شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 317
317 - أخبرنا الإمام أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا موسى يعني ابن إسحاق الأنصاري ثنا عبد الله بن أبي شيبة ثنا يونس بن محمد ثنا شيبان قال : قال قتادة سمعت أبا نضرة يحدث عن سمرة بن جندب : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن منهم من تأخذه النار إلى كعبيه و منهم من تأخذه إلى حجزته و منهم من تأخذه إلى ترقوته رواه مسلم عن ابن أبي شيبة و في رواية سعيد عن قتادة و منهم من تأخذه النار إلى ركبتيه قال البيهقي رحمه الله : و روينا في الحديث الثابت عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث الرؤية و الصراط و مرور المؤمنين عليه ثم قولهم : أي ربنا أخواننا كانوا يصلون معنا و يصومون معنا و يحجون معنا و يجاهدون معنا قد أخذتهم النار فيقول اذهبوا فمن عرفتم صورته فأخرجوه و تحرم صورهم على النار فيجدون الرجل قد أخذته النار إلى قدميه و إلى أنصاف ساقيه و إلى ركبتيه و إلى حقويه فيخرجون منها بشرا كثيرا ثم يعودون فيتكلمون فيقول اذهبوا فمن وجدتم في قلبه مثقال قيراط خير فأخرجوه فيخرجون بشرا كثيرا ثم يعودون فيتكلمون فلا يزال يقول ذلك حتى يقول اذهبوا و أخرجوا من وجدتم في قلبه مثقال ذرة فأخرجوه و كان أبو سعيد إذا حدث بهذا الحديث يقول و إن لم تصدقوني فاقرؤوا { إن الله لا يظلم مثقال ذرة و إن تك حسنة يضاعفها } فيقولون : ربنا لم نذر فيها خيرا فيقول هو : بقي أرحم الراحمين قال : فيقول قد شفعت الملائكة و شفع النبيون و شفع المؤمنون فهل بقي إلا أرحم الراحمين ؟ فيأخذ قبضة من النار قال : فيخرج قوما قد عادوا حمما لم يعملوا لله عمل خير قط فيطرحون في نهر الجنة يقال له نهر الحياة فينبتون فيه و الذي نفسي بيده كما ينبت الحبة في حميل السيل ألم تروها و ما يليها من الظل أصيفر و ما يليها من الشمس أخيضر ؟ قلنا يا رسول الله كأنك كنت في الماشية ؟ قال : فينبتون كذلك فيخرجون أمثال اللؤلؤ فيحلون في رقابهم الخواتيم ؟ ثم يرسلون في الجنة هؤلاء الجهنميون هؤلاء الذين أخرجهم الله من النار بغير عمل عملوه و لا خير قدموه قال الله عز و جل خذوا فلكم ما أخذتم فيأخذون حتى ينتهوا قال : ثم يقولون : لو يعطينا الله ما أخذنا ! فيقول الله عز و جل : إني أعطيتكم أفضل مما أخذتم قال : فيقولون : أي ربنا و ما أفضل مما أخذنا ؟ فيقول : رضواني فلا أسخط
ہمیں خبر دی ہے اما م ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بتائی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے موسیٰ نے یعنی ابن اسحٰق انصاری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن ابی شیبہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شیبان نے، اس نے کہا قتادہ نے کہا تھا کہ امیں نے سنا ہے بو نضر سے وہ حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شیبن نے، اس نے کہا قتادہ نے کہا تھا کہ میں نے سنا ہے ابو نضر سے وہ حدیث بیان کر رہے تھے سمرہ بن جندب سے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں آگ نے ٹخنوں تک پکڑ رکھا ہو گا اور بعض کو کمر تک اور بعض کو ہنسلیوں تک پکڑ رکھا ہو گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابن ابی شیبہ سے اور سعید کی ایک روایت میں قتادہ سے ہے کہ ان میں سے بعض لوگ وہ ہوں گے جنہیں آگ نے گھٹنوں تک پکڑ لیا ہو گا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: ہم نے حدیث ثابت بن عطا بن یسار سے ابو سعید خدری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث رؤیت۔ صراط اور اہل ایمان کے اس پر گذرنے کی روایت کیا ہے پھر ان سے یہ کہتا کہ: "اے ہمارے رب ہمارے بھائی تھے جو کہ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے اور روزے رکھتے تھے۔ حج ہمارے ساتھ کرتے تھے، جہاد ہمارے ساتھ کرتے تھے، انہیں آگ لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جاؤ جس کی تم شکل صورت پہچانتے ہو اس کو جہنم سے نکال لو اور ان کی صورتیں آگ پر حرام کر دی گئی ہوں گی۔ یہ لوگ دیکھیں گے کہ کسی کو آگ نے سے کے قدموں تک پکڑ رکھا ہو گا اور بعض کو نصف پنڈلیوں تک۔ بعض کو گھٹنوں تک ، بعض کو کمر تک۔ لہذا وہ بہت سے انسانوں کو نکالیں گے پھر لوٹیں گے اور کلا م کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے دیکھو جس شخص کے دل میں ایک قیراط کے برابر خیر ہو اس کو نکال لو۔ لہذا اس طرح بھی وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے۔ پھر لوٹیں گے اور اللہ تعالیٰ سے پھر کلام کریں گے۔ بار بار اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا رہے گا۔ یہاں تک کہ فرمائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر خیر ہو اس کو بھی نکال لو۔ اور حضرت ابو سعید خدری جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو فرماتے تھے اگر تم مجھے سچا نہ سمجھو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھو: "ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضاعفھا " (النسآء 40) بے شک اللہ تعالیٰ نہیں ظلم کرے گا ایک ذرے کے برابر اور اگر کوئی نیکی ہو گی تو اسے دگنا کر دے گا۔ (پھر یہ سفارشی) کہیں گے ، اے ہمارے رب ، ہم نے باقی لوگوں کے دل میں کوئی خیر نہیں پائی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بس ارحم الرا حمین باقی رہ گیا ہے۔ ابو سعید نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ فرشتے شفاعت کر چکے۔ نبی شفاعت کر چکے۔ مومن بھی شفاعت کر چکے، باقی کوئی نہیں رہا ۔ سوائے ارحم الراحمین ؟ اللہ تعالیٰ آگ کا قبضہ خود سنبھالیں گے ۔ پھر ایک ایسی قوم کو آگ سے نکالیں گے جو کوئلہ ہو چکے ہوں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے کبھی بھی کوئی عمل نہیں کیا ہو گا اور جنت کی نہر میں ڈالے جائیں گے جس کا نام نہر حیات ۔ پھر وہ اس میں پیدا ہوں گےقسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ جیسے سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نے اسے دیکھا نہیں جو سایہ میں ہو تا پیلا اور دھوپ میں ہوتا سبز؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ تو ایسے نقشہ کھینچ رہے ہیں جیسے آپ دیہات میں ہیں۔ فرمایا کہ پھر وہ اگیں اسی طرح پھر وہ ایسے نکلیں گے جیسے موتی، پھر وہ اپنے گردنوں میں خاتموں کا زیور پہنائے جائیں گے۔ پھر وہ جنت میں بھیجے جائیں گے۔ یہ جہنمی ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے نکالا ہو گا بغیر کسی عمل کے اور بغیر کسی خیر کے جس کو انہوں نے آگے بھیجا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے لے لو جنت میں سے جو کچھ لو گے وہ تمہارا ہے۔ پھر وہ جنت سے لیں گے یہاں تک کہ تھک کر رک جائیں گے۔ فرمایا کہ پھرکہیں گے اگر ہمیں اللہ دیتا تو ہم اور لیتے۔ اب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے وہ ہے میری رضا،آج کے بعد میں کبھی ناراض نہیں ہو ں گا۔
سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبَا نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← موسى يعني ابن إسحاق الأنصاري ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← الإمام أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 317
