شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 269
269 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق إملاء ثنا أبو مسلم و يوسف بن يعقوب قالا : ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن ابن أبي ملكية عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من حوسب عذب قالت عائشة يا رسول الله فأين قوله : { فأما من أوتي كتابه بيمينه * فسوف يحاسب حسابا يسيرا } قال ذلكم العرض و لكنه من نوقش الحساب عذب رواه البخاري في الصحيح عن سليمان و رواه مسلم عن أبي الربيع عن حماد
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے بطور املا کے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو مسلم اور یوسف بن یعقوب ے، ان دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سلیمان بن حرب نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "من حوسب عذب" جو شخص حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلاکیا گیا۔ (اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سوال کیا) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا پھر کیا مطلب ہو گا: "فاما من اوتی کتابہ بیمینہ فسوف یحاسب حساب یسیرا (انشقاق 7-8) بہر حال جو شخص اپنا اعمالنامہ اپنے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا ، عنقریب وہ آسان حساب لیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ حساب یسیرے سے مراد ہے صرف حساب پیش کرنا یا صرف بندے کا پیش ہونا ہے۔ لیکن جو شخص مناقشہ کی گیا وہ ہلاک ہو گیا۔ (یعنی جس سے کیوں کہ ساتھ سوال کیا گیا وہ ہلاک ہو جائے گا) اس لئے کہ کیوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس کو بخاری بے اپنی صحیح میں سلیمان سے روایت کیا ہے۔ اور مسلم نے اس کو ابو الربیع سے حماد سے روایت کیا ہے۔
عَائِشَةَ ← ابن أبي ملكية ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أبو مسلم و يوسف بن يعقوب ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 269
