شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 180
180 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا بشر بن موسى ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ ثنا كهمس بن الحسن عن عبد الله بن بريدة عن يحيى بن يعمر : قال : كان أول من قال من القدر معبد الجهني بالبصرة قال فانطلقنا حجاجا أنا و حميد بن عبد الرحمن الحميري فلما قدمنا المدينة وافقنا عبد الله بن عمر و هو في المجسد فقلت يا أبا عبد الرحمن ! إن قبلنا ناسا يقرؤون القرآن و يتقفرون العلم و يقولون لا قدر و إنما الأمر أنف قال فإذا لقيت أولئك فأخبرهم أني منهم بريء و أنهم مني براء و الذي يحلف به عبد الله بن عمر لو كان لأحدهم مثل أحد ذهبا فأنفقه ما قبل الله منه حتى يؤمن بالقدر كله خيره و شره حدثني عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه أثر سفر و لا يعرفه منا أحد حتى جلس إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأسند ركبتيه إلى ركبتيه و وضع كفيه على فخذيه ثم قال يا محمد ! أخبرني عن الإيمان ما الإيمان ؟ قال : أن تؤمن بالله و ملائكته و كتبه و رسله و اليوم الآخر و القدر خيره و شره قال صدقت و ذكر الحديث أخرجه مسلم في صحيحه من وجه آخر عن كهمس و رواه يزيد بن زريع عن كهمس و قال في الحديث : أن تؤمن بالله و ملائكته و كتبه و رسله و بالقدر خيره و شره حلوه و مره و بالبعث بعد الموت قال صدقت
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو بکر بن اسحق نے کہ خبر دی ہے بشر بن موسیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمن مقری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے گھمس بن حسن نے عبداللہ بن بریدہ سے یحییٰ بن یعمر سے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلا شخص جس نے تقدیر کے باری میں بات کی تھی یا بحث کی تھی وہ معبد جھنی تھا بصرہ میں ۔ یحییٰ کہتے ہیں ہم لوگ حج کرنے کے لئے نکلے ہیں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری جب ہم مدینے میں آئے تو ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ملے اور وہ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے میں نے ان سے عرض کی اے ابو عبدالرحمن ہماری طرف کچھ لوگ ہیں جو قرآن بھی پڑھتے ہیں اور علم کی تلاش اور جستجو بھی رکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی شئی نہیں ہے ۔ معاملہ از سرے نو ہے ۔ ( یعنی نیا معاملہ ہے یعنی پہلے سے کوئی تقدیر و اندازہ مقرر نہیں ہے ) حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا : جب تم ان لوگوں سے ملو تو انہیں خبر دے دو کہ بے شک میں ان سے بری ہوں ۔ اور وہ مجھ سے بری میں یعنی ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی ان کا ہم سے کوئی تعلق ہے ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ساتھ عبداللہ بن عمر قسم کھاتا ہے اگر ان کے کسی ایک کے لئے احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اللہ اس سے قبول نہیں کرے گا حتیٰ کہ وہ پوری تقدیر کے ساتھ ایمان لائے اس کی اچھی کے ساتھ بھی اور بری کے ساتھ بھی ۔ مجھے حدیث بیان کی ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے اچانک ہمارے سامنے ایک انتہائی سفید کپڑوں اور انتہائی سیاہ بالوں والا آدمی ظاہر ہوا۔ جس پر سفر کے آثار بھی نہیں تھے لیکن ہم میں سے کوئی آدمی اسے جانتا پہچانتا بھی نہیں تھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے سامنے دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا پانی دونوں ہتھیلیاں اپنی دونوں رانوں پر رکھ لیں پھر کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ اور اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں کے ساتھ اور آخرت کے دن کے ساتھ اور تقدیر کے ساتھ وہ اچھی ہو یا بری ہو اس آدمی نے کہا آپ نے سچ فرمایا ۔ پھر آگے حدیث حضرت عمر نے بیان فرمائی ۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریقے سے کھمس سے ۔ اور اس کو روایت کیا ہے یزید بن زریع نے کھمس سے اور اس نے حدیث میں یہ کہا ہے کہ تو ایمان لے ا اللہ کے ساتھ اور فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں کے ساتھ اور اچھی یا بری تقدیر کے ساتھ میٹھی ہو کا کڑوی ہو اور مرنے کے بعد جی کر اٹھنے کے ساتھ ۔ اس آدمی نے کہا آپ نے سچ کہا۔
افقنا عبد الله بن عمر و هو في المجسد فقلت يا أبا عبد الرحمن ← و حميد بن عبد الرحمن الحميري فلما قدمنا المدينة ← فانطلقنا حجاجا ← من القدر معبد الجهني ← كَانَ أَوَّلَ مَنْ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 180
