Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 317

317 - أخبرنا الإمام أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا موسى يعني ابن إسحاق الأنصاري ثنا عبد الله بن أبي شيبة ثنا يونس بن محمد ثنا شيبان قال : قال قتادة سمعت أبا نضرة يحدث عن سمرة بن جندب : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن منهم من تأخذه النار إلى كعبيه و منهم من تأخذه إلى حجزته و منهم من تأخذه إلى ترقوته رواه مسلم عن ابن أبي شيبة و في رواية سعيد عن قتادة و منهم من تأخذه النار إلى ركبتيه قال البيهقي رحمه الله : و روينا في الحديث الثابت عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث الرؤية و الصراط و مرور المؤمنين عليه ثم قولهم : أي ربنا أخواننا كانوا يصلون معنا و يصومون معنا و يحجون معنا و يجاهدون معنا قد أخذتهم النار فيقول اذهبوا فمن عرفتم صورته فأخرجوه و تحرم صورهم على النار فيجدون الرجل قد أخذته النار إلى قدميه و إلى أنصاف ساقيه و إلى ركبتيه و إلى حقويه فيخرجون منها بشرا كثيرا ثم يعودون فيتكلمون فيقول اذهبوا فمن وجدتم في قلبه مثقال قيراط خير فأخرجوه فيخرجون بشرا كثيرا ثم يعودون فيتكلمون فلا يزال يقول ذلك حتى يقول اذهبوا و أخرجوا من وجدتم في قلبه مثقال ذرة فأخرجوه و كان أبو سعيد إذا حدث بهذا الحديث يقول و إن لم تصدقوني فاقرؤوا { إن الله لا يظلم مثقال ذرة و إن تك حسنة يضاعفها } فيقولون : ربنا لم نذر فيها خيرا فيقول هو : بقي أرحم الراحمين قال : فيقول قد شفعت الملائكة و شفع النبيون و شفع المؤمنون فهل بقي إلا أرحم الراحمين ؟ فيأخذ قبضة من النار قال : فيخرج قوما قد عادوا حمما لم يعملوا لله عمل خير قط فيطرحون في نهر الجنة يقال له نهر الحياة فينبتون فيه و الذي نفسي بيده كما ينبت الحبة في حميل السيل ألم تروها و ما يليها من الظل أصيفر و ما يليها من الشمس أخيضر ؟ قلنا يا رسول الله كأنك كنت في الماشية ؟ قال : فينبتون كذلك فيخرجون أمثال اللؤلؤ فيحلون في رقابهم الخواتيم ؟ ثم يرسلون في الجنة هؤلاء الجهنميون هؤلاء الذين أخرجهم الله من النار بغير عمل عملوه و لا خير قدموه قال الله عز و جل خذوا فلكم ما أخذتم فيأخذون حتى ينتهوا قال : ثم يقولون : لو يعطينا الله ما أخذنا ! فيقول الله عز و جل : إني أعطيتكم أفضل مما أخذتم قال : فيقولون : أي ربنا و ما أفضل مما أخذنا ؟ فيقول : رضواني فلا أسخط

ہمیں خبر دی ہے اما م ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بتائی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے موسیٰ نے یعنی ابن اسحٰق انصاری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن ابی شیبہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شیبان نے، اس نے کہا قتادہ نے کہا تھا کہ امیں نے سنا ہے بو نضر سے وہ حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شیبن نے، اس نے کہا قتادہ نے کہا تھا کہ میں نے سنا ہے ابو نضر سے وہ حدیث بیان کر رہے تھے سمرہ بن جندب سے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں آگ نے ٹخنوں تک پکڑ رکھا ہو گا اور بعض کو کمر تک اور بعض کو ہنسلیوں تک پکڑ رکھا ہو گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابن ابی شیبہ سے اور سعید کی ایک روایت میں قتادہ سے ہے کہ ان میں سے بعض لوگ وہ ہوں گے جنہیں آگ نے گھٹنوں تک پکڑ لیا ہو گا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: ہم نے حدیث ثابت بن عطا بن یسار سے ابو سعید خدری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث رؤیت۔ صراط اور اہل ایمان کے اس پر گذرنے کی روایت کیا ہے پھر ان سے یہ کہتا کہ: "اے ہمارے رب ہمارے بھائی تھے جو کہ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے اور روزے رکھتے تھے۔ حج ہمارے ساتھ کرتے تھے، جہاد ہمارے ساتھ کرتے تھے، انہیں آگ لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جاؤ جس کی تم شکل صورت پہچانتے ہو اس کو جہنم سے نکال لو اور ان کی صورتیں آگ پر حرام کر دی گئی ہوں گی۔ یہ لوگ دیکھیں گے کہ کسی کو آگ نے سے کے قدموں تک پکڑ رکھا ہو گا اور بعض کو نصف پنڈلیوں تک۔ بعض کو گھٹنوں تک ، بعض کو کمر تک۔ لہذا وہ بہت سے انسانوں کو نکالیں گے پھر لوٹیں گے اور کلا م کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے دیکھو جس شخص کے دل میں ایک قیراط کے برابر خیر ہو اس کو نکال لو۔ لہذا اس طرح بھی وہ بہت سے لوگوں کو نکالیں گے۔ پھر لوٹیں گے اور اللہ تعالیٰ سے پھر کلام کریں گے۔ بار بار اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا رہے گا۔ یہاں تک کہ فرمائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر خیر ہو اس کو بھی نکال لو۔ اور حضرت ابو سعید خدری جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو فرماتے تھے اگر تم مجھے سچا نہ سمجھو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھو: "ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضاعفھا " (النسآء 40) بے شک اللہ تعالیٰ نہیں ظلم کرے گا ایک ذرے کے برابر اور اگر کوئی نیکی ہو گی تو اسے دگنا کر دے گا۔ (پھر یہ سفارشی) کہیں گے ، اے ہمارے رب ، ہم نے باقی لوگوں کے دل میں کوئی خیر نہیں پائی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بس ارحم الرا حمین باقی رہ گیا ہے۔ ابو سعید نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ فرشتے شفاعت کر چکے۔ نبی شفاعت کر چکے۔ مومن بھی شفاعت کر چکے، باقی کوئی نہیں رہا ۔ سوائے ارحم الراحمین ؟ اللہ تعالیٰ آگ کا قبضہ خود سنبھالیں گے ۔ پھر ایک ایسی قوم کو آگ سے نکالیں گے جو کوئلہ ہو چکے ہوں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے کبھی بھی کوئی عمل نہیں کیا ہو گا اور جنت کی نہر میں ڈالے جائیں گے جس کا نام نہر حیات ۔ پھر وہ اس میں پیدا ہوں گےقسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ جیسے سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نے اسے دیکھا نہیں جو سایہ میں ہو تا پیلا اور دھوپ میں ہوتا سبز؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ تو ایسے نقشہ کھینچ رہے ہیں جیسے آپ دیہات میں ہیں۔ فرمایا کہ پھر وہ اگیں اسی طرح پھر وہ ایسے نکلیں گے جیسے موتی، پھر وہ اپنے گردنوں میں خاتموں کا زیور پہنائے جائیں گے۔ پھر وہ جنت میں بھیجے جائیں گے۔ یہ جہنمی ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے نکالا ہو گا بغیر کسی عمل کے اور بغیر کسی خیر کے جس کو انہوں نے آگے بھیجا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے لے لو جنت میں سے جو کچھ لو گے وہ تمہارا ہے۔ پھر وہ جنت سے لیں گے یہاں تک کہ تھک کر رک جائیں گے۔ فرمایا کہ پھرکہیں گے اگر ہمیں اللہ دیتا تو ہم اور لیتے۔ اب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے وہ ہے میری رضا،آج کے بعد میں کبھی ناراض نہیں ہو ں گا۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبَا نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← موسى يعني ابن إسحاق الأنصاري ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← الإمام أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 317

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 318

318 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا : حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا هشام بن سعد أنا زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : فذكره رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة عن جعفر بن عون قال البيهقي رحمه الله : و أخرجنا حديث سعيد بن المسيب و عطاء بن يزيد عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذه القصة قال في آخرها : فيقول له تمن فيتمنى حتى إذا انقطع به قال الله عز و جل من كذا و كذا فسل يذكره ربه حتى إذا انتهت به الأماني قال الله تعالى لك ذلك و مثله معه قال أبو سعيد الخدري لأبي هريرة : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لك ذلك و عشرة أمثاله و روينا في حديث أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم فيمن يخرج من النار فيمكثون في الجنة حينا فيقال لهم : هل تشتهون شيئا ؟ فيقول : أن ترفع عنا هذا الاسم فيرفع عنهم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن اسحٰق نے دونوں نے کہا ہے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبدالوہاب نے کہ خبر دی ہے جعفر بن عون نے کہ خبر دی ہے ہشام بن سعد نے کہ خبر دی ہے زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے، ابی سعید خدری سے انہوں نے مذکورہ حدیث کو ذکر فرمایا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن ابو شیبہ سے جعفر بن عون سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کو قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے سعید بن مسیب اور عطاء بن زید کی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی ہے۔ اس قصہ کے بارے میں جس کے آخر میں یہ فرمان ہے کہ جنتی سے کہا جائے گا کہ آب کسی بھی شے کی تمنا کرے۔ پھر تمنا کرے گا جب اس کی تمنا ختم ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ جو کچھ آج ملا ہے یہ تیرا ہے اور اس کی مثل مزید اور بھی تیرا ہے۔ ابو سعید خدری نے فرمایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ بھی تیرا ہے اورا س کی مثل یعنی اس سے مزید دس گنا بھی تیرا ہے۔ ہم نے ابو صالح کی حدیث میں ابو سعید سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو جہنم سے نکالے جائیں گے۔ پھر وہ جنت میں ایک وقت خاص تک ٹھہرے رہیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کیا تم کسی شے کی خواہش کرتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم سے یہ نام اٹھا دیا جائے گا پھر وہ بھی اٹھا دیا جائے گا۔

جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ← أبي سعيد الخدري فذكره رواه مسلم ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 318

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 319

319 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد آبادي أنا العباس بن محمد ثنا عبيد الله بن موسى ثنا إسرائيل عن منصور عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله بن مسعود : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إني لأعلم آخر أهل الجنة دخولا و آخر أهل النار خروجا من النار رجل يخرج حبوا فيقول له ربه : ادخل الجنة فيقول : أرى الجنة ملأى فيقول له ذلك ثلاث مرات كل ذلك يعيد : الجنة ملأى فيقول إن لك مثل الدنيا عشر مرات رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن خالد عن عبيد الله و أخرجاه من حديث جرير عن منصور قال البيهقي رحمه الله : و قد ذكرنا هذه الأخبار في كتاب البعث و النشور و بعضهما في أبواب الشفاعة و بعضها في أبواب آخر من يخرج من النار وذكرنا معها غيرها و فيما ذكرناه ها هنا كفاية و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو طاہر محمد آبادی نے کہ خبر دی ہے عباس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبیداللہ بن موسیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسرائیل نے منصور سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے عبیدہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے فرمایا : بے شک میں جانتا ہوں جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والے انسان کو اور جہنم میں سے سب سے آخر میں نکلنے والے کو وہ ایسا آدمی ہو گا جو گھٹنوں کے بل دوڑ کر جہنم سے نکلے گا اور اس سے اس کا رب کہے گا جا تو جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا میں نے دیکھ لیا ہے جنت بھر چکی ہے(یعنی اب میرے لئے جگہ باقی نہیں ہے) اللہ تعالیٰ اس کو تین بار یہی حکم دیں گے اور وہ ہر دفعہ یہی جواب دے گا کہ جنت بھر چکی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے فرمائیں گے تیرے دنیا سے دس گنا بڑی جنت ہے۔ اس کوبخاری نے صحیح میں محمد بن خالد نے اس نے عبید اللہ سے روایت کیا ہے اور بخاری و مسلم دونوں نے اس کو جریر بن منصور کی روایت سے بھی نقل کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہم نے یہ اخبار کتاب البعث والنشور میں نقل کر دی ہے ۔ لیکن اان میں سے بعض ابواب شفاعت میں اور بعض دوسرے بابوں میں خصوصاً اس باب میں ہیں۔ جہنم سے آخر کون نکالا جائے گا؟ ہم نے اس کے ساتھ اوربھی ذکر کی ہیں مگر یہاں پر جو کچھ ذکر کیا ہے اتنا ہی کافی ہے اور توفیق کاملنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 319

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 320

320 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن أحمد القطان ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا أبو النعمان ثنا سلام بن مسكين ثنا أبو ظلال عن أنس : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن رجلا ينادي في النار ألف سنة يا حنان يا منان فيقول الله لجبريل اذهب فأتني بعبدي هذا قال : ذهب جبريل فوجد أهل النار منكبين يبكون قال : فرجع إليه فأخبر ربه قال : اذهب إليه فأتني به فإنه في مكان كذا و كذا قال : فذهب فجاء به قال : يا عبدي كيف وجدت مكانك و مقيلك ؟ قال : يا رب شر مكان و شر مقيل قال : ردوا عبدي قال : ما كنت أرجو أن تعيدني إليها إذا أخرجتني منها قال الله لملائكته : دعوا عبدي قال البيهقي : هكذا روي في هذا الحديث و قد روينا حديث بشر بن المفضل عن أبي مسلمة عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما أهل النار الذين هم أهلها فإنهم لا يموتون فيها و لا يحيون و لكن أناس أصابتهم النار بذنوبهم ـ أو قال بخطاياهم ـ أماتتهم إماتة حتى إذا كانوا فحما أذن في الشفاعة فيجاء بهم ضبائر قد امتحشوا فيلقون على أنهار الجنة ثم قيل يا أهل الجنة أفيضوا عليهم من الماء فينبتون نبات الحبة في حميل السيل فقال رجل كأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان في البادية

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبدالرحمٰن بن محمد بن احمد قطان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبدالوہاب فراء نے انہوں نے کہا کہ خبر د ی ہے ابو النعمان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سلام بن مسکین نے کہ حدیث بیان کی ہے ابو ظلال نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک انسان جہنم کی آگ میں ہزار سال تک پکارتا رہے گا اے مہربان رب ، اے احسان کرنے والے رب (مگر اللہ تعالیٰ اپنی بے پرواہی میں رہیں گے) (جب چاہیں گے) فرمائیں گے اے جبرئیل جاؤ میرے اس بندے کو لاکر پیش کرو۔ فرمایا کہ جبرئیل جا کر دیکھیں گے تو وہاں تو اہل جہنم منہ کے بل پڑے رو رہے ہوں گے۔ جبرئیل واپس آ کر اپنے رب کو اس بات کی خبر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جاؤ اسی کو لے آؤ (جو ہزار سل سے مجھے پکار رہا ہے) اس کا فلاں فلاں مرتبہ بھی تھا۔ جبرئیل جا کر اس کے لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں گے کہ میرے بندے تم نے اپنا مکان کیسا پایا جہنم میں اور اپنی آرام گاہ کیسی پائی۔ عرض کرے گا؟ یا رب بدترین مکان ، بدترین آرام گاہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا واپس لے جاؤ۔ اس کو اس کے اسی مقام پر جہاں سے آیا ہے۔ وہ عرض کرے گا، اے رب مجھے توآ پ سے یہ توقع نہیں تھی بلکہ یہ توقع تھی کہ جب مجھے آپ جہنم سے نکالیں گے تو واپس نہیں بھیجیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنےفرشتوں سے فرمائیں گے چھوڑ دو میرے بندے کو۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ، اسی طرح مروی ہے اس حدیث میں اور میں اور ہم نے بشر بن مفضل کی حدیث کوروایت کیا ہے ابو مسلمہ سے ابو نضرہ ابو سعید سے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا '' بہر حال اہل جہنم جو واقعی اس کے اہل ہیں وہ جہنم میں نہ مریں گے اور نہ ہی جئیں گے۔ لیکن ان کو آگ پہنچے گی ان کے گناہوں کے سبب سے۔" ذنوب کا لفظ یا خطا یاکا لفظ فرمایا تھا۔ دونوں سے مراد گناہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ موت دیں گے ان کو یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ بن جائیں گے۔ شفاعت کی اجازت مل جائے گی اور ان کو لایا جائے گا جلی ہوئی لکڑیوں کی گٹھی کی طرح جھلس چکے ہوں گے پھر وہ جنت کی نہروں میں پھینک دئیے جائیں گے ، پھر کہا جائے گا اے اہل جنت ان پر پانی انڈیل دو، پھر وہ ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے کنارے اگتا ہے۔ ایک آدمی کہتا ہے کہ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیہات میں تھے۔

أَنَسٍ، ← أَبُو ظِلَالٍ ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← أَبُو النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 320

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 321

321 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو نضر الفقيه ثنا نصر بن أحمد البغدادي ثنا نصر بن علي الجهضمي قال : و أخبرني أبو النضر ثنا جعفر بن أحمد الشاماتي ثنا أبو الأشعث أحمد بن المقدام قالا : ثنا بشر بن المفضل : فذكره رواه مسلم عن نصر بن علي و رواه سليمان التيمي عن أبي نضرة عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم خطب فأتى على هذه الآية { إنه من يأت ربه مجرما فإن له جهنم لا يموت فيها ولا يحيا } فقال معنى ما روينا و في رواية أبي مسلم عن أبي نضرة قال البيهقي رحمه الله : فيحتمل أن يكون هذا صنيعه ببعض أهل التوحيد الذين ارتكبوا الذنوب و الخطايا و كما في الحديث الأول إن صح إسناده صنيعه ببعضهم و كذلك ما روينا ها هنا و في كتاب البعث و النشور من اختلاف حال من يخرج من النار إنما هو على حسب ذنوبهم و على مقدار ما أراد الله تعالى من عقوبتهم و الله يعصمنا من النار بفضله و رحمته

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے ابو نضر فقیہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے نصر بن احمد بغدادی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے نصر بن علی جہضمی نے ، انہوں نے کہا اور مجھے خبر دی ہے ابو النضر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ جعفر بن احمد شامانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الاشعث احمد بن مقام نے، ان دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے بشر بن مفضل نے پھر اس کو حدیث کو اس نے ذکر کیا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے نصر بن علی سے اور سلیمان تیمی نے اس کو روایت کیا ہے ابو نضرہ سے ابو سعید سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور آپ اس آیت پر آئے: "انہ من یات ربہ مجرما ً فان لہ جھنم لایموت فیھا ولا یحییٰ (طٰہٰ 74) جو شخص اپنے رب کے پاس بحثیت مجرم آ ئے گا اس کے لئے جہنم ہے اس میں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔ آپ نے جب یہ آیت بیان فرمائی تو اس کے بعد اسی مذکورہ حدیث کامفہوم بیان فرمایا ہے جسے ہم نے ابو مسلمہ سے اور ابو نضرہ سے روایت کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہو بعض ان اہل توحید کے ساتھ جنہوں نے گناہوں کاارتکاب کیا تھا اور جیسے کہ پہلی حدیث میں ہے اگر اس کی اسناد صحیح ہوجو ان کے بعضوں کے ساتھ اس کا سلوک مذکور ہے اور اسی طرح ہم نے یہاں نقل کیا ہے۔ اور کتاب البعث والنشور میں ان کا حال مختلف ہو نا جو آگ سے نکلیں گے وہ اپنے اپنے گناہوں کے مطابق ہوں گے اور اس مقدار کے مطابق جو اللہ تعالیٰ ان کو سزا دینا چاہیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل اور رحمت کے ساتھ آگ سے بچائے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← نصر بن علي و رواه سليمان التيمي ← بشر بن المفضل فذكره رواه مسلم ← أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّامَاتِيُّ، ← أَبُو النَّضْرِ، ← و، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← نصر بن أحمد البغدادي ← أبو نضر الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 321

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 322

322 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا خالد بن يزيد ثنا الأشعث بن جابر قال : قلت للحسن يا أبا سعيد قول الله عز و جل : { يريدون أن يخرجوا من النار و ما هم بخارجين } قال : فضرب بيده على فخذي فقال : إن أولئك أهلها إنما هؤلاء قوم أصابوا ذنوبا لم يؤخذ منهم فينتقم منهم على الصراط ثم عفا عنهم و روي أن جابرا أجاب بمثل هذا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے، دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن مرزوق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مسلم بن ابراہیم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے خالد بن یزید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اشعث بن جابر نے، اس نے کہا کہ میں نے کہا حسن سے اے ابو سعید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کیا کہتے ہیں: "یریدون ان یخرجو ا من النار وماھم بخار جین منھا " (مائدہ 37) جابر نے کہا کہ حضرت ابو سعید حسن نے اپنا ہاتھ اپنی ران پر مارا اور فرمایا کہ یہ لوگ اہل جہنم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا تھا اور ان کواس پر مواخذہ بھی کیا گیا تھا۔ تو ان سے اس کا انتقام صراط پر لیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا۔ روایت کیا گیا ہے کہ جابر نے اسی جیسا جواب دیا تھا۔

فضرب بيده على فخذي ← قلت للحسن يا أبا سعيد قول الله عز و جل ← الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 322

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 323

323 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا سعيد بن عثمان الأهوازي ثنا عاصم بن علي ثنا أيوب بن عتبة عن قيس بن طلق بن علي عن أبيه : كنت من أشد الناس تكذيبا بالشفاعة حتى أتيت جابر بم عبد الله فقرأت عليه كل آية أقدر عليها في ذكر خلود أهل النار فيها فقال لي : يا طلق أنت أعلم بكتاب الله مني و أعلم بسنة النبي صلى الله عليه و سلم مني أن الذي قرأت لهم أهلها و لكن هؤلاء أصابوا ذنوبا فعذبوا ثم أخرجوا منها و نحن نقرأ كما قرأت و شاهده عن جابر بن عبد الله قد مضى في هذا الجزء

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عبید صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن عثمان اھوازی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عاصم بن علی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ایوب بن عتبہ نے قیس بن طلق بن علی سے اس نے اپنے باپ سے کہ میں شفاعت کے عقیدے کا سخت ترین مخالف تھا۔ یہاں تک کہ میں جابر بن عبداللہ کے پاس آیا۔ میں نے ان کے سامنے ہر وہ آیت پڑھی جس پر میں قادر تھا اہل جہنم کے خلود اور دائمی جہنم کے بارے میں۔ انہوں نے مجھے فرمایا اے طلق تو مجھ سےکتاب اللہ کو زیادہ جانتا ہے اور سنت نبی کو بھی زیادہ جانتا ہے۔ بے شک جو کچھ تم نے آیات پڑھی ہیں ان کے اہل اور ان کے مصداق اور ہیں۔ لیکن یہ لوگ جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے یہ عذاب دئیے جائیں گے۔ پھر اس میں سے نکال لئے جائیں گے۔ ہم بھی پڑھتے جیسے تم نے پڑھا ہے اورا س روایت کی شاہد روایت جابر بن عبداللہ سے اسی جلد میں گذر چکی ہے۔

قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ ← أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← سعيد بن عثمان الأهوازي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 323

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 324

324 - أخبرنا علي بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا نعيم بن حماد ثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يخرج قوم من النار بعد ما امتحشوا فيدخلون الجنة قال عمرو بن دينار : قال عبيد بن عمير : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يخرج قوم من النار فيدخلون الجنة قال : فقال له رجل يا أبا عاصم ما هذا الحديث الذي تحدث به قال : فقال عبيد بن عمير إليك عني يا علج ! فلو لم أسمعه من ثلاثين من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ما حدثته

ہمیں خبر دی ہے علی بن عبدان نے کہ خبر دی ہے احمد بن عبید صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید بن شریک نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے نعیم بن حماد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے انہوں نے جابر بن عبداللہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک جماعت آگ سے نکالی جائے گی اس کے بعد کہ وہ اچھی طرح جل چکے ہوں گے ۔ پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ عمرو بن دینار نے کہا کہ عبید بن عمیر نے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک قوم باجماعت جہنم سے نکا ل کر جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ عبید سے ایک آدمی نے کہا اے ابو عاصم ، یہ کیسی حدیث ہے جو تم بیان کرتے ہو ۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ عبید بن عمیر نے کہا مجھ سے ہٹ جا اے علج اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیس صحابہ سے نہ سنی ہو تی تو میں اس کو بیان نہ کرتا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← علي بن عبدان،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 324

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 325

325 - قال سفيان : قدم علينا عمرو بن عبيد و معه رجل تابع له على هواه قال : فدخل عمرو بن عبيد الحجر فصلى فيه و خرج صاحبه فقام على عمرو بن عمرو بن عبيد فقال له : يا ضال أما كنت تخبرنا أنه لا يخرج من النار أحد قال بلى قال : فهوذا عمر بن دنيار يزعم أنه سمع جابر بن عبد الله يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يخرج قوم من النار فيدخلون الجنة قال : فقال عمرو بن عبيد هذا له معنى لا نعرفه قال : و قال الرجل و أي معنى يكون لهذا قال : ثم نفض يده من يده و فارقه 325 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أخبرنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو الأزهر ثنا يحيى بن أبي الحجاج عن عيسى بن سنان حدثني رجاء بن حيوة قال : سئل جابر بن عبد الله هل كنت تسمون من الذنوب كفرا او شركا أو نفاقا قال : معاذ الله و لكنا نقول مؤمنين مذنبين قال البيهقي رحمه الله : و روينا في معناه عن علي بن أبي طالب و سعد بن أبي وقاص و حذيفة بن اليمان و غيرهم و قد ثبت بما ذكرنا ها هنا و في كتاب البعث أن المؤمن لا يخلد في النار بذنوبه غير أن القدر الذي يبقى فيها غير معلوم و الذي تلحقه الشفاعة ابتداء حتى لا يعذب أصلا غير معلوم فالذنب خطره عظيم و شأنه جسيم و ربنا غفور رحيم عقابه شديد أليم

سفیان کہتے ہیں کہ ہمارے پاس عمرو بن عبید آئے اور ان کے ساتھ ایک آدمی تھا جو کہ ان کی خواہشات کاتابع تھا۔چنانچہ عمرو ب عبید حطیم میں داخل ہوئے اور ا س میں نما ز پڑھی۔ اس میں سے ان کے ساتھی نکلے اور وہ عمرو بن دینار پر کھڑے ہو گئے اور ابن دینار اس آدمی کو حضرت جابر بن عبداللہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرنے لگے وہ آدمی عمرو بن عبید کی طرف آیا اور ان سے کہنے لگا اے گمراہ آدمی کیا تو ہمیں یہ خبر دیتاتھا کہ جہنم میں سے کوئی ایک بھی نہیں نکلے گا۔ اس نے کہا جی ہاں۔ اس آدمی نے کہایہ رہے عمرو بن دینار یہ دعویٰ کرتے ہیں۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ لوگوں کی ایک جماعت جہنم سے نکالے جائیں گے اور جنت میں داخل کئے جائیں گے۔سفیان کہتے ہیں کہ عمرو بن عبید نے کہا اس کا بھی ایک معنی اور مطلب ہے جسے ہم نہیں جانتے ۔ سفیان کہتے ہیں کہ اس آدمی نے کہا اس کا کونسا معنی ہے؟ سفیان کہتے ہیں اس آدمی نے اس کی دوستی چھوڑدی اور ان سے جدا ہو ا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← فهوذا عمر بن دنيار يزعم أنه ← بَلٰی

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 325

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 326

326 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا سعيد بن عامر ثنا خشيش أبو محرز قال : سمعت أبا عمران الجوني يقول : هبك تنجو بعد كم تنجو

اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے خبر دی ہے ہمیں ابو حامد بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوالازھر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن ابوالحاج نے عیسیٰ بن سنان سے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے رجاء بن حیوٰۃ نے ، انہوں نے کہا کہ جابر بن عبداللہ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا تم گناہوں کو کفر کا نام دیتے ہو یا شرک کا یا نفاق اور منافقت کا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ (ہم ایسے نہیں کہتے بلکہ یہ کہتے ہیں) گناہ گار مؤمن۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : ہم نے اسی کے معنی میں روایت کی ہے علی بن ابی طالب سے اور سعد بن ابی وقاص سے اور حذیفہ بن یمان سے اور دیگر سے۔ تحقیق ثابت ہو چکا ہے۔ (ان روایات کے ساتھ) جوہم نے یہاں ذکر کی ہیں اور کتاب البعث والنشور میں کہ مومن اپنے گناہوں کے سبب ہمیشہ جہنم میں نہیں رکھا جائے گا سوائے اس کے کہ وہ مقدار اور اندازہ نامعلوم ہو جو وہ جہنم میں رہے گا اور وہ شخص جس کو شفاعت ابتداءً نصیب ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ بالکل بھی عذاب نہیں دیا جائے گا وہ بھی نامعلوم ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ گناہ کا خطرہ عظیم ہے اور اس کا معاملہ بہت بڑا ہے۔ لیکن ہمارا رب غفور ہے رحیم ہے اور اس کی پکڑ بھی سخت ہے دردناک ہے۔ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ ابراہیم بن مرزوق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن عامر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے خشیش ابو محرز نے کہتے ہیں ۔میں نے سنا تھا ابو عمران جونی سے وہ کہتے تھے تجھ سے پہلے بھی لوگ نجات پائیں گے۔ اورتمہارے بعد بھی۔

هبك تنجو بعد كم تنجو ← أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ ← خشيش أبو محرز ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 326

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 327

327 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه ثنا عثمان بن سعيد الدرامي ثنا محمد بن المنهال ثنا يزيد بن زريع ح و أخبرنا أبو عبد الله ثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري و اللفظ له ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي ثنا أمية بن بسطام ثنا يزيد بن زريع ثنا روح بن القاسم عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة قال : لما نزلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم : { لله ما في السموات و ما في الأرض } الآية فاشتد ذلك على أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتوا رسول الله ثم بركوا على الركب ثم قالوا أي رسول الله كلفنا من الأعمال ما نطيق : الصلاة و الصيام و الزكاة و الصدقة و قد نزلت عليك هذه الآية و لا نطيقها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتريدون أن تقولوا كما قال أهل الكتابين من قبلكم : سمعنا و عصينا بل قولوا { سمعنا و أطعنا غفرانك ربنا و إليك المصير } قالوا : { سمعنا و أطعنا غفرانك ربنا و إليك المصير } فلما قرأها القوم و ذلك بها ألسنتهم أنزل الله عز و جل في أثرها : { آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه و المؤمنون } إلى قوله : { غفرانك ربنا و إليك المصير } فلما فعلوا ذلك نسخها الله فأنزل الله عز و جل : { لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت و عليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا } قال نعم { ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا } قال نعم { ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به } قال نعم { و اعف عنا و اغفر لنا و ارحمنا أنت مولانا فانصرنا على القوم الكافرين } قال نعم رواه مسلم في الصحيح عن أمية بن بسطام و محمد بن المنهال

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے ابو نضر محمد بن محمد بن یوسف فقیہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن منھال نےکہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یزید بن زریع نے اور خبر دی ہے ہمیں ابوعبداللہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو زکریایحیی ٰ بن محمد عنبری نے اور یہ لفظ اسی کے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم عبدی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے امیہ بن بسطام نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یزید بن زریع نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے روح بن قاسم نے علاء سے، اس نے اپنے والد سے، اس نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت اتری: "للہ ما فی السموات والارض وان تبدو ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ (البقرہ 284) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کچھ اللہ کاہے جو کچھ تمہارے دل میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تعالیٰ تم سے اس کا حساب لے گا۔ (اس میں ہے کہ جو بات دل میں ہے اس کا بھی حوالہ دینا پڑے گا)۔ یہ بات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزری، لہذا سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے ادب سے دو زانوں ہو کر بیٹھے۔ پھر سوال کیا اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم اعمال میں ایسی تکلیف دئیے گئے ہیں جس کی ہمیں استطاعت ہے،جیسے نماز ہوئی ، روزہ اور زکوٰۃ اور صدقہ ہوئے اور اب آپ کے اوپر یہ آیت جو اتری ہے ہمیں اس عمل کی طاقت نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا تم یہی چاہتے ہو کہ تم وہی کہو جو کچھ تم سے پہلے اہل کتاب یہود ونصاریٰ نے کہا تھا کہ ہم نے سنا ہے اور اس پر ہم نے نافرمانی کر لی ہے، بلکہ تم یوں کہو کہ سمعنا واطعنا کہ ہم نے سنا ہے اور ہم نے اطاعت کی ہے۔ ہم تجھ سے تیری مغفرت کا سوال کرتے ہیں۔ اے ہمارے رب تیری طرف ہی لوٹنا ہے ۔اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ہی کہا:"سمعنا واطعنا غفرانک والیک المصیر" ہم نے سنا ہے اور اطاعت کر لی ہے ، ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اے ہمارے رب اور تیری طرف ہی رجوع کرنے کی جگہ ۔ "آمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون کل امن باللہ وملائکتہ ورسلہ لانفرق بین احد من رسلہ وقالو سمعنا واطعنا غفرانک ر بنا والیک المصیر" رسول ایمان لایا ہے اس کتاب کے ساتھ جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف اتاری گئی ہے اور مؤمن بھی ہر ایک ایمان لایا ہے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور ا س کی کتاب پر اور اس کے رسولوں پر۔ (وہ کہتے ہیں) ہم (ایمان لائے ہیں) کوئی فرق نہیں کرتے کسی ایک کے ساتھ بھی اس کے رسولوں میں سے اور مؤمنوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ہم آپ سے آپ کی مغفرت کا سوال کرتے ہیں اے ہمارے رب اور تیری طرف ہے جائےرجوع۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کام کیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت کے اس حکم کو منسوخ فرما دیا ۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: "لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا لھا ما کسبت وعلیھا ماکتسبت ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا واخطئنا" نہیں تکلیف دیتا اللہ تعالیٰ کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق اسی کے فائدے کے لئے جو اس نے نیک کام کیا اور اس کے اوپر وبال ہے جو اس نے غلط کام کیا۔ اے ہمارے رب ہمیں گرفت نہ کرنا اگر ہم سے بھول ہو جائے یا چوک ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں یہ دعا قبول کر لی۔ "ربنا ولا تحمل علینا اصراً کما حملتہ علی الذین من قبلنا " اے ہمارے رب ہمارے اوپر ایسا بوجھ نہ رکھنا جیسے کہ آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بار رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں میں نے دعا قبو ل کر لی ہے۔ "ربنا ولا تحملنا ما لا طاقۃ لنا بہ " اے ہمارے رب ہم سے وہ ذمہ داری نہ اٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں میں نے یہ دعا قبول کر لی ہے۔ "واعف عنا واغفرلنا وارحمنا انت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین" ہمیں معاف فرما ، ہماری مغفرت فرما ، ہمارے اوپر رحم فرما۔ توہی ہمارا مالک ہے اور کافروں کے اوپر ہماری مدد فرما۔ (سورۃ بقرہ ۔286) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں میں نے یہ دعا قبول کر لی۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے امیہ بن بسطام اور محمد بن منھال سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ محمد بن إِبْرَاهِيمُ الْعَبْدِيُّ ← أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري و اللفظ له ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← و، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 327

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 328

328 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن الفضل الصائغ ثنا آدم ثنا ورقاء عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : لما نزلت { و إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه } { لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن فضل صائغ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ورقاء نے عطاء بن سائب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: "وان تبدو ا ما فی انفسکم او تخفوہ "(البقرہ 284) اگر تم ظاہر کر دیا چھپاؤ اس کو جس کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ تعالیٰ اس کا تم سے حساب لے گا۔ (استدراک) یعنی یہ حکم صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مشکل گزرا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں انہوں نے اپنی تکلیف اور پریشانی بیان کی، اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت کے ساتھ آسانی پیدا کر دی اور دوسرا آسان حکم اتار دیا وہ یہ تھا: "لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا لھا ماکسبت وعلیھا ماکتسبت (البقرہ 286) اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتے جو نیکی کرتا اس کےفائدے کے لئے ہے اور جو غلطی کرتا ہے وہ اسی پر وبال ہوتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← أحمد بن الفضل الصائغ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 328

chevron_left Previous
1…56789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood