شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 281
281 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو عبد الله محمد بن يزيد الجوزي ثنا زكريا بن يحيى البزاز ثنا زيد بن أخزم الطائي ثنا عامر بن مدرك ثنا عتبة بن يقظان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أحسن من محسن كافر أو مسلم إلا أثابه الله عز و جل قلنا يا رسول الله ! و ما إثابه الله الكافر ؟ قال : إن كان وصل رحما أو تصدق بصدقة أو عمل حسنة أثابه الله تعالى و إثابته إياه المال و الولد و الصحة وأشباه ذلك قال قلنا : و ما أثابته في الآخرة ؟ قال : عذاب دون العذاب و قرأ : { أدخلوا آل فرعون أشد العذاب } قال البيهقي رحمه الله : و هذا أن ثبت ففيه الحجة و إن لم يثبت لأن في إسناده من لا يحتج به و حديث أبي طالب صحيح و لا معنى لإنكار الحليمي رحمه الله الحديث و لا أدري كيف ذهب عنه صحة ذلك فقد روي من أوجه عن عبد الملك بن عمير و روي من وجه آخر صحيح عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم بمعناه و قد أخرجه صاحب الصحيح و غيرهما من الأئمة في كتبهم الصحاح و إنما يصح لمن ذهب المذهب الثاني في خيرات الكافر أن يقول حديث أبي طالب خاص في التخفيف عن عذابه بما صنع إلى النبي صلى الله عليه و سلم خص به أبو طالب لأجل النبي صلى الله عليه و سلم تطيبا لقلبه و ثوابا له في نفسه لا لأبي طالب فإن حسنات أبي طالب صارت بموته على كفره هباء منثورا و مثل هذا حديث عروة بن الزبير في اعتاق أبي لهب ثويبة و إرضاعها رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما مات أبو لهب أريه بعض أهله في النون بشر خيبة فقال له : ما لقيت ؟ فقال أبو لهب : لم نر بعدكم رجاء غير أني سقيت في هذه مني بعتاقتي ثويبة و أشار إلى النقيرة التي بين الإبهام و التي تليها و هذا أيضا لأن الإحسان كان مرجعه إلى صاحب النبوة فلم يضيع و الله أعلم و أما المؤمنون يحاسبون فإن أعمالهم توزن و هم فريقان : أحدهما المؤمنون المتقون لكبائر الذنوب فهؤلاء توضع حسناتهم في الكفة النيرة و و صغائرهم ـ إن كانت لهم ـ في الكفة الأخرى فلا يجعل الله لتلك الصغائر وزنا و تثقل الكفة النيرة و ترتفع الكفة الأخرى ارتفاع الفارع الخالي فيؤمر بهم إلى الجنة و يثاب كل واحد منهم على قدر حسناته و طاعاته كما تلونا في الآيات التي ذكرناها في الموازين و الآخر : المؤمنون المخئطون : و هم الذين يوافون القيامة بالكبائر و الفواحش غير أنهم لم يشركوا بالله شيئا فحسناتهم توضع في الكفة النيرة و آثامهم و شيئاتهم في الكفة المظلمة فيكون يومئذ لكبائرهم التي جاؤوا بها ثقل و لحسناتهم ثقل إلا أن الحسنات تكون بكل حال أثقل لأن معها أصل الإيمان و ليس مع السيئات كفر و يستحيل وجود الإيمان و الكفر معا لشخص واحد و لأن الحسنات لم يرد بها إلا وجه الله تعالى و السيئات لم يقصد بها مخالفة الله و عناده بل كان تعاطيها لداعية الهوى و على خوف من الله عز و جل و إشفاق من غصبه فاستحال توازي السيئات ـ و إن كثرت ـ حسنات المؤمن و لكنها عند الوزن لا تخلوا من تثقيل و يقع بها الميزان حتى يكون ثقلها كبعض ثقل الحسنات فيجزي أمر هؤلاء على ما ورد به الكتابة جملة و دلت سنة المصطفي صلى الله عليه و سلم على تفصيلها و هو قوله عز و دل : { إن الله يغفر الذنوب جميعا } و قوله : { و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء } فيغفر لمن يشاء بفضله و يشفع فيمن شاء منهم بإذنه و يعذب من شاء منهم بمقدار ذنبه ثم يخرجه ثم يخرجه من النار إلى الجنة برحمته كما ورد به خبر الصادق و قد دل الكتاب على وزن أعمال المخلطين من المؤمنين و هو قوله عز و جل : { ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال حبة من خردل أتينا بها وكفى بنا حاسبين } و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أنه لا يترك له حسنة إلا توزن و هذا بالمؤمن المخلط لأنه لو تركت له حسنة لم توزن لزاد ذلك في ثقل سيئاته فأوجب ذلك زيادة في عذابه فأما أن الوزن كيف يكون ؟ ففيه وجهان : أحدهما أن صحف الحسنات توضع في الكفة النبيرة و صحف السيئات في الكفة المظلمة لأن الأعمال لا تنسخ في صحيفة واحدة و لا كاتبها يكون واحدا لكن الملك الذي يكون عن اليمين يكتب الحسنات و الملك الذي يكون على الشمال يكتب السيئات فيتفرد كل واحد منهما بما ينسخ فإذا جاء وقت الوزن وضعت الصحف في الموازين فيثقل الله عز و جل ما يحق تثقيله و يخفف ما يحق تخفيفه و الوجه الآخر أن يجوز أن يحدث الله تبارك و تعالى أجساما مقدرة بعدد الحسنات و السيئات و يميز إحداهما عن الأخرى بصفات تعرف بها فتوزن كما توزن الأجسام بعضهما ببعض في الدنيا و الله أعلم و يعتبر في وزن الأعمال مواقعها من رضي الله عز و جل و سخطه و ذهب أهل التفسير إلى إثبات هذا الميزان بكفتيه و جاء في الأخبار ما دل عليه و قد روى الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس أنه قال : الميزان له لسان و كفتان يوزن فيه الحسنات و السيئات فيؤتي بالحسنات في أحسن صورة فتوضع في كفة في كفة الميزان فيثقل على السيئات قال : فيؤخذ فيوضع في الجنة عند منازله ثم يقال للمؤمن : الحق بعملك قال فينطلق إلى الجنة فيعرف منازله بعمله قال : و يؤتى بالسيئات في أقبح صورة فتوضع في كفة الميزان فتخفف ـ و الباطل خفيف ـ فيطرح في جهنم إلى منازله منها و يقال له : الحق بعملك إلى النار قال : فيأتي النار فيعرف منازله بعمله و ما أعد الله فيها من ألوان العذاب قال ابن عباس : فلهم أعرف بمنازلهم في الجنة و النار بعملهم من القوم ينصرفون يوم الجمع راجعين إلى منازلهم
ہمیں حدیث بیان کی ہے امام ابو الطیب سھل بن محمد بن سلیمان نے خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یزید جوزی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زکریا بن یحییٰ بزاز نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زیدن بن احزم طائی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عامر بن مدوک نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عقبہ بن یقضان نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے طارق بن شھاب سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: "مااحسن من محسن کافر اورمسلم الا اثابہ اللہ عزوجل " کوئی بھی نیکی کرنے والا جو نیکی کرتا ہے مسلم ہو یا کافر ہو اللہ تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کا کافر کو ثواب دینا کیسا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ صلہ رحمی کرتا تھا یا صدقہ کرتا تھا یا کوئی نیک عمل کرتا تھا اللہ تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے اور اس کو مخصوص ثواب یہ ہے کہ اس کومال دیتا ہے، اولاد دیتا ہے، صحت دیتا ہے اور اس کی مثل کچھ اور بھی۔ ہم نے عرض کی کہ کافر کو آخرت میں ثواب کیسے دیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، زیادہ عذاب کے مقابلے میں کم عذاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ''ادخلو ا اٰل فرعون اشد العذاب " (مومن 46) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کفار کم عذاب اور کچھ کو کمترین عذاب بھی دیا جائے گا۔ (مترجم) اس روایت کو نقل کرتے کے بعد امام بیہقی تبصرہ کرتے ہیں کہ اگر یہ روایت ثابت ہو جائے تو اس میں حجت و دلیل ہے۔ اگر ثابت نہ وہ تو پھر دلیل بھی نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کی اسناد میں وہ راوی بھی ہے جس کے ساتھ حجت نہیں پکڑی جاتی۔ اور ابو طالب کے واقعہ والی حدیث صحیح ہے۔ باقی شیخ حلیمی کے اس حدیث کا انکار کرنے کا کچھ مطلب نہیں ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کی صحت ان سے کیونکر اوجھل رہی ہے۔ وہ تو کئی وجوہ سے مروی ہے۔ عبدالملک بن عمیر سے اور ایک اور صحیح طریقہ سے حضرت ابو سعید خدری سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کے مفہوم میں مروی ہے۔ اور اس روایت کو صاحب صحیح نے بھی نقل کیا ہے اوران دونوں کے علاوہ کئی ائمہ نے اپنی صحاح کتب میں نقل کی ہے۔ جو شخص کافر کی نیکیوں کی بابت مذہب ثانی کی طرف گیا ہے اس کےلئے صحیح ہے کہ وہ یہ کہے کہ حدیث ابو طالب خاص ہے صرف اسی کے عذاب کی تخفیف کے لئے۔ اس نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سلوک کیا تھا اسی کی وجہ سے اس تخفیف کے ساتھ ابو طالب مختص کیا گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تالیف قلف کےل ئے اور آپ کوفی نفسہ ثواب دینے کے لئے ابو طالب کے لئے نہیں اس لئے کہ ابو طالب کی نیکیاں اس کے کفر کی وجہ سے اس کی مغفرت پر اڑتا ہوا غبار ہو گئی تھیں۔ رحمۃ للعالمین کی وجہ سے ابو لہب کو پانی کا گھونٹ ملنا : اسی حدیث ابو طالب کی مثل ہے حدیث عروہ بن زبیر جس میں ابو لھب کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لوندی ثوبیہ کو آزاد کرنا اور ثوبیہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلانا مذکور ہے۔ جب ابو لہب کا انتقال ہو گیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی ایک کو وہ خواب میں دکھایا گیا ۔ بڑی بری حالت میں اور ناکامی میں تھا۔ اس نے اس سے پوچھا تیرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ ابو لہب نے کہا کہ میں نے تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعدمکمل مایوسی دیکھی، امید کی کہیں کوئی صورت نہیں تھی۔ ہاں ثوبیہ کو آزاد کرنے کے بدلے میں مجھے اتنا سا گھونٹ پلایا گیا ہے (یعنی تھوڑا سا) اس نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان جو فاصلہ یا سوراخ بنتا ہے اسی کا اشارہ کر کے دکھا یا۔ یہ بات بھی ایسی ہی ہے س لئے کہ اس واقعہ میں بھی احسان کا مرجع وہی ذات رسالت ہے، لہذا وہ نیکی ضائع نہ کی گئی۔ بہر حال ایمان کا حساب لیا جائے گا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور وہ دو گروہ ہوں گے۔ پہلا گروہ: مومن متقی جو کبیرہ گناہوں سے بچتے رہتے تھے ۔ ان کی نیکیاں روشنی کے پلڑے میں رکھی جائیں گی اور ان کے صغیرہ گناہ اگر ہوئے تو وہ دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں گے ۔ اللہ پاک ان صغیرہ گناہوں کا کوئی وزن نہیں بنائیں گے۔ لہذا روشنی والاپلڑا بھاری ہو جائے گا اور دوسرا پلڑا اٹھ جائے گا۔ جیسے فارغ اور خالی اٹھ جاتا ہے۔ پھر ان کے لئے جنت کا حکم ہو جائے گا اور ان میں سے ہر ایک کو اس کی حسنات اور طاعت کے بقدر ثواب دیا جائے گا ۔ جیسے ہم ونضع الموازین والی آیت بیان کر چکے ہیں۔ دوسرا گروہ: مؤمن خطا کاروں کا ہو گا۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو قیامت میں کبیرہ گناہوں اور فواحش اور بے حیائیوں کی سزا دئیے جائیں گے۔مگر وہ شرک نہیں کرتے ہوں گے۔ ان کی نیکیاں بھی روشنی کے پلڑے میں رکھی جائیں گی اور ان کے گناہ اور سیئات تاریک پلڑے میں رکھے جائیں گے ۔ آج ان کے ان کبیرہ گناہوں کا جو وہ لائے ہوں گے بھی بوجھ ہو گا اور ان کی نیکیوں کا بھی بوجھ ہو گا۔ مگر نیکیاں ہر حال میں بھاری ہوں گی۔ اس لئے کہ ان کے ساتھ اصل ایمان بھی ہوگا۔ جبکہ سیئات اور گناہوں میں کفر نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ ایک ہی شخص میں ایمان بھی ہو اور کفر بھی یہ محال ہے۔ اور دوسری یہ وجہ بھی ہے کہ حسنات اور نیکیوں کا مقصد اور منشاء صرف اللہ کی رضا تھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں گناہوں کا مقصد اللہ کی مخالفت کرنا یا اللہ سے بغض نہیں تھا بلکہ وہ محض نفسانی خواہشات کی بناء پر تھا۔ جس کے ساتھ ساتھ اللہ کا خوف ، اللہ کے غضب سے ڈرنا بھی ساتھ تھا۔ لہذا یہ تو محال ہو گا کہ سیئات بھی برابر ہوجائیں ، اگرچہ زیادہ بھی ہوں۔ تاہم نیکیوں کے برابر نہیں ہوں گے۔ لہزا لامحالہ گناہوں کا بوجھ تو ہو گا اور ان کے ساتھ ترازو بھی جھکے گا۔ یہاں تک کہ بعض سیئات کا بوجھ بعض حسنات کے بوجھ کی طرح ہو گا۔ سو اسوقت وہی معاملہ ہو گا جو قرآن میں مذکور ہو۔ آیت "ونضع الموازین القسط میں مذکور ہے کہ کوئی نفس ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بھی دلالت کرتی ہے اس کی تفصیلات کے بارے میں۔ اور اس کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا (الزمر 53) بے شک اللہ تعالیٰ سارے کے سارے گناہ بخش دے گا۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ویغفر مادون ذالک لمن یشاء " (الانبیاء 47) ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے قیامت کے روز لہذا کوئی نفس ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔اگرچہ کسی کی کوئی نیکی رائی کےدانے برابر ہو گی تو ہم اس کو بھی ضرور لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس آیت میں مراد یہ ہے کہ کسی انسان کی کوئی نیکی چھوڑی نہیں جائے گی۔ بلکہ وہ تولی جائے گی۔ یہ معاملہ ہو گا اس مؤمن کا جس کے ملے جلے اعمال ہوں گے، کیونکہ اگر اس کی کوئی نیکی چھوڑی جائے اوراس کا وزن رہ جائے تو اس کی جگہ اس کے گناہ کا وزن زیادہ ہو جائے گا اور یہ زیادتی اس کے لئے عذاب کو واجب کرسکتی ہے۔ وزن اعما ل کی کیفیت بہر حال وزن اعمال کیسے ہو گا؟ اس کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت: یہ ہے کہ نیکیوں کے صحیفے ایک روشن پلڑے میں رکھے جائیں گے اور گناہوں کے صحیفے تاریک پلڑے میں کیونکہ اعمال ایک ہی صحیفے میں نہیں لکھے جاتے اور ان کا لکھنے والا بھی ایک نہیں ہے۔ جو فرشتہ دائیں طرف ہوتا ہے وہ نیکیوں کو لکھتا ہے اور جو بائیں طرف ہوتا ہے وہ برائیوں اور گناہوں کو لکھتاہے۔ لہذا دونوں اپنے اپنے صحیفے لکھنے میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ جب وزن کرنے کا وقت آئے گا تو وہی صحیفے میزان اور ترازو میں رکھے جائیں گے۔ سو جس کو بھاری کرنے کا حق ہو گا اللہ تعالیٰ اس کو بھاری کر دیں گے اور جس کو ہلکا کرنے کا حق ہو گا اس کو ہلکا کر دیں گے۔ دوسری صورت: یہ ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ مخصوص اجسام پیدا فرما دیں جو حسنات اور سیئات کی تعداد کے مطابق ہوں اور وہ سب ایک دوسرے سے ایسی صفات کے ساتھ ممتاز اور نمایاں ہوں جن کے ذریعے وہ پہچانے جا سکیں ۔ پھر وہی اجسام وزن کئے جائیں۔ جیسے دنیا میں بعض اجسام بعض کے ساتھ وزن کئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور وزن اعمال میں اعتبار اس بات کو ہو گا کہ اللہ کی رضا اور اللہ کی ناراضگی جس جگہ واقع ہو۔ اہل تفسیر اس میزان کو دو پلڑوں والا ثابت کرنے کی طرف گئے ہین اور احادیث میں بھی اس پر دلالت آئی ہے اور کلبی نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا میزان ایسی ہو گی کہ اس کی ایک زبان ہو گی اور اس کی دو ہتھیلیاں یا دو پلڑے ہوں گے۔ اس میں نیکیاں اور بدیاں تولی جائیں گی۔ نیکیاں خوبصورت شکل میں لائی جائیں گی اور میزان کے پلڑے میں رکھ دی جائیں گی۔ اوروہ گناہوں اور غلطیوں کا بھاری ہو جائیں گی۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پھر وہ اٹھا کر جنت میں ان کے ٹھکانوں کے پاس رکھ جائیں گی۔ پھر مومن سے کہا جائے گا۔ آپ اپنے عمل کے ساتھ لاحق ہو جائیے۔ فرمایا کہ پھر وہ جنت کی طرف چلے گا اور اپنے اپنے ٹھکانے کو اپنے اپنے عمل سے پہچان لے گا۔ اور انہوں نے فرمایا کہ برائیاں بد ترین صورت میں لائی جائیں گی اور میزان کے پلڑے میں رکھ دی جائیں گی اور وہ ہلکی پڑجائیں گی ۔ ا س لئے کہ باطل ہلکا اور بے وزن ہوتا ہے۔ پھر وہ اٹھا کر جہنم میں ان کے ٹھکانے پر رکھ دی جائیں ۔ پھر اس بندے سے کہا جائے گا کہ آپ اپنے عمل کے ساتھ جہنم میں لاحق ہو جائیے۔ فرمایا کہ پھر وہ انسان جہنم کی طرف آئے گا اور اپنے عمل کے ذریعے اپنا ٹھکانہ پہچان لے گا اور اس کو بھی جو اللہ نے اس کے لئے مختلف اور رنگ رنگ اور قسم قسم کے عذاب تیار کر رکھے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے اپنے اپنے منازل کو اور مقامات کو سب سے زیادہ پہچاننے والے ہوں گے وہ جمع ہونے کے دن جائیں گے۔اپنے اپنے مقامات ی طرف رجوع کرنے والے ہوں گے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ← عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، ← زكريا بن يحيى البزاز، ← أبو عبد الله محمد بن يزيد الجوزي ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 281
