Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 281

281 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو عبد الله محمد بن يزيد الجوزي ثنا زكريا بن يحيى البزاز ثنا زيد بن أخزم الطائي ثنا عامر بن مدرك ثنا عتبة بن يقظان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أحسن من محسن كافر أو مسلم إلا أثابه الله عز و جل قلنا يا رسول الله ! و ما إثابه الله الكافر ؟ قال : إن كان وصل رحما أو تصدق بصدقة أو عمل حسنة أثابه الله تعالى و إثابته إياه المال و الولد و الصحة وأشباه ذلك قال قلنا : و ما أثابته في الآخرة ؟ قال : عذاب دون العذاب و قرأ : { أدخلوا آل فرعون أشد العذاب } قال البيهقي رحمه الله : و هذا أن ثبت ففيه الحجة و إن لم يثبت لأن في إسناده من لا يحتج به و حديث أبي طالب صحيح و لا معنى لإنكار الحليمي رحمه الله الحديث و لا أدري كيف ذهب عنه صحة ذلك فقد روي من أوجه عن عبد الملك بن عمير و روي من وجه آخر صحيح عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم بمعناه و قد أخرجه صاحب الصحيح و غيرهما من الأئمة في كتبهم الصحاح و إنما يصح لمن ذهب المذهب الثاني في خيرات الكافر أن يقول حديث أبي طالب خاص في التخفيف عن عذابه بما صنع إلى النبي صلى الله عليه و سلم خص به أبو طالب لأجل النبي صلى الله عليه و سلم تطيبا لقلبه و ثوابا له في نفسه لا لأبي طالب فإن حسنات أبي طالب صارت بموته على كفره هباء منثورا و مثل هذا حديث عروة بن الزبير في اعتاق أبي لهب ثويبة و إرضاعها رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما مات أبو لهب أريه بعض أهله في النون بشر خيبة فقال له : ما لقيت ؟ فقال أبو لهب : لم نر بعدكم رجاء غير أني سقيت في هذه مني بعتاقتي ثويبة و أشار إلى النقيرة التي بين الإبهام و التي تليها و هذا أيضا لأن الإحسان كان مرجعه إلى صاحب النبوة فلم يضيع و الله أعلم و أما المؤمنون يحاسبون فإن أعمالهم توزن و هم فريقان : أحدهما المؤمنون المتقون لكبائر الذنوب فهؤلاء توضع حسناتهم في الكفة النيرة و و صغائرهم ـ إن كانت لهم ـ في الكفة الأخرى فلا يجعل الله لتلك الصغائر وزنا و تثقل الكفة النيرة و ترتفع الكفة الأخرى ارتفاع الفارع الخالي فيؤمر بهم إلى الجنة و يثاب كل واحد منهم على قدر حسناته و طاعاته كما تلونا في الآيات التي ذكرناها في الموازين و الآخر : المؤمنون المخئطون : و هم الذين يوافون القيامة بالكبائر و الفواحش غير أنهم لم يشركوا بالله شيئا فحسناتهم توضع في الكفة النيرة و آثامهم و شيئاتهم في الكفة المظلمة فيكون يومئذ لكبائرهم التي جاؤوا بها ثقل و لحسناتهم ثقل إلا أن الحسنات تكون بكل حال أثقل لأن معها أصل الإيمان و ليس مع السيئات كفر و يستحيل وجود الإيمان و الكفر معا لشخص واحد و لأن الحسنات لم يرد بها إلا وجه الله تعالى و السيئات لم يقصد بها مخالفة الله و عناده بل كان تعاطيها لداعية الهوى و على خوف من الله عز و جل و إشفاق من غصبه فاستحال توازي السيئات ـ و إن كثرت ـ حسنات المؤمن و لكنها عند الوزن لا تخلوا من تثقيل و يقع بها الميزان حتى يكون ثقلها كبعض ثقل الحسنات فيجزي أمر هؤلاء على ما ورد به الكتابة جملة و دلت سنة المصطفي صلى الله عليه و سلم على تفصيلها و هو قوله عز و دل : { إن الله يغفر الذنوب جميعا } و قوله : { و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء } فيغفر لمن يشاء بفضله و يشفع فيمن شاء منهم بإذنه و يعذب من شاء منهم بمقدار ذنبه ثم يخرجه ثم يخرجه من النار إلى الجنة برحمته كما ورد به خبر الصادق و قد دل الكتاب على وزن أعمال المخلطين من المؤمنين و هو قوله عز و جل : { ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال حبة من خردل أتينا بها وكفى بنا حاسبين } و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أنه لا يترك له حسنة إلا توزن و هذا بالمؤمن المخلط لأنه لو تركت له حسنة لم توزن لزاد ذلك في ثقل سيئاته فأوجب ذلك زيادة في عذابه فأما أن الوزن كيف يكون ؟ ففيه وجهان : أحدهما أن صحف الحسنات توضع في الكفة النبيرة و صحف السيئات في الكفة المظلمة لأن الأعمال لا تنسخ في صحيفة واحدة و لا كاتبها يكون واحدا لكن الملك الذي يكون عن اليمين يكتب الحسنات و الملك الذي يكون على الشمال يكتب السيئات فيتفرد كل واحد منهما بما ينسخ فإذا جاء وقت الوزن وضعت الصحف في الموازين فيثقل الله عز و جل ما يحق تثقيله و يخفف ما يحق تخفيفه و الوجه الآخر أن يجوز أن يحدث الله تبارك و تعالى أجساما مقدرة بعدد الحسنات و السيئات و يميز إحداهما عن الأخرى بصفات تعرف بها فتوزن كما توزن الأجسام بعضهما ببعض في الدنيا و الله أعلم و يعتبر في وزن الأعمال مواقعها من رضي الله عز و جل و سخطه و ذهب أهل التفسير إلى إثبات هذا الميزان بكفتيه و جاء في الأخبار ما دل عليه و قد روى الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس أنه قال : الميزان له لسان و كفتان يوزن فيه الحسنات و السيئات فيؤتي بالحسنات في أحسن صورة فتوضع في كفة في كفة الميزان فيثقل على السيئات قال : فيؤخذ فيوضع في الجنة عند منازله ثم يقال للمؤمن : الحق بعملك قال فينطلق إلى الجنة فيعرف منازله بعمله قال : و يؤتى بالسيئات في أقبح صورة فتوضع في كفة الميزان فتخفف ـ و الباطل خفيف ـ فيطرح في جهنم إلى منازله منها و يقال له : الحق بعملك إلى النار قال : فيأتي النار فيعرف منازله بعمله و ما أعد الله فيها من ألوان العذاب قال ابن عباس : فلهم أعرف بمنازلهم في الجنة و النار بعملهم من القوم ينصرفون يوم الجمع راجعين إلى منازلهم

ہمیں حدیث بیان کی ہے امام ابو الطیب سھل بن محمد بن سلیمان نے خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یزید جوزی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زکریا بن یحییٰ بزاز نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زیدن بن احزم طائی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عامر بن مدوک نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عقبہ بن یقضان نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے طارق بن شھاب سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: "مااحسن من محسن کافر اورمسلم الا اثابہ اللہ عزوجل " کوئی بھی نیکی کرنے والا جو نیکی کرتا ہے مسلم ہو یا کافر ہو اللہ تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کا کافر کو ثواب دینا کیسا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ صلہ رحمی کرتا تھا یا صدقہ کرتا تھا یا کوئی نیک عمل کرتا تھا اللہ تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے اور اس کو مخصوص ثواب یہ ہے کہ اس کومال دیتا ہے، اولاد دیتا ہے، صحت دیتا ہے اور اس کی مثل کچھ اور بھی۔ ہم نے عرض کی کہ کافر کو آخرت میں ثواب کیسے دیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، زیادہ عذاب کے مقابلے میں کم عذاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ''ادخلو ا اٰل فرعون اشد العذاب " (مومن 46) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کفار کم عذاب اور کچھ کو کمترین عذاب بھی دیا جائے گا۔ (مترجم) اس روایت کو نقل کرتے کے بعد امام بیہقی تبصرہ کرتے ہیں کہ اگر یہ روایت ثابت ہو جائے تو اس میں حجت و دلیل ہے۔ اگر ثابت نہ وہ تو پھر دلیل بھی نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کی اسناد میں وہ راوی بھی ہے جس کے ساتھ حجت نہیں پکڑی جاتی۔ اور ابو طالب کے واقعہ والی حدیث صحیح ہے۔ باقی شیخ حلیمی کے اس حدیث کا انکار کرنے کا کچھ مطلب نہیں ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کی صحت ان سے کیونکر اوجھل رہی ہے۔ وہ تو کئی وجوہ سے مروی ہے۔ عبدالملک بن عمیر سے اور ایک اور صحیح طریقہ سے حضرت ابو سعید خدری سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کے مفہوم میں مروی ہے۔ اور اس روایت کو صاحب صحیح نے بھی نقل کیا ہے اوران دونوں کے علاوہ کئی ائمہ نے اپنی صحاح کتب میں نقل کی ہے۔ جو شخص کافر کی نیکیوں کی بابت مذہب ثانی کی طرف گیا ہے اس کےلئے صحیح ہے کہ وہ یہ کہے کہ حدیث ابو طالب خاص ہے صرف اسی کے عذاب کی تخفیف کے لئے۔ اس نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سلوک کیا تھا اسی کی وجہ سے اس تخفیف کے ساتھ ابو طالب مختص کیا گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تالیف قلف کےل ئے اور آپ کوفی نفسہ ثواب دینے کے لئے ابو طالب کے لئے نہیں اس لئے کہ ابو طالب کی نیکیاں اس کے کفر کی وجہ سے اس کی مغفرت پر اڑتا ہوا غبار ہو گئی تھیں۔ رحمۃ للعالمین کی وجہ سے ابو لہب کو پانی کا گھونٹ ملنا : اسی حدیث ابو طالب کی مثل ہے حدیث عروہ بن زبیر جس میں ابو لھب کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لوندی ثوبیہ کو آزاد کرنا اور ثوبیہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلانا مذکور ہے۔ جب ابو لہب کا انتقال ہو گیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی ایک کو وہ خواب میں دکھایا گیا ۔ بڑی بری حالت میں اور ناکامی میں تھا۔ اس نے اس سے پوچھا تیرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ ابو لہب نے کہا کہ میں نے تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعدمکمل مایوسی دیکھی، امید کی کہیں کوئی صورت نہیں تھی۔ ہاں ثوبیہ کو آزاد کرنے کے بدلے میں مجھے اتنا سا گھونٹ پلایا گیا ہے (یعنی تھوڑا سا) اس نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان جو فاصلہ یا سوراخ بنتا ہے اسی کا اشارہ کر کے دکھا یا۔ یہ بات بھی ایسی ہی ہے س لئے کہ اس واقعہ میں بھی احسان کا مرجع وہی ذات رسالت ہے، لہذا وہ نیکی ضائع نہ کی گئی۔ بہر حال ایمان کا حساب لیا جائے گا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور وہ دو گروہ ہوں گے۔ پہلا گروہ: مومن متقی جو کبیرہ گناہوں سے بچتے رہتے تھے ۔ ان کی نیکیاں روشنی کے پلڑے میں رکھی جائیں گی اور ان کے صغیرہ گناہ اگر ہوئے تو وہ دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں گے ۔ اللہ پاک ان صغیرہ گناہوں کا کوئی وزن نہیں بنائیں گے۔ لہذا روشنی والاپلڑا بھاری ہو جائے گا اور دوسرا پلڑا اٹھ جائے گا۔ جیسے فارغ اور خالی اٹھ جاتا ہے۔ پھر ان کے لئے جنت کا حکم ہو جائے گا اور ان میں سے ہر ایک کو اس کی حسنات اور طاعت کے بقدر ثواب دیا جائے گا ۔ جیسے ہم ونضع الموازین والی آیت بیان کر چکے ہیں۔ دوسرا گروہ: مؤمن خطا کاروں کا ہو گا۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو قیامت میں کبیرہ گناہوں اور فواحش اور بے حیائیوں کی سزا دئیے جائیں گے۔مگر وہ شرک نہیں کرتے ہوں گے۔ ان کی نیکیاں بھی روشنی کے پلڑے میں رکھی جائیں گی اور ان کے گناہ اور سیئات تاریک پلڑے میں رکھے جائیں گے ۔ آج ان کے ان کبیرہ گناہوں کا جو وہ لائے ہوں گے بھی بوجھ ہو گا اور ان کی نیکیوں کا بھی بوجھ ہو گا۔ مگر نیکیاں ہر حال میں بھاری ہوں گی۔ اس لئے کہ ان کے ساتھ اصل ایمان بھی ہوگا۔ جبکہ سیئات اور گناہوں میں کفر نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ ایک ہی شخص میں ایمان بھی ہو اور کفر بھی یہ محال ہے۔ اور دوسری یہ وجہ بھی ہے کہ حسنات اور نیکیوں کا مقصد اور منشاء صرف اللہ کی رضا تھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں گناہوں کا مقصد اللہ کی مخالفت کرنا یا اللہ سے بغض نہیں تھا بلکہ وہ محض نفسانی خواہشات کی بناء پر تھا۔ جس کے ساتھ ساتھ اللہ کا خوف ، اللہ کے غضب سے ڈرنا بھی ساتھ تھا۔ لہذا یہ تو محال ہو گا کہ سیئات بھی برابر ہوجائیں ، اگرچہ زیادہ بھی ہوں۔ تاہم نیکیوں کے برابر نہیں ہوں گے۔ لہزا لامحالہ گناہوں کا بوجھ تو ہو گا اور ان کے ساتھ ترازو بھی جھکے گا۔ یہاں تک کہ بعض سیئات کا بوجھ بعض حسنات کے بوجھ کی طرح ہو گا۔ سو اسوقت وہی معاملہ ہو گا جو قرآن میں مذکور ہو۔ آیت "ونضع الموازین القسط میں مذکور ہے کہ کوئی نفس ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بھی دلالت کرتی ہے اس کی تفصیلات کے بارے میں۔ اور اس کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا (الزمر 53) بے شک اللہ تعالیٰ سارے کے سارے گناہ بخش دے گا۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ویغفر مادون ذالک لمن یشاء " (الانبیاء 47) ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے قیامت کے روز لہذا کوئی نفس ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔اگرچہ کسی کی کوئی نیکی رائی کےدانے برابر ہو گی تو ہم اس کو بھی ضرور لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس آیت میں مراد یہ ہے کہ کسی انسان کی کوئی نیکی چھوڑی نہیں جائے گی۔ بلکہ وہ تولی جائے گی۔ یہ معاملہ ہو گا اس مؤمن کا جس کے ملے جلے اعمال ہوں گے، کیونکہ اگر اس کی کوئی نیکی چھوڑی جائے اوراس کا وزن رہ جائے تو اس کی جگہ اس کے گناہ کا وزن زیادہ ہو جائے گا اور یہ زیادتی اس کے لئے عذاب کو واجب کرسکتی ہے۔ وزن اعما ل کی کیفیت بہر حال وزن اعمال کیسے ہو گا؟ اس کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت: یہ ہے کہ نیکیوں کے صحیفے ایک روشن پلڑے میں رکھے جائیں گے اور گناہوں کے صحیفے تاریک پلڑے میں کیونکہ اعمال ایک ہی صحیفے میں نہیں لکھے جاتے اور ان کا لکھنے والا بھی ایک نہیں ہے۔ جو فرشتہ دائیں طرف ہوتا ہے وہ نیکیوں کو لکھتا ہے اور جو بائیں طرف ہوتا ہے وہ برائیوں اور گناہوں کو لکھتاہے۔ لہذا دونوں اپنے اپنے صحیفے لکھنے میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ جب وزن کرنے کا وقت آئے گا تو وہی صحیفے میزان اور ترازو میں رکھے جائیں گے۔ سو جس کو بھاری کرنے کا حق ہو گا اللہ تعالیٰ اس کو بھاری کر دیں گے اور جس کو ہلکا کرنے کا حق ہو گا اس کو ہلکا کر دیں گے۔ دوسری صورت: یہ ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ مخصوص اجسام پیدا فرما دیں جو حسنات اور سیئات کی تعداد کے مطابق ہوں اور وہ سب ایک دوسرے سے ایسی صفات کے ساتھ ممتاز اور نمایاں ہوں جن کے ذریعے وہ پہچانے جا سکیں ۔ پھر وہی اجسام وزن کئے جائیں۔ جیسے دنیا میں بعض اجسام بعض کے ساتھ وزن کئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور وزن اعمال میں اعتبار اس بات کو ہو گا کہ اللہ کی رضا اور اللہ کی ناراضگی جس جگہ واقع ہو۔ اہل تفسیر اس میزان کو دو پلڑوں والا ثابت کرنے کی طرف گئے ہین اور احادیث میں بھی اس پر دلالت آئی ہے اور کلبی نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا میزان ایسی ہو گی کہ اس کی ایک زبان ہو گی اور اس کی دو ہتھیلیاں یا دو پلڑے ہوں گے۔ اس میں نیکیاں اور بدیاں تولی جائیں گی۔ نیکیاں خوبصورت شکل میں لائی جائیں گی اور میزان کے پلڑے میں رکھ دی جائیں گی۔ اوروہ گناہوں اور غلطیوں کا بھاری ہو جائیں گی۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پھر وہ اٹھا کر جنت میں ان کے ٹھکانوں کے پاس رکھ جائیں گی۔ پھر مومن سے کہا جائے گا۔ آپ اپنے عمل کے ساتھ لاحق ہو جائیے۔ فرمایا کہ پھر وہ جنت کی طرف چلے گا اور اپنے اپنے ٹھکانے کو اپنے اپنے عمل سے پہچان لے گا۔ اور انہوں نے فرمایا کہ برائیاں بد ترین صورت میں لائی جائیں گی اور میزان کے پلڑے میں رکھ دی جائیں گی اور وہ ہلکی پڑجائیں گی ۔ ا س لئے کہ باطل ہلکا اور بے وزن ہوتا ہے۔ پھر وہ اٹھا کر جہنم میں ان کے ٹھکانے پر رکھ دی جائیں ۔ پھر اس بندے سے کہا جائے گا کہ آپ اپنے عمل کے ساتھ جہنم میں لاحق ہو جائیے۔ فرمایا کہ پھر وہ انسان جہنم کی طرف آئے گا اور اپنے عمل کے ذریعے اپنا ٹھکانہ پہچان لے گا اور اس کو بھی جو اللہ نے اس کے لئے مختلف اور رنگ رنگ اور قسم قسم کے عذاب تیار کر رکھے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے اپنے اپنے منازل کو اور مقامات کو سب سے زیادہ پہچاننے والے ہوں گے وہ جمع ہونے کے دن جائیں گے۔اپنے اپنے مقامات ی طرف رجوع کرنے والے ہوں گے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ← عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، ← زكريا بن يحيى البزاز، ← أبو عبد الله محمد بن يزيد الجوزي ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 281

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 282

282 - أخبرنا أبو عبد الرحمن الدهان أنا الحسين بن محمد بن هارون ثنا أحمد بن محمد بن نصر ثنا يوسف بن بلال ثنا محمد بن مروان عن الكلبي : فذكره

ہمیں خبردی ہے ابو عبدالرحمٰن دھان کہ خبر دی ہے حسین بن محمد ہارون نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن محمد بن نضر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن مروان نے کلبی سے، پھر اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔

الْكَلْبِيِّ، فَذَكَرَهُ. ← محمد بن مروان ← يُوسُفُ بْنُ بِلَالٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّهَّانُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 282

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 283

283 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن الحسين القاضي ثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا يونس بن محمد ثنا الليث بن سعد حدثني عامر بن يحيى عن أبي عبد الرحمن المعافري ثم الحبلي قال : سمعت عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله سيخلص رجلا من أمتي على رؤوس الخلائق يوم القيامة فينشر عليه تسعة و تسعين سجلا كل سجل مثل مد البصر ثم يقول أتنكر من هذا شيئا ؟ أظلمك كتبتي الحافظون ؟ فيقول : لا يا رب فيقول ألك عذر ؟ فيقول لا يا رب فيقول : بلى إن لك عندنا حسنة و إنه لا ظلم عليك اليوم فيخرج بطاقة فيها أشهد أن لا إله إلا الله و أشهد أن محمدا عبده و رسوله فيقول يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات ؟ فيقال إنك لا تظلم قال : فتوضع السجلات في كفة و البطاقة في كفة فطاشت السجلات و ثقلت البطاقة و لا يثقل مع اسم الله تعالى شيء و رواه عبد الله بن صالح عن الليث بهذا الإسناد و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيصاح يوم القيامة برجل من أمتي على رؤوس الخلائق ينشر عليه تسعة و تسعين سجلا فذكر الحديث

ہمیں بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے عبداللہ بن حسین قاضی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حارث بن ابی اسامہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے لیث بن سعد نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عامر بن یحییٰ نے انہوں نے ابو عبدالرحمٰن معافری حلبی سے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا تھا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے سامنے قیامت کے دن ایک انسان کے ساتھ خصوصی بات چیت کریں گے اور اس کے آگے ننانوے رجسٹر کھول کر رکھ دیں گے۔ رجسٹرڈ تا حد نظر تک لمبا ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کیا تو اس تحریر کی کسی ایک شے سے انکار کر سکتا ہے؟ کیا میرے محافظ کاتبوں نے تجھ پر ظلم و زیادتی کی ہے؟ وہ بندہ کہے گا نہیں یا رب۔ پھر اللہ تعالیٰ سوال کریں گے کیا تیرے پاس اس کے برعکس کوئی عذر ہے؟ بندہ کہے گا نہیں یا رب۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہاں ہمارے پاس تیری ایک نیکی بھی ہے اور آج تیرے اوپر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ چنانچہ ایک پرچہ نکالا جائے گا۔ اس میں لکھا ہو گا اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا ً عبد ورسولہ۔ وہ بندہ عرض کرے گا اے میرے رب یہ چھوٹا سا پرچہ اتنے بڑے طوماروں کے مقابلے میں کیا ہے؟ یعنی کچھ بھی تو نہیں ہے۔ اس سے کہا جائے گا کہ تجھ پر ظلم نہیں ہو گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ شہادتیں والا پرچہ بھاری ہو جائے گا اور اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی شے بھاری نہیں ہو سکتی۔ اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن صالح نے لیث سے اسی اسنا د کے ساتھ اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، قیامت کے دن ایک بندے کو پکارا جائے گا تمام لوگوں کے سامنے اورا س کے سامنے ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے۔ پھر آگے حدیث ذکی کی ہے۔ فصل۔۔ بڑے بڑے گناہ اور چھوٹے چھوٹے گناہ اور بے حیائیاں گناہوں میں حد سے بڑھ جانا فحش اور فواحش کہلاتاہے: ارشاد باری تعالیٰ ہے: "قل انما حرم ربی الفواحش ماظھر منھا وما بطن (الاعراف 37) فرما دیجئے اے پیغمبر کہ میرے رب نے بے حیائیوں کو حرام قرار دیا ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ وہ پوشیدہ اور باطنی ہوں اور ارشاد فرمایا: "ان تجتنبو ا کبائر ماتنھون عنہ نکفر عنکم سیئاتکم (النساء 31) اورتم کبیرہ گناہوں سے پرہیز کروگے جن سے تمہیں منع کیاگیاہے۔مٹادیں گے ہم تم سے تمہاری غلطیاں۔ اور ارشاد ہے: "والذین یجتنبون کبائر الا ثم والفواحش الا اللمم "(النجم 32) جو لوگ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں اور بے حیائیوں سے سوائے چھوٹی چھوٹی باتونں کے اور کبائر کی تعداد کی بابت ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واردہوئے ہیں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أبي عبد الرحمن المعافري ثم الحبلي ← عَامِرُ بْنُ یَحْیَی ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 283

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان كبائر الذنوب و صغائرها و فواحشها ـ · حديث 284

284 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنا أبو الحسين أحمد بن عثمان الآدمي ثنا أبو إسماعيل الترمذي ثنا الأويسي ثنا سلميان بن بلال عن ثور بن زيد عن أبي الغيث عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اجتنبوا السبع الموبقات قالوا : يا رسول الله و ما هن ؟ قال : الشرك بالله و السحر و قتل النفس التي حرم الله إلا بالحق و أكل الربا و أكل مال اليتيم و التولي يوم الزحف و قذف المحصنات المؤمنات الغافلات رواه البخاري في الصحيح عن عبد العزيز بن عبد الله الأويسي و أخرجه مسلم من وجه آخر عن سليمان قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و ليس في تقييده ذلك بالسبع منع الزيادة عليهم و إنما فيه تأكيد اجتنابهن ثم قد ضم إليهن غيرهن روينا عن عبيد بن عمير عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم : الكبائر تسع فذكرهن و ذكر معهن : عقوق الوالدين و استحلال البيت الحرام و في الحديث الثابت عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم سئل عن الكبائر فقال : الشرك بالله و قتل النفس و عقوق الوالدين و قال ألا أنبئكم بأكبر الكبائر : قوله الزور ـ أو قال ـ شهادة الزور بدل قول الزور و روي في الحديث الثابت عن عبد الله بن عمرو قال : جاء أعرابي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام : ما الكبائر ؟ قال : الإشراك بالله قال : ثم ماذا ؟ قال : عقوق الوالدين قال : ثم ماذا ؟ قال : اليمين الغموس و في الحديث الثابت عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من الكبائر شتم الرجل والديه قالوا : يا رسول الله ! و هل يشتم الرجل والديه ؟ قال : نعم يسب أبا الرجل فيسب أباه و يسب أمه فيسب أمه و في الحديث الثابت عن عبد الله بن مسعود قال : قلت يا رسول الله أي الذنب أعظم عند الله عز و جل ؟ قال : أن تجعل لله ندا و هو خلقك قلت : ثم ماذا ؟ قال : أن تقتل ولدك خشية أن يطعم قلت : ثم ماذا ؟ قال : أن تزاني حلية جارك و في الحديثة الثابت عن عبادة بن الصامت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال و حوله عصبة من أصحابه بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا و لا تسرقوا و لا تزنوا و لا تقتلوا أولادكم و لا تأتوا ببهتان و لا تعصوا في معروف و قد ورد في الكتاب تحريم الميتة و الدم و لحم الخنزير و سائر ما ذكر معهما و ورد فيه تحريم الخمر و الميسر و ورد فيه تحريم أكل مال اليتيم و تحريم أكل الأموال بالباطل و تحريم قتل النفس و تحريم الزنا و السرقة و غير ذلك و هو في مواضعه مذكور وورد في السنة حديث جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم : ليس بين العبد و بين الشرك إلا ترك الصلاة و إنما أراد و الله أعلم تخصيص الصلاة لوجوب القتل بتركها و قد أورد الحليمي رحمه الله ما أوردناه ثم قال : و إذا تتبع ما في الكتاب و السنة من المحرمات كثر و إنما أوردنا هذا لنبين الصغائر و الكبائر بيانا حاويا نأتي به على ما نحتاج إليه في هذا الباب بإذن الله فتقول : قتل النفس بغير حق كبيرة فإن كان المقتول أبا و ابنا أو ذا رحم في الجملة أو أجنبيا متحرما بالحرمة و بالشهر الحرام فهو فاحشة و أما الخدشة و الضربة بالعصا مرة أو مرتين فمن الصغائر و الزنا كبيرة فإن كان بحليلة الجار أو بذات محرم أو لا بواحدة من هاتين لكن بأنه في شهر رمضان أو في البلد الحرام فهو فاحشة قال الله عز و جل : { ومن يرد فيه بإلحاد بظلم نذقه من عذاب أليم } و أما ما دون الزنا الموجب للحد فإنه من الصغائر فإن كان مع امرأة الأب أو حليلة الابن أو مع أجنبية ايم لكن على سبيل القهر و الإكراه كان كبيرة و قذف المحصنات كبيرة و إن كانت المقذوفة أما أو أختا أو امرأة زانية كان فاحشة و قذف الصغيرة و المملوكة و الحرة المتهتكة من الصغائر و كذلك القذف بالخيانة و الكذب و السرقة و الفرار من الزحف كبيرة فإن كان من واحد أو اثنين ضعيفين و هو أقوى منهما أو اثنين حملا عليه بلا سلام و هو شاك السلام فذلك فاحشة و عقوق الوالدين كبيرة فإن كان مع العقوق سب أو شتم أو ضرب فهو فاحشة و إن كان العقوق بالاستثقال لأمرهما نهيهما و العبوس في وجوههما و التبرم بهما مع بذل الطاعة و لزوم الصمت فهذا من الصغائر فإن كان ما يأتيه من ذلك يلجئهما إلى أن ينقبضا عنه فلا يأمرانه و لا ينهيانه و يلحقهما من ذلك ضرر فهذا كبيرة و السرقة من الكبائر و أما أخذ المال في قطع الطريق فاحشة و لذلك تقطع يد السارق و تقطع يد المحارب و رجله من خلاف و قتل النفس في قطع الطريق فاحشة و لذلك لا يعمل عفو الوالي عنه إذا قدر عليه قبل التوبة و سرقة الشيء التافه الحقير صغيرة فإن كان المسروق منه مسكينا لا غنى به عما أخذ منه فذلك كبيرة و إن لم يكن على السارق الحد و أخذ أموال الناس بغير حق كبيرة فإن كان المأخوذ ماله يفتقر أو كان أبا الأخذ أو أمه أو كان الأخذ بالاستكراه و القهر فهو فاحشة و كذلك إن كان على سبيل القمار فإن كان المأخوذ شيئا تافها و المأخوذ منه غنيا لا بأس عليه من ذلك فذلك صغيرة و شرب الخمر من الكبائر فإن استكثر الشارب منه حتى سكر أو جاهر به فذلك من الفواحش فإن مزج خمرا بمثلها من الماء فذهبت شرتها و شدتها فذلك من الصغائر و ترك الصلاة من الكبائر فإن صار عادة فهو من الفواحش فإن كان أقامها و لم يؤتها حقها من الخشوع لكنه التفت فيها أو فرقع أصابعه أو استمع إلى حديث الناس أو سوى الحصى أو أكثر من مس الحصى من غير عذر فذلك من الكبائر فإن اتخذه عادة فهو من الفواحش و إن ترك إتيان الجماعة لغيرها فهو من الصغائر فإن اتخذ ذلك عادة و قصد به مباينة الجماعة و الانفراد عنهم فذلك كبيرة و إن اتفق على ذلك أهل قرية أو أهل بلد فهو من الفواحش و منع الزكاة كبيرة و رد السائل صغيرة فإن اجتمع على منعه أو كان المنع من واحد إلا أنه زاد على المنع الانتهار و الاغلاظ فذلك كبيرة و هكذا إن رأى محتاج رجلا موسعا على الطعام فرآه فتاقت إليه نفسه فسأله منه فرده فذلك كبيرة قال و الأصل في هذا الباب أن كل محرم بعينه منهي عنه لمعنى في نفسه فإن تعاطيه على وجه يجمع وجهين أو أوجها من التحريم فاحشة و تعاطيه على وجه يقصر به عن رتبة المنصوص أو تعاطي ما دون المنصوص الذي لا يستوفي معنى المنصوص أو تعالي المنصوص الذي نهى عنه لأن لا يكون ذريعة إلى غيره فهذا كله من الصغائر و تعاطي الصغير على وجه يجمع وجهين أو أوجها من التحريم كبيرة و مثال ذلك موجود فيما مضى ذكره و أعاده ها هنا و زاد فيما ذكره من الذريعة أن يدل رجلا على مطلوب ليقتل ظلما أو يحضره سكينا و هذا يحرم لقوله : { و لا تعاونوا على الإثم و العدوان } لكنه من الصغائر لأن النهي عنه لئلا يكون ذريعة للظالم للتمكن من ظلمه و كذلك سؤال الرجل لغيره الذي لا يلزمه طاعة أن يقتل آخر ليس من الكبائر لأنه ليس فيه إلا إرادة هلاكه من غير أن يكون معها فعل و الله أعلم قال البيهقي رحمه الله : وقد نجد اسم الفاحشة واقعا على الزنا و إن لم ينضم إليه زيادة حرمة لكنه لما رأى الله عز و جل فرق بين الكبائر و الفواحش في الذكر فرق هو أيضا بينهما فكل ما كان أفحش ذكرا جعله زائدا على الكبيرة و الله أعلم و قد فسر مقاتل بن سلميان : الكبائر بكل ذنب ختم بالنار و الفواحش ما يقام فيه الحد في الدنيا و قد دل كلام الحليمي رحمه الله و غيره من الأئمة على أن الإصرار عليها الصغيرة كبيرة و قد وردت أخبار و حكايات على التحريض على اجتناب الصغائر خوفا من الإصرار عليها فتصير من الكبائر

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے کہ خبر دی ہے ابوالحسین احمد بن عثمان ادمی نے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو اسماعیل ترمذی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اویسی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سلیمان بن بلال نے تیمور بن زید سے، انہوں نے ابوالغیث سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: "اجتنبو ا السبع الموبقات قالو یا رسول اللہ وماھن؟ قال الشرک باللہ والسحر وقتل النفس التی حرم اللہ الا بالحق واکل الربا واکل مال الیتیم والتولی یوم الزخف وقذف المحصات المؤمنات الغافلات" سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ سات چیزیں کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (1)۔۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ (2)۔۔ جادو کرنا۔ (3)۔۔ نا حق کسی نفس کو قتل کرنا جس کو اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔ (4)۔۔ سود کھانا۔ (5)۔۔یتیم کا مال کھانا۔ (6)۔۔میدان جہاد سے فرار ہونا۔ (7)۔۔پاکدامن مؤمنہ گناہ سے بے خبر عورتوں کو ناحق تہمت لگانا۔ ا س کو بخاری نے اپنی صحیح میں عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی سے روایت کیاہے اور مسلم نے اس کو دوسرے طریق سے سلیمان سے روایت کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں کو سات کی تعداد میں مقید کرنے کامطلب سات میں بند کرنا نہیں اور سات سے زیادہ کو منع کرنا مقصد نہیں ہے۔ صرف اس میں ان سے بچنے کی تاکید مقصود ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ ان کے علاوہ کو بھی ان میں شامل کیا تھا۔ اور ہم نے عبید بن عمیر سے، انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ الکبائر تسع۔ کبیرہ گناہ نو ہیں۔ پھر سات مذکورہ اور دو مزید کا ذکر فرمایا ہے۔ وہ یہ ہیں: "عقوق الولدین، واستحلال البیت الحرام " (1)۔۔ ایک والدین کی نافرمانی کرنا۔ (2)۔۔بیت الحرام کی بے حرمتی کرنا۔ اور حضرت ثابت کی روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "الشرک باللہ ، وقتل النفس ، وعقوق الوالدین، وقال الا انبئکم باکبر الکبائر، قولہ الزھا اوقال شھادۃ الزور بدل اقول الزور" (1)۔۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ (2)۔۔کسی نفس کو قتل کرنا۔ (3)۔۔والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب کبیروں سے بڑا کبیرہ گناہ نہ بتا دوں۔ وہ ہے جھوٹی بات کرنا یا فرمایا تھا جھوٹی گواہی دینا، جھوٹی بات کی جگہ کہا تھا۔ اور حدیث ثابت میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کرنے لگا کہ کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ اس نے پوچھا اس کے بعد کونسا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: والدین کی نافرمانی کرنا۔ اس نے پوچھا اس کے بعد کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم کھانا۔ کسی کے والدین کو برا کہنا ایسے ہے جیسے اپنے والدین کو گالی دینا: اور ثابت کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ کوئی انسان اپنے والدین کو گالیاں دے۔ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ماں باپ کو بھی کوئی بھلا گالیاں دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، ہاں دیتا ہے کہ یہ کسی کے باپ کو گالیاں دیتا ہے اور وہ بھی اس کے باپ کو یہ کسی کی ما ں کو گالیاں دیتا ہے اور وہ جواب میں اس کی ماں کو گالی دیتاہے۔ تین کبیر ہ گناہ :اور اسی طرح ثابت کی روایت میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے عرج کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنے بیٹے کو اس لئے قتل کر ے وہ تیرا کھائے گا۔ میں نے عرض کیا اس کے بعد کونسا بڑا گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ بیعت کرنا یعنی پکا عہد کرنا برے کاموں سے بچنے کےلئے سنت ہے ۔ اور ثابت کی روایت میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد آپ کے صحابہ کی جماعت تھی۔ تم لوگ میرے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور چوری نہیں کرو گے ، زنا یعنی بدکاری نہیں کرو گے۔اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے۔ کسی پر بہتان نہیں باندھو گے اور اچھے کام میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ فائدہ:۔۔۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں سات کبیرہ گناہ عبید بن عمیر کی روایت میں نو کبیر ہ گناہ ، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں پانچ کبیرہ گناہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں تین کبیرہ گناہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دوسری روایت میں اپنے والدین کواور دوسرے کے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہ، عبداللہ بن مسعود کی روایت میں تین کبیرہ گناہ۔ عبادہ بن صامت کی روایت میں چھ کبیرہ گناہ مذکور ہیں۔(مترجم) قرآن مجید میں وارد ہونے والی محرمات : کتاب اللہ میں مندرجہ زیل کی تحریم وارد ہوئی ہے۔ (1)۔۔مری ہوئی چیز کی حرمت۔ (2)۔۔خون کی حرمت۔(3)۔۔ سؤر کے گوشت کی حرمت ور ان کےساتھ مذکورہ تمام چیزوں کی حرمت ان میں یہ بھی مذکور ہیں: (4)۔۔ شراب کی حرمت ۔ (5)۔۔ جوئے کی حرمت اور اس میں یہ بھی وارد ہوئی ہے۔ (6)۔۔یتیم کا نا حق مال کھانے کی حرمت۔ (7)۔۔ باطل طریقہ سے لوگوں کے مال کھانے کی حرمت۔ (8)۔۔ ناحق قتل نفس کی حرمت۔ (9)۔۔زنا کی حرمت۔ (10)۔۔۔چوری کی حرمت وغیرہ۔ یہ تمام امور اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں۔ جبکہ سنت میں حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مر وی ہے: "لیس بین العبد وبین الشرک الا ترک الصلاۃ" بندے اور مشرک کے مابین فرق نماز نہ پڑھنا ہے۔ اس سے شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد صلوٰۃ کی تخصیص ہے۔ وجوب قتل کے لئے اس کی ترک کے ساتھ۔ قول شیخ حلیمی : شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ بھی اس سلسلے میں وہی امور لائے ہیں جنہیں ہم نے ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ کتا ب و سنت میں جب جستجو کی جائے تو محرمات کثیر ہیں۔ ہم نے یہ امور اس لئے ذکر کیے ہیں۔ تاکہ ہم صغائر اور کبائر کا جامع بیان کریں۔ ہم اس بارے میں اللہ کے حکم سے تمام ضروری چیزوں کا ذکر کریں گے۔ (1)۔۔ہم کہتے ہیں کہ ناحق کسی نفس کو قتل کرنا کبیرہ گنا ہے۔ اگر مقتول باپ ہو یا بیٹا یا فی الجملہ وہ قریبی رشتہ دار ہو یا بالکل غیر ہو محترم بوجہ حرمت ہو یا محترم بوجہ اشہر حرام ہو۔ یہ گناہ کبیرہ ہے۔ فاحشہ اور بے حیائی ہے بال نوچنا اور ڈنڈے سے پیٹنا وغیرہ ایک بار یا دو بار یہ صغیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (2)۔۔ اور زنا (بدکاری) گناہ کبیرہ ہے۔ اگر وہ پڑوسی کی عزت سے ہو یا کسی اور عزت والی ، حرمت والی سے ہو یا ان دونوں سے تو نہ ہو، لیکن اگر یہ فعل بلا دالحرام یعنی مکہ اور مدینہ میں یا ماہ رمضان میں ہو تو پھر یہ فاحشہ اور بے حیائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم (الحج 25) جو شخص حرم میں بے دینی کا ارادہ کرے ظلم کے ساتھ ہم اس کو درد دینے والا عذاب دکھائیں گے۔ (3)۔ بہر حال زنا موجب للحد کےسوا باقی فعل صغیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اگرچہ باپ کی منکوحہ سے ہو یا بیٹے کی بیوہ سے ہو۔ اجنبی یعنی غیر رانڈ بیوہ سے ہو لیکن اگر بالجبر ہوگا تو پھر وہ کبیرہ گناہ ہو گا۔ (4)۔۔اور پاکدامن عورت کوجھوٹی زنا کی تہمت لگانا کبیرہ گناہ ہے۔ اگر تہمت لگنے والی خاتون ماں ہو (تہمت لگانے والے کی ) یا بہن ہو یااس کی بیوہ ہو زانیہ ہو تو پھر یہ تہمت فحاشی اور بے حیائی ہو گی۔ (5)۔۔نابالغ لڑکی کو تہمت لگانا، لونڈی کولگانا، آزاد عورت جس کی عزت اتر چکی ہو ،یہ سب صغائر میں سے ہیں۔ (6)۔۔ خیانت ، جھوٹ اور چوری کی تہمت کا بھی یہی حال ہے۔ (7)۔۔میدان جہاد سے فرار کبیرہ گناہ ہے۔ا گر فرار ہونے والا ایک اکیلے کو یا دو کمزوروں کو چھوڑ کر فرار ہوا ہے جبکہ یہ دونوں سے قوی اور طاقتور تھا یا دونوں یا ایک بغیر ہتھیار کے رہے اور فرار ہونے والا مسلح تھا اور اسلحہ سمیت بھاگا تویہ فحش کام بھی ہو گا۔ (8)۔۔ والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔ اگر نا فرمانی کے ساتھ ساتھ گالی گلوچ کیا ہے یا مار پیٹائی کی ہے تو یہ فحاشی اور بے حیائی بھی ہے۔ اگر نافرمانی بوجہ بھاری سمجھنے کے ہے ، ان کے حکم کو یا دونوں کی نہی کو یا دونوں کے چہروں پر تیوری چڑھنے کے سبب سے ہے یا دونوں سے الگ تھلگ رہنے کے لئے ہے مگر ساتھ ساتھ اطاعت کرتا ہے اور خاموشی کو لازم رکھنے کے لئے ہے تو یہ صغیرہ گناہ ہے۔ اگر س کا سارا عمل ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس سے کھینچ جائیں اور اس کو کوئی امر یا نہی نہ کریں اور ان کو اس سے صدمہ یا نقصان پہنچتا ہے تو یہ کبیرہ گناہ ہے۔ (9)۔۔ چوری کبیرہ گناہ ہے، لیکن چوری کے ساتھ ساتھ ڈاکہ ڈالنا فاحشہ ہے۔ اس لئے چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور ڈاکو کا ہاتھ اور پیر مخالف سمت سے کاٹا جاتا ہے۔ (10)۔۔ اور ڈاکہ کے ساتھ بندے کو قتل کرنا فاحشہ ہے۔ اس لئے والی کو اس کا معاف کرنا بھی عمل نہیں کرتا۔ جب وہ توبہ سے قبل اس پر قادر ہو۔ (11)۔۔ بے کار اور حقیر چیز کی چوری صغیرہ گنا ہ ہے۔ جس شخص کی چوری ہوئی ہے اگر وہ مسکین ہو وار وہ مسروقہ چیز اس کی ضرورت ہو بلکہ اس کی مجبوری ہو تو اس صورت میں یہی کبیرہ گناہ ہو گی اگرچہ اس چیز کی چوری سے چور پر حد واجب نہیں ہو گی۔ (12)۔۔ اور لوگوں کا مال نا حق لے لینا کبیرہ گناہ ہے۔ اگر لیا ہوا مال مالک کی ضرورت اور مجبوری ہو یا مالک لینےوالے کا باپ ہو یا اس کی ماں ہو یا لینے والا جبر و قہر سے لے لے تو یہ فاحشہ ہے اور اسی طرح اگر وہ لینا بطور قمار و جوئے کے ہو تو بھی فاحشہ ہے اور اگر ماخوذ اور لی ہوئی شے حقیر چیز ہو اور مالک غنی ہو جس کو اس کے لے لینے سے کوئی پریشانی نہ ہو تو یہ صغائر میں سے ہو گا۔ (13)۔۔شراب نوشی کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ اگر شراب پینے والا زیادہ پیلے یہاں تک کہ نشہ میں ہو جائے یا اس کی وجہ سے برہنہ ہو جائے تو یہ فواحش میں سے ہے۔ اگر شراب میں برابر وزن پانی ملا دیا ہے اور اس کی شدت اور نشہ ختم ہو گیا ہے اور پیتا ہے تو یہ صغیرہ گناہ ہے۔ (14)۔۔ نماز ترک کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اگر ترک کرنے کی عادت ہو جائے تو یہ فواحش میں سے ہے۔ اگر نماز تو قائم کرتا ہے مگر اس کا حق نہیں دیتا یعنی خشوع و خضوع سے نہیں پڑھتا اور نماز میں ادھر ادھر متوجہ ہوتا ہے یا انگلیاں چٹخاتا ہے یا نماز میں لوگوں کی باتوں کی طرف کان لگاتاہے یا نماز میں کنکریاں سیدھی کرتاہے یا بلا ضرورت کنکریوں وغیرہ کو بلا عذر چھوتا رہتا ہے تو یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور اگر اس کو عادت بنا لیتا ہے تو یہ فواحش میں سے ہے۔ (15)۔۔ اگر جماعت ترک کرتا ہے تو یہ صغیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اور ترک جماعت کی عادت بنا لیتا ہے اور اس سے وہ جماعت سے دوری اور جدائی رکھنےکی نیت رکھتا ہے یا ان سے الگ تھلگ رہنے کا قصد و نیت کرتا ہے تو یہ کبیرہ گناہ ہے۔ اگر کوئی بستی والے اس عمل پر اتفاق کر لیں یا کوئی شہر والے تو یہ فواحش میں سے ہے۔ (16)۔۔ زکوٰۃ روک لینا ادا کرنا اورسائل کو خالی لوٹا دینا یہ صغیرہ گناہ ہے۔پس اگر زکوٰۃ کے روک لینے پر لوگ اکٹھے ہو جائیں یا منع کرنا ایک آدمی کی طرف سے ہو مگر منع کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ڈانٹ ڈپٹ اور سخت گوئی کااضافہ بھی کر دے تو یہ بات کبیرہ گناہ ہے۔ اور اسی طرح سے اگر کوئی حاجتمند کسی ایسے آدمی کو دیکھتا ہے جو کھانا دینے کی وسعت رکھتا ہے اور حاجت مند کا دن اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور وہ اس سے سوال کرتا ہے اور وہ اس کو خالی لوٹا دیتا ہے تو یہ کبیرہ گناہ ہے۔ شیخ حلیمی نے فرمایا: اصل اس بات میں یہ ہے کہ ہر حرام کی ہوئی چیز کسی ذاتی مفہوم اور حقیقت کی وجہ سے ممنوع ہوتی ہے۔ بے شک کسی محرم ور ممنوع چیز (یا کام) کاایسے طریقہ پر ارتکاب کرنا جس طریقہ سے حرمت کی دو یا زیادہ وجوہ اکٹھی ہو جائیں (وہ کام صرف ممنوع نہیں بلکہ) وہ فاحشہ ہوتا ہے۔ اور اس ممنوع اور محرم کام یا چیز کا ارتکاب ایسے طریقہ پر جس طریقہ سے وہ منصوص کے مرتبہ سے قاصر ہو یا اس کا ارتکاب ماسوائے منصوص کے جو کہ منصوص کے مفہوم کو پورا نہ کر سکے یا منصوص کا ارتکاب جس سے ممانعت ہے اسلئے کہ دوسرے کے لئے ذریعہ نہ ہوا، پس یہ (مذکورہ امور) سب کے سب صغائروں میں سے ہیں۔ اور صغیرہ گناہ کا ارتکاب کرنا ایسے طریقہ پر جو طریقہ حرمت کی دو وجوہ کی یا زیادہ وجوہ کو جمع کر لے کبیر ہ گناہ بن جاتا ہے۔ اس کی مثال اس تفصیل میں موجود ہے جس کا ذکر ابھی پیچھے گذر ا ہے۔ اور اس کا یہاں پر اعادہ بھی (شیخ نے) فرمایا ہے اورجو کچھ ذکر کیا ہے (شیخ نے) اس میں ذریعہ بننے کو زیادہ کیا ہے۔ مثلاً یہ کوئی شخص کسی آدمی کو کسی مطلوب پر دلالت و رہنمائی کرے تاکہ نا حق قتل کرے یا قاتل کر چھری لا کر دے (اس قسم کے فعل کا ارتکاب کرنا) حرام ہے( اور یہ حرمت اس) ارشاد باری تعالیٰ سے ثابت ہے: "ولا تعاونو ا علی الائم والعدوان "(المائدہ 2) کہ ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو گناہ کے کام پر اور سرکشی کے کام پر لیکن اس کے باوجود وہ صغائر میں سے ہے۔ اس لئے کہ اس کے بارے میں جونہی ہے اس لئے ہے تاکہ ظالم کے لئے ذریعہ نہ ہو اور وہ اپنے ظلم پر قدرت نہ حاصل کر سکے۔ (اور اسی مذکورہ حکم میں ہے) کسی آدمی کا دوسرے آدمی کو جس پر کہنے والے کی اطاعت لازم بھی نہیں یہ کہنا کہ تو فلاں آدمی کو قتل کر دے یہ کہنا کبیرہ گناہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اسمیں دوسرے کی ہلاکت کا ارادہ ہے، فعل قتل و ہلاکت میں شرکت نہیں ہے۔واللہ اعلم۔ امام بیہقی ّّّّّرحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم (کتاب اللہ میں) پاتے ہیں کہ لفظ فاحشہ کا اطلاق اور وقوع زنا پر ہوا ہے۔ اگرچہ اس کی طرف حرمت کی زیادتی نہیں ملی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ کبائر اور فواحش میں فرق ہے ذکر میں تو اللہ تعالیٰ نے دونوں کے مابین فرق کیا ہے۔ پس ہر وہ چیز جس کا ذکر بھی زیادہ فحش ہے اس کو کبیرہ پر زیادہ کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ مقاتل بن سلیمان کاقول: مقاتل بن سلیمان نے وضاحت کی ہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہیں جن پر جہنم کی دھمکی ہے یا جن کا انجام جہنم ہے اور فواحش وہ گناہ ہیں جن پر دنیا میں حد قائم کی جائے۔ تحقیق شیخ حلیمی اور ان کےائمہ کا کلام دلالت کرتا ہے کہ صغیرہ گناہ پر اصرار کرنا کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔ تحقیق ایسی احادیث اور حکایات وارد ہوئی ہیں جو صغیرہ گناہوں سےاجتناب کرنے پر ابھارتی ہیں۔ اس بات کے ڈر کے لئے کہ کہیں ان پر اصرار کے نتیجے میں وہ کبیرہ گناہ نہ بن جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْغَيْثِ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← سلميان بْنِ بِلالٍ ← الأُوَيْسِيُّ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities · Hadith 284

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان كبائر الذنوب و صغائرها و فواحشها ـ · حديث 285

285 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك رحمه الله ثنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب أنا أبو داود ثنا عمران القطان عن قتادة عن عبد ربه عن أبي عياض عن عبد الله بن مسعود : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إياكم و محقرات الأعمال إنهن ليجتمعن على الرجل حتى يهلكنه و أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ضرب لهن مثلا كمثل قوم نزلوا بأرض فلاة فحضر صنيع القوم فجعل الرجل يجيء بالعود و الرجل يجيء بالعويد حتى جمعوا من ذلك سوادا ثم أججوا نارا فأنضجت ما قذف فيها

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن محمد بن حسن بن فورک رحمۃ اللہ علیہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن حبیب نے کہ خبردی ہے ابو داؤد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عمران قطان نے قتادہ سے، انہوں نے عبدربہ سے انہوں نے ابو عیاض سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ بچاؤ اپنے آپ کو اعمال کو حقیر و بے وزن کرنے والے امور سے۔ وہ انسان میں اکٹھے ہو کر اس کو ہلاک کر ڈالتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی مثال بیان فرمائی ہے ، جیسے کچھ لوگ مل کر کسی میدان یا جنگل میں اترتے ہیں اور قوم کے کاریگرآتے ہیں، کوئی آدمی لکڑی لاتا ہے، کوئی چھوٹی سی لکڑی لتا ہے حتی کہ ایک ڈھیر جمع ہو جاتا ہے، پھر وہ آگ سلگا تے ہیں اور وہ اس سب کو کھا جاتی ہے جو اس میں پھینکا جائے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عِيَاضٍ، ← عَبْدِ رَبِّهِ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities · Hadith 285

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان كبائر الذنوب و صغائرها و فواحشها ـ · حديث 286

286 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد بن دعلج ثنا محمد بن إسماعيل بن مهران الإسماعيلي ثنا عمرو بن عثمان ثنا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي قال : سمعت بلال بن سعد يقول : لا تنظر إلى صغر الخطيئة و لكن انظر من عصيت

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے کہ خبر دی ہے دعلج بن احمد بن دعلج نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسماعیل بن مہران اسماعیلی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عمر بن عثمان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ولید بن مسلم نے اوزاعی سے، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا بلال بن سعد سے ، وہ فرماتے تھے: تم گناہ اور غلطی کے چھوٹے ہونے کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ تم نافرمانی کتنی بڑ ی ذات کی کر رہے ہو۔

لا تنظر إلى صغر الخطيئة و لكن انظر من عصيت ← بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← محمد بن إسماعيل بن مهران الإسماعيلي ← دعلج بن أحمد بن دعلج ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities · Hadith 286

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان كبائر الذنوب و صغائرها و فواحشها ـ · حديث 287

287 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت منصور بن عبد الله يقوله : سمعت أبا العباس بن عطاء يقول : تولد ورع المتورعين من ذكر الذرة و الخردلة و أن ربنا الذي يحاسب على اللحظة و الهمزة و اللمزة لمستقص في المحاسبة و أشد منه أن يحاسبه على مقادير الذرة و أوزان الخردلة و من يكن هكذا حسابه لحري أن يتقى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہ میں نے منصور بن عبدللہ سے سنا کہ وہ اس کو کہتے تھے کہ میں نے سنا عباس بن عطاء سے وہ فرماتے تھے کہ: پرہیز گاروں کی پرہیزگاری اور متقیوں کا تقویٰ ذرے اور رائی کے دانے سے پیدا ہوتا ہے اور ہمارا رب وہ ہے جو خیال و نظر پر پیٹھ پیچھے عیب لگانے ، سامنے طعنہ پر بھی حساب لے گا اور وہ محاسبہ کرنے میں ہر چیز کو شامل کرنے والا اور احاطہ کرنے والا ہے وار اس سے زیادہ سخت بات یہ ہے کہ وہ ذرے ذرے کی مقداروں اور رائی کےدانوں کے برابر بھی حساب لے گا۔ جس ذات کا حساب ایسا سخت ہو وہ واقعی اس بات کی حقدار ہے کہ اس سے بچا جائے اور تقویٰ اختیار کیا جائے۔

تولد ورع المتورعين من ← أبا العباس بن عطاء ← منصور بن عبد الله يقوله ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities · Hadith 287

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان كبائر الذنوب و صغائرها و فواحشها ـ · حديث 288

288 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا زيد بن بشر أنا ابن وهب ثنا ابن زيد و ذكر عمر و أبا بكر ابني المنكدر قال : فلما حضر أحدهما الوفاة بكى فقيل له ما يبكيك ؟ إن كنا لنغبطك لهذا اليوم ! قال : و أما و الله ما أبكي أن أكون أتيت شيئا ركبته من معاصي الله اجتراء على الله و لكني أخاف أن أكون أتيت شيئا أحسبه هينا و هو عند الله عظيم قال : و بكى الآخر عند الموت فقيل له مثل ذلك فقال : إني سمعت الله يقول لقوم : { و بدا لهم من الله ما لم يكونوا يحتسبون } فأنا أنظر ما ترون و الله ما أدري ما يبدو لي قال : و كان يقال محمد أخوهم أدناهم في العبادة و أي شيء كان محمد في زمانه !

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن جعفر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب بن سفیان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زید بن بشر نے کہ خبر دی ہے ابن وھب نے کہ ہمیں حدیث بیا ن کی ہے ابن زید نے اور ذکر کیا ہے عمرو نے اور ابا بکر ابن المنکدر کے دو بیٹوں کا انہوں نے فرمایا کہ : دونوں میںٰ سے ایک پر جب موت آئی تو وہ رو پڑا ۔ پوچھا گیا کہ آپ کو کس چیز نے رلایا ہے ہم تو آپ کے موت ہونے پر رشک کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اس لئے نہیں رویا کہ خدانخواستہ میں نے اللہ تعالیٰ کی کسی نافرمانی و گناہ کرنے کی جسارت کر لی تھی ۔ لیکن اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کسی چیز کو معمولی سمجھ کر کرتا رہا ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑی ہو(اور اس کا مجھ سے محاسبہ ہو جائے)۔ اور دوسرے بیٹے اپنی موت کے وقت روئے ، ان سے رونے کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کے لئے فرماتے ہیں: "وبدالھم من اللہ مالم یکونو یحتسبون (الزمر 47) ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف وہ امر ظاہر ہو جائے گا جس کا وہ گمان بھی نہ کرتے تھے۔ میں وہی کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم سب دیکھ رہے ہو اور اللہ کی قسم میں بالکل نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں میرے سامنے کیا کچھ ظاہر ہو گا؟ اور کیا کچھ سامنے آئے گا؟ اور انہوں نے فرمایا : کہا جاتا ہے کہ محمد ان کا بھائی تھا (محمد بن منکدر عابد تھے) اور عبادت میں ان سے قریب تر تھا اور کونسی چیز تھے محمد اپنے زمانے میں؟

عمر و أبا بكر ابني المنكدر ← ابن زيد و ← ابْنُ وَهْبٍ، ← زَيْدُ بْنُ بِشْرٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities · Hadith 288

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان كبائر الذنوب و صغائرها و فواحشها ـ · حديث 289

289 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن أحمد بن إسحاق الطيبي ثنا إبراهيم بن الحسين الهمداني ثنا آدم بن أبي إياس ثنا ضمرة بن ربيعة عن سفيان الثوري في : قوله عز و جل : { فيغفر لمن يشاء و يعذب من يشاء } قال : يغفر لمن يشاء العظيم و يعذب من يشاء على الصغير و روي عن ابن عباس الفرق بين الصغائر و الكبائر و يروى عنه أنه لم يفرق بينهما

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے کہ خبر دی ہے ابو الحسن احمد بن اسحٰق طیبی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن حسین ھمدانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم بن ابوایاس نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ضمرۃ بن ربیعہ نے حضر ت سفیان ثوری سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں: فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء (البقرۃ 284)اللہ تعالیٰ جسے چاہیں گے معاف فرما دیں گے اور جسے چاہیں گے عذاب دیں گے۔ فرمایا کہ جس کو چاہیں گے بڑے سے بڑے گناہ معاف کر دیں گے اور جس کو چاہیں گے چھوٹے سے چھوٹے گناہ پر عذاب دیں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کی صغائر اور کبائر میں فر ق ہے۔ اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر جہنم یا عذاب یا لعنت کی وعید آئی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:

سفيان الثوري في قوله عز و جل ← ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities · Hadith 289

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان كبائر الذنوب و صغائرها و فواحشها ـ · حديث 290

290 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي ثنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدرامي ثنا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس في : قوله { إن تجتنبوا كبائر ما تنهون عنه } قال : الكبائر كل ذنب ختمه الله بنار أو غضب أو عذاب أو لعنة

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ ابو الحسن طرائفی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے انہوں نے علی بن ابو طلحہ سے انہوں نے ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں : "ان تجتنبو ا کبائر ماتنھون عنہ (النساء 31)۔ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جس سے تم منع کئے گئے ہو۔ فرمایا کہ کبیرہ گناہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آگ کے ذکر کے ساتھ ختم کیا ہے یا عذاب یا غضب یا لعنت کے ساتھ ختم کیا ہے۔ اکبر الکبائر شرک ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:

الكبائر كل ذنب ختمه الله بنار أو غضب أو عذاب أو لعنة ← ابن عباس في قوله إن تجتنبوا كبائر ما تنهون عنه ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities · Hadith 290

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان كبائر الذنوب و صغائرها و فواحشها ـ · حديث 291

