شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 192
192 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال سمعت أبا عثمان الخياط يقول سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من علامات التوفيق : الوقوع في أعمال البر بلا استعداد له و السلامة من الذنب مع الميل إليه و قلة الهرب منه و استخراج الدعاء و الابتهال و ثلاثة من علامات الخذلان : الوقوع في الذنب مع الهرب منه و الامتناع من الخير مع الاستعداد له و انغلاق باب الدعاء و التضرع قال البيهقي رحمه الله و قد روينا في هذه المسائل ما جاء في الأخبار و الآثار في كتاب القدر و أجبنا عما يحتجون به من الآيات و الأخبار و اقتصرنا على ما نقلنا في هذا الكتاب نحو الاختصار و بالله التوفيق و مما يحق معرفته في هذا الباب أن الله عز و جل لا يجب عليه شيء و لا علة لصنعه و لا يقال لم فعل لأنه لو كان لفعله علة فإن كانت قديمة اقتضت قدم معلولها و ذلك محال و إن كانت حادثة كانت لها علة أخرى و لتلك العلة علة أخرى حتى تؤدي إلى ما لا يتناهى و ذلك محال و إن استغنت العلة عن العلة استغنى الحوادث عن العلة و ذلك محال فدل أن ربنا جل و عز فعال لما يريد لا علة لفعله و لا معقب لحكمه و أنه علم في الأزل ما يكون من الحوادث بخلقه فقدره على ما لم يزل عالما به ثم خلقه على ما قدره فلا تبديل لحكمه ولا مرد لقضائه و في الإيمان به وجوب التبري من الحول و القوة إلا إليه و الاستسلام للقضاء و القدر بالقلب و اللسان أما بقلب بأن لا ينظر و لا يباشر مما يجري به القضاء مما يوافقه و لا يأسف و لا يحزن لما يأتي به القضاء مما لا يوافقه و أما باللسان فهو أن لا يفتخر بما يعجبه على غيره و لا ينسب ذلك إلى سبب يكون مرجعه إلى نفسه و لا يتضجر مما يسوءه فعل من يشكو أحدا أو ينسبه إلى ظلم أصابه من قبله لكن يضيف الأمرين إلى الله جل ثناؤه و ينسبهما إلى فضله و قدره و يذعن و يستسلم لما يكرهه و يحمد الله على ما يسره قال البيهقي رحمه الله و قد روينا أحاديث و حكايات في الترغيب في الاستسلام للقضاء و القدر و التبري من الحول و القوة من ذلك
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے انہوں نے کہا میں نے سنا ابو عثمان خیاط سے کہتے ہیں میں نے سنا ذوالنون ( مصری) سے کہتے ہیں توفیق ملنے کی تین علامات ہیں : 1۔ نیک اعمال میں لگنا بغیر اس کی استعداد کے ۔ 2۔ گناہ سے سلامت رہنا اس کی طرف میلان کے باوجود اور اس سے بچنے کی کم تدبیر کے باوجود، 3۔ دعا کرنا اور دعا میں اللہ کے آگے عاجزی و انکساری کرنا۔ اور تین علامات ہیں توفیق سے محروم کرنے کی ۔ 1۔ گناہوں سے دور بھاگنے کے باوجود ان میں واقع ہونا، 2۔ چیز کی استعداد کے باوجود خیر سے رکنا اور باز رہنا ۔ 3۔ دعا کرنے اور اللہ کے آگے عجز و نیاز کرنے کا دروازہ بند ہونا۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے کتاب القدر میں وہ اخبار و آثار روایت کئے ہیں جو ان مسائل کے بارے میں آئی ہیں ۔ اور ہم نے ان آیات و اخبار کے بارے میں جواب دیئے ہیں جن سے استدلال کرتے ہیں اور اس کتاب میں ہم نے اختصار سے کام لیتے ہوئے اسی پر اکتفا کیا ہے جن کو ہم نے نقل کیا ہے ۔ اس باب میں جس چیز کی معفت لازم ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی صنعت اور فعل کے لئے کوئی علت نہیں ہے اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے کیوں کیا ؟ اس لئے کہ اگر اس کے کسی فعل کی علت ہو تو وہ دو حال سے خالی نہ ہو گی یا تو وہ قدیم ہو گی یا حادث ہو گی ۔ اگر علت قدیم ہو تو وہ اس بات کو تقاضا کرے گی کہ پھر اس کا معلول بھی قیم ہو اور یہ محال ہے اور اگر علت حادث ہو تو پھر اس کی کوئی اور علت ہو گی پھر اس اور کی بھی کوئی علت اور ہو گی یہاں تک کہ یہ علت در علت کا لا متناہی سلسلہ یعنی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا یہ بھی محال ہے ۔ اور اگر علت دوسری علت سے مستغنی ہو تو حوادث کا علت سے مستغنی ہونا لازم آئے گا اور یہ بھی محال ہے ۔ تو یہ ساری تقریر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہمارا رب جل جلالہ فعال لما یرید ہے جو چاہتا ہے کر ڈالتا ہے اس کے کسی فعل کی کوئی علت نہیں ہے ۔ اس کے فیصلہ کی کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ازل میں ان حوادث کو جانتا تھا جو اس کی مخلوق کے ساتھ پیش آئیں گے ۔ پھر اس نے اس کی تقدیر مقرر کی جس چیز کو وہ ازل میں جانتا تھا پھر اس نے اپنی مخلوق کو اسی اندازے پر پیدا کیا جو مقدر کیا تھا۔ لہذا اس کے حکم کے لئے کوئی تبدیلی نہیں ہے اور اس کے فیصلے کے لئے رد ہونا نہیں ہے اور اس کے ساتھ ایمان لانے میں واجب ہے بیزار ہونا ( غیر اللہ سے ) گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت مانگنے سے مگر صرف اللہ سے اور واجب ہے دل و زبان سے تسلیم کرنا اس کی قضا اور تقدیر کو۔ بہر حال قضاء و قدر آگے گردن جھکا دینا دل کے ساتھ بایں صورت ہوگا کہ تقدیر جن کاموں میں انسان کی موافقت میں جاری ہو جائے خوش ہو کر اس میں غور و فکر نہ کرے اور قضاء قدر کے ناموافق فیصلوں سے نہ ہی افسردہ ہو نہ ہی غمگین ہو۔ اور زبان کے ساتھ قضاء قدر کے تابع ہونا یہ ہے کہ جو چیز اسے اچھی لگے اس کے ساتھ اس پر فخر نہ کرے جو اسے اچھی نہ لگے اور پسندیدہ چیز کو کسی ایسے سبب کی طرف منسوب نہ کرے جس کا تعلق انسان کی ذات سے ہو اور تقدیر کا جو فیصلہ اس کو اچھا نہ لگے اس پر زیادہ غمگین نہ ہو اور اس کا کسی ایسے سے شکوہ نہ کرے اور یہ بھی نہ کہے کہ یہ اس پر تقدیر کا عمل ہے بلکہ دونوں امور کی نسبت اللہ کی طرف کرے اور اس کے فضل کی طرف اور اس کی تقدیر کی طرف کرے اور یقین لائے اور قضاء و قدر کے آگے مطیع ہو جائے اور گردن جھکا لے اس چیز میں بھی جو اسے مکروہ یا نا پسند ہو یا جو اسے مجبور کر دے اور اللہ کی طرف سے اس کو آسان کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم قضاء و ادر کے اگے سر تسلیم خم کرنے کی ترغیب کی بابت اور نیکی اور بدی کرنے کی ذات طاقت سے اظہار برات کی بابت کئی احادیث اور کئی حکایات نقل کی ہیں ۔
ذَا النُّونِ، ← أبا عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 192
