شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 257
257 - حدثنا أبو الحسن العلوي أخبرنا أبو حامد هو ابن الشرقي ثنا محمد بن يحيى الذهلي حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ثنا أبي عن صالح بن كيسان ثنا نافع أن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقوم الناس يوم القيامة لرب العالمين حتى يغيب أحدهم في رشحه إلى أنصاف أذنيه أخرجه مسلم في الصحيح من حديث يعقوب
ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ حسن علوی نے خبر دی ہے ہمیں ابو حامد نے اور وہ ابن شرقی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یحییٰ ذھلی نے۔ انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے۔ میرے والد نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے۔ نافع نے یہ کہ عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: '' یقوم الناس یوم القیمۃ لرب العالمین حتی یغیب احدھم فی شحہ الی انصاف اذنیہ " قیامت کے دن لوگ رب العالمین کےسامنے کھڑے ہوں گے۔ یہاں تک کہ انسان اپنے کانوں کے نصف تک اپنے پسینے میں ڈوب جائے گا۔ امام مسلم نے صحیح میں حدیث یعقوب سے اس کو روایت کیا ہے۔
نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو حامد هو ابن الشرقي ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ
Hadith 257