291 - و بهذا الإسناد عن ابن عباس قال : أكبر الكبائر الشرك بالله لأن الله يقول : { إنه من يشرك بالله فقد حرم الله عليه الجنة } و اليأس من روح الله لأن الله يقول : { لا ييأس من روح الله إلا القوم الكافرون } و الأمن من مكر الله لأن الله يقول : { فلا يأمن مكر الله إلا القوم الخاسرون } و منها عقوق الوالدين لأن الله تعالى جعل العاق جبارا شقيا عصيا و قتل النفس التي حرم الله بغير حق لأن الله سبحانه يقول : { جزاؤه جهنم } و قذف المحصنات لأن الله يقول : { لعنوا في الدنيا و الآخرة و لهم عذاب عظيم } و أكل مال اليتيم لأن الله يقول : { إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما إنما يأكلون في بطونهم نارا وسيصلون سعيرا } و الفرار من الزحف لأن الله تعالى يقول : { ومن يولهم يومئذ دبره إلا متحرفا لقتال أو متحيزا إلى فئة فقد باء بغضب من الله } و منها أكل الربا لأن الله يقول : { الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس } و السحر لأن الله يقول : { ولقد علموا لمن اشتراه ما له في الآخرة من خلاق } و الزنا لأن الله يقول { ومن يفعل ذلك يلق أثاما * يضاعف له العذاب يوم القيامة ويخلد فيه مهانا } و اليمين الغموس الفاجرة لأن الله تعالى يقول : { إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة } و الغلول لأن الله يقول : { ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة } و منع الزكاة المفروضة لأن الله يقول : { فتكوى بها جباههم } و شهادة الزور و كتمان الشهادة فإن الله يقول : { ومن يكتمها فإنه آثم قلبه } و شرب الخمر لأن الله عدل بها الأوثان و ترك الصلاة متعمدا أو أشياء مما فرض الله تعالى لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من ترك الصلاة متعمدا فقد برئ من ذمة الله و رسوله و نقض العهد و قيطعة الرحم لأن الله تعالى يقول : { لهم اللعنة ولهم سوء الدار } قال البيهقي رحمه الله : و أما ترك الفرق بينهما ففيهما

مذکورہ اسنا د کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تمام کبیرہ گناہوں میں سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : "(1)۔ انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ "(المائدہ 72) بے شک جو شخص اللہ کے ساتھ شریک بنائے تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی سے مایوسی (کے ذکر کے ساتھ مذکور ہونا بھی کبیرہ گناہ ہونے کی نشانی ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "(2)۔ لا ییئاس من رحمۃ اللہ الا القوم الکافرون " (یوسف 87) اللہ کے لطف و کرم سے نا امید نہیں ہوتے مگر کافر۔ اور اللہ کی تدبیر اور گرفت سے نڈر و بے باک ہونا (یہ بھی کبیرہ گناہ ہونے کی علامت ہے)۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "(3)۔۔ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخاسرون (اعراف 99) اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے مگر خسارے پانے والےلوگ۔ انہیں کبیرہ گناہوں میں سے ہے والدہ کا نافرمان ہونا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نا فرمان کو جبار اور شقی اور عصی سر کش ، بد بخت ، نافر مان قرار دیا ہے۔ اور انہیں میں سے ہے اس نفس کو قتل کرنا جس کو اللہ نے حرام کیا ہے بغیر حق کے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "(4)۔۔ جزاء ہ جھنم (النساء 92) کہ قاتل کی سزا جہنم ہے ۔ اور پاکدامن عورت کو بدکاری کی تہمت لگانا کبیرہ گناہ ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: " (5)۔۔ لعنو ا فی الدنیا والاخرۃ ولھم عذاب عظیم (النور 23) دنیا آخرت میں تہمت لگانے والے لعنت کئے گئے ہیں اور ان کے لئے عذاب عظیم ہے۔ یتیم کا مال کھانا کبیرہ گناہ ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " (6)۔۔ ان الذین یا کلون اموال الیتمیٰ ظلما ً انما یا کلون فی بطو نھم نارا وسیصلون سعیرا (النساء 10) بے شک جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں نا حق وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں ، وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے۔ میدان جہاد سے فرار ہونا کبیرہ گناہ ہے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: " (7)۔۔ ومن یولھم یومئذ دبرہ الا متحر فالقتال او متحر ا الیٰ فئۃ فقد بآء بغضب من اللہ (انفال 16) جس شخص نے (اس دن جہاد میں) پیٹھ پھیر لی ، اس کے ماسوا جس نے جنگ کی چال چلنے یا دوسری اپنی ٹولی سے ملنے کےلئے پیٹھ پھیری۔ (جس نے فرار کے لئے پیٹھ پھیری) اس نے اللہ تعالیٰ کے غضب کی طرف رجوع کیا۔ کبیرہ گناہوں میں سے سود خوری بھی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "(8)۔۔ الذین یاکلون الربوا لا یقومون الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطٰن من المس (البقرہ 275) جو لوگ سود کھاتے ہیں قبروں سے نہیں کھڑے ہوں گے مگر مثل اس شخص جو کھڑا ہوتا مخبوط الحواس شیطان کے چھوڑنے سے اور کبیرہ گناہ سحر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (9)۔۔ ولقد علمو ا لمن اشتراہ مالہ فی الاخرۃ من خلاق (البقرہ 102) البتہ تحقیق وہ جانتے ہیں کہ البتہ جو اس کو خریدتا ہے اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور کبیرہ گناہ زنا (بدکاری ) بھی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (10)۔۔ ومن یفعل ذالک یلق اثاما یضاعف لہ العذاب یوم القیمۃ ویخلد فیہ مھانا (الفرقان 69) جو شخص اس کا ارتکاب کرے وہ کئی گناہوں کو ملتا ہے اس کے لئے دوگنا عذاب ہو گا قیامت کے دن اور اس میں ذلیل ہو گا اور جھوٹی اور گناہ کی قسم بھی کبیرہ گناہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (11)۔۔ ان الذین یشترون بعھداللہ وایمانھم ثمنا قلیلا اولئک لا خلاق لھم فی الاخرۃ (آل عمران 77) بے شک جو لوگ خرید کرتے ہیں اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے میں حقیرسی قیمت وہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ غلول اور مال غنیمت کی چوری بھی کبیرہ گناہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "(12) ومن یغلل یات بما غل یوم القیمۃ (آل عمران 161) جو شخص مال غنیمت میں چوری کرے گا قیامت کے دن چرائی ہوئی چیز لے کر آئے گا۔ فرض زکوٰۃ کو منع کرنا یعنی نہ دینا یہ بھی کبیرہ گناہ ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (13)۔۔ فتکونی بھا جباھھم (التوبہ 35) جو مال دبا دبا کر ر کھتے ہیں اس کی زکوٰۃ نہیں دیتے قیامت میں ان کی پیشانیاں داغی جائیں گی۔ جھوٹی گواہی دینا اور گواہی چھپانا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (14)۔۔ ومن یکتمھافانہ اثم قلبہ (البقرہ 283) جو شخص شہات کو چھپائے گا اس کا دل گناہگار ہے۔ اور شرا ب پینا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے بتوں کی پوجا کو اس کے برابر کیا ہے اور جان بوجھ کر نماز چھوڑ دینا یا اللہ کی فرض کردہ چیزوں میں سے کوئی چیز ترک کرنا یہ بھی کبیرہ گناہ ہیں، کیونکہ رسول اللہ کا فرمان ہے: "(15)۔۔ من ترک الصلوٰۃ متعمدا فقد برئ من ذمۃ اللہ ورسولہ " جو شخص قصدا نماز ترک کر دے وہ اللہ کے ذمہ سے خارج ہو گیا۔ عہد شکنی اور قطع رحمی کرنا بھی کبیرہ گناہ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: " لھم اللعنۃ ولھم سؤ الدار " ان کےلئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔ (الرعد 25) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: بہر حال دونوں میں فرق کو ترک کر دیا پس کس چیز میں ہے۔

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities · Hadith 291

شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان كبائر الذنوب و صغائرها و فواحشها ـ · حديث 292

292 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنبأ أبو عمرو بن نجيد أنا أبو مسلم الكجي أنا عبد الرحمن بن حماد الشعيثي ثنا ابن عون عن محمد عن ابن عباس قال : كل ما نهى الله عنه كبيرة هكذا قال : و كذا قال يحيى بن عتيق و هشام عن محمد بن سيرين عن ابن عباس

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے کہ خبر دی ہے ابو عمرو بن نجید نے کہ خبر دی ہے ابو مسلم الکجی نے کہ خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن حماد شعیثی نے کہ خبر دی ہے ابن عون نے محمد سے ، اس ے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے فرمایا : "کل ما نھی اللہ عنہ کبیرہ " ہر وہ کام ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے وہ کبیرہ گناہ ہے۔ اسی طرح فرمایا اور یحییٰ بن عتیق نے اور ھشام نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح کہا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يحيى بن عتيق و هشام ← و كذا ← كل ما نهى الله عنه كبيرة هكذا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِيُّ ← أبو نصر بن قتادة أنبأ أبو عمرو بن نجيد

Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities · Hadith 292

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood