Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 192

192 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال سمعت أبا عثمان الخياط يقول سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من علامات التوفيق : الوقوع في أعمال البر بلا استعداد له و السلامة من الذنب مع الميل إليه و قلة الهرب منه و استخراج الدعاء و الابتهال و ثلاثة من علامات الخذلان : الوقوع في الذنب مع الهرب منه و الامتناع من الخير مع الاستعداد له و انغلاق باب الدعاء و التضرع قال البيهقي رحمه الله و قد روينا في هذه المسائل ما جاء في الأخبار و الآثار في كتاب القدر و أجبنا عما يحتجون به من الآيات و الأخبار و اقتصرنا على ما نقلنا في هذا الكتاب نحو الاختصار و بالله التوفيق و مما يحق معرفته في هذا الباب أن الله عز و جل لا يجب عليه شيء و لا علة لصنعه و لا يقال لم فعل لأنه لو كان لفعله علة فإن كانت قديمة اقتضت قدم معلولها و ذلك محال و إن كانت حادثة كانت لها علة أخرى و لتلك العلة علة أخرى حتى تؤدي إلى ما لا يتناهى و ذلك محال و إن استغنت العلة عن العلة استغنى الحوادث عن العلة و ذلك محال فدل أن ربنا جل و عز فعال لما يريد لا علة لفعله و لا معقب لحكمه و أنه علم في الأزل ما يكون من الحوادث بخلقه فقدره على ما لم يزل عالما به ثم خلقه على ما قدره فلا تبديل لحكمه ولا مرد لقضائه و في الإيمان به وجوب التبري من الحول و القوة إلا إليه و الاستسلام للقضاء و القدر بالقلب و اللسان أما بقلب بأن لا ينظر و لا يباشر مما يجري به القضاء مما يوافقه و لا يأسف و لا يحزن لما يأتي به القضاء مما لا يوافقه و أما باللسان فهو أن لا يفتخر بما يعجبه على غيره و لا ينسب ذلك إلى سبب يكون مرجعه إلى نفسه و لا يتضجر مما يسوءه فعل من يشكو أحدا أو ينسبه إلى ظلم أصابه من قبله لكن يضيف الأمرين إلى الله جل ثناؤه و ينسبهما إلى فضله و قدره و يذعن و يستسلم لما يكرهه و يحمد الله على ما يسره قال البيهقي رحمه الله و قد روينا أحاديث و حكايات في الترغيب في الاستسلام للقضاء و القدر و التبري من الحول و القوة من ذلك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے انہوں نے کہا میں نے سنا ابو عثمان خیاط سے کہتے ہیں میں نے سنا ذوالنون ( مصری) سے کہتے ہیں توفیق ملنے کی تین علامات ہیں : 1۔ نیک اعمال میں لگنا بغیر اس کی استعداد کے ۔ 2۔ گناہ سے سلامت رہنا اس کی طرف میلان کے باوجود اور اس سے بچنے کی کم تدبیر کے باوجود، 3۔ دعا کرنا اور دعا میں اللہ کے آگے عاجزی و انکساری کرنا۔ اور تین علامات ہیں توفیق سے محروم کرنے کی ۔ 1۔ گناہوں سے دور بھاگنے کے باوجود ان میں واقع ہونا، 2۔ چیز کی استعداد کے باوجود خیر سے رکنا اور باز رہنا ۔ 3۔ دعا کرنے اور اللہ کے آگے عجز و نیاز کرنے کا دروازہ بند ہونا۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے کتاب القدر میں وہ اخبار و آثار روایت کئے ہیں جو ان مسائل کے بارے میں آئی ہیں ۔ اور ہم نے ان آیات و اخبار کے بارے میں جواب دیئے ہیں جن سے استدلال کرتے ہیں اور اس کتاب میں ہم نے اختصار سے کام لیتے ہوئے اسی پر اکتفا کیا ہے جن کو ہم نے نقل کیا ہے ۔ اس باب میں جس چیز کی معفت لازم ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی صنعت اور فعل کے لئے کوئی علت نہیں ہے اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے کیوں کیا ؟ اس لئے کہ اگر اس کے کسی فعل کی علت ہو تو وہ دو حال سے خالی نہ ہو گی یا تو وہ قدیم ہو گی یا حادث ہو گی ۔ اگر علت قدیم ہو تو وہ اس بات کو تقاضا کرے گی کہ پھر اس کا معلول بھی قیم ہو اور یہ محال ہے اور اگر علت حادث ہو تو پھر اس کی کوئی اور علت ہو گی پھر اس اور کی بھی کوئی علت اور ہو گی یہاں تک کہ یہ علت در علت کا لا متناہی سلسلہ یعنی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا یہ بھی محال ہے ۔ اور اگر علت دوسری علت سے مستغنی ہو تو حوادث کا علت سے مستغنی ہونا لازم آئے گا اور یہ بھی محال ہے ۔ تو یہ ساری تقریر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہمارا رب جل جلالہ فعال لما یرید ہے جو چاہتا ہے کر ڈالتا ہے اس کے کسی فعل کی کوئی علت نہیں ہے ۔ اس کے فیصلہ کی کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ازل میں ان حوادث کو جانتا تھا جو اس کی مخلوق کے ساتھ پیش آئیں گے ۔ پھر اس نے اس کی تقدیر مقرر کی جس چیز کو وہ ازل میں جانتا تھا پھر اس نے اپنی مخلوق کو اسی اندازے پر پیدا کیا جو مقدر کیا تھا۔ لہذا اس کے حکم کے لئے کوئی تبدیلی نہیں ہے اور اس کے فیصلے کے لئے رد ہونا نہیں ہے اور اس کے ساتھ ایمان لانے میں واجب ہے بیزار ہونا ( غیر اللہ سے ) گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت مانگنے سے مگر صرف اللہ سے اور واجب ہے دل و زبان سے تسلیم کرنا اس کی قضا اور تقدیر کو۔ بہر حال قضاء و قدر آگے گردن جھکا دینا دل کے ساتھ بایں صورت ہوگا کہ تقدیر جن کاموں میں انسان کی موافقت میں جاری ہو جائے خوش ہو کر اس میں غور و فکر نہ کرے اور قضاء قدر کے ناموافق فیصلوں سے نہ ہی افسردہ ہو نہ ہی غمگین ہو۔ اور زبان کے ساتھ قضاء قدر کے تابع ہونا یہ ہے کہ جو چیز اسے اچھی لگے اس کے ساتھ اس پر فخر نہ کرے جو اسے اچھی نہ لگے اور پسندیدہ چیز کو کسی ایسے سبب کی طرف منسوب نہ کرے جس کا تعلق انسان کی ذات سے ہو اور تقدیر کا جو فیصلہ اس کو اچھا نہ لگے اس پر زیادہ غمگین نہ ہو اور اس کا کسی ایسے سے شکوہ نہ کرے اور یہ بھی نہ کہے کہ یہ اس پر تقدیر کا عمل ہے بلکہ دونوں امور کی نسبت اللہ کی طرف کرے اور اس کے فضل کی طرف اور اس کی تقدیر کی طرف کرے اور یقین لائے اور قضاء و قدر کے آگے مطیع ہو جائے اور گردن جھکا لے اس چیز میں بھی جو اسے مکروہ یا نا پسند ہو یا جو اسے مجبور کر دے اور اللہ کی طرف سے اس کو آسان کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم قضاء و ادر کے اگے سر تسلیم خم کرنے کی ترغیب کی بابت اور نیکی اور بدی کرنے کی ذات طاقت سے اظہار برات کی بابت کئی احادیث اور کئی حکایات نقل کی ہیں ۔

ذَا النُّونِ، ← أبا عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 192

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 193

193 - ما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن الهمداني ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا شعبة ثنا يحيى بن سليم قال سمعت عمرو بن ميمون يحدث عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ألا أعلمك أو أدلك على كلمة من تحت العرش من كنز الجنة لا حول و لا قول إلا بالله يقول الله عز و جل أسلم عبدي و استسلم

جس کی خبر ہمیں ابو عبداللہ حافظ نے دی ہے ہمیں خبر دی ہے عبدالرحمن بن حسن ہمدانی نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن حسین نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن سلیم نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا عمرو بن میمون سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ کیا میں تجھے سکھلا نہ دوں یا فرمایا تھا دلالت نہ کروں ایسے کلمہ پر جو اللہ کے عرش کے نیچے جنت کے خزانے میں سے ہے ۔ اور وہ ہے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہ گناہوں سے بچنا اور نیکی کرنے کی طاقت محض اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ میرے بندے نے مان لیا ہے اور سر سے تسلیم خم کر لیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عبد الرحمن بن الحسن الهمداني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 193

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 194

194 - و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا عبد الله بن إدريس عن ربيعة بن عثمان عن محمد بن يحيى بن حبان عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المؤمن القوي خير و أحب إلى الله من المؤمن الضعيف و في كل خير احرص على ما ينفعك و استعن بالله و لا تعجز و إن أصابك شر فلا تقل لو أني فعلت كذا و كذا قل قدر الله و ما شاء الله فعل فإن لو تفتح عمل الشيطان رواه مسلم في الصحيح عن ابن نمير و روينا عن أنس بن مالك قال : خدمت رسول الله صلى الله عليه و سلم عشر سنين فما أرسلني في حاجة قط فلم تتهيأ ألا قال لو قضى الله كان و لو قدر كان

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے ابو بکر بن عبداللہ نے کہ خبر دی ہے حسن بن سفیان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن ادریس نے ربیعہ بن عثمان سے انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے انوہں نے اعرج سے اس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا کہ طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور اور ضعیف مومن سے زیادہ پسندیدہ ہے اور تو ( اے مخاطب ) ہر خیر میں جو تجھے فائدہ دے حریص بن اور اللہ سے مدد مانگ اور عاجز و بے بس نہ بن ۔ اگر تجھے نقصان و برائی پہنچے تتو یوں نہ کہے کہ اگر میں اسے کرتا تو یہ نہ ہوتا۔ بلکہ یوں کہہ اللہ کی تقدیر و فیصلہ یہی تھا ۔ اس نے جو چاہا وہی کیا۔ بے شک اگر میں ایسا کرتا تو یہ قول شیطان کے عمل کو کھول دیتا ہے اس کو مسلم نے صحیح میں ابن نمیر سے روایت کیا ہے اور ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور انہوں نے فرمایا کہ : میں نے دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت کی ہے آپ نے بھی مجھے کسی ضروری کام سے بھیجا اور ہو نہیں ہو سکا تو آپ نے فرمایا اگر اللہ کا فیصلہ ہوتا تو ہو جاتا اگر اللہ تعالیٰ مقدر کرتا تو ہو جاتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 194

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 195

195 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحق الفقيه أنا محمد ابن محمد بن حيان الأنصاري ثنا أبو الوليد ثنا الليث بن سعد حدثني قيس بن الحجاج عن حنش الصنعاني عن ابن عباس قال : كنت رديف رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا غلام أو يا غليم ! احفظ الله يخفظك احفظ الله تجده تجاهك و إذا سألت فاسأل الله و إذا استعنت فاستعن بالله و اعلم أن الأمة لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء لم يكتبه الله لك لم يقدروا على ذلك و لو اجتمعوا على أن يضروك بشيء لم يكتبه الله عليك لم يقدروا على ذلك قضي القضاء و جفت الأقلام و طويت الصحف و روينا في دعاء النبي صلى الله عليه و سلم : اللهم إني أسألك الصحة و العفة و الأمانة و حسن الخلق و الرضى بالقدر و في حديث آخر و أسألك الرضى بعد القضاء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے کہ خبر دی ہے محمد بن محمد بن حیان انصاری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الولید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے لیث بن سعد نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے قیس بن حجاج نے حنش صنعانی سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھا ۔ آپ نے اس وقت فرمایا : اے لڑکے یا چھوٹے فرمایا : اللہ کو یاد کر وہی تیری حفاظت کرے گا ۔ اللہ کو یاد کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا اور جب تو کچھ مانگے تو اللہ سے مانگنا ۔ اور جب تو مدد مانگے تو اللہ سے مدد مانگنا ۔ اور تو یقین کرے کہ ساری امت اگر اس بات پر متفق ہو جائے کہ تجھے کچھ نفع دیں جو اللہ نے تیرے لئے تقدیر میں نہ لکھا ہو وہ اس فائدہ دینے پر قادر نہیں ہوں گے اور اگر ساری امت اس بات پر اکٹھی ہو جائیں کہ تجھے کچھ نقصان پہنچائیں جو اللہ نے تیرے اوپر نہ لکھا ہو وہ اس پر قادر نہیں ہوں گے ۔ فیصلہ کیا جا چکا ہے ۔ (فیصلے لکھنے والے ) قلم سوکھ چکے ہیں ( جس پر فیصلے لکھے گئے وہ ) صحیفے لپیٹے جا چکے ہیں ۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی دعا میں روایت کیا ہے ۔ ( اللھم ان اسئلک الصحۃ و العفۃ و الا مائۃ و حسن الخلق و الرضی با لقدر ) اے اللہ میں تجھ سے صحت مانگتا ہو ، پاک دامنی اور امانت داری حسن خلق اور تقدیر پر راضی رہنا مانگتا ہو۔ ایک اور حدیث میں ہے ۔ ( اسئلک الرجی بعد القضاء ) میں تجھ سے قضاء کے بعد راضی رہنا مانگتا ہوں۔

كنت رديف رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حنش الصنعاني ← قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← محمد ابن محمد بن حيان الأنصاري ← أبو بكر بن إسحق الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 195

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 196

196 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي : أنه سمع عبد الله الرازي يقول سئل أبو عثمان عن قول النبي صلى الله عليه و سلم أسألك الرضا بعد القضاء فقال الرضا قبل القضاء عزم على الرضا و الرضا بعد القضاء هو الرضا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمن سلمی نے کہ انہوں نے سنا عبداللہ رازی سے وہ کہتے تھے ابو عثمان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے اس قول کے بارے میں پوچھا گیا ۔ ( اسئلک الرضاء بعد القضاء فقال الرضاء قبل القضاء عزم علی الرضاء و الرضاء بعد القضاء ھو الرضاء ) کہ میں ( اے اللہ ) تجھ سے قضاء کے بعد رضا کا سوال کرتا ہوں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ قضاء سے پہلے رضا ۔ رضا پر عزم ہے قضاء کے جاری ہونے کے بعد رضا ۔ اصل وہی رضا ہے ۔

قول النبي صلى الله عليه و سلم أسألك الرضا بعد القضاء ← سئل أبو عثمان ← عبد الله الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنَّهُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 196

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 197

197 - أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني أنا علي بن الحسن المصري قال سمعت أبا عثمان سعيد بن عثمان المصري يقول سمعت أبا سعيد الخراز يقول : الرضا قبل القضاء تفويض و الرضا بعد القضاء تسليم

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد احمد بن محمد مالینی نے کہ خبر دی ہے علی بن حسن بصری نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا تھا ابو عثمان سعید بن عثمان مصری سے وہ کہتے تھے میں نے سنا تھا ابو سعید خراز سے وہ کہتے تھے : کہ قضاء سے قبل رضا ( در حقیقت ) خود پر تفویض کرنا اور سونپ دیان ہے اور قضاء کے بعد رضا ( در حقیقت ) سر سے تسلیم خم کرنا ہے ۔

الرضا قبل القضاء تفويض و الرضا بعد القضاء تسليم ← أبا سعيد الخراز ← أبا عثمان سعيد بن عثمان المصري ← علي بن الحسن المصري ← أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 197

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 198

198 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري نا جدي يحيى بن منصور ثنا أحمد بن سلمة ثنا قتيبة بن سعيد ثنا الليث عن ابن الهاد عن محمد بن إبراهيم بن الحارث عن عامر بن سعد عن العباس بن عبد المطلب : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربا و بالإسلام دينا و بمحمد نبيا

ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے انہوں نے کہا مجھے خبر دی ہے میرے دادا یحییٰ بن منصور نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن سلمہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بتائی ہے ابن ھاد سے انہوں نے محمد بن حارث سے انہوں نے عامر بن سعد سے انہوں نے عباس بن عبدالمطلب سے انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے فرماتے تھے : (ذاق طعم الایمان من رضی با اللہ ربا و بالاسلام دینا و محمد نبیا ) اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہو گیا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّهُ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّيَ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 198

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 199

199 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا المعلى بن منصور ثنا عبد العزيز بن محمد عن يزيد بن الهاد : بهذا الحديث أخرجه مسلم في الصحيح عن عبد العزيز

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے ابو نضر فقیہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حارث بن ابی اسامہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے معلیٰ بن منصور نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالعزیز بن محمد نے یزید بن ہاد سے یہی مذکورہ حدیث اور اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے عبدالعزیز سے ۔

عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← يزيد بن الهاد بهذا الحديث أخرجه مسلم في الصحيح ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 199

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 200

200 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو الحسن محمد بن الحسن بن علي الوراق بمرو كتبه لي بخطه ثنا علي بن يزداد الجرجاني و كان قد أتى عليه مائة و خمسة وعشرون سنة قال سمعت عصام بن الليث الليثي السدوسي من بني مرارة في البادية يقول سمعت أنس بن مالك قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله تعالى : من لم يرض بقضائي و قدري فليلتمس ربا غيري

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابو الحسن محمد بن حسن بن علی وراق نے مقام مرو میں انہوں نے حدیث کو میرے لئے اپنی تحریر میں لکھا ( اور کہا کہ ) ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن یزداد جرجانی نے جب ان کی عمر ایک سو پچیس سال ہو چکی تھی انہوں نے کہا میں نے سنا عصام بن لیث لیثی سدوسی سے جو کہ بنو مرارہ میں سے تھے اور دیہات میں رہتے تھے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ( من لم یرض بقضائی و قدری فلیلتمس ربا غیری ) جو شخص میرے فیصلے پر راضی نہیں ہے اور میرے تقدیر پر اٹکے چاہیے کہ وہ میرے سوا کوئی اور رب تلاش کرے۔

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 200

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 201

201 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن أبي هاشم العلوي و عبد الواحد بن محمد بن إسحاق المقرئ بالكوفة قالا حدثنا محمد بن علي بن دحيم ثنا إبراهيم بن إسحاق القاضي ثنا قبيصة عن سفيان عن العلاء عن أبي وائل عن عبد الله قال : أد ما افترض الله عليك تكن من أعبد الناس و اجتنب ما حرم عليك تكن من أورع الناس و ارض بما قسم الله لك تكن من أغنى الناس

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم زین بن ابی ہاشم علوی نے اور عبدالواحد بن محمد بن اسحٰق مقری نے کوفہ میں ان دونوں نےکہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن علی بن دحیم نے انہوں نےکہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن اسحٰق قاضی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قبیصہ نے سفیان سے انہوں نے علاء سے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے عبداللہ سے انہوں نے کہا۔ اللہ نے تجھ پر فرض کیا ہے اسے ادا کر تا رہ تو لوگوں میں سے عابد ترین ہو گا۔ اور جو اس نے تجھ پر حرام کر دیا ہے اس بچتا رہ تو سب سے زیادہ پرہیز گار ہوگا۔ اور اللہ نے جو تیرے لئے مقسوم بنایا ہےاس کے ساتھ راضی رہ تو سب سے زیادہ غنی ہو گا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْعَلَاءِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ،

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 201

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 202

202 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو عتبة ثنا بقية عن بحير بن سعيد عن خالد بن معدان عن يزيد بن مرثد عن أبي الدرداء قال : ذروة الإيمان أربع : الصبر للحكم و الرضا بالقدر و الإخلاص للتوكل و الاستسلام للرب عز و جل

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے انہوں نے کہاہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عتبہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے بقیہ نے بحربن سعید سے انہوں نے خالد بن معدان سے انہوں نے یزید بن مرثد سے انہوں نے ابو درداء سے انہوں نے فرمایا ایمان کی چوٹی چار چیزیں ہیں ۔ اللہ کے فیصلہ پر صابر رہنا ۔ اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا اللہ پر توکل میں اخلاق پیدا کرنا۔ رب عزوجل کے لئے تابع فرماں ہو کر سرے تسلیم خم کرنا۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعيد ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 202

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 203

203 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا يحيى بن منصور القاضي حدثنا الحسن بن علي بن القاسم الشاذياخي حدثنا إسحاق بن إبراهيم حدثنا ابن أبي فديك حدثنا ابن أبي حميد ح و أخبرنا الشيخ أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن بن صبيح ثنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا أبو عامر العقدي ثنا محمد بن أبي حميد عن إسماعيل بن محمد بن سعد يعني ابن أبي وقاص عن أبيه عن جده : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من سعادة ابن آدم استخارته الله و رضاه بما قضى الله عليه و من شقاوة ابن آدم تركه استخارة الله و سخط بما قضى الله عز و جل و رواه عمر بن علي المقدمي عن محمد بن أبي حميد و عبد الرحمن بن أبي بكر بن عبيد الله عن إسماعيل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے یحییٰ بن منصور قاضی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن قاسم شاذیاخی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ اسحٰق بن ابراہیم نے انہوں نے کہا ۔ ابن ابی فدیدیک نے انہوں نے کہا ابن ابی حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ اور ہمیں خبر دی ہے شیخ ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن صبیح نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن مھمد بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن ابراہیم نے انہوں نے کہا۔ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عامر عقدی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابی حمید نے اسماعیل بن محمد بن سعد یعنی ابن ابی وقاص نے اپنے باپ سے اپنے دادا سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا ۔ اولاد آدم کی خوش نصیبی اور سعادت مندی ان کا اللہ سے خیر مانگنا ( استخارہ کرنا ) ہے اور ان پر اللہ نے جو فیصلہ فرمایا اس پر راضی رہنا ہے ۔ اور اولاد آدم کی بد بختی و بد نصیبی اللہ سے خیر طلب کرنےکو چھوڑدینا اور اللہ کے فیصلے پر ناراض ہونا ہے ۔ اس کو روایت کیا ہے عمر بن علی مقدمی نے محمد بن ابی حمید سے اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن عبید اللہ سے انہوں نے اسماعیل سے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، ← محمد بن أبي حميد ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو الحسن بن صبيح ← الشَّيْخُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ← و، ← ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْقَاسِمِ الشَّاذَيَاخِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 203

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood