شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 204
204 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو بشر حاتم بن سالم القزاز ثنا زنفل العرفي يكنى أبا عبد الله ثنا عبد الله بن أبي مليكة عن عائشة عن أبي بكر الصديق رضي الله عنهما : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا أراد أمرا قال اللهم خر لي و اختر لي و قد ذكرنا دعاء الاستخارة في غير هذا الموضع
ہمیں خبر دی ہے ابو علی بن شاذان بغدادی نے اس کے ساتھ انہوں نے کہا خبر دی ہے عبداللہ بن جعفر نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب بن سفیان نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بشر حاتم بن سالم قزاز نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زنفل عرفی نے جس کی کنیت ابو عبداللہ ہے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کام کرنے کا ارادہ فرماتے تو ہمیشہ یہ دعا کرتے ۔ اللھم خرلی و اخترلی۔ اے اللہ میرے لئے خیر کا فیصلہ فرما۔اور میرے لئے اچھائی کا انتخاب فرما۔
أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← زنفل العرفي يكنى أبا عبد الله ← أبو بشر حاتم بن سالم القزاز ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان البغدادي بها،
Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 204
