Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 180

180 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا بشر بن موسى ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ ثنا كهمس بن الحسن عن عبد الله بن بريدة عن يحيى بن يعمر : قال : كان أول من قال من القدر معبد الجهني بالبصرة قال فانطلقنا حجاجا أنا و حميد بن عبد الرحمن الحميري فلما قدمنا المدينة وافقنا عبد الله بن عمر و هو في المجسد فقلت يا أبا عبد الرحمن ! إن قبلنا ناسا يقرؤون القرآن و يتقفرون العلم و يقولون لا قدر و إنما الأمر أنف قال فإذا لقيت أولئك فأخبرهم أني منهم بريء و أنهم مني براء و الذي يحلف به عبد الله بن عمر لو كان لأحدهم مثل أحد ذهبا فأنفقه ما قبل الله منه حتى يؤمن بالقدر كله خيره و شره حدثني عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه أثر سفر و لا يعرفه منا أحد حتى جلس إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأسند ركبتيه إلى ركبتيه و وضع كفيه على فخذيه ثم قال يا محمد ! أخبرني عن الإيمان ما الإيمان ؟ قال : أن تؤمن بالله و ملائكته و كتبه و رسله و اليوم الآخر و القدر خيره و شره قال صدقت و ذكر الحديث أخرجه مسلم في صحيحه من وجه آخر عن كهمس و رواه يزيد بن زريع عن كهمس و قال في الحديث : أن تؤمن بالله و ملائكته و كتبه و رسله و بالقدر خيره و شره حلوه و مره و بالبعث بعد الموت قال صدقت

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو بکر بن اسحق نے کہ خبر دی ہے بشر بن موسیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمن مقری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے گھمس بن حسن نے عبداللہ بن بریدہ سے یحییٰ بن یعمر سے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلا شخص جس نے تقدیر کے باری میں بات کی تھی یا بحث کی تھی وہ معبد جھنی تھا بصرہ میں ۔ یحییٰ کہتے ہیں ہم لوگ حج کرنے کے لئے نکلے ہیں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری جب ہم مدینے میں آئے تو ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ملے اور وہ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے میں نے ان سے عرض کی اے ابو عبدالرحمن ہماری طرف کچھ لوگ ہیں جو قرآن بھی پڑھتے ہیں اور علم کی تلاش اور جستجو بھی رکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی شئی نہیں ہے ۔ معاملہ از سرے نو ہے ۔ ( یعنی نیا معاملہ ہے یعنی پہلے سے کوئی تقدیر و اندازہ مقرر نہیں ہے ) حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا : جب تم ان لوگوں سے ملو تو انہیں خبر دے دو کہ بے شک میں ان سے بری ہوں ۔ اور وہ مجھ سے بری میں یعنی ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی ان کا ہم سے کوئی تعلق ہے ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ساتھ عبداللہ بن عمر قسم کھاتا ہے اگر ان کے کسی ایک کے لئے احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اللہ اس سے قبول نہیں کرے گا حتیٰ کہ وہ پوری تقدیر کے ساتھ ایمان لائے اس کی اچھی کے ساتھ بھی اور بری کے ساتھ بھی ۔ مجھے حدیث بیان کی ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے اچانک ہمارے سامنے ایک انتہائی سفید کپڑوں اور انتہائی سیاہ بالوں والا آدمی ظاہر ہوا۔ جس پر سفر کے آثار بھی نہیں تھے لیکن ہم میں سے کوئی آدمی اسے جانتا پہچانتا بھی نہیں تھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے سامنے دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا پانی دونوں ہتھیلیاں اپنی دونوں رانوں پر رکھ لیں پھر کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ اور اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں کے ساتھ اور آخرت کے دن کے ساتھ اور تقدیر کے ساتھ وہ اچھی ہو یا بری ہو اس آدمی نے کہا آپ نے سچ فرمایا ۔ پھر آگے حدیث حضرت عمر نے بیان فرمائی ۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریقے سے کھمس سے ۔ اور اس کو روایت کیا ہے یزید بن زریع نے کھمس سے اور اس نے حدیث میں یہ کہا ہے کہ تو ایمان لے ا اللہ کے ساتھ اور فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں کے ساتھ اور اچھی یا بری تقدیر کے ساتھ میٹھی ہو کا کڑوی ہو اور مرنے کے بعد جی کر اٹھنے کے ساتھ ۔ اس آدمی نے کہا آپ نے سچ کہا۔

افقنا عبد الله بن عمر و هو في المجسد فقلت يا أبا عبد الرحمن ← و حميد بن عبد الرحمن الحميري فلما قدمنا المدينة ← فانطلقنا حجاجا ← من القدر معبد الجهني ← كَانَ أَوَّلَ مَنْ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 180

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 181

181 - و أخبرناه محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا أبو المثنى ثنا محمد بن المنهال ثنا يزيد بن زريع ثنا كهمس فذكره و قد روينا عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذه القصة : تؤمن بالقدر كله و روينا في الإيمان بالقدر عن علي بن أبي طالب و عبد الله بن عمر و أنس بن مالك و عدي بن حاتم عن النبي صلى الله عليه و سلم

اور ہمیں اس کی خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ ہمیں خبر دی ہے المثنی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن منھال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یزید بن زریع نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے کھمس نے پھر اس کو ذکر کیا ہے ۔ اورتحقیق ہم نے روایت کی ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس قصہ میں یہ الفاظ ہیں وتو من با لقدر کلہ ، کہ تو پوری پوری تقدیر کے ساتھ ایمان لے آ۔ اور ہم نے ایمان بالقدر کے بارے میں علی بن ابی طالب سے اور عبداللہ بن عمر سے اور انس بن مالک سے اور عدی بن حاتم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← كهمس فذكره و قد روينا ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 181

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 182

182 - و قد أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا محمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا محمد بن كثير أنا سفيان عن أبي سنان عن وهب بن خالد الحمصي عن ابن الديلمي قال : أتيت أبي بن كعب فقلت له وقع في نفسي شيء من القدر فحدثني بشيء لعل الله جل ثناؤه أن يذهبه من قلبي فقال : لو أن الله جل ثناؤه عذب أهل سماواته و أهل أرضه عذبهم و هو غير ظالم لهم و لو رحمهم كانت رحمته خيرا لهم من أعمالهم و لو أنفقت مثل أحد ذهبا في سبيل الله ما تقبله الله منك حتى تؤمن بالقدر و تعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك و ما أخطأك لم يكن ليصيبك و لو مت على غير هذا لدخلت النار قال : ثم لقيت ابن مسعود فقال مثل ذلك ثم أتيت حذيفة بن اليمان فقال مثل ذلك ثم أتيت زيد بن ثابت فحدثني عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل ذلك و قد روينا عن عبادة بن الصامت و غيره في كيفية الإيمان بالقدر نحو ذلك و في ذلك بيان أن المراد بالحديث الأول أن كل مقدور فالله قادره و أن الخير و الشر و إن كانا ضدين فإن قادرهما واحد و ليس قادر الشر غير قادر الخير كما تقوله الثنوية فإذا ثبت أن الإيمان بالقدر شعبة من شعب الإيمان فقد دل الكتاب ثم السنة على أن الله تعالى علم في الأزل ما يكون من عباده من خير و شر ثم أمر القلم فجري في اللوح المحفوظ بما علم قال الله تعالى : { و كل شيء أحصيناه في إمام مبين } و قال : { ما أصاب من مصيبة في الأرض و لا في أنفسكم إلا في كتاب من قبل أن نبرأها } و قال : { كان ذلك في الكتاب مسطورا } وروينا عن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كان الله و لم يكن شيء غيره و كتب في الذكر كل شيء ثم خلق السموات و الأرض و روينا في هذا المعنى أحاديث كثيرة ثم إن الله جل ثناؤه خلق الخلق على ما علم منهم و على ما قدره عليهم قال الله تعالى : { إنا كل شيء خلقناه بقدر } أي بحسب ما قدرناه قبل أن نخلقه فجرى الخلق على علمه و كتابه و السبب في نزول هذه :

اور تحقیق خبر دی ہے ہمیں ابو علی حسین بن محمد روذباری نے کہ خبر دی ہے محمد بن بکر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو داؤد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن کثیر نے کہ خبر دی ہے سفیان نے ابو سنان سے اونہں نے وھب بن خالد حمصی ابن دیلمی سے اس نے کہا : کہ میں حضرت ابی بن کعب کے پاس آیا میں نے ان سے کہا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شک واقع ہو گیا ہے مجھے اس بارے میں کوئی حدیث سنائیں تانکہ اللہ تعالیٰ اس کو میرے دل سے دور کر دے انہوں نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے تمام اہل آسمان اور اہل زمین و عذاب میں مبتلا کر دے تو سب کو عذاب دے کر بھی وہ ظالم نہیں ہوگا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ تمام اہل آسمان و زمین پر رحم کر دے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے ان کے حق میں بہتر ہو گی ۔ اگر تو احد پہاڑ کے برابر سونا للہ کی راہ میں خرچ کر دے تو اللہ تعالیٰ تجھ سے اس کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک تو تقدیر کے ساتھ ایمان نہ لے آئے ۔ اور تو یقین کر لے کہ جو مصیبت تجھے پہنچے وہ تجھ سے ٹلنے والی نہیں تھی اور جو تجھ سے ٹل جائے وہ تجھے پہنچ نہیں سکتی تھی ۔ اگر تو اس عقیدے کے خلاف مر گیا تو ، تو جہنم میں جائے گا ابن دیلمی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے ملا اس نے اسی کی مثل حدیث بتائی ۔ پھر میں حضرت حذیفہ بن یمان کے پاس آیا اس نے بھی اسی کی مثل حدیث بیان کی، پھر میں زید بن ثابت کے پاس گیا اس نے بھی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اسی کی مثل حدیث بیان کی ۔ تحقیق ہم نے عبادہ بن صامت سے ور دیگر سے تقدیر کے ساتھ ایمان کی کیفیت کے بارے میں اسی کی مثل روایت کی ہے اور اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ پہلی حدیث سے مراد یہ ہے کہ ہر شئی اندازہ شدہ ہے یعنی ہر شئی کی تقدیر ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا اندازہ و تقدیر بنانے والا ہے اور یہ بات ہے کہ خیر اور شر اگرچہ دو مختلف چیزیں ہیں مگر ان کا تقدیر بنانے والا ایک ہے خیر کی تقدیر بنانے والا شر کی تقدیر بنانے والے سے الگ نہیں ہے جیسے ثنویہ کا عقیدہ ہے ۔ جب یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ تقدیر کے ساتھ ایمان لانا ایمان کے شعبہ جات میں سے ایک شعبہ ہے تو کتاب اللہ دلالت کرتی ہے ۔ پھر سنت بھی کہ اللہ تھا ازل میں جانتا تھا۔ ۔ جو کچھ خیر و شر اس کے بندوں سے ہوگا۔ پھر اس نے قلم کو حکم دیا وہ اللہ کے علم کے ساتھ لوح محفوظ میں چلا گیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : و کل شئی احصینہ فی امام مبین ) ( یس ۱۲) اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن یعنی ( لوح محفوظ ) میں لکھ دیا ہے ۔ اور ارشاد ہے ۔ ( مااصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا) ( الحدید ۲۲) کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں ( لکھی ہوئی ہے ۔ ) اور ارشاد باری ہے : ( و کان ذالک فی الکتاب مسطورا) ( بنی اسرائیل ۶۸) یہ کتاب ( یعنی تقدیر ) میں لکھا جا چکا ہے ۔یہ تمام آیات اور احادیث دلالت کرتی ہیں کہ ہر چیز اور ہر شر ہر مصیبت اور ہر راحت کے علاوہ بھی ہر شئی اللہ کے علم میں ہے اور اس نے اپنے علم کے مطابق ہر چیز کی تقدیر مقرر کر رکھی ہے ہر کام ہر امر اس کی تقدیر کے تابع اور مطابق ہوتا ہے اس کے خلاف کچھ بھی نہیں ہو سکتا اس لئے تقدیر کے ساتھ ایمان لانا لازم ہے اور ایمان کا شعبہ ہے اس کے بغیر ایمان نامکمل ہے ۔ ( مترجم ) ہم نے روایت کیا ہے عمران بن حصین سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا : ( کان اللہ ولم یکن شئی غیرہ و کتب فی الذکر کل شئی ثم خلق السموات و الارض ) اللہ تعالیٰ ازل میں تھا جب کہ کوئی شئی نہیں تھی اس کے سوا اور اللہ تعالیٰ نے ہر شئی کو لوح محفوظ میں لکھا پھر اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ اور ہم نے اس مفہوم کی بہت سی احادیث روایت کی ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا ۔ اس نہج پر جس پر اس کا علم تھا ان کے بارے میں اور اس اندازے پر جو کچھ کہ اس نے ان پر اندازہ قائم فرمایا تھا ۔ ارشاد باری ہے : ( انا کل سئی خلقنہ بقدر) ( القمر ۴۹) بے شک ہم نے ہر ہر چیز کو پیدا کیا ایک خاص اندازے کے ساتھ ۔ یعنی جو ہم نے انداز مقرر کیا تھا اس کی تخلق سے قبال اسی کے مطابق پیدا کیا لہذا تخلیق کا عمل جاری ہوا اس کے علم کے مطابق اور ا س کی تحریر کے مطابق ۔ ( اور آیت مذکورہ کا شان نزول آئے ملاحظہ فرمائیں ۔ )

أتيت أبي بن كعب فقلت له وقع في نفسي شيء من القدر ← ابن الديلمي ← وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ← أَبِي سِنَانٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، ← و قد

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 182

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 183

183 - ما أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر النحوي ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو نعيم ـ ح ـ و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا أبو المثنى قال ثنا محمد بن كثير قالا : ثنا سفيان عن زياد بن إسماعيل السهمي عن محمد بن عباد المخزومي عن أبي هريرة قال : كان مشركو قريش عند رسول الله صلى الله عليه و سلم يخالفونه في القدر فنزلت هذه الآية { إن المجرمين في ضلال وسعر * يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر * إنا كل شيء خلقناه بقدر } أخرجه مسلم في الصحيح من حديث سفيان

جو ہمیں خبر دی ہے ابو لحسین بن فضل قطان نے کہ خبر دی ہے عبداللہ بن جعفر نحوی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ یعقوب بن سفیان نے کہ ہمیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو نعیم نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ خبر دی ہے ابو المثنیٰ نے کہ انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن کثیر نے وہ دنوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے زیاد بن اسماعیل سہمی سے محمد بن عباد مخزومی سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے تقدیر کے بارے میں آپ کی مخالفت کر رہے تھے ۔ لہذا یہ آیت نازل ہوئی : ( ان المجرمین فی ضلل و سعر۔۔ یوم یسحبون فی النار علی و جوھم ذوقوامس سقر انا کل شئی خلقناہ بقدر ) ( ۲۴ تا ۲۹) بے شک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں ۔ اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں اب آگ کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کے پیدا کی ہے ۔ مذکورہ حدیث کو مسلم نے صحیح میں سفیان کی حدیث سے نقل کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← زياد بن إسماعيل السهمي ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← مَا

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 183

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 184

184 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا سفيان بن عيينة عن طاوس سمع أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : احتج آدم موسى فقال موسى : يا آدم أنت أبونا خيبتنا أخرجتنا من الجنة فقال له آدم : يا موسى ! اصطفاك الله بكلامه و خط لك التوراة أتلومني على أمر قدره الله تعالى علي قبل أن يخلقني قال فحج آدم موسى فحج آدم موسى أخرجه البخاري و مسلم في الصحيح من حديث سفيان بن عيينة و في هذا دليل على تقدم على الله عز و جل بما يكون من أفعال العباد و صدورها عن تقدير منه و أنه ليس لأحد من الأدميين أن يلوم أحدا على القدر المقدر الذي لا مدفع له إلا على جهة التحذير للوقوع في المعصية و لم يكن قول موسى بعد خروج آدم من دار الدنيا في وقت يكون للتحذير فيه معنى فصار بما عارضه به آدك محجوجا بقضية المصطفى صلى الله عليه و سلم والله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف نے اصبہانی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو سعید بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن محمد زعفرانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان بن عیینہ نے عمرو سے انہوں نے طاؤس سے کہ انہوں نے سنا ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام نے ( غالبا عالم بالا پر میں ) مناظر یا جھگڑا کیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا آدم آپ ہمارے باپ ہیں آپ نے ہمیں رسوا کر دیا ہے ۔ اور ہمیں جنت سے نکال دیا ہے ۔ ( یعنی اللہ کی نافرمانی کر کے ) آدم علیہ السلام نے ان سے کہا اے موسیٰ اللہ نے تجھے اپنی ہم کلامی کے لئے منتخب فرمایا اور تیرے لئے توراۃ لکھی کیا تو مجھے ایسے معاملہ پر ملامت کرتا ہے جس کی تقدیر و اندازہ اللہ نے میرے اوپر مجھے پیدا کرنے سے بھی پہلے مقرر کر دیا تھا۔ لہذا آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے دلیل و حجت میں غالب آ گئے۔ اس کو بخاری و مسلم نے اپنی صحیح میں سفیان بن عیینہ کی حدیث سے نقل کیا ہے ۔ تبصرہ : اس حدیث مذکورہ میں دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ کا علم بندوں کے افعال پر اور ان کے صدور ظہور پر مقدم ہے جو اللہ کی تقدیر سے صادر ہوتے ہیں اور ظاہر ہوتے ہیں اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں میں سے کسی کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی ایک کو بھی ایسے کام پر ملامت کرے جو مقررہ تقدیر پر ہ و جس کو کوئی روک نہیں سکتا ، مگر صرف گناہ میں وقوع سے بچنے کی جہت سے بطور تنبیہ کے جب کہ موسیٰ علیہ السلام کا قول ، آدم علیہ السلام کے دنیا سے خروج کے بعد کسی ایسے وقت میں نہیں تھا جس میں تحذیر و انتباہ کا اور گناہ سے بچنے کا کوئی مفہوم و مطلب ہو لہذا آدم علیہ السلام نے جو اس کا معارضہ کیا اس میں آدم علیہ السلام کی حجت اور دلیل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق ہو گئی ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← طَاوْسٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 184

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 185

185 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحق أنا الحسن بن محمد بن زياد ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو الأحوص عن منصور عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن السلمي عن علي رضي الله عنه قال : كنا في جنازة فلما انتهيا إلى بقيع الغرقد قعد رسول الله صلى الله عليه و سلم و قعدنا حوله فأخذ عودا فنكت به في الأرض ثم رفع رأسه فقال ما منكم من نفس منفوسة إلا و قد علم مكانها من الجنة و النار و شقية أم سعيدة قال : فقال رجل من القوم : يا رسول الله ! ألا ندع العمل و نتكل على كتابنا فمن كان منا من أهل السعادة صار إلى السعادة و من كان من أهل الشقوة صار إلى الشقاء ؟ قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اعملوا فكل ميسر فمن كان من أهل الشقوة ييسر لعملها ومن كان من أهل السعادة ييسر لعملها ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم { فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى * فسنيسره لليسرى * وأما من بخل واستغنى * وكذب بالحسنى * فسنيسره للعسرى } رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة و أخرجه من حديث جرير بن عبد الحميد عن منصور و من حديث الأعمش عن سعد

ہمیں خبر دی ے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ خبر دی ہے حسن بن محمد نے زیاد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الاحوض نے منصور سے انہوں نے سعد بن عبیدہ سے انہوں نے ابو عبدالرحمن سلمی سے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے کہا : ہم لوگ ایک جنازے میں شریک گھے جب ہم بقیع غرقد کے قبرستان پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم بیٹھ گئے ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے ۔ آپ نے ایک لکڑی لی اور اس کے ساتھ زمین پر ہلکی ہلکی ٹھوکریں لگانے لگے ۔ پھر آپ نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور فرمایا کہ کوئی سانس لینے والا تنفس نہیں ہے مگر اس کا ٹھکانہ جنت یا جہنم میں متعین ہو چکا ہے ۔ اور یہ بھی کہ وہ بد بخت ہے یا نیک بخت حضرت علی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سوال کیا یا رسول اللہ کیا ہم عمل چھوڑ کر اپنی قسمت کے لکھنے یعنی مقدر پر آسرا نہ کر لیں جو تم میں سے اہل سعادت سے ہوگا وہ سعادت کی طرف ہو جائے گا اور جو اہل شقاوت سے ہوگا وہ بد نصیبوں کی طرف ہو جائے گا حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تم لوگ عمل کر ہر ایک کے لئے عمل آسان ہوں گے ۔ جو اہل شقاوت سے اور بد نصیبوں میں سے ہوگا۔ اس کے لئے اس کے اعمال آسان ہوں گے اور اہل سعادت سے ہوگا اس کے لئے اس کے اعمال آسان کر دئیے جائیں گے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : ( فاما من اعطی و اتقی و صدق بالحسنی ، فسنیسرہ للیسری و اما من بخل و استغنی و کذب بالھسنی فسنیسرہ للعسری ) ( اللیل ۵تا ۱۰) بہر حال جس نے ( اللہ کی راہ میں ) دیا اور پرہیزگار رہا اور تصدیق کی نیک بات کی ۔ تو ہم آسان کر دیں گے اس کے لئے چلنا آسان راستہ پر اور جس نے بخل کیا اور بے پرواہ رہا اور جھٹلا دیا نیک بات ۔ سو ہم آسان کر دیں گے اس کے لئے چلنا تنگی کے راستے پر۔ اس کو امام مسلم نے ابو بکر بن شیبہ سے روایت کیا اور اس کو جریر بن عبدالحمید کی حدیث سے منصور سے اور امعش کی حدیث سے سعد سے نقل کیا ہے ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الحسن بن محمد بن زياد ← أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 185

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 186

186 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد آباذي ثنا أبو قلابة ثنا عثمان بن عمر أنا عرزة بن ثابت عن يحيى بن عقيل عن يحيى بن يعمر عن أبي الأسود الدئلي قال : قال عمران بن حصين : أرأيت ما يعمل الناس و يكدحون فيه أشيء قضي عليهم من قدر قد سبق ؟ أو فيما يستقبلون به مما أتاهم به نبيهم و ثبتت عليهم به الحجة ؟ قال لا بل شيء قضي عليهم قال : فهل يكون ذلك ظلما ؟ قال ففزعت من ذلك فزعا شديدا و قلت ليس شيئا إلا و هو خلق الله و ملكه لا يسأل عما يفعل و هم يسألون قال فقال لي برحمك الله ! إني و الله ما سألتك إلا لأحزر عقلك إن رجلين ـ أو قال رجل ـ من مزينة أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال أرأيت ما يعملون و يكدح الناس فيه اليوم و يعملون فيه أقضي شيء عليهم و مضى عليهم من قدر قد سبق أو فيما يستقبلون به مما أتاهم به نبيهم و اتخذت عليهم به الحجة ؟ قال : لا بل شيء قضى عليهم و مضى عليهم قال و فيما نعمل إذا ؟ قال : من كان خلقه الله لواحدة من المنزلتين فييسره لها و تصديق ذلك في كتاب الله عز و جل : { ونفس وما سواها * فألهمها فجورها وتقواها } رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم عن عثمان بن عمر وفي هذا و الذي قبله دلالة على أن العبد إنما ييسر لما خلق له و أن التيسير إنما هو بحق الملك و لا يسأل عما يفعل و هم يسألون و يشبه أن يكونوا إنما تعبدوا بهذا النوع من التعبد ليتعلق خوفهم بالباطن المغيب عنهم فلا يتكلوا على ما يظهر من أعمالهم و رجاءهم بالظاهر البادي لهم فيرجوا به حسن أحوالهم و الخوف و الرجاء مدرجا العبودية فيستكملوا بذلك صفة الإيمان و في مثل هذا المعنى حديث عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو طاہر بن حسن محمد آبادی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو قلابہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن عمر نے کہ خبر دی ہے عرزہ بن ثابت نے یحییٰ بن عقیل سے انہوں نے یحییٰ بن یعمر سے انہوں نے ابو الاسود ذئلی وہ کہتے ہیں مجھے عمران بن حصین نے کہا : آپ بتائیے کہ لوگ جو کام کرتے ہیں اور اس میں تکلیف اٹھاتے ہیں کیا یہ ایسی چیز ہوتی ہے جس کا ان کے اپور پہلے سے تقدیر کی طرف سے فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے ؟ یا اس کے ساتھ مستقبل کا انتظار کرتے ہیں اس قبیل سے کہ ان کے پاس ان کا نبی آتا ہے اور ان پر اس کے بارے میں حجت ثابت ہوتی ہے ؟ ابو الاسود وئلی نے کہا نہیں بلکہ یہ ایسی بات ہوتی ہے جس کا ان پر فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے پھر اس نے پوچھا کیا یہ ظلم ہے ؟ ابو الاسود نے کہا کہ میں اس سوال سے سخت گھبرا گیا اور میں نے کہا کوئی بھی شے نہیں ہے مگر ہر شے اللہ کی مخلوق ہے اور اسی کی ملکیت ہے ۔ اس سے کچھ بھی نہیں پوچھا جائے گا وہ جو کچھ بھی کرے اور لوگ جو کچھ کریں گے ان سے سوال ہوگا۔ اس نے مجھے کہا اللہ تجھ پر رحم فرمائے اللہ کی قسم میں تم سے اس لئے سوال کر رہا تھا تانکہ میں تیری عقل کا اندازہ کروں۔ بے شک دو آدمی یا کہا کہ ایک آدمی قبیلہ مزینہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں آیا اس نے عرض کیا آپ یہ بتائیں کہ لوگ جو عمل کرتے ہیں اور تکلیف اٹھاتے ہیں آج کیا یہ ان کے خلاف تقدیر کا فیصلہ کیا جا چکا ہوتا ہے اور پہلے سے ان کے خلاف تقدیر گزر چکی ہوتی ہے یا مستقبل میں جب ان کا نبی ان کے پاس جو خبر لاتا اس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ یہ ایسی بات ہوتی ہے جس کا ان کے اوپر فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے اور ان پر گزر چکا ہوتا ہے ۔ اس آدمی نے سوال کیا کہ پھر ہم کس چیز میں اس وقت عمل کریں ؟ (یعنی کیوں کریں ) فرمایا کہ جس کو للہ تعالیٰ نے دو مقاموں میں سے کسی ایک کے لئے پیدا کیا ہے اس کو اس کے لئے آسان کر دیتا ہے اور اس کی تصدیق کتاب اللہ میں ہے ۔ ( و نفس و ما سواھا فالھمھا فجورھا و تقواھا ) ( الشمس ۷-۸) قسم ہے انسان کی اور اس کی جس نے اس کے اعضاء کو درست کیا ۔ پھر اس کو بدکاری سے بچنے اور پرہیزگاری کرنے کی سمجھ دی ۔ اس حدیث کا امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے صحیح مسلم میں اسحٰق بن ابراہیم سے انہوں نے عثمان بن عمر سے روایت کیا ہے ۔ اس حدیث میں اور اس سے پہلی والی حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ بندہ جس مقام کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کے لئے وہی عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں اور یہ آسان کر دینے کا عمل اس بادشاہ کے حق کے ساتھ وابستہ ہے کہ وہ کچھ کرے اس سے پوچھ گوچھ نہیں ہو سکتی اور اگر جو کچھ کریں ان سے سوال ہوگا۔ لہذا لوگ اس نوعیت کی عبادت کریں کہ ان کے باطن میں اس ذات کا خوف ہو جو ان سے غائب ہے اور وہ اپنے ظاہری اعمال پر آسرا بھی نہ کریں اور نہ ہی اپنی ظاہری امید میں بھروسہ کریں جو انہوں نے وابستہ کی ہوتی ہے ۔ بلکہ اپنے حسن احوال سے امید کریں اور اللہ کی رحمت سے اور اس کے عذاب سے خوف کریں بعض امید وبہم کی کیفیت رکھیں اسی کے ساتھ ایمان کی صفت کی تکمیل کریں ۔ اور اسی معنی میں ہے حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔

أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← عرزة بن ثابت ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 186

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 187

187 - أخبرناه علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن منصور أنا أبو معاوية ثنا الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الله قال : حدثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو الصادق المصدوق : إن أحدكم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوما ثم يكون علقة مثل ذلك ثم يكون مضغة مثل ذلك ثم يبعث إليه الملك فينفخ فيه الروح ثم يؤمر بأربع : بكتب رزقه و عمله و أجله و شقي هو أم سعيد فو الذي لا إله غيره إن أحدكم ليعمل بعمل أهل النار حتى ما يكون بينه و بينها إلا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيختم له بعمل أهل الجنة فيدخلها و إن أحدكم ليعمل بعمل أهل الجنة حتى ما يكون بينه و بينها إلا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيختم له بعمل أهل النار فيدخلها رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة و غيره عن أبي معاوية و أخرجه البخاري من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں اس کی خبر دی ہے علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے بغداد میں کہ خبر دی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعدان بن منصور نے کہ خبر دی ہے ابو معاویہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اعمش نے زید بن وھب سے انہوں نے عبداللہ سے اس نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور وہ صادق اور مصدوق ہیں کہ تم میں سے ہر ایک ( اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ ) چالیس دن تک اپنی ماں کے پیٹ میں محفوظ رہتا ہے ( یعنی لفافہ ) اس کے بعد چالیس دن تک خون کی پھٹکی رہتا ہے ۔ اس کے بعد چالیس دن تک بوٹی رہتا ہے ۔ اس کے بعد اس کے پاس فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو کہ اس میں روح پھونکتا ہے ۔ اس کے بعد چار چیزوں کا اس پر فیصلہ کر دیا جاتا ہے ۔ اس کا رزق، اس کا عمل، اس کی موت اور یہ کہ وہ بد نصیب ہے یا خوش نصیب یہ سب لکھ دیا جاتا ہے ۔پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے ایک انسان ( بعض دفعہ ) اہل جہنم والے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے مگر اس پر تقدر کا لکھا سبقت کر جاتا ہے لہذا اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر کر دیا جاتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے ( اور بسا اوقات ) ایک تمہارا اہل جنت کے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے مگر اس کی تقدیر کا لکھا اس پر سبقت کر جاتا ہے لہذا اس کا خاتمہ اہل جہنم کے عمل کے ساتھ کر دیا جاتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں ابو بکر بن شیبہ وغیرہ سے ابو معاسیہ سے روایت کیا ہے اور بخاری نے دوسرے طریقے سے اعمش سے روایت کیا ہے ۔

الْاَعْمَشِ ← أبي معاوية و أخرجه البخاري من وجه آخر ← أبي بكر بن أبي شيبة و غيره ← عَبْدُ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 187

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 188

188 - حدثنا الشيخ أبي بكر بن فورك ثنا أبو بكر بن فورك ثنا عبد الله بن جعفر بن أحمد الأصبهاني قال حدثني أبي ثنا عمرو بن علي أبو حفص ثنا أبو عبد الله الأسفاطي قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم في المنام فقلت : يا رسول الله بلغنا عنك حديث الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الله بن مسعود في القدر فقال نعم أنا قلته رحم الله الأعمش ! رحم الله زيد بن وهب ! و رحم الله عبد الله بن مسعود ! و رحم الله من حدث بهذا الحديث

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن فورک نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن جعفر بن احمد اصبہانی نے کہ انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے باپ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عمرو بن علی ابو حفص نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ اسفاطی نے انہوں نے کہا : میں نے نبی علیہ السلام کو خواب میں دیکھا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ہمارے پاس آپ سے حدیث اعمش پہنچی ہے زید بن وھب سے عبداللہ بن مسعود سے تقدیر کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا جی ہاں میں نے وہ کہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اعمش پر رحم فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ زید بن وھب کو رحم کرے اور اللہ تعالیٰ عبداللہ بن مسعود پر رحم کرے اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے پر رحم کرے جس نے یہ حدیث بیان کی ہے ۔

رأيت النبي صلى الله عليه و سلم في المنام فقلت ← أبو عبد الله الأسفاطي ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ ← أَبِي ← عبد الله بن جعفر بن أحمد الأصبهاني ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ ← الشيخ أبي بكر بن فورك

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 188

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 189

189 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن يعقوب المتوثي بالبصرة إملاء ثنا أبو داود هو السجستاني ثنا محمد بن يزيد الأعور قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في المنام جالسا مع عمر بن الخطاب و علي بن أبي طالب فقلت يا رسول الله حديث عبد الله بن مسعود حديث الصادق المصدوق أريد حديث القدر قال أنا و الله الذي لا إله إلا هو حدثته به ـ فأعادها ثلاثا غفر الله للأعمش ـ كما حدث به غفر الله لمن حدث به قبل الأعمش و غفر الله لمن حدث به بعد الأعمش قال البيهقي رحمه الله و في الحديث دلالة على أن الاعتبار بما يختم عليه عمله و إنه إنما يختم بما سبق كتابه و في ذلك كله دلالة على أن الله سبحانه و تعالى يهدي من يشاء و يضل من يشاء و إن أعمال عباده مخلوقة له مكتسبة للعباد و مما دل عليه قوله عز و جل : { و الله خلقكم و ما تعملون } و ما يعمله ابن آدم ليس هو الصنم و إنما هو حركاته و اكتساباته و قد حكم بأنه خلقنا و خلق ما نعمله و هو حركاتنا و اكتساباتنا و قال : { الله خالق كل شيء } و قال : { خلق السموات و الأرض و ما بينهما } و أفعال الخلق بينهما و لا يتناول ذلك شيئا من صفات ذاته لأن صفات ذاته ليست بأغيار له فلا يتناولها كما لا يتناول ذاته و قال : { هل من خالق غير الله } كما قال : { من إله غير الله } فكما لا إله إلا هو كذلك لا خالق إلا هو و قال : { فمن يرد الله أن يهديه يشرح صدره للإسلام ومن يرد أن يضله يجعل صدره ضيقا حرجا كأنما يصعد في السماء كذلك يجعل الله الرجس على الذين لا يؤمنون } و هذه الآية كما هي حجة في الهداية و الإضلال فهي حجة في خلق الهداية و الضلال لأنه قال : يشرح و يجعل و ذلك يوجب الفعل و الخلق و الآيات في هذا المعنى كثيرة و روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : اعملوا فكل ميسر لما خلق له و عن حذيفة بن اليمان عن النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله خالق كل صانع و صنعته

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے کہ خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن احمد بن یعقوب متوثی نے بصرہ میں بطور املاء کے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو داؤد سجستانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یزید اعور نے اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو خواب میں دیکھا بیٹھے ہوئے حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ اور علی بن ابی طالب کے ساتھ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم عبداللہ بن مسعود کی حدیث کیا صادق و مصدوق کی حدیث ہے ؟ میں ارادہ کر رہا تھا تقدیر والی حدیث کا حضور نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ابن مسعود کو وہ حدیث میں نے بیان کی تھی آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ان الفاظ کا تین بار اعادہ فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ اعمش کی مغفرت فرمائے ۔ جیسے اس نے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کرے جس نے وہ حدیث اعمش سے پہلے بیان کی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ا س شخص کی بھی مغفرت کرے جس نے اعمش کے بعد یہ حدیث بیان کی ہے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ اس حالت کا اعبار ہوتا ہے جس پر انسان کے عمل کا خاتمہ ہوتا ہے ساتھ ساتھ اس کا کہ اس کا لکھا کس چیز کی طرف سبقت کرتا ہے اور اس سب کچھ میں اس بات پر بھی دلالت ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے ۔ اور اس کے بندوں کے اعمال اسی کے پیدا شدہ ہیں اور اسی کی مخلوق ہیں اور بندوں کے وہ کسب کردہ ہیں اور اس بات کی دلیل ہے کہ بندوں کے اعمال اللہ کی مخلوق ہیں ۔ یہ آیت ہے ( و اللہ خلقکم و ما تعملون ) ( الصافات ۹۶) اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اس کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے جو کچھ تم عمل کرتے ہو۔ ابن آدم جو کچھ عمل کرتا ہے وہ ضم نہیں سوائے اس کے نہیں کہ وہ اس کی حرکات ہیں اور اس کے فعل اور کسب میں یعنی بندہ ان افعال کا سبب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حکم فرما دیا ہے کہ اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور جو کچھ ہم عمل کرتے ہیں اس کو بھی پیدا کیا ہے ہمارا کام یہ ہے کہ وہ ہماری حرکات ہیں اور ہمارے اکتسابات ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( اللہ خالق کل شیئ ) ( الزمر ۶۲) اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے ۔ اعمال بھی شے ہیں لہذا اللہ تعالیٰ اس کا بھی خالق ہے ۔ ( مترجم ) دوسری جگہ ارشاد ہے : ( خلق السموات و الارض و ما بینھما ) ( السجدہ ۴ وغیرہ ) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے پیدا فرمایا ہے ۔ بندو کی طرح ان کے اعمال بھی ارض و سماء کے مابین ہیں لہذا ثابت ہوا کہ ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی صفات ذات میں سے کسی شے کو شامل نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ذات اس کے غیر نہیں ہیں لہذا آیت ان کو شامل نہیں ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات کو شامل نہیں ہے ۔ اور ارشاد ہے : ( ھل من خالق غیر اللہ ) ( فاطر ۳) کیا اللہ کے سوا اور کوئی خالق ہے ۔ اور جیسے یہ ارشاد ہے : ( من الہ غیر اللہ ) ( قصص ۷۱-۷۲) کون ہے معبود اللہ کے سوا ۔ جیسے اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ایسے ہی اس کے سوا کوئی خالق بھی نہیں ہے ۔ اور ارشاد ہے : ( فمن یرداللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام ، و من یردان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا کانما یصعد فی السمآء کذالک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یؤمنون ) ( انعام ۱۲۵) تو جس شخص کو اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ تو اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے ۔ گویا وہ آسمان پر چڑھ رہ ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لائے عذاب بھیجتا ہے ۔ یہ مذکورہ آیت جس طرح ہدایت اور ضلالت کے بارے میں حجت ہے ایسی ہی ہدایت اور ضلالت کی تخلیق کے بارے میں بھی حجت ہے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یشرح سینہ کھولتا ہے ۔ یجعل بناتا ہے پیدا کرتا ہے ، یہ الفاظ فعل کو اور خلق کو بھی پیدا کرنے کو لازم کرتے ہیں ۔ اور اس کے علاوہ اس مفہوم میں آیات قرآنیہ کثیر ہیں ۔ اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( اعملوا فکل میسر لما خلق لہ ) عمل کرو ہر انسان کے لئے وہ اعمال آسان کر دیئے جاتے ہیں جن کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ اور حذیفہ بن یمان کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( ان اللہ خالق کل صانع و صنعتہ ) اللہ تعالیٰ ہر صانع کا خالق ہے اور اس کی صنعت کا بھی ۔

مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَعْوَرُ، ← أبو داود هو السجستاني ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن يعقوب المتوثي بالبصرة إملاء ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 189

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 190

190 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف أنا أبو سهل الاسفراييني أنا أبو جعفر الحذاء ثنا علي بن المديني ثنا مروان بن معاوية الفزاري ثنا أبو مالك عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله خلق كل صانع و صنعته و روينا عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : الخير و الشر خليقتان ينصبان للناس يوم القيامة و روينا في هذا الباب بين أحاديث كثيرة و هي في كتاب القدر مذكورة من أراد الوقوف عليها رجع إليها إن شاء الله تعالى قال أصحابنا و لأن الإنسان لو صح أن يحدث شيئا فيما يصح أن يحدث لم يكن بعض ما يصح أن يحدث بأن يكون محدثه بأولى من بعض كما أن الله سبحانه و تعالى لما صح أن يحدث لم يكن بعض ما يصح أن يحدث بأن يصح منه احداثه بأولى من بعض و لأن الإنسان محدث و المحدث لا يصح أن يحدث كما أن الحركة لا يصح أن تتحرك و لأن هذه الحوادث التي هي تقع على وجوه لا يقصدها ككون الكفر قبيحا من الكافر غير واقع على قصده لأن الكافر يقصد أن يقع كفره حسنا غير قبيح و لا يقع إلا قبيحا فدل أن قاصدا قصد إيقاعه قبيحا لأن يستحيل أن يقع كذلك من غير فاعل فعله على ما هو به و كذلك الإيمان يقع متعبا مؤلما و لو قصد المؤمن أن يقع على خلاف هذا الوجه لم يتأت منه ذلك دل أنه وقع كذلك لقصد موقع أوقعه كذلك غير الذي لو جهد لخلافه أن يقع لم يقع و لأنا نجد الإنسان غير عالم بحقائق أفعاله كلها و كمياتها و عدد أجزائها و لا يجوز أن يكون مخترعا لها و هو لا يحيط بها علما إذ لو ساغ ذلك لم ينكر أن يكون سائر المخترعين كذلك و أن يكون كذلك حكمة الباري في اختراعه و لا يدخل عليه الكسب لأن الكسب هو اختراع عالم بحقائقه من جميع وجوهه جعله كسبا لنا و نحن مكتسبون له غير مخترعين له و الذي يؤكد هذه الطريقة قوله عز و جل : { وأسروا قولكم أو اجهروا به إنه عليم بذات الصدور * ألا يعلم من خلق وهو اللطيف الخبير } و ظاهر هذا إنه خلق الإسرار و الجهر اللذين يكتسبان بالقلب و أنه عليم بهما و كيف لا يعلم و هو خلقهما ؟ فدل أن الخلق يقتضي علم الخالق بالخلق من كل الوجوه و لأن الدلالة قد قامت أن كل مقدور فالله قادر عليه لقيام الدلالة على أن القدرة من صفات ذاته كالعلم فوجب أن يقدر كل مقدور كما يعلم كل معلوم و إذا كان كذلك فوجب أن يكون إذا وجد و هو مقدور أن يكون مرادا له أن يكون فعله كما إذا وجد مقدور الإنسان مرادا له لم يكن فعله ؟ فإن قيل إذا كان الله خالقا لكسب العباد أفيقولون إن الفعل وقع من فاعلين ؟ قيل لا فاعل في الحقيقة إلا الله عز و جل كما أنه لا خالق إلا هو و الإنسان مكتسب على الحقيقة غير فاعل و لا محدث العين عن العدم و كان الشيخ أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان يقول : فعل القادر القديم خلق و فعل القادر المحدث كسب فتعالى القديم عن الكسب و جل و صغر المحدث عن الخلق و ذل و قال فإن قيل : أفتقولون هو مقدور لقادرين ؟ قيل : نعم أحدهما بخلقه و يخترعه و يخرجه عن العدم و هو الله سبحانه و تعالى و الثاني يكتسبه و لا يخلقه و هو العبد و الخلق ما تعلقت به قدرة أزلية حادثة و الكسب ما تعلقت به قدرة حادثة فالقدر الأزلية تؤثر في الاختراع و القدرة الحادثة تؤثر في الاكتساب فإن قالوا : فإذا كان الله تعالى خلق أعماله كلها أعمالا له فكيف يثيبه و يعاقبه و قيل ليس الثواب من الله عز و جل إلا بتفضل عليه و أما العقاب فهو لو ابتلاه في العذاب كان له أن يفعله لأن ملكه و في قبضته و ليس الكفر علة العقاب و لا الإيمان علة الثواب إنما هما اماراتان جعلتا علمين لهما فقيل : إن كنت كافرا عذبت في الآخرة و إن كنت مؤمنا عوفيت و أثبت و جميع ذلك من الثواب و العقاب و الكفر و الإيمان خلقه و اختراعه لا لعلة يفعل ما يشاء فإن قيل فإذا عاقبه ما خلقه له كان ظالما له قيل : لم قلت ذلك ؟ و ما ينكر أن حقيقة الظلم هو تعدي الحد و الرسم الذي يرسمه الآمر الذي لا آمر فوقه و إن يكون للظلم منه معنى إذ أفعاله كلها تقع على غير وجه التعدي و التحكم فيما لا يملك فلا يستحق اسم الظالم و لو ساغ ما قلته لم ينفصل ممن قال إذ أمكنه من الكفر و علمه أن لا يأتي إلا بالكفر لم يصح أن يعاقبه لأن يكون ظالما له حينئذ و ما الفصل ؟ و كذلك إذا خلق له الآلات و الحياة و القدرة و الشهوة للمعاصي و علم أنه لا يفعل بها إلا كفرا به عرضه للهلاك و العطب فيكون له ظالما و وجب أن يكون في إيلام الأطفال و المجانين و البهائم ظالما و لا معنى لتقدير العوض فيه فإن العوض لا يحسن به القبيح في الشاهد إلا بمرضاه فإذا كان جميع ذلك منه غير منسوب إلى الظلم لأنه المالك على الحقيقة و هو فيما يفعله في ملكه غير متعد ذلك ما قلنا لا فصل بينهما فإن قيل : من خلق الكفر كان كافرا و من خلق الظلم كان ظالما قيل له ما ينكر على من يقول من خلق النوم كان نائما و من خلق الخوف كان خائفا و من خلق المرض كان مريضا و من خلق الموت كان ميتا ؟ فإذا لم يلزم ذلك في هذه الأشياء لم يلزم في الكفر و الظلم فإن قيل أفتقولون إن الله تعالى يشاء الكفر و الظلم ؟ قيل له إن أردت بقولك يشاء الكفر نفي الغلبة و العجز و الإكراه على ما يشاء فنعم يشاء أن يكون ما يريد و جواب آخر و هو أن يشاء أن يكون موجودا لما لم يزل عالما بأن يكون موجودا فلا يكون خلاف ما علم و الكفر مما لم يزل كان عالما به أن يكون موجودا ألا تراه يقول : { يريد الله أن لا يجعل لهم حظا في الآخرة } و فيه جواب آخر و هو أنه شاء أن يكون الكفر من الكافر خلاف الإيمان و من المؤمن ألا ترى أن موسى و هارون سألا إضلال فرعون و قومه و السد على قلوبهم فلا يؤمنوا فقال الله تعالى : { قد أجيبت دعوتكما فاستقيما } فشاء إضلالهم و السد على قلوبهم فلا يؤمنوا لما أجاب دعوتهما و فيه جواب آخر : يشاء أن يكون الكفر قبيحا ضلالا عمى خسارا لا نورا و هدى و حقا و بيانا و إن أردت تقول : يشاء الكفر أي يأمر به فلا تقول ذلك فإن قيل : الحكيم من يريد أن يشتم و يذكر بسوء ؟ قيل الحكيم من يجري الشتم على لسان النائم و المبرسم و لا فعل لهما الحكيم من يخلق عبدا يعلم إنه لا يزال يشتمه و يجحده ثم يحدث له كل ساعة قوة جديدة و قيل : من كان الشتم ينقصه فليس بحكيم و من لم ينقصه فحكيم لأنه يشاء ما لم يكن و لأن من يريد أن يكون شتم الشاتم له خلاف مدح المادح له فحكيم و من أراد أن يكون شتم الشاتم له معصية من الكافر لا طاعة فحكيم لأن من يريد الشيء على ما لا يكون خلافه فحكيم و من أراد أن يكون الشتم موجودا في الوقت الذي لم يزل به عالما أنه يكون فيه موجودا فحكيم لأنه أراد الشيء في الوقت الذي كان يكون فيه و من أراد أن لا يكون مغلوبا مقهورا مكروها على كون ما لا يريد فحكيم و الكلام في هذا يطول فإن قيل ما تقولون في استطاعة العبد ؟ قيل : نقول هي قدرته و هي مع فعل العبد و هي توفيق من الله تعالى للطاعة و خذلان منه في المعصية قال الله عز و جل : { فضلوا فلا يستطيعون سبيلا } و قد كانوا لسبيل الباطل مستطيعين فدل على أنه نفي عنهم استطاعة الحق لأنهم لم يكونوا فاعلين له و قال مخبرا عن صاحب موسى عليه السلام أنه قال : { إنك لن تستطيع معي صبرا } فنفى عنه استطاعة الصبر حين أراد أن ينفي عنه الصبر و قال النبي صلى الله عليه و سلم : كل ميسر لما خلق له فدل أنه في حال كسبه ميسر و تيسيره قدرته و لأن المسلمين يقولون إنه لا يستطيع الخير إلا بالله و هو قبل كونه ليس بخير فدل على أنه استطاعتهم تكون معه و لأن الاستطاعة سبب للفعل يوجد بوجودها و يعدم بعدمها فجرت مع الكسب مجرى العلة مع المعلول ولا يصح تقدم العلة على المعلول فلا يصح تقدم الاستطاعة على الكسب

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن ابی المعروف نے کہ خبر دی ہے ابو سہل اسفرائنی نے کہ خبر دی ہے ابو جعفر حذاء نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن مدینی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مروان بن معاویہ فزاری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو مالک نے ربعی بن حراش سے انہوں نے حضرت حذیفہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر صانع کا اور اس کی صنعت کا خالق ہے اور ہم نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ؛ کہ خیر اور شر دونوں مخلوق ہیں یا دونوں صفتیں ہیں لوگوں کے لئے قائم کی جائیں گی قیامت کے دن ہم نے اس بات میں بہت سی احادیث روایت کی ہیں اور وہ کتاب القدر میں مذکور ہیں ۔ جو شخص ان پر مطلع ہونا چاہیے وہاں رجوع کرے ۔ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اگرچہ انسان کا کسی چیز کو از سرے نو بنانا اور وجود میں لانا درست ہے جس چیز کو وجود لانا اس کے اختیار میں ہوتا ہم بعض وہ چیز جن کو از سر نو بنا سکتا ہے ان میں سے بعض کو بنانا درست نہیں ہو گا وہ سی طرح کہ اس شئی کا از سر نو بنانے والا بعض سے زیادہ بہتر ہو جیسے اللہ تعالیٰ اس چیز کے لئے جس کا از سرے نو بنانا درست ہے جس چیز کا از سرے نو بنانا درست ہے اس کا بعض نہیں ہوگا بایں صورت کہ اس سے اس کا از سر نو بنانا بعض سے بہتر ہو ۔ اور ( اللہ بندے کے افعال کا مالک ہے صانع کا عقلا بھی خالق ہے اور اس کی صنعت کا بھی ) اس لئے کہ انسان خود از سر نو پیدا شدہ ہے اور نو پیدا کے لئے صحیح نہیں ہے کہ وہ کسی شئی کو از سرے نو پیدا کرے جیسے کہ حرکت صحیح نہیں ہے کہ وہ حرکت کرے ۔ اور اس لئے ( بھی اللہ تعالیٰ ہر صانع کا اور اس کی صنعت عقلا کا خالق ہے ) کہ یہ نو پیدا اشیاء اور امور یا حوادث جو ایسے وجوہ پر واقع ہوتے ہیں جن کا قصد اور ارادہ نہیں کیا جاتا ۔ یا جو مقصود نہیں ہوتے جیسے کفر کا قبیح ہونا کافر سے اس کے قصد کے بغیر ہے کیونکہ کافر چاہتا ہے کہ اس کا کفر حسن واقع ہو نہ کہ قبیح مکرواہ قبیح ہی واقع ہوتا ہے ۔ یہ امر دلالت کرتا ہے کہ کوئی ایسا قصد کرنے والا ہے جس نے اس کے قبیح واقع کرنے کا قصد کیا ہے اس لئے کہ یہ محال ہے کہ وہ ایسے ہی بغیر فاعل کے اور بغیر کسی کرنے والے کے ہو اس کیفیت پر جس پر وہ ہے ۔ اسی طرح ایمان واقع ہوتا ہے اتباع کیا ہو ا درد دینے والا اگر ایمان لانے والا قصد کرے یہ کہ واقع ہو ہر خلاف اس صور ت کے اس سے یہ نہیں آتا ۔ یہ امر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایسے واقع ہوا ہے کہ کسی واقع کرنے والے کے قصد و ارادے سے جس نے اس کو واقع کیا ہے اس طرح ۔ بخلاف اس کے کہ اگر کوشش کرتا اس کے خلاف کے لئے یہ کہ واقع ہو تو واقع نہ ہوتا ( اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ) کہ ہم انسان کو ایسا پاتے ہیں کہ وہ افعال کے حقائق اور ن کی کمیات ان کے اجزا کی تعداد کا علم نہیں رکھتا اور یہ بات درست اور جائز نہیں ہے کہ وہ افعال کا خالق و موجد ہو۔ جب کہ وہ ان کے بارے میں احاطہ کرنے والا پور اپورا علم بھی نہ رکھتا ہو۔ کیونکہ اگر یہ جائز ہو تو ا س بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سارے ایجاد کرنے والے ایسے ہی بے علم و بے خبر ہوں ( حقائق افعال سے ) اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ کی حکمت ہی اپنی ایجاد میں ایسی ہی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی ایجاد پر کسب داخل نہیں ہوتا اس لئے کہ کسب حقائق کے عالم کی اختراع ہے ۔ کہ اس کے جمیع وجوہ کے ساتھ اس کو ہمارے لئے کسب بنا دے اور ہم اس کے کسب کرنے والے ہوں گے ایجاد کرنے والے نہیں ہوں گے ۔ چنانچہ وہ دلیل جو اس طریقہ کو پکا کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ( و اسرو اوقولکم اوجھروا بہ انہ علیم بذات الصدور الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر ) ( الملک ۱۳) تم لوگ بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے ۔ بھلا جس نے پیدا کیا ے کیا وہ بے خبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے اگاہ ہے ۔ اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ اور ظاہر کو پیدا کیا ہے جو ( درحقیقت ) دل کا کسب اور فعل ہیں اور وہ دونوں کا علم رکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو کیسے نہ جانے حالانکہ اس نے ہی دونوں کو پیدا کیا ہے تو آیت دلالت کرتی ہے کہ مخلوق ہونا اس بات کو مقتضی ہے کہ اس کا خالق اپنی تخلیق کے تمام پہلوؤں کا علم رکھتا ہو۔ ( اللہ تعالیٰ ہر صانع کا اور اس کی صنعت کا خالق اس لئے بھی ہے کہ ) اس امر پر دلیل قائم ہو چکی ہے کہ ہر شے مقدور ہے اور وہ اس پر قادر ہے اس لئے کہ اس بات پر دلیل قائم ہو چکی ہے کہ قدرت اللہ کی صفات ذاتیہ میں سے ہے جیسے علم تو واجب ہے کہ وہ ہر مقدور شئی پر قادر ہو جیسے وہ ہر معلوم کو جانتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے تو واجب ہے کہ جو بات اللہ کی قدرت میں ہے وہ اس کی مراد ہو اور جو چیز مراد ہو وہ اس کا فعل بھی ہو ۔ جیسے کہ جو چیز انسان کی قدرت میں ہے اس کی مراد بھی ہے لیکن وہ اس کا فعل نہیں ہے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے کسب کا بھی خالق ہے تو یہ بات تسلیم کریں گے کہ یہ فعل دو فاعلوں سے صادر ہوا ہے یا اس کے دو فاعل ہیں ۔ تو جواب یہ دیا جائے گا کہ فاعل حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہے جیسے خالق صرف وہی ہے ۔ اور انسان فی الحقیقت کسب کرنے والا ہے عین اور ذات فعل کو عدم سے پیدا کرنے والا نہیں ہے ۔ شیخ ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان فرماتے تھے کہ ایسے قادر کا فعل جو قدیم ہو خلق اور مخلوق ہوتا ہے ۔ اور ایسے قادر کا فعل جو قدیم نہ ہو بلکہ پیدا شدہ ہو محدث ہو ہ کسب ہوتا ہے لہذا قدیم ذات کسب سے وراء ہے ۔ پیدا شدہ یعنی مخلوق پیدا کرنے سے عاجز ہے اور ذلیل ہے اور بے بس ہے ۔ اعتراض دوئم اور شیخ نے فرمایا کہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ بندے کا کسب دو قدرت رکھنے والے اور دو قادروں کی قدرت میں ہے اور وہ دو قادروں کا مقدر ہے ۔ تو جواب دیا جائے گا کہ جی ہاں ایسے ہی ہے مگر ایک قادر ہے اپنی تخلیق کے اعتبار سے جو اس کو اختراع کرتا ہے اور ایجاد کرتا ہے اور اس کو عدم سے وجود کی طرف نکالتا ہے وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہے ۔ اور دسرا اس کو کسب کرتا ہے اور پیدا نہیں کرتا وہ بندہ ہے اور پیدا کرنا وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ ازلی والی قدرت پیدا کرنے والی قدرت تعلق قائم کرتی ہے اور کسب وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ قدرۃ حادثہ ازسر نو تعلق پکڑتی ہے تو قرت ازلیہ موثر ہوتی ہے ایجاد و اختراع میں اور قدرت حادثہ موثر ہوتی ہے اکتساب میں ۔ اعتراض سوم : اگر لوگ یہ اعتراض کریں کہ جب اللہ تعالیٰ نے بندے کے تمام افعال کو پیدا کیا ہے تو وہ اسی کے اعمال ہوئے لہذا اللہ تعالیٰ اس پر بندے کو کیونکر ثواب دے گا اور کیونکر عذاب دے گا۔ تو جواب یہ دیا جائے گا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے ثواب تو محض اس پر اللہ کی مہربانی اور عنایت سے ہے ۔ بہر حال رہا عذاب تو وہ اگر اس کو عذاب میں مبتلا کرے تو اس کا اس کو حق ہے اور اختیار بھی ہے کہ وہ ایسا کرے کیونکہ بندہ اس کی ملکیت ہے اور اس کے قبضہ میں ہے ۔ ورنہ نہ تو کفر عذاب کی علت اور سبب ہے اور نہ ہی ایمان ثواب کی علت ہے کفر و ایمان دو علامتیں ہیں ، جو عذاب و ثواب کے لئے بطور نام و پہچان مقرر ہیں ۔ کہا جائے گا کہ اگر آپ کافر ہیں تو آخرت میں آپ کو عذاب ہوگا اور اگر آپ مومن ہیں تو آپ کو عافیت اور ثواب دیا جائے گا ۔ جب کہ یہ سب کچھ ثواب ہو یا عذاب ۔ کفر ہو یا ایمان اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور اسی کی ایجاد ہے یہ کسی علت و سبب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ وہ قادر مطلق خالق کل ہے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔ اعتراض چہارم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ اس بندے کو عذاب دے گا جس کو اس نے خود پیدا کیا ہے ؟ تو وہ اس پر ظلم کرنے والا ہوگا۔ جواب دیا جائے گا کہ آپ نے یہ کیسے کہہ دیا؟ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ظلم کی حقیقت حد سے تجاوز کرنا اور حد سے بڑھ جانا ہے ۔ اور اس نشان سے اگے بڑھ جانا ہے جو نشان ایسا حکم کرنے والی ذات لگا دے جس سے اوپر کوئی حکم کرنے والا نہیں ۔ لہذا ایسی ذات سے ظلم سرزد ہونے کا کوئی معنی و مطلب نہیں ہے اس لئے کہ اس کے تمام کام فائدہ ہیں فائدہ میں بغیر کسی تعدی اور تحکم کے ، ایسی چیز میں جو اس کی ملکیت میں نہ ہو۔ لہذا اس کی ذات عالی صفات کے لئے ظالم کا اطلاق کسی طرح بھی درست نہیں ہے اور وہ اعتراض جو آپ نے کیا ہے اگر درست ہو تو اس قول میں اور اس شخص کے قول میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ جو کہ کہتا ہے کہ جب اس نے بندے کو کفر کی قدرت دی ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کفر ہی کرے گا تو اللہ کا اس بندے کو سزا دینا اور عذاب دینا صحیح نہیں ہوگا کیونکہ اس طرح تو اللہ تعالیٰ ( نعوذ باللہ ) ظالم ٹھہرے گا۔ اور اسی طرح ہے یہ صورت بھی کہ جب اللہ تعالیٰ بندے کے لئے گناہ کرنے کے حالات پیدا کرے اور زندگی دے قدرت دے اور گناہوں کی شہوت پیدا کرے یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کے ہوتے ہوئے ان کے ساتھ کفر کرے گا ( اور گناہ کرے گا ) تو گویا کہ اس نے اس طرح کر کے اس انسان کو خود ہلاکت اور تباہی میں واقع کر دیا لہذا اس طرح تو وہ ظالم ٹھہرے گا۔ اسی طرح وہ معصوم بچوں کو اور دیوانوں کو اور چارپایوں کو تکلیف پہنچا کر بھی ظالم ٹھہرے گا اور اس تکلیف کے عوض اجر مقرر کرنے کا بھی کوئی مطلب نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ کسی غلط اور قبیح فعل پر اجر بھی درست نہیں مگر اسی کی رضا کے ساتھ ۔ تو حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ وہ ایک مالک حقیقی ہے وہ اپنے ملک میں جو بھی تصرف کرے وہ حد سے تجاوز کرنے والا نہیں ہوگا۔ یہ ہے ہمارا جواب مگر معترض کے اعتراض اور سابقہ مذکورہ قول کے قائل میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ اعتراض پنجم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جو کفر کو تخلیق کرے وہ کافر کافر تھا اور جس نے ظلم کو تخلیق کیا وہ ظالم ہوتا ہے تو اسے جواب دیا جائے گا کہ اگر یہ مفروضہ کو درست مان لیا جائے تو پھر اس شخص کے قول کا بھی انکار نہیں کیا جا سکے گا جو یہ کہے کہ جس نے نیند کو پیدا کیا وہ خود نیند کرنے والا تھا اور جس نے خوف کو پیدا کیا وہ خوف زدہ تھا اور جس نے بیماری کو پیدا کیا وہ خود بیمار تھا اور جس نے موت کو پیدا کیا خود بھی میت تھا ۔ جب کہ یہی بات ہے کہ یہ سب کچھ ان اشیاء میں لازم نہیں آتا تو جب ان امور میں مذکورہ بالا منطقی تسلسل لازم نہیں آتا تو کفر ۔ اور ظلم میں بھی لازم نہیں آتا ؟ اعتراض ششم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تم لوگ کیا کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کفر کو اور ظلم کو بھی چاہتا ہے ؟ تو اسے یہ جواب دیا جائے گا کہ اگر چاہنے سے آپ کی مراد ہے غلبہ کی نفی ۔ اور عجز کی نفی اور جبرو اکراہ کی نفی اس پر جو کچھ وہ چاہے تو ہاں وہ چاہتا ہے کہ وہ جو کچھ ارادہ کرے وہ ہو جائے ۔ ہاں اعتراض کا ایک دوسرا جواب بھی ہے وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ چیز موجود ہو جائے جس کے موجود ہونے کو وہ ازل سے جانتا ہے تانکہ اس کے علم کے خلاف نہ ہونے پائے اور کفر بھی اس قبیل سے ہے جس کو وہ ازل سے جانتا تھا کہ وہ موجود ہو گا کیا آپ قرآن مجید میں دیکھتے نہیں ؟ ارشاد ہوتا ہے ۔ ( لا یرید اللہ الا یجعل لھم حظا فی الاخرۃ ) ( آل عمران ۱۷۶) اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے ۔ اور اس اعتراض کا ایک اور جواب بھی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کفر کافر سے ہو برخلاف ایمان کے مومن سے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ موسیٰ اور ہارون علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کو گمراہ کرنے اور ان کے دلوں پر سدا اور روکاوٹ پیدا کرنے کی دعا کی تھی حتیٰ کہ وہ ایمان نہ لائیں اور ارشاد باری تعالیٰ ہے ؒ ( قال قد اجیبت دعوتکما فاستقیما ) ( یونس ۸۹) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول ہو چکی سو تم دونوں پکے رہنا۔ ( تو یہ اجابت دعا دلالت کرتی ہے کہ ) اللہ تعالیٰ نے ان کے گمراہ کرنے کو چاہا تھا اور ان کے دلوں پر رکاوٹ کو چنانچہ وہ ایمان نہیں لائے تھے اس لئے کہ اللہ نے دونوں نبیوں کی دعا قبول کر لی تھی ۔ اس میں ایک اور جواب بھی ہے وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کفر قبیح ہو ۔ گمراہی ہو ۔ اندھا پن ہو ۔ خسارہ اور نقصان ہو ۔ نور نہ ہو ۔ ہدایت نہ ہو حق نہ ہو بیان فصاحت نہ ہو ۔ اگر ارادہ کریں کہ یہ کہیں کہ کفر کو چاہتا ہے یعنی اس کا حکم کرتا ہے تو یہ میت کہئے یعنی یہ کہنا درست نہیں ہے ۔ اعتراض ہفتم اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا حکیم وہی ہے جو یہ ارادہ کرے کہ اس کو گالی دی جائے اور برائی کے ساتھ اس کو یاد کیا جائے گا ؟ اسے جواب میں کہا جائے گا کہ حکیم وہ ہے جو گالی کو سونے والے اور سر سام یر سام ( دماغی مرض ) والے کی زبان پر جاری کر دے اور ان دونوں کا یہ فعل بھی نہ ہو ۔ حکیم وہ ہے جو بندے کو پیدا کرتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس کو گالی دے گا اور اس کے وجود کا انکار کرے گا پھر بھی ہر لمحہ ا س کے لئے نئی سے نئی قدرت عطا کرتا ہے ۔ یا یہ جواب دیا جائے گا کہ گالی جس کی شان میں کمی کرے وہ حکیم نہیں ہے اور جس کی شان نہ گھٹے وہ حکیم ہے کیونکہ جو نہیں ہوتا اس کو وہ چاہتا ہے اور اس لئے کہ جو یہ ارادہ کرتا ہے کہ گالی دینے والے کی گالی اس کے لئے معصیت ہو کار سے نہ کہ اطاعت وہی حکیم ہے ۔ اس لئے کہ جو ارادہ کرتا ہے شئی کا جس کا خلاف نہ ہو سکے وہی حکیم ہے اور جو ارادہ کرتا کہ گالی اس وقت میں موجود ہو ۔ جس کو وازل میں جانتا تھا کہ وہ فلاں وقت میں موجود ہو گی بس وہی حکیم ہے اس لئے کہ اس نے ایک شئی کا ارادہ کیا اس وقت میں جس میں وہ ہوتا تھا اور وہ جس نے اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ وہ مغلوب نہ ہو مظلوم نہ ہو مجبور نہ ہو اس کام کے کرنے پر جس کا وہ ارادہ نہیں کرتا بس وہی حکیم ہے ۔ اس سلسلہ میں بہت لمبا کلام ہے ۔ اعتراض ہشتم : اگر یہ سوال کیا جائے کہ تم لوگ بندے کی استطاعت کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ جواباً کہا جائے گا کہ ہم کہیں گے یہ اس کی قدرت ہے اور یہ قدرت اور بندے کا فعل مل کر دونوں چیزیں یہ اللہ کی طرف سے توفیق ہیں اطاعت کے لئے اور رسوائی ہیں اس کی طرف سے گناہ میں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ے : ( فضلوا فلا یستطیعون سبیلا ) ( الفرقان ۹) بس وہ گمراہ ہو گئے ہیں پس ہو نہیں استطاعت رکھتے راستے کی ( حق کے راستے کی ) ۔ جب کہ وہ باطل کے راستے کی استطاعت رکھتے ہیں تو آیت دلالت کرتی ہے کہ اللہ نے ان سے حق کی استطاعت کی نفی کی ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس کے فاعل نہیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس نے کہا تھا : ( انک لن تستطیع معی صبرا ) ( کہف ۶۷) بے شک تو ہر گز نبیوں کی اطاعت رکھنے کا صبر کرنے کی میرے ساتھ ۔ تو موسیٰ علیہ السلام سے صبر کی استطاعت کی نفی کی ہے جب اس سے صبر کی نفی کا ارادہ کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا فرمان ہے : کل (میسر لما خلق لہ ) ہر انسان کے لئے وہی عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں جن کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ ایک اور حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ بندہ جب کسی فعل کا کسب کرتا ہے تو کسب کرنے کے وقت وہ کسب اس کے لئے آسان کر دیا گیا ہوتا ہے اور یہی اس کے لئے آسان ہونا یہی اس کی قدرت ہے اور اس لئے بھی کہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص خیر کی استطاعت نہیں رکھتا ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ اور وہ اپنے وجود سے پہلے خیر نہیں تھی ۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کی استطاعت اس کے ساتھ ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ استطاعت فعل کا سبب ہے اس کے وجود سے وجود میں آتا ہے اور اسی کے عدم سے عدم رہتا ہے ۔ لہذا استطاعت کسب کے ساتھ چلتی ہے جیسے علت معلول کے ساتھ چلتی ہے اور علت کا معلول پر مقدم ہونا صحیح نہیں ہوتا لہذا استطاعت کا کسب پر مقدم ہونا بھی صحیح نہیں ( بلکہ ساتھ ساتھ ہوتے ہیں ۔ )

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْحَذَّاءُ، ← أَبُو سَهْلٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ،

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 190

شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 191

191 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا علي بن حكيم الأودي أنا شريك عن يحيى ابن سعيد و عاصم عن القاسم عن عائشة رضي الله عنه قالت : فقدت النبي صلى الله عليه و سلم فاتبعته فانتهى إلى المقابر فقال السلام عليكم ديار قوم مؤمنين أنتم فرط لنا ثم التفت إلي فقال ويحها ! لو استطاعت ما فعلت و هذا يدل على ما قلنا في الاستطاعة لأنه نفى عنها الاستطاعة في المكث دون اتباع فإن قيل : يقولون إن الله كلف العبد ما لا يطيقه إلا به و هذا معنى قول المسلمين لا حول و لا قوة إلا بالله و لذلك أمر الله عباده أن يقولوا : { إياك نعبد و إياك نستعين } و لا تكون عبادة العبد إلا بمعونة الرب و قوله : { لا يكلف الله نفسا إلا وسعها } فمعناه إلا ما يحل لها أو لا تعجز عن فعله بزمانه أو غيرها أو أراد لا يكلف الله نفسا مؤمنة إلا وسعها لأنها نزلت في العفو عن المؤاخذة بحديث النفس و قد قال فيما علمنا : { ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به } و لولا جواز ذلك لما عملنا هذه المسألة و إذا جاز تكليف ما قد علم أنه لا يكون فقد جاز تكليف ما لا يوفق له و لا يعان عليه فإن قيل : أفتقولون إن في مقدور الله لطفا لو فعله بالكافر لآمن ؟ قيل : نعم و ذلك اللطف هو القدرة التي بها يفعل الطاعة و هو ضد ما فعله بالكافر قال الله عز و جل : { و لو شئنا لآتينا كل نفس هداها } قال : { ولو شاء الله لجعلكم أمة واحدة ولكن يضل من يشاء ويهدي من يشاء ولتسألن عما كنتم تعملون } و قال : { ولولا فضل الله عليكم ورحمته لاتبعتم الشيطان إلا قليلا } و الآيات في هذا المعنى كثيرة و كذلك الأخبار و لا يجب على الله ذلك و هو متفضل في فعله : إن شاء فعل و إن شاء ترك و من زعم أنه سوى بين الكافر في النظر بطل قوله بنفسين : أمات أحدهما قبل البلوغ و أمات الآخر بالغا كافرا مع علمه بأنه لو بلغ كان كافرا و نفسين أمات أحدهما مؤمنا و أبقى الآخر سنة أخرى حتى كفر مع علمه بأنه يكفر و الكلام في هذا يكثر

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے کہ خبر دی ہے احمد بن عبید صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن یحیٰ حلوانی نے کہ ہمیں میں حدیث بیان کی ہے علی بن حکیم اودی نے کہ خبر دی ہے شریک بن یحییٰ بن سعید سے اور عاصم نے قام سے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو گھر میں نہ پایا تو میں آپ کے پیچھے پیچھے چلی گئی چنانچہ آپ قبرستان جا پہنچے اور جا کر کہا تم پر سلامتی ہو اہل ایمان کے گھرو تم ہم سب کے لئے پیش رو ہو۔ پھر آپ نے میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اوہو اور اگر استطاعت رکھتی تو یہ کام نہ کرتی ۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے استطاعت کے بارے میں کہا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے سیدہ عائشہ سے استطاعت کی نفی ی تھی ٹھہرے رہنے کے لئے پیچھے چلنے سے نہیں ۔ اعتراض نہم اگر یہ کہا جائے کہ کہتے ہیں بے شک اللہ نے بندے کو اس چیز کی تکلیف دی ہے جس کی طاقت وہ اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں رکھتا ۔ مسلمانوں کے اس قول کا مطلب یہی ہے ۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہ گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں ہوتی ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہیں : ایاک نعبدو ایاک نستعین ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔ بندے کی عبادت بھی رب کی معاونت کے بغیر نہیں ہوتی ۔ اور اللہ تعالیٰ یہ قول : ( لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا ) ( بقرہ ۲۸۶) اللہ تعالیٰ کسی نفس کو تلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اس کا مطلب ہے کہ اس چیز کی تکلیف دیتا ہے جو اس کے لئے حلال ہو۔ یا جس کے اس کے وقت وغیرہ پر کرنے سے وہ عاجز نہ ہو۔ یا یہ ارادہ کیا ہے کہ ایمان والے نفس کو نہیں تکلیف دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق اس لئے کہ یہ آیت مواخذ سے عفو و درگزر کے تحت نازل ہوئی ہے ۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے جو ہم چاہتے ہیں اس کے بارے میں فرمایا ہے : ( ربنا ولا تحملنا مالا طاقۃ لنا بہ ) اے ہمارے رب ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہمیں کوئی طاقت نہیں ہے ۔ اگر اس کا جواز ہوتا تو ہم اس سوال و دعا کو نہ جانتے جب اس چیز کی تکلیف جائز ہے جو چیز معلوم ہے کہ وہ نہیں ہو گی تو اس چیز کی تکلیف بھی جائز ہے جس کی توفیق نہیں دی گئی اور اس پر معاونت بھی نہیں کی گئی ۔ اعتراض دہم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا تم لوگ یہ کہتے ہو کہ اللہ کی قدرت میں ایسا لطف اور مہربانی بھی ہے کہ اگر اسے وہ کافر کے ساتھ کرے تو وہ مسلمان ہو جائے ؟ جوابا کہا جائے گا کہ جی ہاں وہ لطف وہی قدرت ہے ۔ جس کے ساتھ اطاعت انجام پاتی ہے اور وہ مقابل ہے اور ضد ہے اس کی جس کو کافر کے ساتھ کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( ولو شئنا لا تینا کل نفس ھداھا ) ( السجدہ ۱۳) اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے ۔ اور ارشاد فرمایا: ( ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ و احدۃ ولکن یضل من یشاء و یھدی من یشاء ولتسئلن عما کنتم تعملون ) ( النحل ۹۳) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم لوگوں کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ۔ اور جو عمل تم کرتے ہو ( اس دن ) ان کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ اور ارشاد ہے : ( ولو لا فضل اللہ علیکم و رحمتہ لا تبعتم الشیطان الا قلیلا ) ( النساء ۸۳) اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب کے سب شیطان کے پیروگار ہو جاتے ۔ اس مفہوم کی آیات بہت ہیں ۔ اسی طرح اس مفہوم کی احادیث بھی بہت ہیں ۔ یہ لطف یہ مہربانی یہ ہدایت عطا کرنا یہ رحمت کرنا اور اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ہے ۔ بلکہ وہ اپنے اس فعل میں متفصل اور عنایت و مہربانی کرنے والا ہے اگر چاہے تو کرے اور نہ چاہے تو ترک کر دے اور جس شخص نے یہ خیال کیا ہے کہ اس نے برابری کی ہے درمیان کافر کے عنایت اور نظر میں وہ طابط ہے اس کا قول دو شخصوں کی مثال کے ساتھ ۔ کہ دونوں میں سے ایک کو اس نے وفات دی تھی بالغ ہونے سے پہلے اور دوسرے کو وفات دی تھی اس حال میں کہ وہ بالغ تھا اور کافر تھا باوجود یہ کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ اگر وہ بالغ ہوگا تو کافر ہوگا۔ اور ان شخصوں کی مثال کے ساتھ اس کا قول باطل ہے جن میں سے ایک کو اس حال میں موت دی کہ وہ مومن تھا اور دوسرے کو ایک سال تک مزید زندہ رکھا یہاں تک کہ وہ کافر ہو گیا باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ وہ کافر ہو جائے گا اور اس سلسلہ میں کلام کثیر ہے ۔

فقدت النبي صلى الله عليه و سلم فاتبعته فانتهى إلى المقابر ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← يحيى ابن سعيد و عاصم ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 191

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood