Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 228

228 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو الحسن أحمد بن الحسن بن يزيد القزويني بالري ثنا محمد بن أيوب بن يحيى أنا سليمان العتكي ثنا حماد حدثنا يحيى بن سعيد قال : سمعت عمر بن عبد العزيز يقول : ما أصبح لي هوى في شيء سوى ما قضى الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے کہ ہمیں بات بتائی ہے ابو الحسن احمد بن حسین بن یزید قزوینی نے مقام رائے میں کہ ہمیں بات بتائی ہے محمد بن ایوب بن یحییٰ نے انہوں نے کہا خبر دی ہے سلیمان عتکمی نے کہ ہمیں حدیث بتائی ہے حماد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن سعید نے اس نے کہا میں نے سنا تھا عمر بن عبدالعزیز سے وہ کہتے ہیں ۔ کہ مجھے اللہ کی قضا اور فیصلے کے سوا کوئی خواہش نہیں ہوئی ۔

عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ الْعَتَكِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْقَزْوِينِيُّ بِالرِّيِّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 228

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 229

229 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا العباس بن محمد ثنا يحيى بن معين ثنا حجاج عن شعبة قال : قال لي يونس بن عبيد : ما تمنيت شيئا قط

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے کہ خبر دی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے کہ ہمیں بات بیان کی ہے عباس بن محمد نے کہ ہمیں بات بتائی ہے یحییٰ بن معین نے کہ ہمیں بات بتائی ہے حجاج نے شعبہ سے اس نے کہا کہ مجھے یونس بن عبید نے کہا تھا ۔ "کہ میں نے کبھی کسی چیز کی تمنا اور آرزو ہی نہیں کی ۔"

لي يونس بن عبيد ما تمنيت شيئا قط ← شُعْبَةُ، ← حجاج، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 229

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 230

230 - أخبرنا أبو حازم الحافظ أنا محمد بن أحمد بن سنان ثنا الهيثم بن خلف ثنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق قال : سمعت إبراهيم بن الأشعث يقول : سمعت الفضيل بن عياض يقول : الراضي لا شيء فوق منزلته

ہمیں خبر دی ہے ابو حازم حافظ نے کہ خبر دی ہے ہمیں محمد بن احمد بن سنان نے کہ ہمیں بات بیان کی ہے ھثیم بن خلف نے کہ ہمیں بات بتائی ہے محمد بن علی بن حسن نے وہ وہ کہتے ہیں میں نے ابراہیم اشعت سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے فضیل بن عیاض سے سنا وہ کہتے تھے اپنےمرتبے اور مقام سے اوپر راضی ہو نے والا یاراضی ہونا کوئی چیز نہیں ہے۔

الراضي لا شيء فوق منزلته ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← إبراهيم بن الأشعث، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ، ← محمد بن أحمد بن سنان ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 230

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 231

231 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان الخياط يقول : سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام التسليم : مقابلة القضاء بالرضا و الصبر على البلاء و الشكر على الرخاء و ثلاثة من أعلام التفويض : ترك الحكم في أقدار الله في وقت إلى وقت و تعطيل الإرادة لإرادة في النوافل و أسباب الدنيا و النظر إلى ما يقع به من تدبير الله عز و جل و ثلاثة من أعلام ذكاء القلب : رؤية كل شيء من الله و قبول كل شيء عنه و إضافة كل شيء إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں بات بتائی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے انہوں نے کہا میں نے سنا ابو عثمان خیاط سے وہ کہتے ہیں کہ میں سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے تھے ۔ (1) تسلیم و رضا کی (یعنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرنے اللہ کے فیصلے پر راضی ہونے) کی تین علامات ہیں ۔ قضاء کےمقابلے میں رضاء ۔ آزمائش پر صبر کرنا ۔ خوشحالی پر شکر کرنا۔ (2) اور تفویض کرنے اور اللہ کے سپرد کرنے کی تین علامات ہیں ۔ ترک حکم اللہ کے فیصلوں میں اور اس کے اندازوں میں ایک وقت سے دوسرے وقت کی طرف ۔ اور اپنے ارادے کو اللہ کے ارادے کے لئے معطل کرنا نوافل میں اور دنیا کے اسباب میں ۔ اور اس بات پر نظر رکھنا کہ اس بارے میں اللہ کی تدبیر کیا واقع ہوتی ہے ۔ (3) دل روشن یا رون ضمیر ہونے کی علامات تین ہیں ۔ ہر چیز کو اللہ کی طرف سےدیکھنا ۔ ہر شے کو اسی سے قبول کرنا ۔ ہر شے کی نسبت اسی کی طرف کرنا ۔

ذَا النُّونِ، ← أبا عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 231

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 232

232 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا أحمد الحافظ يقول : أنا أبو عثمان سعيد بن عبد العزيز الحلبي ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا عبد الله النباجي يقول : أجل العبادة عندي ثلاثة لا ترد من أحكامه شيئا و لا تسأل غيره حاجة و لا تدخر عنه شيئا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ میں نے سنا ابو احمدحافظ سے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو عثمان سعید بن عبدالعزیز حلیمی نے انہوں نے کہا ہمیں بات بتائی ۔ احمد بن ابی جواری نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو عبداللہ نباجی سے وہ کہتے تھے ۔ عظیم ترین عبادات میرے نزدیک تین ہیں : (1) کہ آپ اللہ کے احکام میں سے کسی حکم کو رد نہ کیجئے ۔ (2) اللہ کے سوا کسی اور سے کوئی حاجت نہ مانگئے ۔ (3) اس سے کوئی چیز ذخیرہ نہ کیجئے ۔

أبا عبد الله النباجي ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أبو عثمان سعيد بن عبد العزيز الحلبي ← أبا أحمد الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 232

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 233

233 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن أحمد بن شمعون : و كان قد سئل عن الرضا فقال الرضا بالحق و الرضا عنه و الرضا له فقال : الرضا به مدبرا و مختارا و الرضا عنه قاسما و معطيا و الرضا له إلها و ربا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا تھا ۔ محمد بن احمد بن شمعون سے جب کہ ان سے رضاء کے بارے پوچھا گیا تھا ( کہ اللہ سے راضی ہونے کی کیا حقیقت ہے ) انہوں نے جواب دیا ۔ ( کہ اس کی تین صورتیں ہیں ) اللہ کے ساتھ راضی ہونا ۔ اللہ سے راضی ہو نا اللہ کے لئے راضی ہونا ۔ اللہ کے ساتھ راضی ہونا یہ ہے کہ وہ مدیر ہے وہ مختار ہے اور اس سے راضی ہونا یہ ہے کہ وہی تقسیم کرنے والا ہے وہی عطاء کرنے والا ہے اور اس کےلئے رضا یہ ہے کہ وہی الٰہ ہے وہی رب ہے۔

الرضا بالحق و الرضا عنه و الرضا له ← «الرِّضَا ← محمد بن أحمد بن شمعون و كان قد سئل ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 233

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 234

234 - أخبرنا أبو عبد الرحمن أنه سمع منصور بن عبد الله يقول : سمعت العباس بن يوسف الشكلي يقول سمعت ابن الفرجي يقول : معنى الرضا فيه ثلاثة أقوال : ترك الاختيار و سرور القلب بمر القضاء و إسقاط التدبير من النفس حتى يحكم لها عليها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن نے کہ انہوں نے نے سنا منصور بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عباس بن یوسف شکلی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن فرجی سے وہ کہتے تھے کہ رضا کے مفہوم میں تین اقوال ہیں : (1) اپنی پسند کو ترک کر نا ۔ (2) قضاء کے گذر سے دل کا سرور۔ (3) اپنے نفس سے تدبیر کو ساقط کرنا ۔ یہاں تک کہ وہ اس کے خلاف فیصلہ دے ۔

ابْنُ الْفَرَجِيِّ ← العباس بن يوسف الشكلي ← مَنْصُورَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أبو عبد الرحمن أنه

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 234

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 235

235 - أخبرنا أبو عبد الرحمن أنه سمع أبا بكر بن شاذان يقول : سئل أبو عثمان البيكندي عن الرضا قال : من لم يندم على ما فات من الدنيا و لم يتأسف عليها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن نےکہ انہوں نےسنا ابو بکر بن شاذان سےکہتے تھے کہ ابو عثمان بیکندی سےرضا کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: جو شخص پشیمان نہ ہو اس پر جو دنیا کے اسباب میں سے اسے حاصل نہ ہو بلکہ اس سے رہ جائے اور نہ ہی اس پر افسوس کرے نہ ہی اس پر افسردہ ہو۔

من لم يندم على ما فات من الدنيا و لم يتأسف عليها ← «الرِّضَا ← سئل أبو عثمان البيكندي ← أَبَا بَكْرِ بْنَ شَاذَانَ ← أبو عبد الرحمن أنه

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 235

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 236

236 - أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أحمد بن محمد بن الحسن ثنا أبو العباس بن حكمويه الرازي قال : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : يا ابن آدم لا تأسف على مفقود لا يرده عليك الفوت و لا تفرح بموجود لا يتركه في يديك الموت

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے کہ ہمیں بات بیان کی ہے احمد بن محمد بن حسن نے انہوں نے کہا ہمیں بات بتائی ہے ابو العباس بن حکمویہ رازی نے انہوں نےکہا میں نے سنا تھا یحییٰ بن معاذ رازی سے وہ کہتے تھے ۔ اے آدم کے بیٹے اس غیر موجو شے پر افسو س نہ کر جو مر کر بھی تجھے نہ مل سکے اور اس موجود شے پر نہ اترا جب موت تیرے ہاتھوں میں نہ رہنے دے ۔

يحيى بن معاذ الرازي ← أبو العباس بن حكمويه الرازي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 236

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 237

237 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن حازم ثنا عبيد الله بن موسى عن سفيان عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس في : قوله : { لكي لا تأسوا على ما فاتكم ولا تفرحوا بما آتاكم } قال : ليس أحد إلا و هو يفرح و يحزن و لكن إذا أصابته مصيبة جعلها صبرا فإن أصابه خير جعله شكرا قال البيهقي رحمه الله : و هذا يؤكد قول الحليمي رحمه الله في هذه الآية أن المراد بالحزن : التسخط و التفجر و المراد بالفرح فرح التبذخ و التكبر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن حازم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن موسیٰ نے سفیان سے انہوں نے سماک سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں : لکیلا تاً سو علی ما فا تکم ولا تفرحوا بما اتاکم (الحدید23) ۔ تا آنکہ افسوس نہ کرو تم اس پر جو تم سے رہ جائے او رتانکہ تم نہ اتراؤ اس پر جو کچھ تمہیں وہ دے دے ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہر انسان خوش بھی ہوتا ہے اور غمگین بھی لیکن مطلب یہ ہے کہ جس وقت اسے مصیبت پہنچے اس کو صبر بنا دے اور اگر اسے خیر و بھلائی ملے تو اس کو شکر بنادے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 237

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 238

238 - أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أبو محمد الحسن بن أبي الحسين العسكري ثنا محمد بن أحمد بن عبد العزيز العامري حدثني عمر بن صدقة الحمال قال : كنت مع ذي النون بأخميم فسمع صوت لهو و دفاف و إكبار فقال ما هذا ؟ فقيل عرس لبعض أهل المدينة و سمع إلى جانبه بكاء و صياحا و ولولة فقال ما هذا ؟ فقيل فلان مات فقال لي عمر بن صدقة أعطوا هؤلاء فما شكروا و ابتلوا هؤلاء فما صبروا و لله علي إن بت في هذه المدينة فخرج من ساعته من أخميم إلى الفسطاط

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے کہ ہمیں بات بیان کی ہے ابو محمد حسن بن ابو الحسن عسکری نے کہ ہمیں بات بیان کی ہے ۔ محمد بن احمد بن عبدالعزیز عامری نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عمر بن صدقہ محال نے انہوں نے فرمایا : کہ میں اخمیم شہر میں حضرت ذوالنون مصری کے ساتھ گیا ہوا تھا ۔ انہوں نے وہاں پر کھیل کود کی اور ڈھول بجنے اور بڑائی کرنے یا اترانے کی آوازیں سنیں تو پچھا کہ یہ کیا ماجراہے ؟ انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ شہر کے کسی آدمی کےہاں شادی ہو رہی ہے اور دوسری جانب انہوں نے رونے چیخنے اور بلبلانے کی آواز یں سنیں تو پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ انہیں بتا یا گیا کہ فلاں شخص کا انتقال ہو گیا ہے ۔ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا اے عمر بن صدقہ ( وہ لوگ جو شادی پر غیر شرعی کا م کر رہے ہیں ) یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ کی نعمتیں عطاکی گئیں ہیں مگر ان کا شکر ادا نہیں کیا ۔ ( اور یہ دوسرے لو گ جو رو پیٹ رہے ہیں ) ابتلاء اور آزمائش میں مبتلا ء کئے گئے ہیں مگر انہوں نے صبر نہیں کیا ۔ مجھ پر اللہ کی ناراضگی واقع ہوگی اگر میں اس شہر میں رات گذا لوں چنانچہ وہ اسی لمحے شہر ا خمیم سے شہر فسطاط کی طرف نکل گئے ۔ کیونکہ بے صبری اور ناشکری اللہ کی ناراضگی اور بے یاری وبے مدد گاری کو لاتے ہیں اور صبر و شکر اللہ کی رضا اور نصرت کو ۔

ما هذا فقيل فلان مات ← إلى جانبه بكاء و صياحا و ولولة ← ما هذا فقيل عرس لبعض أهل المدينة و ← صوت لهو و دفاف و إكبار ← كنت مع ذي النون بأخميم ← عمر بن صدقة الحمال ← محمد بن أحمد بن عبد العزيز العامري ← أبو محمد الحسن بن أبي الحسين العسكري ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 238

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 239

239 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو الوليد ثنا أبو عبد الله البوشنجي ثنا أحمد بن حنبل ثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن بشر بن جابان الصنعاني عن حجر بن قيس المدري قال : بت عند أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه فسمعته و هو يصلي من الليل يقرأ فمر بهذه الآية { أفرأيتم ما تمنون * أأنتم تخلقونه أم نحن الخالقون } قال : بل أنت يا رب ثلاثا ثم قرأ : { أفرأيتم ما تحرثون * أأنتم تزرعونه أم نحن الزارعون } قال : بل أنت يا رب أنت يا رب بل أنت يا رب ثم قرأ : { أفرأيتم الماء الذي تشربون * أأنتم أنزلتموه من المزن أم نحن المنزلون } قال : بل أنت يا رب ثلاثا ثم قرأ : { أفرأيتم النار التي تورون * أأنتم أنشأتم شجرتها أم نحن المنشئون } قال : بل أنت يا رب ثلاثا

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بات بیان کی ہے ابو الولید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ بو شنجی نے انہوں نےکہا ہمیں حدیث بات بتائی ہے احمد حنبل نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرزاق نے اس نے کہا ہمیں خبر دی ہے ، معمر نے بشر بن جابان صنعانی سے انہوں نے حجر بن قیس مدری سے انہوں نے کہا کہ میں نے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کے ہاں رات کو قیام کیا وہ رات نماز پڑھ رہے تھے اور زور سے قرآت کر رہے تھے ۔ قرآت کے دوران جب وہ اس آیت پر پہنچے : افرایتم ما تمنون ء انتم تخلقو نہ ، ام نحن الخالقون ( الواقعہ 58-59)۔ بھلا بتلاؤ جو تم شکم ما در میں منی کا قطرہ ڈالتے ہو کیا تم اس سے بچہ پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنےوالے ہیں ۔ ( حضرت علی نے یہ پڑھنے کے بعد کہا ) بلکہ آپ ہی اے رب پیدا کرنے والے ہیں ۔ تین دفعہ یہی جملہ دہرایا ۔ اس کے بعد یہ آیت پڑھی ؛ افرایتم ما تحرثون ء انتم تزرعونہ ام نحن الزارعون (الواقعہ 63-64) بتلاؤ بھلا جو تم کھیتی کا شت کرتے ہو اسے تم لہلہا تے کھیت بنا لیتے ہو یا ہم بنا نے والے ہیں : حضرت علی نے کہا ۔ بلکہ تو ہی یہ کرتا ہے یارب تین بار یہی کہا ۔ اس کے بعدیہ آیت پڑھی ۔ افرایتم المآ ء الذی تشربون ۔ ء انتم انزلتموہ من المزن نحن المنزلون ۔ ( الواقعہ 68-69) بھلا تم بتاؤ تو سہی یہ پانی جسے تم پیتے ہو کیا اسے بادلوں سے تم اتار تے ہو یا ہم اتار نے والےہیں ۔ ( پھر حضرت علی نے کہا ۔ بلکہ یارب تو ہی یہ کرتا ہے تین بار یہی جملہ کہا ۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی : افرایتم النار التی تورون انتم انشا تم شجر تھا ام نحن المنشؤن( الواقعہ 71-72)۔ بھلا تم لوگ بتلاؤ کہ یہ آگ یہ جسے تم سلگاتے ہو کیا اس کا درخت تم نے بنایا ہے کہ ہم بنانے والے ہیں ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا بلکہ یارب تو ہی ہے ۔ تین بار یہی کہا ۔

بِتُّ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حجر بن قيس المدري ← بشر بن جابان الصنعاني ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 239

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood