ما أخبر أنه يفعله يجوز أن يفعله بشرط و إخباره عما فعله لا يجوز دخول الشرط فيه و هذا أصح الوجه و عليه تأول ابن عمر الآية و يجري ذلك مجرى العفو و التخفيف عن عباده و هو كرم منه و فضل و ليس بخلف قال و أما ما تعلق من الأخبار بالأمر و النهي فالنسخ فيه جائز عند جماعة من الناس و سواء كان ذلك خبرا عن ماض أو عن زمان مستقبل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو علی حسین بن علی حافظ نے کہ خبر دی ہے محمد حسین بن مکرم نے بصرہ میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن حسن بن تسنیم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے روح نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے خالد حذاء سے، انہوں نے مروان سے، اس نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے سے ایک آدمی سے، میرا گمان ہے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ: "وان تبدو ا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ " (البقرہ : 284) فرمایا کہ اس کومنسوخ کر دیا ہے اس کے بعد والی آیت نے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے اسحاق بن منصور سے، اس نے روح سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ نسخ بمعنی و تبیین ہے اور پہلی آیت عموم کے مورد میں وارد ہوئی ہے۔ لہذا بعد والی آیت آئی ہے اور آکر یہ بیان کیا ہے کہ وہ چیز مخفی نہیں ہے جس کا مواخذہ نہ کیا جائے گا۔ وہ ہے حدیث نفس (دل کی بات کا دل کاخیال) انسان جس کو دل سے دفع کرنے یا روکنے کی استطاعت نہیں رکھتا ، یہ انسان کی طرف سے اس خیال کو پیدا کرنے اور باقی رکھنے میں انسا کا کسب نہیں ہے۔ اور متقدمین سے بہت سے لوگ اس پر نسخ کے نام کا اطلاق کرتے تھے بر بناء اتساع کے او ر وسعت کرنے کے بایں معنی کہ اگر دوسری آیت نہ ہوتی تو پہلی آیت ان تمام امور کے مواخذے پر دلالت کرتی ہے۔ احتمال: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: احتمال یہ ہے کہ یہ آیت ایسی چیز ہے جو حکم کو متصمن ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے ان تمام چیزوں کے ساتھ مواخذہ کرنے کا فیصلہ فرمایا اورا ن سے اس چیز کو عبادت بنانے کا حکم فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کو پورا پورا اختیار ہے کہ جس چیز کو چاہے ان کے لئے عبادت بنا دے۔ جب انہوں نے سمع اور طاعت کے ساتھ اس کا تقابل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے تخفیف کر دی اور ان سے حدیث نفس والی بات رکھ دی ، یعنی ختم کر دی۔ لہذا اس اعتبار سے یہ جملہ یحاسبکم بہ اللہ ۔ خبر ہو گی جو حکم کہ متضمن ہے۔ یعنی اس نے تمہارے محاسبے کا حکم و فیصلہ فرمایا ہے ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس آیت میں ہے: "ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبو ا مائتین" (الانفال 25) اگر تم میں سے بیس جوان صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو کافروں پر غالب آ جائیں گے ۔ یعنی حکم ہے اس بات کا۔ اس کے بعد فرمایا: " الا ن خفف اللہ وعلم ان فیکم ضعفا فان یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبو ا ماتین (انفال 66) اب اللہ تعالیٰ نے تم سے (حکم میں) تخفیف کر دی ہے اور جان لیا ہے کہ تمہارے اندر کمزوری ہے، اگر تم لوگوں میں سے ایک سو (مجاہد) صبر کرنے الے ہوں تو وہ دو سو کافروں پر غالب آ جائیں گے۔ پہلا حکم منسوخ کر دیا اور دوسرا حکم پکا کر دیا۔ اوپر والی زیر بحث آیت کا بھی یہی حال ہے اور یہی حکم ہے کہ پہلے حصہ میں حدیث نفس اور دل کے خیال و ارادے پر بھی باز پرس کرنے کا حکم فرمایا تھا ۔ جب مسلمانوں نے اپنی کمزوری اور اپنی مشکل کی بارگاہ رسالت میں شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے حکم میں تخفیف اور آسانی کر دی اور پہلا حکم منسوخ اور دوسرا پکا کر دیا۔ (مترجم)۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ جو کچھ میں نے لکھا ہے یہ اس مجموعے کا خلاصہ ہے جس کو شیخ امام ابو بکر اسماعلی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بارے میں ذکر کیا ہے بمطابق اس کے جس کی ہمیں خبر دی ہے ابو عمر ادیب نے ان امور کی بحث میں جن کے بارے میں مؤاخذہ نہیں ہو گا منجملہ ان کے حدیث نفس ہے۔ اس بارے میں ہی انہوں نے فرمایا ہے جس کا مفہوم ہم نے ذکر کیا ہے۔ پھر یہ لکھا ہے کہ اسی مفہوم میں یہ حدیث بھی ہے: "لک النظرۃ الا ولی ولیست لک الثانیۃ " کہ پہلی نظر (جو ناگہانی اٹھی) اس کی معافی ہے اور دوسری جو قصداً ہو اس کی معافی نہیں ہے اس لئے کہ پہلی نظر قصد و ارد ے سے نہیں تھی لیکن جب نظر کا اعادہ کرے گا تو ایسے ہو گا جیسے اس نے خطرے کو پکا کر دیا ہو۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : جب خطرہ پکا ہو گیا تو ایسے ہو گا جیسے نظر کو پکا کیا اور ثابت کیا۔ ابو سلیمان خطباتی کا قول: ابو سلیمان خطبانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کے بارے میں خبر دی ہو اس میں نسخ جاری نہیں ہوتا۔ مثلاً اسی طرح کی خبر کہ فلاں کام ایسے تھا یا اس نے یہ کام کیا ہے، یعنی گذرے ہوئے کام کے بارے میں ، کیونکہ اگر اس میں نسخ ہو تو کذب اور خلاف بنتا ہے۔ لیکن بعض کے نزدیک نسخ اس میں بھی جاری ہوتا ہے۔ مگر اس صورت میں جب وہ یہ خبر دے کہ وہ اس طرح کرے گا یہ اس کے لئے کہ جب وہ یہ کہے کہ ایسا کرے گا تو ممکن ہے کہ کسی شرط کے ساتھ مشروط ہو۔ اور جب اللہ تعالیٰ یہ خبر دے کہ اس نے یہ کام کیا ہے اس میں کوئی شرط داخل نہیں ہو سکتی۔ یہ صحیح ترین وجوہات میں سے ہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے توجیہ کے مطابق آیت کی تاویل کی تھی اور یہ عفو اور تخفیف کے قام مقام جاری ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے تخفیف کی اور یہ اس کی طرف سے کرم ہے اور فضل ہے ، اپنے قول کے خلاف ورزی نہیں ہے۔ ابو سلیمان نے فرمایا ہک وہ اخبار امر نہی جو شرط کے ساتھ متعلق ہوں ان میں نسخ لوگوں کی ایک جماعت کے نزدیک جائز ہے ، خواہ یہ خبر ماضی کے بارے میں ہو یا زمانہ مستبل کے بارے میں۔

رَوْحٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← نسختها الآية التي بعدها رواه البخاري في الصحيح ← رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أحسبه ابن عمر ← مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ ← خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 330

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 331

331 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا مالك بن يحيى ثنا يزيد بن هارون ثنا مسعر بن كدام عن قتادة عن زرارة بن أبي أوفى عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : تجوز لأمتي عما وسوست به أنفسها أو حدثت به أنفسها ما لم تكلم به أو تعمل به أخرجاه في الصحيح من حديث مسعر

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے کہ خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد مصری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مالک بن یحییٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یزید بن ہارون نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مسعر بن کدام نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ بن ابی اوفیٰ سے ، اس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "تجوز لامتی عما وسوست بہ انفسھا او حدثت بہ انفسھا مالم تکلم بہ او تعمل بہ " میری امت سے درگزر کیا گیا ہے ۔ ان کے نفس جس چیز کا وسوسہ کریں یا ان کے نفس دل میں کوئی بات کریں جب تک تکلم نہ کرے یا اس کے ساتھ عمل نہ کرے۔ بخاری و مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں مسعر بن کدام کی روایت سے۔

تجوز لأمتي عما وسوست به أنفسها أو ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، ← قَتَادَةَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مالك بن يحيى ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 331

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 332

332 - أخبرنا علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ثنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا عفان ثنا همام و حماد و أبان و أبو عوانة كلهم يحدثون عن قتادة عن زرارة بن أبي أوفى عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله تجاوز لأمتي عما حدثت به أنفسها ما لم يتكلموا به أو يعلموا رواه مسلم في الصحيح عن سعيد بن منصور و غيره عن أبي عوانة أخرجاه من أوجه آخر عن قتادة

ہمیں خبر دی ہے علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جعفر محمد بن عمر و رزاز نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے جعفر بن محمد شاکر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عفان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ھما م اور حماد اور ابان اور ابو عوانہ نے یہ سب حدیث بیان کرتے تھے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن ابی اوفیٰ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے درگذر فرمایا ہے میر ی امت کی ان باتوں سے جو ان کے دلوں کی بات ہو یا دل کا خیال ہو جب تک ان کے ساتھ کلام نہ کریں یا ان کا عمل نہ کر لیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں سعید بن منصور سے اور ابو عوانہ سے، اور بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے کئی وجوہ سے حضرت قتادہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، ← قَتَادَةَ ← همام و حماد و أبان و أبو عوانة كلهم يحدثون ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 332

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 333

333 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن إسحاق ثنا مسدد ثنا عبد الوارث بن سعيد ثنا الجعد أبو عثمان عن أبي رجاء العطاردي عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم فيما يروي عن ربه عز و جل قال : إن الله كتب الحسنات و السيئات ثم بين ذلك فمن هم بالحسنة فلم يعملها كتب الله له حسنة و من عملها كتب الله له بها عشرا إلى سبعمائة ضعف و أضعاف كثيرة و من هم بسيئة و لم يعملها كتب الله له بها حسنة كاملة و من هم بها فعملها كتب الله عليه سيئة واحدة رواه مسلم في الصحيح عن شيبان بن فروخ

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عبید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن اسحٰق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مسدد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالوارث بن سعید نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، مجھے خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن احمد بن حمدویہ مؤذن نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمد بغوی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شیبان نے عبدالوارث بن سعید سے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے جعد ا بو عثمان نے ابو رجاء عطاردی سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں۔ پھر ان کو بیان کر دیا ہے جو شخص ارادہ کرے نیکی اور اس کا عمل نہ کرے اللہ تعالیٰ اس کو (صرف ارادہ کرنے پر) ایک نیکی لکھ دیتے ہیں اور جو شخص نیکی کا عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ان کے بدلے میں دس نیکیاں لکھتے ہیں ۔ سات سو گنا تک اور سات سو گنا سے زیادہ تک بھی۔ اور جو شخص برائی کا ارادہ کرتا ہے اورا س کا عمل نہیں کرتا اللہ تعالیٰ صرف اس کا ارادہ کرنے پر بھی ایک پوری نیکی لکھتے ہیں اور جو شخص برائی کا ارادہ کرتا ہے پھر اس پر عمل بھی کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے صرف ایک گناہ لکھتے ہیں۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں شیبان بن فروخ سے۔

ربه عز و جل ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 333

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 334

334 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري ثنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا قتيبة بن سعيد ثنا جعفر بن سليمان الضبعي عن الجعد أبي عثمان عن أبي رجاء العطاردي عن ابن عباس : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما روى عن ربه عز و جل : إن ربكم رحيم فمن هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة و إن عملها كتبت له عشر أمثالها إلى سبعمائة إلى أضعاف كثيرة و من هم بسيئة فلم يعملها كتبت له حسنة و إن عملها كتبت عليه واحدة أن يمحوها الله و لا يهلك على الله إلا هالك

ہمیں خبر دی ہے ا بو صالح بن ابو طاہر عنبری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ہمارےدادا یحییٰ بن منصور قاضی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن سلمہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے جعفر بن سلیمان ظبعی نے جعد ابو عثمان سے، انہوں نے ابو رجاء عطاردی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس میں جو آپ اپنے رب سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک تمہارا رب رحیم ہے جو شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اس پرعمل نہیں کرتا اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر نیکی پر عمل کرتا ہے تو وہ دس گنا سے سات سو گنا تک اور بہت ساری امثال تک لکھی جاتی ہیں اور جو شخص برائی کا ارادہ کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا (نہ کرنے پر )ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر برائی کا ارتکاب کر لیتا ہے تو اس کے ایک برائی لکھ دی جاتی ہے یا اللہ تعالیٰ اس کو بھی مٹا دیتے ہیں اور نہیں ہلاک ہوتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مگر ہلاک ہونے والا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما روى ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 334

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 335

335 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا يحيى بن يحيى أنا جعفر بن سليمان بهذا الإسناد : نحوه رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى قال البيهقي رحمه الله و قد روينا في حديث همام بن منبه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث في السيئة قال و إن تركها اكتبوها له حسنة إنما تركها من جزائي و هو مذكور في باب التوبة

ہمیں خبر دی ہے بو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن یحییٰ نے کہ خبر دی ہے جعفر بن سلیمان نے اسی اسناد کے ساتھ اسی حدیث مذکورہ کی مثل ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ امام بیہقی کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے ھمام بن منبہ کی حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیئتہ والی حدیث میں راویت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ارادہ کرنے والا برائی ترک کر دے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (کہ برائی کو ترک کرنے پر) بھی اس کے لئے ایک نیکی لکھ دو۔ اس لئے کہ اس نے گناہ کو جوترک کیا ہے وہ بھی میری جزا کے لئے کیا ہے۔ یہ حدیث باب توبہ میں مذکور ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث في السيئة ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← البيهقي و قد روينا في حديث همام بن منبه ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← جعفر بن سليمان بهذا الإسناد نحوه رواه مسلم في الصحيح ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 335

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 336

336 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا جعفر بن محمد بن نصير الخلدي ثنا موسى بن هارون ثنا قتيبة بن سعيد أنا المغيرة بن عبد الرحمن الحزامي عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يقول الله عز و جل : إذا رأى عبدي أن يعمل سيئة فلا تكتبوها عليه حتى يعملها و إن عملها فاكتبوها بمثلها و إن تركها من أجلي فاكتبوها له حسنة فإذا أراد أن يعمل حسنة فلم يعملها فاكتبوها له حسنة فإن عملها فاكتبوها له بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف رواه البخاري في الصحيح عن قتيبة

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے جعفر بن محمد بن نصیر خلدی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے موسیٰ بن ہارون نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے کہ خبر دی ہے مغیرہ بن عبدالرحمٰن حزامی نے ابو الزناد سے، انہوں نے اعرج سے ،ا نہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میرا کوئی بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو اس کو نہ لکھو، یہاں تکہ کہ وہ اس کا عمل کر لے۔ اگر برائی کا عمل کر لے تو اس کی مثل یعنی ایک برائی لکھو اور اگر میرے لئے برائی کو ترک کر دے توا س کے لئے (برائی نہ کرنےپر بھی) ایک نیکی لکھ دو اور جب نیکی کرنے کا ارادہ کرے اور ابھی عمل نہ کرے تو ارادہ کرنے پر اس کی ایک نیکی لکھ دو اور گر نیکی کا عمل کر لے تو اس کی دس مثل لکھ دو سات سو مثل تک۔ اس کو بخاری نے صحیح میں حضرت قتیبہ سے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 336

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 337

337 - أخبرنا أبو عبد الله و أحمد بن الحسن و محمد بن موسى قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أبو الجواب عن عمار بن زريق عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني لأحدث نفسي بالحديث لأن أخر من السماء أحب إلي من أن أتكلم به قال ذلك صريح الإيمان رواه مسلم في الصحيح عن الصغاني و رواه سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : جاء ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا يا رسول الله إنا نجد في أنفسنا الشيء ما نحب أن نتكلم به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أو قد وجدتموه ؟ قالوا : نعم قال : ذلك صريح الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے اور احمد بن حسن نے اور محمد بن موسیٰ نے۔۔۔ لوگوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوا لعباس محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسحٰق صنعانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الجواب عمار بن زریق سے انہوں نے اعمش سے ، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے کہا : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بعض اوقات دل میں ایسی بت کرتا ہوں جس کو زبان پر لانا یا بتا نا اتنی مشکل ہے جتنی کہ میرا آسمان سے نیچے گر جانا مشکل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذالک صریح الایمان یہ تو واضح ایمان ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں صنعانی سے۔ اور اس کو روایت کیا ہے سہل بن ابی صالح نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے کہا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کچھ لوگ آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگ اپنے نفسوں میں کوئی بات پاتے ہیں جسے ہم زبان پر لانا پسند نہیں کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،کیا تم یہ کیفیت پاتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا، جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، یہی صریح ایمان ہے۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عمار بن زريق ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله و أحمد بن الحسن و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 337

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 338

338 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن سهيل بن أبي صالح : فذكره رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے کہ خبر دی ہے احمد بن سلمہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن ابراہیم نے کہ خبر دی ہے جریر نے سہل بن ابی صالح سے، پھر اسی مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔ اس کو روایت کیا ہے مسلم نے صحیح میں زھیر بن حرب سے۔

زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ← سهيل بن أبي صالح فذكره رواه مسلم في الصحيح ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 338

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 339

339 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه من أصل سماعه ثنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب قال : سمعت علي بن عثام يقول : أتيت سعير بن خميس فسألته عن حديث الوسوسة فلم يحدثني فأدبرت أبكي ثم لقيني فقال لي حدثنا مغيرة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الرجل يجد الشيء لو خر من السماء فتخطفه الطير كان أحب إليه من أن يتكلم به قال : ذاك محض أو صريح الإيمان رواه مسلم في الصحيح عن يوسف بن يعقوب الصفار عن علي بن عثام قال البيهقي رحمه الله و رواه جرير و سليمان التيمي و أبو عوانة و أبو جعفر الرازي عن مغيرة عن إبراهيم مرسلا و هو فيما ذكره شيخنا أبو عبد الله عن أبي علي الحافظ

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے اپنے اصل سماع سے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا تھا علی بن عثام سے وہ کہتے تھے میں سعیر بن خمس کے پاس آیا اور میں نے اس سے پوچھا ، وسوسہ والی حدیث کے بارے میں؟ اس نے مجھے حدیث بیان نہیں کی۔ میں روتا ہوا واپس ہو گیا۔ پھر بعد میں وہ مجھے خود ملے تو مجھ سے فرمایا ہمیں حدیث بیان کی ہے مغیرہ نے ابراہیم بن علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ سے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو دل میں کوئی خیال پاتا ہو۔ اگر وہ آسمان سے گرے اور اس کو پرندے اچک لیں تو یہ بات اس کو زیادہ محبوب ہوتی ہے اس سے کہ وہ اس بات کو زبان پر لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ یہ تومحض ایمان ہے یا فرمایا کہ صریح ایمان ہے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں یوسف بن یعقوب صفار سے ، انہوں نے علی بن عثام سے روایت کیاہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس کو روایت کیا ہے جریرنے اور سلیمان تیمی نے اور ابو عوانہ نے اور ابو جعفر نے مغیرہ سے،ا نہوں نے ابراہیم سے مرسلاً جس میں اس کوہمارے شیخ ابو عبداللہ نے ابو علی حافظ سے روایت کیا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← لِي ← حديث الوسوسة فلم يحدثني فأدبرت أبكي ثم لقيني ← أتيت سعير بن خميس فسألته ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو طاهر الفقيه من أصل سماعه

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 339

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 340

340 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمدآبادي ثنا أبو قلابة ثنا أبو الوليد ثنا شعبة عن منصور و سليمان عن ذر عن عبد الله بن شداد عن ابن عباس أن رجلا قال : يا رسول الله تحدثني نفسي من أمر الرب لأن أكون حممة أحب إلي من أن أتكلم به فقال أحدهما الحمد لله الذي لم يقدر لكم إلا على الوسوسة فقال الآخر الحمد لله الذي رد أمره إلى الوسوسة

ہمیں خبردی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو قلابہ نے ، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الولید نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ شعبہ نے منصور و سلیمان سے، انہوں نے ذر سے، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے کہا ، ایک آدمی نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا نفس مجھ سے باتیں کرتا ہے رب کے بارے میں۔ البتہ اگر میں جل کر کوئلہ ہو جاؤں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سےکہ میں ان باتوں کو زبان پر لے آؤں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "الحمد للہ الذی لم یقد لکم الا علی السوسۃ الخ" ایک سے فرمایا : اللہ کا شکر ہے جس نے قدرت نہیں دی تمہیں مگر صرف وسوسہ پر۔ اور دوسرے سے کہا اللہ کا شکر ہے جس نے اپنا معاملہ لوٹایا ہے وسوسہ کی طرف۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← ذَرٍّ، ← منصور و سليمان ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← أبو طاهر محمد بن الحسن المحمدآبادي ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 340

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood